اسلام کے ابتدائی زمانہ میں زراعت کو بہت اہمیت حاصل تھی بلکہ زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی تھی۔اس دور میں نہ  تو صنعت وحرفت اور تجارتی مراکز کاوہ عالم تھا جو آج ہے۔اور حکومتی بجٹ عشر وخراج ،فئی،غنیمت اور معدودے چند تجارتی محاصل سے مکمل کیاجاتا تھا۔عمومی معیشت کادارومدار زراعت پرتھا۔بعض فقہاء نے تو زراعت کو فرض کفایہ قرار دیا ہے۔(1)
اور خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد بھی ہے۔
" اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَبَايَا الأَرْضِ "(2)
"زمین کی تہہ میں رزق تلاش کرو"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زراعت کو نفع بخش عظیم مال قرار دیا۔ایک دفعہ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال ہوا:
" أي المال أفضل ؟
"زیادہ بہتر کونسا مال ہے؟تو ارشاد فرمایا:
"زرع زرعه صاحبه وأصلحه وأدّى حقّه يوم حصاده"(3)
"وہ زمین جس سے غلہ حاصل ہو،اس کامالک اسے قابل کاشت رکھے اور غلہ کے حصول پر اس کا فریضہ ادا کرے"

اسلام میں زراعت کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حدیث اور فقہ کی کوئی کتاب نہیں جس میں زراعت پر بحث نہ ہو۔اس کی تعریف ،کاشت کاری کاطریقہ کار،زراعت کی ترقی اور زمینوں کےمعاملات کا ذکر ملتا ہے۔بعض فقہاء نے تو زراعت پر مستقل تصانیف تالیف فرمائی جیسا کہ ابن خزیمہ کی کتاب کا تذکرہ ملتا ہے۔اسی طرح قاضی بدرالدین ابن جماعہ کی کتاب" تنقيح المناظرة في تصحيح المخابرة"کا مخطوطہ دستیاب ہے۔

فقہی علمی سرمایہ میں بڑی شرح وبسط سے زراعت پر لکھاگیا ہے ۔اسی علمی سرمایہ سے اراضی کے عشری اورخرابی ہونے کا ایک ضابطہ پیش کیا جارہا ہے۔جس سے عشر وخراج کانظام ایک مربوط بندوبست میں لیا جاسکتا ہے اور اس کی عملی تنفیذ بھی بہت آسان ہے۔

حفاظت ملکیت:۔

اسلام انفرادی ملکیت کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ہر لحاظ طریقہ سے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔اسلام نے انفرادی ملکیت کی دو طریقوں سے حفاظت کی ہے:

1۔وعظ ونصیحت 

2۔حکومت وسلطنت

قرآن وسنت میں اس بات کی بارہا تلقین کی گئی ہے کہ کوئی کسی دوسرے کی ملکیت میں ناجائز وباطل طریقہ سے دخل اندازی نہ کرے،کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ظالم کے لیے عذاب آخرت کی وعید ہے۔قرآن کریم کا حکم ہے:

﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾(4)

"باطل طریقہ سے ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ"

دوسری آیت میں یوں ارشاد ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾(5)

"یتیموں کامال ظلماً کھانے والے اپنے پیٹوں میں آگ داخل کرتے ہیں اور جلد ہی جہنم میں داخل ہوں گے"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

"قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .(6)

"ایک بالشت ناحق زمین حاصل کرنے والے کے گلے میں اللہ تعالیٰ روز قیامت ساتوں زمینوں کا طوق  پہنائے گا"

دوسری حدیث میں یوں ارشاد فرمایا کہ:

"لعن رسول الله صلي الله عليه وسلم علي من يسرق المنار،(7) 

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زمین کی حد بندی بدلنے والے پر لعنت بھیجی ہے"

جہاں اسلام نے وعظ ونصیحت سے ایک دوسرے پر ظلم وزیادتی سے منع کیا ہے ،ساتھ ساتھ تنفیذ حدود سے بزور حکومت ظلم کے امکانات کا قلع قلمع کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کس قدر چوری کی سزا پر زوردیاہے۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فاطمہ مخزومیہ کی سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سخت ناراض ہوئے اور حضرت اسامہ کو ڈانٹ کر کہا:أتَشْفَعُ في حَدٍّ من حدود اللّه؟کیا تم حدود اللہ کے الغاء کی سفارش کرنے لگے ہو۔اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سب کو جمع کرکے خطبہ ارشاد فرمایاکہ سابقہ امتوں کی تباہی وبربادی کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے تنفیذ حدود میں لوگوں کی گروہ بندی کرلی،کسی بڑے نے چوری کی تو اسے چھوڑ دیا اور اگر کسی غریب وکمزور نے چوری کی تو  حد نافذ کردی۔بخدا اگر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   بنت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی چوری کرلے تو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اس کا ہاتھ بھی کاٹوں گا۔(8)

اسلام نہ صرف دوسرے کی ملکیت پر ظلم وزیادتی کو روکتاہے بلکہ یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی دوسرے کی ملکیت کی طرف نظر بد یا حسد سے دیکھے۔

ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ ﴾(9)

"مت  آرزو کرو اس کی جو اللہ نے تم میں سے ایک دوسرے کو زیادہ دیاہے"

ارض عشر:۔

اسلامی حکومت کے باشندے دو حصوں میں تقسیم ہوسکتے ہیں:

1۔وہ باشندے جنھوں نے اسلام قبول کرلیا یعنی مسلم افراد

2۔وہ باشندے جنھوں نے اسلام تو قبول نہ کیا لیکن امن وامان سے رہنے کا حکومت سے معاہدہ کرلیا۔اہل الذمۃ

اسلام میں ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک فرد انفرادی ملکیت کامالک بن سکتا ہے۔عشری زمین وہ ہوگی جس کامالک مسلم امہ کا فرد ہو۔یعنی جو رقبہ مسلمان کی انفرادی ملکیت ہوگا۔اس سے حاصل شدہ غلہ میں سے حکومت کو عشریا نصف العشر ملے گا۔

یہ تعریف ایسی جامع اور مانع ہے کہ اس کی تنفیذ سے بندوبست میں کوئی الجھن یا رکاوٹ نہ ہوگی بلکہ مالک کی صفت( کفر واسلام) دیکھ کر زمین کافیصلہ ہوجائےگا۔اگر مالک مسلمان ہے تو عشر وصول کیاجائےگا بصورت دیگر خراج۔اور جونہی زمین کی ملکیت اہل الذمہ یا حکومت کی منتقل ہوگی،اس کا رنگ بھی بدل جائے گا۔اس طرح اگر نقل ملکیت کے اصول کے مطابق کسی اہل الذمہ یا حکومت کی مملوکہ زمین مسلمان کی انفرادی ملکیت ہوجائے تو وظیفہ خراج سے عشر میں تبدیل ہوجائے گا۔

مالک کی صفت( کفر واسلام) کو عشر وخراج کے تعین میں ضابطہ قرار دینا مناسب ترین ہے۔صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  وتابعین رحمۃ اللہ علیہ  کے اقوال وتعامل کوسامنے رکھنے سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے اذہان میں بھی یہی ضابطہ تھا،البتہ چونکہ تدوین کازمانہ نہ تھا۔اس لیے باضابطہ عشری زمین کی تعریف ابن قدامہ المقدسی نے کی ہے:

"ماهو مملوك لاهل الاسلام لاخراج عليه" (10)

"جو اہل اسلام کی انفرادی ملکیت ہواس پر خراج نہیں ہے"

بعد  ازاں اس تعریف کو ابن رجب حنبلی نے بھی اپنایا ہے،فرماتے ہیں:

"مالها مالك معين من المسلمين فهذه لاخراج عليه"(11)

"جو مسلمانوں کی انفرادی مملوکہ زمین ہو،اس پر خراج نہیں ہے"

قیاس بھی اسی کا متقاضی ہے۔چونکہ سب فقہاء کا اس مسئلہ پر اتفاق واجماع ہے کہ جب ایک مسلمان تجارتی مال لے کر چونگی ناکہ پر سے گزرے تو اس سے ربع العشر 1/40 بطور زکوٰۃ وصول کیا جائے گا اور اگر وہی مال اہل الذمہ کا فرد خرید کر تجارتی مقاصد سے چونگی ناکہ پر سے  گزرے تو اس سے دوگنا یعنی نصف العشر 1/20 بطور چونگی وصول کیاجائے گا اور اگر پھر یہی مال دوبارہ مسلمان کی ملکیت بن جائے تو زکوٰۃ ربع العشر 1/40 ہوجائے گی،جیسا کہ اہل الذمہ کی ملکیت میں آنے سے قبل تھا۔(12)

مذکورہ صورت میں ایک ہی مال مسلمان فرد کی ملکیت ہے تو محصول ربع العشر ہے اور جب وہی مال اہل الذمہ کی ملکیت بنا تو محصول ربع العشر سے نصف العشر میں تبدیل ہوگیا۔مالک کی صفت(کفر واسلام) کی وجہ سے محصول میں تبدیلی ہوگئی ہے لہذا جب اموال منقولہ میں محصولہ کے تقرر میں مالک کی صفت(کفر واسلام) کو حد فاصل قراردیاگیا ہے تو زمینوں کے محصول کے تقرر یہی صفت کیونکر ضابطہ وقاعدہ نہیں بن سکتی؟

خراجی زمین:۔

یہ وہ زمین ہے جس کامالک غیر مسلم ہے اور اسلامی سلطنت کی حدود میں رہتا ہے۔ایسے لوگ زمین سے اپنی سالانہ آمدنی سے خراج(ٹیکس) ادا کرتے ہیں۔(13)

خراج اس ٹیکس کو کہا جاتاہے جسے حکمران نے اہل الذمہ پر نافذ کررکھا ہو اور وہ سالانہ حکومت وقت کو ادا کرتے ہوں۔(14)

اصطلاح:۔

شرعی اصطلاح میں خراج اس محصول کو کہا جاتا ہے جو مسلمان حکمران نے قابل کاشت خراجی زمینوں پر مقرر کیا ہو۔امام ابویعلی الفراء نے خراج کی یہ تعریف کی ہے:

"ما وضع على رقاب الأرضين من حقوقٍ تؤدّى عنها ."(15)

"وہ قابل اداحقوق جو زمین کی اصلیت پر مقرر کیے گئے ہوں"

معاصر علماء میں سے ڈاکٹر احمد شبلی نے خراج کی تعریف یوں کی ہے:

"ما يوضع من الضرائب على الأرض أو محصولاتها"(16)

"زمین یا اس کی پیداوار پر جو ٹیکس لگایا جائے وہ خراج ہے"

ڈاکٹر عبدالعزیز النعیم اور عبدالکریم الخطیب نے مزید وضاحت کرتے ہوئے یوں تعریف کی ہے:

"مايفوض علي الارض التي فتحها المسلمون عنوة اوصلحا"(17)

"جنگ یا صلح کی صورت میں مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں کی زمینوں پر جوٹیکس مقرر کیا ہو"

یہ تعریف جامع ومانع ہے کیونکہ خراجی زمینیں یا تو عنوۃ(جنگ کرکے) حاصل ہوتی ہیں یا اہل الذمہ صلح کرکے اسلامی حکومت کے زیر اہتمام زندگی بسر کرتے ہیں۔اور خراج عنوی اور خراج صلحی دونوں اشکال کو یہ تعریف شامل ہے۔

