ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت سےتوہین رسالت ﷺکےمرتکب ایوب مسیح کوسزائے موت اقلیت کےایک مخصوص طبقے فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی پراسرار خودکشی (یاقتل !!؟ ) نے مسیحی اقلیت کےایک مخصوص طبقے کی قانون توہین رسالت ﷺ کےخلاف چلائی جانے والی غیردانش مندانہ اورجارحانہ مہم کونقظہ عروج )کلائکس ) تک پہنچادیا ہے۔ آنجہانی بشب جان جوزف نےمذکورہ عدالتی فیصلے کےخلاف شدید جذباتی رد عمل کااظہار کرتے ہوئے خود کشی کاارتکاب کیایا تازہ ترین رپورٹوں کےمطابق انہیں سوچی سمجھی سازش کےتحت قتل کرکے سیشن کورٹ کےسامنے پھینکنے کا ڈرامہ رچایا گیا ، حقیقت کچھ بھی ہو، دونوں صورتوں میں ان کی موت کی ذمہ دارنہ حکومت ہےاور نہ ہی مسلمان اکثریت کوموردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کےبعد نام نہاد انسانی حقوق کےبدقسمت منادوں اور بعض مسیحی تنظیموں کی طرف سےقانون توہین رسالت کوواپس لینے ، احتجاجی جلوس کےدوران مسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز بیانان کےذریعے پرامن اکثریت کے جذبات کومجروح کرنے کا عمل مذکورہ واقعے سےکہیں زیادہ افسوس ناک ہےکیونکہ اس خطرناک صورتحال پراگربروقت قابونہ پالیا جاتا تویہ مسلمانوں اور عیسائی اقلیت کےدرمیان خطرناک تصادم پر منتج ہوسکتی تھی ۔معلوم ہوتاہے کہ بعض شرپسند عناصر اس طرح کےواقعے کواپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کےلیے استعمال کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نےجلتی پرتیل کاکام کرکے جذباتیت کاشکار مسیحی نمائندوں کومسلم اکثریت سےلڑانے کاافسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔

رسالتمابﷺ سےمحبت ومودب اور والہانہ عشق وعقیدت مسلمانوں کےدین ومذہب کی وہ بنیاد ہےکہ جس پراسلام کےپورے نظام فکر کی عمارت قائم ہے۔جب تک محسن انسانیت ﷺ ، سرورکائنات حضرت محمدﷺ سےمحبت دیگر تمام انسانی رشتوں کی محبت پرغالب نہ آجائے ، ایک مسلمان کاایمان کامل نہیں ہوسکتا ۔غیرمسلم،مسلمانوں کی اپنے نبی اکرم ﷺ سےاس قدر والہانہ عقیدت سےبخوبی واقف ہیں ۔یہی وجہ ہےکہ بعض غیرمسلم اسلام سےاپنی کدورت کےاظہار اورمسلمانوں کو شدید ذہنی اذیت سےدوچار کرنےکےلیے ان کی محبوب ومقدس ترین ہستی کی توہین جیسے گھناؤ نےجرم کےارتکاب سےبھی باز نہیں رہتے۔تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کےنزدیک حساس ترین معاملہ ہے جس کےمتعلق معمولی سی بات ہوجائے تووہ شمع رسالت پردیوانہ واراپنی جانون کانذرانہ پیش کرنےمیں بھی پس وپیش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہےکہ اس بات پرمسلمانوں کےتمام گروہوں میں کامل اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کےمرتکب شخص کی سزا موت ہے، اسی حقیقت کوپیش نظررکھتےہوئے وقاقی شرعی عدالت نے 84ء؁ میں حکومت پاکستان کو ہدایت کی کہ توہین رسالتﷺ کےجرم کی سزا موت مقررکی جائے ۔عدالتی حکم کی پیروی کےنتیجے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کااضافہ کیاگیا جس کی روسے توہین رسالت ﷺ کےمجرم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔

قانون توہین رسالت ﷺ ......... احتجاجی سرگرمیوں کامختصر خاکہ

اس سے پہلے کہ مسیحی اقلیت کےحالیہ مسلح احتجاج کےپس پشت محرکات اوران کےتحفظات کی حقیقت کاجائزہ لیا جائے ، مناسب معلوم ہوتاہےکہ قانون توہین رسالتﷺ کےنفاذ کےبعد اس کوختم کرانے کےلیے چلائی جانے مذموم تحریک کامختصر اً ذکر کردیا جائے۔ آج سےبارہ سال قبل جب یہ قانون نافذ کیاگیا تواس کےخلاف سب سےزیادہ احتجاج قادیانیوں کی طرف سےکیاگیا ۔دراصل اس قانون کےنفاذ سےقبل توہین رسالت ﷺ کےمرتکب افرادکی اکثریت کاتعلق قادیانی فرقے سےتھا ، ان کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی وجہ سے امن عامہ کوشدید خطرات لاحق تھے، چونکہ اس ضمن میں موثر قانون موجو د نہیں تھا اسی لیے بہت سےواقعات میں مسلمان خود ہی شاتم رسول کےخلاف اقدام کرگزرتےتھے۔قادیانی فرقے کی طرف سے 295 سی کےخلاف پاکستا ن اوریورپ میں جارحانہ احتجاجی مہم کاآغاز کردیا گیا۔ انہوں نے اس قانون کوبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتےہوئے پاکستان کےخلاف مذموم پراپیگنڈے کا محاذ کھول دیا ۔

قادیانیوں نےجینوا میں انسانی حقوق کےکمیشن کودرخواست دی کہ پاکستان میں ان کےبنیادی انسانی حقوق کوپامال کیاجارہا ہے۔یہ کمیشن اقوام متحدہ کاذیلی ادارہ ہےاس کاکام دنیا کےمختلف ممالک میں ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرنظر رکھناہے۔ اس کمیشن کی نشاندہی اورسفارشات پرمغربی حکومتیں اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرتی ہیں ۔ اس زمانے میں جینوا میں پاکستان کی نمائندگی کےفرائض ایک قادیانی منصور احمد انجام دےرہا تھا ۔ کمیشن کےسامنے اس نےحکومت پاکستان کےموقف کی وضاحت کرنے میں جان بوجھ کر غفلت سےکام لیا جس کےنتیجے میں جینوا کےانسانی حقوق کمیشن نے قرار دار منظور کر لی کہ فی الواقع پاکستان میں قادیانیوں کےحقوق کوپامال کیاجارہا ہے۔ قادیانی گروہ اس قرار داد کولے کرواشنگٹن پہنچا۔ وہاں پاکستان مخالف امریکی سینٹ کےارکان سٹیفن سولارز اورپریسلرکی سرپرستی میں لاہنگ کی ۔اس وقت امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی پاکستان کی اقصادی اورفوجی امداد کےلیے شرائط طےکررہی تھی ۔ قادیانیوں کی کوششون کےنتیجے میں خارجہ کمیٹی نےقرار داد پاس کی کہ پاکستان کی امداد کےلیے ضروری ہوگا کہ امریکی صدرہرسال ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں یہ درج ہوگا کہ حکومت پاکستان نےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےتدارک میں نمایاں ترقی کی ہے۔

(حوالہ : روز نامہ جنگ ، مئی 87ء؁ مضمون مولانازاہد الراشدی )

قادیانی فرقے کی ان سرگرمیوں کی تناظر میں یہ بات تعجب انگیز نہیں ہےکہ 88ء؁ میں جب پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کاقیام عمل میں لایا گیا توقادیانیوں کو اس میں بھرپورنمائندگی حاصل تھی ۔

جسٹس دراب پٹیل (پارسی ) اس کےپہلے صدر اورعاصمہ جہانگیر اس کی پہلی جنرل سیکرٹری تھیں ۔ آج کل عاصمہ جہانگیر اس کی چیئر پر سن اورآئی اے رحمان اس کےڈائریکٹر ہیں ۔ حسین نقی بیگم نگار احمد،حنا جیلانی ،وغیرہ جیسے قادیانی افراد کمیشن کےروح رواں ہیں ۔ قادیانیوں نےہیومن رائٹس کمیشن کےپلیٹ فارم کواپنے مخصوص مفادات کےلیے استعمال کیا ہے۔اس کمیشن کی طرف سےہرسال شائع ہونے والی رپورٹ میں قادیانیوں کےساتھ کی جانے والی مبینہ زیادتیوں اورا کےانسانی حقوق کی پامالی کوبڑھا چڑھا کربیان کیاگیا۔ کمیشن کی کوئی ایک رپورٹ بھی ایسی نہیں ہےجس میں 295 سی کےقانون توہین رسالت کواقلیتوں کےانسانی حقوق کی خلافت ورزی قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کامطالبہ نہ کیا گیا ہو۔ پاکستان میں مغربی سرمائے کےبل بوتے پراین جی اوز اورانسانی حقوق کی تنظیموں کی جال بچھا دیا گیا۔مسیحی مغرب سےفنڈز کی وصول یابی کےلیے پاکستان کی کیتھولک عیسائی تنظیموں کا جال بچھا دیا گیا ۔95ء؁ میں سلامت مسیح کیس کی وکالت کرکے عاصمہ جہانگیر اورحنا جیلانی نےعیسائی اقلیت میں اپنااعتبار قائم کیا اور عیسائیوں کےاندر کام کرنے والی مختلف نئی اورپرانی تنظیموں کو295 سی کےخلاف تحریک چلانے کےلیے منظم کیاگیا۔اس احتجاجی تحریک میں آنجہانی بشب جان جوزف عملاً پیش پیش تھے۔انہوں نےقادنیوں کےساتھ مل کریورپ ،امریکہ اور آسٹریلیا کےدورےکئے اوروہاں کی حکومتوں کو295سی کاقانون واپس لینے کےلیے حکومت پاکستان پردباؤ ڈالنے کےلیے تیار کیا۔

