ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • دسمبر
1998
ارشاد الحق اثری
’’ اسلامی تعلیم وتحقیق انسٹیٹیوٹ ،، کےزیراہتمام مورخہ 30؍ نومبر98؁ء کوایک عظیم تعلیمی سیمنار منعقد ہو ا جس میں قدیم وجدید نصاب ہائے تعلیم کاتقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اسی سیمینار میں زیرنظر مقالہ بھی پڑھا گیا جوہم ادارتی صفحات میں شائع کررہے ہیں۔ مجلس تحقیق اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ اس سیمینار کےاہم مقالات وتقاریر محدث کےشمارہ بابت فروری 99؁ء میں شامل ہوں گی ۔ ان شاء اللہ ! (ادارہ )
پاکستان میں آج جن حالات سےہم گزر رہے ہیں ، ان حالات میں اس موضوع کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ ہماری حکومت پندرھویں دستوری ترمیم کےذریعے ملک میں کتاب وسنت کی بالا دستی منظور کرانے کےلیے کوشاں ہے۔ اس بل کےمضمرات کیا ہیں ، اس کی کوئی ضرورت ہےیا نہیں ، یہ میری گفتگو کا موضوع نہیں تاہم اس تحریک اور ترمیمی بل کےآنے کا یہ فائدہ ضرور ہواہےکہ سنجیدہ فکر علمائے کرام سےلےکر عام مسلمان بھی اسلام کےلیے سوچنے ،
  • دسمبر
1998
غازی عزیر
........ ذیل میں قرآن سے زائد احکام پرمشتمل چند احادیث کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں : 
1 ۔ قرآن میں شراب کوحرام قرار دیا گیا ہےلیکن لفظ خمر سےبظاہر شراب کی اتنی ہی مقدار حرمت ثابت ہوتی ہےجونشہ آور ہو، چنانچہ ارشاد ہوتاہے: 
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ﴾( 97) 
یعنی ’’ شیطان تویوں چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کےذریعے سےتمہارے آپ میں عداوت اوربغض واقع کردے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اورنماز سےتم کوباز رکھے،،.......
لیکن حدیث میں اس پریہ زائد حکم بیان کیاگیا ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے،’’ ماأسكر كثيره فقليله حرام ،، ( 98 )
  • دسمبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
آئین میں پندرھویں ترمیم کابل بعض ضروری رد وبدل کےساتھ قومی اسمبلی کےارکان کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کےبعد سینٹ میں حتمی منظوری کےلیے پیش کردیا کیا ہے۔ پندرھویں ترمیم کےابتدائی مسودہ اورمنظور شدہ بل میں نمایاں ترین فرق، دستور کےآرٹیکل 239 میں ترمیم کی تجویز کا واپس لیا جانا ہے۔ اس کےعلاوہ مجوزہ آرٹیکل ’ 2 ب ، کی ذیلی شق ’ 3 ، کو بھی حذف کردیا گیا ہے۔ 

ابتدائی مسودہ میں آئین کےآرٹیکل 2 میں ’’2ب ،، کا اضافہ تجویز کیاگیا تھا جومزید 5ذیلی  شقات پرمبنی تھا، اب قومی اسمبلی سےمنظور شدہ بل میں چونکہ 2( ب) کی شق 3 کوحذف کردیا گیا ہے، اسی لیے اب تازہ ترین بل میں 2 ( ب) کی 4 ذیلی دفعات موجودہیں ۔ ان کی زبان ، اسلوب یاالفاظ میں ذرا برابر تبدیلی نہیں کی گئی اوریہ ابتدائی مسودہ کےسوفیصد عین مطابق ہیں ۔ قومی اسمبلی کےمنظور کردہ آرٹیکل 2۔ب کاتازہ ترین متن حسب ذیل ہے
  • دسمبر
1998
ثریا بتول علوی
پاکستان ، دنیا کی عظیم ترین اسلامی مملکت کےطورپر 1947ء کونقشہ عالم پرنمودار ہوئی آج پاکستان کوعروس آزادی سےہمکنار ہوئے 51 برس بیت چکے ہیں ۔ترقی اورعروج حاصل کرنے کے لیے اوراپنی منزل مراد تک پہنچے کےلیے نصف صدی کاعرصہ بہت ہوتا ہےمگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اہل پاکستان آزادی کی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہیں کرسکے ۔ صرف 25 برس بعد مملک خداداد کا آدھا بازو کاٹ کربنگلہ دیش کانیا ملک وجود میں آگیا مگر ہمارا احساس زیاں پھر بھی بیدار ہوا ۔ اسلام کےنام پروجود میں آنے والی مملکت میں اسلامی شریعت ہی کا نفاذ نہ ہوسکا ۔ اور آج تک مختلف حیلے بہانوں سےیہ کام پس پشت ڈالا جاتا رہا ۔
  • دسمبر
1998
ثنااللہ مدنی
٭ نماز کےحوالے سےچنداہم سوالات 
٭ مسجد کی دان کاکرایہ لیا جائے یا نہیں ؟ 
٭ حجام کی کمائی ، حلال ہےیا حرام ؟ 
٭ خائن اورفریب کارکوامام بنانا جائز نہیں !! 
