میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تحقیق وتنقید محمد رفیق چودھری



ہمارے ہاں کے بعض تجدد پسند لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کے شرعی قوانین کانفاذ مسلمانوں پر تو ہوسکتا ہے مگر غیرمسلم شہریوں پر نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ شرعی قوانین دراصل اسلامی ریاست کا وہ ملکی قانون(Law of the Land) ہوتا ہے جسے وہ بلا امتیاز اپنے ہاں کے تمام باشندوں پر نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

تعجب ہے کہ یہ لوگ ایک طرف تو اس عالمگیر سیاسی اُصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا کی ہر آزاد اور خود مختار ریاست اپنا ملکی قانون (Public Law) اپنے تمام شہریوں پر نافذ کرسکتی ہے مگر دوسری طرف ان لوگوں کے تعصب اورہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ اسلامی ریاست کو اُس کا یہ بنیادی حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیںکہ وہ بھی اپنے شہریوں پراپنا ملکی قانون نافذ کرسکے۔

درحقیقت یہ ان مغرب زدہ دانشوروں کے علم و نظر کا افلاس ہے کہ وہ اسلام کو بھی دنیا کے دوسرے مذاہب کی طرح کا ایک مذہب سمجھتے ہیں۔اسے بھی فرد کا ذاتی معاملہ(Private Matter) قرار دیتے ہیں۔ پھر کبھی اسے ملکی سیاست اور اِجتماعی زندگی سے بے دخل کردیتے ہیں اور کبھی یوں کہتے ہیں کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کسی مذہب کو اس کے نہ ماننے والوں پرزبردستی ٹھونسا جائے؟

اہل علم جانتے ہیں کہ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح کا ایک مذہب نہیں ہے،بلکہ وہ ایک ایسا دین ہے جو انسان کی اِنفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں پر حاوی ہے۔ جس میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہیں، جس میں دین اور سیاست الگ الگ نہیں۔جو ایک مکمل ضابطۂ حیات (A Complete Code of Life) ہے، جو اسلامی ریاست کا دستورِ مملکت ہے اورجو دنیاوی و اُخروی زندگی کی فلاح کا ضامن ہے۔

فقہاے اسلام کے نزدیک اسلامی ریاست کا ملکی قانون(Public Law) وہاںکے تمام مسلم اور غیرمسلم شہریوں پرنافذ ہوتا ہے۔البتہ غیر مسلموں کو اُن کے شخصی قانون پرعمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے کی سزا شرعی قانون ہے اور یہ اسلامی ریاست کا ملکی قانون ہے جس میں اگر کوئی مسلمان چوری کرے گا تو اس پر بھی یہ حد نافذ ہوگی اور اگر کوئی غیر مسلم چوری کا ارتکاب کرے گا تو وہ بھی یہی سزا پائے گا :

a امام ماوردیؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب الأحکام السلطانیۃ میں چوری کی حد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ویستوي في قطع السرقة الرجل والمرأ ة والحر والعبد والمسلم والکافر'' (ص۲۸۴)

''چوری کے جرم پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہر مجرم کو دی جائے گی خواہ وہ مجرم مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام اور مسلمان ہو یا کافر۔''

b تفسیر قرطبی میں ہے کہ

''ولا قطع علی صبي ولا مجنون،ویجب علی الذمي والمعاھد''(۳؍۱۶۸)

''چوری کے جرم پر بچے اور پاگل کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا،اور ذمی اور معاہد(غیرمسلموں) کا ہاتھ کاٹنا واجب ہے۔''

c امام ابن قدامہ حنبلی ؒ اپنی مشہور کتاب المغنيمیں لکھتے ہیں کہ

''ویُقطع المسلم بسرقة مال المسلم والذمي،ویُقطع الذمي بسرقة مالھما،وبه قال الشافعي،وأصحاب الرأي ولا نعلم فیه مخالفًا'' (۱۲؍۴۵۱)

