پاکستان ، دنیا کی عظیم ترین اسلامی مملکت کےطورپر 1947ء کونقشہ عالم پرنمودار ہوئی آج پاکستان کوعروس آزادی سےہمکنار ہوئے 51 برس بیت چکے ہیں ۔ترقی اورعروج حاصل کرنے کے لیے اوراپنی منزل مراد تک پہنچے کےلیے نصف صدی کاعرصہ بہت ہوتا ہےمگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اہل پاکستان آزادی کی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہیں کرسکے ۔ صرف 25 برس بعد مملک خداداد کا آدھا بازو کاٹ کربنگلہ دیش کانیا ملک وجود میں آگیا مگر ہمارا احساس زیاں پھر بھی بیدار ہوا ۔ اسلام کےنام پروجود میں آنے والی مملکت میں اسلامی شریعت ہی کا نفاذ نہ ہوسکا ۔ اور آج تک مختلف حیلے بہانوں سےیہ کام پس پشت ڈالا جاتا رہا ۔ 

اسلام کےنام پروجود  میں آنے والی مملکت میں مسائل کاانبار

مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہےکہ یہ پاکستان معاشی میدان میں بھی انتہائی پسماندہ رہ گیا ۔ جاگیرداروں ، وڈیروں اورافسرشاہی نےملک پرقبضہ جما رکھا ہے۔ان کی خاطر ملک میں بڑی گاڑیوں ، ایئرکنڈیشنوں اورعالیشان کوٹھیوں کی بہتات ہے۔ ان کےمحلات غیرملکی اشیاء سے بھرے پڑےہیں ۔ملک میں ظلم وجور اورلاقانونیت کادور دورہ ہے،امن امان کی کیفیت وگرگوں ہے۔ چاروں طرف سے صوبائیت اورلسانیت کےتعصبات بڑھتے ہی جاتےہیں ، تعلیمی معیاربھی زوال وانحطاط کاشکار ہے۔ملک کی عظیم اکثریت یعنی کسان ، ہاری اورمزارع کس مپرسی اوربیچارگی کاشکار ہیں ، مزدور اورتنخواہ دارطبقہ بھی معاشی مسائل کےگرداب میں پھنسا ہواہے۔ کرپشن اورمالی بد عنوانیاں وطن عزیز میں عروج پرہیں ۔ ذخیرہ اندوزی ،سمگلنگ ، منشیات فروش،ناجائز ، منافع خوری ، رشوت ستانی اورسود خوری جیسی بڑی بڑی وبائیں زرووں پرہیں ۔ ان سب پرمستزاد بڑھتی ہوئی مہنگائی اورسوئی گیس ، فون اوربجلی کےگراں بلوں نےعوام کی کمر توڑ کررکھ دی ہے۔ رشوت کااتنا زور ہےکہ غریب کوانصاف ملنا ناممکن ہوگیا ہے۔سمگلنگ اتنے زوروں پرہےکہ ملکی ضروریات کا تقریباً آدھا حصہ سمگلنگ کےذریعے ملک میں آرہا ہےاور ہرطرف باڑہ مارکیٹیں کھلی ہیں ۔منشیات کےکاروبار نےنوجوان نسل کو معذوراوراپاہج بنا کررکھ دیا ہے، تاجروں نےناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سےمتوسط طبقہ کی زندگی اجیران کردی ہے۔ کم ناپ تول اورملاوٹ معاشرہ کا رستاہواناسوربن کررہ گئے ہیں ۔سود ہرشعبہ زندگی میں جار ی وسار ی ہے۔ پاکستان کی اسلامی مملکت میں سود کوختم کرنا تودرکنار خود حکومت سود کوبرقرار رکھنے کےلیے سپریم کورٹ میں رٹ دائرکردیتی ہےاور واپس لینے کانام نہیں لیتی ۔

مذکورہ بالا تمام حالات یا دو شخصوں کےپیدا کردہ نہیں ہیں ، نہ ہی  ایک دودن کےاندروجود میں آئے ہیں بلکہ عرصہ دراز سےمن حیث القوم غلامانہ روش اختیار کرنے کا نتیجہ ہیں ۔ یہ بات تواظہر من الشمس ہےکہ سیاسی آزادی ، ذہنی ومعاشی آزادی کےبغیر بغیربےمصرف ہوتی ہے۔ 

بدقسمتی سےپاکستان کےبیشتر قائدین مغربی یونیورسٹیوں کےتعلیم یافتہ تھے اوران کےتہذیب وتمدن کےدلدادہ ۔ اسی طرح ہماری بیورو کریسی بھی اسی انداز سےکام کرتی رہی ۔ جس کی ٹریننگ انگریزو ں  نےاپنی حکومت چلانے کےلیے ان کودی  تھی۔یہی وجہ ہےکہ اہل مغرب ہی کی طرح یہ لوگ دین کوایک فرد کاذاتی مسئلہ سمجھنے لگے اورسیاست ، معیشت ، معاشرت اورزندگی کےتمام شعبوں کو مذہب کی گرفت سےآزاد رکھنا چاہتےتھے ۔ دراصل مغربی تعلیم کاخاصا ہی یہی ہےکہ وہ دین اوردنیا کی تقریق پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی زندگیوں میں پایا جانے قول وعمل کا تضاد اسی دنیا و دین کی تقریق کانتیجہ ہے۔

علاوہ ازیں ہم فنی مہارت میں بھی کمزور ہیں ۔ سائنس اورٹیکنالوجی میں کمزور ہونے کےسبب اپنے آپ کو امریکہ اوردیگر مالی اداروں سےوابستہ رہنے پرمجبور پاتےہیں ۔امریکہ ، عالمی سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کرتےہیں ۔بعض اوقات تواس امدا د شرائط  بہت بہ رسوا کن اور ہمارے ملی وقومی مفاد کےخلاف ہوتی ہیں ۔ پھر اس مداد کےاساتھ جوغیر ملکی ماہرین  اورسائنسدانوں کی ٹیمیں آتی  ہیں ۔ وہ ایک طرف مسلمانوں میں الحاد، لادینی ، فحاشی ، بے راہ روی اورعریانی پھیلاتےہیں اوردوسری طرف گرانقدر مشاہرے وصول کرتےاور ہمارے خزانہ پربہت بڑا باربنتے ہیں ۔اسی طرح ہمیں اپنی ترقیاتی سکیموں کےلیے قرضہ یاان سےخریدی گئی مشینری کےثمرات کابہت حقیر حصہ وصول ہوتاہے اور اصل فائدہ ان میں بھی انہی کوحاصل ہوتاہے۔یاپھر  ہمارے حکمران کمیشن وصول کرکے اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں اور رہ گئے پاکستانی عوام تووہ ہاتھ اٹھا کردعا کرتےہیں: یااللہ ! ہمیں ان غیر  ملکی قرضوں اورسود کےبڑھتےہوئے ناسور سےنجات عطافرما۔ 