قادیانی اوربعض مسیحی راہنماؤں کی مشترکہ کوششوں کانتیجہ ہےکہ امریکی حکومت اوردیگر یورپی ممالک پاکستان کےاندرونی معاملات میں مداخلت کرتےہوئے قانون توہین رسالت ﷺ کی واپسی کےلیے دباؤ ڈالتےرہےہیں ۔ گذشتہ ایک سال کےدوران اس دباؤ کی شدت میں افاضہ محسوس کیا گیا ۔24جولائی 97ء؁ کےپاکستانی اخبارات کی شہ سرخیاں امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کےاقتباسات پرمبنی تھیں جن میں قانون توہین رسالت ﷺ کوواپس لینے کامطالبہ کیاگیاتھا۔نومبر 97ء؁ میں کنٹربری (برطانیہ ) کے آرچ بشپ ڈاکٹر ایرل کیری پہلی دفعہ پاکستان کےدورےپرآئے ،پاکستان میں اپنے قیام کےدوران انہوں نےقانون توہین رسالت کوبنیادی انسانی حقوق کےمنافی قراردیا ۔ان کےمتنازعہ فیہ بیانات کےخلاف پاکستان میں شدید رد عمل کااظہار کیاگیا ۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد،فروری 98ء؁ میں امریکی بیوروآف ڈیموکریسی ،'' ہیومن رائٹس اینڈلیبر،، نےپاکستان کےبارے میں مفصل رپورٹ جاری کی ۔

اس رپورٹ کےمکمل متن کا ترجمہ بعض اخبارات نےشائع کیا۔ اس رپورٹ کےحق میں انسانی حقوق کی تنظیموں نےبیانات دیے جبکہ پاکستان کی رائے عامہ نےاسے پاکسان کےاندر ونی معاملات میں بےجا مداخلت قرار دیا ۔ اس رپورٹ میں بھی 295سی کےخلاف مواد موجود تھا ۔ مئی 98ء؁ کےپہلے ہفتے میں پاکستان سے آنجہانی بشپ ڈاکٹر جان جوزف اورلاہو ر کےبشب ڈاکٹر الیگزنڈر ملک روم کےدورے پرگئے۔بشب جان جوزف اپنی خود کشی یاقتل سےصرف ایک روز قبل پاکستان واپس آئے تھےاوراخباری اطلاع کےمطابق چند دنوں کےبعد انہوں نے روم میں 295سی کےخلاف ایک احتجاج مظاہرے میں شریک ہونا تھا ۔ 295سی کےخلاف احتجاج سرگرمیوں کایہ مختصر خاکہ اسی لیے پیش کیاگیا ہےتاکہ ڈاکٹر بشپ جان جوزف کی خودکشی یاقتل کےپس پشت محرکات کاجائزہ لگایا جاسکے۔

295سی کی مخالفت کےاس پس منظر کےبعد مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اس کےاصل متن اور اس کےمتعلق اقلیتوں کےاعتراضات کاجائز ہ لیا جائے ۔

قانون توہین رسالت ﷺ ........... اصل متن

تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 اور اسکی ذیلی دفعات C'B'A کااصل متن درج ذیل ہے:

295: کسی جماعت کےمذہب کی تذلیل کی نیت سےعبارت گاہ کونقصان پہنچانا نجس کرنا:

جوشخص کسی عبادت گاہ کویاکسی ایسی چیز کوجواشخاس کی کسی جماعت کی طرف سےمقدس سمجھی جاتی ہواس نیت سےتباہ کرے، نقصان پہنچائے یاناپاک کرے کہ اس طرح وہ اشخاص کی کسی جماعت کےمذہب کی تذلیل کرسکے یااس علم کےساتھ کہ اشخاص کی کسی جماعت کی مذکورہ تباہی نقصان یاناپاک کرنے سے ان کےمذہب کی تذلیل کااحتمال ہےتواسےکسی ایک جرم کی سزائے قید اتنی مدت کےلیے دی جائے گی جودوسال تک ہوسکتی ہےیا جرمانے کی سزا یادونوں سزائیں ہوسکتی ہیں ۔

دفعہ 295 ( الف ) : کسی جماعت کےمذہب یامذہبی اعتقادات کی تذلیل کےذریعے اس کے مذہبی جذبات کی بےحرمتی کی نیت سےکینہ وارانہ اور ارادی افعال

جوکوئی شخص ( پاکستان کےشہریوں کی ) کسی جماعت کےمذہبی جذبات کی بے حرمتی کرنےکےارادی اورکینہ وارانہ مقصد سےالفاظ کےذریعہ خواہ زبانی ہوں یا تحریری یادکھائی دینے والے خاکوں کےذریعے مذکورہ جماعت کےمذہب یامذہبی اعتقادات کی تذلیل کرے یا تذلیل کرنے کی کوشش کرے تو اسے کسی ایک قسم کی سزا اتنی مدت کےلیے دی جائے گی جودو سال تک ہوسکتی ہےیاجرمانے کی سزا یادونوں سزائیں دی جائیں گی ۔

دفعہ 295 ( ب) : قرآن پاک کےنسخے کی بےحرمتی وغیرہ کرنا :

جوکوئی قرآن پاک کےنسخے یااس کےکسی اقتباس کی عمدا بےحرمتی کرے، اس کانقصان یابے ادبی کرے یا اسے توہین آمیز طریقے سےیاکسی غیرقانونی مقصد کےلیے استعمال کرے تووہ عمرقید کی سزا کامستوجب ہوگا۔

دفعہ 295 ( ج) : پیغمبر اسلام ﷺ کے بارےمیں توہین آمیزالفاظ وغیرہ استعمال کرنا:

جوکوئی الفاظ کےذریعے خواہ زبانی ہوں یاتحریری یانقوش کےذریعے ،یاکسی تہمت ، کنایہ یادرپردہ تعریض کےذریعے بلاواسطہ یابالوالوسطہ رسول پاک حضرت محمدﷺکےپا ک نام کی توہین کرے گا تواسے موت یاعمر قید کی سزا دی جائے گی اوروہ جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہوگا۔

مسیحی اعتراضات وخدشات :

ڈاکٹر الیگیزینڈرملک ، بشپ آف لاہور نےآنجہانی بشپ جان جوزف کی مبینہ خودکشی سےمتعلق مؤرخہ 12مئی 98ء؁ کوآواری ہوٹل میں پریس کانفرنس کےدرمیان''295 بی اورسی ،، پردرج ذیل اعتراضات وارد کئے :

(1) '' 295 سی کاقانون اقلیتوں کوڈرانے ،دھمکانے ، بھکانے ، غلام بنانے اور

قتل کرنے کا لائسنس ہے۔ اس سے Religions persecution کوقانونی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ہماری دانست میں یہ قانون Rellgous Cleansing کےلیے استعمال ہورہاہے،، ۔

(2) '' جب اقلیتیں دائرہ اسلام سےباہر ہیں توپھر ان پراسلام شرعی قوانین کا

نفاذ سراسر زیادتی اورظلم ہے۔ لہذاغیرمسلموں کو285 سی مستثنیٰ قراردیا جائے۔پاکستان میں جیسے غیرمسلم اقلیتوں کوزکوۃ اورپابندی شراب نوشی سےمستثنیٰ قراردیا گیاہے، اسی طرح انہیں توہین رسالت ﷺ کےقانون سےبھی مستثنیٰ قراردیاجائے،،۔

(3) '' 295سی کےتحت بےگناہ غیرمسلموں کےخلاف جھوٹے مقدمات بنانے

کارجحان عام ہے۔ ابھی تک توہین رسالتﷺ کےجتنے بھی مقدمات سامنےآئےہیں،ان کےمحرکات کچھ اورتھے، میں آپ کویقین دلاتا ہوں کہ کوئی بھی مسیحی کسی بھی نبی اور خصوصاً نبی پاکﷺ کی توہین کاسوچ بھی نہیں سکتا،،۔

(4) '' 295سی میں عمر قید کی سز ا حذف کرکےسزائےموت کولازمی Mandatory کردیا گیا ہے۔تاکہ کوئی جج صرف قید کی سزا نہ دے۔

اس طرح جج سےعدل وانصاف کاحق چھین لیاگیا۔295 سی میں یہ سقم موجو د ہےدورکرنے کی ضرورت ہے،، ۔

(5) '' 295 سی کاقانون امتیازی ہےلہذا اسے منسوخ کیا جائے،،۔

(6) قانون توہین رسالت ﷺ انسانی حقوق کےمنافی ہے۔(انسانی حقوق کی تنظیمیں )

قانون پراعتراضات کاجائزہ

کیا 295 ۔ سی غیر مسلموں کیخلاف قتل کالائسنس ہے؟

1۔ کوئی بھی شخص جوپاکستان میں مسلمانوں اور مسیحی اقلیت کےدرمیان تعلقات کاحقیقت پسندانہ اورانصاف پرمبنی جائزہ لے، تویقیناً اس نتیجے پرپہنچے گاکہ ڈاکٹر الیگزینڈر ملک ، بشپ آف لاہور اور دیگر مسیحی راہنماؤں کا رد عمل انتہا پسندانہ ،

غیرمعروضی ، سطحی جذباتیت اور مذہبی جنونیت کاانداز لیے ہوئےہے۔یہ محض ان کی توہین رسالت ﷺ کےقانون کےمتعلق غیرضروری حساسیت ہی ہےکہ جس کی بناپروہ پاکستان میں عیسائیوں کےحالات کوبے حدمبالغہ آمیز طریقے سےپیش کررہےہیں ۔معلوم ہوتا ہے بشپ آف لاہور نےآتشیں جذبات میں ڈوبی ہوئی اصطلاح Religious Cleansing کا محض نام سناہے،اس کاتجربہ انہین نہیں ہے۔یہ اصطلاح بوسنیا میں بےگناہ مسلمانوں کی نسل کشی کےحوالےسےذرائع ابلاغ میں استعمال کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں پرمبینہ تشدد کاواویلا کرکےاس طرح کی اشتعال انگیز تراکیب اورجملوں کااستعمال ایک خطرناک سوج کاآئینہ دار ہے۔مسیحی راہنماؤں کایہی وہ غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہےکہ جس نےامن مسیحی اقلیت کاجارحانہ ، مسلح رد عمل کی صورت میں قومی املاک کونقصان پہنچانے اورمسلمانوں کی مساجد تک پرحملہ کرنے پراکسایاہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل جوانسانی حقوق کےنام پرپاکستان کوبدنام کرنےکاکوئی موقع ہاتھ سےجانے نہیں دیتی ، اس کی 97ء؁ کی رپورٹ کی کےمطابق '' آج تک تین عیسائیوں ،ایک مسلمان اوردوشیعہ افغانیوں کوزیردفعہ 295 سی سزائےموت سنائی گئی ۔مگراپیل کےدوران انہیں رہائی نصیب ہوگئی،،

