نماز میں سجدے میں جانے کی کیفیت
اونٹ کی مجموعی کیفیت اختیار کرنے کی ممانعت
رکوع وقومہ اور ان کے افکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جا تا ہے جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مروج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے از روئے دلیل کون ساقوی و صحیح تر ہے اس امر کا جائزہ لینے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائز ہ لینا ضروری ہے۔
پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل:۔
پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل ہیں۔
(1)التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ،ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،نسائی رحمۃ اللہ علیہ ،مشکل الآثاروشرح معانی الآثار ،دارمی رحمۃ اللہ علیہ ،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ، محلی لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ،شرح السنۃ للبغوی الإعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمى و مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما یا۔"إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه"(1)
"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔"

حدیث کی فنی حیثیت:۔یہ حدیث ضعیف نہیں:

اس حدیث کو بہت سے کبار محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہ  نے صحیح قراردیا ہے جس کی تفصیل کے لیے شرح السنۃ کی تحقیق از شیخ شعیب الارناؤط(135/3)زاد المعاد کی تحقیق از شیخ شعیب الارناؤط و شیخ عبدالقادر الارناؤط (223/1)ارواء الغلیل از شیخ البانی (2/78) شرح المواہب اززرقانی(320/7)کمافی الارواء(78/2)و تحقیق الاحسان (240/5)المجموع شرح المہذب امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  (394/3)وغیرہ دیکھئے۔

علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی میں کہا ہے کہ حدیث صحیح ہے یا کم از کم حسن لذاتہ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں(2)

اور حافظ عبد الحق اشبیلی کی الاحکام الکبری سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے بھی اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے ۔کہ ان کی دوسری تالیف کتاب التہجد میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس حدیث سے سند کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے جس میں گھٹنے پہلے رکھنے کا ذکر آیا ہے(3)

اس حدیث میں قلب واضطراب نہیں :۔

ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا ہے کہ اس حدیث میں قلب متن واضطراب پا یا جا تا ہے اصل حدیث یوں تھی۔

"يضع ركبتيه قبل يديه"

"دونوں ہاتھوں سے قبل گھٹنے زمین پر رکھے"

اس سلسلے میں ان کی گفتگو زادالمعاد کی جلد اول کے ص223سے ص231 تک پھیلی ہوئی ہے جس پر زادالمعاد کے محققین شیخ شعیب و عبدالقادر نے تحقیق زاد المعاد(230۔223/1)میں شیخ احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ  نے تحقیق ترمذی(58۔59۔/1)میں علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  نے تحفۃ الاحوذی (138،139/2)میں اور علامہ البانی نے صفۃ الصلوۃ میں ص82پر مختصر اور روء الغلیل (175تا180/2)اور الضعیفۃ (332تا328/2)میں مفصلاً تعاقب کیا ہے اور علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  کے اس نظریہ قلب واضطراب کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس کے دلائل بھی ذکر کیے ہیں جن کی تفصیلات مذکورہ مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

(2)پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے کی دوسری دلیل صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً اور موقوفاً علی ابن عمر رحمۃ اللہ علیہ  اور صحیح ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  و دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ  ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  معانی الآثاراز طحاوی کتاب الاعتبار از حازمی اور مستدرک حاکم میں موصولاً مرفوعاً مروی ہے۔صحیح بخاری میں حضرت نافع بیان فرماتے ہیں۔

"كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضَعُ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ"(4)

"حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھا کرتے تھے "

اور دیگر کتابوں میں مرفوعاً یوں ہے حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بارے میں فرماتے ہیں۔

"كان يضع يديه قبل ركبتيه ، وقال : كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يفعل ذلك"(5)

"وہ گھٹنوں سے قبل دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے اور فرماتے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ایسے ہی کرتے تھے"

اس حدیث کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ  نے صحیح قراردیا ہے اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے تلخیص المستدرک میں ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی بلوغ المرام میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور فتح الباری میں گھٹنے پہلے رکھنے والی حدیث پر ترجیح دی ہے اور علامہ البانی نے ارواء الغلیل اور صحیح ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  پر اپنی تعلیقات میں اسے صحیح قراردیا ہے۔(6)

(3)امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ  نے مستدرک حاکم میں کہا ہے اس میں میری رائے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی اس حدیث کی طرف زیادہ مائل ہے جس میں پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے زمین پر لگانے کا ذکر ہے کیونکہ اس کہ تائید میں صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  تابعین رحمۃ اللہ علیہ  سے بکثرت روایات موجود ہیں(7)

(4)سنن کبریٰ از بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  میں ایک روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ان الفاظ میں مرفوعاً ہے۔

"إذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ"(8)

"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ چاہیے کہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے۔"

اور امام بیہقی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے روایت کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اگر یہ محفوظ ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے زمین پر رکھے جائیں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنے خدشہ کا اظہار فرما دیا ہے جب کہ اس مفہوم کی حدیث ہم ذکر کر آئے ہیں جسے کبار محدثین نے محفوظ و صحیح اور راجح قراردیا ہے لہٰذا اس روایت سے استدلال نہیں تو کم ازکم اشتشہاد میں کوئی مضائقہ  نہیں ہے۔

(5)امام اوزاعی  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا ہے۔

"أدركت الناس يضعون أيديهم قبل ركبهم ، وروي عن ابن عمر فيه"(9)

"میں نے لوگوں (صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو پا یا ہے کہ وہ گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے اس معاملہ میں ایک حدیث بھی مروی ہے۔

غرض امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  اور اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ  کا یہی مسلک ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں اور پھر گھٹنے ۔ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ  نے التحقیق میں اور امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے المغنی میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  کا بھی یہی مسلک بتایا ہے اگر چہ ان سے دوسری روایت بھی ملتی ہے علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ  بھی اسی  کے قائل تھے اور ابن ابی داؤد  رحمۃ اللہ علیہ  کے بقول تمام اہلحدیث و محدثین کا بھی یہی مسلک ہے جیسا کہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زاد المعاد جلد اول ص230پر ابن حزم  رحمۃ اللہ علیہ  نے محلی جلددوم جز چہارم ص129پر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ  نے شرح السنۃ جلد سوم ص134پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتح الباری جلد دوم ص291پر علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری  رحمۃ اللہ علیہ  نے تحفۃ الحوذی جلد دوم ص135پر علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے عون المعبود جلد سوم ص71پر امام شوکانی نے نیل الاوطارجلد /جز دوم ص135،254،پر امام حازمی نے کتاب الاعتبار ص80پر اور ابن قدامہ نے المغنی جلد اول ص514پر تفصیل ذکر کی ہے اور امام ابو داؤد کے بیٹے نے اسے ہی اہل مدینہ کا مذہب قراردیا ہے(10)