''کوئی مسلمان جب کسی مسلمان یا ذمی کا مال چوری کرے گا تو اُس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور کوئی ذمی جب کسی مسلمان یا ذمی کا مال چوری کرے گا تو اُس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔ امام شافعیؒ اور دوسرے اصحابِ رائے کا یہی قول ہے اور اس بارے میں کسی کا اختلاف ہمارے علم میں نہیں ہے۔''

d بدایۃ المجتہدمیں علامہ ابن رُشد نے چوری کی حد کے بارے میں ائمہ اَربعہ کی متفقہ رائے یہ لکھی ہے کہ کافر پر بھی اس کا اطلاق ہوگا لکھتے ہیں:

''اتفقوا علی أن مِن شرطِه أن یکون مکلفًا،وسواء کان حرًّا أو عبدًا، ذکرًا أو أنثیٰ،مسلمًا أو ذمیًا'' (۲؍۷۰۴)

''اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص پر چوری کی حد جاری کی جائے، اُس کا مکلف(عاقل بالغ) ہونا ضروری شرط ہے،چاہے وہ شخص آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت اور مسلمان ہو یا ذمی کافر۔''

e موسوعۃ الاجماع في الفقہ الاسلامي میں یہ اجماعی حکم لکھا ہے کہ

''إن إجماع المسلمین علی أن المسلم تقطع یدہ إذا سرق مالاً لمسلم، أو لغیرمسلم،وعلی أن غیر المسلم یقطع بسرقة مال المسلم ومال غیرالمسلم'' (۱؍۳۴۲)

''اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے کہ ایسے مسلمان شخص کا ہاتھ کاٹا جائے گا جو کسی دوسرے مسلمان یا غیر مسلم کا مال چوری کرے۔ اسی طرح ایسے غیر مسلم شخص کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا جو کسی مسلمان یا غیر مسلم کا مال چوری کرے۔''

éمولانا امین احسنؒ اصلاحی بھی ذمیوںسمیت تمام شہریوں پراسلامی ریاست کے شرعی قوانین کی تنفیذ کو درست سمجھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

''اسلامی حکومت میں ملکی قانون (Law of Land) اسلامی قانون ہی ہوگا اور ظاہر بات ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو ریاست کے اِسلامی ہونے کے سرے سے کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ مگر، جیسا کہ اُوپر واضح کیا جاچکا ہے ریاست یا اس کا قانون غیر مسلموں کے مذہب، تہذیب اور تمدن اور پرسنل لا میں دخیل نہیں ہوں گے۔'' (اِسلامی ریاست از مولانا اصلاحی:ص۲۱۹)

é مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ بھی ایک اسلامی ریاست میں ذمیوں پر اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کو ضروری قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

''تعزیرات کا قانون ذمی اور مسلمانوں کے لیے یکساں ہے اور اس میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی، وہی ذمی کو دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرا لے یا مسلمان کا مال ذمی چرا لے، دونوں صورتوں میں سارِق کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ '' (اِسلامی ریاست از مولانامودودیؒ:ص۶۰۶)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ا س بات پر اجماعِ اُمت ہے کہ اسلامی ریاست میں چوری کی حد جہاں مسلمانوں پر نافذ ہوگی وہاں غیر مسلم شہریوں پر بھی نافذ ہوگی اور اس بارے میں اہل اسلام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

آج مسلم ریاستوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو اُن کے شخصی قوانین پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے، جبکہ مغرب کی نام نہاد متمدن ریاستیں وہاں کی مسلم اقلیت کو اُس کے شخصی قانون پرعمل کرنے کا حق دینے کے لیے قطعاً آمادہ نہیں۔ افسوس! اس صریح ظلم پر تو ہمارے ہاں کے دانش فروشوں کا دل کبھی نہیں پسیجتا مگر جب کوئی اسلامی ریاست غیر مسلم اقلیت پراپنا ملکی شرعی قانون نافذ کرنے لگتی ہے تو ہمارے اُن اسلام دوستوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنا شروع ہوجاتا ہے۔