اسلام اور مغرب محمد عمران صدیقی٭



ترقی! ترقی! ترقی!... ہر فرد کی کوشش کامحور یہی ہے۔ہر معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتا ہے۔ہر حکومت اسی میں ملک و قوم کی کامیابی تصور کرتی ہے۔ انسانی حیات کی ہر تین سطحوں پر یعنی فرد، معاشرے اور حکومت کی کامیابی کا تصور... ترقی... کے ساتھ جڑا ہے۔ کامیاب فرد وہی ہے جو مسلسل ترقی کررہا ہو، کامیاب معاشرہ وہی ہے جو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہو،کامیاب حکومت و مملکت وہی ہے جو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ اور ترقی یافتہ سے آگے مزید ترقی کی طرف سفر کررہی ہو...!

کامیابی کا پیمانہ 'ترقی' ہے تو 'ترقی' کا پیمانہ فی کس آمدنی Per capita Income یا پھر 'ترقی' کا پیمانہ 'تسخیر ِکائنات' ہے۔ جس معاشرے میں فی کس آمدنی جس قدر زیادہ ہوگی اسی قدر وہ 'ترقی یافتہ' کہلائے گا۔ مگر اس کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ فی کس آمدنی کا یہ معیار تسخیر کائنات یعنی سائنس و ٹیکنالوجی اور سوشل سائنسز کے علوم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو، نہ کہ قدرتی اور معدنی دولت کے ذریعے۔ اس لئے سعودی عرب یا کویت جتنے بھی مال دار ملک ہوں، فی کس آمدنی بھی اچھی ہو، لیکن ترقی یافتہ نہیں کہلائے جاسکتے۔

اپنی اس اصل میں ترقی شاید کوئی برائی محسوس نہ ہوتی ہو کہ فی کس آمدنی میں اضافہ یا سائنس و ٹیکنالوجی میں اضافہ میں کیا برائی ہے؟ مگر ہم جس عنوان پر بات کرنا چاہتے ہیں وہ ہے:ترقی یا نجات ؟ بطور مقصد ِحیات یعنی انسانی زندگی کا مقصود کیا ہے؟ انسان کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ فوزو فلاح کا پیمانہ اور میزان کیا ہے؟ فرد کی سطح پر ہو یا معاشرہ یا حکومت کی سطح پر، کون سافرد کامیاب و کامران کہلائے گا؟ کون سا معاشرہ فوز و فلاح پائے گا اور کون سی حکومت اپنے ملک و قوم کی خیر خواہ مانی جائے گی۔ اس کا جواب آج کی جاہلیت ِجدیدہ 'ترقی' کے نام سے دیتی ہے اور اسلام 'نجات' کے نام سے۔

جاہلیت ِ جدیدہ کے ہاں کوئی بھی فرد کامیاب و کامران اس وقت گنا جائے گا جب وہ ترقی کررہا ہو، اس کے سر مایے میں اضافہ ہورہا ہواور وہ 'آزادی' اور 'مساوات' کی اَقدار میں آگے بڑھ رہا ہو۔جبکہ اسلام کی نظر میں کوئی شخص اس وقت کامیاب و کامران گِنا جاتا ہے جب وہ دنیا میں ہدایت اور آخرت میں 'نجات' پانے والا بن جائے، فرمان ِباری تعالیٰ ہے:

{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ }(آل عمران:۱۸۵)

''کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔''

نیز فرمایا:

{الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا} (الکہف:۴۶)

''یہ مال اور یہ اولاد محض زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میںتو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے ربّ کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں۔''

{اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ}(الرعد:۲۶)

''یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں، حالانکہ دنیاکی زندگی آخرت کے مقابلے میں متاعِ قلیل کے سواکچھ بھی نہیں۔ ''

