آئین میں پندرھویں ترمیم کابل بعض ضروری رد وبدل کےساتھ قومی اسمبلی کےارکان کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کےبعد سینٹ میں حتمی منظوری کےلیے پیش کردیا کیا ہے۔ پندرھویں ترمیم کےابتدائی مسودہ اورمنظور شدہ بل میں نمایاں ترین فرق، دستور کےآرٹیکل 239 میں ترمیم کی تجویز کا واپس لیا جانا ہے۔ اس کےعلاوہ مجوزہ آرٹیکل ’ 2 ب ، کی ذیلی شق ’ 3 ، کو بھی حذف کردیا گیا ہے۔ 

ابتدائی مسودہ میں آئین کےآرٹیکل 2 میں ’’2ب ،، کا اضافہ تجویز کیاگیا تھا جومزید 5ذیلی  شقات پرمبنی تھا، اب قومی اسمبلی سےمنظور شدہ بل میں چونکہ 2( ب) کی شق 3 کوحذف کردیا گیا ہے، اسی لیے اب تازہ ترین بل میں 2 ( ب) کی 4 ذیلی دفعات موجودہیں ۔ ان کی زبان ، اسلوب یاالفاظ میں ذرا برابر تبدیلی نہیں کی گئی اوریہ ابتدائی مسودہ کےسوفیصد عین مطابق ہیں ۔ قومی اسمبلی کےمنظور کردہ آرٹیکل 2۔ب کاتازہ ترین متن حسب ذیل ہے : 

’’ 2۔ ب ’’ قرآن وسنت کی برتری 

(1)   قرآن مجید اورحضور اکرمﷺ  کی سنت پاکستان کااعلیٰ ترین قانون ہوگا۔

تشریح  : کسی مسلمان فرقہ کےشخصی قانون ( پرسنل لاء ) پراس شق کےاطلاق میں ’’قرآن وسنت،، کی عبارت کامفہوم وہی ہوگا جواس فرقہ کی تعبیر توضیح پرمبنی ہے۔ 

(2) وفاقی حکومت کایہ فریضہ ہوگا  کہ وہ شریعت  کےنفاذ کےلیے اقدام کرے،صلوۃ قائم کرے، زکوۃ کااہتمام  کرے ، امر بالمعروف  اورانہی عن المنکر  ( یہ تعین کرنا کہ کیا صحیح ہے اوراسے روکنا جوغلط ہے) کوفروغ دے

ہرسطح پربدعنوانی کاخاتمہ کرے اور اسلام کےاصولوں کےمطابقت میں جیسا کہ قرآن وسنت میں موجود ہیں ، حقیقی سماجی معاشی انصاف فراہم کرے ۔ 

(3) اس آرٹیکل میں شامل کوئی امر غیر مسلموں شخصی قانون ، مذہبی آزادی کی 

روایات ، رسم ورواج اوربطورشہریوں کےان کی حیثیت کومتاثر نہیں کرے گا ۔ 

(4) اس آرٹیکل کےاحکام دستور میں شامل کسی امر کےباوجود کسی قانون یا

عدالت  کےکسی فیصلے پرمؤثر ہوں گے ۔ ،، 

قومی اسمبلی سےمنظور شد ہ بل سےاس آرٹیکل میں پہلے سےشامل جوعبارت یاذیلی شق حذف  کردی گئی ہے، اس متن درج ذیل ہے: 

’’ 2 ۔ب .......... 3 : وفاقی حکومت شقات ’’ 1،، اور’’ 2،، میں دیئے گئے احکام کےنفاذ کے لیے ہدایات ( Directive ) جاری کرسکے گی اورمذکورہ ہدایات پرعمل پیرانہ ہونے پرکسی  بھی سرکاری عہدیدار کےخلاف ضروری کاروائی کی جاسکے گی ،، 

شریعت بل کےترمیم شدہ متن پراعتراضات وخدشات اور تبصرہ 

 مندرجہ بالابل کےمتعلق زبان وبیان کےحوالے سےحسب ذیل معروضات کاذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا : 

(1) آئین کی پندوھویں ترمیم کے توسط سےآئین میں حقیقی ترمیم یااضافہ 2 ب .

........1 کی پہلی سطر یہ ہےیعنی ’ ’ قرآن مجید اورحضور اکرم ﷺ کی سنت پاکستان کااعلیٰ ترین قانون ہوگا ،، اس ذیلی شق کی تشریح کے ضمن میں جوعبارت شامل کی گئی ہےوہ آئین کےآرٹیکل 227 میں سوفیصد انہی الفاظ میں پہلے سےموجودہے ۔ اس کادہرانا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔شاید حکومت نےمختلف فرقوں کی طرف سے تنقید سے بچنے کی پیش بندی کےطور پر اس تشریح کودوبارہ شامل کرنا مناسب سمجھا ہے۔بہرحال یہ امر آئین سازی کےعمل میں ایجازواختصار کوپیش نظر رکھنے کےبنیادی اصول سےمطابقت نہیں رکھتا ۔ 

(2) ذیلی شق 2ب .......... 2 ، بعض الفاظ کےردوبدل یا اضافہ کےباوجود 

آئین آرٹیکل 31 میں ذیلی شقات 2 (بی ) اور2(سی ) سےبہت مماثلت رکھتی ہےجس میں نظام صلوۃ اورمساجد کےنظام کواسلامی طرز ِ زندگی کےمطابق ڈھالنے کی بات کی گئی ہے۔ البتہ قابل نفاذ اورمؤثر ہونےکےحوالے سے ان دونوں میں خاصا فرق ہےکیونکہ آرٹیکل 31 پالیسی کےاصولوں تک محدود ہے ۔

 آرٹیکل 2ب .......... 2 میں موجود الفاظ امربالمعروف اورنہی عن المنکر کےبارے میں یہ نشان دہی کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پندھویں ترمیم کےبل میں انگریزی اوراردو زبان میں ، ان الفاظ کےبعد قوسین میں جوترجمہ کیاگیا ہےوہ ان عربی الفاظ کےمفہوم میں تحریف دکھائی دیتا ہے۔ 

مندرجہ بالاسطور میں جو ترجمہ دیا گیا ہےوہ وزارتِ مذہبی امور کی طرف سےتقسیم شدہ ذرافٹ سےنقل کیا گیا ہے۔ اس ترمیم کےانگر یزی متن میں امربالمعروف ،کاترجمہ  ( To Prescribe " What is Right )کیا گیا ہےاور اردومیں یہ ترجمہ ’’یہ تعین کرنا کہ کیا صحیح ہے؟ ،، کےالفاظ کی صورت میں دیا گیا ہے ۔ امر ابالمعروف کالغوی اوراصطلاحی مطلب سامنے رکھا جائے تویہ دونوں ترجمے ناقص اورمغالطہ آمیز نظرآتےہیں ۔ اردو زبان میں امربالمعروف کاترجمہ عام طورپر ’’نیکی کاحکم دینا ،، کیا جاتا ہے۔ Prescribe ’’ بیان کرنا ،، کےمعنوں میں ہوتا ہے ۔ ’’ بیان کرنے ،، اور’’ حکم دینے ،، میں جو فرق ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ وزارتِ مذہبی امور نےاردو کےمتن میں ’’ تعین کرناکہ کیا صحیح ہے،،ترجمہ کیا ہےجونہ تو’’ امربالمعروف ،، کا مخصوص مفہوم واضح کرتا ہےاورنہ ہی یہ انگریزی متن کے الفاظ Prescribe کاترجمہ ہے۔ کسی بات کاتعین کرنا کہ وہ صحیح ہےیانہیں ، اس بات سےمختلف ہےکہ کسی بات کےکرنے کاعملاً حکم دینا ۔ قرآن وسنت کےمطابق معروف توپہلے سے تعین شدہ ہیں،حکومت ان کےنئے سرے سےتعین کرنی کی مجاز نہیں ہوتی ، وہ  توان پرعملدرآمدکرانے کی حدتک ذمہ دار ہے۔ ’امر، کالفظ واضح طور پرحکماً نفاذ کامفہوم دے رہا ہے۔ نہایت افسوس  کامقام ہےکہ پندرھویں ترمیم جیسے اہم مسودہ کی تیاری میں ماہرین قانون نےان باتوں سےصرفِ  نظرکیا ہے۔ یہ فروگذاشت نتیجہ ہے ہمارے قانون سازوں کی عربی زبان سےلاعلمی کا یا بصورت دیگر ذہنی تحفظات کا ۔ 

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر  علماء کےمعروف ’22 نکات ، میں بھی ملتا ہےجو انہوں نےآئینی تجاویز کےضمن میں 1951ء میں حکومت کوپیش کیے تھے .....راقم کےسامنے ان 22 نکات کاانگریزی میں متن موجود ہے جس میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا انگریزی ترجمہ " To dirct What to do and What not to do"

دیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ پندرہویں ترمیمی بل کےمقابلے میں بدرجہابہتر اوردرست ہے۔ مذکورہ بالا غلط ترجمہ کی وجہ سے بہت سےعلماء ، جو  شریعت بل کےحامی ہیں، نے بھی حکومت کوتنقید کانشانہ بنایا ہےچونکہ وہ کسی بھی صورت میں حکومت کو یہ حق تفویض کرنے کےحق میں نہیں ہیں  کہ وہ اس بات کا تعین خود کرے کہ کیا درست ہےاورکیا غلط ۔ بعض علماء نےاسے حکومت کی طرف سے ’’ مداخلت فی الدین ،، کےحق کوقانونی شکل دینے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ ان کےخیال میں اگر بالفرض کسی بات  کےمتعلق درست ہونے یانہ ہونے کا تعین کرنےکامسئلہ  درپیش ہوتویہ فریضہ اعلیٰ عدالتوں یا قرآن سنت سےواقفیت رکھنے والے علماء کوسونپا جانا چاہیے نہ کہ سرکاری حکام کو۔ ایک معروف عالم دین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہےکہ اگر حکومت وقت یہ استحقاق حاصل کرلے توامام ابوحنیفہ ﷫ اورامام ابوحنیفہ اوراما م احمد بن حنبل ﷫ جیسے ائمہ سنت کوقید اورکوڑوں کوسزا ئیں جائز اوردرست قرار پائیں گی کیونکہ حکومت ِ وقت ان کو درست سمجھتی تھی ۔ اگرچہ اب حالات مختلف ہیں  لیکن پھر ان خدشات کوقطعی طورپر  بےبیناد قرار دینا مشکل ہے اور نہ ہی ، آج نہیں توبعد کے حکمرانوں  کی طرف سےاس طرح کےظلم  واستبداد کےامکانات کو رد کیا جاسکتا ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت  نہیں دے سکتا کہ پاکستان میں ہمیشہ اسلام پسند برسراقتدارہیں گے ۔ ماضی قریب میں مصر ،  ترکی ، الجزائر ، تیونس اورخودپاکستان میں سیکولرحکمرانوں نےعلماء اوراسلام پسند شہریوں پرجوظلم وستم ڈھائے ہیں ،  وہ باخبر افراد کا نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ مصر کےممتاز عالم دین سید قطب کوپھانسی کی سزادی گئی ، جماعت اسلامی کےبانی سید ابوالاعلیٰ مودودی ﷫ کوقادیانیت کےخلاف ایک پمفلٹ لکھنے پرسزائے موت سنائی گئی ۔ اس لیے ضرور ی ہےکہ شریعت بل کےاس لغوی اوراصطلاحی سقم کودور کیاجائے ۔ 

