مولانا کیلانی کی شخصیت سےمحدث کےقارئین بخوبی تعارف رکھتےہیں ۔ گذشتہ شمارہ جات میں آپ کی شخصیت اورخدمات پرکافی مضمون  شائع ہوتے رہےہیں ۔ زیرِ نظر مضمون میں مولانا کے تفسیر قرآن پرکئے گئے کام کاجائزہ پیش کرنامقصود ہے۔ تفسیر قرآن کےحوالے سےوسیع علمی کام مولانا کیلانی ﷫  اپنی وفات سےقبل مکمل کرچکے تھے، جس کےکافی حصہ کی کتابت بھی ہوچکی  تھی ۔ آپ  کی وفات کےبعد فوری طورپر اس کی طباعت اورتکمیل ممکن نہ ہوسکی ۔ جہاں جہاں یہ تفسیر زیر تکمیل تھی ہووہاں  سےاسے حاصل کیاگیا اوریکجا کرنے کےبعد آپ کی اولاد نےاس کی طباعت کےسلسلے میں مشورہ کیا تو طے پایا کہ کتابت اوردیگر قدیم وسائل طباعت کی بجائے ظاہری ومعنوی طورپر اس تفسیر کومزید معیاری بنانے کو کوشش کی جائے ۔ اس کےلیے تفسیر قرآن پرکسی معروف مفسر سےنظرثانی کافیصلہ کیاگیا اوربعض کتابت شدہ حصے اورمسودہ کو جدید اورخوبصورت گمپوزنگ کےرنگ میں ڈھالنے کافیصلہ بھی طے پایا ۔

چنانچہ پاکستان کےنامور اوربزرگ عالم دین ،  مفسر قرآن جناب مولانا عبدہ الفلاح کوبھی یہ تفسیر دکھائی اورپڑھ کرسنائی گئی تاکہ وہ اس میں ضرور ی اضافہ یاتصحیح فرماسکیں۔ مولانا نےاپنی ضعیف العمری کےباوجود اس تفسیر کوسنا اوراس کی تائید فرمائی۔ بہرحال مولانا کیلانی کی وفات کےساتھ اس تفسیر کی اشاعت میں جو تعطل پیش آیا ، وہ جہاں اس میں تاخیر کاباعث بنا، وہاں کچھ ایسے خدشات بھی پیدا ہوئے کہ مفسر کےموجود نہ ہونے کی وجہ سے کوئی حصہ غلط طورپر پرشامل نہ ہو جائے یارہ نہ جائے ........

97؁ء کےآخر ی ایام کی بات ہےکہ اس تفسیر کی کمپیوٹر کمپوزنگ کاکام شروع  کیا گیا  اوررمضان 1419ھ تک مارکیٹ میں لانے کاپروگرام بنا ۔ اس ضمن میں مولانا کےبیٹے نجیب الرحمٰن کیلانی نےاس کام کی ذمہ داری سنبھالتےہوئے مولانا کےبڑے داماد مولانا عبدالوکیل علوی کو اس کی علمی تحقیق کےلیے اپنے ساتھ شامل کیا جبکہ کمپوزنگ کی ذمہ داری راقم نےاپنے خصوصی تعلق کےناطے قبول کی ۔ پروف ریڈنگ  کےلیے نجیب الرحمٰن کیلانی ہی ذمہ دار تھے ۔ اب جبکہ رمضان المبارک 1419ھ سرپرہے الحمدللہ تفسیر کےپہلے حصے کی طباعت مکمل ہونے کوہے اورامید  کی جاسکتی ہےکہ رمضان المبارک میں یہ تفسیر شائقین کےہاتھوں میں ہوگی ۔ مفسر مرحوم کی اچانک وفات کی بنا پربہت تشنہ تکمیل اور  تحقیق طلب امور رکاوٹ بنتے رہے لیکن نجیب الرحمٰن کیلانی ، مولانا علوی اورراقم الحروف کی باہمی مشاورت سےان کوجیسے تیسے حل کیا جاتا رہا ......... اللہ سےاستدعا ہےکہ وہ اس تفسیر کوکامل اوردرست ترین صورت میں پیش کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین !

تفسیر تیسیرالقرآن کاعرصہ تصنیف

تفسیر کےتعارف سےقبل مولانا کےتفسیری کام کی بابت بعض وضاحتیں ضروری معلوم ہوتی ہیں جن میں سے بعض سےراقم کو خصوصی نسبت بھی ہے......... 78؍ 1977ءسے جب مصنف نے خلافت وجمہوریت پرصدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب پیش کی ، 1990ء تک کا عرصہ وہ ہے جس میں آپ کی  متعدد تحقیقات اورتصنیفات منظر عام پر آئیں ۔ اس قدر تیزی سےپیش کیے جانے والے تحقیقی کام نے جس میں تحقیق کی گہرائی اورتحلیق کی گیرائی بھی ہے، اہل قلم اوراہل علم ہردوکوکافی متاثر کیا ۔

1979 ء سےپہلے کاعرصہ عموماً  وہ ہےجس میں مولانا کیلانی مرحوم عموما کتابت ِ قرآن کے مبارک پیشہ سےوابستہ رہے۔ کنگ فہد کمپلیکس سے طبع اورتقسیم ہونے والے قرآن کریم کوزیر نظر تفسیرمیں عربی متن کےطورپر استعمال کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے مفسر کویہ خصوصی امتیاز بھی حاصل ہےکہ تیسیرالقرآن کےنام سے پیش کی جانے والی اس تفسیر میں متن قرآن کی کتابت آپ نے کی ہے، ترجمہ بھی آپ کاہے اورتفسیر بھی ۔ یہ وہی قرآن کریم ہےجس کوجناب کیلانی نےمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کےقیام کےدوران بیت اللہ اورمسجد نبوی ﷺ میں بیٹھ کرلکھا تھا ۔ راقم کویاد ہےکہ 1978کےلگ بھگ جب میں نے حفظِ قرآن کی ابتداء کی تومولانا مرحوم نےبطورِ خاص اس نسخہ کواس  تعریف کےساتھ ہدیہ کیا کہ یہ میرا کتابت کیا ہوا خوبصورت ترین نسخہ ہے۔ اور پھر میں نے اس کتابت پرہی حفظ قرآن کیا ۔ بہرحال یہ تذکرہ خصوصی تعلق  کےطورپرمیرایادگاری سرمایہ ہے۔

 مولانا نے تفسیر قرآن پردراصل 3 مجموعے تیار کیے ہیں اور ان  کی تیاری میں جہاں 30سے 35 سال کاطویل عرصہ شامل ہے، وہاں ا س کی باقاعدہ تکمیل اورایک منظم تفسیرکی تشکیل بندی کا دورانیہ 1990سے مولانا کی وفات ( دسمبر 95 ء ) تک محیط ہے۔یہ وہ عرصہ ہےجس میں آپ نےتمام  دیگر علمی مصروفیات چھوڑ کراکثروقت صرف تفسیر قرآن پرہی صرف کیا ۔ اس عرصہ میں آپ کے بعض مقالات چند علمی جرائد مثلا محدث  ، منہاج اورفکرونظر وغیرہ میں شائع ہوت رہے لیکن چند ایک کےعلاوہ اکثر 1990 ء سےقبل لکھے گئے ہیں ۔

تفسیری کاموں کا تعارف

(1)تیسیر القرآن مختصر ، ناشر مکتبۃ السلام ، ریاض :

مولانا کےتین تفسیری  مجموعے ہیں ۔ سب سے پہلا مجموعہ تودراصل ان کی تالیف نہیں بلکہ علامہ وحید الزمان کی تفسیروحیدی کا انتخاب ہےجس میں کافی حک واضافہ کیا گیا ہے۔ یہ وہی تفسیر ہے ( جسے حاشیہ کہنا مناسب ہوگا )  جومولانا  کیلانی سےان کےچھوٹے بیٹے حافظ عتیق الرحمن کیلانی نےاپنے اشاعتی ادارے کےلیے تیار کرائی تھی (جبکہ  اس سے قبل وہ تفسیر وحیدی کوبھی مکتبۃ السلام کی طرف سےشائع کرچکے تھے ) ........... یہ  تفسیر ابھی طباعتی مراحل تھی کہ مولانا کیلانی کی وفات ہوگئی۔