(ہفت روزہ آواز انٹرنیشنل ،4جولائی 97ء؁ .......8 مئی کووائس آف امریکہ نے اپنی نشریات میں اعتراف کیاکہ '' توہین رسالتﷺ پرآج تک کسی کومت کی سزا انہیں دی گئی ،، (روزنامہ ''جنگ ،، 9 مئی 98ء؁ ۔ بشپ الیگزینڈرملک بھی اپنی مذکورہ پریس کانفرنس میں عیسائیوں کےخلاف توہین رسالتﷺ کے پانچ چھ مقدمات کےندراج کےعلاوہ کوئی ایک مقدمہ بھی پیش نہ کرسکے جس میں کسی اقلیتی رکن کو پھانسی کی سزا عملاً دی گئی ہو۔جب جقائق یہ ہیں توپھر قانون توہین رسالت ﷺ کےخلاف احتجاجی تحریک بلا جواز اورمسلم اکثریت کےجذبات کومجروح کرنےکےمتیرادف ہے۔محسن انسانیت ﷺ کی ناموس کے تحفظ کےلیے بنائے گئے قانون کو''قتل کالائسنس ،،قراردینا بذات خود توہین آمیز جسارت اور حقائق سےمجرمانہ رد گردانی کی ذیل میں آتاہے۔

2 ۔ قانون توہین رسالت سب پرلاگو ہے

اقلیتوں کوقانون توہین رسالتﷺ سےمستثنیٰ قرار دینے کامطالبہ جہاں اسلامی تاریج اوراسلام کےفلسفہ جرم وسزا اور قانون توہین رسالت ﷺ کےوجوب اوردلائل شرعیہ کےمتعلق لا علمی پرمبنی ہے، وہاں یہ بے جامطالبہ بعض شکوک وشبہات کوبھی جنم دیتا ہے۔ سوال پیدا ہوتاہےکہ کیاایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کی غیرمشروط لائسنس دےدیا جائےکہ و ہ حضوراکرمﷺ کےخلاف سبّ وشتم اورزبان درازیاں کرتےپھریں ، ناموس رسالت کی دھجیاں بکھیرتےرہیں لیکن ان سےجواب طلبی محض اس بنا پرنہ کی جاسکے کہ وہ غیرمسلم ہیں ۔اس بات کواچھی طرح ذہن نشین کرنےکی ضرورت ہےکہ توہین رسالت ﷺ کاارتکاب محض وہ شخص کرسکتا ہےجودائرہ اسلام سےخارج ہو۔ ایک شخص اگر مسلمانوں کےگھر میں پیدا ہوا ، لیکن بعد میں رسالتمابﷺ کی جناب میں گستاخی کامرتکب ہوا۔تواس کستاخانہ حرکت کاارتکاب سےوہ مرتد اوردائرہ اسلام سےخارج ہوگیا۔اسلام میں ارتداد کی سزا موت ہے۔ایک شخص مرتدہونے کےساتھ ساتھ گستاخ رسول بھی ہوتواس کےجرم کی شدت میں مزید افافہ ہوجاتاہے۔ حالیہ برسوں میں شاتم رسولﷺ سلمان رشدی کےخلاف ایرانی رہنماخمینی کی طرف سےقتل کافتویٰ اس صورتحال کےضمن میں اہم مثال کادرجہ رکھتا ہے۔ بشپ آف لاہو نےمذکورہ پریس کانفرنس میں من جملہ دیگرباتوں کےبےحدجذباتی انداز میں یہ سوال کیا:

'' جس ملک کی 97% آبادی مسلمانوں پرمشتمل ہووہاں توہین رسالتﷺکےقانون کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی ؟ انہوں نےکہاکہ یہ امربالکل واضح ہےکہ %3 غیرمسلم اقلیتوں کےلیے بنایا گیاہے۔اوراگر اایساہی ہےتواکثریت کایہ کہنا کہ توہین رسالت ﷺ کا قانون سب پربلاامتیاز مذہب وملت پرلاگوہے،عملاً جھوٹ اورلغو ہے۔ حقائق اسکے بالکل برعکس ہیں ،،۔

بشپ آف لاہو ر اگر اپنے خود ساختہ مزعومہ حقائق اورمذہبی تعصب کوعینک اتار کردیکھین توان کےلیے بھی یہ جاننا مشکل نہیں ہوگاکہ قانون توہین رسالت ﷺمحض اقلیتوں کےلیے'' ہی ،، نہیں بلکہ ان نام نہاد مسلمانوں کےلیے '' بھی،، ہےجوگستاخان رسول کی فہرست میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ بشپ صاحب کومدعی نبوت یوسف کذاب کاکیس اچھی طرح معلوم ہے ۔ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نےاپنی کتاب '' ناموس رسالت ،، اور'' قانون توہین رسالت ﷺ ،، کاپس منظر بیان کرتےہوئے 83ء ؁ میں ایک اشتراکی مصفنف مشتاق راج کتاب ''آفاقی اشتراکیت ،، کاحوالہ دیاہےجس میں اس نے اللہ تعالیٰ کےساتھ تمسخر، مذہب اسلام کامذاق اڑانے کےساتھ ساتھ حضوراکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جسارت کی تھی ۔اس کےبعد جولائی 84ء ؁ میں عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نےایک سیمینارمیں تقریر کرتےہوئے رسالتماب کی شان مین نازبیاالفاظ استعمال کیے جوسامعین اورامت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے۔ پاکستان کےعلماء وکلاء کےطرف سےاس کی مذمت کرتےہوئے حکومت سےمطالبہ کیا گیاوہ فوری طورپرشاتم رسول ﷺ کےبارے میں سزائے موت کاقانون منظور کرے۔

مندرجہ بالا سطور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ایک سنی اوردوافغان شیعہ ''مسلمانوں ،، کاحوالہ دیاگیاہےجن پر 295 سی کےتحث مقدمات درج کئےگئے۔راقم الحروف کےخیال میں نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کےمغربی ایجنٹ جوقانون توہین رسالت کوفتنہ (نعوذبااللہ ) قرار دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے،ان پربھی اس قانون کےتحت مقدمات کااندارج ہونا چاہیے۔بشپ صاحب کیہ کہنا درست ہےکہ'' کوئی مسلمان کسی بھی نبی اورپھر خصوصا نبی پاک ﷺ کی توہین تودرکنار سوچ بھی نہیں سکتا'' بشپ الیگزینڈر ہر اس فرد کو'' مسلمان،، سمجھنے کاغلط فہمی میں مبتلا ہیں جواتقاق سےکسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ۔ حالانکہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونےوالے افراد میں ہزاروں ایسے ملیں گے جو اسلام کودین کامل نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی فکر کےاعتبار سےملحد، اشتراکی ، بےدین اورسیکولرہیں ،لاہوبار ایسوسی ایشن کےصدر آذرلطیف کاتعلق بھی انہی نام نہاد'' مسلمانوں ،، کےطبقہ سےہےکہ جس نےبعض انتہا پسند مسیحی راہنماؤں اورآئی اے رحمان اورعاصمہ جہانگیر(قادیانی)کےساتھ ہم آواز ہوکرمورخہ 8 مئی ایک سیمینار سےخطاب کرتےہوئےکہا' ' قانون توہین رسالت ﷺ ظلم پرمنبی ہے،، (روزنامہ دن :9 مئی98ء؁ ۔مسلم لیگ لائرز فورم نےبجاطور پرمطالبہ کیاہےکہ'' آذر لطیف کےخلاف توہین رسالت ﷺ کامقدمہ درج کرکے سزادی جائے ،، (روزنامہ ''دن 20مئی 98ء؁ قانون توہین رسالت ﷺتمام انبیاء کرام کی '' توہین ،، کوجرم قرار دیتا ہے۔ اس بات کااعتراف بعض امن پسند مسیحی راہنماؤں نےبھی کیا ہے۔ چیف کیتھ نےبشپ جان جوزف کی موت کوقتل قرار دینے والے انٹرویومیں کہا:

'' وہ ولوگ جواس قانون کوغلط قرار دےرہےہیں ، ان لوگون نےخوداسی قانون کےتحت اپنے عیسائی بھائیوں کوجیل کی سلاخوں کےپیچھے پہنچادیاہے۔تسلیم دانیال جسے افراد کے ذریعے قبضہ کرلیا۔ انسانی حقوق کاشورمچانے والوں نےاس پر دہشت گردی کی عدالت کے ذریعے بائبل کی بےحرمتی ،فادر کوتھپڑمارنے اورانبیاء کرام کوبرابھلا کہنے پراسے گرفتار کروادیااوراس کی ضمانت بھی نہ ہونےدی ۔بشپ آرمانڈونےجمی ڈیٹی نای شخص کواس قانون کےتحت حوالات میں بھجوا دیا۔میں ان سےپوچھتاہون کہ وہ خود تواس قانون کےذریعے عیسائیوں کواندر کروارہےہیں اورخود ہی اس قانون کےخلاف شورمچارہے ہیں ،، ( روزنامہ آزاد : 11 مئی 98ء؁ )