(3) سینٹ میں زیر منظوری آرٹیکل 2 (بی ) کی ذیلی شق ’ 3 ، قانون سازی کی زبان 

میں ۔ " Re dundant "  یعنی فالتو معلوم ہوتی ہے۔ آئین کی تمہید میں اقلیتوں کوواضح طورپر اپنے مذہب وثقافت کی آزادانہ پیروی ووضاحت کی یقین دہانی کاذکر ملتا ہے ۔ تمہید کےالفاظ کوبعینہ قرار دادِ مقاصد میں شامل کیا  کیا ہےجواب آرٹیکل 2(الف) کی صورت میں آئین کا مؤثر اورقابل نفاذ حصہ بن چکا ہے۔ مزید برآں  بنیادی حقوق کےباب میں آرٹیکل 20 کےتحت مذہبی آزادی کےتحفظ کی ضمانت پہلے سےموجو د ہے۔ یہی عبارت آرٹیکل 227 کی ذیلی شق (3) میں ہوبہو موجود ہے۔ آئین کےچارمقامات پراقلیتوں کی مذہبی آزادی کےتحفظ کےبعد آئین کی پندرھویں ترمیم میں پانچویں مرتبہ ایک ہی بات کا دہرانا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ غالباً حکومت بعض اقلیتی تنظیموں ، جوکہ مغربی سرمائے پرچل رہی ہیں ، کے بےجاشوروغل اوراحتجاج سے مرعوب ومتاثر ہونے کےبعد یہ ذیلی شق لانے پرمجبور ہوگئی ہے۔

یہ اقلیتی  تنظیمیں درحقیقت اپنے بنیادی حقوق کی پامالی کےمتعلق زیادہ پریشان نہیں ہیں بلکہ وہ اس ملک کی 97فیصد اکثریت کا  اپنے مذہب وضمیر کےمطابق قانون سازی یازندگی  گزارنے کاحق تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔ حکومت کوان کےاحتجاج کا معروضی جائزہ لیکر قانون سازی کرنی چاہیے ۔ اب جب  کہ یہ متحرک این . جی . اور مندرجہ بالا ذیلی شق کی شمولیت کےباوجود مطمئن نہیں ہیں ، تو خوامخواہ آئین کا پیٹ بھر نےکافائدہ کچھ نہیں ہے ۔ حکومت نےجب نفاذِ شریعت  کابیڑہ اٹھانے کا تہیہ کرلیا ہے توپھر اس طرح کےمعذرت خواہانہ اقدامات سےگریز کرنا چاہیے ، کیونکہ اسلام دشمنوں کومطمئن کرنا ناممکنات میں سے ہے۔

(4) شریعت بل کےابتدائی مسودہ میں خاطر خواہ تبدیلیاں لانے اورقومی اسمبلی 

سے نظرثانی شدہ بل کی منظوری کےباوجود اس موجودہ بل کاجوحصہ اب  تک تنقید کانشانہ بنا ہوا ہے، وہ ذیلی شق 2 ب ........... 4 ہے۔ سیکولر طبقہ کی طرف سےاس پرتنقید توخلافِ توقع نہیں ہے کیونکہ انہوں نے بہرحال اسلامی قانون سازی کوروکنے کےلیے تنقید  برائے تنقید کاشغل جاری رکھنا ہے۔ البتہ بعض حامیان ِ  شریعت نے بھی اس ذیلی شق کےمتعلق عدمِ اطمینان کااظہار کیا ہے۔ راقم الحروف کےنزدیک دونوں طبقات کی تنقید اصولی ہونے سےزیادہ بےجا خدشات پرمبنی ہے۔ مذکورہ شق کا اردو ترجمہ سطور بالا میں دیا گیا ہے، مختلف اعتراضات کا معروضی جائزہ لینے کےلیےمناسب معلوم ہوتا ہےکہ اس کا انگریزی متن  بھی سامنے رکھا جائے جوحسبِ ذیل ہے: 

2-B (4) : The provision of this Article shell have effect not withstanding any thing contained in the constitution’any Law or Jungement of any court 

مجوزه آرٹیکل 2 (ب) بالعموم اورمندرجہ بالا ذیلی شق 2 (ب) (4) کےمتعلق بالخصوص جو اعتراضات وارد کیے گئے ہیں ۔ ان سب کومحاکمہ بے حد مشکل ہے البتہ بعض منتخب اعتراضات کی تفصیل اوران کے بارے میں رائے کااظہار اس مسئلے کی تفہیم کےلیے مناسب ہوگا ۔ 

معروف قانون دان ایس ایم ظفر صاحب نےاپنا رد عمل بیان کرتے ہوئے کہا ہےکہ دستور کا آرٹیکل 2(ب) آئین کےدیگر تمام آرٹیکلز کو’’ یرغمال،، بنالے گا۔ انہوں نےبالخصوص ’’آئین ،قانون ، یا عدالتی فیصلہ کےباوجود ،، کےجملہ کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ان کےخیال میں اس سےعدالتوں کے اختیارات پرقد غن عائد کی گئی ہے۔ایک اورقانون دان عبدالحفیظ پیر زادہ نے رائے ظاہر کی ہےکہ آئین کی پندرھویں ترمیم پورے آئین کا حلیہ بگاڑ کررکھ دے گی ۔ جناب  ایسی ایم ظفر صاحب نےاپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مثال دی کہ آئین میں عورت کے وزیر اعظم بننے پراس وقت کوئی  پابندی نہیں ہے لیکن آئین کی پندرھویں  ترمیم کی منظوری کےبعدیہ کہہ یہ پابندی عائد کی جاسکتی ہےکہ اسلام میں عورت کے وزیر اعظم بننے کاجواز نہیں ہے۔

( روز نامہ ڈان ، 12؍ اکتوبر 1998 ء ) 

مندرجہ بالا اعتراضات کےبارے میں دونکات پیش خدمت ہیں : 

( i) جناب ایس ایم ظفر صاحب او ر دیگر حضرات جوقانونی پیشہ سےوابستہ ہیں ، وہ اس بات کی تردید نہیں سکیں گے کہ’’ آئین یا عدالتوں کےفیصلہ کےباوجود ،، کےالفاظ پہلی مرتبہ آرٹیکل 2(ب) میں شامل نہیں کیے جارہے ۔ آئین کےمتعدد آرٹیکلز میں اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے والی شقات پہلے سے موجود ہیں : 

not withstanding any thing in the constitution

 کے الفاظ آئین کےآرٹیکل  234، 235، 48 اورکچھ عرصہ پہلے تک آرٹیکل 58اوردیگر مقامات وغیرہ  میں موجود ہیں ۔ اورجہاں تک عدالتوں  کےدائرہ  کار کومحدود کرنے کی بات ہے، اس کا ذکر بھی متعدد آرٹیکلز میں ملتا ہے۔ آرٹیکل 245 جوسول حکومت کی معاونت کےلیے فوج بلانے کی بات کرتا ہے، اس میںواضح طورپر موجود ہےکہ اس ضمن میں وفاقی  حکومت کی ہدایات کی قانونی حیثیت کوکسی بھی  عدالت میں چیلنچ نہیں کیا جائے گا ۔ اور وفاقی شرعی عدالت کےدائرہ اختیار کوتو بہت حد تک آرٹیکل 203 میں محدود کردیا گیا ہے۔ ایسی پابندیا ں دیگر آرٹیکلز میں بھی موجود ہیں ۔ البتہ 2(ب) کی ذیلی شق  (4) میں ’’عدالتی فیصلہ ،، کےالفاظ غالباً نئے ہیں لیکن ان کامفہوم دیگر شقات سےبہت مختلف نہیں ہے۔.............. اور ’’ عدالت کےکسی بھی فیصلے ،،جیسے الفاظ کوآئین میں شامل کرنے کا ایک خصوصی پس منظر ہےجس سےایس ایم ظفر صاحب بھی بخوبی واقف ہیں  ۔ جن لوگوں نےجسٹس نسیم حسن شاہ صاحب کاحاکم کیس میں فیصلہ دیکھا ہے، وہ مذکورہ الفاظ کی شمولیت کی ضرورت وافادیت سےانکار نہیں کرسکتے ۔ یہ ذیلی شق درحقیقت اپنی الگ قوت نہیں رکھتی بلکہ یہ آرٹیکل 2(ب) کی ذیلی شق ’’1،، میں ’’ سپریم لاء ،، کی اصطلاح کومزید واضح اورقوت دار’ ’ Forceful،، بنانے کے مقصد کےپیش نظر ڈالی گئی ہے۔کیونکہ ماضی میں ہماری اعلیٰ عدالتوں نےبعض اوقات سیکولر تعبیرات کیں اوران کےنتیجے میں شریعت کےاستخفاف کا مفہوم پیدا ہوتاتھا یا اسلام کےبطور’’ سپریم لا ء ،، ہونے کی حیثیت متاثر ہوتی  تھی ، توان کےپیش نظر اس طرح  کےخدشات کا قلع قمع کرنے کےلیے مزید واضح الفاظ میں ذکر کرنا مناسب سمجھا کیا ہےتویہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔

یہاں یہ اعتراض ہوسکتا ہےکہ جب اسلام کوسپریم لا ء کا درجہ مل گیا تویہ ذیلی شق’’فالتو،، ہو گئی ۔ اس اعتراض میں وزن ہےلیکن اگر 2(ب) کی دیگر ’’فالتو ،، شقات موجود ہیں ،  توبالخصوص اس کی شق نمبر 4 کوتنقید کا نشانہ بنانا انصاف کےتقاضوں کےمنافی ہے۔ 

جہاں تک ایس ایم ظفر صاحب  کےان خدشات کا تعلق ہےکہ پندرھویں ترمیم کےبعد کوئی عورت پاکستان کی وزیراعظم نہیں بن سکے گی تواس کےبارے میں یہی عرض کیا جاسکتا ہےکہ اگراسلام  میں فی الواقع عورت کےوزیراعظم بننے پرپابندی ہے، تو اس کو خدائی حکم سمجھ کرقبول کیاجانا چاہیے نہ کہ اس کےخلاف باغیانہ ردّعمل کامظاہر ہ کیا جائے ۔ یہاں یہ اضافہ بھی ضروری ہےکہ چند استثنائی صورتوں کےعلاوہ ، قرآن وسنت کوسمجھنے والے علماء کی اکثریت کی رائے اب بھی یہی ہےکہ عورت اسلامی ریاست کی سربراہ نہیں بن سکتی ۔