ہدایت اِس دنیا میں اللہ کے پیغمبرؐ کی تعلیمات(قرآن و حدیث) کی پیروی کا نام ہے اور نجات اُس دنیا(آخرت) میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے عذاب ِجہنم سے بچ کر نعمت ِجنت میں جانے کا نام ہے۔ دینِ اسلام میں کوئی شخص 'ترقی' نہ کررہا ہو یعنی نہ تو اس کی دولت میں اضافہ ہورہا ہو اور نہ وہ دنیا کی تسخیر میں آگے بڑھ رہا ہو،یہ تو ممکن ہے کہ وہ دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے، لیکن اسلام اس کو ناکام ونامراد فرد کے طور پر نہیں لیتا۔بلکہ ناکام و نامراد تو وہ بد نصیب ہے جو ہدایت نہ پا سکا، وحی کی نعمت کی پیروی سے محروم رہا،توحید کی مٹھاس نہ چکھ سکا،گمراہی و ظلمت کے اَندھیروں میں بھٹکتا رہا، وحی کے علم سے بے بہرہ اور اس کی پیروی سے اِعراض کرتا رہا۔ شرک کا زہر گھونٹ گھونٹ بھرتا رہا، مرتا رہا اور نتیجتاً جنت سے محروم اور جہنم کا ایندھن بنا دیا گیا۔

{وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ }(سورۃ العصر)

''زمانے کی قسم! انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ،اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ''

نبی کریم 1 نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ ﷺ قَالَ: رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اﷲِ لأَبَرَّہُ'' (صحیح مسلم:۲۶۲۲)

''ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ 1 نے فرمایا: بہت لوگ پریشان حال، بال غبار آلودہ دروازوں سے دھکیلے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے اعتماد پر کسی بات کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ اُ ن کی قسم کو سچا کر دے۔ ''

توکیا ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کافروں کے لئے چھوڑ دی جائے اور راہبوں کی طرح، صوفیوں اور پنڈتوں کی طرح مردم بیزار اور دنیا سے بے نیاز ہوکر رہا جائے۔ حاشا و کلا ّہمارا مقصد یہ ہے اور نہ ہی اسلام کی تعلیم یہ ہے۔ بلکہ مالک کائنات نے تو ہمیں دعا سکھلائی ہے کہ مانگتے رہیں

{رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }(البقرۃ:۲۰۱)

''اے ہمارے ربّ!ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی،اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔''

اور ہمیں یہ تعلیم دی:

{وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ} (القصص:۷۷)

''اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش نہ کر ،احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر،اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔''

تو دنیا اپنی تمام تر زیب و زینت ،مال و دولت، عورت و شہرت اوراقتدار و لشکر سمیت لازمۂ حیات تو ہے اور ضرورتِ زندگی بھی مگر مقصود ِحیات نہیںاور کامیابی کی علامت وضمانت نہیں۔مقصودِ حیات 'ہدایت' ہے اور کامیابی کی علامت و ضمانت 'نجات' ہے۔اسی لئے قرآنِ مجید نے ذکر کیا ہے:

{زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ} (آل عمران:۱۴)

''لوگوں کے لیے مرغوبات ِنفس: عورتوں،اولاد ،سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے ،مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آیند بنادی گئی ہیں ،مگر یہ سب دنیا کی چندروزہ زندگی کا سامان ہیں۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے، وہ اللہ کے پاس ہے۔''

نبی اکرم1 نے فرمایا:

{ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ ﷺ قَالَ مَا مِنْ غَازِیَة تَغْزُو فِي سَبِیلِ اﷲِ فَیُصِیبُونَ الْغَنِیمَة إِلاَّ تَعَجَّلُوا ثُلُثَي أَجْرِهِمْ مِنَ الآخِرَةِ وَیَبْقَی لَهُمُ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ یُصِیبُوا غَنِیمَة تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ }(صحیح مسلم:۱۹۰۶)

''جب مجاہد اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور اُنہیں (امن و سلامتی سے) مالِ غنیمت مل جاتا ہے تو اُنہوں نے اپنا دو تہائی ثواب دنیا میں پالیا اور اگر(مصیبت یا شکست آئے اور) وہ غنیمت حاصل نہ کرسکیں تو وہ پورے ثواب کے مستحق ہوں گے۔''

