’’ اسلامی تعلیم وتحقیق انسٹیٹیوٹ ،، کےزیراہتمام مورخہ 30؍ نومبر98؁ء کوایک عظیم تعلیمی سیمنار منعقد ہو ا جس میں قدیم وجدید نصاب ہائے تعلیم کاتقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اسی سیمینار میں زیرنظر مقالہ بھی پڑھا گیا جوہم ادارتی صفحات میں شائع کررہے ہیں۔ مجلس تحقیق اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ اس سیمینار کےاہم مقالات وتقاریر محدث کےشمارہ بابت فروری 99؁ء میں شامل ہوں گی ۔ ان شاء اللہ ! (ادارہ )
پاکستان میں آج جن حالات سےہم گزر رہے ہیں ، ان حالات میں اس موضوع کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہماری حکومت پندرھویں دستوری ترمیم کےذریعے ملک میں کتاب وسنت کی بالا دستی منظور کرانے کےلیے کوشاں ہے۔ اس بل کےمضمرات کیا ہیں ، اس کی کوئی ضرورت ہےیا نہیں ، یہ میری گفتگو کا موضوع نہیں تاہم اس تحریک اور ترمیمی بل کےآنے کا یہ فائدہ ضرور ہواہےکہ سنجیدہ فکر علمائے کرام سےلےکر عام مسلمان بھی اسلام کےلیے سوچنے ، اس پر غور وفکر کرنے اور اس سلسلے کی رکاوٹوں اورمشکلات پربحث وتمحیص کرتا نظر آتا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہےکہ ایک عرصہ سےیہ خیالات بڑی جسارت سے پھیلایا گیا کہ 14 صدیاں پرانا اسلام زمانے کاساتھ نہیں دے سکتا اوریہ جدید حالات میں قابل عمل نہیں اوراس وقت دنیا میں سیاسی اورمعاشی حالات اس نوعیت کےہیں کہ شریعت کی روشنی میں ان کا حل ممکن نہیں ۔
بلاشبہ عرصہ درراز سےمکمل کتاب وسنت کانفاذ متروک رہا ہے۔ جن ممالک میں شریعت ِ طاہرہ پرعمل ہوا ، اُن میں شریعت کےساتھ ساتھ غیر شرعی قوانین کی پیوندکاری بھی ہوتی رہی ۔ مگر قابل غور بات یہ ہےکہ یہ تاثر کیو ں اُبھرا ، اس کے اسباب کیا ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ایک بڑا سبب وہ ہےجوترک میں ’’کمالی ،، انقلاب پرتبصرہ کرتے ہوئے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم نے بیان فرمایا ہے،ان کےالفاظ ہیں :
’’ یہ اس عقیم نصاب ِ تعلیم کانتیجہ تھا جس نےنئے انداز کونظر انداز کیا اور ان علماء کاقصور تھا جوہنوز افلاطون اورارسطو کےدور کی جاروب کشی میں مصروف ہیں ۔دنیا بدل گئی ، علوم وفنون کہاں سےکہاں پہنچ گئے ، فکر ونظر کامعیار کچھ سےکچھ ہوگیا ہے، ذہنوں کےسانچے یکسر بدل گئے لیکن ہمارے علماء ہنوزیونانیوں کےپس خوردہ پرقناعت کئے ہوئے ہیں ۔ وہ عصر حاضر کےمسائل فرسودہ کتابوں سےحل کرنا چاہتے ہیں ۔ اورنئے سوالات کےجواب پرانی کتابوں میں تلاش کر رہےہیں ۔