قرضہ ....... اسراف کےبارےمیں اسلامی ہدایات 

ہم اللہ کےفضل وکرم سےمسلمان ہیں ۔ ہمارے تمام مسائل کا مکمل اورصحیح حل اللہ اور اس کےرسول ﷺ کی اطاعت میں موجود ہے۔ معاشی میدان میں اسلام کی تعلیم یہی ہےکہ صرف اللہ سےسوال کرو، بندوں کی دینے والے بنو، لینے والے نہ بنو، آنحضرت ﷺ کاارشاد ہےکہ ’’الیدالعلیا خیرمن الید السفلی  ،، کہ دینے والا ہاتھ ، لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔اسی طرح اسلام نےکسبِ حلال کوبہت بڑا فریضہ قرار دیا ہے۔ محنت کرنے کی بہت تلقین کی ہےاور پھر اپنے چادر کےمطابق پاؤں پھیلانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ فضول خرچی اوراسراف سےکام لینے والوں کو شیطان کابھائی قرار دیا ہے۔ ہمارے ہادی برحق نےہمیں باقاعدہ یہ دعا سکھلائی ’’ اللهم اكفنا بحلالك عن حرامك واغننا بفضلك عمن سواك ،، ( کہ اےاللہ ہمیں رزق حلال  عطا فرما، حرام سےمحفوظ رکھ ۔ اوراپنے فضل وکرم سےہمیں دوسروں سےبےنیاز کردے) اسی طرح آپ نےجملہ اقتصادی برائیوں کی بھی  بیخ کنی فرمائی ، اور دنیا میں ان سےپیدا ہونے والے برنتائج سے آگاہ فرمایا۔مثلا آپ ﷺ کااشاد ہےکہ’’ناپ تول میں کمی کرنے سےقحط اورگرانی  کاعذاب مسلط ہوتاہے،، نیز آپ نےفرمایا کہ ’’ رشوت ،، ستانی کےفروغ سےاللہ دشمن کا خوف مسلط کردیتا ہے،، ۔ 

اللہ تعالیٰ نےسورہ فرقان میں اپنے پیارے بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا ﴾ کہ اللہ تعالیٰ کےپیارے بندے خرچ کرتےوقت نہ فضول خرچی کرتےہیں اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔بلکہ اعتدال سے کا لیتے ہیں ۔کہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔﴿ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ﴾ ،،  آپ فضول  خرچی مت کریں کہ فضول خرچی کرنےوالے شیطان کےبھائی ہوتےیھ ۔جب کہ شیطان اللہ تعالیٰ کا سخت ناشکرا ہے،،۔ (سورہ بنی اسرائیل ) 

نبی پاک ﷺ نےمیانہ روی سےخرچ کرنے اوراپنی چادر کےمطابق پاؤں پھیلانے کی تاکید کرتےہوئے فرمائی ’’ ماعال من اقتصد ،، ( جس نےمیانہ روی سےکام لیا ، وہ محتاج نہیں ہوا ۔ ) 

غرض قرضہ لینے کی نوبت تب ہی پیش آتی ہےجب انسان اپنی آمدنی اوروسائل سےزیادہ خرچ کرتا ہے لہذا دین اسلام نےتوازن اوراعتدال کومعیشت کی بنیاد ٹھہرایا ہے۔ اسی تعلیم کےزیر اثرہجرت کےبعد مدینہ میں مسلمانوں کےجو پہلی اسلامی مملکت قائم ہوئی ، مفلس اورتنگ دست  ہونے کےباوجود اس نے نےکسی سےقرضہ نہ مانگا۔عند نبوی ﷺ ہویا بعد کادور کبھی بھی  تاریخ اسلام میں ایسا واقعہ پیش نہ آیا کہ مسلم حکومتوں نےغیروں سےقرض لیا ہو۔ یہ مسلمان حکمرانوں کا پہلا اور بنیادی فرض ہےکہ وہ مسلمانوں کےخزانے یعنی بیت المال کوپوری احتیاط اوردیانتداری سے استعمال کرتےوقت ہوئے رعایا کوتمام بنیادی ضرورت مہیا کریں ۔ نہ  تو غیرشرعی مدوں سے، ظلم و زیادتی سےخزانے بھرنے کی کوشش کریں اورنہ اسے غیرشرعی طریقے سے خرچ کریں ۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق   کواپنی رعایا کی اتنی فکر ہوا کرتی تھی کہ فرمایا کرتےتھے ،، اگردریائے فرات کےکنارے (جومدینہ سےکافی دور تھا ) بکری کاایک بچہ بھی بھوکا مرگیا توعمر روز قیامت اللہ کوکیا جواب  دے گا،،تمام خلفائے راشدین اوربعد کےبھی تمام خدا ترس مسلمان حکمران سید القوم خادمھم کےفرمان بنوی ﷺ کےتحت ذاتی زندگی بڑی سادگی سےبسر کرتےاور رعایا کی تمام ضروریات کی مکمل نگہداشت کرتے ۔ وہ اپنی رعایا کےحالات سےباخبر رہنے کےلیے رات کوبھیس بدل کرگشت کیا کرتےتھے ۔ حضرت عمر  تواپنی پشت پرگندم کی بوریاں لادلاد کرضرورت مندوں تک پہنچایا کرتے تھے ۔ حضرت عمربن عبدالعزیز﷫  ایک دفعہ سرکاری کام کررہے تھے کہ آپ کابیٹا آیا اور آپ سےبات چیت کرنےلگا ۔ آپ نے اسی وقت ایک چراغ بجھادیا اوردوسرا جلا لیا ۔ بیٹے نےوجہ پوچھی تو بتایا کہ پہلا بیت المال کاچراع تھا جب ہم آپس میں ذاتی بات چیت کرنے لگے تومیں نے وہ بجھا کر ذاتی چراغ جلا لیا ۔ 

حضرت عمر فاروقﷺ اپنی حاکموں میں اسی سادگی اوراحساس ذمہ داری کوپیدا کرنے کے لیے ان سےبوقت تقررباتوں کاعہد لیا کرتےتھے (1) نمازپابندی سےادا کریں گے۔ 

(2) چھنا ہوا آٹا نہیں گھائیں گے۔ 

(3) ترکی کھوڑے پرسوار نہ ہوں گے ۔ 

(4) ریشمی کپڑے نہیں پہنیں گےاور ( 5) چوکیداریا وربان مقرر نہیں کریں گے ۔

اسلام کی اسی مثالی تعلیم  وتربیت کایہ نتیجہ تھاکہ تاریخ کےبیشتر ادوار میں مسلمان بہت خوشحالی اورمالی طورپر مضبوط ومستحکم رہے۔ زکوۃ اورصدقات وخیرات دینے والے ڈھونڈھتے تھے ۔

مگران کولینے والے نہ ملتے تھے اوراگر کوئی زیادہ زکوۃ قبول کرلیتا توباقاعدہ اس کا شکریہ ادا کرتے تھے ۔ ویسے بھی بات قابل غور ہے۔ اللہ اوررسول ﷺ کےنام لیوا توسوائے  اللہ کے، کسی کےسامنے دست سوال دراز نہیں کرسکتے ۔ اسلامی غیرت وحمیت  کاتقاضا بھی یہی ہے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کو سودی لین دین سےبھی سختی سے منع کیا گیا ہے انسان ایک بار سود پرقرضہ لےلے تووہ زندگی بھر قرض کےجال سےباہر نہیں نکل سکتا ۔

