قادیانی تحریک سلطنت برطانیہ کی پیداوار ہے اور انگریزوں نے سلام اور اس کے بنیادی اصول و احکام کو مٹانے کے لیے مرزاغلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا جو ڈپٹی کمشز سیا لکوٹ کی کچہری میں ایک معمولی تنخواہ پر ملازم تھا اور اس نے سیالکوٹ میں 1864ءتا1868ءملازمت کی۔مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ:"اس نے ملازمت کے دوران سیالکوٹ میں پادری مسٹر ٹیلرایک اے سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ اس کے پاس عموماً آتا۔ اور دونوں اندر خانہ بات چیت کرتے۔ ٹیلر نے وطن جانے سے پہلے اس سے تخلیہ میں کئی ایک ملاقاتیں کیں۔ پھر اپنے ہم وطن ڈپٹی کمشز کے ہاں گیا اس سے کچھ کہا اور انگلستان چلا گیا ۔ ادھر مرزاغلام احمد قادیانی (؟)دے کر قادیان آگئے اس کے تھوڑے عرصہ بعد مذکورہ فرد ہندو ستان پہنچا ۔ اور ضروری رپورٹیں مرتب کیں۔ ان رپورٹوں کے فوراً بعد مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سلسلہ شروع کردیا"(تحریک ختم نبوت ص21)

جناب شورش کاشمیری کی اس تحریر سے واضح ہو تا ہے کہ قادیانی تحریک برطانوی استعمار کی پیداوار ہے۔مسلمانوں کی تاریخ میں 19ویں صدی عیسوی کا نصف آخر اس لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں اسلام دشمن عناصر نے اسلام کے نام پر ہی مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور اس میں افتراق و انتشار پھیلانے کے لیے کوئی کسر اٹھانہ رکھی ۔ انہی اسلام دشمن عناصر میں برصغیر پاک ہند میں قادیانی تحریک کا بانی اور اس کے پیروکار بھی شامل نہیں جنہیں انگریز حکومت کی پوری معاونت حاصل رہی اور اس کو ہدایت کی گئی کہ ۔"ایک ایسے مذہب کی اساس رکھو۔جس کا مقصد انگریز اور اس کی حکومت کی اطاعت ہو۔اور جو مسلمانوں کی مذہبی و قومی روایات کا خاتمہ کردے تاکہ ہندوستان کی برطانوی حکومت اہل اسلام کی طرف سے مطمئن ہو جائے اور وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچاسکیں۔ اور ہر معاملہ میں اس کے آگے سر جھکائے رکھیں۔"

جناب احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں کہ:

"قادیانیت اسی غرض کے لیے معرض وجود میں لائی گئی اور اسلام دشمن اور مسلم دشمن قوتوں کے زیر سایہ اس کی پرورش و پرواخت کی گئی ۔امت محمدیہ کے تمام دشمنوں نے مال اور دیگر وسائل سے اس کی مددومعاونت کی۔"(مرزائیت اور اسلام ،طبع دوم ص13)

پروفیسر رحیم عنایت اللہ نسیم سوہدوری مرحوم و مغفور فرمایا کرتے تھے کہ:

"قادیانی تحریک برطانوی استعمار کی پیداوار ہے اور اس تحریک کو معرض وجود میں لانے کا واحد مقصد یہی تھا کہ مذہب اسلام کو نقصان پہنچایا جائے ۔اس کی روایات کو ختم کیا جائے اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کیا جائے اور ان کے ذہنوں کو پراگندہ رکھا جائے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے مسلمانوں میں جہاد کی سپرٹ کو ختم کرنے کے لیے یہ اعلان کردیا کہ جہاد منسوخ ہو چکا ہے اس کی اب ضرورت نہیں ہے اور مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے مطیع و فرمانبردار رہیں۔ اس مقصد کے اس کے لیے اس نے قرآن مجید کے ترجمہ میں تحریف کی اور آیت قرآنی ۔