اس کاعلاج یہ نہیں ہےکہ ہم کسی کوبرابھلا کہیں اوربڑھتی ہوئی لادینیت پرصفِ ماتم بچھائیں بلکہ اصل خرابی کوسمجھیں ، زمانے کےتقاضوں سےآشنا ہوں ، نئے انداز نظر سےواقفیت حاصل کریں،جدید علوم وفنون کونصاب میں شامل کریں ، مذہب کےاصلی سرچشموں تک رسائی حاصل کریں ، تقلید ِ جامد کےشیوہ قدیم کوترک کریں، کتاب وسنت کی اصل نصوص کوغوروفکر کا مرکز بنائیں ، نظر میں وسعت اورفکر میں گہرائی پیدا کریں اورخود ساختہ رسم ورواج کی بندشوں سےآزاد ہوں .......... اگر ہم نے ایسا کرلیا توعصر حاضر کی مشکلات کوحل کرسکیں گے اور لادینی کے کے سیلاب کوروک سکیں گے ، ورنہ ہماری کہنہ دیواروں میں یہ صلاحیت نہیں ہےکہ وہ وقت کےاس تیز وتندوھار کوروک سکیں،،
غور فرمائیے کہ منطق وفلسفہ قطعاً دینی علوم نہیں ۔ خیرالقرون میں اس کا کہیں تصور نہیں ۔ بلکہ ان علوم کی یلغار سےجب مسلمان متاثر ہوئے توعلماء امت نےاسے اپنے نصاب میں شامل کیا۔ اس کےخدوخال کودیکھا پرکھا بلکہ آگےبڑھ کران میں مجتہد انہ بصیرت حاصل کیا اور ببانگِ دُھل اس کااعلان بھی کیا کہ محض منطق علومِ عقلیہ کی میزان نہیں ہے۔ جسکی تفصیل رد المنظقیین میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اسی طرح برصغیرپر 7؍ 8 سوسال تک مسلمان حکمرانوں نےحکومت کی ۔ان کی زبان عموماً فارسی تھی تویہاں پرصرف و نحو سےلےکر حدیث وقرآن پاک سےمتعلقہ علوم کوفارسی کالباس پہنا دیا گیا ۔ اورعربی کی طرح فارسی بھی ہماری درسی زبان رہی مگر ادھر کچھ عرصہ سے یہ فارسی نصاب آج مدارس کےنصاب سےخالی نظر آتا ہے،کیوں ؟...
جواب بالکل واضح ہےکہ یہ اب ہماری دفتری زبان نہیں رہی اوراس کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔ مسلمان حکومت کےخاتمہ کےبعد انگریز یہاں وارد ہوا، اس نے اپنی زبان کوہوادی اورانگریزی کودفتری زبان قرار دیا ۔ عموماً علمائے کرام نےحالات کے تناظر میں ، مذہب اورمسلمان کےتحفظ میں اس کی مخالفت کی ۔ مگر اس کمی کوانگریز حکمرانوں نےپورا کرنے اور اپنےمقاصد کی تکمیل کےلیے مسجد ومدرسہ سے ہٹ کر سکول،کالج وغیرہ قائم کئے اوران میں انگریز ی زبان کی تعلیم وتعلّم کولازم قرار دیا ۔ جس کانتیجہ ہےکہ پاکستان بن جانے کے50 سال بعد بھی ہم اس خلیج کوپاٹ نہیں سکے ۔ کالج اورمدارس کےطلباء میں یکسانیت نظر نہیں آتی ۔ ایک دوسرے کو دین سےدوربلکہ بےدین ہونے کاطعنہ دیتا ہے تودوسرا اُسے قدامت پسند اورعقل وفکر سےعاری تصور کرتا ہے ............... معاذاللہ !
