ملک عزیز اس وقت جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے تو اس کا بڑا سبب کتاب و سنت سے بے اعتنائی بلکہ ان سے انتہائی ظالمانہ سلوک ہے ۔ اور ارباب سیاست و اقتدار سے لے کر اصحاب جبہ و دستار تک سبھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔"هل افسد الذين الا الملوك واحبار سوء ورهبانها"یعنی ’’ فساد دین کے ذمہ دار ہی تین طبقے ہیں ۔۔۔۔۔۔صاحبان اقتدار ، علمائے سوء اور برے درویش ! ‘‘
کوئی نہیں جانتا کہ دین اسلام صرف اور صرف کتاب و سنت سے عبارت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بطور وصیت اپنی امت کے راہ ہدایت پر قائم رہنے کا راز ’’ تمسک بالکتاب والسنۃ ‘‘ ہی میں مضمر بتلایا تھا ؟ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ یہ دین اسلام کے علمبردار ہی ہیں جو ٹولے ٹوٹکوں سے تو اس قوم کی نیا کو پار لگانے کی فکر میں ہیں لیکن کتاب وسنت ہی کا نام لینا انہیں گوارا نہیں ہے ! ۔۔۔۔۔ ایک طرف اگر فقہ جعفری کو ملک کا دستور قرار دینے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تو دوسری طرف فقہ حنفی کے نفاذ کو عین اسلام قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے تو انہیں اتنا بھی ہوش نہیں کہ جب ان کا قرآن ہی ابھی منظر عام پر نہیں آیا تو اس کی فقہ کہاں سے نازل ہو گئی ؟ اور اگر فقہ موجود ہے تو قرآن کہاں چلا گیا اور کیوں غائب ہوا؟ ۔۔۔۔۔ کیا وہ ایک ایسی فقہ کو ملک کا دستو رقرار دینے کی فکر میں ہیں جس کی بنیاد ہی موجود نہیں اور پھر بھی اس کا نام فقہ کو ملک کا دستور قرار دینے کی فکر میں ہیں جس کی بنیاد ہی موجود نہین اور پھر بھی اس کا نام فقہ ہے ؟۔۔۔۔۔ جس کے درست یا نا درست ہونے کا کوئی سوال ہی بے معنی ہے ؟۔۔۔۔۔۔ اس کے باوجود اس بنیاد و قرآن کے غائب ہونے سے لے کر اس کے دوبارہ منظر عام پر آنے تک دنیا میں آ آ ک رجانے والے کتاب ہدیٰ سے محروم لوگ ہاں مگر اس فقہ کو ماننے والے نہ صرف پکے مومن تھے اور آخرت کی کامیابی کے امیدوار بھی بلکہ ان کے ایسے ہی اخلاف اب دھونس سے کام لیتے ہوئے دوسروں کو بھی اسی راہ پر چلانا چاہتے ہیں !
