........ ذیل میں قرآن سے زائد احکام پرمشتمل چند احادیث کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں :
1 ۔ قرآن میں شراب کوحرام قرار دیا گیا ہےلیکن لفظ خمر سےبظاہر شراب کی اتنی ہی مقدار حرمت ثابت ہوتی ہےجونشہ آور ہو، چنانچہ ارشاد ہوتاہے:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ﴾( 97)
یعنی ’’ شیطان تویوں چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کےذریعے سےتمہارے آپ میں عداوت اوربغض واقع کردے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اورنماز سےتم کوباز رکھے،،.......
لیکن حدیث میں اس پریہ زائد حکم بیان کیاگیا ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے،’’ ماأسكر كثيره فقليله حرام ،، ( 98 )
2۔ آیت : ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ﴾ (99)
یعنی ’’ اور خشکی کاشکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں ہو،، ........... سے معلوم ہوتاہےکہ محرم کےلیے شکار مطلقاً حرام ہے لیکن قرآن اس پربالکل خاموش ہےکہ جوشخص غلطی سےحالتِ احرام میں شکار کرلے اس کی جزا کی نوعیت کیا ہوگی ؟ مگر حدیث بتاتی ہےکہ عمداً اورسہوا ً دونوں صورتوں میں جزا یکساں ہوگی ۔
3۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ﴾ (100)
یعنی ’’ اورجن شکاری کتوں کوتم تعلیم دو اور تم ان کوچھوڑو بھی اوران کواس طریقہ سےتعلیم دو جو تم کو اللہ تعالیٰ نےتعلیم دی ہے توایسے شکاری جانور جس شکار کوتمہارے لیے پکڑیں ، اس کوکھاؤ ،، ..............
اس آیت سے یہ پتہ چلا کہ اگر کتا باقاعدہ شکار کےلیے سدھایا ہوا نہ تو اس کا شکار حلال نہیں ہےلیکن قرآن اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے کہ اگر سدھایا ہواکتا شکار میں سےکچھ کھا لے تویہ شکار حلال ہوگا یا نہیں ؟ مگر حدیث بتاتی ہےکہ یہ شکار بھی حرام ہے۔ (101 )
4۔ قرآن کریم میں اشا د ہوتا ہے: ﴿ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾( 1029 يعنى ’’ اور (تمہارے لیے یہ حرام کیا گیا ہےکہ) تم دونوں بہنوں کوایک ساتھ ( نکاح میں ) جمع کرو ،، لیکن حدیث اس کےساتھ خالہ وبھانجی اورپھوپھی و بھتیجی کوبھی بیک وقت نکاح میں رکھنے سےمنع کرتی ہے۔
بظاہر اس اضافہ کی کوئی بنیاد قرآن میں موجود نہیں ہے، لیکن اگر(وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ ) کی علت پرغور کیا جائے تو نبی ﷺ کےاس اشاد کی اصل معلوم ہوجاتی ہے۔یعنی جس طرح دو بہنوں کو سوکنوں کی شکل میں رکھنا ان کےرشتہ اخوت کوقطع کرنے کےمترادف ہے، اسی طرح خالہ وبھانجی اور پھوپھی وبھتیجی کوایک ساتھ نکاح میں رکھنا بھی اسی علت کی حالت ہے ۔ ایک دوسرے موقع پر نبی ﷺ نےفرمایا بھی ہے:’’ وإذا فعلتم ذلك قطعتم أرحامكم ،،