مولانا کی وفات کےبعد حافظ عتیق الرحمٰن نےتفسیری وحیدی کےاس انتخاب کی اردو پرانی ہوجانے اورزبان میں بعض تبدیلیاں آجانے کی وجہ سے کچھ بہتری پیدا کرنے کی کوشش  کی ۔ اسی طرح بعض مقامات پرترتیب واضافہ کاسلسلہ شروع کیا ۔ یہ تصرف  وتغیر اس حد تک بڑھا کہ بالاآخر تفسیر وحید کاصرف نام ہی باقی رہ گیا اورموصوف نےدیگر متعدد تفاسیر سےاستفادہ کرتے ہوئے اورکافی نکات وتوجیہات کااضافہ کرتےہوئے ایک مستقل نئی تفسیر ترتیب دے ڈالی ۔

چنانچہ اولاً  تواس حاشیہ کی بنیاد مولانا کیلانی کی تحقیق اورذاتی تحریر نہ تھی بلکہ انتخاب کی حد تک مولانا کیلانی نےاس میں حصہ لیا تھا ۔ بعد ازاں حافظ عتیق الرحمن کےاس پرآزادانہ تصرف اوردیگر تفاسیر سےاخذ واستفادہ کی بنا پروہ انتخاب بھی اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہا ۔ یہی وجہ ہےکہ گذشتہ سال ریاض سےطبع ہونے والے اس حاشیہ پرمولانا عبدالرحمٰن کیلانی  یامولانا وحید الزمان ﷫ کی بجائے حافظ عتیق الرحمٰن کیلانی کانام ہے۔

اس تفسیر کی بات چلی ہےتو یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ اس  میں ترجمہ روایتی طورپر کسی پرانے عالم  کا نہیں  بلکہ مولانا کیلانی کاہی ہے جوبذاتِ خود ایک عظیم علمی کاوش ہے کیونکہ ترجمہ قرآن کےلیے علماء شدید احتیاط کااہتمام کرتےہیں اورگذشتہ صدی سےجماعت اہل حدیث کےکسی نامورعالم کا مکمل ترجمہ قرآن متعارف نہیں کرایا  گیا۔یہاں یہ وضاحت  بھی ضروری ہےکہ مولانا کےبیٹے نےاپنی مہم جو طبیعت اورجدت پسند مزاج کی بدولت اس ترجمہ میں بھی بعض تبدیلیاں کی ہیں ، جس کےبعد اس کی سوفیصد نسبت بھی مولانا کیلانی کی طرف  نہیں کی  جاسکتی ۔ آیا تبدیلیاں  مناسب ہیں اورانہوں نے ترجمہ کےحسن وخوبی اورحقیقت وتاثیر کونمایاں کیا ہےیانہیں ؟ اس کا فیصلہ علماء ہی بخوبی کرسکتےہیں ............. ان وجوہات کی بنا پر گذشتہ سال ریاض سےطبع ہونے والی اس تفسیر تیسیرالقرآن کےبارے میں  یہ کہا جاسکتا ہےکہ مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫  نےاس کی نسبت اعزازی اورمرحوم سے قریبی تعلق کی مظہر توہے،  لیکن امر واقعہ اس کی تائید نہیں کرتا ۔