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾

مطلب یہ بتلایا کہ خدائے قادیان مرزاغلام احمد اور حکومت برطانیہ کی طاعت کی جائے۔

اللہ تعالیٰ نے اس فرقہ باطلہ کے قلع قمع کرنے کے لیے مولانا محمد انور ظفر علی خان مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ،پیر مہر علی شاہ  رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد انور شاہ کاشمیری  رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ  شورش کاشمیری  رحمۃ اللہ علیہ اور بیسیوں علمائے کرام کو پیدا کیا۔ جنہوں نے قادیانی تحریک کے خلاف تحریری تقریری جہاد کیا۔ مولانا ظفر علی خان کے اشعار نے قادیانی قلعوں میں زلزلہ پیدا کر دیا ایک مستقل کتاب"ارمغان قادیان " کے نام سے مرتب کی جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان فرماتے ہیں۔ 
گر تجھ کو منظور ہے سیر جہاں قادیاں
اے مسلمانو! خریدو ارمخان قادیاں
میں نے دی اسی کو لگام اور ہو گیا اس پر سوار
ورنہ کس کو مانتی تھی مادریان قادیاں
مولانا ظفر علی خاں کی ایک نظم ہے۔
وہ بھاگتے ہیں اس طرح مباہلے کے نام سے
فرار کفر ہوا جس طرح مسجد الحرام سے
پکار کر کہہ رہا ہے زلزلہ بہار کا
ٹل نہ سکے گا قادیان خدا کے انتقام سے
مسیلمہ کے جانشین گرہ کٹوں سے کم نہیں
کتر کے جیب لے گئے پیمبری کے نام سے
سنابھی تونے ہم نشین کہ قادیان دمشق کی
ہوئی ہے جنت اندلس کے جنگ بدلگام سے
میں قادیان سے کیا لڑوں کہ فرصت آج کل نہیں
رکوع سے سجود سے قعود سے قیام سے

مرزا غلام احمدقادیانی:۔

بانی فرقہ مرزائیہ مرزا غلام احمدقادیانی جس کی پیدائش 1829ء تا1840ء،میں ہو ئی اسے بچپن میں چڑیاں پھنسانے کی عادت تھی دیگر کھیل کود میں دلچسپی رکھتا تھا ضدی مزاج تھا۔ 20سال کی عمر تک حصول علم کیا۔1864ءمیں اپنے والد کی پنشن کی ایک بھاری رقم چراکر فرار ہو گیا۔ اور پندرہ روپے ماہوار پر سیالکوٹ کچہری میں ملازمت اختیار کر لی۔ چار سال بعد 1868ء میں مختاری کا امتحان دیا اوراس میں فیل ہو گیا۔اس کے بعد جب ٹیلر نےنبوت کے لیے انٹرویو لیا تو اس میں کامیاب ہو گیا۔ 1877ء میں مذہبی سٹیج پر نمودار ہوا۔ پنجاب کی زمین اس مقصد کے لیے بڑی زرخیز ثابت ہوئی۔1884میں اپنے آپ کو مامور من اللہ مجددوقت اور خدا کا الہام یا فتہ قراردیتے ہوئے مختلف قسم کے الہامات شائع کردئیے۔ مارچ 1889ءمیں ایک باقاعدہ تنظیم کی داغ بیل ڈالی ۔ جنوری 1991ء میں اپنے "مسیح موعود" ہونے کا اعلان کیا۔ 1892ء میں"مہدی موعود"بن بیٹھا۔ اور 1901ء میں نبوت و رسالت کا دعوی کردیا جس پر مرتے دم تک قائم رہا۔ مرزا غلام احمدقادیانی کا انتقال 26مئی 1908ء کو لاہور میں اپنے میزبان کے ہاں بعارضہ ہیضہ بیت الخلاء میں ہوا۔

قادیانی تحریک:۔

برطانوی حکومت کی سر پرستی کے علاوہ یہودیوں اور ہندوؤں نے بھی اس کی تحریری و مالی معاونت کی۔ اور اس تحریک نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بے شمار مسائل پیدا کیے ۔اور یہ تحریک مسلمانوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئی۔ اس قدر نقصان مسلمانوں کو آریہ سماج نے نہیں پہنچایا جس قدر قادیانیت نے پہنچایا ۔آریہ سماج کی تحریک سے چند صد مسلمان مرتد ہوئے ہوں گے لیکن قادیانی تحریک سے بہت زیادہ نقصان ہوا اور یہ تحریک مسلمانوں کے لیے بہت مضرو مہلک ثابت ہوئی اس لیے کہ اس تحریک کا مقصد توحید الٰہی میں شرک کو مدغم کرنا اسلام کی سالمیت کو توڑنا کتاب وسنت کی جگہ تصانیف مرزا کی تعلیم دینا آیات قرآنی کے ترجمہ و تفسیر میں تاویلات گھڑنا اور ان کے معانی و مطالب کو توڑمروڑ کر پیش کرنا آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ختم المرسلین  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے سے انکار کر کے پیغمبر قادیان کو آخری نبی ماننا قوم میں افتراق و انتشار پھیلا نا اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف کر کے ان کی بجائے نئے نئے مسائل و احکام گھڑنا اور دین حنیف میں نت نئے فتنے نکالنا تھا۔