٭ حالتِ حمل میں بیک وقت تین طلاق کاحکم ؟ 
٭ کیافرماتےہیں علماء کرام قرآن وسنت کی روشنی میں ان مسائل کی باتب:
(1) اگرنماز عشاء کےساتھ ہی وتر پڑھ لیے جائیں توآخررات نفل پڑھنے کاکیا طریق کارہے؟ کیا ایک رکعت پڑھ کرسجدہ کرے یا نوافل ادا  کرے؟
(2) ایک اذان کاجواب دینے کی صورت میں دوسری طرف سےاذانیں ہورہی ہوں ، کیا ان کا بھی جواب دینا چاہیے یا ایک ہی اذان کاجواب کافی ہے؟ 
(3) کیا ( إن الينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم ) کےجواب میں ’’ اللهم حاسبنى  حسابا يسيرا ،، کا ثبوت ہے؟ اوراگر ہے تو صرف امام جواب دے یامقتدی بھی جواب دیں ؟ 
(4) نمازی کےآگے سترہ نہ ہونے کی صورت میں چارپانچ صفیں چھوڑکرگزرناجائز ہے؟ آیا ا س کی دلیل میں کوئی حدیث ہے؟
  • دسمبر
1998
حسن مدنی
مولانا کیلانی کی شخصیت سےمحدث کےقارئین بخوبی تعارف رکھتےہیں ۔ گذشتہ شمارہ جات میں آپ کی شخصیت اورخدمات پرکافی مضمون  شائع ہوتے رہےہیں ۔ زیرِ نظر مضمون میں مولانا کے تفسیر قرآن پرکئے گئے کام کاجائزہ پیش کرنامقصود ہے۔ تفسیر قرآن کےحوالے سےوسیع علمی کام مولانا کیلانی ﷫  اپنی وفات سےقبل مکمل کرچکے تھے، جس کےکافی حصہ کی کتابت بھی ہوچکی  تھی ۔ آپ  کی وفات کےبعد فوری طورپر اس کی طباعت اورتکمیل ممکن نہ ہوسکی ۔ جہاں جہاں یہ تفسیر زیر تکمیل تھی ہووہاں  سےاسے حاصل کیاگیا اوریکجا کرنے کےبعد آپ کی اولاد نےاس کی طباعت کےسلسلے میں مشورہ کیا تو طے پایا کہ کتابت اوردیگر قدیم وسائل طباعت کی بجائے ظاہری ومعنوی طورپر اس تفسیر کومزید معیاری بنانے کو کوشش کی جائے ۔ اس کےلیے تفسیر قرآن پرکسی معروف مفسر سےنظرثانی کافیصلہ کیاگیا اوربعض کتابت شدہ حصے اورمسودہ کو جدید اورخوبصورت گمپوزنگ کےرنگ میں ڈھالنے کافیصلہ بھی طے پایا ۔