میں یقین سےکہہ سکتا ہوں کہ یہ نصاب کچھ ترمیم کےساتھ مدارس کےنصاب میں شامل کرلیا جاتا توکالجز میں انگریزی تعلیم کےساتھ ساتھ جوانگریز ی تہذیب ہمیں نظر آتی ہےاورجس کاشکوہ بھی ہم بڑی شدت سے کرتےہیں ، اس کی آج نوبت نہ آتی ۔فارسی ، مسلمانوں کی زبان تھی اور 7 ؍ 8 سو سال انہوں نےہی برصغیر پرحکمرانی کی ۔ مسلمانوں کےساتھ ساتھ یہاں کی ہندوقوم نےبھی فارسی زبان سیکھی ، اس کے فوائد وثمرات بھی حاصل کئے مگر انہوں نے فارسی تہذیب کوقبول نہیں کیا ۔بلکہ اپنی اپنی تہذیب وثقافت کاتحفظ کیا ۔ ہم بھی اگر اپنے نونہالوں کومدارس کےدینی ماحول میں انگریزی کی تعلیم دیتے جو وقت کی ضرورت تھی توآج انہیں دین سے دوری اورلادینیت کاطعنہ نہ دیتے ۔
بہرحال عرض یہ کرنا تھا جیسا کہ مولانا ابوالکلام نےفرمایا کہ اگرہم آگے بڑھ کر اسلام کو پوری دنیا میں متعارف کرانا ہے اورپوری دنیا کےلیے اس کی ہدایت ورہنمائی سے روشناس کرانا ہےتو ضرور ی ہےکہ ......... ’’ جدید علوم وفنون کونصاب میں شامل کریں ۔ مذہب کےاصلی سرچشموں کی طرف رجوع کریں اورکتاب وسنت کےاصل نصوص کواپنی غور وفکر کامرکز بنائیں ،،
مسلمان اسلام کواللہ کاآخری دین، قرآنِ مجید وفرقان حمید کو آخری کتاب اورنبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کوآخری نبی تسلیم کرتا ہے۔ پھر جودین اورکتاب قیامت تک کےلیے اپنی بقااوراس پر عمل کرنے والی ایک جماعت کی موجودگی کی خبر دیتی ہے،جس دین کےاحکام پرہر عہد میں ایک جماعت عمل کرنے والی رہی ہواوررہے گی، ظاہر ہےکہ اس کےاحکام دائمی ہوں گے ، ہرزمانے اورہرعہدمیں ان پرعمل آسان ہوگا ۔ ایسی صورت میں بتلایئے اسلام کوکس طرح جامد تصور کیا جاسکتا ہے؟حب اسوہ حسنہ ﷺ قیامت تک کےلیے ہے توا س کا منطقی تقاضا ہےکہ اس تغیر پذیر دنیا میں کتاب وسنت کےاحکام پرعمل میں کوئی دشواری محسوس نہ ہو۔قدیم فقہی ذخیرہ بلاشبہ بڑی اہمیت کاحامل ہے اوراس سے استفادہ کا بھی کوئی صاحب ِ علم منکر نہیں مگر یہ بات بھی ایک بدیہی حقیقت ہےکہ ان قدیم فقہائے کرام کےسامنے نہ تو یہ جدید حالات تھے اورنہ ہی ان موجودہ تقاضوں سے وہ باخبر تھے۔انہوں نے اپنےدور کےمسائل پرغور وفکر کیا اور کتاب وسنت روشنی می انہیں حل کرنےکی کوشش کی۔لوگوں کی ضرورتوں کااندازہ کرکے کچھ آئندہ رونما ہونے والے واقعات کےبارے میں میں بھی انہوں نے مشورے دیے ۔ مگر کوئی کتنا ہی عالم اورصاحبِ فکر ونظر کیوں نہ ہو، وہ صدہابرس آگے کےحالات کاپورا اندازہ نہیں کرسکتا ۔وہ ماضی کےواقعات اورحالات کےتجربوں کی روشنی میں مستقبل کوقیاس کرکے کوئی رائے دے گا توقدم قدم پرغلطیوں کاامکان ہی نہیں، ان کاوقوع یقیناً ہوگا اورہوتا ربھی رہا۔یہی وجہ ہے احوال وظروف سےبےنیاز ہوکرسابقہ نظائر پرفتویٰ دینے پرعلمائے امت نےشدید نکیر کی ہے دس کی تفصیل علامہ بان عابدین کےرسالہ ’’ المفتی ،، میں دیکھی جاسکتی ہے۔ علیم وخبیر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات گرامی ہےجس کےسامنے ماضی بےنقاب اورمستقبل بےحجاب ہے۔زمان ومکان کےتمام تغیرات اسی کےعلم میں ہیں ، اس لیے اس نےہردورکی ضرورتوں کےمطابق ہدایات دیں اور انہیں قیامت تک کےلیے محفوظ کردیا ۔ اور یہ اعلان بھی کردیا کہ ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اورتم پراپنی نعمت تمام کردی اورتمہارے لیے اسلام کوبطور دین پسندکرلیا ،، ( سورۃ المائدہ : 3 )