چنانچہ قادیانی تحریک نے تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام کے جماعتی و ملی نظام کو درہم برہم کردیا۔ اور "اسلام"کے پردے میں وہ کام کر دکھایا جو کسی بدترین دشمن دین سے ہو نا ناممکن تھا۔

قادیانی تحریک اور علمائے اہلحدیث:۔

قادیانی تحریک کی تردید اور اس فرقہ باطلہ کا قلع قمع کرنے کے لیے برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث نے جو تقریری و تحریری جہاد کیا۔ وہ برصغیر کی دینی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اہل حدیث کی خدمات برصغیر کے مشہور اہل علم  و قلم نے کیا۔ مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں۔

"علمائے اہلحدیث نے مرزا صاحب کے کفر کا فتوی دیا۔ ان کا فتوی "فتاوی نذیریہ" جلد اول ص4پر موجود ہے مرزا صاحب اس فتوی سے تلملااٹھے اور میاں نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ میاں صاحب سو برس سے اوپر ہو چکے ہیں اور انتہائی کمزور تھے آپ نے مرزا صاحب کے چیلنج کو اپنے تلامذہ کے سپرد کیا۔مرزا صاحب اپنی عادت کے مطابق فرار ہوگئے جن علمائے اہلحدیث نے مرزا صاحب اپنی عادت کے مطابق فرارہو گئے۔جن علمائے اہلحدیث نے مرزا صاحب اور ان کے بعد قادیانی امت کو زیر کیا ان میں مولانا محمد بشیر سہسوانی قاضی محمد سلیمان منصور پوری اور مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی سر فہرست تھے لیکن جس شخصیت کو علماء اہلحدیث میں فاتح قادیان کا لقب ملا۔ وہ مولانا ثناءاللہ امرتسری تھے انھوں نے مرزا صاحب اور ان کی جماعت کو لوہے کے چنے چبوادئیے۔ اپنی زندگی ان کے تعاقب میں گزاری ان کی بدولت قادیانی جماعت کا پھیلاؤ رک گیا مرزا صاحب نے تنگ آکر انہیں خط لکھا کہ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا ہے اور صبر کرتا رہا ہوں۔ اگر میں کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ لکھتے ہیں تو آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا ورنہ آپ سنت اللہ کے مطابق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ خدا آپ کو نابود کردے گا ۔ خدا وند تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفسداور کذاب کو صادق کی زندگی میں اٹھائے۔(خط مؤرخہ 5/اپریل1907ء)

اس خط کے ایک سال ایک ماہ اور 12دن بعد(26/مئی1908ء )مرزا صاحب لاہور میں اپنے میزبان کے بیت الخلاء میں دم توڑ گئے۔ مولانا ثناء اللہ نے 15مارچ 1948ء کو سرگودھا میں رحلت فرمائی وہ مرزا صاحب کے بعد 40سال تک زندہ رہے ان کے علاوہ مولانا سعید محمد حسین  بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا اللہ معمار رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد شریف گھڑیالوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبدالرحیم لکھواوالے ، مولانا عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ علیہ  ،مولانا حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ  شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ ،مولانا محمدحنیف ندوی بابو حبیب اللہ کلرک امرتسری ، اور حافظ محمد ابرہیم کمیرپوری وغیرہ نے قادیانی امت کو ہر محاذ پر خوار کیا۔ اس سلسلہ میں غزنوی خاندان نے عظیم خدمات سر انجام دیں۔ مولانا سید داؤد غزنوی جو جماعت اہلحدیث کے امیر اور مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری رہے ۔انھوں نے اس محاذ پر بے نظیر کام کیا۔ فی الجملہ تحریک ختم نبوت کے اس آخری دور تک مرزائی مسلمانوں سے الگ کئے گئے اور آئینی اقلیت قرارپاگئے۔[1]علمائے اہلحدیث قادیانیت کے تعاقب میں پیش پیش رہے اور اس عنوان سے اتحاد بین المسلمین میں قابل قدر حصہ لیا۔ (تحریک ختم نبوت ص40۔41)