(2)مولانا کی دوسری تفسیری کاوش قدرے ضخیم ہے۔ جس کی ضخامت مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی مختصر تفسیرثنائی ( دو جلد)  یا تفسیر ماجدی سےکچھ زیادہ ہے۔ یہ تفسیر 1994ء کے اواخر میں مکمل کردی گئی تھی ۔ میرے علم کی حد تک بعد میں اس پرکام نہیں  ہوا ہے۔ یہ تفسیر ابھی تک صرف مسودے کی شکل میں موجود ہےجس کو مفسر مرحوم نےبھی کتابت وغیرہ کےلیے نہیں دیا تھا ۔ راقم نے 3 برس قبل اس تفسیر کوکمپوٹر میں ٹائپ  توکروالیا تھا لیکن اس پرمزید کام آج تک نہیں کیا جا سکا ۔ مفسر مرحوم نےاپنی تفصیلی تفسیر کی کافی کتابت توخود کروائی تھی ، لیکن نامعلوم اس پرکوئی طباعتی یاتحقیقی کام کیوں نہ کروایا .......... جہاں تک اس بات کا تعلق ہےکہ یہ مختصر تفسیر دراصل تفصیلی تفسیر کااختصار ہے تومیرے خیال میں یہ درست نہیں کیونکہ اس مختصر تفسیر پرکام کرکے 1994 کےاواخر میں اس کوجلد بندی کےبعد محفوظ کرکے رکھ دیا گیا تھا جب کہ تفصیلی تفسیر میں بعض ایسے صفحات بھی دیکھنے کوملتے ہیں جومرحوم کی وفات سےصرف چند ماہ قبل تحریر کئے گئے ہیں ۔ تفصیلی تفسیر جس کی ممکنہ ضخامت 5 جلدیں ہیں ، میں اکثر مقامات پرمزید نکات اوربحوث کااضافہ  کیا گیا ہے۔  اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہےکہ یہ مختصر تفسیر ایک ہی مفسر کی کاوش ہونے کےناطے تفصیلی تفسیر سے بعض مماثلتیں  تو رکھتی  ہوگی لیکن واقعتاً اس میں دیگر اندازِ تفسیریامقصد ِ تالیف کےپیش نظر ہے۔ ممکن ہےکہ اس تفسیر کی بابت جلد کوئی اگلا مرحلہ پیش آئے۔

(3)  تفسیر تیسیرالقرآن مفصل ، ناشر مکتبہ السلام ، لاہور

یہ آپ کی تیسری تفسیر ہےجو اس مضمون میں ہمارے پیش نظر ہے۔جناب مفسر نے جس طرح اس کوپیش کیاہے اس سے عیاں ہوتاہےکہ آپ کےپیش نظر منہج سلف کےمطابق تفسیر بالماثور وتفسیر بالرائے کےحسین امتزاج سےایک ایسی تفسیر پیش کرنا ہےجس میں جدید پیش آمدہ مسائل پرعلم وسائنس کےارتقاء سےفائدہ اٹھاتے قرآنی موقف سلیس انداز میں پیش کیا جائے جس میں بعض جدید متنازع مسائل میں اجتہادی بصیرت کےساتھ قرآن سے راہنمائی بھی لی جائے ۔ راقم کی ناقص رائے میں یہ تفسیر اس خلا کوپرکرنے کےلیے لکھی گئی ہےجوہمیں تفاسیر کےسابقہ مجموعوں میں باین طورپرملتا ہے۔

٭ دورِ جدید میں منہج سلف کےمطابق جامع ومانع اورعقلی ونقلی دلائل سےمزین کوئی اردو تفسیر دستیا ب نہیں ۔

٭ بعض اعلیٰ اردو تفاسیر میں مفسرین کےمخصوص فکری رجحانات کی بنا پرقرآن کریم کا ایک سادہ ، واضح اور دوٹوک موقف دھندلارہا ہے۔

٭ جدید سائنسی دور کےاعتراضات اورسوالات پرراسخ العقیدہ اورحی الہی کےروشنی سے منور قرآنی تجزیہ کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔

مفسر کےمخصوص فکری رجحانات ومیلانات اورتفسیرہذا کامطالعہ کرنے کےبعد اندازہ ہوتا ہےکہ آپ نےان مقاصد کےپیش نظر اس تفسیر میں درج ذیل خصوصیات کااہتمام کیاہے:

مصنف  کی یہ تفسیر ، تفسیر بالماثور اورتفسیر بالرائے المقبول کاحسین امتزاج ہے

(1) تفسیر بالماثور اقوال اورافکار کوجمع کردیا جاتا ہے۔ اسرائیلیات کی بھر مارہوتی

ہے اور بیسیوں اقوال قاری کی جداگانہ مفہوم دے رہے ہوتےہیں جس سے ایک مفہوم کا تعین کرنا اورقرآن کے مدعا کاواضح ہونا بسااوقات مشکل ہوجاتاہے۔اسی طرح احادیث جوکہ تفسیر قرآن کی بنیاد ہیں، میں بعض اوقات صحیح وضعیف روایات میں امتیاز قائم رکھا جاتا ۔ اس بنا پر تفسیر بالماثور جوتفسیر کی اہم ترین بنیاد ہے، سےاستفادہ  بھی مشکل  ہوتا جارہا ہے۔ ان کثیر آراء وافکار میں سب صائب آرا کےچناؤ اوراحادیث وآثار میں سے صحیح احادیث کااہتمام کرنے کےلیے ذکاوت وفراست اورعلمی پختگی کی ضرورت ہے، اس کےساتھ  ایجازواختصار اورجامعیت کےلیے خصوصی تجربہ درکار ہے، مولانا مرحوم نےاللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کابطورِ خاص اہتمام کیاہے۔ چنانچہ اس تفسیر میں منتشر افکار میں سے چند قریب الصواب  آراء کوذکر کرکے ان کاعلمی تجزیہ بھی پیش کردیا گیا ہےجس سےقاری کسی واضح نتیجہ پرپہنچ جاتاہےاور کلام الہٰی میں دیگر امکانات کی طرف اشارے بھی  اس کومل جاتےہیں ........

زیرنظر تفسیر  کی بنیاد اس فکر پرقائم ہےکہ مؤلف مرحوم تفسیر بالحدیث کاایک منتخب نمونہ پیش کرنا چاہتے تھے جس کےلیے 30 برس قبل اپنی بڑی بیٹی کوانہوں نے ایسی صحیح احادیث کےانتخاب کاکام  سونپ رکھا تھا جس کی بناپر تفسیر مبارک کام سرانجام دیا جاسکے۔ اس بنا پرتفسیر میں وسیع ذخیرہ حدیث کوشامل کیا گیا ہے۔ دورِ حاضر میں صحیح وضعیف  احادیث کی بابت اُمت میں خصوصی ذوق پھیل جانے اورخود مصنف کےاس کاخاص اہتما م کرنے کی بدولت اس تفسیر میں احادیث کی صحت کابھی بقدرِ امکان التزام کیا گیا ہے۔