(5) پاکستان کےبعض دانشور اورقانونی ماہرین جونفاذ شریعت کےحق میں ہیں ،وہ دیانتداری سےیہ سمجھتے ہیں کہ نفاذ ِ شریعت کےلیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہرگز نہیں تھی ۔  اس مقصد کے لیے شریعت ایکٹ پرانحصار کیا جا

سکتا تھا یا نیا ایکٹ منظور کیاجاسکتا تھا ۔

ان کی عقل ودانش کےاعتراف کےباوجود   راقم الحروف کی رائے یہ ہےکہ بعض صورتوں میں محض ایکٹ پرانحصار کرنا کافی ثابت نہیں ہوگا۔ مثلاً شرعی سزاؤں کےنفاذ کی بات کوسامنے رکھا جائے ۔ 

پاکستان میں دنشوروں اوروکلاء کی اچھی خاصی تعداد ان سزاؤں کے نفاظ مثلا مجرموں کی سرعام پھانسی پرلٹکانے وغیرہ کو’’انسانی وقار ، ، کےمنافی سمجھتی ہے۔ آئین 1973کےآرٹیکل 14 میں یہ الفاظ ملتے ہیں : 

14 The Dingity of man shall be inviolable 

  اس آرٹیکل کی بنیادپروہ ایسی سزاؤں کوپہلے بھی چیلنچ کرتےرہے ہیں اور آئندہ بھی اس بات کاروشن امکان موجود ہے۔ جب تک ’’سپریم لاء ،، کےطورپر اسلام کی برتری  اورفضلیت کی آئینی حیثیت نہیں دی جاتی ، نفاذِ شریعت کےعظیم کام کی انجام دہی میں بےشمار   قانونی اورآئینی پیچیدگیاں باقی رہیں گی ۔

(6)  بعض قانون دانوں کےخیال میں آرٹیکل 2 میں جہاں مذکورہےکہ ’’اسلام 

پاکستان کاریاستی مذہب ہوگا ،، وہاں محض دوالفاظ ’’سپریم لاء ،، ڈال دیئے جاتے تو مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ علمی اعتبار سے دیکھا جائے توان کی توجیہ  درست ہے۔ لیکن پاکستان کےمخصوص سیاسی کلچر اور ایک خاص طبقہ کی مغرب سےمرعوبیت اورسیکولرزم کی حمایت  کوسامنےرکھاجائے تو یہ خدشہ باقی رہتا ہےکہ محض دوالفاظ کااضافہ شایدنت نئی قانونی  موشگافیوں کاراستہ ہموار کرے گا ۔ آئین کی پندرھویں ترمیم کےلائے جانے کےجواسباب اورعوامل ہیں ،ان کا معروضی جائز اس ترمیم کی افادیت کوظاہر کرتا ہے۔ 

(7) اسلام پسند طبقات نےپندرھویں ترمیم  کےبل کی موجودہ شکل وصورت کوبالعموم سراہا ہے۔ البتہ بعض نےاس بارے رائے  کاظہار کیا ہےکہ ا س بل میں شریعت کو نافذ کرنے کےطریقہ کو وضاحت سےبیان نہیں کیا گیا۔معروف عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کےبقول:

’’ حکومت نےآئین میں پندرھویں ترمیم کاجوبل قومی اسمبلی سےمنظور کرایا یہ اگر چہ اس لحاظ سےہرمسلمان کےلیے خوش آئند ہےکہ اس میں قرآن وسنت کوبالا ترقانون  تسلیم کرکے ملک کی غالب اکثریت کےجذبات اورعقائد کااحترام کیاگیا ہےلیکن چونکہ اس ترمیمی بل میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی قانون یاعدالتی فیصلے کےقرآن وسنت کے موافق یامخالف ہونے کا فیصلہ کون کرے گا، اس لیے ضروری تھا کہ اس ترمیمی بل میں نفاذ شریعت کاواضح طریقہ ذکر کیا جاتالیکن افسوس کہہ یہ اہم ضرورت اس ترمیمی بل میں پوری نہیں کی گئی ۔اگر ہماری حکومت نفاذِ شریعت کےمعاملے میں واقعی مخلص ہےتواسے چاہیے کہ دستور میں ترمیم کےذریعے اس بات کی وضاحت کرے کہ قانون یا عدالتی فیصلے کے قرآن وسنت کےموافق یامخالف ہونے کا فیصلہ ہونے کا کون کرے گا ،، 

ان معروضات کےاظہار کےبعد مفتی محمد رفیع عثمانی کلماتِ تعریف یوں ادا کرتے ہیں :

’’ دینی  جماعتوں اورتنظیموں کوحکمران جماعت کےساتھ سیاسی اختلافات ہوچکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہےکہ دستور میں قرآن وسنت کوصریح الفاظ میں سپریم لاء قرار دیا جارہا ہے۔ اس نفاذ شریعت کی راہ ہموار ہوگی اورقراردادِ مقاصد کی تکمیل میں مزید آسانیاں  ہوں گی ۔ دستور کےآرٹیکل (239) میں ترمیم کی تجویز واپس لےکر حکومت نےایک مستحسن فیصلہ کیاہےاور دستور کوبازیچہ اطفال بننے اور من ماتی ترمیموں کےخطرے سےبچایا ہے،، 

(شریعت بل : ’’نئی ترمیم کےبعد’’روزنامہ جنگ لاہور 19؍اکتوبر)

مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نےپندرہ ہویں ترمیم کےبل کےمتعلق جن خیالات کااظہار کیاہے، دینی جماعتوں کی اکثریت نےاس سےاتفاق ظاہر  کیا ہے۔

(8) قرآن وسنت کی بالا ترین قانون کی حیثیت سےنافذ کرنے کو مبارک اقدام 

اقدام قرار دینے کے باوجود اس کےعملی نفاذ اورعدالتوں کےتشریحاتی کردے کےبارے میں ابہام مکمل طورپر رفع نہیں کیا جاسکا ہے۔ سپریم کورٹ کےشریعت اپیلیٹ  ینچ کےرکن جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب نےاس ضمن میں چند غورطلب مسائل اٹھائے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’ قرآن وسنت کودستور طورپر ’’ سپریم لا ء، تسلیم کرنا بلاشبہ قابل خیر مقدم ہےلیکن سوال یہ ہےکہ دستور میں اس دفعہ کےلکھ دینے سےکیا عملی اثرات مرتب ہوں گے؟ اورعملی طورپرقرآن وسنت کی بالا تری کوکس طرح نافذ کیا جائے گا؟ اس کےبارے میں یہ دفعہ (2ب) بالکل خاموش ہے............ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ رائج الوقت قوانین میں سے جوقوانین قرآن وسنت سےمتصادم ہوں گے ، وہ قابل عمل نہ ہوں گے، بلکہ ان کی جگہ قرآن وسنت پرمبنی قانون واجب العمل ہوگا۔یہ صورت بھی یقیناً خوش آئندہ ہے لیکن سوال یہ ہےکہ اس عمل کاطریقہ کیا ہوگا ؟ یہ فیصلہ کون کرےگا کہ کون سارائج الوقت قانون قرآن وسنت سےمتصادم ہے؟ کیاملک کی ہرعدالت خواہ وہ  مجسڑیٹ یاسول جج یا سیشن جج سطح کی ہو، اس بات کی مجاز ہوگی کہ وہ کسی بھی قانون کےبارے میں فیصلہ دے دے کہ یہ قانون قرآن وسنت سےمتصادم ہونےکی  بناء پرقابل عمل نہیں ہے۔ 

اگر ہرچھوٹی عدالت کی یہ اختیار دینا مقصود ہےتوکیا موجودہ عدالتوں کی تعلیم وتربیت اس طرح ہوئی ہےکہ وہ درست طورپر ایسے فیصلے کرسکیں ۔اگر مقصد یہ نہیں ہے،بلکہ مقصد یہ  ہےکہ صرف ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کی سطح کی عدالتوں کویہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا تواول تودستور میں اس کی صراحت ہونی چاہیے ، دوسرے اس صورت میں وفاقی شرعی عدالت اورسپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ ینچ کا مصرف کیا رہ جائےگا؟ بہ حالاتِ موجودہ دستور پاکستان میں کسی قانون کوقرآن وسنت سےمتصادم ہونے کی بناء پرمنسوخ کرنے کااختیار صرف وفاقی شرعی عدالت اورسپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ ینچ کوحاصل ہے۔ اگر موجودہ پندرھویں ترمیم کےبعد بھی یہ اختیار صرف انہی عدالتوں کوحاصل رہتا ہےتو اس ترمیم سےنیا فائدہ کیا حاصل ہوگا،، 

’’ مجوزہ پندرھویں ترمیم کےنفاذ کےبعد یہ بنیادی سوالات بدیہی طورپرپیدا ہوں گے اورجب تک ان  کا واضح جواب خود دستور میں موجود نہ ہو، اس سے عدالتی سطح پرشدید ابہام ( Confusion ) پیدا ہوگا ۔ عرصہ دراز تک عدلتیں اس دفعہ کی تشریح وتعبیر میں حیران وسرگرداں رہیں گی ،، 

( ماہنامہ الصیانہ ؍ اکتوبر 98 ء ) 

مولانا تقی عثمانی صاحب نےپندرھویں ترمیم کےبل میں موجود ’’خلا،، کی نشاندہی کی ہے، جہاں تک اس بل کی افادیت کا تعلق ہے، اس سے  انہیں بھی انکار نہیں ہے۔ان میں معروضات وقیع ہیں لیکن اس کےلیے آئین میں ترمیم کامزید بل لانے کی ضرورت ہے۔ 

(9) دیں جماعتوں کےنمائندوں نےپندرھویں آئینی ترمیم کی درستگی کےلیے 

چند تجاویز حکومت کےغورفکر کےلیے مرتب کی تھیں ۔ ’’ محدث،، کےاکتوبر کےشمارے میں یہ شائع بھی  ہوئیں ۔ ان کی ایک اہم سفارش یہ تھی کہ اس جملے’’قرآن وسنت پاکستان کےاعلیٰ ترین قانون ہوں گے،، کےمتصلاً بعد یہ الفاظ ’’کوئی قانون بشمول دستوری قانون یا رسم ورواج جس کی قانونی حیثیت ہو، اگروہ قرآن وسنت کےمتضاد ہوتو وہ اس تضاد کی حد تک کالعدم ہوگا ،، لائے جائیں ۔ان کے خیال میں اس طرح آرٹیکل 2ب کی مثبت حیثیت کےساتھ اس کی سلبی حیثیت (Prohibition )  بھی واضح ہوجائے گی ۔ قومی اسمبلی سےمنظور شدہ بل میں یہ پہلو شامل نہیں کیا گیا ۔

