(1)مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی؟
(2)جمعہ قائم کرنے کا وقت؟ (3)صلاۃالتسبیح پڑھنا؟
(4)عورت سے مصافحہ کرنا؟ (5)غیر مسلم عدالتوں کے فیصلے؟
(6)مغرب کی سنتوں کےکے بعد اوابین کی رکعتیں؟

سول۔ مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی گناہ ہے یا نہیں؟

جواب۔بلاشبہ شریعت اسلامیہ میں تکریم مسلم کی بڑی اہمیت حاصل ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ عمرو بن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ قبر پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا:"اس قبر والے کو ایذانہ دو"اور دوسری روایت میں ہے۔"میت کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے"(مشکوۃ باب البکاۃ علی المیت)

اور صحیح مسلم میں ابو مرثدغنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا مروی ہے۔

"لا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلا تُصَلُّوا إِلَيْهَا "

"قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ان کی طرف اور نہ ان کے اوپر نماز پڑھو"

ان نصوص سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی عزت واحترام ہر حالت میں واجب ہے اس کی اہانت اور توہین آمیز سلوک کرنے والے کے ساتھ وہی کچھ ہونا چاہیے جس کے وہ لائق ہے حکومت کا یہ فرض ہے کہ اس کے لیے مناسب طریقہ سزا و تادیب تجویز کرے جس سے عام لوگوں کو عبرت ہوتا کہ آئندہ ایسے فعل شنیع کا اعادہ نہ ہونے پائے لیکن اس کے بدلہ میں کسی کو موت کے گھاٹ اتارنا بہر صورت ناجائز ہے۔

سوال۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی بلاوجہ یا بربنائے دشمنی وانتقام قبر کھود ڈالے تو ایسے شخص کی شریعت اسلامی میں کیا سزا ہے؟

جواب۔قبروں کی بے حرمتی کرنا بلاشبہ گناہ ہے لیکن اس شخص کے مباخ الدم (قتل جائز) ہونے کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں حکومت جو مناسب سمجھے بطور تعزیر سزادے سکتی ہے۔

سوال۔اگر کوئی شخص کسی شخص کو اپنی والدہ کی قبر کھودتے ہوئے دیکھے تو وہ اس شخص سے کیا سلوک کر سکتا ہے؟کہاں تک اسے بدلہ یا سزا کا حق ہے اس سے قطع تعلق کرنا یا اس کو دل میں برا جاننا اور سزادینا یاانتقام لینا ان میں کیا بہتر ہے؟(سید محمد اخلاق کراچی)

جواب۔ایسے شخص سے ہر ممکن طریقہ سے نفرت کا اظہار ہونا چاہیے اور اگر وہ تائب ہو جائے تو پھر رنجش دل سے نکال دینی چاہیے۔

سوال۔جمعہ قائم کرنے کا وقت کونسا ہے؟

جواب۔ اقامت جمعہ زوال شمس کے بعد ہو نا چاہیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں بایں الفاظ باب قائم کیا ہے بَاب وَقْتُ الْجُمُعَةِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ یعنی"جمعہ کا وقت آفتاب ڈھلنے کے بعد ہے"

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ"

یعنی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس کے بعد جمعہ پڑھتے تھے"امام موصوف نے دیگر احادیث کے علاوہ اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ جمعہ زوال کے بعد پڑھنا چاہیے اور قبل از زوال جمعہ پڑھنے کی کوئی صحیح صریح حدیث موجود نہیں (مرعاۃ المفاتیح :2/306)

آج 8/اپریل کو زوال نصف النہار بارہبج کر پانچ منٹ پر ہے آپ کا نقل کردہ وقت زوال درست نہیں دوبارہ نقشوں کی طرف مراجعت کریں غرض ساڑھے بارہ بجے جمعہ کا آغاز درست وقت ہے بلکہ اس سے قبل بھی ہو سکتا ہے کیونکہ آج کل زوال بارہ بج کر پانچ منٹ پر ہے۔

جمعہ کے دن زوال سے تو انکار نہیں ہو سکتا وہ تو ایک حتمی اور یقینی شے ہے اس کا وقوع لازمی امر ہے ہاں کئی ایک اہل علم کے نزدیک نوافل کی بلا استثناء عمومی اجازت ہے زوال کا اعتبار نہیں اسی طرح جمعہ کی فضیلت کی گھڑیوں میں جو نماز کی ترغیب ہے وہ جواز کی واضح دلیل ہے مشارالیہ روایت ابو قتادہ اگر چہ منقطع ہے کیونکہ ابو الخلیل کا ابو قتادہ سے سماع نہیں پھر اس میں لیث بن ابی سلیم راوی ضعیف ہے لیکن بعض نے شواہد کی بنا پر اس کو بھی قابل عمل سمجھا ہے(المرعاۃ :2/59)

