بیرون ملک کھیل کے میدانوں میں مسلمان بہو بیٹیوں کو روانہ کر کے ’’ پورے ملک اور قوم کے وقار ‘‘ کا ’’ تحفظ ‘‘ کرنے کے بعد پروفیسر صاحب اب خود تحقیق و تنقید کی جو لانگاہ میں قدم رنجہ فرماتے ہیں ۔۔۔ وضاحتوں والے مضمون کی دوسری قسط کی ابتداء ہی میں ارشاد ہوتا ہے :
’’ حضرت شاہ عبد القادر نے پردے کے حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں ، بی بی ہے صاحب ناموس ، بد ذات نہیں نیک بخت ہے ‘‘
ہمارے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر و ترجمہ کرنے والی تمام شخصیتیں محترم ہیں اور شاید ہم گنہگار ہی قرآنی احکام کی تفسیروں میں پوشیدہ اس قسم کی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جن کی رو سے کنیز اور لونڈی کو ایک قابل احترام اور مکمل عورت یا انسان تسلیم کرنے میں آج بھی تامل کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ پردے کے احکام صرف آزاد عورتوں تک  محدود رکھنے پر اصرار کرتے ہیں ، دوسرے الفاظ میں پاکستانی معاشرے میں لونڈیوں کو پانلے کی رسم دوبارہ شروع کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ یعنی ان کی خواہش کے مطابق آج کے پاکستانی معاشرہ میں چودہ سو سال پہلے کا ماحول پیدا ہو اور چند شریف اور معزز عورتیں صرف ایک آنکھ کھلی رکھ کر گھر سے نکلیں ۔ جبکہ عام مسلمان عورتیں لونڈیوں کی طرح کھلے چہرے کے ساتھ اندر باہر جائیں آئیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض ’’ نیک ‘‘ حلقے پاکستانی  معاشرے میں لونڈیوں اور کنیزوں کی عدم موجودگی میں بہت پریشان رہتے ہیں ‘‘

پروفیسر صاحب کو ہم سے یہ شکوہ نہ ہو کہ ہم نے ان کی ہر بات کی تردید کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اس لیے اس مقام پر ہمخ پورے خلوص قلب اور انشراح صدر کے ساتھ اکی اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حیل و مجت نہیں کریں گے کہ ’’ قرآنی احکام کی تفسیروں میں پوشیدہ اس قسم کی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ کر ‘‘ وہ شاید نہیں بلکہ یقیناً بہت بڑے گنہگار ہیں اور خواہ مخواہ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں !
اس کے ساتھ ہی ساتھ تاریخ اسلامی سے انتہائی بے بہرہ ہونے کا ’’ ہدیہ عقیدت ‘‘ بھی ہم ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔

گر قبول افتذر ہے عزو شرف
ہم تو اسی وقت چوکنے ہو گئے تھے جب علمائ کا علم و فضل انہیں بہت محود نظر آیا تھا ‘‘
اور ہمیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی گل کھلائیں گے ۔ چنانچہ انہوں نے ہمیں مایوس نہیں فرمایا ۔ اور یہ دلچسپ اطلاع ہمیں دی ہے کہ اسلام میں لونڈیاں کسی رسم کے تحت پالی جاتی ہیں ۔
علاوہ ازیں آزاد عورت کی تعریف انہوں نے ’’ چند شریف اور معزز عورتیں ‘‘ بیان فرمائی ہے جبکہ ’’ عام مسلمان عورتوں ‘‘ کو لونڈیاں قرار دے دیا ہے ۔۔۔

بایں ہمہ یہ معمہ ذرا حل طلب ہے کہ جن کنیزوں اور لونڈیوں کو قابل  احترام اور مکمل عورت یا انسان تسلیم کرنے میں آج بھی تامل کیا جاتا ہے ۔‘‘ پاکستانی معاشرہ میں ان کا وجود آج کہاں پایا جاتا ہے ؟ جہاں تک ان کی تحریر کا تعلق ہے تو اس سے تو یہی مستنبط ہوتا ہے کہ عام مسلمان عورتیں جو کھلے چہرے کے ساتھ اندر باہر جائیں آئیں سب کی سب لونڈیاں ہوتی ہیں ۔ لہذا ان کی خانہ ساز لغت کی اس تعریف کو اگر ہم اپنے مذکورہ سوال کا جواب تصور کرلیں تو دوسری الجھن یہ پیش آتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایسی لونڈیاں تو حد شمار سے خارج ہیں جو کھلے چہرے کے ساتھ اندر باہر جاتی آتی ہیں ۔ پھر پروفیسر صاحب کے بقول بعض نیک حلقوں کا لونڈیوں اور کنیزوں کی عدم موجودگی میں پریشان رہنا کیا معنی رکھتا ہے ۔؟