یعنی’’ اورجب تم یہ کرو گے تواپنی قرابتیں کاٹ ڈالو گے ،، ( 103 )
5۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ ﴾ (104)
یعنی ’’ تم پرحرام کی گئی ہیں ........ اورتمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہےاور تمہاری رضاعی بہنیں ،، اس آیت میں صرف دورضاعی رشتے حرام قرار دیئے گئے ہیں حالانکہ حدیث میں ان کےعلاوہ بھی متعدد رشتے، رضاعت کی بنا پرحرام ہیں ( 105)
6۔ قرآن مجید میں ایک واضح اصول کےتحت نواقض وضو کا ذکر کیا گیا ہے لکن حدیث سے ملوم ہوتاہےکہ ان نواقضات کےعلاوہ ریح خارج ہونا اورنیند آجانا بھی نواقض وضو میں شامل ہیں ۔
٭ اب ذیل میں چند ایسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن میں قرآن کےظاہری مفہوم کوحدیث کی روشنی میں ترک کردیا جاتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى﴾ ( 106 )
یعنی ’’ اے ایمان والو ، تم پرقصاص فرض کیاجاتا ہے، مقتولین کےبارے میں :آزاد آدمی ، آزاد آدمی کےعوض میں اور غلام غلام کےعوض میں اورعورت عورت کےعوض میں ، ،
اس ٖآیت کےظاہری الفاظ سےیہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اگرکوئی مرد کسی عورت کوقتل کرڈالے تو وہ مرد قصاص میں قتل نہیں کیاجائے گا ، کیونکہ قرآن اس بارےمیں ساکت ہےلیکن حدیث میں یہ اضافی حکم موجود ہےکہ قصاص کےمعاملہ میں تمام مسلمان یکساں ہیں ۔ ’’ تتکافأ دمائھم ،، اس لیے مقتولہ کےعوض بھی قاتل کوقتل کیا جائےگا ۔ ( 107 )
﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا ﴾ (108 )
یعنی ’’ اپنی لونڈیوں کوزنا کرانے پرمجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ،، اس آیت میں (إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا ) سےبظاہر ایسا معلوم ہوتا ہےکہ اگر وہ لونڈیاں عفت اورپاکبازی کی زندگی گزارنے کےبجائے کسی اورسبب سےزنا پرآمادہ نہ ہوں توان کوبدکاری کےلیے مجبور کیاجاسکتا ہے، لیکن یہ درست نہیں ہےکیونکہ یہاں تحصُّناً کی قید اتفاقی اوراظہار واقعہ کےلیے ہے، احترازی نہیں ہے۔ (109)
﴿ حرمت علیکم .......... وربائبکم التی فی حجورکم﴾ (110)
یعنی ’’ تم پر حرام گئی ہیں ...... تمہاری بیویوں کی (پہلے خاوند سے ) وہ بیٹیاں جوتمہارے زیر پرورش رہتی ہوں،، لیکن حدیث سےواضح ہوتا ہےکہ ربیبہ لڑکیاں خواہ زیر پرورش ہوں یانہ ہوں بہرحال حرام ہیں ۔ اس آیت میں ’’ فی حجورکم ،، کی قید کسی قانونی پابندی کےاضافہ کےلیے نہیں بلکہ صرف اظہار ِ واقعہ کےلیے ہے،، (111)
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ﴾ (112 )
یعنی ’’ بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمر ہ کرے اس پر ذرا بھی گناہ نہیں ، اگر وہ ان دونوں نشانیوں کاطواف کرے،،.......