جناح کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے قیام پاکستان کےفوری بعد معاشی صورتحال کا نقشہ 

ہم اس سلسلے میں بانی پاکستان محمد علی جناح کےقول وفعل کاحوالہ دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔قیام پاکستان سےقبل ایک برطانوی مصنف نکار نےقائداعظم سےپوچھا : کیا پاکستان کےتحت مسلمانوں کےاورزیادہ غریب ہونے کاامکان نہیں ہے؟ توآپ نےجواب دیا : دیا آپ جرمنی کےتحت امیر انگستان کوپسند کریں گےیا ایک غریب مگر آزاد انگستان کو، ہم جس مقصد کےلیے پاکستان بنارہے ہیں وہ  عظیم نصب العین ذاتی آسائش یاعارضی آرام کےسوالوں سےکہیں بلند وبالا ہے۔ مسلمان سخت جان قوم ہیں۔ چھر یرے اور مضبوط ، اگر پاکستان بننےکامطلب یہ ہےکہ ان کو ذرا سخت جا ن بننا پڑے گا تو وہ شکایت نہیں کریں گے مگر ان کایہ مطلب کیسے ہوگیا کہ یہ آزادی ان کےلیے اقتصادی بار ہوگی ؟ 

پاکستان کےپہلے دونوں رہنماؤں یعنی محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی خان دوباتوں کا خاص طور پرخیال رکھا تھا کہ 

(1)ملکی آزادی تبھی بامعنی ہوسکتی ہےکہ مالی معاملات میں ملک اپنے ہی ذرائع آمدنی پرانحصار کرےاور دوسروں کامحتاج ، مقروض اورعادی بھکاری بن کرنہ رہ جائے ، 

(2)نوکر شاہی کاحلقہ بڑا مختصر اور محدود ہواور اس کوپالنےپر خرچ اس قدر کم ہوکہ ملکی وسائل اورآمدنی اس کو  پرداشت کرسکیں ۔

آپ حیران ہوں گےکہ پاکستان کا ابتدائی سالوں کابجٹ ہواکرتا تھا ۔ سال باقی پاکستان نےوطن عزیز کا جو بجٹ پیش کیا وہ فاضل بجٹ تھا ۔ جس میں قرض کےلیے رتی بھر گنجائش نہ  رکھی گئی تھی ۔ انکا کہنا تھاکہ اگرچہ ملک نوزائیدہ ہے، مشکلات ومسائل کاانبار ہےمگر ان سب پرقابو ہم اللہ پراعتماد اورتوکل کےذریعے ہی پاسکتے ہیں ۔اس وقت عالیشان عمارات نہیں تھیں ۔حکام کھلے میدان میں اورفٹ پاتھوں پراپنے عملہ سمیت اپنی میز لگا کربیٹھ جاتے اورعوام کےمسائل حل کرتے۔ نیا کاغذ نہ ملا توکوئی بات نہیں ، استعمال شدہ  کاغذ کی پشت پرہی احکامات جاری کیے جاتے ۔کامن پن کےبجائے درختوں کےکانٹے استعمال کرلیے جاتے ۔ خود قائداعظم ، وزیر اعظم لیاقت علی اوردیگر حکام بااصول ، دیانتدار، ثابت قدم اورقومی دولت کی حفاظت کرنے والے تھے۔ان کی شب اورروز کی محنتوں سے چند سالوں ہیں ہی ابتدائی مشکلات پرقابوں پالیا گیا ۔ اوروہ لوگ بالکل ناکام ونامراد اورمایوس ہوکر رہ گئے جوکہا کرتے ہیں کہ پاکستان توچند دن بھی نہیں چل سکے گا ۔ اس وقت ملکی اقتصادیات کی بنیاد زرعی اجناس ہی تھیں ۔ بیرونی دنیا میں ان زرعی اجناس کی بڑی مانگ تھی  اورتجارت کاتوازن پاکستان کےحق میں تھا ۔ ستمبر 1949ء میں برطانیہ  کواپنےسکے میں تقریبات ایک تہائی کمی کرنا پڑی توپاؤنڈ کےساتھ وابستہ ہونے کی بنا پر بھارت کوبھی اپنے روپے کی قیمت کم کرنا پڑی ۔ مگر اس وقت پاکستان کی پوزیشن بیرونی تجارت اورزر مبادلہ کےلحاظ سے محفوظ تھی ۔ اس لیے پاکستان نےدباؤ کےباوجود اپنے اقتصادی استحکام  کےبنا پرروپے کی قیمت میں کمی نہ کی ۔

موجودہ معاشی حالات ...... حکمرانوں کےلیے لمحہ فکریہ 

  مگر افسوس ان دونوں  قائدین کےرخصت ہوتے ہی حالات بدل گئے۔بااثر اور اختیار طبقے عوام کی خدمت کی بجائے ذاتی مفاد کوترجیم دینے لگے ۔

نوکری شاہی ملک پرقابض ہوگئی اورزندگی کےہر شعبے میں اس نےپاؤں جمالئے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اخلاقی قدریں بدل گئیں ۔ بااختیار طبقہ اپنے فرائض سےغافل ہوکر دولت سمیٹنے اورشاہانہ نمود ونمائش اختیا ر کرنے میں مگن ہوگیا ۔ محنت، خلوص ، اور دیانتداری کی جگہ حرام خوری ، بدعنوانی اوررشوت نےلے لی ۔ اب ہرکوئی دولت کومعیار سمجھتا ہے۔ معاشرتی ذمہ داریوں سےبیزار اورقومی ذمہ داریوں  سےآزاد رہنا چاہتا ہے ۔امانت ، دیانت اور خلوص توصرف کتابی باتیں بن کر رہ گئی ہیں جبکہ خود غرضی اورمفاد پرستی عملی سبق ہیں ۔ زر مبادلہ کا بیشتر حصہ حکمران طبقہ شاہانہ کرو فراور عیاشیوں پراٹھ جاتا ہے، ہرکوئی خزانہ کو لوٹتا ہے، کوئی ذاتی مفاد کی خاطر کوئی نیک مقصد کی خاطر ( جس طرح صدر ضیا ء الحق ہرسال ایک بڑی پارٹی لےکر باقاعدگی کےساتھ عمرہ کرنے کےلیے جایا کرتےتھے ) اورکسی کاقوی مفاد میں غیر ملکی دوروں پردوستوں ، رشتہ داروں کی کثیر فوج ساتھ لےکر جانا ۔ 

اندرونی وبیرونی اعداد وشمار کےمطابق اس وقت پاکستان 32ارب ڈالر کامقروض ہے۔دو ارب سالانہ تواس وقت صرف ان قرضو کےسود کی مد میں ادا کیاجارہا ہے۔  ان قرضوں اور سود کی ادائیگی کےلیے ہرسال ہمارا قومی بجٹ کا40% حصہ وقف ہوتاہے۔ اس طرح اس وقت وطن عزیز میں پیدا ہونے والے ہربچے کےسرپراندازاً پندر ہ ہزار (1500) روپے کاقرضہ لدا ہوتاہے ۔

اگریہ قرضے بجا طورپر استعمال ہوتے تولازماً ملک میں بڑی خوشحالی اورباغ وبہار ہوتی۔قوم بیروزگاری کےعذاب سےبھی نجات حاصل کرلیتی اورملک زرعی ، صنعتی وفنی تعلیمی غرض ہرلحاظ سے اپنی مثال آپ ہوتا اور عوام کامعیار زندگی بلند ہوچکا ہوتا۔مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدااصل صورت حال بڑی دلخراش ہے۔معیار تعلیم بہت ابتر ہے توشرع خواندگی قلیل ہے۔ ملکی صنعت اور انڈسٹری کی حالت دگرں ہے۔ بیشتر ملیں مناسب حالات نہ ہونے کی وجہ سےہند پڑی  ہیں ۔

باوجود زرعی ملک ہونے کےپاکستان کوگندم درآمد کرنا پڑتی ہے۔ مثال کےطورپر95، 96 میں پاکستان کو آسٹریلیاسے صرف گندم ہی بچانوے کروڑ ستر لاکھ کی درآمد کرناپڑی تھی ۔ جب کہ عام آدمی کی زندگی مہنگائی  کی چکی تلے پس رہی ہے۔فون ، بجلی ، گیس وغیرہ کےبل اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ محسوس یوں ہورہا ہےکہ اس وقت ملک میں  متوسط طبقہ رہا ہی نہیں یاتوجاگیردار، سرمایہ دار اوروڈیرے ہیں ، یا پھرخط افلاس کےبھی نیچے گزارہ کرنے والے بےبس وبے کس عوام جن کی کمریں مہنگائی کےعذاب  اوربڑھے ہوئے بلوں نےتوڑڈالی ہیں ۔ اوران گرانقدر  قرضوں کی بوجھل رقمیں ہمارے موجود ہ  وسابق حکمرانوں ، سینٹ اوراسمبلی کےارکان ، فوج کےبڑے بڑے عہدیداروں اوربیورکریسی کے بڑے بڑے فسروں کےگھروں میں پہنچ چکی ہیں۔ یہ لوگ ان قرضوں سےاتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں کہ غریب عوام اس تصور تک نہیں کرسکتے ۔ اور اور اب تواخبار ورسالہ جات اس لوٹ مارکو باربار شائع کررہےہیں ۔ مثال کےطور پر واپڈا کےایک مشیر شاہد حفیظ صرف مشاورت کےنام پرادارے سےروزانہ 12 ہزار روپے وصول کرتے رہے ہیں ، وہ چھٹی کےدن کےبھی بل وصول کرتےہیں ۔

( روزنامہ ،، دن 16اکتوبر 98ء) یاسی ۔بی آر کےایک چیئرمین کوایک لاکھ پچھتر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کےعلاوہ 50 ہزارروپے کرایہ مکان اور25 ہزار روپیہ یوٹیلی چارجز،ایک لاکھ روپہ ہاؤس بلڈنگ کی قسط ، 10 ہزار ڈالر فی بچہ تعلیمی الاؤنس ، کاریں مع ڈرائیور اورپاکستان میں اعلیٰ ترین طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ۔

پھر بےنظیر حکومت کےاگرسرے محل کےتذکرے پوری دنیا کےذرائع ابلاغ کا موضوع بنے توخود نواز شریف نےحکومت میں آکر کونسی کسرچھوڑی ۔وہ ملک کے30 بڑے صنعتی یونٹوں کےمالک ہیں ۔رائے ونڈ جیسی شاہانہ سٹیٹ کونسی کم تھی  جوآبزورکی غیر ملکی  مصدقہ رپورٹ نےموجودہ وزیر اعظم کی لوٹ مارپرمہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ 

عوام  میں   اب زبر دست رد عمل پایا جاتا ہے’’عیش کریں حکمران ، قربانی دیں عوام، ، کےنعرے جگہ جگہ زبان زد عام ہیں ۔ آخر عوام کوپیٹ پرپتھر باندہنے کاحکم کیوں دیا جاتا ہے اس لیے ’’قرض اتار و ملک سنوارو ،، کی سکیمیں بری طرح ناکام  ہوچکی ہیں ۔ قرضے کھانے والوں کی آئندہ کئی نسلیں بھی سنور گئی ہیں جب کہ عوام کی آنے والی نسلیں بھی سترہ ہزار فی کس کےحساب سےقرضوں کےبوجھ تلے کراہ رہی ہیں ۔ 

دوسری طرف عالمی ادارے پاکستان پرزبردست اقتصادی پابندیاں لگا کر اس کونادہندہ قرا ر دینا چاہے ہیں ۔ نادہندہ ہونے سےبچنے کےلیے اورقرضوں کی تازہ قسط حاصل کرنے کےلیے موجودہ  حکومت کس طرح جگہ جگہ کشکول گدائی اٹھائے بھیک مانگنے کےلیے ماری ماری پھررہی ہے۔ پریشانی اس وقت بڑھ جاتی ہے، جب پتہ چلتا ہےکہ خود اسلامی بنک بھی پاکستان کوعالمی اداروں کی اجازت اورمنظوری کےبغیر قرض نہیں دے سکتا ۔ 

دراصل حکمرانوں نےکبھی وطن عزیز کےلیے کوئی  مستقل پالیسی بنائی ہی نہیں ، ہروقت ہنگامی اورفوری منصوبے بنتے ہیں ، وقت کوٹالنے کےلیے عوام کوہروقت ’’خزانہ خالی ہے۔ پہلے حکمران سب کچھ لوٹ کر کھا گئے ،، کی ہی نوید سنائی جاتی ہے۔صورت حال اس سال جتنی گھمبیر اورنازک ہے اورورلڈ بینک کوقرضہ کی قسط واپس ادا کرنی جتنی مشکل ہورہی ہے ،اگریہ ،، ڈنگ ٹپاؤ ،، پالیسی ہی جاری   رہی تواگلے سال99ء میں قرضہ کی قسط ادا کرنے میں اس سے بھی زیادہ دشواری پیش آئے گی  ۔ دوسری طرف اپنے بجٹ کوچلانے کےلیے مزید قرضہ لینا پڑے گا ، ملک میں  مزید مہنگائی کاسیلاب آئے گا ۔ آئندہ کےلیے جتنا بھی سوچین ، اتنا ہی مشکل  مرحلہ نظر آتا ہے۔ 

یہی وجہ ہےکہ اہل فکرو نظر اوردانشور چیخ چیخ کراحتساب ، احتساب کانعرہ لگا رہےہیں ، مگر  احتساب کرےکون ؟ بلی کےگلے میں گھنٹی کون باندھے ؟ بیشک احتساب کےڈرامے توبہت ہوتےہیں مگر یہ بھی حقیقت ہےکہ چور کااحتساب چور  نہیں کرسکتا۔خود موجودہ وزیراعظم کےخاندان نے20 کروڑ ڈالر قومی بینکوں سےقرضہ لے رکھا ہے۔ یہ کروڑوں کےقرضے واپس نہ کریں اورکروڑوں روپے کےانکم ٹیکس بچانے کےالزامات بھی ان پرمستزاد ہیں ۔ دوسری طرف وطن عزیز مقروض سے مقروض تر ہوتا جارہا ہے۔ 

فیصلہ کن قدم ......... انقلابی اقدامات کی ضرورت 

وہ وقت کب آئے گا جب حقیقی طورپر خود انحصاری کی راہ اختیار کرنے والی حکومت ہمیں نصیب ہوگی۔ پاکستان کو’’ایشیائی ٹائیگر ،، بنانے اور’’ کشکول توڑنے،، کا ایجنڈا لے کر منتخب  ہونے والی  حکومت نےمایوسی ہی مایوسی پیدا کی ہے۔ اس وقت صالح اوردیانتدار قیادت اوردرست منصوبہ بندی کی وطن عزیز کوجتنی ضرورت ہےشاید پہلے کبھی نہ  تھی ۔ ایٹمی دھماکوں جیسا جرات مندانہ قدم اٹھانے کےبعد عوام کوخود انحصاری کےلیے ایک نیاولولہ وجذبہ  ملا ۔ مگر حکومت کےمابعد اقدامات نےفوراً ہی اس  جذبہ وولولہ کوسرد کردیا ۔ ہمارا ہمسایہ ملک چین 1950ء میں یعنی ہم سے تین سال بعد آزاد ہوا ، مگر انہوں نے کتنی جلدی خود کفالت کی منزل حاصل کرلی ۔ حکمران طبقہ نےسادگی اور خلوس کواپنایا ، امیروغریب ، حاکم و رعایا کافرق ختم کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں انہوں نے اپنے  عزم اوران تھک محنت سےاقوام میں ممتاز مقام حاصل کرل یا ، اسی طرح پہلی جنگ عظیم کےبعد لیگ آف نیشنز قائم تواس کےایک اجلاس میں   ہندوستان کی طرف سے شامل ہونےوالے وفد میں سرعبدالقادر بھی شامل تھے،وہ بیان کرتےہیں کہ اجلا س کےدوران  لنچ کےلیے وقفہ ہوا توسب لوگ ہوٹلوں کی طرف دوڑے جب ہم کھانا کھا کرواپس آئے توہم نےجرمنی کےدونوں  نمائندوں کودیکھا کہ وہ کانفرنس ہال کےباہر سیڑھیوں کےقریب کھڑے ہیں اورکھانا کھانے کےلیے کہیں نہیں گئے۔ ہم  نےسبب پوچھا توبولے  : حال ہی میں توہمارا ملک اتنی بڑی شکست سے دوچار ہوا ہے۔ ایک شکست خوردہ قوم کےنمائندوں کوبڑے ہوٹلوں میں کھانے کاکوئی حق نہیں ہے۔ ہم نےاپنی جیب سےڈبل روٹی نکال کر کھالی ہے۔یہی احساس کےتحت مغربی اپنی تقدیر بدلنے کےلیے اٹھ کھڑا ہوا اور آج اس نےعالمی سیاست میں بڑا مقام حاصل کرلیا ہے۔

دور جدید میں بیشتر مغربی جمہوری  ملکوں میں حکمران طبقہ ہربات کےلیے پارلیمنٹ میں جواب دہ ہوتاہے ۔ اس لیے ان کےگھروں اور دفتروں میں کوئی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے میں نہیں آتا ۔ جاپان ، سویڈن ، برطانیہ  یاکسی بھی ترقی یافتہ مغربی جمہوری ملک کی مثال لےلیں وہاں عوام  اورافسروں میں ظاہری طورپر کوئی فرق نظرنہیں آتا ..... اور سادگی سےعوام کی خدمت میں مصروف ہوتاہے۔

خود کفالت کی منزل کیسے ؟ 

ذیل میں ، میں چند نکات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گی ، جن کومدنظر رکھ کر ہم اپنا نصب العین حاصل کرسکتےہیں : 

(1) مسائل کےحل کےلیے کوشش اورعوامی اعتماد کی بحالی : 

داخلی وسائل میں سب سے بڑا وسیلہ تدبر ہے۔ اگرمعاملات کےسیاسی حل تلاش کیے جائیں اورعوام میں اعتماد بحال کیاجائے تووہ خودح ہی محسوس کرنے لگتےہیں کہ یہ ملک ان کااپنا ہےاورانہوں نے اس  کی بحالی کےلیے بھرپوری کام کرنا ہے۔ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توکسان ہےجوکل ملکی آبادی کا 72% ہے۔ وہ بیجارا ان تھک کام کرنے کےباوجود تعلیم، صحت صفائی وغیرہ کی بنیادی حقوق سےمحروم ہےبلکہ حقیقت تویہ ہےکہ وہ اپنے بچوں کا دووقت پیٹ بھی صحیح طورپر نہیں بھر سکتا ۔ مزوروں اورتنخواہ دارطبقوں کا بھی یہی حال ہے۔ زمیندار ، تاجر ، صنعتکار ، ان بیچاروں کااستحصال کررہےہیں ۔ متوسط اورغریب طبقہ  کی کمرٹیکسوں نےدوہری کررکھی ہےمگر اس کےبدلے ان کوملتا کیا ہے، سوائے احسا س محرومی کے؟

یہ احساس محرومی آگے بیشمار نفرتوں اورعصبتیوں کی جنم دیتی ہے۔ اس تمام صورت حال کوحسن تدبر بدلنا از حد ضروری ہےتاکہ وہ اپنے آپ کومحکوم اورمظلوم نہ سمجھیں بلکہ اپنےآپ کوملک کےاصل مالک سمجھیں اورترقی کی دوڑ میں برابر کےشریک ہوکر باعزت وباوقار زندگی گذار سکیں ۔ 

(2) صحیح منصوبہ بندی اورجوہر قابل کی اندرون ملک کھپت : 

 پاکستان کواللہ نےبےشمار قدرتی وسائل سےمالا مال کیا ہے۔ مثلا بہتر جغرافیائی پوزیشن ، زرخیز زمین ، افرادی قوت ، خاص نظریاتی وتمدنی ماحول اورمعدنیات کی فراوانی وغیرہ اوراب ملک فنی مہارت میں کافی حدتک آگے بڑھ گیا ہے۔ پھر ہمارے ہاں زکوۃ اورعشر  کےنظام سے بھی کافی آمدنی ہوجاتی ہے۔مگر ان وسائل کوصحیح طورپراستعمال نہیں کیا جارہا ۔ اقتصادی ترقی کاراز توپیدا وار بڑھانے پرمنحصر ہے۔جب تک صحیح منصوبہ بندی کی جائے اوران قدرتی وسائل کوصحیح طرح استعمال نہ کیا جائے خاطرخواہ تنائج کیسے حاصل ہوسکتےہیں ۔ ہماری زمینیں توسونا اگلتی ہیں ، مگر اس کا کیاعلاج کہ وڈیروں اورجاگیرداروں نےبڑی بڑی زمینیں اپنے نام الاٹ کرارکھی ہیں اور وہ کاشت کےبغیر بیکارپڑی ہیں ۔ اسی طرح بےشمال زرخیز زمینوں پراس وقت اندھا دھند رہائشی منصوبے تعمیر ہورہےہیں۔ بہت سےجنگلات مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کےباعث روز بروز سکٹرتے جارہے ہیں ۔ بہت سے فنی ماہرین ملک میں قدرنہ ہونے کےباعث باہرکارخ کرلیتے ہیں ۔ اگران تمام داخلی وسائل کوبھرپور طریقے سےاستعمال کیا جائے تولازماً ہماری معیشت مستحکم ہو۔ 

(3) سکیموں پرعمل درآمد صحیح طریقے سےہو: 

کسی منصوبہ کی کامیابی یاناکامی کاتعلق اس کو چلانے والے افراد کارسےہوتا 

ہے ۔اگر پالیسی نافذ کرنے والے افراد یاادارے درد  مند دل رکھتے ہوں ۔ خداترسی اور خدمت عوام کےجذبے سےسرشار ہوں تووہ نامناعد حالات میں بھی معجزے کر دکھاتے ہیں ، مگر جہاں ذمہ دار اہکار عوام کےنام پراپنے گھر بھرنےوالے ہوں، لوگوں کاحق اپنے اعزہ واقارب میں بانٹنے والے ہوں ، وہاں سنہری منصوبے بھی دھرے کےدھرے رہ جاتےہیں ۔ 

گذشتہ تیس سال کےبیشتر منصوبے اسی طر ح غث ربود ہوئے ہیں ۔ اگریہ منصوبہ بندی اسی طرح  عمل میں آتی جیسا کہ منصوبے بناتے وقت ارادے ظاہرکئے گئے تھے تواب تک سائنس ، تعلیم اور مشین سازی میں بہت زیادہ پیش رفت ہوگئی ہوتی ۔ لہذا ضرورت ہےکہ انتظامیہ کی تطہیر کی جائے ، جائیدادیں بنانے والوں کوفارغ کردیا جائے، اور ایسے لوگ بھرتی کئے جائیں جوعوام میں اپنے خلوص ،  دیانتداری اورخداترسی کی بنا  پرنیک شہرت رکھتےہوں ۔ 

(4) ہمارا بااختیار طبقہ مختلف انداز سےخزانہ اورعوام کولوٹتا ہےمگر اپنے اختیار کی 

کی بنا پرقانون کی گرفت سےمحفوظ رہتاہے۔ مثلا اگرسپاہی رشوت لےتو پگڑا جاتاہے۔اگرکوئی افسر لےتو اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ڈاکو اوراغواکنند گان دہاڑے ایسی وارداتیں کرتےہیں ۔مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مخصوص وجوہات کی بنا پر ان پرہاتھ نہیں ڈالتے ۔ بموں کےدھماکے کرنےاورعوام کےجان ومال سےکھیلنے والے تخریب کارگرفتارکرلینے کےباوجود کیوں چھوڑ دیاجاتا ہے۔ بیوروکریسی قومی خزانے کواتنی بے دردی سےخرچ کرتی ہے۔ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کےبڑےبڑے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں ۔ مگر تعمیر اتنی ناقص ہوتی ہےکہ پھر کروڑوں روپیہ ان کی مرمت کی مد میں رکھنا پڑتا ہے۔ آخر ایسے ٹھیکیداروں کااحتساب کیوں نہیں ہوتا ؟ ہمارے ٹیکس افسروں کےوسیع اورشاہانہ اختیارات پرقد غن کیوں نہیں لگائی جاتی ۔ ترقیاتی منصوبوں کوکاغذوں میں دفن کردینے والوں کوکیوں نہیں پوچھا جاتا۔ سرکاری محکموں میں بار بار غبن ہوتاہے۔ سرکاری شعبوں میں چلنے والی ملیں  اورکارپوریشنیں کیوں خسارے میں جاتی ہیں ۔ سرکاری سٹوری کی ہوئی اجناس کیوں عدم حفاظت اورتساہل کی بنا پر ضائع ہوتی رہتی ہیں ۔ بلدیاتی ادارے جوترقیاتی سکیمیں بناتےہیں وہ بھی عوام کولوٹ کرہضم کرجاتےہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے ۔ اسی طرح ناقص برآمدات نےبیرون  ملک پاکستان کےوقار کومجروح کردیا ہے۔ اسی طرح ملاوٹ کرنےوالوں اورناقص مصنوعات تیار کرنےوالوں کوکیوں نہیں چیک کیا جاتا۔ستم بالائے  ستم تویہ ہےکہ ارکان اسمبلی جوعوام کےنمائندے ہیں اورجن کاکام یہ ہےکہ حکمران طبقہ کی کارگزاریوں  پرکڑی نظررکھیں اوران کوراہ راست کی طرف چلنے پرمجبور کریں ۔ ان کو ہمارے ملک میں وسیع پیمانے پرترقیاتی سکیموں  کےنام سے سیاسی رشوت صرف اس لیے دی گئی ہےکہ اس  حمام میں سب ننگے ہوجائیں ۔جب یہ عوامی نمائندے خود ہی اس لوٹ کھسوٹ میں شامل ہوجائیں گے تو پھر احتساب کون کرے گا ؟ اور بدعنوانیوں کوکون روکےگا ۔؟ بےنظیر حکومت اورنواز شریف حکومت باری باری قومی خزانہ لوٹ رہےہیں۔ جب سارےہی چورہوں تواحتساب کون کرے۔؟ 

مگریہ حقیقت ہےکہ جب تک احتساب اورچیگنگ کانظام سخت نہیں ہوتا اورقومی خزانہ اسی طرح لٹتا چلا جاتاہے۔ قومی معیشت کوسنبھالا نہیں  مل سکتا ۔ 

(5) قومی وسائل کےضیاع کےروک تھام: قومی دولت اوربھی بےشمار طریقوں 

سےضائع  ہورہی ہے۔ افسوس اس مختصر مضمون میں یہ سب کچھ پیش کرنا ناممکن ہےمگر اشارات بہرحال ضروری ہیں ، مثلا بحری ، بری اورفضائی تینوں راستوں سےسمگلنگ  ہورہی ہےاورملکی ضروریات کانصف حصہ 

سمگلنگ کےذریعے ملک میں آرہا ہےاور اس سے زیادہ منشیات برآمد کی جاری ہیں ۔ اور وہ تمام  ادارے جواس کالے دھندے کوروکنے پرمتعین ہیں  وہ خود اس کی سرپرستی کررہے ہیں ۔ ٹیکسوں کی وصولی کانظام ناقص ہے۔ پھر ملک میں درآمد ہونےوالا آدھا مال دکھایا جاتا ہے۔باقی آدھا مال کارندے رشوت لےکرچھوڑ دیتے ہیں ۔ پھربدعنوانی اوربے ایمانی سےدولت سمیٹنے والے ملکی معاملات میں دخیل ہوتے جاتےہیں جب ان کاکوئی  محاسبہ نہیں ہوتا ، تواس سےمزید بدعنوانی ، رشوت اوربےانصافی کوفروغ ملتا ہے،محنت اورترقی کےراستے بند ہوجاتے ہیں اور بے روز گاری کوفروغ ملتا ہے۔

پھر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ملک سے کالا دھن حاصل کرکے بیرون ملک یاتو بینکوں میں جمع کرادیتے ہیں یا اپنے غیرملکی رشتہ داروں کومنتقل کردیتے ہیں ۔ اس طرح یہ کالا دھن جوملکی معیشت  اورترقی کوسنبھالا دے سکتا ہے۔ غیر ملکوں کی ترقی میں لگ جاتا ہےایسے لوگوں کےلیے اگرباہر جانے پریا باہر سےملک میں آنے پرپابندیاں عائد کردی جائیں تواس طرح ٹیکسوں کی  چوریاں بھی ختم ہوں اورملکی دولت ملک ہی میں استعمال ہو۔ 

اسی طرح وڈیروں اورجاگیرداروں نےسول اورفوجی افسروں نےجوکروڑ وں ایکڑ زمینیں کوڑیوں کےمول خرید کرر کھ دی ہیں ۔ نہ خود استعمال کرتےہیں نہ اسے زیرکاشت لاتےہیں ۔ اس طرح ملکی زمین کابیشتر حصہ بنجر پڑا ہے۔ایسی تمام زمینوں پرحکومت زرعی ٹیکس لگا دے ۔ ٹیکس لگانے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ یاتو وہ خود زمین کوکاشت کریں گے یا حکومت کوواپس کردیں گے ۔ حکومت پھر اس  زمین کوکسانوں اورہاریوں میں تقسیم کرکےملک میں زرعی انقلاب لاسکتی ہے ۔ 

ہمارے ہاں ملکی وقومی وسائل کاضیاع مختلف انداز سےہورہا ہےمثلاً 

(1) حکمرانوں اوراہل اقتدار کےٹھاٹھ اورشاہ خرچیاں ہی تمام ملکی وسائل پرقابض ہیں ۔جب کہ ملک کی پوری چوتھائی آبادی دووقت کےکھانے کابندوبست کرنے سے معذور ہے۔

(2) سود کی ادائیگی میں ضیاع : 

اگر یہی صورت حال صرف  دوسال اوررہی توپھر ملک کےریونیوں کی تمام 

آمدنی صرف اسی قرض مع سود کوادا کرنےکی  نذر ہوجائے گی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون!! !

(3) بنکوں کے نادہندہ قرض داروں نےتمام بنکوں کودیوالیہ کردیا ہے۔اب یہی 

نادہندہ بااثر افراد بینکوں کوباربار قواعد وضوابط کرکے نئے قرض دینے پرمجبور کردیتے ہیں ۔

(4) ٹیکس چوروں نےبھی ملکی خزانہ کوبڑا نقصان پہنچایا ہے۔ سی ۔ بی آر کی تنظیم نو

کے باوجود ٹیکس چوری اسی طرح جاری ہے۔ اوریہ بالعموم مرکزی اورصوبائی حکومتیں اورانکے ماتحت چلنے والی کارپوریشنیں ہیں جوعموما نادہندہ ہوتی ہیں ۔ اسی طرح ملکی پرائیویٹا ئزیشن کےنام پرحکمرانوں نےبہت کچھ کھایا بیش قیمت سرکاری املاک کوڑیوں کےمول اپنے اعزہ واقارب میں تقسیم کردی گئیں ۔ نجکاری کےنام پرملکی خزانہ بری طرح لوٹا گیا ۔

(5) بےشمار  کارخانے اورملیں اس وقت  مناسب حالات نہ ہونے کی بناپربند پڑی

ہیں جب کہ مہنگےبیرونی تھرمل معاہدوں نےملک کےاقتصادی بحران کومزید سنگین بنادیا ہے ۔ 

یہ بیرونی قرضے ایک کینسر ہیں جن کاآپریشن کرنا ضروری ہے۔ معاشی بحران کاحل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حالات صحیح تشخیص نہ ہو۔ قرضوں کی لعنت کاواضح تعین کیاجائے ۔ اپنی ترجیحات  کی نشاندہی ہو، معاشرے کےتمام طبقوں تک بنیادی ضروریات زندگی پہنچائی جائیں ۔ ان میں اعتماد بحال کیاجائے ، اسلامی تعلیمات کوعام کرکے ہرخاص وعام میں اپنے فرائض ادا کرنے اور دوسروں  تک ان کےحقوق پہنچانے کاشعور بیدار کیاجائے ۔ جذبہ حب الوطنی ، ایثار ، ہمدردی اور خیرخواہی کوعام کیاجائے اسی طرح چھوٹی صنعتوں کےذریعے ہرشخص کومحنت پرلگا کرسب سےزیاہ ضروری مسئلہ ملک کولوٹنے والوں کا احتساب کرنا ہے۔ جب تک احتساب نہیں ہوتا۔لوگوں کو نہ انصاف مل سکتا ہے۔ نہ دلوں کاامن ، چین اوسکون ۔ وہاں زندگی کاوقار رہتا ہے، نہ مستقبل کااعتبار ۔اگر یہ کام ہوجائیں تووطن عزیز میں قوت کےنئے نئے سوتے پھوٹ پڑیں گے ۔ 

ڈاکٹر محمد اسد خان نے( جوضیاء الحق کےدور میں وزیرپیٹرولیم وقدرتی گیس تھے)لکھا ہے: 

’’ ملک بھر میں 140 ارب سےزائد کےبینک قرضے نادہندگان ہڑپ کرچکے ہیں ۔ اس کےعلاوہ غیرملکی جرائد واخبارات میں ایسے افراد کی فہرستیں شائع ہورہی ہیں جن کےفارن اکاؤنٹس میں چالیس بلین ڈالر سےزیادہ کی رقم موجود ہےاگریہ بات صحیح ہےتوفی الفور ہنگامی طورپریہ رقم واپس لےکر عالمی مالیاتی اداروں کےقرضے واپس کرنا چاہیں جب کہ اس کے بعد بھی اس  میں سےاتنی رقم بچ جائے گی کہ اس سے ملک میں ڈیم ،بجلی گھر، سڑکیں پل اور اصلاح زراعت کےکام کیے جاسکتےہیں ، ، 

(6) سادگی اورکفایت شعاری : 

لازمی ہےکہ حکمران اوربااثر طبقہ اپنے ٹھاٹھ باٹھ ختم کرکے 

سادگی اپنائے یہ غریب ملک بڑی کاروں ، عالیشان بنگلوں اورشاہانہ معیار زندگی کامتحمل نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح لمبی چوڑی کابیناؤں کوبھی مختصر کیاجانا چاہیے ۔ لہذا حب الوطنی کاتقاضا ہےکہ حکمران اوربااختیار طبقہ خوراک لباس اوررہائش میں سادگی اختیارکرے۔ملکی مصنوعات استعمال کرے۔اور غیرملکی اشیاء کی حوصلہ شکنی کرے۔غیرضروری درآمدات بند کردے، اس سےملکی معیشت کوبہت سبنھالا مل سکتا ہےاورملک کاہرباشندہ خوراک، لباس ، تعلیم ، رہائش جیسی بنیادی ضروریات سے  مستفید ہوسکتا ہے۔

(7) میرٹ کی پابندی  : 

ہمارے ہاں ماہر اورقابل افراد کی کمی نہیں ۔ مگرجب رشوت اور 

سفارش کی بنا پرنااہل لوگ آگے آجاتےہیں تومستحق اورقابل افراد بددل ہوکر باہر کا رخ کرلیتے ہیں ، اس  وقت ہمارےکتنے ڈاکٹر، انجینئر اورماہرین غیرممالک کوفائدہ پہنچا رہےہیں ۔ایسے جوہر قابل کی مناسب حوصلہ افزائی کرکے ان کوملک کےاندر کھپایا جائے تاکہ ہم ضروری مشینری اپنے ملک ہی میں تیار کرسکیں ، ہماری پالیسی بہرحال ہونی چاہیے  کہ ہمیں سوئی سےلے کرہوائی جہاز تک خود بنانا ہےاورجونااہل لوگ آگے آگئے ہیں ، ان کوقومی غیرت کاثبوت دیتے ہوئے  خود ہی پیچھے ہٹ جانا چاہیے ۔اگر نہ ہٹیں توان کوسبکدوش کردیا جائے ۔ تویہ ملک پربڑا احسان ہوگا ۔ ہندوستان کےسابق وزیراعظم لال بہادر شاستری جب محکمہ ریلوے کےوزیر تھے توان کےدور میں ایک ٹرین کوحادثہ پیش آگیا ۔ اس پرانہوں نے نااہلی  کااعتراف کرتےہوئے استعفیٰ دے دیا۔ کیاہمارے ملک میں بھی  اسی طرح کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی 

حرف ِ آخر

اس وقت وطن عزیز  میں سرکاری سطح پرشریعت کےنفاذ کابہت پرچار کیا جارہا ہے۔ لازم ہےکہ ہم اپنےمسائل کےحل کےلیے شریعت کواپنے ہاں مخلصانہ طورپر رائج ونافذ کریں ۔ قرضوں پرمبنی معیشت کانظام ختم کریں ۔پارلیمنٹ باقاعدہ قانون کےذریعے سودی لین دین کوختم کردے اورخود انحصاری  حاصل کرنےکےلیے متبادل  نقشہ ترتیب دے ۔ اندرونی وبیرونی تمام معاہدے از سرنو ترتیب دیے جائیں۔یہ بنیادی فیصلہ ہمیں بالآخر کرنا ہی پڑے گا ،جوہمارے دین وایمان کی بنیادہےمسلمان کےلیے سودلینا اوردینا کسی طرح بھی  روا نہیں ،  اورپھر ہمارا شدید معاشی بحران بھی اس حکمت عملی کاتقاضا کررہا ہے۔ آخر کب تک ہم غیروں کےآگے جھکتے چلے جائیں گے، وہ  توہمارا وجود ہی مٹا دینے کےدرپے ہیں ۔ زبردستی ہم سے سی ٹی بی ٹی کےمعاہدے پردستخط کروانا چاہتے ہیں ۔ غرض  خوانحصاری کی پالیسی پرسختی سےقائم رہنے سےہم تین سال کےاندر اپنی معیشت کوسنبھالا دے سکتےہیں ۔ اوراپنی خودی وخودداری کوبرقرار کرسکتےہیں ۔ ؏ 

تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے 

جو رہی خودی توشاہی ، نہ رہی تو روسیاہی 

ایٹمی قوت بننے کےبعد یہ معاشی استحکام حاصل کرنا ہمارے لیے اوربھی ضروری ہوگیا ہےمگر  مطلوب ومقصود حاصل کرنے کےلیے اصل ضرورت عزم وارادہ کاخلوص ہےجس کااظہار ہرسطح پرہونا چاہیے اگر قیادت خود انحصاری کاعزم رکھتی ہے، تو پھر اصلاح احوال ممکن ہے۔ جب بھی حکمران عزم خود انحصاری لیکر میدان عمل میں نکل آئیں گے، اللہ تعالیٰ خود پردہ غیب  سےمدد فرمائے گا۔ اہل صلاحیت اورتجربہ کار ماہرین بھی ان کو مل جائیں  گے ۔ اور پھر مناسب احتساب  کانظام بھی قائم کرنا آسان ہوجائے گا۔ 

اس سلسلے میں اہم ترین مثال سیدنا عمربن عبدالعزیز ﷫کی ہے۔ انہوں نےتقویٰ اختیار کرتے ہوئے صرف ڈھائی سال کےقلیل عرصے میں اموی شہنشا ہی نظام کو خلافت راشدہ کی طرز پرڈھال دیا  تھا ۔ انہوں نےاپنی ذات سےاصلاح کاآغاز کیاپھر اپنے کھرانے اورخاندان اورقبیلہ کواصلاح کی طرف دعوت دی ۔ حق گوئی ، حق پرستی،اصولوں پرمصالحت نہ کرنا ، ظالم حاکموں کااحتساب ، مظلوموں کادار رسی کااہتمام  کیا ۔ اورصرف خوف خدا کوپیش نظر رکھتے ہوئے ، دنیاوی نتائج سے بےپروا ہوکرغلط نظام کوسرے سے بدل ڈالا ۔ قیادت کےاسی نمونہ کی آج بھی قوم کوضرورت ہے۔ اوایسے نمونے صرف اورصرف خوف خداوندی ، خلوص اوردیانتداری ہی کی بنا پروجود میں آسکتے ہیں ۔ لہذا حکمرانوں کی مختصر کابینہ ، سرکاری خزانے کوامانت سمجھنا،اہل لوگوں کوعہدے دینا ۔ کفایت شعاری سے کام لینا ، اقرباپروری اورخویش نوازی سےگریز کرنا بڑا ضروری ہے۔ اللہ رب العزت کااشاد ہے{ وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ }  (الاعراف ) 

’’اگر بستی والے لوگ ایمان لاتےاور اللہ سےڈرتے توہم ان پرآسمان وزمین کی تمام برکتوں کے دورازے کھول دیتے ۔،، اللہ تعالیٰ کافرمان کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا ۔ مخلص مومن بننے اوراللہ کانظام وطن عزیز میں رائج کرنے سےہمارا معاشی بحران ختم ہوسکے گا اور خوشحالی وفارغ البالی سےاللہ تعالیٰ ہمیں ہمکنار فرمائے گا 

اپنی دنیا آپ پیدا کرگر زندوں میں ہے 

سِرّ آدم ہے ضمیرِ کُن  فکان ہےزندگی