بہر صورت نوافل پہلے پڑھ لیے جائیں زوال کے بعد امام جمعہ کا آغاز کرے گا صرف دورکعت نماز ہی نہیں بلکہ جمعہ خطبہ دے گا جس طرح سنت سے ثابت ہے۔

سوال۔ کیا عورت لوہے کی چیز بلیڈیا استرازیر ناف بالوں کی صفائی کے لیے استعمال کر سکتی ہے؟ حلق العانة اور الاستحداد کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ الاستحداد کی تشریح میں رقم طراز ہیں:

" والمرادُ بهِ استِعمالُ الموسى في حَلقِ الشّعَر مِن مَكانٍ مخصُوص مِنَ الجسَد،

(فتح الباری1/343) یعنی "جسم کے مخصوص مقام سے بالوں کی صفائی کے لیے استرا استعمال کرنا مراد ہے۔

اور سنن نسائی کی روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں اس کی تعبیر حلق العانۃ کے ساتھ کی گئی ہے نیز صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات میں بھی ایسی ہی تعبیر ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"المراد بالعانة الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذا الشعر الذي حوالي فرج المرأة "

یعنی العانۃ سے مراد وہ بال ہیں جو مرد کے ذکر پر اور ارد گرد ہوتے ہیں اور اسی طرح وہ بال جو عورت کی شرمگاہ کے گرد ہوتے ہیں ان پر بھی العانۃ کا اطلاق ہو تا ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے فرمایا:شعر العانۃ کے بارے میں مرداور عورت کے لیے صفائی کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بالوں کو استرے سے مونڈا جائے چنانچہ صحیح حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مروی ہے کہ"رات کے وقت سفر سے واپس عورتوں کے پاس مت آؤ یہاں تک کہ پراگندہ حالت والی کنگھی کر لے اور شوہر کو غیر حاضر پانے والی زیر ناف بال صاف کرلے۔"

اصل سنت ہر اس چیز سے ادا ہو جائےگی جس سے بالوں کی صفائی حاصل ہو جائے ۔ مطلب یہ ہے کہ لوہے اور غیر لوہے وغیرہ سب کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ صفائی حاصل ہو جائے کیونکہ اصل مقصد یہی ہے آلات کو محض ثانوی حیثیت حاصل ہے۔

سوال۔عید کے موقعہ پر جماعت کی صورت میں صلاۃ التسبیح پڑھنا کیسا ہے؟ بالخصوص عورتوں کے لیے۔

جواب۔عام حالات میں صلاۃ التسبیح پڑھنا سنت سے ثابت ہے لیکن عید کے موقعہ پر بالخصوص جماعت پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ۔

سوال۔ کیا عورت اپنے قریبی رشتہ دار سے ہاتھ ملا سکتی ہے پردہ کن سے کرنا ضروری ہے اور چہرہ کے پردے کے بارے میں وضاحت فرمائیں ؟

جواب۔عورت اپنے شوہر سے اور دیگر خواتین بھی اپنے محرموں سے مصافحہ کر سکتی ہیں لیکن عورت کے لیے غیر محرم سے مصافحہ کرنا منع ہے۔ حدیث میں نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

" إِنِّى لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ "

"میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔"عورت محرموں کے علاوہ دوسرے لوگوں سے پردہ کرےمحرموں کی تفصیل سورۃ النوراور سورۃ الاحزاب اور موضوع سے متعلقہ احادیث میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

چہرے کے پردے کے بارے میں واقعہ افک (بروایت صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ )میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ "جب میں نے صفوان بن معطل کی آواز سنی تو میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور حجاب کا حکم نازل ہونے سے پیشتر اس نے مجھے دیکھا تھا ۔"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آیت حجاب نازل ہونے کے بعد عورتیں اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا کرتی تھیں ۔

سوال۔یادواشت کے لیے اپنی یا والدین کی تصویر گھر میں رکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟اور کتابوں کی تصاویر کے بارے میں وضاحت فرمائیں ۔(ام عبداللہ خانیوال)

جواب۔تصویر خواہ اپنی ہو یا والدین وغیرہ کی بطور یاد گار اپنے پاس رکھنا حرام ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب سے فرمایا: (بروایت صحیح مسلم)

"جو بھی تصوریر یا مجسمہ دیکھو اسے مٹا دواور جو قبر اونچی دیکھو اسے برابر کردواور دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب مصوروں کو ہوگا"

سوال۔ امریکہ کی عدالت کے خلع یا طلاق پر مبنی فیصلوں کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟

جواب۔اصل یہ ہے کہ جج مسلمان ہو یا غیر مسلم جج کا فیصلہ باہر مجبوری تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ تعلیمات نبوی کے معارض و منافی نہ ہو۔ظاہر ہے کہ عورت نے خلع کا دعوی اپنی مجبوری کی بناپر کیا ہو گا۔ لہٰذا امریکی عدالت کا فیصلہ نافذ العمل ہو گا۔