امیر المومنین عمر بن خطاب ؓکے دورِ مبارک میں فتح فارس کے موقع پر مدینہ منورہ کے بیت المال میں سونے چاندی کے ڈھیر جمع ہورہے ہیں، لوگ خوش ہورہے ہیں اور سیدنا عمر ؓ رو رہے ہیں۔ ساتھیوں نے وجہ دریافت کی تو بتایا کہ کہیںہمارے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں نہ مل رہا ہو ہم نے تو وہ آخرت کے لئے کیے ہیں۔

مسلمانوں کا امام صرف نماز کا نہیں بلکہ سیاست کابھی، صرف مسجد کا امیر نہیں بلکہ خلافت کا بھی امام ہوتا ہے۔ملک فتح بھی کررہے ہیں، قوموں کو زیر نگین بھی لارہے ہیں مگر اس کو کامیابی کا معیار اور کامرانی کی حقیقی علامت نہیں سمجھا جارہا۔

'جاہلیت ِجدیدہ' کے ہاں جب 'ترقی' مقصد ِحیات ٹھہری تو باقی ہر چیز پست ہوگئی۔ مذہب، عقیدہ، اخلاق، شریعت جو چیز بھی ترقی کی راہ میں حائل ہو،اسے توڑ ڈالو، تباہ کردو، بدل دو۔ ترقی کی راہ میں مذہب حائل ہوا تو اُنہوں نے اسے بیڑیاں سمجھ کر توڑڈالا، وحی الٰہی سے انکار کردیا،کتابِ الٰہی کو دستور ازکار ِرفتہ بنادیا۔ عقیدہ اگر ترقی کی راہ میں حائل ہوا تو 'لاأدري' کہہ کر اللہ پروردگارِ عالم اور آخرت کی جزا و سزاکو اپنی زندگی سے لاتعلق کرلیا۔ اخلاق حائل ہوا تو معیارِ اخلاق ہی بدل ڈالا۔مذہب اور فطرت کی بجائے عالمگیر غلبہ Universolisation اور مادی غلبہ اخلاق کا معیار بن گئے۔ حلال و حرام کے الٰہی ضابطے، ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے تو اُنہوں نے حلال و حرام کے پیمانے خود گھڑ لئے۔ اب حلال و حرام وہ نہیں جس کو اللہ، کتاب اللہ اور رسول اللہ حلال و حرام قرار دیں بلکہ ہر وہ چیز حلال ہے جو ترقی کی راہ میں معاون بنے۔

آزادی، مساوات ، سود، فحاشی، ملکوں پر قبضے، قوموں کا خون ، نسلوں کی تباہی ہر شے جائز اورہر وہ چیز حرام ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ علم وہ پسندیدہ ہے جو ترقی میں معاون ہو۔شخصیت وہی محبوب ہے جو ترقی پسند ہو۔جومدرسہ'نجات' کا علم پڑھائے،جو شخصیت 'ہدایت' کی طالب ہو،جاہلیتِ جدیدہ کے اس دور، معاشرے اورحکمرانی میں اُس کا نہ کوئی مقام ومرتبہ ہے نہ کوئی وقارو احترام !!

لیکن ایک مسلمان یہ ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو موت و حیات کو امتحان و آزمائش کے لئے پیدا فرمایا ہے:

{الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا} (الملک:۲)

''جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والاہے۔''

اورمالک کائنات نے حکم فرمایا کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کی جائے :

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} (التحریم:۶)

''اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے۔ ''