اس آیت سےظاہر ہےصفا مروہ کےدرمیان طواف ( سعی ) کرنے کاجواز معلوم ہوتاہےحالانکہ حدیث کی روشنی میں یہ سعی واجب ہے ( 133)
(5) ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ﴾ (114)
یعنی ’’ پس اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا اگرتم نماز کوکم کردو ، اگرتم کویہ اندیشہ ہوکہ کافر لوگ تم کوپریشان کریں گے ،،
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہےکہ صرف دشمن سےخوف کی حالت ہی میں نماز قصر کی جاسکتی ہے، حالانکہ حدیث بتاتی ہےکہ حالت ِ سفر میں خواہ دشمن کاخوف ہویانہ ہو، نماز قصر کی جاسکتی ہے، بلکہ بعض ائمہ کےنزدیک حالت سفر میں نماز قصر کرناواجب ہے۔
قرآن سےزائدہ احکام پرمشتمل ایسی احادیث نبوی کےیقینی طورپر واجب العمل ہونے کی دلیل محی السنہ علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی ﷫ کےالفاظ میں ملاحظہ فرمائیں :
’’ ومثال الثانى : آية الوضوء ، انها مدنية إجماعاوفرضه كان مكة مع فرض الصلوة وكآئة الجمعة فانها مدنية والجمعة فرضت بمكة كذا قيل والحكمة فى ذلك تاكيد حكم السابق بالآية ،،(115)
یعنی’’ دوسری مثال یہ ہےکہ وضو کی آیت متفقہ طورپرمدنی ہےحالانکہ وضو نماز کےفرض ہونے کےساتھ مکہ میں فرض ہوا تھا ۔ اسی طرح جمعہ کی آیت بھی مدنی ہے جب کہ جمعہ مکہ میں فرض ہوا تھا ، چنانچہ بیان کیاکیا ہےکہ اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہےکہ سابقہ حکم کوآیت نازل کرکے مؤکد کردیا جائے ،،
ان دو واقعات سے بخوبی ظاہر ہوتاہےکہ آیاتِ وضو، جمعہ نازل ہونے سے قبل بھی ان پرعمل کیاجاتا تھا، حالانکہ ان آیات کےنزول سے قبل تک ان احکام کاقرآن میں کوئی اشارہ تک موجود نہ تھا ۔پس معلوم ہواکہ عہد رسالت میں قرآن سےزائد احکام پرسنت نبوی کےمطابق مسلسل آٹھ سال عمل ہوتا رہا جواثبات ِ حکم میں سنت پرقطعی اعتماد کی واضح دلیل ہے، خواہ اس کامضمون قرآن زائد ہی ہو۔ حضرت مقدام بن معدیکرب سےمروی یہ حدیث بھی اس امر کی تائید کرتی ہے:
’’ قال رسو ل الله صلى الله عليه وسلم «أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ و ان ماحرم رسول الله كماحرم الله ،، ( 116 )
’’ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: آگاہ رہو مجھے قرآن دیا گیا ہےاوراسی کےمثل ایک اورچیز۔ عنقریب ایک سیر شکم آدمی مسند پرٹیک لگائے ہوئےیوں گویا ہوگا کہ قرآن کادامن تھامے رکھو، جوچیز اس میں حلا ل ہو ، اس کوحلال سمجھنا اورجوحرام ہو، اسے حرام سمجھو۔ لیکن خبردار رہو کہ جس چیز کورسول اللہ ﷺ نےحرام ٹھہرایا ہو،وہ بھی اللہ کی حرام کردہ اشیاء کی طرح حرام ہے ،،
قرآن سےزائد احکام پرمشتمل احادیث کےمتعلق جناب حمیدالدین فراہی کےنقطہ نظر کی وضاحت کرتےہوئے فراہی مکتب فکر کے ترجمان جناب خالد مسعود صاحب اپنے مضمون ’ ’ حدیث وسنت کافراہی منہاج،، میں لکھتے ہیں :