(2)  تفسیر قرآن  کادوسرا بڑا حصہ تفسیر بالرائے پرمشتمل ہے۔ جس میں احادیث

وآثار کےعظیم ذخیرہ کی  بجائے زیادہ اعتماد مفسر  اپنی عقل ودانش پرکرتا ہے۔اس طرح تفسیر قرآن کےنام پر فلسفے اورافکار ِ منحرفہ کابہت بڑا مجموعہ سابقہ تفاسیر میں ملتا ہے۔ فرضی سوالات وامکانات اورا ن کی عقلی توجیہات قاری کےقرآن کےچشمہ صافی سےسیدھے سادے استفادے کی خواہش کرپریشان کرکے رکھ دیتی ہیں ۔ اس بنا پر سلف نےعموماً  اس طریق تفسیر کوناپسند کیا بلکہ ناجائز تک قرار دیا ہے...... اس طرزِتفسیر پربے شمار مفسرین نےاپنے ذاتی افکار اورکسی خصوصی مناسبت سےنشوونما باجانے والے اپنے خیالات  کوقرآن کےنام سےاگلنے کےجسارت بھی کی ہے۔ اس بنا پرآج بہت سی تفاسیر اگر فن کے نام دھبہ ہیں تودوسری طرف کافی تفاسیر میں مرادِ الہٰی  کی جستجوکی بجائے من مانی تاویلات دیکھنے میں آتی ہیں ۔ عقل ورائے اورفکر وفلسفہ کی بنا پر لکھی جانے والی تفاسیر کایہی المیہ ہےکہ انہیں وہ فکری بنیاد پرکسوٹی میسر نہیں جس سے تفسیر میں افراط وتفریط سےبچ سکیں اوردو ٹوک ومتفقہ موقف پیش کر سکیں ........ بعض دیگر تفاسیر وہ بھی ہیں جن میں جامعیت وعلمیت کےنام پران بےشمار علوم کوسمود یا گیا ہے جوقرآن کی تفسیر کےلیے جزوی فائدہ تورکھتےہیں لیکن کل کا مقام انہیں قطعاً حاصل نہیں ۔ ایسی تفاسیر کےبارے میں ہی علماء نےکہا ہےکہ’’ان میں تفسیر قرآن کےماسوا سب کچھ ہے،، .....................

یہ سب تفاسیر جہاں امت کےقرآن سےخصوصی تعلق واہتمام کی آئینہ وار ہیں وہاں مختلف زایوں سے مفہوم قرآن کااحاطہ بھی کرتی ہیں جن کی اہمیت سےانکار ممکن نہیں لیکن بہرحال اردو زبان میں ایک ایسی تفسیر کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی ہےجس میں قرآن وسنت اورصحابہ وتابعین اورائمہ سلف کی آراء کےمطالعے کےنتیجے میں نشوونما پانے والی عقلی وفکری توجیہات بھی پیش کی جاتیں جو اختصار کےساتھ ساتھ جدید عقلی ارتقاء کےنتیجے میں نشوونما پذیر ہونے والی انسانی عقل کوبھی اسی کے ڈھنک میں مطمئن کرسکتیں ۔ اس بنا پر زیر نظر تفسیر میں جہاں وحی الہٰی پرمبنی  بحثیں جزوی تفصیلات کے ساتھ پیش کردی گئی ہیں وہاں دورِ حاضر میں ان کااطلاق بھی نمایا کردیا ہے۔ اس طرح اختصار کے ساتھ سابقہ تفاسیر میں موجود فاسد افکار پرتنقید بھی موجود ہے۔علوم قرآنی سےاستفادہ کیا گیا ہےاور جدید  نظریہ ہائے تفسیر قرآن کےدرست اجزاء کوشامل کیا گیا ہے۔

(3) قرآن کاتیسرا حصہ آیاتِ احکام پرمشتمل ہے۔ قرآن کریم بہت سےاحکام

اوران کے اصو ل ودائرہ کار کوقائم کرتا اوربنیادی ہدایات فراہم کرتاہے۔ دورِ جدید میں معاشرتی ارتقاء کےبعد پیدا ہونے والے نئے سوالات کےحل میں ان احکام کاانطباق اوران کی درست توجیہ اورحد بندیاں قائم کرنا ایک مہارت طلب کام ہےجس کےلیے علمی دِقت کےساتھ ساتھ مجتہدانہ بصیرت کی بھی ضرورت ہے.......  

مفسر مرحوم کم وبیش 15 سال کا طویل  عرصہ دارالافتاء سےمنسلک رہنے اوردقیق علمی مسائل پراپنی جاندار تحقیقات پیش کرنے اورعلم وتدریس سےخصوصی لگاؤ وشغف رکھنے کےباعث  نمایاں امتیاز رکھتےہیں ۔ اس حوالے سے احکام ومسائل کےضمن میں اس تفسیر میں صرف اُصولی مباحث کی وضاحت پراکتفاکی بجائے کافی وسست سےان مسائل کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اوراکثر مقامات پراپنی تالیف کردہ کتب اورمقالات کاخلاصہ پیش کرکے جزوی تفصیلات کےلیے کتاب کی طرف رہنمائی کرجاتےہیں ۔