مگربد قسمتی سے ہم لوگ(مسلمان)بھی جس شخصیت کو ترتیب دیتے ہیں،جس معاشرہ کو بناتے ہیں اورجو حکومت اور نظام چلاتے ہیں ،وہ ترقی کے لئے تو معاون ہوتا ہے اور 'نجات' و 'ہدایت' کے مخالف یا لا تعلق۔ہمارے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں جو تعلیم دے رہے ہیں، آئندہ نسلوں کی جو شخصیت ترتیب دے رہے ہیں، جو ذہنیت پروان چڑھ رہی ہے اور جو تعلیمی نصاب بنائے جاتے ہیں وہ سب کے سب طالب علموں کو چند روزہ دنیوی ترقی کے لئے تیار کرتے ہیں۔سائنس یا سوشل سائنس کی تعلیم ہوتی ہے تو 'ترقی'کے لئے۔ یہاں تو 'اسلامیات' کی تعلیم بھی نجات اور ہدایت کے مقصد کے لئے نہیں بلکہ ترقی کی غرض سے لی اوردی جاتی۔ سائنس پڑھنے والے طلبہ و طالبات ہو ںیا سوشل سائنس پڑھنے والے، آپ کبھی ان کے ماحول اور مباحث کو دیکھ لیجئے ، سن لیجئے!

میڈیا کے ذریعے قوم کی جو ذہنیت بنائی جارہی ہے ،اخبارات ورسائل، ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے جو تربیت کی جاتی ہے،جو سبق اور تعلیم پھیلائی جاتی ہے۔ ڈرامہ ، فلم، ادب، نثر، نظم،اَفسانہ کے ذریعے جو کچھ سکھایا جاتاہے، وہ مسلمانوں کو نجات و ہدایت کی بجائے ترقی کو ہی مقصد ِ حیات بنانے میں مدد کرتا ہے۔

سماجی سطح پر NGOs، معاشی سطح پر سودی ادارے، سیاسی سطح پر حاکمیت ِجمہور، عالمی سطح پرUNO, World Bank, IMF.وغیرہ سب ہی ادارے ترقی ہی کو انسانی حیات کا مطمع نظر قرار دیتے ہیں۔ اور انسان کو اس کی حقیقی فوز و فلاح اور ہدایت و نجات سے غافل کرنے میں اپنا اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کررہے ہیں۔

یوں موجودہ دور کے تمام اِدارے سماجی سطح پر ہوں یا سیاسی سطح پر، تعلیمی ہوں یا معاشی، سائنس کے علوم ہوں یا سوشل سائنس کے، ادب ہو یا تاریخ سب کے سب انسانوں کو اسلام اور اس کی تعلیمات سے دور کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

اس کے مقابلے میں اسلامی شخصیت ، اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت و ریاست ہر سطح پر چاہے و ہ انفرادی ہو یا اجتماعی، عقیدہ ہو یا نظام، آخر کار وہ توحید ِباری تعالیٰ اور آخرت کی یاددہانی کے لئے برپا ہوتی ہے۔ آدم ؑ سے لے کر محمد رسول اللہ1 تک تمام کے تمام انبیا اسی مقصد کو لے کر مبعوث ہوتے رہے۔ وہ کسی رہبانیت کا سبق نہ دیتے تھے، لیکن ترقی ٔدنیا کو بھی انسانی زندگی کا محور نہ بناتے تھے۔ بلکہ دنیا کے ہر معاملے کو وحی الٰہی کی روشنی میں طے کراتے تھے اور انسان کا مقصد ِ پیدائش عبادت و بندگی اور منتہاے مقصود رضاے الٰہی اور نجات ِاُخروی کو قرار دیتے رہے۔

اسی مقصدِ حیات کی تعلیم پیروانِ نبوت نے اپنے معاشروں میں عام کی۔ اسی مقصد ِ حیات کے لیے اسلامی حکومت و خلافت برپا ہوتی رہی۔ اسلامی مدارس جس علم کو پھیلاتے ہیں وہ وحی کا علم ہوتا ہے۔ قرآن و سنت اور ان سے ماخوذ عقیدہ، فقہ اور تزکیہ کے علوم جو انسان کو نجات کی راہ سمجھاتے ہیں۔ فنون، طب، ہندسہ، کیمیا، فلسفہ، منطق وغیرہ یا تو ردّ کے لئے سکھلائے جاتے ہیں یا پھر تخصص اوردیگر ضروریات کے لئے، اس لئے یہ علوم فرضِ کفا یہ ہیں۔جو علم فرضِ عین ہے وہ مقصودِ حیات یعنی ہدایت و نجات کا علم ہے،نہ کہ آسائش و ترقی کا علم یا خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کا علم۔ ہدایت و نجات کا بنیادی علم جوکہ فرضِ عین کی حیثیت رکھتا ہے، جانے اور مانے بغیر کوئی شخص ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلے یا انجینئر،ڈاکٹر اور سائنسدان بن جائے، اسلام کی نظر میں وہ جاہل یا ماہر فن تو ہوگا ،کوئی عالم ہر گز نہیں۔