پہلے گھٹنے رکھنے کے دلائل :۔

اور اب ایک جائزہ دوسرے مسلک یعنی سجدے میں جاتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر رکھنے کے دلائل کا اس نظر یہ کے قائلین بعض احادیث سے استدلال کرتے ہیں مثلاً:

(1)ان کی پہلی دلیل وہ حدیث ہے جو سنن اربعہ و دارمی ،دارقطنی ، بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ  شرح السنۃ بغوی اور کتاب الاعتبار حازمی میں حضرت وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ  سے مروی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں۔

"رايت رسول الله صلي الله عليه وسلم  إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ " (11)

"میں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا ہے کہ آپ سجدہ میں جانے کے وقت ہاتھوں سے پہلےگھٹنے زمین پر رکھتے تھے اور جب اٹھتے تو گھٹنوں سے ہاتھ اٹھاتے تھے"

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد خود امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ  ترمذی رحمۃ اللہ علیہ  بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  اور حازمی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس پر شدید جرح کی ہے اور اس کے مرفوعاً موصولاًصحیح ہونے پر کلام کیا ہے اور امام حازمی نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  اور دیگر متقدمین حفاظ کی طرف بھی اسی جرح کو منسوب کیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی ذکر کیے گئے حفاظ کے علاوہ ابن ابی داؤد سے بھی جرح ذکر کی ہے۔(12)

علامہ عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ  و مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی شروح سنن میں اور شیخ شعیب و عبدالقادر ارناوط نے تحقیق زادالمعاد 223/1،میں یہ جرحیں نقل کی ہیں۔ امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  نے ان حفاظ کے علاوہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ  سے بھی اس روایت کی سند پر جرح نقل کی ہے۔(13)

اور دور حاضر کے معروف محدث علامہ البانی نے اس روایت کو تحقیق مشکوۃ (282/1)رواءالغلیل (75۔77/2)اور الاحادیث الضعیفۃ (332۔328/2)میں ضعیف قراردیاہے ۔

شرح السنۃ بغوی کی تحقیق میں شیخ شعیب نے اس کے دواور طرق بھی بتائے ہیں جن میں سے ایک ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ  میں محمد بن حجادة عن عبدالجبار بن وائل  عن ابيه والا طریق ہے جب کہ عبدالجبار کے اپنے والد سے سماع کی خود ہی نفی بھی کی ہے۔ اور آگے چل کر"تنبیہ"کے زیرعنوان لکھا ہے کہ:

 موارد الظمان فی زوائد ابن حبان میں اسرائیل بن برنس کے طریق سے بھی حدیث مروی ہے اور اگر یہ اسرائیل شریک سے متحرف نہ ہو تو پھر یہ شریک کے لیے اچھی متابعت ہے اور اس کی سند صحیح ہے جب کہ حفاظ میں سے کسی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی سوائے ملاعلی قاری کے۔ انھوں نے المر قاۃ شرح مشکوۃ میں ابن حجر ہیثمی  رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے دو طریق اور  بھی ہیں اور ان کی مراد شاید یہی ابو داود رحمۃ اللہ علیہ  ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ  والے دونوں طریق ہوں(14)

لیکن شیخ البانی نے ملا علی قاری کی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔

"ولا تغتر بما حكاه الشيخ القاري عن ابن حجر الفقيه أن له طريقين آخرين فإنه من أوهامه " (15)

" ملاعلی قاری نے ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  دقیہ کی طرف جو یہ قول نقل کیا ہے کہ اس روایت کے دو اور طریق بھی ہیں ۔ اس سے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔ یہ قول ان کے اوہام میں سے ہے۔"

اورموارد الظمان (ص132حدیث 487)کی سند میں اسرائیل واقعی متحرف ہے کیونکہ اصل ابن حبان  رحمۃ اللہ علیہ  میں یہاں شریک ہی ہے (16)جو کہ ضعیف ہے۔

معلوم ہوا کہ یہ روایت ضعیف ہے اور درجہ صحت و حسن کو نہیں پہنچتی ۔ اگرچہ ابن حبان  رحمۃ اللہ علیہ  خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  اور ابن سکن وغیرہ نے اس کی تصحیح کی ہے ۔

(2)اس مفہوم کی ایک روایت ابن ماجہ میں حضرت  ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً موجود ہے جس میں ہے۔

((كان يخر على ركبتيه ولا يتكي))(17)

"آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  گھٹنوں کے بل بیٹھتے تھے ٹیک نہیں لیتے تھے"

اس روایت کی سند میں کئی راویوں کے مجہول ہونے کی وجہ سے امام ابن مدینی اور بعض دیگر محدثین نے اسے ضعیف قراردیا ہے جیسا کہ لسان المیزان الاعتدال اور تقریب وغیرہ کتب رجال اور نقد و جرح معاذن محمد اور محمد بن معاذ کے تراجم میں مذکورہے۔(18)

(3)سنن دارقطنی و بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  مستدرک حاکم و محلی ابن حزم الاحادیث المختارۃ از ضیاء المقدسی اور الاعتبار از حازمی میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے ۔

"رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - انحط بالتكبير فسبقت يديه .ركبتاه" (19)

"میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا ہے کہ آپ تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں گئے اور آپ کے گھٹنے ہاتھوں سے سبقت کر گئے تھے۔"

اس حدیث کو روایت کر کے امام دارقطنی وبیہقی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کی سند و متن پر تنقید کی ہے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  اور ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کی سند کے ایک راوی العلاءبن اسماعیل کو مجہول قراردیا ہے جیسا کہ زادالمعاد اور التلخیص الحبیر میں ہے۔(20)

اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنے والد امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ  سے العلل میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو (؟)قراردیا ہے۔(21)

(4)تردید مغالطہ اضطراب:۔

مصنف ابن ابی شیبہ  رحمۃ اللہ علیہ  ، بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  ، سنن اثرم اور معانی الآثار طحاوی میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً مروی ہے۔

