خلفاء ثلاثہ کی شہادت :
ایرانیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی سازش سے جب سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے یکم محرم الحرام 24 ھ کو ابو لوء لوء کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا تو داماد رسول ؐ سیدنا عثمان بن عفان ؓ مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے مگر یہ بھی مجوس و یہود کی سازش کے تحت ذو الحجہ 35ھ کو جام شہادت نوش فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے تو حضرت علیؓ نے اس منصب کو بادل نخواستہ قبول فرمایا اور ہمیشہ اپنے دور خلافت میں اپنے ہی محبوں کے ہاتھوں نالاں ہے جیسا کہ حضرت علیؓ کے اس خطبہ سے طاہر ہے :
’’ خدا وند تو جانتا ہے کہ میں ان سے تنگ ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آ چکے ہیں مجھے ان سے راحت دے اور ان کو اس شخص کے ہاتھ مبتلا کر دے جس کے بعد مجھے یاد کریں میں ان کا دشمن ہوں اور یہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ ( جلاء العیون ص 229)
بالآخر اپنے ہی ایک محب کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا ۔ انا للہ وانا الیه راجعون ( نہج البلاغۃ )
حضرت حسن ؓ کی خلافت و وفات :
بعد ازاں اسلام دشمن عناصر نے حضرت حسن بن علیؓ کو خلیفہ بنا دیا مگر حضرت حسن ؓ نے بخوف جنگ و جدال اور قتل و غارت گری ، عنان حکومت حضرت امیر معاویہ ؓ کے سپرد کر دی اور اپنے والد بزرگوار کی وصیت پر پوری طرح عامل ہو گئے جو انہوں نے اپنے آخری ایام میں حضرت حسن ؓ کو فرمائی تھی کہ :
’’ اے فرزند ! جب میں دنیا سے مفارقت کروں اور میرے اصحاب تم سے موافقت نہ کریں تو تم کو خلوت نشینی اختیار کرنی چاہیے ۔‘‘ ( جلاء العیون ص 241)
آپؓ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اس پشین گوئی کو سچ کر دکھایا کہ :
حدیث
’’ کہ یہ میرا بیٹا سردار ہے عنقریب ہی اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔‘‘
چنانچہ حضرت حسن ؓ بھی بقول علامہ دمیری بعارضہ ذیابیطس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بعض نے زہر خورانی سے وفات لکھی ہے ( منہاج السنہ ) اور بعض نے زہر خورانی کا الزام حضرت امیر معاویہ ؓ اور امیر یزید پر عائد کیا ہے ۔بطور نمونہ چند روایات ملاحظہ فرمائیں :
1۔ حدیث
’’ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت حسن ؓ کے کسی خادم سے ساز باز کر کے زہر پلانے کی ترغیب دی چنانچہ اس نے حضرت حسن ؓ کو زہر پلا دیا ۔‘‘
2۔ حدیث
’’ حضرت حسن ؓ زہر کی وجہ سے فوت ہوئے جو ان کی بیوی جعدہ نے امیر معاویہ ؓ یا امیر یزید کے اشارہ پر پلایا تھا ۔‘‘
3۔ حدیث
’’ یعنی حضرت حسن ؓ کی بیوی نے حضرت معاویہ ؓ کے ایماء پر حضرت حسن ؓ کو زہر پلایا تھا۔‘‘
4۔ مظہر حسین شیعہ نے حضرت حسن ؓ کے متعلق لکھا ہے کہ :
’’ جعدہ نے امیر معاویہ ؓ کے حکم سے حضرت حسن ؓ کو زہر پلایا تھا ۔ ‘‘ ( الشہید المسموم ص 214)
5۔ اسی طرح کی ایک روایت الاستیعاب میں بھی ہے کہ :
قالت طائفۃ کان ذلک بتدسیس معاویہ الیہا ( استیعاب لابن عبد البر 144)
یعنی حضرت حسنؓ کو امیر معاویہ ؓ کے اشارہ سے زہر دیا گیا یہ ایک گروہ کا بیان ہے ۔
روایات پر تبصرہ :