اور اگر اس فقہ کو درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو فقہ کیا شریعت ہوتی ہے ؟ اس طرح تو اسے ’’ فقہ جعفری ‘‘ کی بجائے ’’ جعفری شریعت ‘‘ کا نام دینا چاہیے ۔۔۔۔ لیکن اس نام کے کون سے رسول ہو گزرے ہیں ؟ اور اگر اس کا نام فقہ جعفری ہے پھر بھی شریعت کا درجہ رکھتی ہے ت متعدد فقہوں کی بناء پر کتنی شریعتیں شمار ہوں گی ؟ ہاں اگر فقہ جعفری ہی تنہا شریعت ہے تو اس کی دلیل ؟ ان ساری باتوں کا جواب ان کے پاس نہیں ہے ! رہے ثانی الذکر سو انہیں پاکستان کو ’’ سنی سٹیٹ ‘‘ قرار دیے جانے کی فکر بھی لاحق ہے اور فقہ حنفی کے نفاذ پر اصرار بھی ! کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کو ’’ سنی سٹیٹ ‘‘ بنانا ہے تو حنفیت کا یہاں کیا کام ؟ اور اگر حنفیت عزیز تر ہے تو ’’ سنی سٹیٹ ‘‘ چہ معنی وارد ؟
’’ سنی نسبت تو سنت سے ہے لہذا پاکستان کو سنی سٹیٹ بنانے کے لیے کتاب و سنت کے نفاذ کا نام لیجیے جبکہ فقہ حنفی کے نفاذ کی مناسبت سے اسے ’’ حنفی سٹیٹ ‘‘ قرار دیے جانے کا مطالبہ بمعنی بر معقولیت ہے پھر آپ کہاں گھو؍ پھر رہے ہیں ؟ یہ وہ مکتب فکر ہے کہ جو فقہ جعفری کے نعرہ سے تو الرجک ہے لیکن فقہ حنفی کا علمبردار !۔۔۔۔ یعنی ان کے نزدیک رسول اللہ ، امام جعفر صادق نہیں ، امام ابو حنیفہ ہیں ۔۔۔۔ یا پھر فقہ حنفی اور کتاب و سنت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ! لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ 1973؁ کا دستور بھی ان کے نزدیک برابر کا مقدس و محترم ہے ۔ چنانچہ ایک ہی حنفی کانفرنس میں جہاں یہ قرار داد پاس ہوئی کہ :
’’ حکومت فوری طور پر برطانوی قانون اور مارشل لاء سمیت غیر اسلامی قوانین منسوخ کر کے ملک کی واضح اکثریت کے عقیدے کے مطابق فقہ حنفی نافذ کرے ‘‘!وہیں دوسری قرار داد کے ذریعے :
’’ ملک سے فوری طور پر مارشل لاء اٹھانے اور 1973ء کے متفقہ دستور کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔‘‘
جبکہ اس کے اختتام پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا گیا کہ :’’ صدر نے پانچ سال کے لیے اقتدار میں رہنے کی ضمانت اسلام کے نام پر حاصل کی ہے اس لیے حکومت کو خلافت راشدہ کے دور کو اساس بناتے ہوئے اسلامی نظام کو فوری نفاذ کرنا چاہیے ! ( روزنامہ جنگ 5 نومبر 1985؁ء )
حالانکہ خلافت راشدہ کے دور میں فقہ حنفی کا کوئی وجود نہ تھا اور جب فقہ حنفی معرض وجود میں آئی 1973ء کے دستور کی زیارت خواب میں بھی کسی کو نصیب نہ ہوئی ہو گی ۔ پوچھنا چاہیے کہ خلافت راشدہ کا دستور کیا فقہ حنفی تھی ؟۔ اور فقہ حنفی 1973ء کے دستو رکو سامنے رکھ کر مرتب ہوئی تھی ؟ فقہ حنفی بہر حال ایک فقہ تھی نہ کو خود دستور تھی اور 1973ء کا دستور نام سے ظاہر ہے کہ 1973ء؁ میں بنا ۔۔۔ تو ان تینوں میں سے آپ کس چیز کو نافذ کرنا چاہتے ہیں ؟ یا کیا بیک وقت تینوں کا نفاذ مطلوب ہے ؟
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری!
( پندرہ روزہ ’’ المصطفٰی‘‘ گوجرانوالہ شمارہ 13،14 صفحہ آخر )
جبکہ اسی شمارہ کے اداریہ کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد 100 فیصد ہے ! سوچنے کی بات یہ ہے کہ ’’ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے !‘‘ کا اگر یہی عالم ہے اور دوسرا کوئی موجود ہی نہیں تو یہ گستاخان رسول کوئی دوسرے کیسے ہو سکتے ہیں ؟ لامحالہ یہ آپ ہی ہیں لفظاً بھی اور معناً بھی ( جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں !) لہذا یہ گستاخیاں بند کیجیے ) مطالبات کرنے کی تک ہی کیا ہے ؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اسی شمارہ کے صفحہ اول پر ’’ المصطفیٰ رپورٹ ‘‘ کے حوالے سے ’’ ملک میں یہ ’’ اہل سنت ‘‘ اسی فیصد ہیں ‘‘ جبکہ صفحہ تین پر ادارتی کالموں تک پہنچتے پہنچتے ان کی تعداد سو فیصد ہو گئی ہے ۔خدا کرے زور قلم اور زیادہ !تو آئندہ شمارہ میں یہ تعداد شاید 120 فیصد ہو جائے گی !