’’ اس کےبعد مولانا فراہی یہ اصول قائم کرتےہیں کہ اگر کسی حکم کاماخذ قرآن میں متعین نہ کیا جاسکے اورحدیث کاحکم قرآن کےخلاف نہ ہوبلکہ اس پراضافہ ہو تو یہ اضافہ اس بنا پرقبول کرلیا جائےگا کہ وہ اس نوروبصیرت کانتیجہ ہےجوحضور ﷺ کواللہ تعالیٰ کی طرف سے بطورِ خاص عطا ہوئی تھی ۔ ایسے احکام کوسنت میں مستقل اصل قرار دیاجائے گا کیونکہ ہمین اطاعت رسول ﷺ کےحکم دیاگیا ہے...... الخ ،،(117)
4۔ مخالفِ قرآن ا حادیث ( احادیث کی چوتھی قسم )
ایسی احادیث جوبظاہر قرآنی احکام سےمتصادم معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ تعارض حقیقی نہیں ہوتا بلکہ معمولی فکر وتدبر سےرفع کیاجاسکتا ہے۔چونکہ حدیثِ نبوی قرآ ن کریم کی شرح وتفسیر ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کےارشاد ( لتبین للناس مانزّل الیہم ) سےظاہر ہےاوریہ بھی طے شدہ امر ہےکہ یہ بیان وتبیین منجانب ِ اللہ ہی بذریعہ وحی انجام پاتی تھی ، پس جب قرآن اوراس کی شرح ،دونوں چیزیں ہی منجانب اللہ ہیں توان دونوں کا ایک دوسرے کےخلاف ہونا عقلاً محال ہوا ۔ قرآن میں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ﴾ ( 118 )
یعنی ’’ اگر یہ کلام غیراللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سارے اختلافات پاتے،،
حافظ ابن قیم ﷫ فرماتےہیں :
’’ وَنَحْنُ نَقُولُ قَوْلًا كُلِّيًّا نُشْهِدُ اللَّهَ تَعَالَى عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتَهُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُخَالِفُ الْقُرْآنَ وَلَا مَا يُخَالِفُ الْعَقْلَ الصَّرِيحَ، بَلْ كَلَامُهُ بَيِّنٌ لِلْقُرْآنِ وَتَفْسِيرٌ لَهُ وَتَفْصِيلٌ لِمَا أَجْمَلَهُ، وَكُلُّ حَدِيثِ مَنْ رَدَّ الْحَدِيثَ لِزَعْمِهِ أَنَّهُ يُخَالِفُ الْقُرْآنَ فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْقُرْآنِ مُطَابِقٌ لَهُ، وَغَايَتُهُ أَنْ يَكُونَ زَائِدًا عَلَى مَا فِي الْقُرْآنِ، وَهَذَا الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبُولِهِ ،، ( 119)
یعنی ’’ ہم اللہ عز وجل اورا س کے فرشتوں کوگواہ بناکر کلی طور پریہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں کوئی ایسی چیز نہیں ہےجو قرآن یا عقل کےمخالف ہو،بلکہ آں ﷺ کاکلام قرآن کی تبیین ، اس کی تفسیر اوراس کےاجمال کی تفصیل ہے۔ جس حدیث کوکسی نےیہ سمجھ کررد کیا ہے وہ مخالف قرآن ہے تودرحقیقت وہ قرآن کےعین مطابق ہے۔ زیاہ سے زیاہ یہ کہا جاسکتا ہےکہ ایسی احادیث قرآن سےزائد مضمون پیش کرتی ہیں اوران روایات کوقبول کرنے کا خودرسول اللہ ﷺ نےحکم فرمایاہے ،،
حافظ ابن قیم ﷫ سےبہت قبل امام شافعی ﷫ نےبھی اپنی مشہور کتا ب الرسالہ (120) میں اس موضوع پرانتہائی بسط سےروشنی ڈالی ہےاوربدلائل قوی ثابت کیا ہےک اگر کوئی حدیث محدثین کی شرط پرصحیح ہوتو کبھی بھی قرآن کےخلاف نہیں ہوسکتی ۔ بخوف ِِ طوالت ہم یہاں امام شافعی ﷫ کےتمام دلائل پیش کرنے کی بجائے صرف ان کےحوالہ جات اور اس ایک مختصر عبارت کونقل کرنے پرہی اکتفا کرتےہیں : " ’ ولم نجد عنه حديثين مختلفين إلا ولهما مخرج أو على احدهما دلالة بأحد ماوصفت إما بموافقة الكتاب أوغير ه من السنة أو بعض الدلائل " ( 121 )
حافظ الکندی﷫ امام ابن خزیمہ ﷫ سے نقل کرتےہیں :
’’ لا أعرف أنه روى عن النبى صلى الله عليه وسلم حديثان بأسنادين صحيحين متضادين فمن كان عنده فليأتنى به لا ولف بينهما ،، (122)
’’ مجھے کسی دوایسی حدیثوں کاعلم نہیں ہے جونبی ﷺ سےصحیح سند کےساتھ مروی ہوں اور باہم متضاد ہوں ۔ اگر کسی شخص کےپاس ایسی کوئی چیز ہوتو اسے میرے پاس لائے تاکہ میں ان کےمابین جمع وتطبیق پیدا کردوں ،،
اور ابن جبیر سےمروی ہے:
’’ مابلغنى حديث على وجهه الا وجدت مصداقه فى كتاب الله تعالى ،، (123 )
’’ میرے پاس ایسی کوئی حدیث نہیں پہنچی ہےکہ جس کا مصداق مجھے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ پایا ہو،،
اورابن ابی حاتم ﷫نے حضرت ابن مسعود سے تخریج فرمائی ہے:
’’ إذا حدثتكم بحديث أنباتكم بتصديقة من كتاب الله ،، ( 124 )
’’ جب میں تمہیں کوئی حدیث بیان کرتا ہوں توکتاب اللہ سے اسکی تصدیق بھی بتادیتا ہوں ، ،
امام ابن حزم ﷫ اندلسی نےبھی اس بارے میں میں کافی مفید بحث درج فرمائی ہے، چنانچہ محمدبن عبداللہ بن میسرہ کاقول نقل فرماتے ہیں کہ ........... حدیث کےتین قسمیں ہیں :
1 ۔ جوکچھ قرآن میں ہے اس پر زائد حدیث .............. یہ حدیث مضاف الی ما فی القرآن ہے، اس کااخذ کرنا بھی فرض ہے۔
3۔ جوکچھ قرآن میں ہے، اس کےمخالف حدیث ....... پس یہ مطرح ہے،،(125)
پھر اس قول کی زبردست تردید فرماتےہوئے لکھتےہیں :
’’ کسی خبر صحیح کےاحکام قرآن کےخلاف موجود ہونے کی اصلاً کوئی سبیل نہیں ہےہرخبر شریعت ہے ولا سبیل الی وجہ ثالث ،، ( 126 )
اورجناب امین احسن اصلاحی کےاستاذ جناب حمید الدین فراہی بھی جزوی طورپر اسی فکر کےقائل ہیں ، جناب ایک مقام پر فرماتےہیں :
’’ میں یقین رکھتا ہوں کہ صحیح احادیث اور قرآن میں کوئی تعارض نہیں ہے تاہم میں روایات کوبطور اصل نہیں بلکہ بطورِ تائید پیش کیا کرتا ہوں ۔ پہلے آیت کی تاویل مماثل آیات سے کرتا ہوں ، اس کے بعد تبعاً احادیث ِ صحیحہ کاذکرکرتا ہوں تاکہ ان منکرین کومعارضہ کی راہ نہ ملے جنہوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا ہے،، (127)
اوپر ہم نے جناب حمیدالدین فراہی صاحب کےمتعلق ’’جزوی پراسی فکر کےقائل ،، ہونے کا تذکرہ اس لیے کیا ہےکہ آں موصوف کےنزدیک جوحدیث بظاہر مخالف قرآن وارد ہو، وا اصلاً صحیح ہو ہی نہیں سکتی ، اگرچہ وہ اصولاً صحیح قرار پاتی ہو، لہذا اسے قبول نہیں کیا جائےگا ۔ تعارض کےحقیقی نہیں بلکہ ظاہری ہونےکی آں موصوف کےنزدیک ، غالباً کوئی گنجائش نہیں ہے، چنانچہ فرماتےہیں :
’’ .............. احکام کی ایسی رویات جن کی بنیاد نہ قرآن میں ملتی ہو اورنہ اس اضافہ کا قرآن متحمل ہوتاہواور وہ قرآن کی نصوص کےخلاف ہوں یاان کےماننے سےقرآن کاجلی یاخفی نسخ لازم آتا ہو ان کوترک کرنا ضروری ہوگا کیونکہ ان کی نسبت نبی ﷺ کےساتھ درست نہیں ۔ ان احکام کاحقیقت میں کوئی وجود نہیں ،، (128)
ایک اورمقام پر فرماتےہیں:
بعض روایات ایسی بھی نقل ہوگئی ہیں جو قرآن مجید کی اصل کوڈھانے والی ہیں ۔ایسی روایات کوقبول کرنا خود قرآن کا انکار کرنا ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہےکہ بہت سےلوگ قرآن کواس کی اصل سےپھیر دیں گے لیکن روایت کی تاویل کی جرا ت نہیں کریں گے۔اس کی خاطر بسا اوقات وہ صرف آیت کی غلط تاویل پرہی بس نہیں کرتے، بلکہ اس کے نظام کی قطع وبرید بھی کرڈالتے ہیں، حالانکہ جب اصل وفرع میں تعارض ہوتو کاٹنے کی چیز فرع ہوتی ہےنہ کہ اصل ،،
ذیل میں ہم اس قسم کی بعض احادیث جن پر خلاف ِ قرآن ہونے کاالزام ہےکوذکر کرتے ہیں اور ان کےمخالف قرآن ہونے کی حقیقت پرتبصرہ پیش کرتےہیں:
( آئندہ شمارہ میں )
حوالہ جات -----------------------
(97) المآئدہ 91 (98) سنن ابوداؤد مع عون المعبود ج 3 ص 368 ، جامع الترمذ ی مع تحفۃ الاحوذی ج 3 ص 104 ، سنن نسائی کتاب الاشربہ 25 مسندا حمد ج 2 ص 91 ، 167 وغیرہ ( 99) المآئدہ 4 ( 101) سنن ابوداؤد مع عون المعبود 3 ص68( 102) النساء 23 ( 103) صحیح البخاری مع فتح الباری ج 9 ص 160 ( 104 ) النساء 23( 105) صحیح البخاری مع فتح الباری ج 9 ص 139 ( 107 ) کما فی تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 210 (108) النور 33 ( 109) کما فی تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 289 ( 110) النساء 23 ( 111) کما فے تفسیر ابن کثیر جلد 1 ص 171 ، صحیح البخاری مع فتح الباری ج 9 ص 157 ( 112) البقرہ 158 (113) کما فی تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 199، صحیح البخاری ج 3 ص 497( 114) النساء 101 ابجد العلوم النواب ج 2 ص 637 (116) سنن ابوداؤد مع عنون المعبود ج 4 ص 328 ، جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج 3 ص 374 ، سنن ابن ماجہ ج 1 ص 6 ، سنن الدارمی د 1 ص 190 ( 117) رسالہ ’’ تدبر ،، لاہور عدد 37 ص 36 مجریہ ماہ نومبر 1991؁ء ( 118) النساء 82 ( 119) الصواعق المرسلہ لابن قیم ج 2 ص 529( 120) الرسالہ للامام شافعی ص 84، 86، 105 ، 108، 146، 172، 173، 198، 212، 221، 228، 230 ، 232، 564 ( 121) نفس مصدر ص 216 (122) الکفایۃ للخطیب ص 423، 433 ، الاجوبۃ الفاضلہ ص 184 185 ( 123) قواعد التحدیث للقاسمی ص 59 (124) نفس مصدر ( 125) الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم ص 197، 201 ( 126) نفس مصدر ص 201 ( 127) رسالۃ ’’ تدبر ،، لاہور عدد 37ص 37 مجریہ ماہ نومبر 1991؁ء ( 128 ) نفس مصدر ص 36 (129) نفس مصدر ص 34بحوالہ مقدمۃ نظام القرآن للفراہی ۔