خراجی زمین:۔

خراجی زمین چونکہ عشری کے مقابل ہے تو جب عشری زمین مسلمان کی انفرادی ملکیت ہو گی،توخراجی زمین جو مسلمان کی انفرادی ملکیت نہ ہو بلکہ حکومت یا اہل الذمہ کی ملکیت خراجی  زمین ہوگی۔اس میں جوحکومت کی ملکیت ہے وہ تو مالک کی صفت(کفر واسلام) بدلنے سے متاثر نہ ہوگی کیونکہ یہ انفرادی ملکیت نہ ہے کہ مالک کی صفت بدلنے سے متاثر ہو،یہ تو حکومت کی ملکیت ہے۔مسلمان کاشت کرے یا اہل الذمہ دونوں ہی حکومت کو خراج ادا کریں گے۔ہاں اہل الذمہ کی ملکیت زمین اگر وہ مسلمان ہوجائے تو خراجی سے عشری میں تبدیل ہوجائے گی۔

وہ اہل الذمہ جن سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ ملکیت زمین اہل الذمہ کی رہے گی،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں ہی وقوع پذیر تھی جیساکہ ہجرہ بحرین کی زمینیں تھیں۔تو وہاں پر یہی نظام رائج ونافذ العمل تھا کہ کاشتکار مالک اگر ملت کفرپر ہے۔توخراج وصول کیا جاتا اوراگر مسلمان ہوجاتا تو عشرہ وصول کیا جاتاجیساکہ علاء بن حضرمی کابیا ن ہے کہ میں بحرین وصولی کے لیے جاتا،جو زمین بھائیوں کے درمیان مشترک ہوتی،اس سے مسلمان سے عشر اور غیر مسلم سے خراج وصول کرتا(18)

البتہ"خراج عنوی" وہ علاقہ جو بعد از جنگ فتح ہوکر مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہواہو اور اس زمین کی ملکیت حکومت وقت نے اپنی قرار دی ہو،اس زمین سے حاصل شدہ محصول بھی خراج کہلاتا ہے اور یہ زمین بھی ارض خراج ہے۔

مذکورہ قسم خلافت راشدہ یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت میں فتح عراق پر سامنے آتی ہے جب یہ علاقہ فتح ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس علاقہ کی جملہ اراضی کو سلطنت کے لیے خاص کردیا۔ یعنی یہ علاقہ مصالح المسلمین کے پیش نظر بیت المال کے لیے وقف کردیا۔

فقہی واصطلاحی تعریف بھی اس دور میں نہیں ملتی،البتہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  نے خراجی زمین کی تعریف یہ کی ہے:

"اذا كان يبلغها ما ء انهار الخراج فهي ارض الخراج وليست بارض عشر"(19)

"خراجی زمین وہ ہے جسے خراجی نہر سے سیراب کیا جائے"

یہ ابتدائی تعریف ہے۔۔۔کئی ایک وجوہ سے یہ تعریف جامع ومانع نہیں۔

1۔اس تعریف  میں پانی کو خراج وعشر کی اساس قرار دیا گیاہے جب کہ خراجی پانی سے عشری زمین سیراب ہوسکتی ہے اور وہاں سے خراج کی بجائے عشر ہی وصول ہوگا جیسا کہ ارض بصرہ ہے۔صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا اجماع ہے کہ ارض بصرہ عشری ہے۔(20)

ب۔اگر  پانی کو خراج وعشر کی اصل قراردیاجائے تو پیداوار نہ ہوتوتب بھی عشرہ وخراج وصول ہونا چاہیے کیونکہ پانی تو استعمال ہوا ہے۔جب کہ کوئی بھی اس کا قائل نہ ہے(21)

ج۔خراجی وعشری پانی کی تقسیم صرف مسلمان کے لیے ہے جب کہ ذمی ہرحال میں خراج ہی ادا کرے گا خواہ خراجی پانی سے کھیتی سیراب کرے یا عشری سے امام سرخسی فرماتے ہیں:

"فإن الخراج واجب عليه مطلقا، ولا يعتبر الماء"(22)

"ذمی سے خراج کی وصولی ہوگی   پانی کا کوئی اعتبار نہ ہے"

امام ابن العابدین فرماتے ہیں:

"الارض المغنومه اذا قسمت بين الغانمين فانها عشرية وان سبقت بماء الخراج"(23)

"غنیمت میں حاصل شدہ ارضی اگر غانمین میں تقسیم کردی جائیں تو یہ عشری ہے اگرچہ ماء خراجی سے ہی سیراب ہوں"

د۔خود اما ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کا اپنا قول بھی متعارض ہے ،ارشاد فرماتے ہیں ،کہ اگر مستامن(امان دیا ہوا شخص عشری زمین خرید لے تو وہ خراجی بن جائے گی۔(24)

ان مذکورہ وجوہ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عشروخراج کے تقرر میں پانی کی کوئی حیثیت نہ ہے بلکہ مالک کی صف(کفر واسلام) کو دیکھا جائے گا جیسا کہ خودامام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  نے مستامن کی خریداری کی صورت میں کہاہے کہ مالک چونکہ کافرہے زمین عشری نہ رہی بلکہ خراجی بن گئی۔

تو گویا خراجی زمینوں کی دو اقسام ہیں:ایک جو اہل الذمہ کی ملکیت ہو،دوسری جوحکومت کی ملکیت ہو۔مزید وضاحت کے لیے چند مشہور فقہاء کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں:

شریک بن عبداللہ کافرمان ہے:

"انما ارض الخراج ما كان صلحا علي خراج يودونه الي المسلمين" (25)

"خراجی زمین صرف وہ ہے جہاں خراج کی ادائیگی پر صلح ہوجووہ مسلمانوں کو ادا کریں"

اوریہ بات واضح ہے کہ ارض الصلح کی ملکیت یا تو اہل الذمہ کی ہوتی ہے اگر شرائط صلح میں یہ ہوکہ زمین ان کی ملکیت رہے گی،وگرنہ حکومت کی ملکیت ہوتی ہے۔مسلمانوں کی انفرادی ملکیت نہیں ہوتی۔لہذا مذکور دونوں صورتوں میں ارض الصلح ارض خراج ہی ہوگی۔

امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بھی ارض خراج کی دو اقسام بیان کی ہیں:

الف۔ "كل ارض افتتحا اهل الاسلام بصلح فهذا فئي لان المسلمين  لم يكن لهم ان يقتسموها واهلها علي ما صولحوا عليه"

"وہ علاقہ جو اہل اسلام نے صلحا فتح کرلیا وہ مال فئی ہے اور مسلمان اسے آپس میں تقسیم نہیں کرسکتے،وہ اہل الذمہ جن شرائط پر صلح کریں وہ انہیں حاصل ہوں گی۔"

شرائط صلح میں زمین کی  ملکیت اہل الذمہ کی رہے یا حکومت اسلامیہ کی ،دونوں صورتوں میں یہ ارض الخراج ہی رہے گی۔

ب۔ "كل ا رض افتتحوها عنوة فتركت ولم تقسم ولو ارادوا ان يقسموهالقسموها فتركوالاهل الاسلام"(26)

"وہ علاقہ جو مسلمانوں نے عنوۃ فتح کیا اور اسے تقسیم نہ کیا اگر تقسیم کرنا چاہتے تو تقسیم کرسکتے تھے لیکن انھوں نے مسلمانوں کے لیے وقف چھوڑ دیا۔

عنوۃ مفتوح علاقہ درحقیقت مال غنیمت ہوتاہے جو کہ غانمین میں بعد از خمس قابل تقسیم ہوتاہے اگر حاکم وقت تقسیم کردے تو جو حصہ جس کو ملے گا ،وہ اس کی ملکیت ہوگا اور اگر تقسیم نہ کرے تو اس کی ملکیت بھی اجتماعی ملکیت ہوگی اور یہ بھی ارج الخراج ہی ہوگی۔

قاضی امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی ان مذکورہ دونوں اقسام کوارض خراج شمار کیاہے(27)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی ملکیت کو ہی عشروخراج کے تعین میں اصولی ضابطہ قراردیاہے۔فرماتے ہیں:

"ايما ارض  فتحت صلحا علي ان ارضها لاهلها ويودون عنها الخراج فليس لاحد اخذها من ايدي اهلها وعليهم فيها الخراج" (28)

"جو علاقہ صلحاً فتح ہو اور من جملہ شرائط یہ ہوکہ زمین ان کی ملکیت رہے گی اور وہ خراج اداکریں گے۔تو کوئی بھی ان کی ملکیت کا الغاء نہیں کرسکتا وہ صرف خراج ہی ادا کریں گے"

البتہ عنوۃ شیخ شدہ علاقہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  کے نزدیک مال غنیمت ہے جو کہ مجاہدین کا حق ہے اگر مجاہدین عام مسلمانوں کے حق میں وقف کردیں۔اورامام وقت اہل الذمہ کو کاشت کے لیے دے دیں توحاصل شدہ رقم خراج(ٹیکس) ہے اوراگر مسلمان کو کاشت کاری کے لیے دے دیں تو حاصل شدہ رقم کرایہ ہے۔(29)

ان مذکورہ اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ فقہاء کے ہاں بھی خراج کے تعین میں ملکیت کا خیال رکھا جاتاتھا۔اگر مالک کافراہل الذمہ ہو یا حکومت وقت توارض خراج ہے اور اگر مالک مسلمان فرد ہوتو ارض عشر ہے۔

حوالہ جات:۔

1۔کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ لجزائری عبدالرحمن ص 13 ج3۔

2۔رواہ ابویعلیٰ والطبرانی فی الاوسط وفیہ ہشام بن عبداللہ بن عکرمہ ضعفہ ابن حبان (مجمع الزوائد 4/63) مجمع الزوائد منبع  الفوائد الہشیمی علی بن ابی بکر ص 61 ج4۔

3۔کتاب الخراج القرشی یحیٰ بن آدم ص82۔

4۔القرآن الکریم 2/188۔

5۔ایضاً 10/4۔

6۔مسند لامام احمد بن حنبل ص 432 ج 3۔

7۔کتاب الخراج القرشی ص 96۔

8۔الجامع الصحیح البخاری محمد بن اسماعیل ص 87 ج12۔

9۔القرآن الکریم4/32۔

10۔کتاب الکافی المقدسی ابن قدامہ ص 324 ج4۔

11۔کتاب الاستخراج ابن رجب حنبلی ص11۔

12۔کتاب الخراج ابویوسف یعقوب بن ابراہیم ص 121۔شرح فتح القدیر ابن ہمام کمال الدین ص 190 ج2۔

13۔لسان العرب ابن منظور محمد بن مکرم ص 252 ج2۔

14۔ لسان العرب ابن منظور محمد بن مکرم ص 252 ج2۔

15۔الاحکام السلطانیہ الفراء ابو یعلیٰ ص 162۔

16۔السیاسیۃ والاقتصاد فی التکفیر الاسلامی الشبلی،احمد ص 228۔

17۔نظام الضرائب فی الاسلام النعیم عبدالعزیز ص 389۔

18۔المسند احمد بن حنبل ص 52۔ج5۔

19۔کتاب الخراج القرشی ص 25۔

20۔نصب الرایہ الزیلعی عبداللہ بن یوسف ص 440 ج3۔

21۔بدائع الصنائع،الکاسانی علاء الدین ابو بکر ص 65ج2۔

22۔البحر الرائق ابن نجیم ص 257 ج2۔

23۔الشامی ابن العابدین ص 255ج2۔

24۔السیر الکبیر الشیبانی محمد بن الحسن ص 2257 ج5۔

25۔کتاب الخراج القرشی ص 20۔

26۔المدونۃ الکبریٰ مالک بن انس ص 387 ج1۔

27۔کتاب الخراج ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 69۔

28۔کتاب الام ،الشافعی محمد بن ادریس ص 280 ج4۔

29۔المجموع شرح المھذب النووی یحییٰ بن شرف الدین ص 453 ج5۔