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ہم کہنے یہ جا رہے تھے کہ نعرہ ان کا بھی نفاذ فقہ حنفی کا ہے لیکن طرفہ یہ کہ حنفیت ہی انہیں عزیز نہیں ہے بلکہ اگر اس فرقہ کی پوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وفا نام کی کوئی چیز بھی ان کے پلے میں نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے عشق و محبت کے بلند بانگ دعوے بھی ہیں لیکن اسوہ رسول ؐ بھی انہیں عزیز ہو ، ایں خیال است و محال است و جنوں! کہنے کو سنی لیکن سنت رسول ؐ سے جس قدر کوئی قریب ہو گا اسی قدر ان کی نظروں میں گستاخ سول ہو گا ۔ تعروں کی حد تک حنفی لیکن آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے کہ ’’ اوقاف کی مساجد میں سپیکری درود پر سے پابندی فی الفور ہٹائی جائے !‘‘ یہ الگ بات ہے کہ دن میں پانچ پانچ مرتبہ اذان سے قبل اور بعد میں بھی یہ درود پڑھنے والے اپنی پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی فقہ حنفی کے پورے ذخیرہ سے اس کی ایک بھی دلیل پیش نہ کر سکیں گے ۔۔۔۔ ﴿وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا﴾
نسبت میں بریلوی ہیں لکن اگر علمائے بریلویت بھی خواہ احمد رضا خاں بریلوی ہی کے حوالہ سے اذان سے قبل اور بعد میں مروجہ درود و سلام پڑھنے سے منع کریں ۔ اس کے خلاف فتوے دیں اور اسے بدعت قرار دیں تاہم درود کے منکر صرف وہابی ہی ہوں گے جبکہ یہ فتوے دینے والے بہرحال علمائے اہل سنت ، مشائخ عظام ، پیر طریقت وغیرہ وغیرہ ۔
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو ہرے نامہ سیاہ میں تھی
عقیدت میں قادری ہوتے ہیں لیکن محض پیٹ پوجا کی حد تک اگر کہا جائے کہ شیخ عبد القادر جیلانی کے عقیدہ و عمل سے آپ کو کوئی واسطہ ہی نہیں ہے کہ جس سنت نبوی کا تم مذاق اڑاتے ہو ، اس کے وہ سختی سے پابند تھے اور اسی کے والا وشیدا ، تو جوابا دلیل غائب ، گستاخ اولیاء کا فتوی نقد حاضر ! تحریک پاکستان کے سلسلے میں ان کی تمام تر خدمات کا ماحصل صرف ایک کفر کی مشین گن ہے جس نے کسی کو معاف نہ کیا چنانچہ اس کی زد سے نہ بانی پاکستان بچ سکے نہ مصور پاکستان محفوظ رہے لیکن اس کے باوجود تحریک پاکستان کے تنہا ٹھیکیدار بھی یہی لوگ ہیں ۔۔۔ قومی اتحاد میں رہ کر تحریک نظام مصطفٰی ؐ کے نعرہ باز بھی یہی تھے لیکن دینی جماعتوں میں سے اس نعرہ سے بے وفائی کر کے اس اتحاد کو توڑنے والے بھی سب سے پہلے یہی لوگ تھے ! شیعوں کے مقابلے میں اہلسنت کہلاتے ہیں لیکن رافضی نعرہ ’’ پنجتن پاک ‘‘ کی مقبولیت کے امین بھی ہی ہیں ۔ صحابہ ؓ سے عقیدت کا دم بھی بھرتے ہیں لیکن خلفائے راشدین ؓ میں سے پہلے تین خلفاء کو چھوڑ کر صرف ’’ نعرہ حیدری یا علی ‘‘ بلند کرنا بھی انہی کے ترکش کا تیر ہے ( اب خدارا باقی تین کو بھی پکارنے نہ لگ جانا ، ہمارا مقصد یہ قطعاً نہیں تھا ، ۔۔۔ الغرض یہ وہ گروہ ہے کہ جس نے کسی کی بھی لاج نہ رکھی شرک و بدعت کی ملاوٹ سے دین اسلام کا حلیہ بگاڑنے والے یہ وہ لوگ ہیں کہ کتاب و سنت پر سب سے زیادہ ستم انہیں نے توڑے ہیں ۔ اس کے باوجود سنی صرف یہی ہیں باقی سب گستاخان رسول! کیوں نہ ہوئے
یہ وارث ہیں خلق رسول امیں کے
سنوں چشم بد دور ہیں آپ دیں کے!