اس بنا پر قرآن میں ذکر ہونے والی آیات سےاصولی استشہاد کرتے ہوئے دورِ جدید کےتناظر میں ان کی جزئیات اوردائرہ کار کوپیش کرنے کی سعی کرتےہیں ۔

(4) مولانا علم وتحقیق کےمیدان کےشاہ سوار تھے ، تحقیق سےخصوصی شغف

رکھتے تھے، علماء کےخوشہ چین اوران کےاحترام فراواں کےباوجود دینی ادب کےبایں طورناقد بھی تھے کہ اس میں عموماً علماء کےلیے ہی راہنمائی پائی جاتی ہےکیونکہ اس میں لب ولہجہ اورایسا زبان وبیان استعمال کیاگیا ہے جس سے عوام بآسانی فائدہ اٹھا سکتے، دلائل واصول کی تعمیر میں بھی عالمانہ رنگ غالب ہوتا اور اصطلاحات کی کثرت ہوتی ہے۔ تفصیلات میں تقدس وپاکیزگی اورنظری مباحث کااہتمام کرتےہوئے عملی توجیہات سےاکثر صرفِ نظر کردیا جاتاہے۔ علاوہ ازیں دور زوال کےعلماء میں بالخصوص دیگر  معاصر افکار کےبارے میں جانبداری اورتحفظات کےعنصر کےعلاوہ ان کی جائز افادیت کوبھی قبول نہیں کیا جاتا ۔ اسی طرح تنقید لب ولہجہ میں متانت واعتدال  ہاتھ  سےچھوٹ جاتےہیں ۔

اس بنا پر علمی وتحقیقی  مباحث کامطالعہ کرنا عام قاری قرآن کےلیے مشکل ثابت ہوتاہےجواپنی دِقتِ کےباعث پہلے ہی کافی ثقیل ہوتی  ہیں اور وہ صرف سطحی معلومات تک ہی مستفید ہوپاتےہیں ۔ ان امور پرناقدانہ رائے رکھتے ہوئے مولانا کاتفسیری اسلوب نہایت  سلیس ، سادہ اورآسان ہے۔ دقیق مسائل میں نکات واربحث کرنے اورواضح گنجائش موقف اپنانےکی کوشش کی گئی ہے۔ تنقید وتجزیہ میں فکری اعتدال اورمدِ مقابل سےجائز استفادہ کی گنجائش  جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ ہربحث پرمرکزی خیال وعنوان بندی کی  گئی ہ ے۔ آخر میں تمام مباحث کاجامع انڈکس بھی دے دیا گیا ہے............ اس بنا پریہ کہا جاسکتا ہےکہ یہ تفسیر مخاطب کومدنظر رکھ  کر اس طرح لکھی گئی ہے کہ علماء کےساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ اوردین سےشغف رکھنے والے بھی اس سےفائدہ اٹھا سکیں ۔