بلکہ بڑے وارننگ کےانداز میں اس دین کی مخالفت کرنے سےخبر دار کیا کہ
﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
’’ اسلام کےسوا جس نے کوئی دوسرا دین پگڑنا چاہا تووہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اورآخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں سے ہوگا ،،(القرآن )
حضرا ت صحابہ کرام نےاسی اسلام کواپنا نصب العین بنایا اورانہیں زندگی کےکسی مرحلہ میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی ۔ عہد نبوی کےبعداسلام جزیرۃ العرب سےنکل کرنجم کوبلادِ اقصی تک پہنچا ۔ حضرت عمر کےزمانہ میں ثقریباً ساڑھے 22لاکھ مربع میل کاعلاقہ دائرہ اسلام میں شامل ہوا ۔
قیصروکسریٰ کی عظیم سپر پاور سلطنتیں سرنگوں ہوئیں ۔ عرب کےصحرا نشین روم وایران کےوارث بنے ۔ جولوگ کسی ملک وبستی کی قیادت سےناآشنا تھے، وہ اب لاکھون بستیوں اور شہروں کی نگرانی کافریضہ سرانجام دے رہے ہیں اوروہ بھی اس شان وناز سےکہ لوگ اپنے ہم عقیدہ اوراپنے حکمرانوں کوبھول گئے ۔
حِمص کےیہودیوں اورعیسائیوں نےاس سلسلے میں جوکچھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح سےکہا ، تاریخ کےاوراق میں ان کی یہ شہادت آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
حضرت عمرفاروق جن کی جہاں گیری اورجہاں داری کی مدح وستائش میں کبھی رطب اللسان ہیں ، اسلام سےپہلے وہ کس خطہ کےفرمانروا تھے اور کس قبیلہ کےوہ سردارتھے ؟ لیکن حلقہ بگوش ِ اسلام ہونےکےبعد جب قیصروکسریٰ جیسے متمدن ممالک اُن کےقبضے میں آئے توان کا ایسا انتظام کیاکہ اس کی نظیر پیش کرنا جوئے شیرلانے کی مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب اوراس کےنبی ﷺ کی سنت کے علاوہ انہوں نے نہ کوئی تعلیم حاصل کی ، نہ ہی درسگاہ ِ نبوت کےعلاوہ کہیں سے کچھ حاصل کیا۔ لیکن کتاب وسنت کےمطالعہ اوران میں غوروفکر سےاللہ تعالیٰ نےانہیں ایسی صلاحیت عطا فرمائی کہ جس کام کووہ اختیار کرتے، کامیابی اوران کےقدم چومتی ۔ ان کی فتوحات کےنتیجہ میں بےشمار نئے مالی ومعاشرتی مسائل پیدا ہوئے جن کاحل انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیا ۔ عراق وشام فتح ہوا توصحابہ کرام کی رائے تھی کہ سابقہ دور کےمطابق مفتوحہ اراضی مالِ غنیمت کےطورپر فوج میں تقسیم کردی جائے۔ حضرت عمر نےاُن سے اختلاف کیا کہ اگرایسا ہی کیا گیا تواجتماعی نظام نہ قائم ہوسکے گا اورنہ ہی سلطنت کی حفاظت اوربانی ماندہ مسلمانون کی کما حقہ دیکھ بھال ہوسکےگی ۔ مگر باقی صحابہ کرام تقسیم کے فیصلہ پرمصر تھے بالآخر حضرت عمر نے سورۃ الحشر کی آیت ( والذین جاءوا من بعدھم ..........)
