میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مالا کنڈڈویژن جس میں سوات دیر،بونیر چترال وغیرہ اضلاع شامل ہیں ان قبائلی علا قوں میں سے ہے جو سرحد کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ لہٰذا اسے "پاٹا"کہا جا تا ہے جو"پراونشل ایڈمنسٹریڈ ٹرائبل ایریا "کا مخفف ہے ان کے علاوہ مرکزی حکومت کے زیرانتظام سات ایجنسیاں باجوڑ مہمند اور کزئی ، کرم شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان میں نیز "فرنٹیئرریجن " کے نام سے وفاقی حکومت کے علاقے ہیں جو پشاور کوہاٹ بنو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشزوں کے ماتحت ہیں۔ یہ سب علاقے "فاٹا" کہلاتے ہیں جو "فیڈرل ایڈمنسٹرینڈٹرائبل ایریا" کا مخفف ہے۔

نومبر 1994ء کے پہلے عشرے میں "شریعت یا شہادت "کے نام سے جس تحریک نے شہرت پائی وہ مالا کنڈڈویژن کے مذکورہ اضلاع ہزارہ ڈویژن کے دواضلاع کوہستان اور بٹ گرام اور وفاقی حکومت کے زیرانتظام (فاٹا) کی باج      وڑ ایجنسی تک پھیلی ہو ئی تھی۔

جولائی 1970ء میں جب ون یونٹ کا خاتمہ کر کے مغربی پاکستان کے 4صوبے بحال کر دئیے گئے تھے تو مذکورہ علاقوں میں پاٹا ریگولیشنز اور فاٹا ریگولیشنز کے نام سے قوانین نافذ کئے گئے تھے کیونکہ انگریز کے دور حکومت سے ہی ان علاقوں کی خصوصی حیثیت چلی آرہی تھی اس لیے وہاں عام ملکی قانون کا چلن نہیں تھا اور مذکورہ قوانین بھی ان کی اسی خصوصی حیثیت کو برقرار رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔

1994ءکے اوائل میں مالاکنڈڈویژن کی قانونی حیثیت کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ پاٹا ریگولیشنز عارضی انتظام کے لیے بنائے اور نافذ کئے گئے تھے ،لہٰذا اب ان کو کالعدم قراردیا جا تا ہے اور صوبائی حکومت کو تاکیدکی گئی کہ وہ اس کی جگہ ایسے قوانین یہاں جاری  کرے جو ملک کے باقی حصوں میں رائج ہیں۔ یہ علاقے اپنی بعض قبائلی خصوصیات کے باوصف دین داری اور شریعت سے سچی وابستگی میں ممتاز ہیں علاوہ ازیں ان علاقوں میں شہیدین (شاہ اسمٰعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ  اور سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ  ) کی تحریک بھی خاصی سر گرم رہی ہے جو عہد صحابہ و تابعین کے بعد اسلامی تاریخ کی ایک نمایاں تحریک تھی جس کا مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اور اللہ کی اس دھرتی پر اللہ کے قانون کا نفاذ تھا اس تحریک کے اثرات نسل درنسل منتقل ہوتے آرہے ہیں جس کو جہاد افغانستان نے مزید جلابخشی اور نور ستان کے ایک گھرے ہوئے محدودعلاقے میں نفاذ شریعت کے علاوہ جہاد افغانستان کے ایک شہید کمانڈر جناب شیخ جمیل الرحمٰن  رحمۃ اللہ علیہ  کی مساعی جمیلہ نے کنٹرمیں اسلامی حکومت قائم کر کے بھی اس خاکسترکی چنگاری کو شعلہ بنانے میں ہم کرداراداکیا۔علاوہ ازیں پاکستان میں شمولیت سے قبل مذکورہ بعض ریاستوں میں اسلام کے عدالتی نظام سے ملتا جلتا ایک نظام قائم تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو انصاف کے حصول میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی بلکہ داد رسی اور انصاف کے فوری طور پر مہیا کرنے کا مؤثر انتظام تھا۔

بنا بریں مذکورہ عدالتی فیصلے کے بعد وہاں جو قانونی خلا پیدا ہوا اس کو پر کرنے کے لیے وہاں کے باشعورباغیرت اور دین اور لوگوں نے مطالبہ کیا کہ یہاں کوئی اور قانون نافذ کرنے کی بجائے شریعت کا قانون نافذ کیا جائے۔ ماہ مئی 94ء میں اپنے اس مطالبے کو منوانے کے لیے اس تحریک سے وابستہ افراد جسے"تحریک نفاذ شریعت محمدی"کا نام دیا گیا ہے شاہراہ سوات پردھرنامار کر بیٹھ گئے اور مالاکنڈڈویژن کو جانے والے رستے بند کر کے مالاکنڈ کو ملک کے دوسرے حصوں سے کاٹ دیا تھا اس وقت بھی ایک درجن کے قریب لوگ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ ناکہ بندی سات روز تک جاری رہی بالآخر 16/مئی 1994ءکو صوبہ سرحد کے گورنر میجر جنرل (ریٹائرڈ )خورشید علی خان نے نوٹیفکیشن جاری کر کے اعلان کیا کہ مالاکنڈڈویژن میں شریعت نافذ کردی جائے گی تین صوبائی وزراء کے ذریعے سے یہ اعلان تحریری صورت میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنماؤں کو پہنچایا گیا جس پر قائدئن تحریک نے ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔لیکن پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے وعدے کے ایفاء کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نفاذ شریعت کی طرف پیش رفت نہیں ہوئی جس سے ڈویژن کے لوگوں میں یہ تاثرگہرا ہو تا گیا کہ حکومت نے ان سے فراڈ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے میں مخلص نہیں ہے اس سلسلے میں صدر مملکت کی طرف بھی رجوع کیا گیا بلکہ جماعت اسلامی کی طرف سے اسلامی قوانین کا ایک خاکہ بھی پیش کیا گیا جو 23دفاعت پر مشتمل تھا لیکن حکومت نفاذ شریعت میں مخلص ہوتی تو اس پر توجہ دیتی۔ چنانچہ وہ ٹال مٹول سے ہی کام لیتی رہی تاانکہ دو نومبر کا وہ دن آگیا جب متہ سب ڈویژن میں پہلی مرتبہ لگنے والے کیمپ کورٹ کے ججوں اور دیگر سر کاری اداروں کے 55ملازمین کویرغمالی بنا لیا گیا۔ یہ اقدام وہاں کے عوام نے از خود اشتعال میں آکر کیا قائدین  تحریک انہیں ایسا کرنے سے روکتے رہے لیکن انہوں نے شدت جذبات میں اپنے قائدین کی بات ماننے سے بھی انکار کردیا۔3/نومبر کا دن وہ تاریخی دن تھا جب تحریک کے رضا کاروں نے شریعت یا شہادت کی تحریر کے کمر بند (پیٹیاں) باندھے ہوئے پورے ضلع سوات کو اپنے تصرف میں لے لیا تھا اور یہ رضا کار ٹریفک سے امن وامان تک سب کچھ سنبھال رہے تھے۔

تحریک کے رضاکاروں کا یہ انتہائی اقدام ایک نہایت اہم موڑ تھا اور حکومت کے لیے ایک چیلنج بھی۔ اس حکومت کے لیے جو اسلام کے معاملے میں اور اپنے ایفائے عہد میں قطعاً مخلص نہیں تھی ۔چنانچہ ایک طرف سر حد کی صوبائی حکومت کے وزریر اعلیٰ آفتاب شیر پاؤ دوسری طرف صدر مملکت جناب فاروق احمد لغاری اور تیسری طرف وزیراعظم بے نظیر بھٹو (جو اس روزپیرس میں پردے کے خلاف بیان بازی میں مصروف تھیں) تینوں نے اس تحریک سے مفاہمت کی بجائے اسے قوت سے کچلنے کا فیصلہ کر لیا اور پیرس سے بھی اس کی منظوری لے لی گئی۔چنانچہ 4/نومبر کی شام کو فرنٹیئزکورکے دستےاس تحریک کو بزور کچلنے کے لیے میدان میں آگئے۔5/نومبر کو وزیراعظم اگرچہ پاکستان واپس آچکی تھیں لیکن جو فیصلہ کرلیا گیا تھا اس کے مطابق اسی روز سہ پہر کو بری کوٹ اور منگورہ کے درمیان بڑے قصبے اوڈی گرام کے قریب پہلا خون ریز تصادم ہوا اور مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹتے اور گولیوں سے ایک دوسرے کے سینے چھلنی کرتے رہے کہتے ہیں اس معرکے میں طرفین کے آٹھ سے بارہ کے درمیان افراد کام آئے5اور6نومبر کی درمیانی رات وادی سوات میں وہ قیامت کی رات تھی جب دریائے سوات کے کانجوپل (ایوب پل ) پر تحریک شریعت کے کارکنوں اور فرنٹیئرکور کے جوانوں کے درمیان خونی معرکہ ہوا اور شریعت مانگنے والوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا گیا کہتے ہیں ساڑھے تین گھنٹے مسلسل یہ شدید معرکہ جاری رہا۔محتاط انداز ے کے مطابق طرفین کے دودرجن کے قریب آدمی اس معرکے میں کام آئے ورنہ بعض لوگ تویہ تعداد پچاس تک بتلاتے ہیں۔(یہ معلومات ان رپورٹوں سے نقل کی گئی ہیں جو ہفت روزہ"زندگی" لاہور کے نمائندوں نے اس وقت تحریر کی تھیں)