علماء تو انبیاءؑ کے وارث ہوا کرتے ہیں ۔ اور دنیا سے ان کے تشریف لے جانے کے بعد ، ان کے مشن کو چلانا اور ان کی تعلیمات کے مطابق امت کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا انہی کا کام ہوتا ہے ۔ قافلہ سالار اگر چوکس ہوں تو قافلے بخیریت منزل پر پہنچ جاتے ہیں لیکن اگر راہنما ہی راہ مارنے لگ جائیں تو قافلے لٹ جایا کرتے ہیں ۔ پاکستان میں اسلامیان پاکستان کا قابلہ بار بار لٹا اور اس بیدردی سے لٹا کہ ہر مرتبہ ظالموں نے اس کی سب سے قیمتی متاع دین و ایمان ہی پر ہاتھ صاف کیا ۔ صرف اس لیے کہ پسابانوں نے پاسبانی کے اصول کھو دیئے تھے اور ابن الوقت سیاستدانوں اور عاقبت نا اندیش حکمرانوں نے اپنی ذاتی اغراض کی بنا پر جب الحاد و مغربیت کے طوفانوں کے ہمرکاب اہل قافلہ پر یوش کی تو بجائے اس کے کہ وہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم کتاب و سنت پر جمع ہو کر ان کا مقابلہ کرتے وہ فرقہ بندیوں کی دلدل میں سرتاپا غرق آپس میں ہی بری طرح الجھ چکے تھے ! ان حالات میں اگرچہ علماء حق حاملین کتاب و سنت نے انہیں اتباع کتاب و سنت کے حوالے سے سلامتی کا راستہ دکھانے کی اپنی سی کوشش کی بھی تاہم وقت کے ہنگاموں میں ان کی آواز دب کر رہ گئی اور اگر کوئی ان کی طرف متوجہ ہوا بھی تو اس کو بہکانے کے لیے علماء سوء کا صرف یہی کہہ دینا کافی تھا کہ ’’ یہ گستاخان رسول ہیں غیر مقلدین ہیں ، منکر اولیاء ہیں ان کے بھرے میں نہ آ جانا ۔‘‘ جس کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے کہ منزل ( اسلام ) کا دور دور تک کہیں پتا نہیں ہے اور اس کی حیثیت اب صرف نام کی رہ گئی ہے جبکہ اس کے واحد ذریعہ کتاب و سنت کی حیثیت محض لیڈری پکی کرنے کی خاطر ایک سستے قسم کے نعرہ کی کہ عملا جس سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ البتہ منجملہ دیگر نعروں کے کبھی کبھی یہ بھی سنائی دے جاتا ہے ۔ چنانچہ
﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ...﴾
’’ کہ ہدایت کی تبیین کے بعد بھی جس نے رسول اللہﷺ کی مخالفت کی اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کوئی دوسری راہ اختیار کی تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف کا اس نے رخ کر لیا ہے ۔‘‘ کی یہ کتنی سچی تصویر ہے کہ یہ نام نہاد علماء اگر سیاسی سٹیج پر تشریف فرما ہوں تو ’’ 73 کے دستور پر امت کے اجماع ‘‘ کی خوشخبری سناتے ہیں اور اگر منبر پر ورنق افروز ہوں تو ہوا کا رخ پہچان کر بات کرتے ہیں ۔ اجتماع اگر حنفیوں کا ہو تو ’’ فقہ حنفی ‘‘ کے نفاذ کاراگ الاپتے ہیں ۔ سنی سامنے ہوں تو ’’ سنی سٹیٹ ‘‘ کا ناقوس بجاتے ہیں ۔ جانثاران صحابہؓ کی محفل ہو تو ’’ خلفائے راشدین ؓ کے نظام ‘‘ کی خبر دیتے ہیں اور اگر سامعین ، حاملین کتاب و سنت ہوں تو ’’ کتاب و سنت کے نفاذ ‘‘ کی صدائے شیریں سمع نواز ہوتی ہے ! ۔ الغرض راہنماؤں نے ’’ راہنمائی ‘‘ اور پاسبانوں نے ’’ پاسبانی ‘‘ کا فریضہ کچھ اسی انداز سے انجام دیا کہ لٹیرے اہل قافلہ کی ایک ایک کمزوری سے آگاہ ہو گئے ۔ اور یہ جان کر کہ ان کی سب سے بڑی کمزوری اسلام اور اس کی واحد بنیاد کتاب وسنت ہیں ، دام ہمرنگ زمیں بچھایا اور اسلام کے حوالے سے اسلام ہی ان سے چھین لیا ۔ کتاب و سنت کے وعدہ پر کتاب و سنت ہی ہے انہیں دور پھینک دیا ۔ لیڈروں کی لیڈری پر بھی کوئی آنچ نہ آئی اور حکمرانوں کی صدارت بھی کھری ہو گئی ۔ اب وہ بڑے اطمینان سے وہی پرانا اور شرمناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہو چکے ہیں کہ جو اس ملک کے پہلے روز سے گویا اس کا مقدر بن چکا ہے ۔ اس وقت 1973ء کے ’’ متفقہ ‘‘ دستور کی بساط ان کے سامنے ہے اور کھلاڑی اس پر اپنے اپنے مہرے سجائے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں ۔ چنانچہ حکومت کے نزدیک اس میں ترمیمات ناگزیر ہیں ، لیکن سیاستدانوں کے نزدیک یہی ترمیمات اس پر خط تنسیخ پھیر دینے کے مترادف ہیں ۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم نے آئین کو بھی زندگی بخش دی اور جمہوریت بھی بحال کر دی ، لیکن سیاستدانوں کو اصرار ہے کہ تم نے آئین کا بھی بیڑہ غرق کر دیا اور جمہوریت ہی بحال نہیں کی !
رہی بات دستور اسلام قرآن مجید کی تو چونکہ اس میں ترمیمات نہیں ہو سکتیں اس کی متعین تعبیر سنت رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے اس میں کوئی گھپلا بھی نہیں ہو سکتا ۔ اسے دستور تسلیم کر لینے سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوتے جمہوری تماشوں کی بازی الٹ جاتی ہے منافقتیں ختم ہو جاتی ہیں سازشیں جنم ہی نہیں لیتیں فرقہ بندیوں کی جڑیں کٹ جاتی ہیں باہمی نفرتیں عداوتیں اور کدورتیں اخلاص و محبت اور ہمدردی میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ عوام کو ان کے حقوق و فرائض کا علم ہو جاتا ہے سیاستدانوں کو سیاسی شعور مل جاتا ہے حکمرانوں پر ان کی ذمہ داریاں واضح ہو جاتی ہیں علماء کو ان کے مشن سے آگاہی حاصل ہو جاتی ہے ۔ لہذا اس بارے میں سبھی متفق ہیں کہ اس کا نام بھی نہ لو ! ورنہ حکمران مطلق العنان نہ رہیں گے اور سیاستدانوں کی سیاست کا فور ہو جائے گی ، لیڈروں کی لیڈری دھری کی دھری رہ جائے گی اور نام نہاد روحانی پیشوا عوام کو بیوقوف بنا کر ان کی جیبوں پر ہاتھ صاف نہ کر سکیں گے ۔ پھر انہیں صدر گرامی قدر وزیر اعظم فلاں پارٹی کے سربراہ اور مولائی و مرشدی کون کہے گا ؟ ویسے بھی اس کی ضرورت اگلے ریفرنڈم یا الیکشن پر ہی پیش آئے گی ابھی پانچ سال کا عرصہ بہت کافی ہے ! فی الحال خود بھی تماشا گاہ میں اترو اور عوام کا بھی دل بہلاؤ! ان سے اسلام چھن گیا تو کیا ہوا ؟ آرٹ اور فن کے نام پر انہیں بے حیائی اور بے غیرتی کا تحفہ دو ثافت کے نام پر بدمعاشیاں بانٹو صحافت کے نام پر گندگی پھیلاؤ ، دانشوری کے نام پر بے دانشی کے ڈھیر لگاؤ ، تفریح کے نام پر وی سی آر عام کر دو کھیلوں کے طفیل انہیں ہڑبونگ اور طوفان بدتمیزی سے آشنا کرو انعام کے طور پر انہیں رشوتوں کے نذرانے پیش کرو ۔ اور مذہب کے نام پر انہیں میلے عرس قوالیاں بھنگڑے ڈھول ڈھمکے باجے تاشے اس کثرت سے عطا کرو کہ تنگی و اماں کے شاکی ہونے لگیں اور انہیں سر اٹھانے کی بھی مہلت نہ ملے ۔ ادھر آسمانوں سے آواز آتی ہے :
﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ ﴿١﴾ مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ﴾
کہ ’’ لوگوں کے حساب ( کا وقت تو ) قریب آ گیا ، لیکن وہ ( اس سے بے نیاز ) غفلتوں میں منہ پھیرنے والے ہیں ۔ جب بھی ان کے رب کی طرف سے کوئی نیا حکم آتا ہے وہ اسے سن تو لیتے ہیں مگر پھر فورا ہی دوبارہ کھیل کود میں مشغول ہو جاتے ہیں !‘‘
قرآن خبردار کر رہا ہے کہ :
﴿قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ﴾
’’ اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا رب اس پر قادر ہے کہ عذاب تمہارے اوپر سے تم پر نازل کر دے یا یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے یا وہ اللہ تمہیں گروہوں میں بانٹ دے تاکہ تم ایک دوسرے کی لڑائی کا مز ہ چکھ سکو ۔ اے ( نبی !) دیکھئیے ہم آیات کو کس طرح پھیر پھیر کر بیان فرماتے ہیں اکہ کسی طرح تو یہ سمجھ سکیں ۔‘‘
حکمرانو ، لیڈرو ، سیاستدانو ) پیشواؤ اور عوام الناس تمہارا حال اس وعید قرآنی کی مکمل تصویر ہے ۔ تم جانتے ہو کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور اسلام دشمن طاقتیں اسے حرف غلط کی طرح مٹانے کے لیے آمادہ پیکار ہیں ۔ پھر بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک فرقہ واریت کا وہ زہر ہے جو اندر ہی اندر تمہاری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے لیکن تم ہو کہ اسی کو تریاق سمجھے بیٹھے ہو ۔ یا پھر تمہاری تان رہ رہ کر جمہوریت پر آ ٹوٹتی ہے ! آہ ! ان ریت کی دیواروں میں تم کب تک سردیے رہو گے ، جو تمہارے آج تک کے تمام مصائب کی ذمہ دار ہیں ۔ خبردار ! پناہ ان میں نہ ڈھونڈو بلکہ عافیت کتاب وسنت کے دامنوں میں تلاش کرو کہ اسی میں تمہاری دین و دنیا کی فلاح کا راز مضمر ہے ! یہ وعدہ خداوندی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :﴿وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾
وما علینا الی البلٰغ