گذشتہ برس شانتی نگر کےافسوس ناک واقعے کےدوران بہت سےمسلمانوں پرعیسائیوں کےمقد س مقامات کی بےحرمتی اوربائبل کےصفحات کےتقدس کوپامال کرنے کےالزام میں مقدمات درج کیے گئے اوریہ مقدمات ابھی تک زیرسماعت ہیں۔اس طرح کےمتعدد واقعات کوبشپ آف لاہور کےمن گھڑت دعوے کی تردید میں پیش کیا جاسکتاہے۔

غیرمسلموں پرقانون توہین رسالت کےنقاذ کی شرعی حیثیت

بشپ الیگزینڈر ملک نے اقلیتوں کوقانون توہین رسالت ﷺسےمستثنیٰ قرار دینے کےلیے زکوۃ اور شراب کےقوانین کاحوالہ دیا ہے۔اگر اسلامی تاریخ کےاولین روشن باب پروہ نگاہ ڈالتے تواس طرح کا غیرمنطقی استنباط ہرگزنہ کرتے۔یہ درست ہےکہ غیرمسلموں کوزکوۃ سےمستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن اسلامی ریاست میں انہیں ذمی کادرجہ حاصل تھا اورذمیوں سےخاص نوعیت کاٹیکس وصول کیاجاتا تھا ۔

پاکستان آئینی اعتبار سےایک اسلامی ریاست ہےلیکن یہاں بھی اقلیتی رکن ذمی کی حیثیت قبول نہیں کرےگا،بلکہ اسے توہین آمیز اورامتیازی سلوک کانام دیاجائیگا۔اس ضمن میں دوسرا اہم تکتہ یہ ہےکہ اسلامی ریاست کےقرون اولٰی اوراز منہ وسطی میں جب اقلیتوں کوزکوۃ اورشراب کی پابندی کی اسلامی قوانین سےمستثنیٰ قرار دیا گیاتھا۔اس زمانے میں بھی عیسائیوں ،یہودیوں اوردیگر غیرمسلموں پرخود رسالتماب ، خلفائے راشدین ، بنوامیہ ، بنوعباس اور سپین میں مسلمانوں کےاقتدار کےزمانےمیں توہین رسالت ﷺ کاقانون نافذ رہا ہے۔امام ابن تیمیہ ﷫ نےاپنی معرکہ الآراء تصنیف '' الصارم المسلول علی شاتم الرسول ،، میں قرآن وسنت، آثارصحابہ کرام اور مسلمانوں کےمذہب اربعہ کےاقوال جمع کرنےکےبعد یہ رائے دی ہےکہ '' رسول اکرم ﷺ کی نصرت واعانت اوراکرام واحترام واجب اورآپ ﷺ کےدشنام طراز کوقتل کرناواجب ہے،،۔ ابوالفضل قاضی عیاض﷫اندلس میں قاضی القضاۃ کےعہدے پرفائز رہے۔انہوں نے نےاپنی معروف تصنیف '' کتاب الشفاء ،، میں توہین رسالت ﷺ کےموضوع پرکئی ابواب قلمبند کئےہیں ۔

اس کتاب میں ایک مقام پروہ فرماتےہیں '' تمام علمائےامت کااس امر پراجماع ہےکہ شاتم رسول ﷺ یا وہ شخص جوآپ ﷺ میں نقص نکالے،کافر اورمستوجب وعید وعذاب اورپوری امت کےنزدیک واجب القتل ہے،،۔ امام مالک نےفرمایا کہ'' جوشخص حضوراکرم ﷺ کویاکسی اورنبی کوگالی دےاسے قتل کیاجائےاور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائےگی چاہیے وہ مسلمان ہویاکافر ،،جناب محمد اسمعٰیل قریشی صاحب کی کتاب '' ناموس رسول ﷺ اورقانون توہین رسالتﷺ ،، اس موضوع پراب تک اردو زبان میں جامع ترین حوالہ کی کتاب ہےجس میں انہوں نے قدیم وجدید علماءکےاقوال ونظائر کوجمع کرنےکےساتھ امام ابن تیمیہ ﷫ اورقاضی عیاض ﷫کی کتاب کےمتعلقہ حصوں کےتراجم بھی نقل کردیئے ہیں ۔ اپنی اس قابل قدر تالیف میں فاضل مصنف نےکعب بن اشرف یہودی سردارمدینہ ، ایک عیسائی راہب اورمتعدد دیگر غیرمسلم گستاخان رسول ﷺ کے واقعات نقل کیےہیں جنہیں توہین رسالت ﷺ کےجرم کی وجہ سے سزائے موت دی گئی ۔ مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں پاکستان کےمسیحی راہنماؤں کا مندرجہ بالا مطالبہ منظور کرناشریعت اسلامیہ کی سنگین خلاف ورزی میں شمار ہوگا جس کی مسلم اکثریت کبھی بھی اجازت نہیں دےگی ۔

3۔ مسیحیوں سےتوہین رسالت کاصدور...... تاریخی شواہد

بادی النظر میں بشپ الیگزینڈر ملک ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کی آراء سے اتفاق کرنامشکل ہےجس میں دعوی ٰ کیا گیا ہےکہ 295سی کےتحث توہین رسالتﷺ کےجتنے بھی مقدمات سامنے آئے ہیں ان کےمحرکات کچھ اور تھےاورتاریخی شہادتوں اورحال میں وقوع پذیر ہونےوالے واقعات کی روشنی میں بشپ آف لاہور کی طرف سےیہ یقین دہانی ''کہ کوئی مسیحی نبی پاک ﷺ کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا ،، ساقط الاعتبار ہوجاتی ہے۔ یہ بات درست ہےکہ پاکستان میں بسنے والی مسیحی برادری کی اکثریت مسلمانوں کےپیغمبر صادق ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کی ادائیگی سےاحتراز کرتی ہے۔ لیکن تاریح کےاوراق شاہد ہیں کہ ہردورمیں عیسائیوں اورغیرمسلموں کی ایک مخصوص تعداد توہین رسالت ﷺ کاارتکاب کرکےمسلمانوں کی دل آزاری کاسامان کرتی رہی ہے۔امام ابن تیمیہ ﷫ نےحضرت عبداللہ بن عمر کااس عیسائی راہب کےبارےمیں جورسول اکرم ﷺ کوگالیاں دیا کرتا تھا ، قول نقل کیاہے۔ابن عمر فرماتےہیں '' اگر میں اس کی بات سن لیتا تواسےقتل کردیتا ،، ۔ گیارہویں ، بارھویں اور تیرہویں صدی عیسوی کےدوران مسلمانوں اورمسیحی یورپ کےدرمیان صلیبی جنگوں نےکلیسا کےکارپروازوں کےدلوں میں اسلام اورشارع اسلام ﷺ کےخلاف نفرت کے جذباب کومزید بھڑکادیا تھا اس دور ان عیسائی پادریوں کی طرف سےاسلام کےخلاف تحریر کاجانےوالی کتابوں میں سرور کائناب ،محسن انسانیت ﷺ کےخلاف بےحداہانت آمیز اور گھٹیاالزام تراشی پرمبنی تحریر یں ملتی ہیں ۔ شاتم رسول ﷺسلمان رشدی ملعون نےاپنی '' شیطانی ہفوات ،، میں رسالتماب ﷺ کےلیے جونام استعمال کیاہے(جس کو دہرانےکی راقم میں ہمت نہیں )وہ پہلی دفعہ مسیحی مصنفین نےاستعمال کیاتھا مسلم سپین کی تاریج میں ایک جنوبی پادری نےمسیحی نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں پرمشتمل ایک گروہ تشکیل دیا تھا جنہیں تربیت دی جاتی تھی کہ وہ نمازجمعہ کےفوراً بعدقرطبہ کی جامع مسجد کےبیرونی دروازے پرکھڑے ہوکر جناب رسالتماب ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات ( معاذاللہ ) کہیں ۔ ایسے مسیحی گستاخان رسول ﷺ کوجنت کی بشارت دی جاتی تھی ۔مسلمان ، شاتمان رسول کو پکڑ کرقرطبہ کے قاضی کےحوالے کردیتے ۔قاضی کے سامنے جرم کااعتراف کرنے والوں کوموت کی سزادی جاتی تھی۔یہ سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب اس بڈھے جنونی پادری کوسزائےموت ہوئی۔مشہور یورپی مورخین سٹینلے لین پول ، ڈوزی ، واشنگٹن اورنگ اورپی کےہٹی نےاس گروہ کوجنوبی قرار دیتےہوئےان کی مذمت کی ہے۔

پروفیسر فلپ کےہٹی ( Phiiip K Hitti) دور حاضر میں عربی زبان اورتاریج کےماہر سمجھے جاتےہیں ۔وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں اسلامی ادب کےپروفیسررہےہیں۔1992ء میں '' اسلام اور مغرب،، کےعنوان سےامریکہ میں ان کی ایک کتاب شائع ہوئی ۔ اس کتاب کاچوتھاباب '' اسلام مغربی لڑیچر میں ،، کےنام سےہےجس میں انہوں نے اسلام ،اسلامی تاریخ اوراسلامی شخصیتوں کےبارےمیں 129 اقتباسات نقل کئےہیں ۔وہ لکھتےہیں'' قرون الیٰ ووُسطیٰ کےمغربی لڑیچر میں پیغمبر اسلام ﷺ کوعام طور پرجعل ساز ( Imposter) اورجھوٹے رسول (نعوذبااللہ ،عیاذاباللہ ) کی حیثیت سےمتعارف کرایاجاتا تھا۔ اسی طرح ان کےنزدیک قرآن ایک بناوٹی کتاب ( نعوذباللہ ) اوراسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا ۔ محمد ﷺ کےبعد ڈیڑھ صدی تک ان کےپیروکارپہلے مدینہ ، پھر دمشق اوراس کےبعد بغداد سے نکل کرباز نطینی سلطنت کوروندتےرہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے ہوئے مسیحیت کےمشرق دارالسلطنت کےدروازے تک پہنچ گئے۔ تقریباً آٹھ سوبرس تک مسلمانوں سپین پرقابض رہے۔سسلی دورصدی کے دوران مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پرصلیبی جنگ لڑتی رہیں ۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یاد آئندہ نسلوں میں باقی رہی ،،وہ آگے جاکرلکھتےہیں :