(5) تفسیر قرآن کےباب میں اوراحکام ومسائل کےاستنباط میں مختلف رُجخانات

ومناہج پائے جاتےہیں ۔ ائمہ سلف جن کی اکثریت قرونِ اولیٰ سےتعلق رکھتی ہے، تفسیر قرآن  کےضمن میں ایک مخصوص مہنج وطریق استدلال رکھتےہیں جو بالاختصار یوں ہےکہ تفسیر قرآن میں قرآن کےساتھ حدیث سب سے اہم ذریعہ تفسیر ہےکیونکہ قرآن کریم کوجس حیاتِ طیبہ کےسانچے میں نازل کیاگیا، اس کی تشریحات، زندگی کےاُتار چڑھاؤ اور تبصرے حدیث نبوی ﷺ کےاصل الاصول ہونےکےبعد اس میں صحالہ کرام کےاقوال وآراء کوبنی اکرم ﷺ سےاستفادے کےغالب امکان کی بنا پرنمایاں اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح لغت، تاریخ ، اسرائیلیات اوردیگر قرآنی علوم کی باری آتی ہے۔ قرآن اورحدیث وآثار کےسرچشموں سے ہی دورِ جدید میں مسائل کی نئی صورت گری ممکن ہےاوران کی اسلامی توجیہ  پیش کی جاسکتی ہے۔ ائمہ سلف کی توجیہات اورآراء امت کاعظیم سرمایہ ہیں جن سب سےبیک وقت استفادہ بہت سےمسائل کی گتھیان سلجھانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح امرواقعہ یہ ہےکہ کسی رائے کواز خود متعین کرنے کےبعد قرآن سے اس کی دلیل گھڑ لینا اُمت کی گمراہی کاعظیم سبب  اورقرآن کےطرزِ استدلال کوسمجھنے اوراس پرملخصانہ غور کرکے حدیث کےقیمتی سرمائے کی روشنی میں تفسیر قرآن کی کوشش کی جائے جس کو ذاتی مناسبتوں اور دلچسپیوں سےقطعاً آلودہ نہ کیاجائے .........  علماء نےتفسیر قرآں کےلیے بیسیوں علوم گنوائے ہیں جن میں مہارت ضروری ہے ۔ اگرکوئی شخص فقط ذہانت وعبقریب کےبل بوتے پرتفسیر کرنےبیٹھے توعلوم  ومعرفت کےاس بحربیکراں کی تفسیر وتشریح صواب کی بنسبت غلطیوں  کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔

مفسر مرحوم نےاس تفسیر قرآن کوعمر عزیز کےآخری 5 برس میں مکمل کیاہےجس سے قبل آپ بیسیوں تصانیف اورسینکڑوں مقالات تحریر فرماچکے تھے ۔ ان تصانیف میں جہاں لغتِ قرآن پریگانہ روز گار تحقیقی کام متراداف القر آن  کےنام سےموجودہ ہیں  ۔ اعتماد بالحدیث کےجذبے سےسرشار مؤلف، جدید دور میں فتنہ انکارِ حدیث کےشبہات کےتفصیلی رد کے موضوع پرچھ حصوں پرمشتمل عظیم تحقیقی کام بعنوان’’آئینہ  پرویزیت ،، بھی پیش کرچکےہیں ۔ اصولِ فقہ میں الموافقات جیسی قیمتی کتاب کااردو ترجمہ اورمتعدد عربی کتب کےتراجم کرچکےہیں ۔ گذشتہ 20 بر س کےعرصے میں علمی وتحقیقی مجلّات  میں دقیق اوراُچھوتے موضوعات پرآپ کےمقالات بکثرت ملتےہیں ۔ ان تصانیف میں اور زیر  نظر تفسیر میں بھی الحمدللہ مصنف نےاسی سلفی منہج اورطرزِ استدلال کی پیروی کی ہے۔

آپ کی سابقہ تصنیفات  اس امر پرشاہد ہیں کہ ان میں ایسے امور پرمباحث موجود ہیں جن کی امت کوضرورت ہے۔ اس بنا پریہ امید کی جاسکتی ہےکہ مولانا کیلانی کی زیرنظر تفسیری کاوش بھی تفسیری مجموعے میں فقط ایک اضافہ ہی ثابت نہیں ہوگی بلکہ دورِ حاضر میں جن قرآنی راہنمائی کی امت مسلمہ کوضرورت ہے۔ اس  کی کمی بھی پوری کرےگی ۔ ان شاء اللہ !

خوبصورت کمپوزنگ ، دیدہ زیب طباعت اورپائیدار مجلد میں ظاہری و معنوی خوبیوں سے آراستہ یہ تفسیر ان شاء اللہ رمضان المبارک میں منظر عام پرآرہی ہےجس کےلیےشائقین تیاری فرمالیں ۔اللہ تعالیٰ مفسر مرحوم کی اس عظیم کاوش کوقبول فرمائے، ان کی بلندی درجات کاسبب بنائےاورمرحوم کی لغزشوں کومعاف فرمائے ........ آمین !