"إذا سجد أحدكم فليبدأ بركبتيه قبل يديه ولا يبرك كبروك الفحل"(22)

"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے اور اونٹ کی طرح نہ بیٹھے "

جبکہ اس کی سند میں عبد اللہ بن سعیدمقبری رحمۃ اللہ علیہ  متروک ضعیف راوی ہے جیسا کہ محققین زاد المعاد نے لکھا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  اور دارقطنی،حازمی،احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  یحییٰ بن سعید  رحمۃ اللہ علیہ  اور فلاس سے علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  نے اس راوی کا منکر الحدیث متروک وذاہب الحدیث غیر ثقہ وضعیف ہو نا نقل کیا ہے۔(23)

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے روایت کر کے خود اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ۔(24)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتح الباری میں ان کی اس معاملہ میں متابعت کی ہے۔(25)

شیخ البانی نے اسے باطل قراردیا ہے۔(26)

لہٰذا یہ روایت اس لائق نہیں کہ اس کی وجہ سے حدیث کو اضطراب کہا جاسکے جیسا کہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  اور بعض دیگر حضرات نے کہا ہے۔

(5)تردید دعوی نسخ :۔

امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  نے دونوں طرح کی احادیث میں ضعف و قوت کی بنا پر ترجیح کا اندازاپنانے کی بجائے ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کے منسوخ ہونے کا دعوی کیاہے دلیل میں انھوں نے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  نے وہ حدیث بیان کی ہے جو حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے جس میں ہے۔

"كنا نضع اليدين قبل الركبتين ، فأمرنا بالركبتين قبل اليدين ."(27)
"ہم گٹھنوں سے پہلے ہاتھ رکھا کرتے تھے تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حکم فرمایا کہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھا کرو۔"

یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو بقول حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  واقعی جانبین کے درمیان فیصلہ کن ثابت ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ انتہائی ضعیف ہے(28)بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  اسے روایت کر کے کہتے ہیں کہ یہ حدیث تو اسی طرح وارد ہوئی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت دوران رکوع "تطبیق "کے منسوخ ہونے کی ہے(29)تو گویا امام بیہقی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث میں نسخ کے ذکر کو رواۃ میں سے کسی کی خطاپر محمول کیا ہے اور امام حازمی نے بھی کتاب الاعتبار میں تطبیق کے نسخ والی حدیث کو ہی محفوظ قراردیا ہے اور اس حدیث کو شاذو متکلم فیہ۔(30)امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  نے المجموع میں اسے ضعیف قراردیا ہے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  کا اسے ضعیف کہنا بھی ذکر کیا ہے اس کے ایک راوی یحییٰ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ  کو باتفاق حفاظ ضعیف کہا ہے۔ابو حاتم سے اس کا منکر الحدیث ہونا نقل کیا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا ہے کہ اس کی بیان کردہ احادیث میں منکر احادیث بھی ہیں(31)

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے تہذیب معالم السنن اور زادالمعاد میں لکھا ہے کہ بعض رواۃ سے غلطی ہوئی اور وضع اليدين على الركبتين کی بجائے ان سے وضع اليدين قبل الركبتينہو گیا اور اسے ہی معروف قراردیا ہے کہ نسخ کا تعلق رکوع میں تطبیق سے ہے اس زیر بحث مسئلہ سے نہیں (32)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ روایت بیان کرنے میں ابراہیم بن اسماعیل اور ان کے والد اسماعیل بن یحییٰ بن سلمہ منفرد ہیں اور وہ دونوں ضعیف ہیں۔(33)اور اپنی دوسری کتاب التقریب میں انھوں نے ابراہیم کو ضعیف اور اسماعیل و یحییٰ کو متروک قراردیا ہے۔(34)علامہ البانی نے تعلیقات ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  میں اس حدیث کو سخت ضعیف قراردیا ہے(35)تحقیق شرح السنۃ میں شیخ شعیب ارناؤط نے بھی امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  ابن معین اور نسائی سے اس کی تضعیف اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  سے اس کے متن میں قلب و تغیر کی بات نقل کی ہے۔(36)

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس حدیث کا فیصلہ کن ثابت ہونا تو درکناریہ تو سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہے۔

(6)ایک اثر فاروقی :۔

اسی سلسلہ میں ایک اثرفاروقی مصنف عبدالرزاق اور معانی الآثار طحاوی میں ہے جس میں اسود اور علقمہ کہتے ہیں ۔

"حَفِظْنَا عَنْ عُمَرَ فِي صَلاتِهِ ، أَنَّهُ خَرَّ بَعْدَ رُكُوعِهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَمَا يَخِرُّ الْبَعِيرُ وَوَضَعَ ﺭﻛْﺒَﺘَﻴْﻪِ ﻗﺒﻞ ﻳَﺪَﻳْﻪِ »."(37)

"ہم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نماز میں یہ پا یا کہ وہ رکوع کے بعد گھٹنوں کے بل یوں بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے انھوں نے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے۔"

امام طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس اثر کو صحیح قراردیا ہے اور شیخ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ میں ان کی یہ تصحیح نقل کی ہے اور اس پر کوئی تعاقب نہیں کیا بلکہ اس کے ایک راوی اعمش کی تحدیث کی صراحت کر کے ان کی تائید و موافقت کی ہے۔(38)لیکن چونکہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر موقوف ایک اثر ہے اور دوسری طرف نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت شدہ ایک حدیث ہے لہٰذا اس اثر کو حدیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا ۔ اس سلسلہ میں پائے جانے والے دوسرے آثار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی نسبت بھی یہی جواب ہے۔

کہ جب ایک طرف ایک حدیث صحیح و ثابت موجود تو پھر دوسری طرف چاہے کتنے بھی صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے آثار کیوں نہ آجائیں تو آثار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی کوئی حیثیت نہیں 

(7)مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ  میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بارے میں مروی ہے۔

"أنه كان يضع ركبتيه اذا سجد قبل يديه "(39)

"جب وہ سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر رکھتے تھے"

جبکہ یہ بھی ضعیف ہے اس کا ایک راوی ابن ابی لیلیٰ ردی الحفاظ ہے اور نافع سے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ فعل روایت کرنے میں اس نے عبیداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی مخالفت بھی کی ہے جو اس سے کہیں زیادہ ثقہ ہیں(40)

یہ آثار ضعیف و موقوف ہونے کی وجہ سے اور یہ احادیث ضعیف ہونے کی وجہ سے اس بات کی دلیل نہیں بن سکتیں کہ نمازی کو سجدہ میں جاتے وقت پہلے گھٹنے زمین پر رکھنے چاہئیں اور پھر ہاتھ بلکہ صحیح احادیث کی روسے پہلے ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنا ثابت ہوتا ہے۔

(8)اُونٹ کے گھٹنے:۔

البتہ اس سے قبل اثر فاروقی میں ایک بات واضح طور پر آگئی ہے اُونٹ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے جو کہاس کی اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں اور جب یہ بات ایسی ہی ہے تو پھر نمازی کو زمین پر گھٹنے پہلے نہیں رکھنے چاہئیں ۔کیونکہ اس سے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایا ہے(41)جیسا کہ اس مفہوم کی بعض احادیث ذکر کی جا چکی ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زاد المعاد میں اس سے انکار کیا ہے کہ اُونٹ کے گھٹنے اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں اور لکھا ہے کہ یہ بات اہل لغت کے علم میں بھی نہیں ہے۔(42)جبکہ  ان کا تعاقب کیا ہے ۔اور چونکہ اس معنی کی حدیث سے جانبین نے ہی استدلال کیا ہے لہٰذا مناسب معلوم ہو تا ہے کہ اُونٹ کے گھٹنوں کے بارے میں میں کچھ تحقیقی جائزہ پیش کردیا جائے جس سے پتہ چل سکے کہ اس معاملہ میں کون سی جانب مبنی برحق ہے اور کس طرف خطا ہے۔

ازروئے لغت:۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے توزادالمعاد میں کہہ دیا کہ اُونٹ کے گھٹنوں کا اس کی اگلی ٹانگوں میں ہونا لغت عربی کے ماہرین کے ہاں بھی معروف و متعارف نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عرب اہل لغت کے ہاں یہ بات ملتی ہے کہ اُونٹ کے گھٹنے اس کی اگلی ٹانگوں میں ہی ہوتے ہیں پچھلی میں نہیں چنانچہ لغت کی بیس ضخیم جلدوں پر مشتمل کتاب"لسان العرب"میں ابن المنظور افریقی نے مادہ "رکب"میں لکھا ہے۔

"وركبة البعير في يده “. ... وكل ذي أربع ركبتاه في يديه،"(43)

"اُونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھوں (اگلی ٹانگوں)میں ہوتے ہیں اور ہر چوپائے کے گھٹنے اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں ۔"

اہل لغت میں سے صاحب لسان العرب کی اس صراحت کے بعد یہ کہنا تو صحیح نہیں رہا کہ اہل لغت کے ہا یہ بات متعارف نہیں ہے۔

مشکل الآثار و شرح معانی الآثار :۔

مشکل الآثار و شرح معانی الآثار میں امام طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث کی تصحیح و تثبیت کے دوران اور اُونٹ بلکہ تمام جانوروں کی اگلی ٹانگوں میں ان کے گھٹنے ہونے میں کوئی مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اور انسان کو اس سے مستثنیٰ قراردیتے ہوئے لکھا ہے۔

"لا يبرك على ركبتيه اللتين في رجليه كما يبرك البعير على ركبتيه اللتين في يديه، ولكن يبدأ فيضع أوّلا يديه اللّتين ليس فيهما ركبتان، ثمّ يضع ركبتيه، فيكون ما يفعل في ذلك بخلاف ما يفعل البعير ."(44)

"جس طرح اُونٹ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہے جو اس کے اگلے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اس طرح اپنے گھٹنوں کے بل نہ بیٹھیں جو کہ انسان کی ٹانگوں میں ہو تے ہیں ۔ بلکہ پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھیں جن میں گھٹنے نہیں ہیں پھر گھٹنے زمین پر لگائیں ۔ اس طرح بیٹھا اُونٹ کے بیٹھنے کے بر عکس ہو جائے گا۔"

اور علماء احناف میں سے ہی علامہ ملا علی قاری نے المرقاۃ شرح مشکوۃ میں حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔ إذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ میں اس بات سے روکا گیا ہے کہ کوئی شخص اُونٹ کی طرح پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھے۔اس حدیث میں اُونٹ سے تشبیہ دی گئی ہے جب کہ وہ اپنے ہاتھ ہی گھٹنوں سے پہلے رکھتا ہے کیونکہ انسان کے گھٹنے اس کی ٹانگوں میں ہوتے ہیں اور جانوروں کے گھٹنے اس کے ہاتھوں (اگلی ٹانگوں) میں ہوتے ہیں پس جب کوئی پہلے گھٹنے زمین پر رکھے گا ۔تو وہ بیٹھنے میں اُونٹ کے مشابہ ہو گا ۔ اور آگے وليضع يديه قبل ركبتيهکی شرح میں لکھا ہے کہ توریشتی نے اعتراض کیا ہے کہ:

"اُونٹ کی طرح بیٹھنے سے کیسے روکا ہے جب کہ آگے پھر ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے رکھنے کا حکم بھی فرمایا ہے جب کہ اُونٹ اپنے ہاتھ پہلے رکھتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے گھٹنے تو اس کی ٹانگوں میں ہوتے ہیں جب کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے ہاتھ (اگلی ٹانگوں ) میں ہوتے ہیں۔(45)

لسان العرب میں ابن منظور کے علاوہ ازہری نے تہذیب اللغہ (216/10)میں اور ابن سیدہ نے المحکم (16/7) میں بھی ذکر کیا ہے کہ اُونٹ کے گھٹنے اس کی اگلی ٹانگوں میں ہو تے ہیں۔(46)معروف محقق علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی المحلی میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھوں یعنی اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں نہ کہ پچھلی ٹانگوں میں(47)اور وہ بیٹھتے وقت گھٹنے ہی زمین پر پہلے لگا تا ہے جب کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس طرح بیٹھنے سے نمازی کو منع کیا ہے اور پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔

کتب حدیث کی روشنی میں:۔

اونٹ کے گھٹنوں کا اس کی اگلی ٹانگوں میں ہو نا کتب حدیث سے بھی ثابت ہے مثلاً:

(1)امام قاسم سر قسطی نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا:"

"لا يبرك أحد بروك البعير الشارد"

اور امام قاسم اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ نماز میں سجدہ میں جانے کے بارے میں ہے کہ" آدمی اپنے جسم کو یکبار گی نہ گرادے ۔جس طرح کہ بدکاہوا اور غیر مطمئن اونٹ کرتا ہے"بلکہ اطمینان کے ساتھ بیٹھے ۔پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور پھر دونوں گھٹنے ۔ اور اس سلسلہ میں ہی ایک مرفوع و مفسر حدیث بھی ہے اور انھوں نے آگے اس موضوع کے شروع میں بیان کی گئی پہلی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بھی نقل کی ہے (48)

(2)اس طرح ہی وہ اثر فاروقی بھی ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں لہٰذا اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں اس میں بھی واضح طور پر یہ بات آگئی ہے کہ اونٹ کے گھٹنے اس کی اگلی ٹانگوں میں ہی ہوتے ہیں نہ کہ پچھلی ٹانگوں میں۔

(3)اور ان دو آثار پر مستزاد صحیح بخاری شریف اور دیگر کتب کی وہ حدیث بھی ہے جو نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہجرت مدینہ سے تعلق رکھتی ہے۔ حضرت سراقہ بن مالک رحمۃ اللہ علیہ  جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے گھوڑا لے کر نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تلاش میں نکلے اور دیکھ بھی لیا لیکن جب قریب پہنچے تو ان کا گھوڑا معجزاتی طور پر گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا اس حدیث میں حضرت سراقہ کے الفاظ ہیں۔

"ساخت يدا فرسي في الأرض حتى بلغتا الركبتين"(49)

"میرے گھوڑے کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئیں۔"

بخاری شریف میں معروف صحابی کے ان الفاظ سے بھی معلوم ہوا کہ اونٹ اور دیگر چوپایوں کے گھٹنے اگلی ٹانگوں میں ہی ہوتے ہیں۔

خلاصہ کلام :۔

اس ساری بحث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی پہلی حدیث کا جز ءاول جزء ثانی کے مخالف نہیں ہے ۔ بلکہ اسی طرح صحیح ہے کہ نمازی اونٹ کی طرح اپنے گھٹنے زمین پر پہلے نہ رکھے بلکہ ہاتھ پہلے رکھے کیونکہ اونٹ کی طرح گھٹنے پہلے رکھنے سے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی حدیث میں آیا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  کی وجوہات ترجیح :۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے تہذیب معالم السنن اور زادالمعاد میں گھٹنے پہلے رکھنے کو راجح قراردینے کے لیے دس وجوہات ترجیح بیان کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی پہلی حدیث مقلوب و مضطرب اور منسوخ و متکلم فیہ ہے جب کہ حضرت وائل  رحمۃ اللہ علیہ  والی حدیث پر اکثر کا عمل ہے اس کے بعض شواہد ہیں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے آثار اس کے موافق ہیں اس میں حکایت فعل ہے اور اس میں ذکر کردہ افعال دوسری روایات سے بھی ثابت ہیں اور وہی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اونٹ کی طرح بیٹھنے سے ممانعت والی حدیث کے موافق بھی ہے۔(50)

جب کہ موصوف کے اس موقف پر تعاقب کرتے ہوئے محققین زادالمعاد نے لکھا ہے کہ مصنف نے جس جانب کو راجح قراردیا ہے وہ صحیح نہیں بلکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی حدیث ہے اور اس کے اسباب وجوہات بھی انھوں نے تحقیق و تعلقیقات میں ذکر کیے ہیں۔(51)

مختلف مواقف:۔

(1)امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  نے المجموع میں دونوں طرح دلائل ذکر کر کے لکھا ہے کہ مجھ پر کسی جانب کی ترجیح ظاہر نہیں ہو سکی۔(52)

(2)امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  نے نیل الاوطارمیں تمام تفصیلات ذکر کر کے اس مسئلہ کو معارک الانظاراور مضائق الافکار میں سے ایک قراردیا ہے۔(53)

(3)محقق مقبلی رحمۃ اللہ علیہ  شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا محمد جونا گڑھی  رحمۃ اللہ علیہ  نے دونوں طرح کی احادیث میں جمع و تطبیق کی راہ اپنائی ہے کہ جب زمین کے قریب ہو جائیں اور گھٹنے مڑجائیں تو ہاتھ پہلے رکھ لیں۔اور پھر گھٹنے جب کہ ایک روایت  میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  واحمد  رحمۃ اللہ علیہ  اور علامہ مقبلی رحمۃ اللہ علیہ  و جوناگڑھی رحمۃ اللہ علیہ  نے دونوں کو ہی برابر قراردیا ہے چاہے کسی کو بھی اختیار کر لیں (54)جب کہ اصل بات دراصل یوں ہے کہ یہ اس وقت ہوتا جب دونوں طرف کی احادیث صحیح ہوتیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ ہم تفصیل بیان کر آئے ہیں کہ ہاتھ پہلے رکھنے والی احادیث صحیح ہیں اور گھٹنے پہلے رکھنے کا پتہ دینے والی روایات ضعیف ہیں۔

(4)اس کے باوجودجمہور اہل علم اور بقول قاضی ابو الطیب کے عام فقہاء نے اسے ہی اختیار کیا ہے ابن منذر نے حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ابراہیم نخعی مسلم یسار ثوری(ایک روایت میں) احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہ  شافعی رحمۃ اللہ علیہ  اسحاق بن راہویہ اور اہل الرائے (احناف) سے یہی مسلک نقل کیا ہے اور خود بھی اسے ہی اپنایا ہے(55)

(5)گھٹنے پہلے رکھنے والی روایات کے ضعف کے پیش نظر اور ہاتھ رکھنے والی حدیث کے راجح ہونے کی بنا پر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ  ایک روایت میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہوراہلحدیث و محدثین نے پہلے ہاتھ رکھنے کا مسلک اختیار کیا ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  نے تو یہ بھی کہا ہے۔

"هذه الصفة أحسن في خشوع الصلاة"(56)

"یہ طریقہ نماز میں خشوع کے لیے زیادہ صحیح ہے"

اسباب ووجوہات ترجیح :۔

اسی آخری مسلک کے راجح ہونے کے اسباب ووجوہات بھی کئی ہیں مثلاً:

(1)ہاتھ پہلے رکھنے کا پتہ دینے والی حدیث صحیح ہونے کے ساتھ قولی ہے اور گھٹنے پہلے رکھنے کا پتہ دینے والی حدیث ضعیف ہونے کے علاوہ فعلی ہے اور تعارض کی صورت میں ترجیح قولی حدیث کو ہواکرتی ہے۔ جیسا کہ وجوہ ترجیح کے ضمن میں امام حازمی نے سینتیسویں (37) وجہ یہ لکھی ہے ۔

"أَنْ يَكُونَ أَحَدُ الحديثين قَوْلًا وَالْآخَرُ فِعْلًا، فَالْقَوْلُ أَبْلَغُ فِي الْبَيَانِ؛ وَلِأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي كَوْنِ قَوْلِهِ عَلَيْهِ حُجَّةً، وَاخْتَلَفُوا فِي اتِّبَاعِ فِعْلِهِ؛ وَلِأَنَّ الْفِعْلَ مَا يَدُلُّ لِنَفْسِهِ عَلَى شَيْءٍ بِخِلَافِ الْقَوْلِ فَيَكُونُ أَقْوَى."(57)

"یہ کہ ان میں سے ایک حدیث قولی ہو اور دوسری فعلی تو قولی حدیث ازروئے بیان زیادہ بلیغ ہے اور لوگوں کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ کا ہر قول امت کے لیے برائے عمل حجت و دلیل ہے البتہ اتباع میں اختلاف ہے کیونکہ کوئی فعل فی نفسہ کسی بات کی دلیل نہیں ہو تا بخلاف قول کے۔ تو گویا قول زیادہ قوی ہوا۔"

اور علامہ ابن الترکمانی نے بھی سنن کبریٰ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  کے حاشیہ الجوہر النقی میں لکھا ہے کہ ہاتھ پہلے رکھنے کا پتہ دینے والی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی حدیث قولی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے لہٰذا علماء اصول کے نزدیک اسے گھٹنے پہلے رکھنے کا پتہ دینے والی حضرت وائل سے مروی حدیث پر ترجیح ہوگی کیونکہ اس کی دلالت فعلی ہے۔(58)

اور یہاں فعلی کے مقابلے میں حدیث کو ترجیح دینے والے اصول کی بنیاد میں کارفرما سبب بھی بیان کرتے جائیں کہ امت کی نسبت قولی حدیث میں کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں پایا جاتا کہ یہ عمل افراد امت کے لیے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تجویز فرمایا ہے جب کہ فعلی حدیث میں اس بات کا امکان پا یا جا تا ہے کہ وہ کہیں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خصائص میں سے نہ ہو جیسے ایک مرد کے نکاح میں زیادہ سے زیادہ چاربیویوں والی آیت اور دیگر قولی احادیث ہیں جب کہ خود نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل مبارک بیک وقت 19ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھن اجمعین سے نکاح ہے۔ چنانچہ ہمارے لیے قول واجب العمل ہے اور یہ فعل نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خصائص میں سے ہے اور خصائص کے بارے میں عموماً صراحت ہوتی ہے لیکن چونکہ کبھی صراحت نہ ہونے کی وجہ سے کسی کام کے خصائص مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے ہونے کا امکان ہو تا ہے لہٰذا علماء اصول نے مستقل اصول وضع کردیا کہ قولی حدیث راجح ہو گی اور فعلی مرجوح اور مسئلہ زیر بحث میں قولی حدیث پہلے ہاتھ رکھنے کا پتہ دیتی ہے۔

(2)اگر دونوں طرح کی احادیث کو صحیح مان لیا جائے(حالانکہ فی الحقیقت ایسا نہیں ہے تو) پھر بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہاتھوں والی قولی حدیث کی تائید حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ایک دوسری صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری میں تعلیقا وموقوفاً اور ابن خزیمہ  رحمۃ اللہ علیہ  ودارقطنی رحمۃ اللہ علیہ  سنن بیہقی رحمۃ اللہ علیہ  و کتاب الاعتبار حازمی اور مستدرک حاکم کے حوالے سے ہم ذکر کر چکے ہیں اور امام حاکم نے اپنا رجحان ہاتھوں  والے نظریہ کی طرف ظاہر کیا ہے اور اس کا سبب یہ لکھا ہے کہ اس کے بارے میں صحابہ و تابعین سے بہت ساری احادیث و آثار ملتے ہیں لہٰذا راجح مسلک یہی ہے اور دوسری جانب اگر چہ حضرت وائل  رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث ہے لیکن وہ چونکہ ضعیف ہے اور پھر حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی روایات ہیں تو وہ ذکر کی گئی تفصیل کی روسے اتنی ضعیف ہیں کہ پہلی کی شاہدومؤید بننے کے قابل بھی نہیں لہٰذا یہ جانب مرجوح ہے۔

(3)ایک ہی موضوع سے متعلقہ دو طرح کی احادیث آجائیں اور ایک نہی پر مشتمل ہو اور دوسری اثبات پر۔یعنی ایک میں کسی کام کو کرنے کا حکم دیا گیا ہو اور دوسری میں نہ کرنے کا تو ایسی صورت میں خطروممانعت والی حدیث راجح ہو گی اور یہ ایک مستقل وجہ ترجیح ہے مسئلہ زیر بحث میں ۔حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی حدیث  مثبت ہے جب کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی منفی ہے کہ اونٹ کی طرح پہلے گھٹنے زمین پر مت لگاؤ۔لہٰذا یہی راجح ہے۔

ان اور ایسی ہی دوسری و جوہات واسباب کی بنا پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے بلوغ المرام میں اسی طرح حافظ ابن سید الناس قاضی ابو بکر ابن العربی اور علامہ ابن الترکمانی نے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہاتھوں کو پہلے رکھنے والی حدیث کو ہی راجح قراردیا ہے اور امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کا واضح رجحان بھی اسی طرف ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ان کی تبویب سے معلوم ہو رہا ہے اور امام ابن العربی کے بقول یہی عمل اہل مدینہ بھی ہے۔شیخ احمد شاکر علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری محدث البانی شیخ عبدالقادر ارناؤط اور شیخ شعیب ارناؤط نے بھی پہلے زمین پر ہاتھ رکھنے والے اور پھر گھٹنے لگانے والے موقف کو ہی راجح قراردیا اور اختیار کیا ہے۔ امام خطابی نے معالم السنن میں حضرت وائل  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی حدیث کو راجح قراردیا ہے۔(59)

اور ہماری ذکر کردہ تفصیل سے ان کی اس بات کا ضعف بھی واضح ہو گیا ہے واللہ الحمد (60)

ایک وضاحت :۔

سجدے میں جاتے وقت پہلے ہاتھ رکھے جائیں یا گھٹنے ؟

اس سلسلے میں تفصیلی تحقیق ہم نے ذکر کردی ہے جس کی روسے ہمارے نزدیک ہاتھوں کا زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھنا اولیٰ ہے لیکن یہاں اس بات کی وضاحت کردینا مناسب معلوم ہو تا ہے کہ بعض اہل علم نے جو کہا ہے کہ ان دونوں طرح کی احادیث کو یوں جمع کر لیا جائے کہ قیام سے سجدہ کی طرف اس انداز سے جھکیں کہ جیسے آپ کے گھٹنے اور ہاتھ بیک وقت ہی زمین پر جا لگیں گے لیکن قریب ہو کر پہلے ہاتھ لگائیں اور پھر گھٹنے اس جمع و تطبیق میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بڑی مناسب بات ہے خصوصاً اس لیے کہ پہلے گھٹنے رکھنا صحیح طور پر ثابت نہیں ہو رہا اور اس میں بظاہر کچھ شان کبرونخوت سی بھی پائی جا تی ہے اور اگر کھڑے کھڑے ہی دونوں ہاتھوں کو آگے کی طرف بڑھاتے ہوئے سجدہ میں جانے لگیں تو یہ بھی کچھ اتنا اچھا نہیں لگتا بلکہ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی فلائی (پرواز)کرنے لگاہو خصوصاً اگر کوئی لا پرواہی سے آگے ہاتھ بڑھائے سجدے میں جا رہا ہو۔

لہٰذا غیر اولیٰ انداز اور بے ہنگم وغیردرست انداز کے مابین مذکورہ جمع و تطبیق سے کام لیا جائے تو اولیٰ پر عمل ہو جائے گا اور معیوب انداز (؟!)سے بھی بچا سکے گا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ کھڑے کھڑے ہی (؟!)محترم محقق نے سجدے میں جانے کی کیفیت کے بارے میں دو مختلف انداز پر محمول احادیث کی جس طرح متن کے صحت و ضعف کے اعتبار سے تحقیق کر کے ترجیح دی ہے اس پروہ شکریہ کے مستحق ہیں لیکن ساری بحث کے دوران یہ بات کھٹکتی رہی کہ حدیث کے صحت و ضعف کے بارے میں الفاظ کی تحقیق پروہ اس طرح زوردے رہے ہیں جیسے قرآنی الفاظ پر حالانکہ قرآن و حدیث کا یہ جو ہری فرق ہے کہ قرآن میں الفاظ کے تعین پر جو زور دیا جا تا ہے حدیث میں وہی زور اس کے مفہوم پر دیا جا نا چاہیے کیونکہ قرآن کلام الٰہی ہے تو حدیث مراد الٰہی گویا حدیث میں مفہوم اصل مراد ہو تا ہے لہٰذا زیر بحث مسئلہ میں وارد تمام روایات کو سامنے رکھ کر مفہوم واضح کرنا چاہیے یہی وجہ ہے کہ محدثین توافق پیدا کرتے ہوئے بسااوقات بعض کمزور روایات کو بھی مفہوم کے لحاظ سے حسن ۔حسن لغیرہ قراردے کر جمع بین الاحادیث کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔اصولی اعتبار سے شرعی دلائل میں پہلا نمبر جمع و توافق کا ہے نہ کہ ترجیح کا۔ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  نے اسی نکتہ کا ہاتھوں کو آگے کی جانب نہ بڑھایا جائے اور انہیں زمین پر پہلے لگائیں اور پھر ساتھ ہی گٹھنے بھی لگائیں ۔

حوالہ جات:۔

(1)شرح السنۃ 3ص135،مسند احمد 2ص3381۔الفتح الربانی 3ص276،ابو داؤد 3ص70،ترمذی2ص136مشکوۃ1ص282الارواء2ص78،دارقطنی1ص344محلی4/2ص169بیہقی ص99،100الاعتبارص79۔

(2)تحفۃ الاحوذی2ص127۔

(3)بحوالہ صفۃ الصلوۃ ص81۔الاوراء2ص78مشکوۃ1ص282۔

(4)بخاری مع الفتح 2ص290۔

(5)بخاری 2ص290مع الفتح ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  1ص319و صححہ الالبانی بیہقی 2ص100،دارقطنی 1ص344الضعیفۃ 2ص331الاعتبار ص79بلوغ المرام 1/1ص186مع سبل السلام ۔

(6)تحقیق ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  1ص318۔مستدرک حاکم و تلخیص الذہبی 1ص226قدیم 1ص349جدید ارواء الغلیل 2ص77۔

(7)حوالہ بالا ۔

(8)بیہقی 2ص100وزادلمعاد1ص230۔

(9)الاعتبار ص80نقلہ عن ابن المنذر وزاد المعاد 1ص230،ومسائل الامام المروزی 1ص47/اکمانی صفۃ الصلوۃص81،صححہ ۔

(10)نیل الاوطار1/2ص255۔

(11)ابو داؤد 3ص68،ترمذی 2ص134،شرح السنۃ 2ص(گذشتہ حاشیہ) خیال رکھا ہے اسی بنا پر اقوال صحابہ بھی ترجمان نبوت بنتے ہیں اور فعل و قول رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  میں تضاد کی الجھن بھی پیش نہیں آتی کہ ترجیح کی ضرورت پیش آئے۔

محقق موصوف کو اگرچہ آخر میں خود یہ احساس ہو گیا ہے لیکن محض عقل کی بنا پر جس جمع و تطبیق کا وہ اہتمام کر رہے ہیں یہ انداز محدثین کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ محدثین روایات میں موافق کا رویہ اپناتے ہیں ۔

