ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
ملک عزیز اس وقت جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے تو اس کا بڑا سبب کتاب و سنت سے بے اعتنائی بلکہ ان سے انتہائی ظالمانہ سلوک ہے ۔ اور ارباب سیاست و اقتدار سے لے کر اصحاب جبہ و دستار تک سبھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔"هل افسد الذين الا الملوك واحبار سوء ورهبانها"یعنی ’’ فساد دین کے ذمہ دار ہی تین طبقے ہیں ۔۔۔۔۔۔صاحبان اقتدار ، علمائے سوء اور برے درویش ! ‘‘
کوئی نہیں جانتا کہ دین اسلام صرف اور صرف کتاب و سنت سے عبارت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بطور وصیت اپنی امت کے راہ ہدایت پر قائم رہنے کا راز ’’ تمسک بالکتاب والسنۃ ‘‘ ہی میں مضمر بتلایا تھا ؟ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ یہ دین اسلام کے علمبردار ہی ہیں جو ٹولے ٹوٹکوں سے تو اس قوم کی نیا کو پار لگانے کی فکر میں ہیں لیکن کتاب وسنت ہی کا نام لینا انہیں گوارا نہیں ہے ! ۔۔۔۔۔ ایک طرف اگر فقہ جعفری کو ملک کا دستور قرار دینے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تو دوسری طرف فقہ حنفی کے نفاذ کو عین اسلام قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن کیلانی
اگست 85ء کے شمارہ میں شاہ فاروق ہاشمی صاحب کے دو سوالات کے جوابات مدیر محدث حافظ عبد الرحمن مدنی کے قلم سے شائع ہوئے تھے ۔ اب ہاشمی صاحب کے بقیہ سوالات اور ان کے جوابات مولانا عبد الرحمن کیلانی کی طرف سے ہدیہ قارئین ہیں ۔ ( ادارہ )
ہاشمی صاحب لکھتے ہیں کہ :
3۔ تیسرا سوال یہ ہے کے موت کے بعد انسان کی روح کا مستقر جنت ہے یا دوزخ یا عالم برزخ ؟
بعض حضرات کا خیال ہے کہ موت کے بعد انسان اپنے اعمال کے مطابق روحانی طور پر جنت یا دوزخ میں چلا جاتا ہے ( قبر یا عالم برزخ میں نہیں جاتا ) ان کا استدلال درج ذیل آیات و احادیث سے ہے :
( الف )﴿ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴿٣٧﴾قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ﴾( الاعراف 37:38)
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن عاجز
یہ ایک بات ہی بس باعث مسرت ہے کہ دل میں تیری تمنا تری محبت ہے
گناہ گار کو فردوس کی بشارت ہے زباں پہ تو اگر قلب میں ندامت ہے
جزائے حسن عمل تو تری عنایت ہے سزائے کفر و بغاوت تری عدالت ہے
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن عزیز
خلفاء ثلاثہ کی شہادت :
ایرانیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی سازش سے جب سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے یکم محرم الحرام 24 ھ کو ابو لوء لوء کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا تو داماد رسول ؐ سیدنا عثمان بن عفان ؓ مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے مگر یہ بھی مجوس و یہود کی سازش کے تحت ذو الحجہ 35ھ کو جام شہادت نوش فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے تو حضرت علیؓ نے اس منصب کو بادل نخواستہ قبول فرمایا اور ہمیشہ اپنے دور خلافت میں اپنے ہی محبوں کے ہاتھوں نالاں ہے جیسا کہ حضرت علیؓ کے اس خطبہ سے طاہر ہے :
’’ خدا وند تو جانتا ہے کہ میں ان سے تنگ ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آ چکے ہیں مجھے ان سے راحت دے اور ان کو اس شخص کے ہاتھ مبتلا کر دے جس کے بعد مجھے یاد کریں میں ان کا دشمن ہوں اور یہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ ( جلاء العیون ص 229)
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
بیرون ملک کھیل کے میدانوں میں مسلمان بہو بیٹیوں کو روانہ کر کے ’’ پورے ملک اور قوم کے وقار ‘‘ کا ’’ تحفظ ‘‘ کرنے کے بعد پروفیسر صاحب اب خود تحقیق و تنقید کی جو لانگاہ میں قدم رنجہ فرماتے ہیں ۔۔۔ وضاحتوں والے مضمون کی دوسری قسط کی ابتداء ہی میں ارشاد ہوتا ہے :
’’ حضرت شاہ عبد القادر نے پردے کے حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں ، بی بی ہے صاحب ناموس ، بد ذات نہیں نیک بخت ہے ‘‘
ہمارے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر و ترجمہ کرنے والی تمام شخصیتیں محترم ہیں اور شاید ہم گنہگار ہی قرآنی احکام کی تفسیروں میں پوشیدہ اس قسم کی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جن کی رو سے کنیز اور لونڈی کو ایک قابل احترام اور مکمل عورت یا انسان تسلیم کرنے میں آج بھی تامل کیا جاتا ہے ۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا غلام نبی الربانی کے فرزند ارجمند مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی م 1334ھ کے داماد اور جماعت اہلحدیث کے مشہور عالم ، واعظ ، خطیب اور صحافی مولانا عبد المجید خادم سوہدروی  م 1379ھ کے والد ماجد تھے ۔
ابتدائی کتابیں اپنے والد مولانا غلام نبی الربانی م 1348ھ سے پڑھیں ۔ اس کے بعد صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک ، مشکوۃ المصابیح استاذ پنجاب مولانا حافظ عبد المنان صاحب محدث وزیر آبادی سے پڑھیں ۔
وزیر آباد میں تکمیل کے بعد حضرت شیخ الکل میاں سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی م 1330 ھ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیث میں سند حاصل کی ۔ دہلی میں تکمیل تعلیم کے بعد مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی صاحب عون المعبود فی شرح سنن ابی داؤد م 1329ھ اور علامہ حسین عرب یمانی م 1327 ھ سے سند و اجازہ حاصل کیا ۔