'' زر تشت ، بدھ ازم اور کم ترقی یافتہ مذاہب کی کسی کبھی اس طرح سےنفرت اورتحقیر نہیں کی گئی جیساکہ اسلام کےساتھ پیش آیا۔بنیادی طورپر خوف،دشمنی اورتعصب تھا جس نےاسلام کےبارےی میں مغرب کےنقظہ نظرکومتاثر کیا ،، ۔

فلپ کےہٹی نےشام کےمشہور عیسائی عالم سینٹ آف دمشق (749ء) کاذکر کیاہےجوباز نطینی روایات کاباقی تھا ، اس نےاپنی کتاب میں اسلام کاتعارف ایک بت پرستانہ مذہب کی حیثیت سے کیاہےجس میں ایک خود ساختہ ( نعوذ باللہ) رسول کی پرستش ہوتی ہے۔اٹلی کےمشہور شاعر وانتے ( 1321ء) نے'' ڈیوائن کامیڈی ،، میں حضرت محمد ﷺ اورحضرت علی کا ذکر بےحداہانت آمیز طریقے سے کیاہے۔باز نطینیوں میں پہلا شخص جس نےحضرت محمد ﷺ کاباقاعدہ ذکر کیااوراسلام پرگفتگو کی وہ مورخ تھیوفین ( Theo – phane ) تھا جس کانتقال 818ءمیں ہوا۔وہ بغیر کسی حوالے کےحضرت محمد کو مشرقی باشندوں کاحکمران اورخود ساختہ ( نعوذ باللہ ) رسول لکھتاہے۔قرطبہ کاایک بشپ یولو گیس ۔Eu)(Logius جواپنے وقت کابہت بڑا عالم تھا، وہ حضور اکرم ﷺ کےبارے میں اپنے بغض کااظہاربےحد توہین آمیز طریقے سےکرتا تھا۔عیسائی عالموں نےایک مضحکہ خیزکہانی ایجاد کی کہ اسلام کی بانی ﷺ نے ایک سفید کبوتر کوتربیت دے رکھی تھی تاکہ وہ ان کےکندھے پربیٹھارہے اور ان اندر پڑے ہوئے دانے کو چگنے کےلیے کان میں چونچ مارتا رہے، اس سےوہ عیسائیوں کویقین دلاناچاہتےتھے کہ کبوتر کے ذریعہ سےروح القدس ان کوالہام کررہاہے۔یہ بےہودہ افسانہ اس قدر مشہور ہواکہ وہ انگریزی ادب میں شامل ہوگیا۔ چنانچہ شیکسپیئر نےاپنے ایک کردار کےذریعے اس کہانی کودہرایا ہے۔ایلزبتھ دور کاایک اورنامور مصنف فرانسس بیکن اپنے مضامین میں پیغمبر اسلامﷺ کوسخت تضحیک اوراستہزاء کانشانہ بناتا تھا۔

1679ء میں ایک انگلش پادری لانس لاٹ ایڈیسن نے ایک کتاب لکھی جس کا مقصد صرف ثہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام ایک مکارانہ مذہب کامعیاری نمونہ ہے۔ فرانس کامشہورادیب وانٹیراپنی تما م ترروشن خیالی کےباوجو د 1842ء میں شائع ہونےوالی ''ٹریجڈی ، ، میں رسول عربی ﷺ کا ذکربےحد قابل اعتراض پیرائے میں کرتاہے۔ انیسویں صدی کےمعروف مستشرق ولیم میور نےحضوراکرمﷺکی حیات پر'' لائف آف محمد ﷺ،، کے نام سے لکھی جانےوالی کتا ب میں آپ ﷺکی شان میں دریدہ ہنی اورگستاخیاں کی ہیں ۔ ملکہ وکٹوریہ کےدور میں برصغیر پاک وہند میں آنے والے عیسائی مشنری اسلام اور بانی اسلامﷺکےخلاف نازیباحملے کیا کرتےتھے ۔ (ماخوذازپی کےہنی)

مندرجہ بالا تاریخی شہادتوں اور بعض ذاتی مشاہدوں کی بنیاد پربشپ آف لاہور کی اس ضمانت اور یقین دہانی کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی کہ'' کوئی مسیحی نبی پاکﷺ کی توہین کےمتعلق سوچ بھی نہیں سکتا ،، ۔

سلامت مسیح اوررحمت مسیح کواگرچہ ہائی کورٹ نےناکافی شہادتوں کی بناء پر توہین رسالت ﷺ کیس سےبری قرار دیا تھا لیکن اس واقعے کےبعض گواہوں کواب بھی یقین ہےکہ سلامت مسیح نےتوہین رسالتﷺ پرمبنی تحریر مسجد میں پھینکی تھی۔ سلامت مسیح کےچچا نےکراچی سےمقامی مولوی صاحب کوجو خط لکھا تھا، اس میں اس نےاعتراض کیاتھاکہ سلامت مسیح سےغلطی ہوئی ہے جس کی میں معافی چاہتاہوں ۔ایوب مسیح کاکیس جس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 27اپریل کوسزائے موت سنائی ہے، مسیحی قیادت کی تکرار کےباوجود کہ اس مقدمے کااصل محرک زمین کا جھگڑاہے ، مقامی لوگ ان کےاس دعویٰ کو تسلیم کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں مختصرا یہ کہ مسیحی اقلیت کےبعض افراد کی طرف سےتوہین رسالتﷺ کےارتکاب کےامکان کورد نہیں کیا جاسکتا۔

4۔ کیا اس قانون میں عدلیہ سےآزادی فیصلہ اورانصاف کاحق چھینا گیاہے؟

جہاں تک تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی سےعمر قید کی سزا حذف کرکے سزائےموت کو لازمی ( Mandatory ) قرار دینے کا تعلق ہے، یہ تبدیلی ججوں سےعدل وانصاف کاحق چھیننے کی غرض سےنہیں لائی گئی۔ ایسی بیان بازی فرسودہ پرابیگنڈہ سےزیادہ نہیں ہے۔ حقیقت امر یہ ہےکہ یہ تبدیلی ایک بدیہی آئینی تقاضے کی تکمیل ہے۔ آئین پاکستان کےآرٹیکل 227 کی رو سے پاکستان میں مروجہ تمام قوانین و قواعد وضوابط کوقرآن وسنت سےہم آہنگ کرنا لازمی ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہےکہ توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین جرم کی سزا صرف موت ہے۔اسلامی ریاست کا یہ فریضہ ہےکہ وہ کسی بھی جرم کی سزا کےتعین کےلیے معیار صرف قرآن وسنت کی تعلیمات کوبنائے ۔ اسلام اقلیتوں کےجان ومال کوتحفظ دیتاہےاوربہت سےان کےسیاسی وسماجی حقوق کوتسلیم کرتا ہےلیکن جہاں تک جرم وسزا کےنفاذ کاتعلق ہےاس میں اقلیتوں کےاعتراضات وخدشات کی بجائے اللہ تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات واحکامات کوہی پیش نظر رکھتاہے۔

گستاخان رسول کی روز افزوں جسارتوں کےپیش نظر مجاہد ناموس رسالت ﷺجناب محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ کی شبابہ روز جدوجہد اورتحریک پر 87ء؁ میں آپا نثار فاطمہ مرحومہ نےقومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ 295سی کابل ، جس کی رو سےشاتم رسول ﷺ کی سزا ، سزائے موت تجویز کی گئی ، پیش کیا ۔اس وقت کےوزیرقانون اقبال احمد خان صاحب نےشروع میں اس بل کی حمایت سےمعذرت کااظہار کیالیکن بعد میں حکومت وقت مسلمانوں کےاس متفقہ مطالبے کےپیش نظر اس کی مخالفت کی جرات تونہ کرسکی البتہ وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کردی گئی کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا ، سزائے موت یاعمرقید ہوگی ۔اس طرح دفعہ 295 سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کردیا گیا ۔ جناب اسمعیل قریشی صاحب نےاس بل کےپاس ہونے کےمراحل اورپس منظر کواپنی کتا ب میں تفصیل سےبیان کیا ہے۔

یہاں یہ وضاحت کردینا بھی ضروری ہےکہ آپا نثار فاطمہ کےقومی اسمبلی میں توہین رسالت ﷺ کا بل پیش کرنے سےدوسال قبل یعنی 84ء؁ میں محمد اسمعیل قریشی صاحب فیڈرل شریعت کورٹ میں پاکستان کےآئین کی دفعہ 203 ڈی کےتحت پٹیشن نمبر 1 ؍ ایل 84 ء ؁ دائر کرچکے تھآ ۔اس شریعت پٹیشن میں دفعہ 1295اے تعزیرات پاکستان کوچیلنچ کیا گیا تھاجس میں توہین مذہب کی سزا دوسال مقرر تھی اورگستاخ رسولﷺ کی سزا بھی یہی تھی ۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھاکہ توہین رسالت کسی سزا،سزائے موت بطور حدمقر ر کی جائے ۔اس شریعت پٹیشن میں ان کےساتھ تمام مکاتب فکر کےعلماء ، سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کےسابق جج صاحبان ، سابق وزرائے قانون ، سابق اٹارنی جنرل ، سابق ایڈووکیٹ جنرل ، لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر بارنسلوں کےصدر صاحبان سمیت ایک سوپندرہ شہر ی شامل تھے۔ فریقین کےدلائل کی سماعت کےبعد وفاقی شرعی عدالت نےاپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ درخواست گزار جناب اسمعیل قریشی اور ان کےدیگر رفقاء 295سی کےتعزیرات پاکستان میں بذریعہ آرڈیننس 88 ء ؁ شامل کرلیے جانے کےباوجود مطمئن نہیں تھے کیونکہ اس میں سزائے موت کےساتھ عمرقید کو بھی رکھا گیا ۔جناب قریشی صاحب کےاپنےالفاظ میں :

'' لیکن چونکہ اس دفعہ سےراقم الحروف ( اسمعیل قریشی )،

مرحومہ آپا نثار فاطمہ ، علمائے کرام ، وکلاء اورمسلمان عوام مطمئن نہیں تھے ، اس لیے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں 295سی کوراقم الحروف نے '' مسلم ماہرین قانون کی تنظیم ،، کی جانب سےاس بنا پرچیلنچ کردیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حدسزائےموت مقرر ہے اورحد کی سزا میں حکومت ہی نہیں ،بلکہ پوری امت مسلمہ کوبھی سوئی کی نوک کےبرابر کمی یااضافہ کرنے کااختیار نہیں اوریہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت یکم اپریل 87ء؁ کوشروع ہوئی ..........

بالآخر وہ ساعت سعید بھی آگئی ، جب فیڈرل شریعت کورٹ نے متفقہ طورپر،اس گدائےشہ عرب وعجم کی پٹیشن منظور کرتےہوئے توہین رسالت ﷺکی متبادل سزا ''عمرقید ،، کوغیراسلامی اورقرآن وسنت کےخلاف قرا ر دیا اور حکومت پاکستان کےنام حکم نامہ جاری کیاکہ عمرقید کی سزا کودفعہ 295سی سےحذف کیاجائے ،جس کےلیے حکومت کو 30 اپریل 91ء؁ تک کی مہلت دی گئی ۔ اس کےخلاف حکومت نےسپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جوبعد میں واپس لےلی گئی جس کےبعد توہین رسالتﷺ کی سزا میں بطور '' سزائے حد ،، نافذ ہوگئی ۔(ناموس رسولﷺاورقانون توہین رسالت ﷺ ، صفحہ 46۔47 )

بعض مسیحی راہنماؤں کایہ خدشہ بےبیناد ہےکہ 295سی میں سزائے موت کولازمی قرار دینے کا مقصد پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کوعدل وانصاف سےمحروم کرناہے۔ان کایہ پراپیگننڈہ بھی حقیقت کےبرعکس ہےکہ یہ ترمیم بہت عجلت میں کی گئی ۔حالانکہ اصل صورتحال یہ ہےکہ فیڈرل شریعت کورٹ میں دوسری پٹیشن جس کےذریعے عمرقید کی سزا کوحذف کرنے کی درخواست شامل تھی ، 87ء؁ میں وائرکی گئی۔اور اس کافیصلہ 30اکتوبر 90ء؁ کوسامنےآیا ۔وفاقی شرعی عدالت کےفاضل جج صاحبان جنہوں نےاس شریعت پٹیشن کی سماعت کی ، ان کےاسمائےگرامی درج ذیل ہیں ۔

1۔جناب جسٹس گل محمد خان ، چیف جسٹس ۔

2۔ جناب جسٹس عبدالکریم خان کندی ۔

3۔ جناب جسٹس عبادت یار خان ۔

4۔ جناب جسٹس عبدالرزاق اے فہیم ۔

5۔ جناب جسٹس فدامحمد خان ۔

جیساکہ اس فیصلہ میں مذکورہے کہ وفاقی شرعی عدالت نےاس مقدمہ کی سماعت کےلیے عوام الناس کےنام نوٹس جاری کئے اورفقہاء حضرات سےبھی معاونت طلب کی ۔فاضل جج صاحبان نے تاریخی فیصلہ میں بالخصوص سات علمائےکرام، مولان سبحان محمود ،مولانا مفتی غلام سرورقادری ،مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ،مولانا محمدعبدہ الفلاح ،مولانا سید عبدالشکور ، مولانا فضل ہادی اورمولانا سعید الدین شیرکوٹی کےدلائل اورخیالات وآراء کواپنے فیصلے میں بیان کیا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کاچالیس صفحات کی ضخامت پرمبنی فیصلہ توہین رسالت کےموضوع پر متعلقہ قرآنی آیات، نبی اکرم ﷺ کےاپنےفیصلہ جات، احادیث مبارکہ ،تعامل خلفائے راشدین ،مسالک اربعہ کےقابل قدرائمہ کرام اوراسلامی تاریخ کےجوامع العلوم علماءوفقہاء اور مسلم قضاۃ کےفیصلہ جات کابیش بہاخزانہ اورفی الواقع ایک جامع دستاویز ہے۔ فاضل عدالت نےشاتم الرسول ﷺ کی سز ا کے ساتھ ، شاتم الرسولﷺ کےارتداد اور توبہ کےمسئلہ ،اہانت رسولﷺ کےتعین اور اس کی واضح تعریف ، توہین رسالت کےجرم میں نیت کےدخل ،سزا دینے سےقبل مجرمانہ نیت اورمقصد جرم کی چھان پھٹک ، حاکم یاجج کوشاتم کارویہ اورموقع محل دیکھنے جیسے معاملات پربے حد مؤثر اورعالمانہ بجث کرنے کےبعد نتائج اخذ کئے ہیں ۔ان تمام معاملات کےمتعلق ائمہ کرام کی فقہی اورعلمی آراء کےبے حدبلیغ پیرائے میں تقابلی جائزہ بھی پیش کیاگیاہے۔جناب اسعمیل قریشی صاحب کی مذکورہ کتاب میں اس فیصلے کامکمل متن اردو ترجمے کےساتھ موجود ہے۔وفاقی شرعی عدالت کےاپنے الفاظ میں :

'' مندرجہ بالابحث کےپیش نظر ہماری رائے یہ ہےکہ عمر قید کی متبادل سزا،جیسا کہ دفعہ 295 سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے، احکامات اسلام سےمتصادم ہےجو قرآن اورسنت میں دئیےگئے ہیں ۔لہذا یہ الفاظ اس میں سےحذف کردئیے جائیں ۔ایک شق کامزید افافہ ا س میں کیا جائے،تاکہ وہی اعمال اورچیزجب دوسرےپیغمبر وں کےمتعلق کہی جائیں ، وہ بھی اسی جرم کےمستوجب سزا بن جائے جواوپر تجویز کی گئی ہے۔اس حکم کی ایک نقل صدر پاکستان کودستور کی آڑٹیکل203(3) تحت ارسال کی جائے ، تاکہ قانون میں ترمیم کےاقدامات کئےجائیں اوراسے احکامات اسلام کےمطابق بنایا جائے۔

اگر 30 اپریل 1991 ء تک ایسا نہیں کیا جائےگاتو'' عمرقید ،، کےالفاظ دفعہ 295سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سےغیرمؤثرہوجائیں گے۔

(حوالہ : 10 .pld fs.c. 1991 Volxliii p.10)

اہم اقلیتی فرقوں کےاہل دانش حضرات سےگذارش کریں گےکہ وہ بعض جذباتی شرپسندوں کی نعرےبازی کی بجائے وفاقی شرعی عدالت کےفیصلے کانہایت ٹھنڈےدل سےمطالعہ کریں اوران دلائل وشواہد پرغور کریں جن کی بنیاد پرتوہین رسالتﷺکےجرم کی سزا صرف موت ہی قراردی گئی ہے۔

انہیں چاہیے کہ وہ اسلامی شریعت کی غیرمبتدل حیثیت پربھی غورکریں جس کی رو سےکسی مسلمان کو اسلامی احکامات میں معمول سےردوبدل کابھی اختیار نہیں ہے۔کلیسا نےسیکولر مغربی ممالک میں اپنی ہردلعزیز کوبڑھانے کےلیے بہت سی رعایتیں دی ہیں ۔ ان میں سےایک واضح مثال کلیسا کی طرف سےہم جنس پرستی کےجواز کےحق میں فیصلہ دینا ہے۔خدا کےفضل سےاسلام اس طرح کی تحریفوں سےآج محفوظ ہے۔ جب کبھی حاکم یانام نہاد عالم نےاسلامی تعلیمات کواپنی خواہشات نفسی کےتابع کرنا چاہا،ملت اسلامیہ اس کےراشتےمیں چٹان کی طرح کھڑی ہوگئی۔

6۔ قانون توہین رسالت ﷺ انسانی حقوق کےمنافی ہے؟؟

انسانی حقوق کےڈھنڈور چیوں کی طرف سےقانون توہین رسالت ﷺ کوختم کرنے کےلیے عام طور پریہ دلائل پیش کئے جاتےہیں :

1۔ قانون توہین رسالت ﷺ انسانی حقوق کےمنافی ہے۔

2۔ اس قانون کےتحت بےگناہ غیرمسلموں کےخلاف بےبنیاد مقدمات قائم کرکےان کےساتھ ناانصافی کربرتاء کیا جاتاہے۔

3۔ انتہاء پسند، بنیاد پرست مسلمان اس قانون کاغلط استعمال کرسکتےہیں ۔

حقائق وواقعات کامعروضی جائزہ لیاجائے تومندرجہ بالا دلائل بےحدنامعقول اوربےبیناد نظر آتےہیں :

دراصل انسانی حقوق کی آڑمیں امت مسلمہ کےخلاف مذموم سازشوں کاجال بُنا جارہاہے۔

قانون توہین رسالت کسی بھی اعتبارسےانسانی حقوق کےمنافی نہیں ،بلکہ یہ انسانی حقوق کی روح اورفلسفے کےعین مطابق ہے۔ اقوام متحدہ کاانسانی حقوق کاچارٹرجو30صفحات پرمشتمل ہے، اس کاآغاز ہی ان تمہیدی الفاظ سےہوتاہے:

''ہرگاہ کہ نوع انسانی کےجملہ افراد کی فطری تکریم اوران کےمساوی اورناقابل انتقال حقوق ، دنیا میں آزادی ،انصاف اورامن کی بنیاد ہیں ،،۔