بعض آئینی ماہرین کی رائے میں آئین کاآرٹیکل 227 یہ مقصد پورا کرتا ہےلیکن یہ رائے درست نہیں ہےبلکہ ضروری تھاکہ اس سلبی جملے کوترمیم میں شامل کیاجاتا کیونکہ آرٹیکل 227 کی ذیلی شق ( 2) میں یہ ( Provision ) موجود ہےکہ اس آرٹیکل پرعملدرآمد اس طریقہ کار کےمطابق کیا جائے جو آئین کےاس حصہ میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں بنیادی حقوق کےضمن میں اگر آرٹیکل 8 میں یہ سلبی شرائط موجود ہیں کہ بنیادی حقوق سےعدمِ مطابقت رکھنے والا کوئی قانون اس تضاد کی حد تک کالعدم ( Viod ) تصور ہوگا ۔ تواسلامی قانون کی بالاترحیثیت کےلیے موجود ہ ترمیم میں یہ اضافہ ہونا ہی چاہیے ۔

(10)آ‎رٹیکل 2(ب) کےاضافے کےساتھ اگر آرٹیکل 8 میں ذیلی شق(6) کااضافہ کردیا جاتا کہ ’’ بنیادی حقوق کاتعین قرآن وسنت کی روشنی میں کیا جائےگا ،، توبنیادی حقوق کی وسعتوکی تحدید ہوجاتی اورظہیرالدین 

کیس میں سپریم کورٹ نےجورائے دی تھی کہ بنیادی حقوق اسلام کےتابع ہیں ، اس کوآئینی حیثیت بھی مل جاتی ۔ یہ بات آئین کی پندرھویں ترمیم کےمتعلق اسی تصور پرمبنی ہےکہ اسلام کوآئین میں ضروری تحفظات فراہم کردئیے جائیں تاکہ اس عدم صراحت سےکوئی من مانا مطلب اخذ نہ کیا جاسکے۔ وگرنہ قرآن وسنت کےسپریم لاء بن جانے بعد بنیادی حقوق خودبخود اسلام کےتابع ہوجاتےہیں ۔ اب آرٹیکل 25کےتحت مساواتِ مردوزَن کےتصور کی تعبیر بھی قرآن وسنت کی روشنی میں کرنی پڑے گی ۔ 

آئین کی پندرھویں ترمیم میں باقی بقض نقائص کی نشاندہی ، اس کی حمایت ومخالفت میں آراء اوراس کےمتعلق خدشات اوراس کی ضرورت کاجائزہ لینے کےبعد آنے والی سطور میں درج ذیل نکات پرروشنی ڈالی گئی ہے: 

(1) پندرھویں آئینی ترمیم کی منظوری کےبعد اس کی فوری افادیت اوراہمیت 

(2) پاکستان میں نفاذِ شریعت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنےوالے اہم طبقات کی نشاندہی اورا ن کےمنفی کردار کوکم کرنے کےمتعلق تجاویز 

(3) سینٹ اورشریعت بل ......... نفاذِ شریعت کےلیے مطلوبہ عزم 

اسلامی تشخص کےحوالے سےحاصل ہونے والے فوائد 

(1) پاکستان کےسیکولر طبقہ کی ہاؤہو، مغرب زدہ خواتین کی متحرک اقلیت کی آہ وبکا ، سابق خاتون وزیراعظم کی امریکی صدربل کلنٹن کوتحریر ی درخواست،

شریعت بےزار نام نہاد دانشوروں کی قانونی موشگافیوں ، بعض تنخواہ دار اقلیتی شرپسندوں کی بلا جواز صدائے احتجاج ، میاں نواز شریف سے ناراض بعض مذہبی راہنماؤں کےعدم تعاون اورنظریہ پاکستان کےمخالف قوم پرست راہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات کےباوجود اگر حکومت قومی اُمنگوں کی تکمیل کرترجیح دیتے ہوئے قومی اسمبلی سے نفاذِ شریعت بل پاس کروانے میں کامیاب ہوئی ہےتو اس کایہ قدم پاکستان کی اسلامی قانون سازی کی تاریخ  میں ایک تاریخی اورغیر معمولی کارنامہ کہلائے جانے کامستحق ہے۔ 

(2) اس کامیابی کی فوری برکات میں ایک یہ بھی ہےکہ پاکستان میں مغرب کی قانونی روایت سےمرعوب ومتاثر ایک مخصوص روشن خیال طبقہ ، جسے 

پاکستانی ثقافت کوبین الاقوامی دھارے میں شامل کرنےکاجنون لاحق ہے، اب اس فنکارانہ عیاری سےتعبیرات وتاویلات کےذریعے جدید مغربی قوانین اورافکار کےمقابلے میں قرآن وسنت پرمبنی قوانین کی تحقیر کاشرمناک شغل جاری نہیں رکھ سکےگا اورنہ ہی منصب قضاء پرمتمکن کوئی ’’ روشن دماغ ،، دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات کی دیگر دفعات کےساتھ برابری اورعمومی حیثیت کاراگ الاپ سکےگا۔اس اعتبار سےآئین کی پندرھویں ترمیم عدالتی سیکولرازم کی حوصلہ شکنی کاباعث بھی بنے گی ۔ 

(3) موجود ہ ترمیم پاکستانی سماج  کی لرزہ براندام عمارت کی طرف لا دینیت اور

مغربی بالاحیت  کےبڑھتے ہوئے خوفناک ریلے کوپیچھے دھکیلنے کی ایک اہم کاوش ہے۔پارلیمنٹ سےپندرھویں ترمیم کےپاس ہونے کےبعد حکومت بالفرض دیگر عملی اقدامات سےکوتاہی برتتی ہے،تب بھی اس کی اہمیت اورفوائد اپنی جگہ پرقائم رہیں گے۔ درحقیقت 1949ء میں قراردادِ مقاصد کی منظوری کی  شکل میں پاکستان میں اسلامی معاشرے کےقیام کےجوخشتِ اوّل رکھی گئی تھی، پندرھویں ترمیم اس قانون عمارت کےایک اہم حصہ کی تعمیر کادرجہ رکھتی ہے ۔ سیکولرازم اورمادیت پسندی کی یلغار سےبرسرپیکار پاکستانی معاشرہ اسلامی تشخص کی بحالی کی طرف ایک بہت بڑا قدم اٹھانے کےقابل ہوسکتا ہے،بشرطیکہ صدقِ دل سے قانون سازی کےذریعے سےاس آئینی ترمیم کےتقاضے پورے کئے جائیں ۔ 

(4) جب سے امتِ مسلمہ سیاسی عروج اورعلمی قیادت کےمنصب سےمحروم ہوئی ہے، اس وقت سے لے کراب تک جوعظیم ترین اور مشکل ترین مسئلہ 

اسے درپیش رہا ہے ، وہ نفاذ شریعت کامسئلہ ہے۔ اسلامی شریعت کی گاڑی  مسلمانوں کی اپنی غفلت اورکوتاہی عمل کی بنا پرکچھ اس انداز میں پٹری سے اتری ہےکہ دوبارہ اپنی جگہ پرواپس نہیں پہنچ سکی ہے ۔ نفاذِ شریعت  کامسئلہ محض نظری اورفکری مباحث کامسئلہ نہیں ہے، یہ درحقیقت امت مسلمہ کےوجود ، روح اورتشخص کی بقاء کااہم ترین روشن نکتہ ہے۔ 

یورپ زبان، رنگ ونسل اورعلاقے وغیرہ کوایک قوم کےاجزائے ترکیبی قراردینے پرجتنا بھی اصرار کرے، گذشتہ پچاس برسوں کی تاریخ  میں  مغربی لبرل جمہوری نظام اورروسی اشتراکی نظام کےدرمیان جس قدر سروجنگ برپا رہی ہے، اس کےپس پشت اہم کردار ’’نظریات ،، نےہی ادا کیا ہے۔ روس کےمقابلے میں امریکہ اورمغربی یورپ کےترقی یافتہ ممالک کااتحاد نظریاتی بنیادوں پرقائم ہوانہ کہ علاقائی بنیادوں پر۔چین کےبارے میں ایک یورپی باشندے کا پہلا تاثراس کےاشتراکی تشخص کےبارے میں قائم ہوتاہے نہ کہ اس کےزرد نسل یا کوتاہ قیامت قوم  ہونے کا ۔ آج اگر مسلمان اپنا الگ وجود قائم رکھنے میں کسی بھی درجے میں سنجیدہ ہیں توان کی بقا کاتمام ترانحصار نفاذِ شریعت کےنصب العین سے وابستگی پرہے۔

(5) امتِ مسلمہ بالعموم اورپاکستان کےعوام بالخصوص، عرصہ دراز سےنفاذِ 

شریعت کےخواب دیکھتے آئے ہیں ، وہ اب تک اسی موہوم امید کےسہارے زندہ ہیں کہ ان کی زندگیوں میں اسلامی نظام کاچراغ ایک دفعہ پھر ضوفشانی کرےگا، شریعت بل سےان کی امیدوں کےبجھے ہوئے چراغوں میں روشنی کی ایک لوپھر سےروشن ہوگئی ہے، اب ضرورت اس کوحقیقی رنگ ونور عطا کرنے کی ہے۔

(6) پاکستان میں پندرھویں ترمیم کی منظو ری کےبعد ان عناصر کی حوصلہ شکنی ہو

گی جوآج بڑے دھڑلے سےاسلامی شعائر کامذاق اڑاتےہیں ۔ ان کےدلوں پراسلامی قوانین کی ہیبت اوردبدبہ قائم ہوجائے گا ۔ ان کی اباحیت مطلقہ اوربے باکی میں کمی واقع ہوجائے گی ۔ لیکن یہ بھی تب ہی ہوگا جب حکومت اس سلسلے میں مخلصانہ اقدامات پروئے کارلائےگی ۔ 

(7) مزید برآں ایک ایسے دور میں جب اقوام ِ متحدہ کےنام نہاد انسانی حقوق کےاعلامئے کوکرۂ ارض میں بسنے والے تمام انسانوں کی ہدایت کاواحد قابل اعتبار معیار قرار دیئے جانے کا پروپیگنڈہ اپنےعروج پرہواورروشن خیالی 

کےاس عالمی جنون میں مذہبی قوانین کوامتیازی قوانین کہہ کرا ن کی مذمت کی جارہی ہو، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نفاذِ شریعت کےایک نئے دورکے آغاز کا ببانگِ دھ اعلان کیاجائے  ، تویہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ امریکی کانگریس نےحال ہی میں قانون پاس کیا ہےجس کی رو سے امریکی حکومت کسی بھی ملک کےامتیازی قوانین کوختم کرانے کےلیے بھرپوراقدامات کرنے کی مجاز قرارپائی ہے۔ ا ن حالات میں پندرھویں ترمیم امریکی استعمار کےان عزائم کےخلاف ایک کھلم کھلابغاوت اورسرکشی کےمترادف ہے۔ مغرب کی ثقافتی استعمارات اورجارحانہ خودپسندی کےخاتمے کی غرض سےاسلامی دنیا میں جوبھی قدم اٹھایا جائے گا ، اسے مستحسن ہی کہنا چاہیے ۔

............(2)...........