زیر بحث مسئلہ میں اصل نکتہ اونٹ کے بیٹھنے کی مجموعی کیفیت کا ہے جس سے منع کیا جا رہا ہے۔ اگر صرف گھٹنوں کے اگلی یا پچھلی ٹانگوں میں ہونے کا سوال ہو تا تو یہ تمام چار پایہ جانوروں میں ہو تا ہے جبکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صرف اونٹ کی مخصوص طرز سے سجدہ کی طرف جانے سے منع کیا ہے اس ممنوعیت کو اونٹ کی بیٹھک کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ کچھ یوں ہے کہ اونٹ اپنی اگلی ٹانگوں کے گھٹنے پہلے اکھٹے کر کے پچھلی ٹانگوں پر بیٹھ جا تا ہے پھر اگلی ٹانگیں پیٹ کے ساتھ لگاتا ہے۔سجدہ میں جانے کی یہ کیفیت غلط ہے کہ نمازی پہلے ہاتھ زمین پر رکھ کر پیچھے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائے اور بعد میں سجدہ میں جائے۔ اسی طرح ہاتھوں کا سہارا لیے بغیر گھٹنوں کے بل گر پڑنا بھی درست نہیں گویا صورت مسئولہ میں اہمیت ہاتھ یا پاؤں کے گھٹنے پہلے رکھنے یا پیچھے رکھنے کی نہیں بلکہ اونٹ کے بیٹھنے کی مجموعی کیفیت کی ہے کہ اس کی طرح پچھلے گھٹنوں پر پہلے بیٹھنا نہیں چاہیے اس طرح تمام احادیث کا مفہوم بھی متعین ہو جا تا ہے اور تعارض روایات کے بجائے جمع و تطبیق کی صورت بھی بن جاتی ہے ازراہ کرم محقق محترم حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ  کی بحث پر دوبارہ غور فرمائیں اور خود انھوں نے "مختلف مواقف"کے عنوان کے تحت جن آئمہ فقہاء کی جمع بین الروایات کا موقف اختیار کرنے کا تذکرہ کیا ہے پر بالخصوص توجہ فرمائیں۔واللہ اعلم بالصواب(محدث)

133،بیہقی 2ص98ابن حبان ص32الموارد ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ  1ص318الضعیفۃ 2ص329،ابو داؤد2ص75،التلخیص 1/1ص254دارقطنی 1/1ص345،الاعتبار ص80۔

(12)متعلقہ حوالہ جات بالا۔

(13)الغلیل 1/2ص253۔

(14)تحقیق شرح السنۃ 3ص133۔134۔

(15)تحقیق مشکوۃ 1ص282۔

(16)دیکھئے الاحسان 5ص237۔حدیث 1912،تحقیق الارناؤط ۔

(17)ابن حبان ص134،الموارد ۔

(18)بحوالہ الضعیفۃ 2ص328۔

(19)دارقطنی1/1ص345،بیہقی 2ص99الاعتبار ص80،محلی 

2/4ص129مستدرک 1ص226،قدیم 349جدید المختار  زاد المعادص228۔

(20)زاد المعاد 229التلخیص1/ص1254۔

(21)العلل 1ص188بحوالہ زادالمعاد ص229والضعیفہ 2ص331۔

(22)مصنف ابن ابی شیبہ 1ص294بیہقی 2ص100زادالمعاد 

1ص226۔227۔ارواءالغلیل 2ص79۔

(23)تحفۃ الحوذی 2ص138۔

(24)حوالہ بالا ۔

(25)فتح الباری 2ص291۔

(26)الارواء ایضاً۔

(27)ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ 1ص319بیہقی ص100۔

(28)الفتح ایضاً۔

(29)حوالہ بالا۔

(30)الاعتبار ص80۔

(31)المجموع 3ص423۔

(32)تہذیب معالم السنن علی عون المعبود 3ص73۔74۔زاد لمعاد 1ص227۔

(33)فتح الباری 2ص231۔

34التقریب ص19۔46۔549۔

(35)حوالہ بالا ،تحقیق ابن خزیمہ 1ص319۔

(36)تحقیق شرح السنۃ 3ص135۔

(37)طحاوی 1ص51بحوالہ الضعفیہ 2ص مصنف عبدالرزاق 2ص176تحقیق الاعظمی۔

(38)حوالہ بالا۔

(39)مصنف ابن ابی شیبہ 1ص295طبع دارفکر بیروت ۔

(40)بحوالہ الاعتصام جلد 43شمار ہ51بابت 13جمادی الاخری 1412ھ 2دسمبر 1991ءمقالہ حافظ محمد اسحٰق زاہد مدرجامعہ رحمانیہ لاہور ۔

(41الضعیفۃ ص331۔

(42) زادالمعاد1ص225 ۔

(43)لسان العرب 14ص236۔

(44)بحوالہ تحقیق زادالمعاد1ص225 وصفۃ الصلوۃ ص82۔

(45)المرقاۃ بحوالہ تحفۃ الاحوذی 2ص136۔

(46)بحوالہ ہفت روزہ الاعتصام ایضاً۔

(47)محلی 2/4ص129۔

(48)تحقیق زادالمعاد1ص225 ۔نقلاہ عن غریب الحدیث للامام السرقسطی 2ص70و صححا ہ وصفۃ الصلوۃ ص82۔

(49)بخاری مع الفتح تحفۃ الاحوذی 2ص139۔

(50)مختصر از زادالمعاد1ص230۔231۔

(51)تحقیق زادالمعاد1ص223،230۔

(52)المجموع حوالہ سابقہ ۔

(53)النیل 2/3ص99الریاض فارالمعارف 1/2ص283۔طبع دارالافتاء الریاض ایضاً۔

(54)النیل ایضاً و صلاۃ الرسول محقق ص283نقلا عن"صلوۃ محمدی "تحفۃ الحوذی 2ص136فتح الباری 2ص391۔

(55)النیل 2/3ص97۔ زادالمعاد1ص229۔230۔کتاب الاعتبارحازمی ص79۔80۔تحفۃ الاھوذی 2ص135عون المعبود۔

(56) فتح الباری 2ص291۔

(57)الاعتبار ص20نیز دیکھئے ص18وجہ ترجیح ص26۔

(58)الجوہر المتقی 1ص100۔

59)معالم السنن 1/1۔180۔المنتقی2/3ص99۔

(60)بلوغ المرام مع السبل 1/1ص186۔ا؛جوہر النتقی 1ص3تحفۃ الاحوذی 2ص137۔138۔بخاری مع الفتح 2ص290۔290۔عون المعبود 3ص71،تحقیق زادالمعاد1ص223۔231۔الضعیفۃ 2ص332الارواء 2ص80۔تحقیق صلوۃ الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ص283۔286۔