سوال۔ کیا امریکی عدالت سے فیصلہ شدہ مسماۃ اب کسی اور فرد کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے؟

جواب۔مذکورہ خاتون عدت کی تکمیل کی صورت میں کسی بھی غیر محرم مسلمان سے نکاح کر سکتی ہے ۔

سوال۔ کیا مسماۃ اپنے پہلے خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔

جواب۔اگر یہ عورت سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو بھی کر سکتی ہے شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں۔

سوال۔اس کے علاوہ جو بھی حقوق خاتون مذکورہ کو حاصل ہیں اس پر شریعت اسلامیہ (قرآن و حدیث ) لحاظ سے فتوی درکار ہے۔(راشد حسان)

جواب۔نئے نکاح کی صورت میں عورت کی رائے کو بہر صورت اہمیت ہونی چاہیے جبکہ ولی کا اذن بھی ضروری ہے۔

سوال۔باپ اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بیٹی کو جہیزدے سکتا ہے یا نہیں ؟نیز حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چند چیزیں جہیز کے طور پر دی تھیں وہ اپنی حیثیت کے مطابق دینے کی دلیل ہو سکتی ہے؟

جواب۔جہیز ایک ہند وانہ رسم ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا از بس ضروری ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بوقت رخصتی جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کفالت کی بنا پر ہے بطور خاص اس کو جہیز کے جواز کے لیے پیش کرنا محل نظر ہے ہاں البتہ والد بیٹی کو بطور ہدیہ یا تحفہ کوئی شے عنایت کردے تو اس کا جواز ہے کیونکہ تحفے تحائف اور ہدایا کی شریعت میں ترغیب موجود ہے۔

سوال۔مسئلہ یہ ہے کہ مغرب کی سنن راتبہ کے بعد اوابین کے نام سے جو چھ رکعتیں پڑھی جاتی ہیں کیا یہ مسنون ہیں؟

جواب۔نماز مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھنے والی روایت سخت ضعیف ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جامع میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ عمربن عبد اللہ ابن ابی خشعم منکر الحدیث اور سخت ضعیف ہے ۔

(باب ما جاء في فضل التطوع وست ركعات بعد المغرب)

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی میزان الاعتدال میں فرمایا کہ" اس کی حدیث منکر ہے"مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔مرعاۃ المفاتیح 2/152۔151۔یاد رہے یہ رکعات الاوابین کے نام سے موسوم نہیں بلکہ صلاۃ الاوابین چاشت کی نماز کو کہا جا تا ہے چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے:

((صلاة الأوَّابين حين تَرمَضُ الفِصالُ))

"اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اس وقت ہے جس وقت اونٹنیوں کے بچوں کے پاؤں سخت گرمی سے جلنے لگیں" اور حاکم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( لا يحافظ على صلاة الضحى إلا أواب، وهي صلاة الأوابين "

یعنی"چاشت کی نماز پرمداومت صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے والاہی کرتا ہے مزید فرمایا کہ اسی کانام صلاۃ الاوابین ہے"جب حدیث ضعیف ہے تو مسنون ہونا ثابت نہ ہوا اگر چہ امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے نیل الاوطارمیں کثرت طرق کی بناپر فضائل اعمال میں قابل عمل سمجھا ہے۔

سوال۔کتاپالنا شریعت مطہرہ (قرآن و سنت) کی روسے بالکل ممنوع ہے یا بعض صورتوں میں اس کے لیے مسنون اجازت ہے؟

جواب۔شوقیہ کتا پالنا ناجائز ہے اس سے اجرو ثواب میں یومیہ ایک قیراط (احد پہاڑ کے برابر)بعض دفعہ دو قیراط کمی واقع ہوتی ہے البتہ شکار مویشیوں کی حفاظت اور کھیتی باڑی وغیرہ کی حفاظت کے لیے اسے پالنا جائز ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں بایں الفاظ تبویب قائم کی ہے۔

"باب مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلا مَاشِيَةٍ"

"جس شخص نے شکاریا مویشیوں کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا"

اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ"کاٹنے والے کتے کو ہلاک کرنا جائز ہے"(نیل الاوطار 8/135) لہٰذا نقصان دہ کتوں کو آپ بھی قتل کر سکتے ہیں۔

سوال۔کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کو جاتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کرائی تھی؟ کیونکہ حدیث مسلم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دورکعات نماز ادا کی تھی۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے تمام نبیوں کی امامت کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام انبیاء علیہ السلام ہوئے (آفتاب احمد عباسی ابوظہبی)

جواب۔مسجد اقصیٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء علیہ السلام کی جو امامت کرائی تھی وہ تحیۃ المسجد کی دورکعتیں تھیں (ملاحظہ ہو تفسیر اضواء البیان ) لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء علیہ السلام ٹھہرے۔