مشہور علمائے اہلحدیث :۔

جن مشہور علمائے اہلحدیث نے قادیانیت کے خلاف تقریری و تحریری جہاد کیا اور قادیانی امت کو دینی محاذ پر ذلیل و خوار کیا۔ ان میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

مولاناسید نذیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد بشیر رحمۃ اللہ علیہ  سہسوانی، مولانا حافظ عبدالمنان و وزیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا سید الجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا عبد العزیز رحیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبدالرحمٰن لکھوی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا عبدالجبار عمر پوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبد الحق غزنوی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  مولانا ابو القاسم سیف بنارسی  رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ، مولانا محمد شریف گھڑیالوی ،مولانا سید محمد داؤد غزنوی ،مولانا حافظ محمد گوندلوی  رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا عبد اللہ روپڑی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمد اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ  السلفی، مولانا احمد الدین گکھڑوی ،مولانا عطاء اللہ حنیف ، مولانا حکیم عبد الرحمٰن خلیق  رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا قاضی محمد اسلم سیف ،علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ  اور پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی رحمۃ اللہ علیہ ،ان کے علاوہ مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد مدنی  رحمۃ اللہ علیہ ،اور مولانا ارشاد الحق اثری رحمۃ اللہ علیہ ، اور بے شمار علمائے اہلحدیث نے قادیانی امت کو دینی محاذ پر ذلیل و کوار کیا۔ اور تحریک ختم نبوت میں اگر نقدر خدمات سر انجام دیں۔

مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ :۔

قادیانی تحریک کو بیخ دین سے اکھاڑ نے کے لیے مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  کی خدمات قدر کے قابل ہیں۔ مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  نے جب دینی تعلیم سے فراغت پائی ۔تو اس وقت تین گروہ اسلام اور پیغمبراسلام کے خلاف برسر پیکار تھے۔

1۔عیسائی ۔۔۔۔2۔آریہ۔۔۔۔3۔قادیانی ۔

مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  نے ان تینوں کے خلاف محاذ قائم کیا۔ اور ساری عمران کے خلاف برسر پیکار رہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں۔

"اسلام اور پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اور قلم اٹھایا ۔ اس کے حملے کو روکنے کے لیے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہو تاتھا۔اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انھوں نے عمر بسر کر دی۔ فجزاہ اللہ عن الاسلام خیر الجزاء مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبانی اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا اس کی مدافعت میں جو سپاہی بھی آگے بڑھتا وہ وہی ہوتے۔اللہ تعالیٰ اس غازی اسلام کو شہادت کے درجات و مراتب عطا کرے۔"(یادرفتگان۔ص418)

"کان پورسے فارخ ہوتے ہی اپنے وطن پنجاب میں پہنچا۔ مدرسہ تائید الاسلام امرتسر میں کتب درسیہ نظامیہ کی تعلیم پر مامورہوا۔ طبیعت میں تجسس زیادہ تھا اس لیے ادھر اُدھر  کے ماحول کے مذہبی حالات دریافت کرنے میں مشغول رہتا۔ میں نے یہ دیکھا کہ اسلام کے سخت مخالف بلکہ سخت ترین مخالف عیسائی اور آریہ گروہ ہیں انہی دنوں قریب میں یہی قادیانی تحریک بھی پیدا ہو چکی تھی۔جس کا شہرہ ملک میں پھیل چکا تھا۔