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

قارئین  کرام غور فرمائیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ پروفیسر صاحب نے یہاں بڑے چپکے سے یہ بھی تسلیم فرما لیا ہے کہ شریف اور معزز عورتیں وہ ہوتی ہیں جو ( جلباب اوڑھے ہوئے ) ایک آنکھ کھلی رکھ کر گھر سے باہر نکلیں ۔ اگرچہ یہی بات ایک دوسرے مقام پر پروفیسر صاحب نے علمائے اسلام سے خود ہی منسوب کر کے پھر ان کا مذاق بھی اڑایا ہے اور لکھا ہے کہ :

’’ ہم ایسے علمائے کرام کو حکمت اسلام کا امین تصور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو موجودہ خلائی اور کمپیوٹر عہد میں بھی صرف ان عورتوں کو شریف اور معزز تسلیم کریں جو گھر سے باہر نکلیں تو صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لیے کھلی رکھیں اور کھلے چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ باہر نکلنے والی عورتوں کو عربوں کی کنیزوں اور لونڈیوں کے مترادف سمجھیں ۔

( حاشیہ :  خط کشیدہ عبارت میں جو بات علمائے اسلام سے منسوب کی گئی ہے پروفیسر صاحب کی اپنی ذاہی اپج ہے علمائے کرام ایسا نہیں سمجھتے ! علماء حضرات پر ایسی ہی کر مفرمائیاں انہوں نے اپنے مضامین میں جا بجا کی ہیں جن کو ہم نظر انداز کر رہے ہیں !

بایں ہمہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ :

’’ ہم تو صاحب علم و نظر بزرگوں کے خوشہ چین ہیں !‘‘)

ہاں اگر پروفیسر صاحب کا  اپنا یہی خیال ہو تو وہ ضرور حکمت اسلام کے امین متصور ہوں گے جیسا کہ ان کی پہلی عبارت سے ظاہر ہے ! شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے علمائے کرام کی کچھ نہ کچھ مخالفت ضروری خیال کرتے ہوئے چودہ سو سال پہلے کے شریفانہ ماحوال کا تمسخر اڑایا ہے اور اس ماحول کی خواہش کرنے والے بھی ان کی نگاہوں میں جچنے سے قاصر رہے ہیں !

البتہ یہ منطق ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ پردے کے احکام آزاد عورتوں تک محدود رکھنے سے پاکستانی معاشرے میں لونڈیاں کیسے پلنا شروع ہو جائیں گی ؟ کیا ہی بہتر ہو کہ  پروفیسر صاحب اس ’’ وضاحت ‘‘ کی بھی وضاحت فرما دیں !

طرفہ یہ کہ اس مقام پر پروفیسر صاحب کو یہ شکایت بھی ہونے لگی ہے کہ پردے کے احکام صرف آزاد عورتوں تک محدود رکھنے پر اصرار کیوں کیا جاتا ہے ؟ چنانچہ وہ ان احکام کو اب آزاد عورتوں سے بڑھ کر کینزوں اور لونڈیوں تک بھی وسعت دے دینا چاہتے ہیں ۔

حالانکہ اس سے قبل آزاد عورتوں کو بھی با پردہ دیکھنا انہیں گوارہ نہیں ہے ۔ اور چلا اٹھے ہیں کہ :

’’ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغربی ممالک میں آباد مسلمان بچیوں کو برقع اوڑھنے کی تلقین کے کیا مثبت نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں !‘‘

نیز فرمایا ہے کہ :

’’ عصر حاضر میں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی معاشرہ میں جلباب یا دوپٹے کے بغیر راہ  چلتی عورت کو کوئی تنگ نہیں کرتا تو کیا وہاں بھی چادر اور دوپٹہ اوڑھنا ضروری ہو جائے گا ؟‘‘

ہاں البتہ جہاں تک لونڈیوں کا تعلق ہے پروفیسر صاحب کو بہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ : ’’ غضب خدا کا بقول ان کے خدا نے بدمعاشوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ مسلمان لونڈیوں کی عصمت کا شیشہ چور کرتے پھریں ۔ اور آزاد مسلمان عورتیں بچی رہیں عورت اور دین کے اس استحصال پر کون پتھر دل خون کے آنسو نہ رؤئے گا ؟‘‘

ایک لطیفہ یاد آیا ہے  آج سے چند برس بیشتر پروفیسر صاحب ہی کے ایک بھائی بند  کوثر نیازی صاحب نے قومی اتحاد کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے سٹیج  سے یہ اعلان فرمایا تھا کہ :

’’ قومی اتحاد کی حکومت آئے گی تو ہر گھر میں چار چار بیویاں اور پانچ پانچ باندیاں ہوں گی ۔‘‘

حالانکہ نہ اس وقت اور نہ آج ہی پاکستان میں باندیوں اور کنیزوں کا کوئی سراغ ڈھونڈے سے ملتا ہے اور قاضی جی شہر کے اندیشے میں خواہ مخواہ دبلے ہو رہے ہیں !

قارئین کرام آپ نے دیکھا کہ پروفیسر صاحب کسی بری طرح لڑ کھڑاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ؟

اسلامی موضوعات پر لکھنے والے اگر کتاب و سنت کی تعلیمات کو حرز جان نہ بنائیں تو قدم قدم پر ٹھوکریں یونہی ان کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔ اور وہ یوں جگ ہنسائی کا نشانہ بنتے ہیں کہ ’’ عربی ‘‘ کے مصداق ان پر خلل دماغی کا اندیشہ ہونے لگتا ہے !

بیچارے پروفیسر صاحب کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے ۔۔۔۔ لیکن ابھی تو

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا

پروفیسر صاحب  کی ’’ جدید زندگی کے مسائل ‘‘ میں یہ مسئلہ شامل ہی نہ تھا اس کے باوجود انہوں نے لونڈی اور غلاموں کی بہ بحث اپنے مضامین میں جا بجا چھیڑی ہے بلکہ ایک  مکمل قسط انہوں نے لونڈیوں کے حضور نذر کر دی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر اس مسئلہ سے متعلق معمولی شدبد بہی انہیں حاصل نہ تھی جیسا کہ گزشتہ سطور سے ظاہر ہے تو یہ سارا جھنجھٹ انہوں نے کیوں پالا اور ’’ آ بیل مجھے مار ‘‘ والی حماقت ان سے کیوں سرزد ہوئی ؟ محض اس لیے کہ لونڈویں کے ذکر خیر سے عورت کے استحصال کا فرضی نعرہ بلند کرنا ان کی ضرورت تھی  تاکہ مسلمان  عورتوں کو اسلام ہی کے حوالہ سے اسلامی احکام و قیود سے بغاوت پر آمادہ کیا جا سکے ۔ !

جس کی پہلی منزل یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح عورت کے چہرے کو پردے سے مستثنیٰ ثابت کر سکیں کیونکہ مغربیت کے پرچار اور ان کی غلیظ خواہشات کی تکمیل میں برقع بری طرح حائل تھا ۔ اور یہ برقع اتروانے کے لیے بھی انہں لونڈیوں ہی کے حوالہ کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ سب سے پہلے تو انہوں نے لونڈیوں کو آزاد عورتوں کی صف میں کھڑا کرنا ضروری خیال کیا اور یہ جو کچھ آپ شروع میں پڑھ آئے ہیں اسی مقصد کے حصول کی ایک بھونڈی کوشش اور اولین کڑی تھی !

اس کے بعد ذرا کھل کر لکھا کہ :

پہلا قابل  غور نکتہ تو یہی ہے کہ جلباب ( چادر ) کے حکم سے لونڈیوں کو مستثنٰی کر دیا گیا تھا ۔‘‘

بغیر یہ سوچے سمجھے کہ ایک طرف تو وہ آزاد عورت کو بھی جلباب سے بے نیاز کر دینے کے لیے بیتاب ہیں اور دوسری طرف لونڈی کو بھی برقع پہنا دینے کے لیے بے قرار ۔ بہر حال جب لونڈیوں کو بھی انہوں نے وہی حقوق عطا فرما لیے جو آزاد عورتوں کو حاصل ہیں اور ان پر بھی وہی پابندیاں عائد کر لیں جو آزاد عورتوں پر عائد ہیں تو پھر تاریخ سے سند لی کہ :

’’ تاریخ کی اس شہادت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ لونڈیاں اس زمانے میں بکثرت باہر آتی جاتی تھیں اور ان کا چہرہ اور ہاتھ کھلے رہتے تھے ۔‘‘

لیکن پروفیسر صاحب چونکہ عورت کے سر سے دوپٹہ اتار کر اسے اپنی عقل کی زینت بنا چکے تھے لہذا ’’ تاریخ کی اس شہادت ‘‘ سے بھی انہوں نے کوئی سبق حاصل نہ کیا ۔ اور یہ نہ سوچا کہ صرف لونڈیاں ہی کیوں ؟ آزاد عورتوں کے بکثرت باہر جانے آنے میں کون سا امر مانع تھا اور ان کے چہرے اور ہاتھ کیوں کھلے  نہ رہتے تھے ؟ یہی وجہ ہے کہ منزل پر پہنچنے کے باوجود منزل ہی ان سے روٹھ گئی اور عقل نے وہ اڑنگا ٹپخنی دی کہ آپ کو مغربیت کی گود میں گرا کر ہی دم لیا ۔ نیتجتا وہ پکار اٹھے کہ :

’’ پس جلباب نزدیک کرنے کا حکم چہرہ چھپانے کا حکم نہیں ہے  اور اسلام نے عورتوں کو اجازت دی ہے کہ بوقت ’’ ضرورت ‘‘ چہرہ کھول کر باہر جائیں آئیں !‘‘

( حاشیہ : پروفیسر صاحب کا وہی ’’ اسلام ‘‘ جس نے خواتین کے میچ کھیلنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور جس کا ذکر ہم گزشتہ صفحات میں کر آئے ہیں ۔)

اب ظاہر ہے پروفیسر صاحب کو اس مزعومہ عمارت کی کوئی بنیاد بھی درکار تھی سو وہ انہیں کسی ..‎‎؟؟؟؟ ابن حزم کے حوالے سے مل گئی کہ :

’’ آزاد عورت اور لونڈی میں فرق کرنا عجیب دھاندلی ہے خدا کا یہ دین سب کے لیے ہے دونوں کی خلقت ایک ہے اور دونوں کی طبیعت بھی ایک ہے پھر دونوں میں یہ فرق کرنا کہ ایک کے لیے یہ حکم ہے  اور دوسرے کے لیے یہ بغیر کسی دلیل کے لائق سماعت نہیں ہے !

لیکن ’’ علم و فضل ‘‘ نے یہاں بھی شدید ٹھوکر کھائی تو بیٹھے بٹھائے ابن حزم کو صف میں علامہ آلوسی کو بھی شامل کر دیا او رلکھا کہ :

’’ آلوسی روح المعانی کے حوالے سے سکھتے ہیں کہ نساء المومنین میں آزاد عورتیں اور لونڈیاں دونوں شامل ہیں بلکہ لونڈی کے کام کاج کے لیے اندر و باہر جانے آنے سے فتنہ کا دروازہ آزاد عورتوں کی نسبت زیادہ آسانی سے کھلنے کا خطرہ ہے ! ‘‘

اب پروفیسر صاحب بیچارے روح المعانی کو کیا جانیں ؟ جس کا منہ بولتا ثبوت ان کے یہ الفاظ ہیں کہ ’’ آلوسی روح المعانی  کے حوالے سے لکھتے ہیں ‘‘ یعنی انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ روح المعانی علامہ آلوسی کی تفسیر قرآن ہے ورنہ یہ الفاظ یوں ہوتے کہ :

’’ آلوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں !‘‘

یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا عبارت کو انہوں نے خواہ مخواہ علامہ آلوسی سے منسوب کر دیا۔ اصل کتاب  اگر ان کے سامنے ہوتی اور بشرطیکہ وہ اسے سمجھ بھی سکتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ تفسیر روح المعانی میں یہ علامہ آلوسی کا اپنا قول نہیں ، بلکہ یہ ابو حیان کا قول انہوں نے نقل کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو تفسیر رو ح المعانی جلد 8 ص 89 مطبوعہ ملتان ، سطرہ 25 جس کے شروع میں ہی ’’ قال ابو حیان ‘‘ کے بڑے واضح الفاظ پروفیسر صاحب کی عقل و بصیرت پر پڑے ہوئے جہالت کے دبیز پردوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

پھر اس کے بعد وہ عبارت ہے جس کا اردو ترجمہ پروفیسر صاحب نے کہیں سے نقل کیا ہے ! اور ناظرین حیران ہوں گے کہ جہاں تک علامہ آلوسی کا اپنا تعلق ہے وہ اسی عبارت سے معاقبل سطر 2 میں ابو حیان اور ابن حزم کے بھی مذکورہ موقف کی ہ صرف بھرپور تردید فرما رہے ہیں بلکہ اس کے برعکس اپنے موقف کی تائید میں ابن ابی شیبہ اور حضرت انسؓ کے واسطہ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے طرز عمل کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ وہ آزاد عورت اور لونڈی کے پردہ کے درمیان امتیاز لازمی قرار دیتے تھے ۔

پروفیسر صاحب کو اگر توفیق میسر ہو تو وہ اصل کتاب ضرور دیکھیں ان کی آنکھیں کھل جائیں گی !

علاوہ ازیں ان دلائل سے قبل بھی ص 88پر  علامہ آلوسی نے

آیت

کے تحت سطر 23 تا 26 میں آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان پردے کا یہ امتیاز کر فرمایا ہے ۔ اور اس کے لیے روی عن غیر واحد یعنی کئی لوگوں سے یہ روایت ہے کے الفاظ درج کئے ہیں !

لیکن پروفیسر صاحب اپنی ہی مرلی بجا رہے ہیں کہ :

’’ عورت کے پردے کے مسئلہ میں آلوسی اور ابن حزم کے موقف کی روشنی میں کہا جا سکتا  ہے کہ پردے کے احکام سے لونڈیوں کو خارج کر دینا قرآن کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے ۔‘‘
اجی پروفیسر صاحب ہم کہہ رہے ہیں کہ علامہ آلوسی نے یہ موقف اختیار ہی نہیں کیا بلکہ وہ  تو الٹا احتجاج کر رہے ہیں پھر آپ اس کی روشنی میں اپنی کہنے والے کون ہوتے ہیں ؟

ہاں آپ ابو حیان کا نام لیجیے جن کو آپ نے ’’ موجودہ خلائی عہد کے کمپیوٹر ‘‘ کی مدد سے علامہ آلوسی سمجھ لیا ہے ! چنانچہ ہمارا مخلصانہ مشورہ آپ کو یہ ہے کہ اگر آپ کا یہ کمپیوٹر اسی قدر غلط نتائج دیتا ہے تو اس پر لعنت بھیجئے اور جا کر کسی عالم دین کے سامنے زانوے تلمذ کیجیے  ورنہ اسلامی موضوعات پر لکھنے کا خیال بھی ذہن میں نہ لائیے کہ آپ اس میدان میں اجنبی ہیں ، لہذا نا اہل بھی !

اس مقام  پر ہم  پروفیسر صاحب کو یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ خود علامہ ابو حیان جن کی عبارت انہوں نے اپنے مضمون میں نقل کر کے دھوکا کھایا ہے آزاد عورت کے چہرے کو پردے سے مستثنیٰ نہیں جانتے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :

عربی

کہ ’’ یہ فرمان الٰہی ‘‘

 عربی

پورے جسم کو شامل ہے ۔ یا  ’’ علیہن ‘‘ سے مراد ہی ان کے چہرے ہیں کیونکہ جاہلیت مین یہی چہرے ننگے رہا کرتے تھے !‘‘

گویا اب پروفیسر صاحب کے لیے یہ گنجائش بھی ختم ہوئی کہ وہ آزاد عورت او رلونڈی کو ایک صف میں کھڑا کر کے ہی اپنا مطلب نکال سکیں ۔ اس لیے کہ ان کے ممدوح جناب علامہ ابو حیان یہی موقف اختیار کرنے کے باوجود عورت کو چہرہ ننگا کرنے کی نہ صرف اجازت نہیں دیتے بلکہ ان کے نزدیک پردے کا ہدف ہی عورت کا چہرہ ہے ۔ آہ!

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے !

اگر بات  اب بھی پروفیسر صاحب کی سمجھ میں نہ آئی ہو تو ہم دوبارہ عرض کئے دیتے ہیں !

علامہ ابو حیان کے ان ہر دو اقوال کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پردے کے مسئلہ میں انتہائی متشدد واقع ہوئے ہیں چنانچہ انہوں نے ’’ نساء ا لمومنین ‘‘ میں لونڈی اور آزاد عورت دونوں کو داخل ہی اس لیے کیا ہے تاکہ دونوں کو برقع پہنا سکیں جبکہ آپ نے یہ حرکت اس لیے کی ہے کہ دونوں کا برقع اتار پھینکیں

چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک !

پروفیسر صاحب  آپ پر وہی مثل صادق آتی ہے کہ

بھان متی نے کنبہ جھوڑا

کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا

آپ کی مزعومہ عمارت تو گر ہی گئی تھی اب روڑے اور اینٹیں بھی غائب ہو گئیں نصف بنیاد بھی اس بری طرح مسمار ہوئی کہ علامہ آلوسی نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو خود حضرت معمار  ہی زمین چاٹتے نظر آتے ہیں !

اب باقی نصف بنیاد امام ابن حزم کی ایک عبارت رہ جاتی ہے سو اس کا بھی ہم بندوبست کئے دیتے ہیں !

ملاحظہ ہو :

امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری  ( المتوفی 310ھ ) اپنی شہرہ آفاق تفسیر ’’ جامع البیان ‘‘ ج 10 میں لکھتے ہیں :

عربی

کہ ’’ اے نبی ، اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہت اختیار نہ کریں جب وہ کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں ( اس حالت میں کہ ) اپنے بالوں اور چہروں کو کھولے ہوں ہاں لیکن اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر اوڑھ لیں تاکہ کوئی فاسق انہیں آزاد جان کر ان سے کوئی تعرض نہ کرے اور کوئی تکلیف دہ بات نہ کہہ سکے !‘‘

امام نیشاپوری لکھتے ہیں :

عربی

کہ ’’ اوائل اسلام میں عورتیں اپنی جاہلی عادات کی بنا ء پر دوپٹہ اور قمیص میں بلا امتیاز لونڈی اور آزاد عورت کے باہر نکلا کرتی تھیں چنانچہ اب چادریں اوڑھنے اور اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپنے کا حکم دی گئیں ۔‘‘

امام ابن الحوزی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

عربی

’’ یعنی اپنے سروں اور چہروں کو ڈھانپ لیں تاکہ معلوم ہو سکے وہ آزاد عورتیں ہیں ۔‘‘

شیخ معین الدین محمد بن عبد الرحمان تفسیر جامع البیان میں لکھتے ہیں :

عربی

’’ یعنی وہ چادروں کو اپنے اوپر ڈال لیں اور اپنے بدن اور چہروں کو ڈھانپ لیں اور آزاد عورتیں پردہ لٹکانے کا حکم دی گئی تاکہ وہ لونڈیوں سے ممتاز ہو سکیں ۔‘‘

معالم التنزیل میں ابو حسین بن مسعود القرا بغوی نے لکھا ہے :

عربی

’’ ابن عباس ؓ اور ابو عبیدۃ ؓ نے فرمایا : مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چادروں سے اپنے سر اور چہروں کو ڈھانپ کر رکھیں ہاں مگر ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہیں ۔ تاکہ معلوم ہو سکے وہ آزاد عورتیں ہیں ۔‘‘

ان انتہائی واضح دلائل کے ساتھ ہی  پروفیسر صاحب حضرت شاہ عبد القادر کی اس تفسیر کو بھی شامل فرما لیں جس کو سمجھنے سے قاصر رہ کر انہیں گنہگار ہونے کا شرف عظیم حاصل ہوا ہے ۔

یعنی :

’’ پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں بی بی ہے صاحب ناموس بد ذات نہیں نیک بخت ہے !‘‘

اور پھر ہمیں بتائیں کہ انہیں ابن حزم کی بات زیادہ پسند ہے یا حضرت عمرؓ بن خطاب کا طرز عمل اور حضرت ابن عباسؓ ، حضرت انس ؓ نیز حضرت ابو عبیدۃ ؓ کے فرامین زیادہ عزیز ؟

ان تربیت  یافتگان رسول اللہ ﷺ کے علاوہ مذکورہ بالا تمام بزرگوں کے مقابلے میں ابن حزم کے ایک ایسے قول کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے جس میں فلسفہ زیادہ ہے اور دلائل ندارد ؟

 پھر اس فلسفہ کا بطلان بھی واضح حقائق کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے تفصیل آگے آ رہی ہے )  اور اگر بالفرض اس فلسفہ کو تسلیم کرنا ہی ہے تو اس کے تحت ابو حیان کا موقف بھی اختیار کیا جا سکتا ہے کہ آزاد عورت کے علاوہ لونڈی کے لیے بھی چہرے کا پردہ ضروری ہے ۔

علاوہ ازیں محلی ابن حزم کی عبارت جس کا ترجمہ پروفیسر صاحب نے گڈ مڈ کر کے نقل کیا ہے اس کے اصل الفاظ یوں ہیں :

عربی

کہ ’’ جہاں تک لونڈی اور آزاد عورت کے درمیان فرق کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہے خلقت اور طبیعت میں بھی یہ دونوں برابر ہیں حتی کہ کوئی نص ان دونوں کے درمیان  کسی چیز کے فرق پر وارد ہو !‘‘

سو خلقت اور طبیعت میں اگرچہ لونڈی اور آزاد عورت دونوں برابر ہیں تاہم ان دونوں کی معاشرتی حیثیت میں فرق بین ہے  ۔ اور یہ فرق خود اللہ رب العزت نے جو ان دونوں کا خالق و مالک ہے اسی قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ دین اسلام جس سے عبارت ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

آیت

کہ ’’ اگر یہ لونڈیاں بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ان کو آزاد عورتوں کے مقابلے میں نصف سزا ملے گی !‘‘

جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

عربی

کہ ’’ لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہے اور اس کی عدت دو حیض !‘‘

جبکہ آزاد عورت کی طلاق اور عدت کا حکم معلوم ہے واضح رہے کہ پردہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور معاشرتی حیثیت کے اعتبار سے لونڈی اور آزاد عورت کے درمیان فرق پر کتاب و سنت سے نصوص ہم نے ذکر کر دی ہیں ۔ ان نصوص کے بعد اگرچہ مزید  کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی تاہم پروفیسر صاحب کے اطمینان قلب کی خاطر ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آزادی اور غلامی میں کچھ فرق نہیں ہے ؟

لونڈی اور غلاموں کے اسلامی معاشرہ میں داخل ہونے کا دروازہ صرف ایک ہے  ۔ یعنی اسیران جنگ ! تو کیا ایک جنگی قیدی اور آزاد شہری دونوں برابر ہوتے ہیں ؟ جنگی قیدی بننے سے قبل یہ لونڈی اور غلام اس فوج کے ہم رکاب تھے جس کا اگر بس چلتا تو پورے لشکر اسلام کو تہ تیغ کر دیتی ، ان حالات میں ان ہر دو فوجوں کے افراد میں کچھ بھی فرق نہیں جن میں سے ایک اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے مصروف جہاد ہے اور دوسریی کفر و شرک اور فتنہ و فساد پھیلانے میں شیطان کے آلہ کار ؟ کیا کفر اور ا سلام فاتح اور مفتوح دونوں برابر  ہیں ؟ اور کیا اس دنیا کا کوئی بھی قانون یا معاشرہ جنگی قیدیوں کو فاتحین کے سے پورے شہری حقوق و مراعات آج تک دے سکا ہے ؟