اول الذکر تین روایات بصیغہ مجہول ( یقال ، قیل ، ذکر ) مذکور ہیں ایسی مہمل روایات نہ ہی باعث استدلال اور نہ ہی خود کوئی قومی دلیل بن سکتی ہیں ۔ چوتھی روایت میں مظہر حسن شیعہ نے کسی مؤرخ کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا اور استیعاب کی روایت بھی قالت طائفۃ سے مذکور ہے مگر اس قلیل گروہ کی نشاندہی ابن عبد البر نے بھی نہیں کی اور نہ ہی روایت کی توثیق کی ہے ایسی بے سند روایات کے مخترع وہی لوگ ہیں جو عظمت صحابہ ؓ کے دشمن ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بہتان تراشی ان کا شیوہ ہے۔
دیگر مؤرخین کا نظریہ :
ان کے علاوہ دیگر مؤرخین نے زہر خورانی کا تو ذکر کیا ہے مگر حضرت امیر معاویہ ؓ کا نام تک نہیں لای بطور نمونہ چند سطور پیش خدمت ہیں :
عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ قَالَتْ: «كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سُمَّ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَفْلِتُ حَتَّى كَانَتِ الْمَرَّةُ الْأَخِيرَةُ الَّتِي مَاتَ فِيهَا، فَإِنَّهُ كَانَ يَخْتَلِفُ كَبِدُهُ، ( مستدرک حاکم ص 173 طیع بیروت )
’’ حضرت ام بکر بنت مسور کا بیان ہے کہ حضرت حسن ؓ کو متعدد بار زہر دیا گیا ہر بار اس کے اثر سے محفوظ رہے مگر آخری بار کا زہر جان لیوا ثابت ہوا۔‘‘
قال عمير بن اسحاق دخلت أنا وصاحب لي على الحسن بن علي فقال: لقد لفظت طائفة من كبدي، وإني قد سقيت السم مرارا، فلم أسق مثل هذا. فأتاه الحسين بن علي فسأله: من سقاك؟ ( الاصابہ ص 231 طبع مصر )
’’ عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں اپنے دوست کے ہمراہ حضرت حسن ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے جگر کے ٹکڑے گر رہے ہیں مجھے متعدد بار زہر دیا گیا مگر اس دفعہ جیسا زہر نہیں پلایا گیا ۔ حضرت حسین بن علیؓ نے زہر پلانے والے کا نام دریافت کیا تو حضرت حسن ؓ نے نام بتانے سے انکار کر دیا ۔‘‘
3۔ امام ابن حجر  فرماتے ہیں کہ :
یعنی ’’ جعدہ نے حضرت حسن ؓ کو زہر پلایا تھا ۔‘‘
4۔ علامہ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں رقمطراز ہیں کہ :
’’ زہر خورانی کا الزام امیر یزید پر غیر صحیح ہے اور ان کے والد بزرگوار حضرت امیر معاویہ ؓ تو بطریق اولیٰ بری ہیں ۔‘‘ ( البدایہ و النہایہ ص 43)
5۔ علامہ ذہبی نے المنتقیٰ میں ذکر کیا ہے کہ :
’’ امیر یزید اور امیر معاویہ ؓ پر زہر خورانی کا الزام غلط اور بے بنیاد ہے اور محب الدین الخطیب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ ’’یہ شیعہ حضرات کی کرم نوازی ہے ‘‘ ویسے امیر یزید اور امیر معاویہ ؓ کا دامن بالکل پاک ہے ۔‘‘ ص 244
6۔ اسی طرح تاریخ ابن خلدون جلد 2 میں ہے کہ :
’’ یہ سبائیوں اور ان کے ہمنوا احباب کے افتراء ہیں حضرت معاویہ ؓ بالکل بری ہیں ۔‘‘
7۔ شاہ معین الدین  نے تاریخ اسلام 44 پر لکھا ہے کہ :
’’ یہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے مخالفین کا غلط پروپیگنڈہ ہے حالانکہ امیر معاویہ ؓ بالکل بری ہیں ۔‘‘
8۔ مولانا اکبر خاں نجیب آبادی نے تو جعدہ کا دامن بہی اس سازش سے مبرا قرار دیا ہے۔ ( تاریخ اسلام 583)
9۔ این اثیر نے بھی حضرت امیر معاویہ ؓ کا دامن پاک قرار دیا ہے ( ابن اثیر حیات حسن 245)