اسی طرح کوئی بھی معاشرہ اور حکومت جو بندگی ٔربّ، عدل اور نجات کے بجائے فقط آزادی، مساوات اور ترقی کی اَقدار پر قائم ہو، اسلام کی نظر میں وہ جاہلی معاشرہ اور طاغوتی حکومت گنی جائے گی جو اپنے افراد و عوام کو اللہ کی رضااور جنت کی بجائے اللہ کے غضب اورجہنم کی طرف لے جانے کا سبب اور وسیلہ بنے گی۔

یاد رہے کہ ترقی و تنزل کا یہ وہ تصور ہے جو جاہلی معاشروں میں پایا جاتا ہے اور مادی پیمانوں میں تولا جاتا ہے۔ عروج و زوال کا اسلامی تصور اس سے بالکل الگ شے ہے۔ اسلامی حوالے سے تو ترقی مقصد ِحیات نہیں بلکہ نجات مقصد ِحیات ہے،لیکن کیا جاہلی اعتبار سے بھی انسان اور دنیا ترقی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ بعض مفکرین کا یہ کہنا ''انسان نے پرندوں کی طرح ہوا میں اُڑنا تو سیکھ لیا ہے اور مچھلیوں کی طرح سمندر میں تیرنا سیکھ لیا ہے، لیکن انسان کی طرح زمین پر رہنا نہیں سیکھ سکا۔'' اسی طرح یہ قول کہ ترقی صرف اشیا میں ہوئی ہے نہ کہ انسانیت میں، انسان تو پہلے سے بڑھ کر ظالم و جابر، متکبرو سرکش، حرص و ہوس کا بندہ بن کر رہ گیا ہے اور ترقی صرف سائنس و ٹیکنالوجی میں معلوم ہوتی ہے۔

لیکن خود اس نقطہ نظر پر بھی...کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی ممکن ہوئی ہے ... مختلف مفکرین تنقید کرتے ہیں۔ذرا اس بات کو بھی سنئے، زاہد صدیق مغل اپنے ایک مقالہ میں لکھتے ہیں:

''۔۔۔۔۔۔۔کئی دوسرے معیارات سے گھوڑا اور گدھا کار کے مقابلے میں زیادہ بہتر سواری کا نظام فراہم کرتے ہیں مثلاً گھوڑے، اونٹ وغیرہ کی سواری کا یہ کمال تھا کہ یہ سواری ہر سال دوچار بچے بھی دیتی تھی اور اس وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو اپنی سواری مستعار دینے میںکوئی تکلیف محسوس نہیں کرتے تھے اور اس کی انشورنس بھی نہیں کرائی جاتی تھی۔ اس میں پٹرول ڈلوانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اردگرد موجود زرعی زمینوں اور چراگاہوں سے اس کی خوراک کا بندوبست ہوجاتا تھا۔ اس سواری کا سفر اتنا سستا تھا کہ اس پر بیٹھ کر امام بخاریؒ نے کئی ممالک کا سفر کیا،اگر یہ سواری ضائع ہوجاتی تو دوسری سواری خریدنا ناممکن نہیں ہوتا تھا۔اگر سواری میں کوئی نقص پیدا ہوجاتا تو اس کو ذبح کرکے کھا لیا جاتا، یہ سواری کسی قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث نہیں تھی۔ اس کاگوبر تک کھاد کے کام آتاتھا۔ اس سواری کی دیکھ بھال کے لئے بڑے بڑے ورکشاپ کھولنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی، جہاں بیٹھے ہوئے کارندے لوگوںکو بیوقوف بناتے ہوں۔مالک اس سواری کے کل پرزوں کو اور طریقہ کار کو جان سکتا تھا اور جانتا تھا،وہ اس کی خوبیوں، خرابیوں سے واقف ہوتا تھا۔اس کو درست کرنے اور درست رکھنے کے لئے اسے سات سمندر پار سے ماہرین،بروشر، ٹیکنالوجی ایکسپرٹ اور ہزاروں قسم کے ماہرین کی ضرورت نہ تھی۔پھر اس سواری کا سب سے بڑا فائدہ انسان کا صحت مند وجود تھا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر پندرہ کلومیٹر سفر کرنے کے بعد نہ کسی کو حملۂ قلب ہوتا تھا اور نہ بلڈ پریشر بڑھتا تھا،نہ شوگر ہوتی تھی اور نہ سونے کے لئے نیند کی گولیاں کھانی پڑتی تھیںاور نہ جسم میں طرح طرح کے درد نکلتے تھے جو آج کل کے پیٹ بھروں اور آرام پسندوں کو لاحق ہوگئے ہیں... بتائیے کیا سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین ان معیارات پر کار کا موازنہ گھوڑے اور اونٹ گاڑی سے کرنے کیلئے تیار ہوں گے ؟'' (سائنسی علمیت اور اسلام،غیر مطبوعہ)

اس گفتگو سے مقصود یہ ہے کہ خود ترقی کے مادی معیارات بھی مختلف ہوتے ہیں اور ترقی ماپنے کا کوئی عالمگیر پیمانہ نہیں ہے، لیکن کسی بھی پیمانے پر ترقی انسان کا مقصودِ حیات بن جائے یا فوزو فلاح کی میزان بن جائے اور نجات و ہدایت کے مقصد ِحیات کو بھلا دے تو تباہی اور گمراہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ آج پوری انسانیت بالعموم اسی جہالت کے گڑھے میں دھنستی جارہی ہیں جہاں اس نے نجات و ہدایت کی بجائے ترقی و مادیت کو اپنا مقصود قرار دے دیا ہے اور اسی کو کامیابی کی راہ سمجھ لیا گیا ہے۔ جبکہ اسلام کے نزدیک مادی ترقی یا مادی انحطاط کا حقیقی کامیابی سے کوئی تعلق نہیں۔

پرانے زمانے میںبھی کئی قومیں ایسی ہو گزری ہیں جنہوں نے تمدن، بودوباش اور عمارت سازی میں بہت ترقی کرلی تھی۔ اس مادی ترقی اور اس پر ان کے گھمنڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

{فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً} (فصّلت:۱۵)

''عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے تھے اور کہنے لگے: '' کون ہے ہم سے زیادہ زور آور''... ان کو یہ نہ سوجھا جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آورہے۔''

اسی طرح فراعنۂ مصر اور قارون کا حال قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ فراعنۂ مصر کے دور کی ترقی کا حا ل تو آج بھی اہرامِ مصر سنا رہے ہیں، لیکن فرعون اورقارون اپنی جاہ وحشمت سمیت غرقِ آب کر دیئے گیے اور زمین میں دھنسادیئے گئے اور آخرت میں جہنم کاایندھن بنادیئے گئے۔یوں مادی ترقی اُن کے لیے فوز و فلاح کا سبب نہ بن سکی،نہ دنیامیں اور نہ ہی آخرت میں! ان کے مقابلے میں قرآن مجید اَصحاب کہف اور اصحاب الاخدود کے واقعات سناتاہے جو اس دنیا میں تو 'ترقی'کی راہ پر گامزن نہ تھے بلکہ اپنے معاشرے اور حکمرانوں کے زیر ِعتاب آکر رہے، لیکن آخرت میں حقیقی فوز و فلاح سے ہم کنار ہوئے ۔