مسلمانوں کی طرف سے اس کے دفاع کے علمبردار مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی مرحوم تھے۔جری طبیعت طالب علمی کے زمانہ میں مناظرات کی طرف بہت راغب تھی۔اس لیے درس و تدریس کے علاوہ میں ان تینوں گرہوں (عیسائی آریہ اور قادیانیوں ) کے علم کلام اور کتب مذہبی کی طرف متوجہ رہا۔ بفضلہ تعالیٰ میں نے کافی واقفیت حاصل کرلی۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ ان تینوں مخاطبوں میں سے قادیانی مخاطب کا نمبر اول شاید اس لیے کہ قدرت کو منظور تھا کہ مولانا بٹالوی مرحوم کے بعد یہ خدمت  میرے سپرد ہوگی ۔ جس کی بات مولانا مرحوم کو علم ہوا ہو تو شاید یہ شعر پڑھتے ہوں گے ۔ع۔

آکے سجادہ نشین قیس ہوا میرے بعد

رہی خالی نہ کوئی دشت میں جا میرے بعد

قادیانی تحریک کے متعلق میری کتابیں اتنی ہیں کہ مجھے خود اس کا شمار یاد نہیں ہاں اتنا کہ سکتا ہ ہوں کہ جس شخص کے پاس یہ کتابیں موجود ہوں۔قادیانی مباحث میں اسے کافی واقفیت  حاصل ہو سکتی ہے جس کا ثبوت خود مرزا صاحب بانی تحریک قادیان کی اس تحریر سے ملتا ہے ۔جو انھوں نے 15اپریل 1917ء کو شائع کی تھی جس کا عنوان "مولانا ثناء اللہ کیساتھ آخری فیصلہ"ہے ۔

اس کے شروع ہی میں میری نسبت جو خاص گلہ و شکایت کی گئی ہے وہ خصوصاً قابل دید و شنید ہے مرزا صاحب نے لکھا کہ"مولوی مولانا ثناء اللہ امر تسری نے مجھے بہت بدنام کیا۔ میرے قلعہ کو گرانا چاہا وغیرہ ۔ اس لیے میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مر جائے ۔ کوئی خاص وقت تھا کہ جب یہ دعاان کے منہ اور قلم سے نکلی اور قبولیت پاگئی ۔ آج قادیان کی بستی میں ادھر اُدھر دیکھو تو رونق بہت پاؤ گے مگر ایسی کہ دیکھنے  والا اہل قادیان کو مخاطب کر کے داغ مرحوم کا یہ شعر سنائے گا ۔ع۔

آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغ نہیں

آج وہ خانہ خراب ہم کو بہت یاد آیا

(اخباراہل حدیث امرتسر 22/جنوری1942ء)

اخبار اہل حدیث امرتسر :۔

مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  نے 13/نومبر 1903ء امرتسر سے"ہفتہ وار اہل حدیث " جاری کیا۔اور یہ اخبار 44سال تک باقاعدہ اور بلاناغہ خدمت واشاعت اسلام میں مصروف رہا۔ اور اس کا آخری شمارہ 3/اگست 1947ء کو شائع ہوا۔ اخبار اہلحدیث میں ہمیشہ غلط خیال کی اصلاح کی جاتی تھی۔ اور ہر غیر مسلم کے حملہ کا جواب دیا جا تا تھا تحریک قادیانیت کے متعلق مستقل عنوان "قادیانی مشن"ہوتا تھا ۔جس میں اس تحریک اور اس کے بانی کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔

مرقع قادیانی :۔

مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  نے قادیانیت کے قصر سراب کی بنیاد یں ہلانے اور اس کی کفر نواز و باطل طراز عمارت کو گرانے کے لیے 15/اپریل 1907ءکو"مرقع قادیانی " کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا اس رسالہ میں قادیانی خرافات کا جواب ایسے مدلل اور دلچسپ انداز میں دیا جا تا تھا کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی پھڑک اٹھتے ۔ مولانا ثناء اللہ امر تسری رحمۃ اللہ علیہ  کی مرزائیت شکن خدمات کی تعریف میں مولانا ظفر علی خان نے فرمایا تھا۔ع۔

خدا سمجھائے اس ظالم ثناء اللہ کو جس نے

نہ چھوڑا قبر میں بھی قادنیت کے بانی کو

مرقع قادیانی اپریل 1907کو جاری ہوا اور اکتوبر 1908ءتک جاری رہا۔ اس کے بعد دوبارہ اپریل 1021ء میں جاری ہوا۔ اور اپریل 1933ءتک جاری رہا۔ اس رسالہ کے اجراء کا مقصد کیا تھا مولانا ثناء اللہ امر تسری  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں۔