تحریک شریعت کے رضاکاروں کا یہ سب سے اہم مورچہ تھا جسے طاقت کے ذریعے سے ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد اس (؟)کارستہ صاف ہو گیا اور شریعت کے رضا کار محاصر ے ختم کرنے پر مجبور ہوگئے نہتے عوام ہر قسم کے اسلحے اور کیل کانٹے سے لیس فورس کا مقابلہ کس طرح اور کب تک کر سکتے ہیں؟

بلا شبہ اس وقت حکومت نے اپنی حکومتی طاقت کا بے محابا استعمال کر کے وہ مقصد حاصل کر کیا جووہ چاہتی تھی کہ تحریک کو طاقت سے کچل اور دبادیا جائے۔ تاہم دلوں سے نفاذ شریعت کی امنگ اور تڑپ کو وہ ختم نہ کر سکی اورنہ ہی یہ اس کے بس میں تھا چنانچہ یہ تحریک اپنے دائرے میں جاری رہی اور اس کے قائدین نے اپنی توانائیاں اس کے لیے وقف کئے رکھیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے اور اسی کا مظہروہ اعلان ہے جو 27/رمضان 1419ھ(17/جنوری 99)کو سرحد حکومت نے کیا اور 28جنوری کے اخبارات میں شائع ہوا۔ روزنامہ "جنگ" لاہور میں یہ اعلان بایں الفاظ شائع ہوا۔

"سرحد کے دو علاقوں مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں شرعی نظام عدل نافذ کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں گورنر آرڈینینسوںپر دستخط کر دئیے ہیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ سردار مہتاب احمد خان نے اس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سرحد سے نفاذ شریعت کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دن دور نہیں جب اس علاقے کے عوام کو پاکستان اور پوری اسلامی دنیا میں نفاذ شریعت کے سلسلے میں رہنمائی کا اعزاز حاصل ہو جائے گا انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہر قاضی کے لیے لازمی قراردیا ہے کہ وہ کوئی دیوانی یا فوجداری معاملہ نمٹاتے وقت یا اختیارات کے استعمال کے وقت شریعت کے مسلمہ اصولوں کی پابندی کرے گا انھوں نے کہا کہ ہر قاضی کا فرض ہو گا کہ وہ ہر مقدمے میں لازماًایک عالم دین کو عدالت میں طلب کرے تاکہ وہ مقدمے کی کاروائی دیکھنے کے ساتھ شریعت کی تشریح اور وضاحت کرے۔ان علمائے کرام کو معقول اور مناسب رقم بطور اعزازیہ دیا جائیگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مالاکنڈ کے عوام کی مشکلات کے پیش نظر علاقے میں پشاور ہائی کورٹ کا شرعی سرکٹ بنچ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔آئندہ سول جج مجسٹریٹ اور علاقہ قاضی کی ہر آسامی کے لیے کسی اسلامی یونیورسٹی یا مستند اسلامی درسگاہ سے ایل ایل بی شریعہ پاس کے مساوی اسلامی قوانین کی ڈگری حاصل کرنے والے شخص کو ترجیح دی جا ئے گی "(روزنامہ" جنگ" لاہور :17/جنوری 1999ء)

اخبار مذکورنے اس خبر پر یہ دو کالمی عنوان دیا:

"مالاکنڈاور کوہستان میں شریعت نافذ کر دی گئی ہے":۔

اس خبر پر ریڈیو تہران نے تحریک نفاذ شریعت مالاکنڈ کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے حوالے سے بایں عنوان "خالی نعروں سے مجھے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا"حسب ذیل تبصرہ کیا ہے۔

"مالاکنڈڈویژن اور ضلع کوہستان میں نئے قوانین صرف عدالتی نظام سے متعلق ہیں اور ان میں زندگی کے دیگر شعبوں کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے واضح ہو تا ہے کہ وہاں پر باقی سارا سسٹم بدستور پرانے طرز پر استواررہے گا ۔

اگرچہ حکومت کا دعوی ہے کہ اس سلسلے میں تحریک نفاذ شریعت کے امیر مولانا صوفی محمد سے مشورہ کیا گیا ہے اور نئے قانون کو ان کی تحریک کا اعتماد حاصل ہے تاہم مولانا صوفی محمد کا کہنا کہ صرف نعروں سے ان کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا اور وہ عملی اقدامات کے بعد ہی حکومت کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کریں گے نئے قانون میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں۔ جب کہ مولانا صوفی محمد موجودہ جمہوری نظام کو کفر قراردیتے ہیں۔ اور خدشہ ہے کہ وہ حکومت کے نئے قانون کو مسترد کردیں گے۔(اخباروتاریخ مذکور)

اس بیان کے دوہفتوں بعد دوبارہ ریڈیو تہران کے حوالے سے مولانا صوفی محمد کا بیان شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے حکومت سے اپنے مذاکرات کے نام ہو جانے کے بعد "شدید رد عمل اور طالبان جیسی تحریک"کی دھمکی دی ہے۔

" مالا کنڈڈویژن میں تحریک نفاذ شریعت محمدی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں ریڈیو تہران کا کہنا ہے کہ اب تحریک کے کارکنوں اور حکومت کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے31جنوری کو تیمرگرہ میں تحریک کے جلسہ عام کے دوران مولانا صوفی محمد حکومت کے خلاف تحریک کا اعلان بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ مالاکنڈ میں نفاذ شریعت نافذ کئے جانے کے بعد عدالتوں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ تمام فیصلے شریعت کے مطابق کریں گے تاہم مولانا صوفی محمد کو اعتراض ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اپیل کے حق کوبرقرار رکھنے کے بعد یہ پورا عمل غیر مؤثر ہو جا تا ہے ۔ تحریک کے سر براہ مولانا صوفی محمد موجودہ تمام ججوں کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ باریش اور جید علماء کو قاضی مقرر کرنے اور وکلاء کو عدالتی عمل سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز مذاکرات میں وہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے۔مولانا صوفی محمد نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان کی شرائط کو تسلیم نہ کیا تو وہ طالبان کی طرز پر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔(روزنامہ "جنگ"لاہور،ہفتہ 30/جنوری 1999ءص3)

تحریک نفاذ شریعت محمدی مالاکنڈکی داخلی پوزیشن سمجھ لینے کے بعد مناسب ہے کہ وسیع ترصورت میں عالم اسلام کی نفاذ شریعت کی کوششوں کا اجمالی تذکرہ بھی ہو جائے تاکہ اسی تناظر میں تحریک شریعت محمدی کا جائزہ لیا جا سکے۔

دنیائے اسلام میں شریعت کی عملداری کا ذکر عموماً 5/4ملکوں کے حوالے سے آتا ہے جن میں سے سعودی عرب جس میں مسلمانوں کے حرمین شریفین بھی بھی ہیں کا پہلا نمبر ہے سعودی عرب میں شریعت کی عملداری کے لیے کسی فرانسیسی یا انگلوسیکسن لازکی طرز پر مروجہ قانون سازی کے بغیر ہی کتاب وسنت کا نفاذ ہوا۔ اس کے تقریباً ایک صدی بعد تازہ ترین مثال افغانستان کی خانہ جنگی کے نتیجے میں طالبان کے ہاتھوں نفاذ اسلام ہے افغانستان میں بدامنی اور بے سکونی سے ستے ہوئے لوگوں کو طالبان کی نفاذ شریعت کی کوششوں سے سکھ اور امن وامان کا سانس ملا ہے۔ طالبان کا فقہی رویہ جو کچھ بھی ہو اس سے قطع نظر انھوں نے جدید قانون سازی کے بغیر ہی علماء کی سوجھ بوجھ کے مطابق سادہ انداز پر شریعت کا نفاذ کردیا ہے اور اس کا سربراہ ملا عمرامیر المومنین بھی کہلاتا ہے۔

