ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • فروری
1999
ادارہ
مالا کنڈڈویژن جس میں سوات دیر،بونیر چترال وغیرہ اضلاع شامل ہیں ان قبائلی علا قوں میں سے ہے جو سرحد کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ لہٰذا اسے "پاٹا"کہا جا تا ہے جو"پراونشل ایڈمنسٹریڈ ٹرائبل ایریا "کا مخفف ہے ان کے علاوہ مرکزی حکومت کے زیرانتظام سات ایجنسیاں باجوڑ مہمند اور کزئی ، کرم شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان میں نیز "فرنٹیئرریجن " کے نام سے وفاقی حکومت کے علاقے ہیں جو پشاور کوہاٹ بنو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشزوں کے ماتحت ہیں۔ یہ سب علاقے "فاٹا" کہلاتے ہیں جو "فیڈرل ایڈمنسٹرینڈٹرائبل ایریا" کا مخفف ہے۔
  • فروری
1999
منیر قمر
نماز میں سجدے میں جانے کی کیفیت
اونٹ کی مجموعی کیفیت اختیار کرنے کی ممانعت
رکوع وقومہ اور ان کے افکار سے فارغ ہو کر سجدہ کیا جا تا ہے جس کے لیے زمین پر پہلے ہاتھ پھر گھٹنے رکھنے کا طریقہ بھی مروج ہے اور پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھ رکھنے کا بھی۔ ان دونوں طریقوں میں سے از روئے دلیل کون ساقوی و صحیح تر ہے اس امر کا جائزہ لینے کے لیے دونوں کے دلائل کا جائز ہ لینا ضروری ہے۔
پہلے ہاتھ رکھنے کے دلائل:۔
پہلے زمین پر ہاتھ اور پھر گھٹنے رکھنے والوں کے دلائل ہیں۔
(1)التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ،ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،نسائی رحمۃ اللہ علیہ ،مشکل الآثاروشرح معانی الآثار ،دارمی رحمۃ اللہ علیہ ،دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ،بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ، محلی لابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ،شرح السنۃ للبغوی الإعتبار فى الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمى و مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرما یا۔"إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه"(1)
"تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔"
  • فروری
1999
نصیراحمد اختر
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں زراعت کو بہت اہمیت حاصل تھی بلکہ زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی تھی۔اس دور میں نہ  تو صنعت وحرفت اور تجارتی مراکز کاوہ عالم تھا جو آج ہے۔اور حکومتی بجٹ عشر وخراج ،فئی،غنیمت اور معدودے چند تجارتی محاصل سے مکمل کیاجاتا تھا۔عمومی معیشت کادارومدار زراعت پرتھا۔بعض فقہاء نے تو زراعت کو فرض کفایہ قرار دیا ہے۔(1)
اور خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد بھی ہے۔
" اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَبَايَا الأَرْضِ "(2)
"زمین کی تہہ میں رزق تلاش کرو"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زراعت کو نفع بخش عظیم مال قرار دیا۔ایک دفعہ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال ہوا:
" أي المال أفضل ؟
"زیادہ بہتر کونسا مال ہے؟تو ارشاد فرمایا:
"زرع زرعه صاحبه وأصلحه وأدّى حقّه يوم حصاده"(3)
"وہ زمین جس سے غلہ حاصل ہو،اس کامالک اسے قابل کاشت رکھے اور غلہ کے حصول پر اس کا فریضہ ادا کرے"
  • فروری
1999
مریم مدنی
(((ملک میں نفاذ شریعت کے حوالے سے بعض اسلام دشمن لابیوں کے پردہ کے بارے میں کیے جانے والے پروپیگنڈہ کے تناظر میں روزنامہ جنگ نے گذشتہ دنوں چند سوالات ترتیب دیے اور ادارہ محدث سے ان کی بابت شرعی رائے طلب کی۔ان سوالات کی نوعیت ان سے مختلف ہے۔جن میں شرعی رائے معلوم کرنے کا مقصد عموماً اس پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔بلکہ یہ سوالات اس مغرب ذدہ ذہن کی عکاسی کرتے ہیں جن سے بعض اوقات تو اسلام پر تنفیذ کے نئے دروازے کھولنا اور بعض اوقات صرف نظری بحث تک ہی کفایت کرنا مقصود ہوتاہے۔پردہ اور اسلامی ستر وحجاب کی حقیقت اور نوعیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔سوال صرف اس ایمانی غیرت وجذبے کاہے جس کی بنا پر مسلمان کے لیے اس صریح حکم اسلامی کی بجالائے بنا چارہ نہ رہے۔۔۔علاوہ ازیں ان سوالات کا زیادہ تر تعلق اصل موضوع کی بجائے دعوت دین کی حکمت عملی سے بھی ہے جس کو بجالانا دور جدید کے مخصوص تناظر میں ازحد ضروری بلکہ دینی تقاضاہے ۔اسی کے پیش نظر در ج ذیل جوابات دئے گئے ہیں۔(ادارہ)))
  • فروری
1999
ثریا بتول علوی
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