شریعت کی راہ میں مزاحم طبقات 

تحریک ِ پاکستان کےدوران محمد علی جناح اوردیگر مسلما ن اکابر ین نےمتعدد باراسلام کواپنی منزل، قرآن وسنت اوراسلامی تہذیب وتمدن کی بالا دستی کےقیام کوپاکستان کامشن اورہدف قرار دیا ۔ 

1945ء میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سرحد کےطلبہ سےخطاب کرتےہوئے محمد علی جناح نےواضح طورپر کہا : 

’’ پاکستان کامطلب صرف آزادی وحریت کاحصول نہیں ہےبلکہ اسلامی نظریے کا تحفظ بھی ہےجس کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہ قیمتی تحفے اوربیش بہاخزانے ہمیں ورثے میں مل ہیں ،، 

اسی سال عیدالفطر کےموقع پرمسلمانوں سے خطاب کرتےہوئے کہا : 

’’ بجز ان لوگوں کےجوبے خبر ہیں ، ہرشخص آگاہے کہ قرآن مجید مسلمانوں کاہمہ گیر وبالا ترقانون اورمکمل ضابطہ حیات ہے۔ مذہبی بھی ، معاشی ومعاشرتی بھی ، دیواتی بھی،  فوجداری بھی ، تجارتی بھی ، عدالتی اورتعزیری بھی .......... یہ ضابطہ زندگی کی ایک ایک چیز کوباقاعدگی اور ترتیب عطا کرتا ہے،، 

آب کےسینکڑوں بیانات نظریہ پاکستان کےاس تصور کوواضح کرتےہیں ۔ لیکن آج ایک مخصوص طبقہ پاکستان میں ’’قائداعظم کااسلام ،، نافذ کرنے کانامعقول مطالبہ کررہا ہے۔گویا آپ کسی مخصوص اسلامی نظریے کےحامی وموید تھے ۔ حقیقت یہ ہےکہ محمد علی جناح کےسامنے قرآن وسنت کی تعلیمات سےمخالف ومتصادم نفاذِ شریعت کا کوئی نقشہ نہیں تھا ۔ 

پاکستا نی معاشرے کی اسلامی قوانین کےتحت صورت گری کےعظیم مشن کانئے عزم سےآغاز کرنے سےپہلے یہ بھی ضروری ہےکہ ان اسباب وعوامل اورطبقات کی نشاندہی کی جائے جوپاکستان  میں نفاذِ شریعت کی راہ میں اب تک رکاوٹ بنےرہےہیں :

(1) اشتراکی شرپسند: 

قیام پاکستان کےفورابعد نئی مملکت خداداد کی دستوری بنیادوں کے تعین وتشکیل کےکام کاآغاز ہوا توسب سےپہلے جس طبقہ نےپاکستان کےاسلامی 

تشخص  کونشانہ بنایا  ، وہ اشتراکی طبقہ تھا ۔ مسلم لیگ  کی صفوں میں گھسے ہوئے اشتراکی شرپسندوں نے میاں افتخار الدین کی قیادت میں پاکستان کوسیکولر ریاست بنانے کےلیے  جارحانہ پروپینگنڈھ کا آغاز کردیا ۔ ان حضرات نےدستور ساز اسمبلی میں مسلسل اودھم مچائے رکھا ۔ ہندو اور عیسائی اقلیت سےتعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی کو اشتراکیوں کی پشت پناہی حاصل رہی ۔ مارچ 1949ء میں قرارداد مقاصد منظور ہوگئی اورپاکستان کے اسلامی تشخص اورحیثیت کی دستوری بنیادرکھ دی گئی مگر اشتراکی شرپسندوں کی ریشہ دوانیوں میں  کبھی کمی   نہ آئی ۔

اشتراکی فلسفہ مذہب کوافیون سمجھتا ہے۔ لہذا مذہب کی مخالفت اشتراکیوں کا’’دین وایمان ،، ہے۔ 

1950ء کی د ہائی میں ترقی پسندی کےنام پراشتراکی ادیبوں ، شاعروں اوردانشوروں نےنظریہ پاکستان کےخلاف ادب وسیاست ، معیشت ومعاشرت ، غرض ہرشعبہ میں زہریلے پروپیگنڈھ کوجاری رکھا ۔ ایوب خان مارشل لاء کےدوران سرکاری سطح پران کی سرپرستی کی گئی  ۔ ذوالفقار علی بھٹو کےدور میں سوشلزم کو’’ہماری معیشت ،، کادرجہ مل گیا تواشتراکیوں کی سرگرمیوں کادائرہ بھی وسیع ترہوگیا ۔ 

1977ء میں ضیاء الحق کےمارشل لاء کےنفاذ سےوقتی طورپراشتراکی پس منظر میں چلے گئے لیکن  1985 ء کےبعد سیاسی اورجمہوری آزادیوں کےاحیاء سےفائدہ اٹھاتے ہوئے اشتراکی گماشتے دوبارہ متحرک ہوگئے ۔ 

1989ء میں سوویت یونین کےخاتمے کےباوجود پاکستان کااشتراکی طبقہ اپنی پرانی ڈگرپر قائم ہے۔ وہ اب بھی اسلام کی مخالفت کا کوئی موقوع ہاتھ سےجانے نہیں دیتا ۔ پاکستان کےچاروں صوبوں میں قوم پرست تحریکوں کےراہنما مثلاً اجمل خٹگ ، رسو ل بخش پلیجو ، تاج لنگاہ اورخیربخش مری وغیرہ ماضی میں اشتراکیت کےپرچارک رہےہیں، حال میں بھی نفاذِ شریعت بل کی سب سے زیاہ مخالفت انہی قوم پرستوں کی طرف سےکی گئی ہے۔ 

(2) سیکولر طبقہ : 

دوسرا طبقہ سیکولراورلادین خیالات کامالک ہے۔ اس طبقہ سے تعلق رکھنے 

والے افراد اسلام سےایک رسمی ساتعلق ضرور رکھتےہیں لیکن ان کی فکر کااصل سرچشمہ تہذیب مغرب ہے۔ چرچ اورریاست کی علیحدگی  ان کی فکر کابنیادی نقطہ ہے، مذہب کویہ محض شخصی معاملات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کی اسلامی حیثیت ان کےنزدیک ’’مذہبی فسطائیت اورعلماء کی پاپا ئیت کودستوری پذیرائی ،، عطاکرنے کےمترادف ہے۔ سیکولرطبقہ سےتعلق رکھنے والے افراد صحافت ، سیاست ، تعلیم معیشت  اورہمیشہ اقتدار کےایوانوں میں متمکن رہےہیں ، پاکستان میں اسلامی قانون سازی کےخلاف یہ طبقہ ہمیشہ جدوجہد میں مصروف رہا ہے ۔ اس وقت بھی برسراقتدار طبقہ میں سیکولرافراد کاتناسب بےحد زیادہ ہے۔ 

(3) نوکرشاہی :

کسی بھی نظام یادستور کےمؤثر نفاذ کےلیے قوتِ نافذہ کردار بے

حد اہم ہے۔ آج کی جدید ریاست میں ’’ بیوروکریسی ،، قوتِ نافذہ کےفرائض انجام دیتی ہے۔ فرنگی سامراج کی تربیت یافتہ بیورو کریسی پاکستان بننے کےبعد بھی سابقہ روایات سےچمٹی رہی ہے۔ اپنی اجتماعی سوچ کے اعتبار سے بیورو کریسی مغرب زدہ ، سیکولراورعوام الناس سےالگ تھلک رہنے والی ہے۔ اسلامی قوانین سےمتعلق اس طبقے کاعلم نہ ہونے کےبرابر ہے۔

غلام محمد ، سکندر مرزا، چوہدری محمد علی ، ایوب خان ، اوریحییٰ خا وغیرہ سول اورفوجی بیورو کریسی  کےارکان تھے جوبالآخر صدارت اوروزارت ِ عظمیٰ کےمناصب پرقابض ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ 

صدر ضیاء الحق کوہمیشہ شکایت رہی کہ افسر شاہی اسلامی نظام کونافذ کرنے کےلیے مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی ۔ بیورو کریسی کی ریکر وٹمنٹ ، تربیت اورکام کا سٹائل نہیں بدلا  ۔ موجودہ بدعنوان اور مذہب بیزار افسرشاہی کی موجودگی میں نفاذشریعت کےنصب العین کاحصول بےحد مشکل ہے۔ یہ طبقہ اپنی روایت پسندی کی بنیاد پرہر طرح کی تبدیلی اوراصلاح کی راہ مزاحم رہا ہے۔ 

(4) عدلیہ :

دورِ جدید میں عدلیہ ریاست کےاہم ادارے کی حیثیت سےدستور وقانون 

کی پیش آمدہ معروضی حالات کی روشنی میں تعبیرات وتشریحات کےذریعے بالواسطہ ’’قانون سازی ،، کافریضہ انجام دیتی ہے۔ پاکستان میں عدالتی نظام کی کمزویوں میں ایک اہم خامی یہ  بھی ہےکہ بار کونسل اوراعلیٰ عدالتوں کےفاضل جج صاحبان زیادہ تر’’انگریزی قانون ،، اور’’طریقہ کار،، میں  تعلیم وتجربہ رکھتے ہیں ۔ 

کچھ استثنائی صورتیں ضرور ہوں گی ، لیکن عمومی طورپر اسلامی شریعت اورقانون کےمتعلق ان کا علم ان کےاعلیٰ مناصب کےتقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا .......

جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنی کتاب’’ آئیڈیالوجی آف پاکستان ،، میں ہمارے جج صاحبان کی اس کمزوری کی نشاندہی کرتےہوئے لکھتےہیں :

’’ ہمارے جج صاحبان برطانوی نظام قانون میں ترتیت یافتہ ہیں اور وہ اسلامی قانون وفقہ کےبارے میں کوئی علم نہیں رکھتے ، وہ اس کی فنی باریکیوں اورگہرائیوں کےمتعلق بظاہر نا بلد ہیں ،، ( صفحہ 107 ) 

وفاقی شرعی عدالت کےایک سابق رکن جسٹس ظہورالحق نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ’’اسلامائزیشن کانفرنس ،، ( جنوری 1983 ء ) میں برملا اعتراف کیا کہ’’ہم ،،کامن لاء ،، کےجج ہیں ۔ 

ہمیں قوانین کاجائزہ لینے کےلیے ماہرین شریعت کی اعانت کی ضرورت رہتی ہے،،۔ اسلامی قوانین سے اس واجبی واقفیت کانتیجہ ہی تھا کہ حضور بخش بمقابلہ وفاق پاکستان کےمقدمے میں وفاقی شرعی عدالت نےفیصلہ دیا کہ ’’ رجم ،،(سنگساری) ’’حد،، نہیں ہے۔ 45 جید علماء پرمشتمل ایک وفد نےصدرِ پاکستان کوتحریر  ی احتجاج پیش کیا اورمطالبہ کیا کہ وفاقی شرعی عدالت میں اسلامی قانون کےماہرین کوبھی  شامل کیاجائے۔  ان کےپاس مطالبہ کوتسلیم کرتےہوئے تین علماء کووفاقی شرعی عدالت کا جج تعینات کیا گیا ۔ 

شروع ہی سے سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کےارکان کی اچھی خاصی تعداد ان جج صاحبان پرمشتمل رہی ہےجو سیکولر میلان رکھتےہیں ۔ سپریم کورٹ کےدوسرے چیف جسٹس ، جسٹس منیر احمد سیکولرازم کےچمپئن تھے ۔ انہوں نے اپنی تصنیف ’’جناح سےضیاء تک ،، میں زور دار طریقے سےپاکستان کوسیکولرریاست بنانے پرزور دیا ہے۔

سپریم کورٹ کےایک فاضل جج جسٹس حمود الرحمٰن کی زیرسرکردگی ایک ینج نےفیصلہ دیاکہ گوقراردادِ مصاصد سب سے اہم دستوری دستاویز اوراعلامیہ ہےمگر چونکہ یہ دستور کامؤثر حصہ نہیں ، اس لیے اسے بالادستی حاصل نہیں ۔ اسی طرح 1993ء میں جسٹس نسیم حسن شاہ کی صدارت میں سپریم کورٹ کےینچ   نےحاکم خان کیس میں قراردیاکہ ’’ 2۔ الف ،، بھی دستور کی دیگر دفعات کی طرح ایک دفعہ ہےجس کی روشین میں باقی  رفعات کاجائزہ نہیں لیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کےبعد شریعت کی حقیقی اورمکمل بالادستی  ہوا میں تحلیل ہوکررہ گئی ۔ آئین کی پندرھویں ترمیم کےجواز کےطورپر اس فیصلے کاذکر بھی کیا جارہاہے۔ گذشتہ  چندبرسوں کےدوران مغربی میڈیا کی یلغار  ، پاکستان میں مغربی سرمائے سےچلنے والی  ابن جی اوز کی غیر معمولی  چلت پھرت اورذرائع ابلاغ میں مغرب کےانسانی حقوق کےواویلا کی نشرواشاعت ، امریکہ اوردیگر یورپی ممالک کی بیچا مداخلت اورپاکستان معاشرے کوجدید خطوط پراستوار کرنےکی تحریک کےاثرات ہماری عدالتوں کےبعض فیصلہ جات میں بھی محسوس کئے گئے ہیں ۔ 

لاہورہائی کورٹ کےبعض جج صاحبان نےحال ہی میں نکاح میں والدین (ولی) کی اجازت ، عورتوں کےحقوق وخاندانی اقدار ، چادر اورچاردیواری کےتحفظ جیسے مقدمات میں جوفیصلے دیئے ہیں ، ان کی اسلامی حیثیت علماء کی رائے میں متنازع فیہ ہے۔پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں سیکولرجج صاحبان کی موجودگی نفاذ شریعت کی راہ میں ایک ممکنہ ( Potention )  رکاوٹ سمجھی جاتی رہی ہے ۔ 

(5) بازاری طبقہ :

فلم، ٹیلی ویژن  ، اخبارات کےفلمی صفحات اوردیگر ذرائع ابلاغ پرقابض ماورپدر آزادیوں سےمستفید ہونے والے ایک طبقے نےپاکستان میں ثقافت کےنام پرکثافت ، فن کے نام پر تعفن اورکلچر کےنام پرلچرپن  کوفروع دیاہے۔ جسم فروشی اوررقص  وسرود کےپیشے میں ملوت طوائفوں کےاڈے فلم اورمیڈیا میں کا م کرنےوالی اداکارؤں کی نرسریاں ہیں ۔نوجوان طبقے کواسلام سے برگشتہ کرنےاور انہیں لہوولعب کی طرف مائل کرنےمیں اس بازاری طبقے نےجومکروہ کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اسلام کےنام پرمعرضِ وجود میں آنےوالی ارضِ پاک پر’’ہیرامنڈی ،،جیسے 

جیسے علاقوں کا وجود  ایک ناسور ہےجس کونفاذِ شریعت کی سرجری سےختم کرنا بےحدضروری ہے۔ عورت کابدترین روپ طوائف کاپیشہ ہے، عورت کوجسم فروشی کےذریعے روز گاربنانے پرمجبور کرنا یا اس کی اجازت دینا انسانیت اورنسوانیت دونوں کی شرمناک توہین وتذلیل ہے۔ گھر سےفرار ہونے والی بدبخت لڑکیوں کے  حقوق کےتحفظ کےلیے تحریک چلانے والی مغرب زدہ بیگمات کی طرف سےعورت کی تذلیل کےاس پہلو پرخاموشی اختیار کرنا ان کےعورتوں کےحقوق کےچمپئن ہونے کےدعویٰ کوباطل ٹھہرانے کی قوی ترین دلیل ہے ۔ 

(6) اپوائی بیگمات : 

پاکستان میں طبقہ اشرافیہ سےتعلق رکھنے والی عورتوں کی ایک متحرک اقلیت

 کونقاذ شریعت سےشروع سےبیر رہا ہے۔پاکستان کےپہلے وزیراعظم کی بیگم صاحبہ،جولیاقت علی خان سےرشتہ مناکحت قائم کرنے سے پہلے ہندوتھیں ، نے قیام پاکستان کےفوراً بعد ہی عورتوں کے حقوق کےنام پرمغربی تہذیب کےعملی نفاذ کی تحریک شروع کردی تھی ۔ان کی تحریک سےوابستہ خواتین ’’ ایوائی بیگمات ،، کہلاتی ہیں، ایو ب خان کےدور میں نافذ ہونے والی قابل اعتراض عائلی قوانین  کےنفاذ کاسہرا بھی اونچے طبقہ کی اِن مغرب زدہ بیگمات کےسرہے۔ یہی بیگمات تھیں جنہوں نے ضیاء الحق مرحوم کےزمانےمیں اسلامی قوانین کےنفاذ کےخلاف محاذ قائم کیے رکھا ۔ 1990ء کےبعد مغرب کےزیر اثرپاکستان میں تحریک آزادی نسواں کی مبلغات میں ہوش رُبا اضافہ ہواہے۔ عورتوں کےحقوق کےنام پرآوازگی نسواں کوفروغ دینے والی این جی اوز کا ایک گروہ پاکستان کےخاندانی نظام پرٹڈی دَل کی طرح حملہ آور ہوچکا ہے۔ امریکہ اوریورپ سےاین جی اوز کوکروڑوں روپےمل رہےہیں ، جس کی وجہ سےان کادائرہ کار روز برو ز بڑھتا چلا جارہا ہے۔ عورتوں کی یہ تنظیمیں مغرب کےانجنڈے کوعملی جامہ پہنا رہی ہیں ۔ نفاذِ شریعت کےخلاف افرنگ زدہ ماورپدر آزاد عورتوں نےجلسے جلوس نکالے اورخوب دھماچوکڑی کامظاہرہ کیا ۔ صیہونی لابی کےسرمائے سےچلنے والی ایسی این جی اوز کی کرتا دھرتا زیادہ تر  قادیانی عورتیں ہیں ۔وہ نہایت ہوشیاری سےمسلمان عورتوں کوگمراہ کررہی ہیں ۔نفاذِ شریعت کوعملی جامہ پہنانے کےلیے ضروری ہےکہ مغرب زدہ خواتین کےاس گروہ کی اسلام دشمن  سرگرمیوں کاسختی سےنوٹس لیاجائے اوران کومسلمہ حدود کاپابند کیا جائے ۔

(7) برسر اقتدار طبقہ : 

پاکستان میں نفاذ شریعت کےخواب کےشرمندہ تعبیر ہونے میں سب سےزیادہ رکاوٹ جس طبقہ نےڈالی ہے، وہ بلاشبہ برسراقتدار طبقہ ہے۔

پاکستان  کےحکمرانوں کی اکثریت اپنے فطری میلان کی وجہ سے اسلام کونظامِ حیات کےطورپر قبول کرنےکو تیار نہیں تھی ۔ وہ بےحد آزاد خیال اورلہولعب کےرسیاتھے۔وہ حکمران جنہیں اسلام سےدلی لگاؤ تھا اورجوبظاہر نفاذِ شریعت میں کسی حد تک سنجیدہ بھی تھے ، انہوں نے بھی اس عزم بالجز م ( Political Will ) کامظاہرہ نہیں کیا، کہ جو ایسے عظیم مشن کی تکمیل کا متقاضی تھا ۔ صدرضیاء الحق مرحوم کی اسلام پسندی اوران کاذاتی کردار بلاشبہ قابل تحسین تھا ، لیکن انہوں نے بھی اسلامی نظام کےنفاذ کےلیے نیم دلانہ اقدامات ہی کئے ۔ارباب بسط و کشاداسلام کی حقانیت کواپنے فکروعمل سےجب تک ثابت نہیں کریں گے،اسلامی شریعت کےنفاذ کے اہم فریضہ سےکبھی سبکدوش نہیں ہوسکیں گے ۔ آج بھی اہل اقتدار جب تک اسلام کواپنی زندگیوں میں نافذ نہیں کریں کے ، عوام الناس پراسلامی شریعت کانافذ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ 

میاں نوازشریف ، ممکن ہےاپنی تدبیر ی کی بنا پر سینٹ سےآئین کی پندرھویں ترمیم کومنظور کرانے میں کامیاب بھی ہوجائیں ، مگر موجودہ ٹیم کےساتھ شریعت نافذ کرنے کی ان کی صلاحیت کےبارے میں شبہات بدستور باقی رہیں گے ۔ 

(8) جاگیر دار:

پاکستان کاجاگیردارانگریزوں کا مراعات یافتہ طبقہ نفاذ اسلا کی تحریک کوہمیشہ 

اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتا رہا ہے۔ ہردور میں اقتدار کےمزے لوٹنے والایہ طبقہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ارضِ وطن پرنفاذ شریعت کاعمل پایہ تکمیل تک پہنچے ۔ یہ استحصالی طبقہ کسی نہ کی شکل میں نفاذ شریعت کوروکنے کی سازش میں شریک رہا ہے۔

مندرجہ بالا سطور میں محض چند اہم طبقات کی نشاندہی کی گئی ہےورنہ یہ فہرست خاص طویل ہے۔ 

اگر محولہ بالا طبقات کی اسلام دشمن سرگرمیوں کاہی مؤثر توڑ نکال لیا جائے توپاکستان میں شریعت اسلامی کےنفاذ  کی راہ خاصی حدتک ہموار ہوجائے گی ....... قابل غورمسئلہ  یہی ہےکہ کیاحکومت نفاذ شریعت جیسے اہم کام کےلیے مذکورہ طبقات سےٹکر لینے یاان کی سازشوں کوناکا م بنانے کاعزم رکھتی ہے  ؟ کیونکہ اس کےبغیر حکومت اپنے اس مقصد میں کامیاب توکجا ، کچھ پیش رفت بھی نہیں کرسکتی ۔

............(3) ....................

سینٹ اور شریعت بل ......... مطلوبہ عزم 

یہ ایک انتہائی ستم ظریفی بلکہ عظیم قومی المیہ ہےکہ وہ ملک جس کےقیام کاواحد مقصدہی اسلامی شریعت کا نفاذ تھا، اس کےایک آئینی  ادارے سینٹ کےارکان کاحکومت مخالف گروہ نفاذِ شریعت بل کی مخالفت پرکمرباندھے ہوئےہے۔ شرعی اوردینی اعتبار سے ان کا یہ رویہ کس قد ر قابل مذمت ہے، اس کا اظہار علماء کی طرف سے واشکاف الفاظ میں کیا جاچکا ہے، لیکن سیاسی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو یہ عوام کی امنگوں کی سنگین توہین  کےمترادف ہے۔ نہ جانے یہ حضرات عوام کی خواہشات کی توہین کےجرم کےمرتکب ہوکر بھی ان کی نمائندگی کےشرف سےبدستور معمور ہونے کادعویٰ کن اخلاقی بنیادوں پرکرتےہیں ؟ 

وزیراعظم نواز شریف اپنی بھربورمہم کےباوجود سینٹ میں دوتہائی اکثریت کوشریعت بل کی حمایت پرآمادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔ سینٹ کی منظوری کےلیے 85ارکان کی تائید ضروری ہے جب کہ حکومت اوراس کے حامی سینٹروں کی تعداد تازہ تخمینہ کےمطابق 48 سے زیادہ نہیں ہے۔

میاں نواز شریف سینٹ کےارکان کےتائید حاصل کرنے کےلیے ترغیبات وترہیبات (Threats ) دونوں کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اسلام آباد کےکنویشن سنٹر میں پاکستان بھرکےعلماء کوجمع کرکے انہیں ترغیب دی تھی کہ وہ شریعت بل کےحق میں رائے عامہ کوبیدار کریں اورشریعت بل کےمخالفین کاناطقہ بند کریں ۔ ایک عوامی کےدوران انہوں نے  سینٹ کےمخالف ارکان کےگھیراؤ کی طرف بھی اشارہ کیا۔ نومبر کےدوسرے ہفتے کےدوران مالاکنڈ ایجنسی میں ایک  بہت بڑے عوامی اجتماع سےخطاب کرتےہوئے انہوں نے اس خواہش کااظہار کیاکہ وہ پاکستان میں طالبان کےطرز پرشریعت کانفاذ چاہتےہیں ........ 

کراچی میں انہوں نے نےدہشت گردوں کوسر عام پھانسی پرلٹکانے کےلیے شریعت کےنفاذ کی ضرورت کاباربار تذکرہ کیا ۔ ان کی یہ کاوِشیں اپنی جگہ پر قابل ستائش ہیں لیکن ان کی جماعت مسلم لیگ کی طرف سے شریعت بل کےحق میں فضا ہموار کرنے کےلیے جواجتماع جدوجہد سامنے آنی چاہیے تھی ، وہ ابھی تک مشاہدے میں نہیں آئی۔ان کےپاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہے۔ پنجاپ اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہ ہونے  کےبرابر ہے۔ صوبہ سرحد، بلوچستان اورسندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں ان کی جماعت کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ سینٹ میں  بھی   ان کےحامیوں کے تعداد 50 کےلگ بھگ ہے ۔ اگر میاں صاحب ان تمام حضرات کوتمام کام چھوڑ کر صرف ایک ہفتہ کےلیے ہی شریعت کی حمایت میں عوامی جلسے ،تقاریر ،پریس کانفرنس اورسیاسی اجتماعات منعقد کرنےکےلیے ہدایت کریں، توکوئی وجہ نہیں کہ شریعت بل کے مخالفین کےحوصلے پست نہ ہوجائیں ۔

مزید برآں وہ شریعت بل کےمخالفین کےتمام اعتراضاتت کےشافی جوابات کی تیاری کےلیے دانشوروں ، صحافیوں اورعلماء کی کمیٹیاں تشکیل دیں جوذرائع ابلاغ میں شریعت کی حمایت میں عقلی دلائل دے کررائے کوتشکیل دیں ۔ جذباتی اورنفسیاتی اعتبار سے فضا کواس قدر’’ چارج ،، کیا جائے کہ شریعت بل کےمخالفین کےپاس سوائے حمایت کےاورکوئی چارہ نہ رہے۔ ان کی اس قدر مذمت  اورحوصلہ شکنی کی جائے کہ انہیں پاکستان میں منہ چھپانے کوجگہ نہ ملے ۔

پاکستان کا سینٹ صحیح معنوں میں عوامی نمائندگان پرمشتمل ادارہ نہیں ہے۔ یہ وفاق کی بعض آئینی ضرورتوں کی  تکمیل کےلیے قائم کیا گیاہے۔صوبائی اسمبلیاں درحقیقت اس کےانتخابی کالج کا کردار ادا کرتی ہیں ۔ اصولی طورپر پاکستانی سینٹ امریکی سینٹ کےہم پلہ نہیں ہےکیونکہ امریکی سینٹ کےارکان کاانتخاب عوام براہِ راست کرتےہیں ۔ مزید یہ کہ امریکی ریاستیں ریاست ہائے متحدہ کےوفاق میں شمولیت سےپہلے  بالکل آزاد اورخود مختار ریاستوں کی صورت میں موجوتھیں ۔پاکستان کےصوبوں کی یہ پوزیشن نہیں ہے۔قیام پاکستان سےپہلے بلوچستان کوایک مکمل صوبے کادرجہ حاصل نہیں تھا ۔ صوبہ سندھ 1935ء تک بمبئی کاحصہ تھا ، صوبہ سرحد بھی  1910ء تک صوبہ پنجاپ میں شامل تھا، بعد میں کافی عرصہ تک اسے ابھی مکمل صوبے کادرجہ حاصل نہیں رہا ۔ اس کےعلاوہ ایک اور اہم فرق یہ ہےکہ پاکستان کا آئین پارلیمانی طرز کاہے اورپارلیمانی نظام میں قومی اسمبلی یعنی ایوانِ زیریں کوبرتری حاصل ہوتی ہے جیسا  کہ برطانیہ میں ہے۔ برطانیہ میں دارالامراء کوقانون سازی کےاختیارات نہ ہونےکے  برابر ہیں ۔ پاکستان سینٹ کےارکان کوان معروضی حقائق کونظر انداز نہیں کرناچاہیے ۔

اگر اصولوں کےسامنے رکھا جائے  تونفاذ شریعت جیسے اہم بل کوسینٹ کی منظوری کےتابع ہی نہیں ہونا چاہیے جس طرح کہ بجٹ کی منظور ی کامعاملہ ہے۔یہ بات توطے شدہ ہےکہ بجٹ کےمقابلے میں نفاذِ شریعت زیادہ اہم مسئلہ ہے،سینٹ کےپاس چند مخصوص اُمور ہونے چاہیں جن کافی الواقع تعلق صوبائی نظم ونسق اورصوبوں کےمرکز کےدرمیان حقوق واختیارات کی تقسیم سےہو ۔

سینٹ کی مخالف میں پیپلز پارٹی ایم ،کیو ، ایم،اے ، این ، پی اور بلوچستان کی بعض قوم پرست جماعتوں کےارکان پیش پیش ہیں ۔ پیپلز پارٹی توبعض معاویہ کاکردار کرتی رہے گی لیکن دیگر سینٹر ز کی طرف سے شریعت بل کی مخالفت افسوسناک ہے۔ایم کیو ایم کراچی کےشہریوں کی واحد نمائندہ جماعت  ہونے کادعویٰ کرتی ہے۔ اسے یہ خیال کرنا  چاہیے کہ کراچی کی آبادی کامزاج مذہب کی طرف خاصا مثبت ہے۔ ایم کیو ایم سےپہلے وہاں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کوہمیشہ نشتیں ملتی رہیں ۔ ایم کیو ایم کی طرف ان کی سیاسی جھکاؤ کےباوجود کراچی کےلوگ اسلام سےبرگشتہ نہیں ہوئے۔اب بھی وہاں کی مساجد نمازیوں سےآباد رہتی ہیں ۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اہل کراچی کےمذہبی جذبات کواُبھارنے کےلیے حکمتِ عملی مرتب کرے۔ اہل کراچی کوواضح کردینا چاہیے کہ مذہب اورزبان کےمقابلے میں قابل ترجیح کونسا امر ہے؟ ایم کیو ایم کےارکان کوشریعت بل کی حمایت پرآمادہ کرنے کےلیے مؤثر طریقہ ہی یہی ہےکہ اہل کراچی کی طرف سےہی ان پرعوامی دباؤ کوبڑھایا جائے ۔ اے این پی کے ارکان میں اگراخلاقی حمیت کاشائبہ بھی موجود ہوتاتو وہ سینٹ کےرکنیت سےمستعفی ہوجاتےکیونکہ مسلم  لیگ کےسہارے وہ وہاں پہنچے تھے ۔جب مسلم لیگ سےالگ ہوگئے توپھریہ رکنیت جاری رکھنے کاکوئی جواز باقی نہ رہا ۔

سینٹ کےآٹھ دس ارکان کےعدم تعاون کی وجہ سے شریعت بل کو مسترد کرنے کی اجازت  نہیں دی جاسکتی ۔ ان پرہر طرح کاسیاسی ، سماجی اوراخلاقی دباؤ قابل جواز ہے۔امریکہ میں پریشر گروپ سینٹ کےارکان پرہرطرح کادباؤ ڈالتے رہتے ہیں اور قانون  سازی پراثر انداز ہوتےہیں ۔ پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں حکومت کو یہ حکمتِ عملی ضرور اپنانی چاہیے ۔امریکہ میں آج بھی آزادی اظہار کے باوجود اگر’’ جمہوریت ،، کی مخالفت میں کوئی سینٹر اپنی رائے کااظہار کردے توامریکی رائے عامہ اس کاحشر نشر کرکے رکھ دے گی ۔ برطانیہ میں رائے عامہ سےکوئی فوجی جرنیل ملک پرقبضہ کرنےکاسوچ بھی نہیں سکتا ۔ آزادی اظہارکےنام پر پاکستان کی نظریاتی اساس کی مخالفت کی پاکستانی عوام کبھی گوارا نہیں کرینگے ۔ 

سینٹ کےارکان آرٹیکل 62 کےمطابق نظریہ پاکستان پریقین رکھنے کےپابند ہیں ۔

نفاذ شریعت بل کی مخالفت سےآئین کےمطابق بھی ان کی رکنیت منسوخ ہوجانی چاہیے ۔

اگرقومی اسمبلی میں آٹھ دس ارکان کی حمایت کی کمی کامسئلہ    ہوتا تو ان کےمخصوص حلقہ ہائے انتخاب   میں  جزوی ریفرنڈم یا ان کےحلقوں میں شریعت ریلی وغیرہ کےانعقاد کےذریعے انہیں حمایت پرمجبور کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا ۔سینٹر زکا چونکہ کوئی حلقہ انتخاب نہیں ، اسی لیے اس طرح کی حکمت عملی وہاں استعمال میں نہیں لائی جاسکتی ۔

 اب جبکہ ترمیمی بل سےآرٹیکل 239 کےمتعلق ترمیمی شقات حذف کردی گئی ہیں اور2(ب) کی حکومتی ہدایات جاری کرنے کی عبارت بھی نکال دی گئی ہے تو وہ لوگ جومیاں نواز شریف پرآمریت مسلط کرنے ، یا خلیفہ ؍ امیر المؤمنین کاروپ اختیار کرنےجیسے الزامات عائد کرتے رہےہیں ، وہ الزامات خودبخود بےبنیاد ہوجاتےہیں۔شریعت بل کےمخالفین اخلاقی بزدلی کاشکار ہیں وہ مختلف حیلے بہانوں سے شریعت بل کی مخالفت کررہےہیں ۔ 

اقلیتوں اورعورتوں کی مخالف بھی محض ایک ’’ متحرک اقلیت ،، کاپروپیگنڈہ ہے۔9؍نومبر کو یوم اقبال کی تقریب کےدوران جس جوش وخروش سےسینکڑوں عورتوں نےشریعت کےحق میں  نعرےلگائے ، میاں نواز شریف صاحب کواندازہ ہوگیا ہوگا کہ مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کےعلاوہ مسلمان خواتین کی بھاری اکثریت شریعت کےنفاذ کےبارے میں خاصی پرجوش ہے ۔ یوم اقبال کے موقع پرڈاکٹر اسراراحمد نے میاں نواز شریف کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے انہیں سینیٹ سے شریعت بل منظور کرانے کےلیے اس پالیسی کواپنانے کامشورہ دیا جو ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کےآئین کےمتعلق اپنائی تھی ، یعنی سب کوراضی کرنا ۔ میاں نواز شریف جب  سٹیج پرآئے توانہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کواندازہ نہیں ہےکہ قومی اسمبلی اورسینیٹ  میں کس طرح کےسیکولراورشریعت مخالف لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس کےبعد انہوں نے قومی اسمبلی کےایک رکن کی طرف سے حضور اکرم ﷺ کی شان  میں کہےگئے وہ الفاظ دہرائے جوبعد میں اخبارات میں شائع  ہوئے توحاضرین کاردِّ عمل جوار بھاٹا کی طرح سامنے آیا ۔ 

اگر میاں صاحب اپنی تخصی شہادت کی بنیاد پراس گستاخِ رسول ﷺ کےخلاف توہیں رسالت ک مقدمہ درج کراتے اورعدالت میں اس کی پیروی کرتے ، تونہ صرف اللہ کےہاں ان کا عمل قبولیت کا  شرف پاتا بلکہ اس طرح کےدریدہ دہنوں کوبھی خوب سبق ملتا اورسینٹ کےارکان کی جومنت سماجت ، وہ اب کررہےہیں اس کی ضرورت پیش نہ آتی ۔

میا ں  نواز شریف خوش قسمت ہیں  کہ خدا نے انہیں نفاذِ شریعت کا یہ نادر موقع فراہم کیا ہے،اگر وہ اس سےفائدہ اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں تویہ ہماری قومی سیاہ بختی ہوگی ، انہوں نے 1989ء میں ، جب وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے ، ایک صوبائی سطح پرنفاذِ شریعت کمیشن قائم کیا تھا ۔ اس کمیشن کےچیئرمین بیرسٹر خالد اسحٰق تھےجبکہ نائب چیئرمین موجودہ وزیربرائے مذہبی امور راجہ ظفر الحق صاحب تھے ۔ راقم الحروف کوان دنوں بیرسٹر خالد اسحٰق نائب چیئرمین موجودہ وزیر برائے مذہبی امور راجہ ظفرالحق صاحب تھے ۔  راقم الحروف کوان دنوں بیرسٹر خالداسحٰق سےمنسلک رہنے اورکام کرنے کاموقع ملا ۔ ایک مرتبہ راقم الحروف نےمسٹر خالد اسحٰق سےدریافت کیاکہ پاکستان میں اب تک نفاذ شریعت کاعمل کیوں نہیں ہوسکا ۔ جس کاجواب میں  نےاس وقت اپنی ڈائری میں لکھ  لیاتھا ۔ انہوں نے کہا :اس بارے میں قدرت نےہمیں بڑے مواقع عطا کیے ہیں لیکن ہم خود ہی چھوٹے ثابت  ہوئے ہیں ۔مذکورہ کمیشن اپنا کا م جاری نہ رکھ سکا کیونکہ ارکان کایہ اتقاق رائے تھا کہ وفاقی حکومت کی حمایت کےبغیر پاکستان یاپنجاپ میں نفاذ شریعت ممکن نہیں ہے۔ اب توالحمدللہ اس طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔اب دیکھنا یہ ہےکہ وہ کس طرح اپنے آپ کوتاریخ میں امر کرتےہیں   یا پھر خالد اسحقٰ صاحب کےالفاظ میں ’’چھوٹے ،، ثابت ہوتےہیں۔نفاذ شریعت بل کی منظوری کےلیے  خواہ مطلوبہ  ارکان کی حمایت میں زمین کےایک دوسرے کونے میں چکر کاٹنے پڑیں یاپھر مجبورا ً ریفرنڈم کےذریعے اس عظیم مشن کی تکمیل کرنی پڑے ، انہیں پاکستان قوم کےخواب کوہر صورت میں شرمندہ تعبیر کرنا چاہیے ۔

اکیسویں صدی کی   دہلیز پرپہنچی اسلامی دنیا اپنی نشاۃِ ثانیہ کی پہلی سیڑھی پرقدم رکھ چکی ہے ۔  امتِ مسلمہ میں مغر ب کےسامراجی اور استحصالی نظا م کےخلاف جس قدر بیزاری اورنفرت آح دیکھنے میں آئی ہے، اس سے پہلے کبھی اتنی شدت دیکھنے میں نہیں آئی تھی ۔ اسلامی دنیا میں اتحاد کےفقدان کےباوجود اسلامی شریعت کےدیے بعض ریاستو ں میں پہلے ہی روشن ہوچکے ہیں ۔ سعودی عرب ، ایران ، چیچنیا ، سوڈان اورحال ہی میں افغانستان میں طالبان نےاپنے اپنے مخصوص انداز اورڈھنگ میں اسلامی شریعت کو برترقانون کادرجہ دے کر اس کی عملی نفاذ کی صورتیں  بہم پہنچاتی ہیں ۔ ان ممالک میں نفاذِ شریعت کی برکات کاعملی مشاہدہ ،اگرچہ جزوی طورپرسہی ،ہرآنگھ کرسکتی ہے۔ سعودی عرب میں خلیج کی جنگ کی تباہ کاریوں اوراس ارض ِ مقدس میں موجود امریکی سامراجی افواج کےباوجود جرائم کاتناسب دنیا کی کسی بھی ریاست کےمقابلے میں  کم ہے۔ افعانستان میں خانہ جنگی کامکمل خاتمہ اگرچہ ابھی تک نہیں ہوسکا ، لیکن طالبان کےمخالفین بھی اس بات کو تسلیم کرتےہیں کہ ان کی حکومت کےقائم ہونے کےبعد ان کےزیر انتظام علاقوں میں امن عامہ ، اخلاقی جرائم اورعورتوں کےتحفظ کےمعاملات میں بہت زیادہ بہتری کی صورت رونما ہوئی ہے۔ آج کےدوری میں مسلمان کی واحد ریاست کاقیام ابھی امکانِ بعید نظرآتا ہےلیکن مختلف اسلامی ممالک میں انفرادی اورعلاقائی طورپر فروعی اختلافات کےباوجود نفاذِ شریعت کےامکانات کافی روشن ہیں ۔ مستقبل قریب میں جن مسلم ریاستوں میں نفاذ شریعت کےمتعلق پیش قدمی کی توقع کی جاسکتی ہے، ان میں پاکستان کانام سرفہرست ہے۔ ایٹمی طاقت بن جانے کےبعد پاکستان کےمسلمانوں کےخود اعتمادی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔

کسی بھی قوم کی نظریاتی اساس ، لادینی ، جمہوری ، اشتراکی ، سرمایہ دارانہ یامذہبی بنیادوں پرقائم ہو، اسے عملی جامہ پہنا نے کاخواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک وہ قوم اس کےنفاذ کی ضرورت کواپنی ’’موت وحیات ،، کامسئلہ نہ بنانے۔ اگربیسویں صدی میں اشتراکی نظام کی بنیادپر روس ، چین ، مشرقی یورپ ، مشرقی وسطی اورایشا کےکئی ممالک میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اورامریکہ اورمغربی یورپ کےممالک جمہوریت کواپنا  دین وایمان سمجھتے ہوئے اس کی عملی صورت کوقائم رکھنے میں کامیاب ہوسکتےہیں ، تومسلم ممالک میں اسلامی نظام کےنفاذ کےامکانات کوناقابل حصول قراردے کراسے مسترد کیونکر کیاجاسکتا ہے.............؟ 

حقیقت یہ ہےکہ اسلامی نظام  سےہماری وابستگی اورتعلق زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہاہے ، ایک نظام کومعاشرے میں نافذ کرنے کےلیے جوعزم ، ولولہ ،جوش وخروش اورپیہم جد وجہد درکار ہے، اگر آج بھی مسلمان اپنے اندر یہ جذبات پیدا کرلیں تواسلامی نظام کےنفاذ کوخواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

تاہم پاکستان جیسے اخلاقی سرطان میں مبتلا معاشرے کےلیے محض پارلیمنٹ سے شریعت بل پاس ہونے سےنفاذ شریعت کےتمام تقاضے نہ تو پورے ہوسکتےہیں اورنہ ہی یہ کامیابی اس صبر آزماکام کےتمام  مدارج کوطے کرنے کاباعث بن سکتی ہے۔ نفاذ شریعت کاعمل ایک عظیم چیلنچ سےکم نہیں ہے، اس سے عہدہ برآہونے کےلیے آہنی عزم ، متزلزل یقین ، خودِارادی ، فولادی اعصاب اورپہاڑ جیسا استقلال چاہیے ۔مکیاؤلی اپنی شہر ہ آفاق تصنیف ’’دی پرنس ،، میں  حکمران کوبالکل صحیح ہدایت کرتا ہے: 

’’ نئے نظام کومتعارف کرانے سےزیادہ کوئی چیز مشکل نہیں ہے،نہ ہی اس سےبڑھ کرکسی کامیابی کاحصول مشکل ہے، نہ ہی اس سےزیادہ خطرناک کوئی دوسرا معاملہ ہے ۔کیونکہ پرانے نظام سےمتمتع ہونےوالے تمام افراد ریفارمر(مصلح )کےدشمن بن جاتے ہیں اورنئے نظام سےفائدہ اٹھانے والے تمام لوگ محض نیم دلی سےحمایت کرتے ہیں ۔ اس نیم دلانہ حمایت کی ایک وجہ توان کےحریفوں کاخوف ہوتا ہےجن کی قوانین بھی پشت پناہی کرتےہیں ، دوسرے یہ کہ وہ حقیقی طورپر کسی ایسی چیز پریقین نہیں کرتے جب تک کہ وہ عملی طورپر اس کےفوائد کاتجربہ نہ کرلیں ،،