سعودی عرب میں اگرچہ جدید علم سیاسیات کی روسے ملوکیت رائج ہے لیکن وہاں کا بادشاہ بھی خادم الحرمین الشریفین  کہلائے جانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا امام بھی کہلاتا ہے اور کبار علمائے کرام اور اساطین حکومت اس کی شرعی بیعت بھی کرتے ہیں مسلمانوں میں روایت کے انداز پر جہاں کہیں بنیادی طور پر شریعت کے نفاذ کا دعوی کیا جا تا ہے وہاں ملک کا سر براہ امیر المؤمنین کا لقب اختیار کرتا ہے مثلاً مراکش کا بادشاہ بھی مولانا اور المؤمنین کے القاب سے موسوم کیا جا تا ۔دوسری طرف ایران میں شہنشائیت کے خلاف تحریک کامیاب ہوئی تو آیت اللہ خمینی نے آیت اللہ اور امام کے القاب اختیار کیے بلکہ سر کاری نظام کو شریعت کے تابع رکھنے کے لیے آیت اللہ اور روح وغیرہ اصطلاحات سے شرعی عہدوں کا ایک معیار بھی مقرر کیا گیا ۔ تاہم ایران کے اندر شریعت کا انداز کی قانون سازی سے ہوا ہے جس کے لیے ایران نے پارلیمنٹ قائم کی اور دستور بھی تیار ہوا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایران کے دستور کی دفعہ 6میں یہ تصریح بھی کردی گئی ہے کہ ایران کا فقہی مذہب جعفری ہو گا پارلیمنٹ پر جعفری علماء کی ایک اعلیٰ اختیاراتی کونسل قائم کی گئی جس کے ذریعے شریعت کی بالادستی کادعوی کیا جا تا ہے چنانچہ اس کی صورت جو کچھ بھی ہو۔ایران میں دستور پارلیمنٹ کی موجودگی کے حوالے سے یہ کہنا درست ہو گا کہ ایران کا موجودہ نظام جدید موضوعہ دستور قوانین کی بنیاد پر بالواسطہ نفاذ شریعت (یہ تعبیر جعفریت)کا ہے۔پاکستان کی صورت حال بھی کچھ اس سے ملتی جلتی ہے۔ اگر چہ یہاں جعفریت یا حنفیت کے نعرے اتنے مقبول تو نہیں جس کی ایک وجہ سیاسی طور پر دونوں بلاکوں کی کشمکش بھی ہے تاہم یہ امر واضح ہے کہ پاکستان میں شریعت اسی طرح کی یا جزوی طور پر نافذ ہو سکتی ہے جب وہ موضوعہ قانون کی شکل پر ڈھال دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں شریعت کی بالا دستی کی ہر آواز شریعت ایکٹ ہو یا دستور کی پندرھویں ترمیم پارلیمنٹ کے ذریعے کسی ایکٹ کے نفاذ یا دستور کی مخصوص ترمیم کے ذریعے ہی ہورہی ہے چنانچہ پاکستان میں صورتحال بھی یہ ہے کہ دستور کی 15ویں ترمیم قومی اسمبلی (ایوان زیریں) سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے اگرچہ پاس ہو چکی ہے لیکن ہنوز سینٹ (ایوان بالا)میں اس اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے کے انتظار میں ہے۔جس کے درمیان کچھ مشکلات کی وجہ سے یہ ترمیم سینٹ سے گزرنے کی منتظر ہے۔

اندریں حالات پاکستان اور افغانستان کے درمیان متذکرہ بالانیم آزادعلاقہ پاٹا اس وقت ماضی کی طرح پھر معرکہ زاربئتا نظر آرہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مالا کنڈمیں پاٹا ریگولیشنز ختم ہونے کے بعد اس کی آزادقبائلی حیثیت ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے باشندگان کے مطالبہ کے مطابق مکمل طور پر بلاواسطہ شریعت کا نفاذ کر دیا جائے یا بالواسطہ شریعت کا بتدریج نفاذ کرنے کے لیے ہر شعبے کی قانون سازی کر کے آگے بڑھا جائے۔ پاکستانی حکومت کا موقف تو یہی بالواسطہ نفاذ شریعت ہے جب کہ تحریک شریعت محمدی کسی حد تک مقدم الذکربراہ راست نفاذ شریعت کے موقف کی حامل معلوم ہوتی ہے اگرچہ وہاں کی بعض دیگر جماعتوں نے ایک موقعہ پر مجبوری کے تحت کچھ موضوعہ قوانین کاچارٹر بھی پیش کیا تھا لیکن اسے اس وقت تسلیم نہ کیا گیا۔

17/جنوری1999ءکو صدارتی آرڈننیس کے تحت پاٹا ریگولیشنز کی جگہ پر صرف عدالتی نظام کی حد تک شرعی قوانین کا جو نفاذ عمل میں لا یا گیا ہے وہ معرض اختلاف بناہوا ہے۔تحریک نفاذ شریعت محمدی عدالتی نظام کی حد تک بھی اسے شریعت کا نظام ماننے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اس میں علماء کی حیثیت قاضی یا معاون قاضی نام رکھنے کے باوجود صرف مفتی کی یا عدالت کے معاون وکیل کی ہے قاضی کی نہیں۔ یعنی اسکا فیصلہ صرف ایک شرعی رائے ہے جو واجب التنفیذ نہیں ہو گا ۔

یہاں عدالتی نظام کا بھر پور تقابلی جائزہ لینے کا تو موقعہ نہیں لیکن موجودہ صورتحال کے مطابق یہ عدالتیں پاکستان کے عام عدالتی نظام کے تحت ہوں گی۔چنانچہ اگر پاکستان میں عدالتی طور پر شرعی نظام نافذ نہیں تو مالاکنڈ کا ماتحت عدالتی نظام شرعی کیسے ہوگا؟دوسری وجہ مذکورہ نیم آزاد قبائلی علاقوں میں انتظامیہ کی عدلیہ پردہ مخصوص بالادستی ہے جس کی روسے قائد تحریک شریعت محمدی مولانا صوفی محمد متذکرہ قاضی کورٹس پر کمشزوں کی برتری کا واویلا بھی کر رہے ہیں ۔

یہ چند نکات تحریک نفاذ شریعت محمدی کی داخلی اور بیرونی صورت حال واضح کرنے کے لیے پیش نظر رہیں جس سے اصل اختلافی نکات سامنے آرہے ہیں لیکن ایک بات خصوصی طور پر قابل توجہ ہے کہ دوسری طرف حکومت پاکستان نت نئے اقدامات سے پاکستان کے اندر عدالتی نظام کے سلسلہ میں بے اعتمادی کا شکار ہو کر فوجی عدالتوں کے قیام کی طرف بڑھ رہی ہے۔پہلے یہ صرف صوبہ سندھ کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر ایک علاقائی اقدام تھا جسے اب پورے پاکستان پر توسیع دے دی گئی ہے خواہ وہ دہشت گردی اور فرقہ بازی کے حوالے سے کیوں نہ ہو۔بہر صورت سابق صدارتی آرڈیننس میں حالیہ ترمیم کے ذریعے پاکستان بھر میں فوجی عدالتوں کا نظام ایک قابل التفات امر ہے جس کا کم از کم مفہوم یہ ہے کہ ایک طرف حکومت پاکستان کے موجودہ حالات کو عام عدالتی نظام کے ذریعے کنٹرول نہ کر سکنے کا اظہار کر رہی ہے تو دوسری طرف سپیڈی کورٹس کے ذریعے فوری نوعیت کے فیصلوں کی اہمیت کا بھی اعتارف کر رہی ہے۔ کاش کہ سر کاراینگلوسیکسن لازکے تحت مغرب سے در آمد شدہ عدالتی نظام سے جزوی یا کلی مارشل لاء کی طرف بڑھنے کا کھیل چھوڑ دے جو پاکستان میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے کھیلا جا رہا ہے اور پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے تحت  شریعت کا سادہ انداز سے نفاذ کا کا م شروع کرے جو دستور کی اختلافی شرعی ترامیم یا نام نہاد شریعت ایکٹ کا سانہیں بلکہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا بیج ڈال کر اسی کے شجر طیبہ کی پرورش کرانے کا ہے جسے ہم دوسرے الفاظ میں شریعت کا براہ راست نفاذ کہتے ہیں اس (؟)میں قرآن مجید کے دو مقامات پیش نظر رہیں ۔

﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ﴿٢٤﴾تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿٢٥﴾ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ "﴿٢٦﴾...(سورۃ ابراہیم :24تا26)

"کیا تونے اس پر خیال نہیں کیا اللہ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی سی بیان کی جس کی جڑ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں اپنے مالک کے حکم سے ہر موسم میں پھل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو مثالیں اس لیے بیان کرتا ہے کہ وہ سوچیں سمجھیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس پلید درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اس کا جماؤ ہی نہیں ۔"

دوسری جگہ ارشاد ہے۔

﴿الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ﴿٩١﴾ فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٩٢﴾ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٩٣﴾ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿٩٤﴾ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿٩٥﴾...(سورۃ الحجر:91تا95)

"جنہوں نے قرآن مجید کو ٹکڑے کر لیا تو قسم تیرے مالک کی ہم ان سب سے پرستش کریں گے ان کاموں کی جووہ کرتے تھے تو جو حکم تجھ کو ملا ہے اس کو کھول کر سنا دے اور مشرکوں کا کچھ خیال نہ کر ہم نے تیری طرف سے ٹھٹھا کرنے والوں کا کا م تمام کردیا"

قرآن مجید کی محولہ بالا آیات سے واضح ہے کہ شریعت کی ابتدا بیج بو کر تناور درخت کی اٹھان سے ہوتی ہے ۔کسی بنیادی جماؤ یا ٹھہراؤکے بغیر اوپر اوپر کی بیلوں سے نہیں ۔ یہ تو ناپاک کلموں کی مثال ہے جس کی صورت ہم نے یوں اختیار کی ہوئی ہے کہ کیکر کے درخت پر آم لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ اینگلوسیکسن لازکی صورت شرعی قوانین کا اجراء ایسی ہی کوشش ہے اسی طرح نفاذ شریعت ٹکڑوں کی صورت ٹاٹ میں مخمل کی پیوندی سے نہیں ہو تا بلکہ شریعت بیج ڈال اس کی آبیاری کرنے سے لائی جاسکتی ہے۔ یہی صورت تدریج مکمل نفاذ شریعت کی ہے۔

یہاں امر بھی واضح رہے کہ شریعت کے بالواسطہ نظام کی جو کوششیں ایران پاکستان میں آگے بڑھ رہی ہیں اس میں اگر ایران کی طرح علماء کی کلی بالا دستی قائم ہو جائے تو جدید سیاسیات کی روسے یہ تھیا کریسی کا نظام ہو گا اور اگر بالواسطہ نفاذ شریعت میں طبقہ علماء کی بالا دستی قائم نہ کی جائے تو شریعت کا نفاذ ممکن نہیں رہتا ۔ لہٰذا شریعت کا نفاذ تھیا کریسی کے بغیر اگر ممکن ہے تو وہ صرف براہ راست شریعت کی عملداری سے ہے کیونکہ اس صورت میں سرکاری مشینری میں ایک بڑی تعداد شریعت کے ماہرین کی شامل ہوگی علماء کا کوئی مخصوص طبقہ بالا دست نہ ہو گا۔

ہماری موجودہ بیورو کریسی سے خائف ہے کہ شریعت کے براہ راست نفاذ سے بھر پور طور پر شریعت کے ماہرین کی ضرورت بڑھ جائے گی اور وہ بیورو کریسی میں مؤثر عنصر کے طور پر شامل ہو جائیں گے۔ لیکن اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسے جدید دور میں اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر پیش کرنا ہے تو یہ پاکستان کی ضرورت ہے پاکستانی اساس اور نظر یہ تسلیم کرنے والوں کو ماہرین شریعت کی اہمیت ماننا ہی پڑے گی ۔ چنانچہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ یہاں کے نظام تعلیم میں میں شریعت کی جدید تقاضوں کے مطابق مہارت کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے۔ جو پاکستان بھر میں نظام تعلیم کی تبدیلی اور ذرائع ابلاغ کی اصلاح کا کا م بھی انجام دے ۔وماعلینا الا البلاغ۔