اس مضمون میں قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے ایمان افروز قرآنی طرز عمل کی بعض جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔مسلمانوں کی دین ودنیاکی کامیابی قرآن پرعمل کرنے سے ہی مشروط ہے۔گذشتہ ماہ جورمضان المبارک کامقدس اور بابرکت مہینہ تھا،قرآن کریم کی تلاوت اور قیام اللیل میں اُس کی سماعت کا خاص اہتمام کیاجاتاہےاور قرآن کے فیوض وبرکات سے (؟) وافر اٹھایا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ اسی طرح قرآنی احکام اور تعلیمات کو بھی حرز جان بنائے اور اس پر عمل کے تقاضے پورے کرے تاکہ ہم اللہ کے دیئے گئے وعدوں کے حق دار بن سکیں۔قرآن پر عمل بجالانے کی اسی ضرورت واہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ مقالہ شائع کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
  • فروری
1999
ڈاکٹر جابر دامانوی
آج امت مسلمہ ہر طرف مصائب ومشکلات کا شکار ہے ۔دشمن ان پر مسلط ہوچکا ہے۔ان کی خواتین کی عزت تک محفوظ نہیں رہی بلکہ انہیں برسرعام ننگا کرکے اجتماعی آبروریزی کا نشانہ بنایا جارہاہے۔نوجوان بوڑھوں اور معصوم بچوں تک قتل کیاجارہاہے۔کہیں یہی مسلمان آپس میں دست بہ گریبان ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں۔

یہ امت جو کبھی دنیا میں سربلند تھی اور اس کی ہیبت اور دبدبہ دشمن پر چھایا ہوا تھا اور ہر کوئی اس کی عظمت کامعترف تھا۔لیکن آہستہ آہستہ اس کی عظمت کا چراغ گل ہونے لگا۔دشمن کی دلوں سے اس کی ہیبت اور دبدبہ ختم ہوگیا۔اور اب یہ عالم ہوچکا ہے کہ یہ امت ہر طرف ذلیل وخوار ہورہی ہے بلکہ ذلت ان کامقدر بن چکی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ دنیامیں انتہائی کمزور اور غیر محفوظ بھی ہوچکی ہے۔اوردشمن کا ترنوالہ بن چکی ہے۔
  • فروری
1999
عبدالرشید عراقی
قادیانی تحریک سلطنت برطانیہ کی پیداوار ہے اور انگریزوں نے سلام اور اس کے بنیادی اصول و احکام کو مٹانے کے لیے مرزاغلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا جو ڈپٹی کمشز سیا لکوٹ کی کچہری میں ایک معمولی تنخواہ پر ملازم تھا اور اس نے سیالکوٹ میں 1864ءتا1868ءملازمت کی۔مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ:"اس نے ملازمت کے دوران سیالکوٹ میں پادری مسٹر ٹیلرایک اے سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ اس کے پاس عموماً آتا۔ اور دونوں اندر خانہ بات چیت کرتے۔ ٹیلر نے وطن جانے سے پہلے اس سے تخلیہ میں کئی ایک ملاقاتیں کیں۔ پھر اپنے ہم وطن ڈپٹی کمشز کے ہاں گیا اس سے کچھ کہا اور انگلستان چلا گیا ۔ ادھر مرزاغلام احمد قادیانی (؟)دے کر قادیان آگئے اس کے تھوڑے عرصہ بعد مذکورہ فرد ہندو ستان پہنچا ۔ اور ضروری رپورٹیں مرتب کیں۔ ان رپورٹوں کے فوراً بعد مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سلسلہ شروع کردیا"(تحریک ختم نبوت ص21)
  • فروری
1999
مکتوب مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ
المؤلف مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح
بنام مولانا عبدالغفار حسن حفظہ اللہ تعالیٰ
۔۔۔(دوسرا مکتوب)۔۔۔
ابو الحسن عبیداللہ الرحمانی
رانی پورہ مبارکپور،اعظم گڑھ،یوپی،الہند
عزیز مکرم ومحترم جناب مولانا عبدالغفار حسن صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ !
السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اُمید ہے آپ مع اہل وعیال ہر طرح بعافیت ہوں گے۔آپ کا اپنے کسی عزیز سے 21۔9۔1989ء کو املا کرایا گیا خط اور اس کے ساتھ آپ کی مرسلہ کتابیں(عظمت حدیث،معیاری خاتون،دین میں غلو،خطبہ نکاح کی تشریح) اکتوبر 1989ء میں مجھے مل گئی تھیں۔اور آپ کادوسراخط مرقومہ 1990ء۔3۔2۔کو اپنے قلم سے لکھا ہوا مع کتاب"عظمت حدیث" اپریل 1990ء کے شروع میں موصول ہواتھا۔
  • فروری
1999
حسن مدنی
ادارہ محدث بڑے حزن والم سے اپنےقارئین کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ جماعت اہل حدیث کے معروف عالم،مقرر،محقق اور اخلاص وتقویٰ کی حامل شخصیت  جناب مولانا قاری نعیم الحق نعیم صاحب 30 جنوری 99ء بروز ہفتہ،صبح 10 بجے ٹریفک کے ایک حادثے میں وفات پاگئے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون!
واقعات کے مطابق،آپ کو گوجرانوالہ  میں رہائش رکھنے کی وجہ سے روزانہ ٹرین پر لاہور سے تشریف لایا کرتے تھے۔ہفتہ کے روز اپنے ساتھی کے ہمراہ بذریعہ ریل کار لاہور پہنچنے پر اترتے ہوئے آپ کی چادر ٹرین کے پائیدان میں پھنس گئی۔ٹرین اپنے مختصر سٹاپ کی وجہ سے جلد ہی چل پڑی۔اجل کا فر فرشتہ آپہنچا تھا کہ مولانا ٹرین سے اپنا دامن چھڑا نہ سکے اور حادثے کا شکار ہوگئے جس سے آپ کے سر پر جان لیوا چوٹ آئی اور موقعہ پر ہی وفات پاگئے۔آپ کے ساتھی نے فوری طور پر اس حادثے کی اطلاع جناب حماد شاکرکودی،جنھوں نے شیخ الحدیث جناب حافظ ثناء اللہ مدنی کو فوراً مطلع کیا۔مولانا مدنی نے یہ افسوسناک  اطلاع ادارہ محدث کو دی۔آن کی آن میں یہ خبر لاہور شہر میں پھیل گئی۔