"اس رسالہ کا مقصد اسلام سے بیرونی اور اندرونی حملات کی مدافعت کرنا اور مرزا قادیانی کے غلط خیالات کی اصلاح کرنا۔" 

آخری فیصلہ:۔

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے15/اپریل 1907ء کو ایک اشتہار شائع کیا"مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ"جس میں مرزا غلام نے لکھا تھا کہ:

میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جوجھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مرجائے۔"

کوئی خاص وقت تھا کہ مرزاصاحب کے منہ سے نکلی ہوئی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔اور اس اشتہار کے ایک سال،ایک ماہ اور 12 دن بعد قادیانی(کذاب) مولاناثناءاللہ(صادق) کی زندگی میں واصل جہنم ہوا۔اور مولانا امرتسری  رحمۃ اللہ علیہ  نے مرزا کے انتقال پر اہل حدیث میں لکھا۔۔ع۔۔۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر

کذب میں پکاتھا پہلے مرگیا

مولانا ثناءاللہ نے 15 مارچ 1948ء کو سرگودھا میں انتقال کیا۔

مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ :۔

مولانا حافظ عبداللہ روپڑی کاشمار علمائے فحول میں ہوتاہے۔آپ علوم اسلامیہ کابحر ذخار تھے آپ کے علمی تبحر کا اعتراف مولانامحمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا عبدالرحمان محدث  مبارک پوری،جیسے نابغہ روزگار علماء نے کیاہے۔مولانا عبداللہ روپڑی مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  مولانا سید عبدالاول غزنوی اور مولاناحافظ عبدالمنان وزیر آبادی سے مستفیض تھے۔فراغت تعلیم کے بعد روپڑ ضلع انبالہ(مشرقی  پنجاب) میں سکونت اختیار کی اور وہاں ایک دینی مدرسہ قائم کیا۔5 فروری 1933ء کو تنظیم اہل حدیث کے نام سے ہفتہ  وار اخبار جاری کیا۔جس میں علمی وتحقیقی مضامین کے علاوہ فتاویٰ اور تحریک قادیانیت کے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے۔[2]حافظ صاحب نے ایک مستقل کتاب"مرزائیت اور اسلام"قادیانیت کی تردید لکھی جو مطبوع ہے۔مولانا عبداللہ ر وپڑی نے 20 اگست 1964ء کو لاہور میں انتقال کیا۔

مناظرین:۔

علمائے اہل حدیث میں جو علمائے کرام فن مناظرہ میں بہت مشہور ومعروف تھے اور جنھوں نے عیسائیوں،آریہ سماجیوں اورقادیانیوں سے تقریری وتحریری مناظرے کیے۔ان میں مولانا محمد بشیر سہسوانی،مولانا قاضی محمد سلیمانی منصور پوری،مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی،مولانا ثناء اللہ امرتسری،مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی،مولانا ابو القاسم بنارسی،مولانا عبداللہ ثانی امرتسری،مولانانور حسین گھرجاکھی،مولانا  احمد الدین گکھڑوی،مولانا حافظ محمد گوندلوی،مولانا حافظ ابراہیم کمیرپوری،اور مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی حفظہ اللہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

تحریری خدمات:۔

علمائے اہل حدیث نے قادیانیت کے تردید میں جو کتابیں لکھیں۔ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

جہاں تک میری رسائی ہوسکی ہے،مجھے اس میں 200 کتابوں کے نام ملے ہیں جن کا مختصر تعارف معہ سن اشاعت وصفحات بھی درج کردیے ہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ میری اس سعی وکوشش کو قبول فرمائے۔آمین

تصانیف کا تعارف:۔

شیخ علامہ حسین بن محسن انصاری الیمانی رحمۃ اللہ علیہ

1۔الفتح الربانی فی الرد علی  القادیانی(عربی،اردو) 1311ھ صفحات 20۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام   کے سلسلہ میں مرزا قادیانی کی اوہام وشبہات باطلہ کا رد کیاگیا ہے۔

الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل(امام کعبہ)

2۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خاتم النبیین والمرسلین(عربی)صفحات 24۔

قرآن وحدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی ختم نبوت ثابت کرکے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت اور اس کا سلطنت برطانیہ کا ایجنٹ ہوناکتب مرزا سے واضح کیا گیاہے۔

الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ :۔

3۔فتویٰ بسلسلہ قادیانیت(عربی،اردو) 1964ءصفحات 32۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام   کامنکر کافر ہے۔اس فتویٰ کے ساتھ علماء حرمین شریفین کےدستخط بھی ہیں اور اس فتویٰ میں مفتی اعظم مصر کا فتویٰ بھی شامل ہے کہ مرزا قادیانی کافر ہے اور اس کے متبعین بھی کافر ہیں۔ا ن سے رشتہ کرنا ناجائزہے۔اور نہ ہی ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرناجائزہے۔

الشیخ محمد بن یوسف الکافی الدمشقی:۔

5۔البیانات الکافیہ فی خطا خلال الاحمدیہ القادنیہ(عربی)1315ھ صفحات 288۔

اس کتاب میں 108 عنوانات کے تحت قادیانیت کی تردید کی گئی ہے۔اور یہ کتاب دمشق سے شائع ہوئی۔اور اس کتاب کی اشاعت پر حکومت شام نے اپنے ملک میں قادیانیوں کو خلاف قانون قرار دے دیا۔

علامہ محمود الحلاج  رحمۃ اللہ علیہ :۔

6۔الخلۃ الاحمدیہ وخطر ھا علی الاسلام(عربی) 1955ءصفحات 96۔

بغداد سے شائع ہوئی۔اورقادیانیت کی تردید میں بڑی عمدہ علمی دستاویز ہے۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ :۔

7۔القادیانیۃ(عربی)1967ءصفحات 320۔

قادیانیت کی تردید میں بڑی لاجواب کتاب ہے۔عرب دنیامیں اس کتاب کو بڑی  پذیرائی حاصل ہوئی۔اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوچکاہے۔

مولانا محمد بشیر سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ :۔

8۔الحق الصریح فی اثبات حیاۃ المسیح 1309ھ،صفحات 136۔
یہ کتاب اس مناظرہ کی رواداد ہے۔جومولانا محمد بشیر سہسوانی اور مرزا قادیانی کے مابین بعنوان"حیات مسیح علیہ السلام   "دہلی میں ہوا تھا۔
مولانا عبدالرحیم بخش بہاری رحمۃ اللہ علیہ
9۔دجال قادیانی(اردو) 1325ھ،صفحات 12۔
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے اس قول کی تردید کی گئی ہے کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کےہاتھوں  دکھ اٹھائے گا۔
10۔گولہ آسمانی برمشن کرشن قادیانی صفحات ،8۔
یہ رسالہ ایک قادیانی اشتہار کے جواب میں ہے جس میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کی شان میں گستاخیاں کی گئی تھیں۔
11۔تحیر من القادیانی فی الثبات الموت الطبیعی لعیسی بن مریم الرسول الربانی 1333ھ صفحات 16 اس میں حیات  عیسیٰ  علیہ السلام   کا ثبوت قرآن وحدیث سے فراہم کیاگیاہے۔اور مرزا قادیانی کےدلائل کی تردید کی گئی ہے۔اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کو ثابت کیاگیا ہے۔(باقی آئندہ)

[1] ۔7دسمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانی عقائد کی مکمل تحقیق کر کے انہیں غیر مسلم اقلیت قراردے دیا جس سے پورے عالم اسلام میں قادیانیوں کی بے حد رسوائی اور آج ان کا یہ حال ہے ۔کہ اس جماعت کا سر براہ مرزا ناصر کئی سالوں سے فرار ہو کر لندن میں پناہ گزین ہے۔(عراقی )

[2] ۔قیام پاکستان کے بعد سے یہ ہفت روزہ لاہور سے شائع ہوتاتھا۔اورالحمدللہ آج تک شائع ہورہا ہے۔محدث روپڑی کی زیر نگرانی اور ان کی وفات کے بعد کم وبیش دس سال تک مدیر اعلیٰ محدث حافظ عبدالرحمان مدنی کی زیر ادارت بھی یہ ہفت روزہ شائع ہوتارہاہے۔1970ء میں جب مجلہ محدث کااجراء ہواتو آپ اس کی اشاعت میں مصروف ہوگئے۔