10۔ مشہور شیعہ مؤرخ یعقوبی نے بھی بالکل خاموشی اختیار کی ہے اگر امیر یزید و امیر معاویہ ؓ کا اس میں ہاتھ ہوتا تو شیعہ مؤرخ ضرور تذکرہ کرتا ۔ ( دیکھیئے یعقوبی ص 246)
فتلک عشرۃ کاملۃ
ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ زہر خورانی کا الزام حضرت امیر معاویہ ؓ اور امیز یزید پر غلط اور بے بنیاد ہے ۔ المختصر حضرت حسن ؓ کی وفات کے بعد یہودی اور مجوسی گٹھ جوڑ کی نظر انتخاب اب حضرت حسین بن علی ؓ پر پڑی ۔
محبان کوفہ کی خط و کتابت :
ادھر 22 رجب سنہ 60 ہجری کو حضرت امیر معاویہ ؓ نے اس دار فانی کو خیر باد کہا اور بلا اختلاف فاتح قسطنطینہ امیر یزید مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے ۔ ادھر حضرت حسین ؓ سے محبان کوفہ کی خط و کتابت شروع ہو گئی بعض مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ بارہ ہزار خطوط حضرت حسین ؓ کے پاس آئے اور آخری خطوط کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں کے تھے جن میں سے سلیمان بن صرد خزاعی ، حبیب ، رفاعہ بن شداد ، حبیب بن مظاہر قابل ذکر ہیں ۔ ( ناسخ التواریخ ص 131)
چنانچہ حضرت حسین ؓ نے فرمایا کہ فی الحال میں بطور نائب اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو بھیجتا ہو ں ۔ ایضاً
حضرت مسلم ؓ کی روانگی :
حضرت حسین ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو یہ پیغام دے کر روانہ فرمایا کہ اگر کوفہ والے اپنے بیانات اور خطوط میں سچے ہیں تو ہمیں کوفہ جانے میں کوئی حرج نہیں آپ حالات کا جائزہ لیں اگر حالات سازگار ہوں تو واپسی اطلاع دیں ۔۔
چنانچہ حضرت مسلم بن عقیل ؓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( حاشیہ : یہ خداوند قدوس کا خصوصی انعام تھا کہ قتل و غارت سے بھی محفوظ رہے اور شہادت کے اعزاز و اکرام سے بھی سرفراز ہوئے ۔ 2۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حدیث
’’ یعنی جو فوج سب سے پہلے قسطنطنیہ کا غزوہ کرے گی اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔‘‘
چنانچہ امیر یزید نے اپنے والد مکرم امیر معاویہ ؓ کی زندگی 51 ھ میں قسطنطنیہ کا غزوہ کیا اور کمان بھی امیر یزید کے ہاتھ میں تھی ۔ اس فضیلت کے حصول کے لیے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ پچاسی سال کی عمر میں اس لشکر میں بھرتی ہوئے اسی غزوہ میں شہادت پائی اور دفن ہوئے رضی اللہ عنہ ( منہاج السنہ 245؍2)
حضرت حسین ؓ بھی اس جنگ میں شریک تھے ( تفصیل کے لیے دیکھئیے البدایہ و النہایہ ص 151؍8 تاریخ عرب مرتب جسٹس امیر علی شیعہ ص 84 ذہب بحوالہ ابن عساکر ص 11 ؍3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدینہ منورہ روانیہ ہوئے اور واں سے دو راہبروں کی معیت میں عازم کوفہ ہوئے جب ریگستانی علاقہ میں پہنچے تو ان کے ایک ساتھی بوجہ شدت پیاس جاں بحق ہو گئے حضرت مسلم ؓ نے حضرت حسین ؓ کو معذرت نامہ لکھا کہ مجھے اس منصب سے سبکدوش کیا جائے مگر حضرت حسین ؓ نے فرمایا : ’’ جس طرح بھی ہو سکے کوفہ ضرور پہنچو !‘‘
چنانچہ حضرت مسلم بن عقیل ؓ کوفہ پہنچے اور عوسجہ نامی ایک شخص کے ہاں ٹھر گئے جب باشندگان کوفہ کو اطلاع ملی تو محبان حسین ؓ جوق در جوق بیعت کے لیے آنے شروع ہو گئے حتی کہ بارہ ہزار کوفیوں نے حضرت مسلم ؓ کے ہاتھ پر حضرت حسین ؓ کی بیعت کی اور بعض روایات میں اٹھارہ ہزار کا ذکر ہے ۔ ( ناسخ التواریخ بروایت ابو احنف )
حضرت مسلم ؓ نے ظاہری آؤ بھگت دیکھ کر محسوس کیا کہ کوفیوں کی نظریں حضرت حسین ؓ کی متلاشی اور دل ان کے لیے بے قرار ہیں ۔ اپنے برادر مکرم حضرت حسین ؓ کو خط لکھا کہ آپ جلدی تشریف لائیں اٹھارہ ہزار نفوس چشم براہ ہیں ۔ ایضا
ادھر یزید کے طرف داروں نے جب یہ منظر دیکھا تو نعمان بن بشیر گورنر کوفہ سے کہا کہ آپ اپنی کمزوری کا کیوں مظاہرہ کر رہے ہیں ؟ ملک میں فساد پھیل رہا ہے حضرت نعمان بن بشیر نے کہا کہ جس قوت میں خدا کی ناراضگی ہو اس سے کمزوری عزیز تر ہے جو مجھے خدا کی اطاعت سے باہر نہ لے جائے اور جس کا پردہ اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے اس کا راز میں کیونکر فاش کروں ؟ اس حق گوئی کا صلہ نعمان بن بشیر کو یہ ملا کہ کوفہ کی گورنری سے برطرف کر دئیے گئے ( ایضا )
جب یہ خبر امیر یزید تک پہنچی تو انہوں نے اپنے مشیر خاص سرجون سے مشورہ کیا اس نے جوابا کہا اگر میرا مشورہ قبول ہے تو پھر عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنایا جائے چنانچہ یزید نے ابن زیاد کو حکم نامہ لکھا کہ ہم نے بصرہ کے ساتھ تمہیں کوفہ کی گورنری بھی سونپ دی ہے ۔ ابن زیاد چند سرداروں کی معیت میں کوفہ پہنچا اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو تین ہزار درہم دیکر بھیجا کہ تم اپنے آپ کو اہل حمص سے ظاہر کرو اور حضرت مسلم بن عقیلؓ کی بیعت کر کے یہ رقم ان کو دے دو اور جملہ امور کا مکمل پتہ کرو ۔ چنانچہ اس غلام نے نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ تمام خفیہ امور کا پتہ لگایا اور تین ہزار درہم پیش کئے ۔ بیعت کر کے واپس آیا اور ابن زیاد کو تمام مخفی امور سے خبردار کیا ۔ جب حضرت مسلم ؓ کو ابن زیاد کی یہ مکاری معلوم ہوئی تو آپ نے عوسجہ کے گھر کو خیر باد کہہ کر ہانی بن عروہ مرادی کے ہاں قیام کیا ( طبری )
ہانی بن عروہ اور ابن زیاد:
عبید اللہ بن زیاد بڑا ہوشیار اور چالاک تھا ۔ اس نے اہل کوفہ کے سرداروں سے کہا کہ ہانی بن عروہ ملاقات کے لیے نہیں آئے ۔ جب ابن عروہ کو اطلاع ملی تو وہ سوار ہو کر ملاقات کے لیے آئے ۔ ابن زیاد نے دیکھتے ہی سوال کیا کہ ’’ مسلم بن عقیل کہاں ہے ؟ ‘‘ ہانی نے جوابا فرمایا کہ ’’ مجھے کیا معلوم ؟‘‘ اس وقت ابن زیاد کا وہ غلام ( جو تین ہزار درہم دے کر بیعت کر آیا تھا ، حاضر ہوا تو ہانی بن عروہ گھبرائے ۔ دست بستہ ہو کر کہنے لگے ۔ کہ ’’ اے والی کوفہ مجھے معاف کیا جائے ۔ خدا کی قسم وہ خود آئے اور یہ مروت کے خلاف تھا کہ میں ان کو دھکے دے کر باہر نکالتا ، میں نے انہیں ٹھہرا لیا ہے ‘‘ ابن زیاد نے کہا کہ مسلم بن عقیل کو پیش کرو ۔ تو ہانی بن عروہ مرادی نے جواب دیا ’’ خدا کی قسم اگر وہ میرے پاؤں کے تلے بھی ہوتے تو میں ان پر سے قدم نہ اٹھاتا ‘‘
ابن زیاد نے ہانی بن عروہ کو پکڑ کر بہت زدو کوب کیا یہاں تک کہ ہانی شدید زخمی ہو گئے۔ محل کے ایک حصہ میں ہانی کو قید کر دیا ۔ جب یہ اطلاع ہانی کے قبیلے مذجح کو ملی تو انہوں نے قصر شاہی کا محاصرہ کر لیا ۔
ابن زیاد نے جب یہ شور سنا تو دریافت کیا کہ ’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ لوگوں نے جواب دیا کہ ’’ ہانی کے قبیلے نے قصر شاہی کا محاصرہ کر رکھا ہے اور یہ ہتھیاروں کی جھنکار ہے ‘‘ ابن زیاد نے قاضی شریح کو حکم دیا کہ مجمع کو ٹھنڈا کیجیے ، ہم نے ہانی کو صرف مسلم بن عقیل کی تحقیقات کے لیے ٹھہرایا ہے ۔ بعد از دریافت حالات چھوڑ دیا جائے گا یہ قاضی شریح کے کہنے پر مجمع منتشر ہو گیا ۔
کوفیوں کی غداری:
حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے لشکر کو پکارا ۔ چالیس ہزار کوفی حضرت مسلم بن عقیلؓ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے ۔ ادھر ابن زیاد نے سرداران کوفہ کو قصر شاہی میں اکٹھا کر کے پرزور تقریر کی ۔ ڈرایا ، دھمکایا ۔ اتنے میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کا لشکر ( چالیس ہزار ) بھی قصر شاہی کے دروازے پر آ پہنچا تو سرداران کوفہ نے انہیں واپس لوٹ جانے کی تلقین کی ۔
حضرت مسلم بن عقبیل ؓ کے ساتھی ( سفید ہاتھی ) ایک ایک کر کے دشمنوں سے ملنے لگے غروب آفتاب سے پہلے یہ لوگ ( کوفی لا یوفی ) ہزاروں کی تعداد میں دشمنوں سے جا ملے ۔ ‘‘ آپ کے ساتھ صرف پانچ ہزار آدمی رہ گئے ۔ ( ناسخ التواریخ ، طبری بروایت عمار الدہنی شیعہ )
حضرت مسلم ؓ اور ہانی کی شہادت :
جب آپ بالکل تنہا رہ گے تو وہاں سے چل دئیے ۔ ایک عورت کے گھر پہنچ کر پانی طلب کیا ۔ آب نوشی کے بعد وہاں کھڑے کچھ سوچنے لگے ۔ اس عورت نے دریافت کیا کہ آپ کس تردو میں ہیں ‘‘ حضرت مسلم ؓ نے جواب دیا میں مسلم بن عقیل ہوں اگر اجازت ہو تو چپکے سے رات بسر کر لوں ؟‘‘ اس عورت نے منظور کر لیا ۔ آپ رات بسر کرنے کے لیے وہیں ٹھہر گئے ۔ اس عورت کا لڑکا محمد بن اشعث کا آزاد کردہ غلام تھا ۔ اس نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کی اطلاع محمد بن اشعث کو کر دی اور اس نے یہ اطلاع ابن زیاد تک پہنچا دی ۔ ابن زیاد نے عمرو بن حرث المخزمی اور عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کو حضرت مسلم ؓ کی گرفتاری کے لیے روانہ کیا انہوں نے فوج لے کر گھر کا محاصرہ کر لیا جب ہتھیاروں کی جھنکار نے حضرت مسلم ؓ کو خبردار کیا اور آپ نے دیکھا کہ ہر شخص مسلح سوار میرے خون کا پیاسا ہے تو بہادری اور شجاعت کے خاندانی جوہر نے اس نامردی کی موت سے روک لیا ۔ تلوار سونت کر میدان میں آ گئے اور مبارزت کے لیے للکارا ۔ جب کوفی آپ کو شہید نہ کر سکے تو دور سے پتھر برسانے لگے ۔ اس وقت حضرت مسلم بن عقبل ؓ نے دردناک لہجے میں فرمایا :
عربی
لیکن اس فریاد کا کوئی اثر ان سنگدلوں پر نہ ہوا حضرت مسلم ؓ کی گریہ زاری بے سود ثابت ہوئی اور بالآخر اپنے ہی اعوان و انصار کے ہاتھوں عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں حاضر کیے گئے ۔ اس خونخوار درندے نے دیکھتے ہی حکم دیا کہ قصر شاہی کے کنگور سے پر چڑھا کر ان کی گردن اڑا دی جائے ۔ چنانچہ حضرت مسلم ؓ نے آخری وقت یہ وصیت فرمائی :
عربی
بعد ازاں اپنے ہی اعوان و انصار کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا اور اسی وقت ہانی بن عروہ مرادی بھی شہید کر دئیے گئے ۔ انا للہ وانا الیه راجعون ( جاری ہے )