ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • جولائی
1998
ادارہ
ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت سےتوہین رسالت ﷺکےمرتکب ایوب مسیح کوسزائے موت اقلیت کےایک مخصوص طبقے فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی پراسرار خودکشی (یاقتل !!؟ ) نے مسیحی اقلیت کےایک مخصوص طبقے کی قانون توہین رسالت ﷺ کےخلاف چلائی جانے والی غیردانش مندانہ اورجارحانہ مہم کونقظہ عروج )کلائکس ) تک پہنچادیا ہے۔ آنجہانی بشب جان جوزف نےمذکورہ عدالتی فیصلے کےخلاف شدید جذباتی رد عمل کااظہار کرتے ہوئے خود کشی کاارتکاب کیایا تازہ ترین رپورٹوں کےمطابق انہیں سوچی سمجھی سازش کےتحت قتل کرکے سیشن کورٹ کےسامنے پھینکنے کا ڈرامہ رچایا گیا ، حقیقت کچھ بھی ہو، دونوں صورتوں میں ان کی موت کی ذمہ دارنہ حکومت ہےاور نہ ہی مسلمان اکثریت کوموردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کےبعد نام نہاد انسانی حقوق کےبدقسمت منادوں اور بعض مسیحی تنظیموں کی طرف سےقانون توہین رسالت کوواپس لینے ، احتجاجی جلوس کےدوران مسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز بیانان کےذریعے پرامن اکثریت کے جذبات کومجروح کرنے کا عمل مذکورہ واقعے سےکہیں زیادہ افسوس ناک ہےکیونکہ اس خطرناک صورتحال پراگربروقت قابونہ پالیا جاتا تویہ مسلمانوں اور عیسائی اقلیت کےدرمیان خطرناک تصادم پر منتج ہوسکتی تھی ۔معلوم ہوتاہے کہ بعض شرپسند عناصر اس طرح کےواقعے کواپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کےلیے استعمال کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نےجلتی پرتیل کاکام کرکے جذباتیت کاشکار مسیحی نمائندوں کومسلم اکثریت سےلڑانے کاافسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔
  • جولائی
1998
غازی عزیر
حضرت ابوقتادہ سےمروی ہے:
'' قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقيمت الصلاة فلاتقومو ا حتى ترونى"
'' رسول الہ ﷺ نےفرمایا کہ جب نماز کےلیے اقامت کہی جائے توجب تک مجھے نہ دیکھ نہ لو، کھڑے نہ ہواکرو،،
بعض روایات میں قد خرجب کےالفاظ بھی وار د ہیں ۔
امام ترمذی ﷫ اس حدیث کو'' حسن صحیح ،، قرار دیا ہے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کےالفاظ لاتقوموا کی شرح میں فرماتےہیں :''اس کھڑے ہونےکی ممانعت مذکور ہے،، ۔اور اگلے قول حتی ترونی کی متعلق فرماتےہیں :''اس میں امام کودیکھنے پرکھڑے ہونےکاحکم وارد ہے۔ یہ حکم مطلق ہےاوراقامت کےکسی مخصوص جملے کےساتھ مقید نہیں ہے،،
  • جولائی
1998
نصیراحمد اختر
اسنان مدنیت طبع ہونے کےناطے دوسرے انسان کامحتاج ہےاسی طرح یہ بھی واضح ہےکہ کوئی اانسان خواہ کسی بھی حالت میں کیوں نہ ہوتنہا اپنی جملہ ضروریات پوری نہیں کرسکتا بلکہ دوسرےانسان کا محتاج ہے۔
ہرانسان اپنی صلاحیت کےمطابق انسانی ضروریات کےلیے پیداواری یونٹ ہےاورہر یونٹ کی پیداوار دوسرے کی ضرورت ہے۔لہذا ہریونٹ اپنی پیداوار کازائد حصہ دوسرے کو دیکر اپنی بقیہ ضروریات کوحاصل کرتاہےاوریہی معاملات کی اصل اساس ہے۔ یوں ہریونٹ اپنی پیداوار کامالک بن جاتاہے ۔لہذا زیر نظر مضمون میں ان عوامل کی نشان دہی کی جاتی ہےجن کواختیار کرنے سےانسان قطعئہ ارضی کامالک بن جاتاہےاسی طرح اسلام میں ملکیت کی تعریف اورایک انسان کا اپنی مملوکہ زمین میں تصرف کااختیار پہچاننا از حد ضروری ہے۔
  • جولائی
1998
محمد اصغر اسد
عربی زبان اوراس کےادب کاگہرا مطالعہ کرنےسے یہ بات کھل کرواضح ہوجاتی ہےکہ اس زبان وادب پراللہ تعالیٰ کی خاص عنایت رہی ہے،اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کونبوت کےلیے منتخب کرتاہےتواسےخاص انداز اورخاص ماحول میں پروان چڑھاتاہے، اسی طرح جب اس نےعربی زبان کواپنے آخری پیغام ہدایت کےلیے انتخاب فرمایا تواس کوابتداء سےہی ایک خاص انداز سے اپنی نگرانی اورحفاظت میں پروان چڑھایا چنانچہ عرب قوم عصر جاہلیت سےہی اس زبان کااہتمام کرتی آئی ہے،ظہور اسلام کےبعد توا س میں اوربھی اضافہ ہوگیا ،کیونکہ عربی زبان ، اللہ کاکلام،اوراس کےآخری رسول کی زبان قرار پائی ۔حضرت نبی اطرہﷺنےفرمایا:''أحبواالعرب لثلاث لانى عربى والقرآن عربى وكلام اهل الجنة عربى اوكماقال النبى صلى الله وسلم ،،
''عربوں سےتین باتوں کی بناء پرمحبت کرو: کیونکہ کہ میں عربی ہوں ، قرآن کی زبان عربی ہےاوراہل جنت کی زبان عربی ہے،،۔
  • جولائی
1998
عبدالرشید عراقی
عمرہادر کعبہ بت خانہ می نالہ حیات
تاز بزم عشق تک دانائے راز آیدبرون
علامہ سید سلیمان ندوی علم کا بحرذخارتھےاور ان کی ذات میں اللہ تعالی ٰ نےبیک وقت گونا گوں اوصاف جمع کردیئے تھے۔وہ اپنے دور کےاردو زبان کےسب سےبڑے ادیت اورمصنف تھے۔انہوں نے مختلف موضوعات پرقلم اٹھایا اورمتعدد ضخیم کتابیں ترتیب دیں اورملک سےخراج تحسین حاصل کیا ۔ان کی تصانیف میں سیرۃ النبیﷺ،سیرۃ عائشہ ؓ ، مقام ، تاریج ارض القرآن، نقوش سلیمان اورحیات شبلی بہت مشہور ومعروف ہیں ۔ ان کےعلاوہ آپ نےسینگڑوں علی ، دینی اورمذہبی ،تاریخی وتنقیدی اورتحقیقی ، ادبی وسیاسی مضامین الندوۃ لکھنؤ ، الہلال کلکتہ اورمعارف اعظم گڑھ میں لکھے۔اورآپ کےکئی مقامات اتنے طویل تھےکہ ان کی زندگی میں کتابی صورت میں ہوئے ۔