اور اس چارٹرکی پہلی شق کےیہ الفاظ ملاحظہ فرمائیے :

'' تمام انسان آزاد اورتکریم وحقوق کےلحاظ سےبرابرہوتےہیں۔انہیں پیدائشی طور پرعقل اورضمیر عطا کیا جاتا ہےاورانہیں ایک دوسرے سےبرادرانہ سلوک کرناچاہیے ،،۔

اگر مندرجہ بالاجملوں کےپس پشت کارفرمامقاصد کی روح کوسامنے رکھاجائے توکہنا پڑٹا ہےکہ '' نوع انسانی کےجملہ افراد کی تکریم ،، میں محسن انسانیت ﷺکی تکریم کواولین درجہ عطا کیا جاناچاہیے ۔ انسانی تاریج میں شرف تخلیق حضرت محمدمصطفیٰﷺ سے کوئی انسان فضیلت ، بزرگی اورعزت ومنزلت میں پڑھ کرنہ گزرا ہے۔مسلمانوں کےعلاوہ انصاف پسند اور غیرمتعصب غیرمسلم مورخین نےبھی جناب رسالتماب ﷺ کوافضل ترین انسان قرار دیا ہے۔ماضی قریب میں برطانوی مصنف مائیکل ہارٹ نےاپنی عالمی شہرت یافتہ تالیف The Hundred میں انسانی تاریخ کی سواہم ترین ہستیوں کےاحوال جمع کئے ہیں ۔ جس میں اس نے ان سو شخصیات کوانسانیت پران کےاحسانات کےحوالے سےترتیب دےکرجگہ دی ہے۔اس نےمحسن انسانیت ﷺ کوپہلے نمبر پررکھا ہے۔ایک ہندومسٹر آرسی داس نوع انسانی پربانی اسلام کےاحسانات کانقشہ ان الفاظ میں پیش کرتاہے:

''شرعی رام چندرجی مہاراج، بھگوان کرشن، کورونانک جی ،حضرت موسیٰ ، یہ سب روحانی بادشاہ ہیں لیکن میں کہتاہوں ، ان میں ایک روحانی شنہشاہ بھی ہےجس کامقدس نام حضرت محمد ﷺہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرریفارمر نےآکر دنیا میں بہت کچھ کیا ہےمگر حضرت محمدﷺ نےدنیا میں اس قدر احسان کیےہیں جن کی مثالی نہیں ملتی ،،۔

(رسول اکرم ﷺ بحیثیت سپہ سالار ازمولانا عبدالرحمن کیلانی صفحہ نمر 325 )

جس طرح حضور اکرم ﷺ کی تکریم ننی نوع انسانی کی تکریم ہے۔اسی طرح ان کی توہین (معاذاللہ ) انسانیت کی توہین ہے۔انسانیت کےعظیم ترین محسن کےحقوق کی ضمانت کے بغیر انسانی حقوق کاکوئی چارٹرایک مہمل دستاویز سےزیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا ۔ انسانی حقوق کےحوالے سے' ' آزادی ضمیر ،، آزادی عقیدہ،،اور ''آزادی رائے،،جیسی اصطلاحات کابہت کثرت سے استعمال کیا جاتاہے۔ان خوش کن تراکیب کےذریعے اسلام اورشارع اسلام ﷺ پرناروا تنقید کےجواز مہیا کئےجاتےہیں۔انسانی حقوق کےمذکورہ چارٹر کی دفعہ 18 اور 19 میں ان کاذکر ان الفاظ میں کیاگیاہے:

'' ہرشخص کوآزادی خیال، آزادی ضمیر اورآزادی مذہب کاحق حاصل ہے۔اس حق میں اپنامذہب یاعقیدے تبدیل کرنے اورانفرادی اوراجتماعی طورپر علیحدگی میں یاسب کےسامنے، اپنا مذہب یاعقیدے کی تعلیم اس پرعمل کرنےاور اس کےمطابق عبادت کرنے اور اس کی پابندی کرنے کی آزادی کاحق شامل ہے،،۔ ( شق نمر 18 )

'' ہرشخص کوآزادی رائے اورآزادی اظہار کاحق حاصل ہے۔اس حق میں بلامداخلت رائےرکھنے کی آزادی اوربلالحاظ علاقائی حدود ، کسی بھی ذریعے سےاطلاعات اورنظریات تلاش کرنے ، حاصل کرنے اورانہیں دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے،، (شق نمبر 19 )

مندرجہ بالاشقات بہت واضح ہیں ، ان کاکوئی بھی جملہ قانون توہین رسالتﷺ سےمتصادم یا متعارض نہیں ہے۔پاکستان میں مسیحی برادری کواپنے ضمیر اورمذہب کےاظہار کی مکمل آزادی ہے۔

آزادی رائے میں جہاں معقول اور صائب طریقے سےاپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی مکمل آزادی ہےوہاں اس اصطلاح کےدائرہ کار میں کسی دوسرے انسان کی کردار کشی ،گالی گلوچ ،توہین ، دل آزاری ، سب وشتم ہرگزشامل نہیں ہے۔جب '' آزادی رائے ،، کےحق کوکسی دوسرے انسان کی تذلیل تک توسیع نہیں دی جاسکتی توپھر اس کاناجائز فائدہ اٹھاتےہوئے '' توہین رسالت ﷺ،، کےاستحقاق کادعویٰ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ انسانی حقوق کےانتھک منادوں کےلیے یہ ایک کھلا چیلنچ ہےکہ وہ ثابت کریں کہ قانون توہین رسالت ﷺ انسانی حقوق کےمنافی آخرکس طرح ہے۔

انسانی حقوق کاچارٹر 48ء؁ میں پیش کیاگیا۔بعد میں جنیواکنونشن وغیرہ بھی سامنے آئے۔ کسی بھی دستاویز میں توہین رسالت کےخلاف سزا کوانسانی حقوق کےمنافی قرار نہیں دیاگیا ۔ درحقیقت Blasphemy(توہین رسالت ﷺ ) اورانسانی حقوق کاربط اس وقت جوڑ اگیاجب شاتم رسولﷺ سلمان رشدی ملعون کی '' شیطانی آیات ،، پرامام خمینی نےاس کےقتل کافتویٰ دیا ۔سلمان رشد ی نےاس سےپہلے بھی دوناول تحریر کئے تھے لیکن اس کووہ پذیرائی نہ ملی تھی۔لیکن اس کےشیطانی ناول میں ملعون رشدی کی ناپاک تھوتھنی سےخیرالبشر کےمنزہ وپاکیزہ گھرانے پرزہرافشانی کرائی گئی تھی ۔ مغرب کی ایک مخصوص صیہونی وعیسائی لابی آج بھی پیغبر اسلامﷺ اورانکے کےمقدم گھرانے کےخلاف گستاخانہ جسارتوں پرمریضانہ خط اٹھاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے مغرب اپنی تمام ترروشن خیالی اورسیکولرازم سےوابستگی کے باوجود مسلمان کےخلاف صلیبی دور کابغض اورکینہ اب تک پال رہا ہے۔ اسلام اورپیغمبر اسلام ﷺ کےخلاغ توہین آمیز سازشوں کی نئی تحریک ننگ اسلام بےدین '' مسلمانوں ، ، کےذریعے سےبرپا کی جارہی ہے جس کےمہر ےسلمان رشدی اوربنگلہ دیشی تسلیمہ نسرین جیسے لوگ ہیں ۔ ان کی تمام ترشیطانی ہرزہ سرائیوں کو''انسانی حقوق،، کانام دےکر تحفظ دیا جارہا ہے۔ '' انسانی حقوق ،، کےلبادے میں مسلمانوں سے'' شیطانی حقوق،، کوتسلیم کرانے کی مہم زوروں پرہے۔''انسانی حقوق کےچارٹر،، کوانسانیت کا'' متفق علہ مذہب ،، بناکر پیش کیاجارہا ہے۔یہ مسلم دنیا کےخلاف نیااستعماری ہتھیار ہےجسے بےحد مکاری اور منافقت سےاستعمال کیا جارہاہے۔

جہاں تک قانون توہین رسالت پردوسرے اعتراض کاتعلق ہےکہ اس کی بنیاد پرغلط مقدمات قائم کئے جاسکتےہیں تویہ اعتراض اصولی طورپرغلط اورغیرمنطقی ہےاگر اس اعتراض کودرست مان لیا جائے تو''جرم وسزا ،، کی دنیا میں کسی بھی تعزیر ی ضابطے یا قانون کےوجود کاجواز باقی نہیں رہےگا۔آج تک کسی بھی قانون کومحض اس بناپرختم نہیں کیا گیا کہ جس کےغلط استعمال کااحتمال نہ پایا جاتاہو۔قتل ،زنا اورچوری جیسے سنگین جرائم کےمتعلق قوانین کےغلط استعمال کےخبریں پاکستان اوردیگر ممالک کے حوالے سےآئے روز چھپتی رہتی ہیں ۔

امریکہ اوراس کی اکثرریاستوں میں قانون توہین مسیح کوامریکی آئین کےبینادی حقوق کےمنافی قرارنہیں دیاگیا ۔امریکی سپریم کورٹ نےایک معروف مقدمے سٹیٹ بنام موکس .(state Vs Mokas)میں آزادی مذہب اورآزادی پریس کےبنیادی حقوق سےبحث کرتےہوئے متفقہ فیصلہ دیا ۔ جس میں عدالت کےالفاظ ہیں :

'' اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اوراسٹیٹ ایک دوسرےسےعلیحدہ ہیں اوران میں باہمی کوئی ربط اورتعلق نہیں لیکن اسلام،بدھ مت اوردیگر مذاہب کےمقابلے میں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے۔حکومت کی زمام کاربھی ان ہی کےہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہرشعبہ زندگی میں ان کااثر ورسوخ ہےاورعیسائیت ریاست اورملک کی اکثریت کا مذہب ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہےکہ دنیامیں تہذیب وتمدن کےآغاز سےکسی ملک کےطرز حکومت کی تشکیل میں دین ومذہب کانہایت اہم رول رہاہے۔اوراس ملک کےاستحکام اوربقا کاانحصار بڑی حدتک اس مذہب کےاحترام اورتکریم سےوابستہ ہےجووہاں کی غالب اکثریت کےدینی شعائر سےعلیحدہ ہ ہونےوالا لازمی حصہ ہے۔ لہذا آزادی مذہب اورآزادی پریسی کےآئینی تحفظات اوربنیادی حقوق توہین مسیح کےقانون اوراس کےبابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں ،،

(ناموس رسول اورقانون توہین رسالت ﷺ ، صفحہ 299۔300 )

امریکی سپریم کورٹ نےامریکہ کی مسیحی اکثریت کےدینی شعائر کےاحترام اورحقوق توہین مسیح کےقانون کوآزادی اظہار اورآزادی صحافت جیسے جدید جمہوری ریاستوں میں تسلیم شدہ حقوق کےمنافی قرار نہیں دیا ۔حدافسوس کامقام ہےپاکستان میں جہاں مسلم آبادی 97 فیصد ہے،وہاں انسانی حقوق کےنام نہاد علمبردار قانون توہین رسالت ﷺکوانسانی حقوق کےمنافی قرار دیتےہوئے اس کےخاتمہ کا مطالبہ کرتےہیں، حقیقت یہ ہےکہ انسانی حقوق کی آڑ میں مسلمانوں کےمحبوب پیغمبر کی شان میں گستاخی (نعوذبااللہ ) کےفریب انگیز جواز پیدا کرتےہیں ۔ان کی اس ساری مہم سازی کامقصدمسلمانوں کےدلوں سےعقیدت رسول ختم کرکےانہیں الحاد اورسیکولرازم کی طرف راغب کرنا ہے۔مسلمانوں کودین اسلام سےبرگشتہ کرنے کاان کےنزدیک موثر ترین طریقہ یہ ہےکہ ان دلوں سےحضوراکرمﷺ کی عقیدت اورمحبت کوکم کیاجائے۔کیونکہ ان کا یہ جذبہ عقیدت مغرب کےالحاد کوقبول کرنے کی راہ میں سب سےبڑی رکاو ٹ ہے۔ اب وقت آگیا ہےکہ انسانی حقوق کےنام پرصہونی لابی کی اسلام اورشارع اسلام کےخلاف برپاکی جانے والی مذموم سازشوں کےبےنقاب کیاجائے۔

پاکستان میں صیہونی لابی کی تنحواہ دار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اوراس کےحاشیہ بردار انسانی حقوقے قانون رسالت کےمتعلق اخباری بیانات کےذریعے اعتراض کرتےرہتےہیں کہ یہ قانون فوجی آمر صدرضیاء الحق نےبنایا ورنہ اس کااسلام سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ قانون توہین رسالت کوصدر ضیاء الحق سےمنسوب کرکےیہ عاقبت نااندیش پاکستان کےعوام میں پائی جانے والی مارشل لاء کےخلاف نفرت کواپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلیے استعمال کرنا چاہتےہیں ۔ورنہ اسلامی شریعت اور اسلامی تاریخ سےمعمولی سی واقفیت رکھنےوالاہرشخص جانا ہےکہ قانون توہین رسالت اسلامی تاریج کے ہردور میں نافذ رہاہے۔قاضی عیاض ﷫ نے'' الشفاء،، میں ہی ذکر کیا ہےکہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید نےحضرت امام مالک  سےدریافت کیا کہ '' شاتم رسول ﷺ کی کیا سزا ہے؟ عراقی فقہاء توکہتےہیں ، ایسے شخص کوکوڑوں کی سزا دی جائے،،۔ اس پرحضرت امام مالک ﷫ جلال میں آگئے اور فرمایا ''اگررسول خداﷺ کودشنام کاہدف بنایا جائے گا توامت باقی نہیں رہےگی ۔جوشخص انبیاء کودشنام دےاس کی سزا قتل ہے،، ۔ پروفیسر منور مرزا کےبقول ''یہ فیصلہ یافتویٰ تقریبا ہراسلامی سلطنت میں نافذر ہا ، چنانچہ یہ فیصلہ سلطا ن صلاح ا لدین ایوبی نےبھی نافذ کیا اورجلال الدین اکبر نےبھی ،، ۔

جناب اسمعیل قریشی صاحب نےبالکل درست تحریر کیا ہےکہ

'' مسلمانون کوخواہ وہ ایشیا ہویایورپ ، افریقہ ہویاکوئی اورخطہ ارض ، جہاں بھی اقتدار حاصل رہا ، وہاں کی عدالتوں نےاسلامی قانون کی رو سےشاتمان رسول ﷺ کوسزائے موت کا فیصلہ سنایا ۔ اس کےبرعکس جب کبھی یاجہاں کہیں ان کےپاس حکومت نہیں رہی ،وہاں جانثار ان تحفظ ناموس رسالت ﷺ نےغیرمسلم حکومت کےرائج الوقت قانون کی پروا کیے بغیرگستاخان رسول ﷺ کوکیفر کردار تک پہنچایا اورخود ہنستے مسکراتےتختہ دار پڑچڑھ گئے ،،

وہ مزید کہتےہیں کہ '' برصغیر پاک و ہندمیں برطانوی دوراستعمار سے قبل،حتیٰ کہ مغل شہنشاہ اکبر کےسیکولر دور میں بھی شاتم رسول ﷺ کوسزائےموت دی گئی لیکن جب اس ملک پرسازشوں کےذریعہ انگریزوں کاغاصبانہ قبضہ ہواتوانہوں نے توہین رسالت کےقانون کویکسر موقوف کردیا ،،حقیقت یہ ہےکہ پاکستان میں قانون رسالت ﷺ کووفاقی شرعی عدالت کےفیصلہ کےنتیجے میں نافذ کیا گیا۔ صدر ضیاء الحق مرحوم یاپاکستانی حکومت کا اس قانون کی تنفیذ میں بنیادی کردار نہیں ہے۔صدرضیاء کےدور ہی کےوزیر قانو ن جناب اقبال احمدخان نے295سی کےبل کی قومی اسمبلی میں شدید مزاحمت کی تھی ۔

خلاصہ بحث

مندرجہ بالا سطور میں پیش کردہ معروضات وحقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہےکہ قانون توہین رسالت (295۔سی)کےمتعلق اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کےوارد کردہ اعتراضات وخدشات بےبنیاد ، سطحی ، اشتعال انگیز ، معروضی، حقائق کےمنافی اوربعض انتہا پسندوں کی مذہبی جنونیت اورکج فکری کاشاخسانہ ہیں۔ قانو ن توہین رسالت ﷺکے خلاف احتجاج مہم میں اپنی صلاحیتوں اورتوانائی کےضیاع کےبجائےانہیں اپنے مذہب عیسائیوں میں مسلمانوں کےمذہبی جذبات کےاحترام اورپاکستانی قوانین کی پرخلوص اطاعت کےجذبے کےآبیاری کی تحریک شروع کرنی چاہیے۔

قانون توہین رسالتﷺ مصور پاکستان علامہ اقبال کےخواب کی عملی تعبیراورقائداعظم کےنظریہ پاکستان کی تکمیل ہے۔محسن انسانیتﷺ،رسول عربی ﷺ کی ناموس کےتحفظ کاعقیدہ اسلامی شریعت کا اہم ترین ستون ہونے کےاعتبار سےپاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کااہم ترین قلعہ ہے۔

جناب محمد اسمعیل قریشی کی مذکورہ تالیف کےپیش لفظ میں تحریر کردہ جسٹس محمد رفیق تارڑصاحب کےیہ خیالات سنہری حروف میں لکھے جانے کےقابل ہیں اورایک اسلامی نظریاتی مملکت میں توہین رسالت کےقانون کی اہمیت وضرورت کےمتعلق راہنمااصول کا درجہ رکھتےہیں :

'' ریاست یاملک اوروہاں کےمعاشرے کےاستحکام اوربقاکےلیے ضروری ہےکہ وہاں کی نظریاتی سرحدوں کی بھی اس طرح حفاظت کی جائےجس طرح کہ جغرفیائی حدبندیوں کاتحفظ کیاجاتاہے۔حضور رسالت ماب ﷺ کی ذات گرامی ہی جب وجہ وجود ملک ومملکت ہوتوایسی ہستی کےبارے میں کسی قسم کاگستاخی ، بےادبی اورہرزہ سرائی سارے معاشرے میں فساد اوربگاڑ کاباعت ہوگی ۔اس لیے ایسے شرپسند عناص،جوتوہین رسالت ﷺ کےمجرم قرار پائیں ،انتہائی سنگین سزا کےمستحق ہیں تاکہ ملک میں فتنہ اورفساد کی پرورش نہ ہوسکے۔اگر یہ قانون موجود نہ توپھر مجرموں اورن کےخلاف مشتعل ہونے والے مدعیوں پرعدالت کےجدروازے بند ہوجائیں، جس کی وجہ سےہر کوئی قانون اپنےہاتھ میں لےکر مجرموں سے انتقام لےگا، جس سےملک میں انار کےپھیلے گی اور یہ چیز ملک اور اہل ملک کےامن وسلامتی کےلیے انتہائی خطرناک ہے۔

جس برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی ‎، سچائی، حق پرستی ، عدل وانصا ف جیسی اعلیٰ قدروں سےروشناص ہوئی ، ا ن کی شان میں دشنام طرازی انتہائی گھناؤنا فعل ہے،جسےکوئی مہذب معاشرہ برداشت نہیں کرسکتا اورخاص طور پرمسلمان معاشرہ ۔اس کےلیے ایسے دریدہ دہن گستاخان رسالت ﷺ کامنہ بندکرنے اورمعاشرے کومستحکم شائستہ ، صحت مند اورصالح بنانے کےلیے ایسا قانون ناگزیرتھا،،۔