ہاں یہ تو اسلام کی عدل پروری ہے کہ اس نے اگر مملوکوں کو آزاد شہریوں کے سے حقوق نہیں دیے تو ان پر وہ پابندیاں بھی عائد نہیں کیں جو ایک اسلامی مملکت میں آزاد شہریوں پر عائد ہوتی ہیں جس کی ایک ایک مثال ہم نے کتاب و سنت سے اوپر ذکر کر دی ہے ۔

یہ چند واضح اشارات ہم نے آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان فرق کے سلسلہ میں دے دئیے ہیں اب اصحاب علم و حکمت کے سامنے ایک وسیع میدان ہے جس میں وہ سرپٹ عقلی اور نقلی گھوڑے دوڑا سکتے ہیں !

پروفیسر صاحب آپ نے لکھا ہے کہ :

سلف کا طریقہ تفسیر یہ رہا ہے کہ قرآن سے مشورہ کرنے کے بعد کوئی مشکل باقی رہ جاتی تو اس کا حل رسولؐ خدا کے اقوال و افعال سے تلاش کرتے ۔ تیسرے مرحلے پر صحابہ ؓ کے اقوال و افعال سے راہنمائی لیتے کیونکہ یہی لوگ قرآن مجید کے پہلے مخاطب تھے اور قرآن کے رموز و حقائق بخوبی سمجھتے تھے !‘‘

چنانچہ ہم نے لونڈی اور آزاد عورت کے درمیان فرق کو قرآن مجید سے بھی ثابت کر دیا ، فرمان رسول اللہ ﷺ اور ارشادات صحابہ ؓ سے بھی لہذا حجت کا اتمام تو ہو گیا تھا تاہم آپ کی تسلی طبع کی خاطر ائمہ کے اقوال بھی پیش کر دیئے  ۔ پھر ابن حزم  کے فلسفے کا جواب بھی حقائق کی روشنی میں دے دیا ۔ اس کے باوجود اگر کوئی حسرت آپ کے دل میں رہ گئی ہو تو ہم اپنے موقف کے اثبات میں خود آپ ہی کا ایک حوالہ نقل کرتے ہیں ۔ اگرچہ  نادانستگی اور جوش جذبات میں ہی سہی تاہم دیکھئے کتنی عمدہ بات آپ نے کہہ ڈالی ہے آپ نے لکھا ہے کہ :

’’ یعنی ان کی خواہش کے مطابق آج کے پاکستانی معاشرے میں چودہ سو سال پہلے کا ماحول پیدا ہو اور چند شریف اور معزز عورتیں ایک آنکھ کھلی رکھ کر گھر سے نکلیں ، جبکہ عام مسلمان عورتیں لونڈیوں کی طرح کھلے چہرے کے ساتھ اندر باہر جائیں آئیں۔!!

اب اس عبارت پر آپ جس قدر غور فرمائیں گے اسی قدر امام ابن حزم سے بھی آپ کی دوستی واضح تر ہوتی چلی جائے گی ۔ بقول شاعر

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ؟

دیکھا آپ نے کتنی شرافت سے آزاد عورتوں کو برقع پہنا کر ان پر صرف ایک آنکھ کھلی رکھنے کی قید لگائی ہے جبکہ لونڈیوں کو کھلے چہرے کے ساتھ اندر باہر جانے کی اجازت مرحمت فرما دی ہے ۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

پروفیسر صاحب  اب جبکہ لونڈی اور آزاد عورت کا فرق آپ پر واضح ہو گیا آب تاریخ سے یہ شہادت لے سکتے ہیں کہ لونڈیاں اس زمانے میں بکثرت باہر آتی جاتی تھیں اور ان کا چہرہ اور ہاتھ کھلے رہتے تھے ‘‘ لیکن جہاں تک آزاد عورتوں کا تعلق ہے لونڈیوں کے احکام ستر و حجاب کو چونکہ ان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ لہذا براہ کرم مسلمان بہو بیٹیوں کی غیرت و عزت اور شرافت کا نشان برقع انہیں واپس لوٹا دیں تاکہ وہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کو اس کے اندر چھپا لیں ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

آیت

دعاؤں میں یاد رکھئیے گا !

(جاری ہے )