پیش کی تو تقسیم کےخلاف فیصلہ ہوااور سب صحابہ کرام نے حضرت عمر سےاتفاق کیا ۔ یہ آیت سب صحابہ کرام کےسامنے تھی ، وہ شبانہ روز اس کی تلاوت بھی کرتے تھے مگر اس کا یہ خاص پہلو اس سے پہلے کسی ذہن میں نہیں آیا مگر جب اس موقعہ پرحضرت عمر نےاس کی تلاوت کی توسب کی آنکھیں کھل گئیں .........
اس داستان سرائی کامقصد یہ ہےکہ آج بھی اگر ہم کتاب وسنت کواپنا نصب العین بنالیں اوراسی کی تحقیق وتجسّس کواپنا مطمع نظر بنائیں تواللہ سبحانہ وتعالیٰ کےفضل وکرم سےزندگی کاکوئی گوشہ ایسا نہیں جس کےحل کےلیے کوئی دشواری نہیں آئے۔
حوادثات چونکہ غیرمحدود ہیں اور ہردن نت نئے مسائل پیس آتے ہیں ۔اس لیے ہردور میں ثقہ علماء کرام نےہمیشہ جمود سےبالاترہوکرکتاب وسنت کی روشنی میں ان مسائل پرغوروفکر فرمایا اورانسانیت کی راہنمائی فرمائی جزاھم اللہ احسن الجزاء لیکن مجھے یہ بات کہنے کی بھی اجازت دیجیے کہ اجتہاد اورغورفکر کا یہ میدان محض اسلامیات کےپی ایچ ڈی ، کسی اسلامی مملکت کےوزیرقانون یا پاکستان کی طرز پرکسی ملک کی پارلیمنٹ کا نہیں بلکہ ان حضرات کا ہے جن کی دقیق نگاہیں براہِ راست قرآن پاک اوراحادیث نبویﷺ سےمستنیر ہوتی ہیں ۔ جن کی عمر کاغالب حصہ انہی کی غوطہ زنی میں اور اسلام کےمزاج کوسمجھنے میں صرف ہوا ہے۔
پھر اسلامی احکام ومسائل کی تحقیق کادائرہ کارصرف عبادات پرمحدود نہیں بلکہ الٰہیات سے لےکر معاش ومعاشرت اور معادتک کےسبھی امور اس میں شامل ہے۔ اور ضرورت اس بات کی ہےکہ دین کےدوسرے ماخذ یعنی سنت پراز سرانوغورفکر کیاجائے۔ متفرق متون کوجوایک واقعہ سےمتعلق ہیں ، یکجا کیا جائے جس سے یقیناً نئی راہیں کھلیں گی اور یوں وہ مجموعہ روایات کئی مسائل کےحل میں ممدو معاون ثابت ہوگا۔صحیح احادیث کا ذخیر ہ بحمداللہ محفوظ شکل میں موجود ہے، اب ضرورت ہےکہ اسی اسلوب پرصحیح اسلامی تاریخ کومرتب کیا جائے تاکہ اسلام کےروشن چہرے پرجوبدنام داغ تاریخ کے جھروکوں سے آوارد ہوئے ہیں ، ان کا مداوا کیا جائے ۔ دورِحاضر میں بعض حضرات نےبحمداللہ اس کا آغاز بھی کردیا ہے۔ پھر یہ بات بھی تاریخ کےحوالہ سےیادرکھنی چاہیے کہ اسے محض تاریخیت کی بنیاد پرنہ دیکھا جائے بلکہ تاریخ اقوام وملک میں عروج وزوال کےاسباب ودَواعی کوبھی کھول کر بیان کیا جائے۔یوں ہم اسے قرآن پاک کی زبان میں عِبرَۃ الاولی الالباب کا پیغام بنا سکتے ہیں۔تاریخ کایہ حقیقی پہلو عموماہماری نگاہوں سے اوجھل گیا اوراس حیثیت سےہم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے