ابراء اهلحديث والقرآن مما فى جامع الشواهدمن التهمتر البهتان
تاليف------------------ مولانا حافظ عبدالله محدث غازى پوری
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 136 صفحات
ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ سلیم ناظم نشرواشاعت دارالحدیث کمالیہ
رجسٹر راجووال ]( ساہیوال )
ملنے کاپتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحانی اکیڈیمی اردو بازار لاہو ر
سفید کاغذ، آفسٹ طباعت وکتابت ، قیمت درج نہیں ۔
تقریباً ایک صدی قبل ( 1883؁ ء میں ) صادق پور، عظیم آباد ۔پٹنہ کےعلاقے سےایک رسالہ یافتویٰ شائع کرکے عوام میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں درج ذیل سوالات اٹھائے گےتھے :
1۔ کیا فرماتےہیں علماء اہل سنت ووالجماعت اس بصر میں کہ بدگروہ غیرمقلدین اہل سنت والجماعت میں داخل ہےیا مثل اورفرق ضالہ کےاہل سنت سےخارج ہے؟
3۔ان کےپیچھے نماز پڑھنا درست ہےیا نہیں ؟
فتویٰ مذکورہ میں ان سوالات کےجواب میں لکھا گیا تھا کہ :
1۔ ’’ فرقہ غیر مقلدین کی علامات ظاہری اس ملک میں آمین بالجہر یعنی آمین پکار کےکہنا اوررفع الیدین اور سینے پرہاتھ باندھنا اوراما م کےپیچھے الحمد پڑھنا ہے،اہل سنت سےخارج ہیں اور مثل دیگر فرق ضالہ رافضی ،خارجی وغیرہماکےہیں کیونکہ ان کےبہت سے عقائد اورمسائل اہل سنت کےمخالف ہیں ۔،،
2۔ ’’ غیرمقلدوں (یعنی اہل حدیث ) سےمخالطت اورمجالست کرنا اوران کواپنی خوشی سےاپنی مسجد میں آنے دینا شرعاً ممنوع ہے۔،،
3۔ ’’ ان غیرمقلدوں ) کےپیچھے نماز درست نہیں ! ،،
یہ وہ وقت تھاجب کہ مجاہدین صادق پور کےایک بقیۃ السلف صاحبِ علم وفضل بزرگ مولانا عبدالرحیم صادق پوری ﷫ جزائم انڈیمان ( کالاپانی) میں بیس سال کی قید فرنگ سےرہا ہوکر صادق پورمیں اس پابندی کےساتھ آئے تھےکہ وہ دو وقت روانہ انگریزی تھانے میں حاضری لگوایا کریں گے۔ان دنوں اہل حدیث انگریز کےمظالم کاخاص ہدف تھے -------- بلاشبہ اس فتویٰ نے، جوانگرز حکومت کی سرپرستی میں ایسے ہی ایک اوررسالے کےساتھ شائع ہوکرعوام میں تقسیم کرایا گیا تھا،انگریز کومزید شہ دی او رعلاقہ بہار وغیرہ میں اہل حدیث کومساجد سےجبر اً نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کی گئی ۔
مذکورہ فتویٰ کےجواب میں اس وقت کےعلمائے اہل حدیث نےپانچ رسائل لکھےتھےجن میں ان تمام الرامات ، غلط بیانیوں اورمغالطوں کاازالہ کیا گیا تھاجواس فتویٰ میں اہلحدیث پرلگائے گئے تھے ۔یہ رسائل ’’ سعید المطابع ،، بنارس سےشائع ہوئے تھے ۔
قیام پاکستان کےبعد1958؁ء میں چونکہ یہی فتویٰ اخراج الوہابیین من المساجد ،،
( مصنفہ مولوی وصی احمد محدث سورتی ) مکتبہ نبویہ لاہور سےدوباہ شائع کیاگیا ،لہذا ضرورت تھی کہ اس فتویٰ کےان جوابی رسائل کوبھی طبع کرکے منظرِ عام پرلایا جاتا۔۔۔۔۔ چنانچہ زیر نظر کتاب انہی پانچ جوابی رسائل میں سے ایک ہے۔محترم ومکرم مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہ العالی ( مہتم مدرسہ دارالحدیث کمالیہ ۔راجوال) کو اللہ تعالیٰ جزائے خیرعطا فرمائے کہ انہوں نے اس رسالہ کونہایت خوبصورت انداز میں شائع کرکے وقت کی اس اہم ضرورت کوپوراکیا ہے------
اس کےساتھ ہی ساتھ ہم ان سےیہ امید رکھتےہیں کہ وہ بقیہ چاررسائل ( جوان کےپاس موجود ہیں ) کےاشاعت کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں گےتاکہ جماعتِ حقیہ اہل حدیث کےخلاف آج بھی جوبے سروپا باتیں کہی جارہی ہیں ان کامناسب توڑ مہیا ہوسکے۔واللہ الموفق !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(2)
اسلامی نظامِ عدل کانفاذ ، مشکلات اوران کاحل ، سلسلہ مطبوعات نمر7مرکزِ تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری نسبت روڑ لاہور
تالیف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا سید محمد متین ہاشمی
ضخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔40 صفحات
طباعت ، کتابت بہترین ، سفید کاغذ۔۔۔۔۔ قیمت درج نہیں !
آج جب کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ عدل کےلیےپیش رفت ہورہی ہے،اس بات کوسمجھ لینا انتہائی ضروری ہےکہ مغرب کانظامِ عدل سےقطعاً کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔مولانا سیدمحمد متین ہاشمی صاحب نے جہاں اس کتاب میں اس پہلو پراظہار خیال کرتےہوئے بعض لوگوں کی ا س غلط فہمی کودورکرنےکی کوشش فرمائی ہےکہ مغربی نظامِ عدل میں کچھ ضروری تبدیلیاں کرکےاسے اسلامی بنایا جاسکتا ہے،وہاں انہوں نے اسلامی نظامِ عدل کی کئی ایسی خصوصیات کابھی مفصل ذکر فرمایا ہےجواسے مغربی نظامِ عدل سےیکسر ممتاز کردیتی ہیں ۔ علاوہ ازین مولانا نےپاکستان میں اس نظامِ کی ترویج میں مشکلات اوران کے حل کی طرف توجہ فرمائی ہےجس کےلیے انہوں نےقیمتی آراء درج فرمائی ہیں ۔
ہماری نظر میں یہ کتابچہ اس سلسلہ میں فکری لحاظ سے کافی مفید ثابت ہوسکتاہے۔اگرچہ مولانا کےاس خیال سےجمہور علماء کواتفاق نہیں کہ انسان زمین میں ’’اللہ کاخلیفہ ،، ہےجیسا کہ صفحہ 3 پرانہوں نےذکر فرمایا ہے۔
قرآن مجید کی آیت ’’ إنى جاعل فى الارض خليفة ،، میں لفظ ’’خلیفہ ،، بغیرکسی کی طرف نسبت کےذکر فرمایا گیا ہے(اس مسئلہ کی تفصیل کےلیے رمضان المبارک 1402ھ کےمحدث کےادارتی صفحات ملاحظہ کئے جاسکتےہیں ) -----
بہرحال مولانا کی یہ کوشش نہ صرف انتہائی مستحسن ہے۔بلکہ ایک قابل تقلید مثال بھی ، کہ ہمارے علماء کرام کوتوجہ ان مسائل کی طرف بہت کم ہےاورجوپاکستان میں اسلامی نظامِ حیات کوبرپا کرنے میں تاخیر کاایک بہت بڑا سبب ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ البرہان التقویٰ ،، بحواب ’ ’ السلطان القوی ،،
مرتبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوسہیل مولانا محمد عبداللہ خطیب چھوہرانوالہ ضلع گجرات
ضخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔80 صفحات
سفید کاغذ ،کتابت طباعت آنسٹ -----ہدیہ بطور صدقہ جاریہ 8 روپے
جیسا کہ کتاب کےنام سےظاہرہے، یہ کتاب کےنام سےظاہرہے، یہ کتاب مولوی غلام رسول صاحب رضائی کتاب’’السلطان القوی،، کےجواب میں ہے۔مولوی غلام رسول صاحب نےاس کتاب میں قرآن وحدیث اورفقہ حنفیہ سےنماز جنازہ کےبعد بیٹھ کر مروجہ دعا کےاثبات میں کافی’’ دلائل ،، پیش کئے تھے لیکن مولاناابوسہیل نےہرایک الگ ذکر کرنےکےبعد نمبردار انِ پرمدلل بحث کی اورانہیں بےسروپا اورغلط ثابت کیا ہے۔کتاب کےآخر میں مولانا نےفقہ حنفیہ کےعلمائےکرام کےپچیس ( 25) ایسے حوالہ جات درج فرمائے ہیں، جونماز جنازہ کےبعدبیٹھ کرمروجہ دعا کی تردید میں ہیں ۔پھر چھبلیسویں نمبر پرحضرت مولانا مفتی کتائت اللہ دہلویٰ کےایک فتویٰ کاحولاہ بھی دیا ہےجس میں اس دعاکومفتی صاحب نےبدعت قرار دیا ہےاورجس پر برصغیر پا ک وہند کےایک سوپچاس (150) علماءے کرام نےدستخط ثبت کئے تھے ۔۔۔۔۔ ان علماء کرام کےاسمائے گرامی بھی کتا ب میں درج کئےگئے ہیں۔
سب سےآخر میں مولانا نےنمازِ جنازہ کامسنون طریقہ اوراس سلسلہ میں چند مسنون دعائیں بھی مع ترجمہ درج فرمائی ہیں ، اوراس طرح یہ رسالہ اس موضوع پرایک جامع رسالہ قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ مولانا کی اس کاوش کوقبول فرمائے اورجملہ مسلمانوں کوبدعات سےبچنے اورسنت ِ رسول ﷺ کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین !
(4)
عزرائیل کی گرفت
مؤلفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا عبدالرشید حنیف ادارہ علومِ اسلامی جھنگ صدر
ضخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔40 صفحات
قیمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 50؍ 2 روپے
ادارہ علومِ اسلامی کافی عرصہ سےتبلیغ دین میں مصروف ہے۔140سال کےعرصہ میں تقریباً چالیس (40) کتب ورسائل اس ادارہ سےچھپ کرمنظرِ عام پر آچکےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : تالیف وتراجم کی تمام ترذمہ داری مولانا عبدالرشید حنیف پر ہے۔
زیرِنظر رسالہ مولانا نےفکرِآخرت ، بالخصو ص موت کوموضوع ِ بحث بنایا ہے،جسے پڑھ کر قاری واقعتاً اپنے تتیں فانی دنیا کاباشندہ سمجھنےلگتا اورآخرت کی جواب دہی کاتصور اس کےذہن میں گھوم جاتاہے---------- آیاتِ قرآنی،احادیث ِ رسو ل اللہﷺ اوراقوال ِِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کےحوالوں سےترتیب دیا گیا یہ رسالہ ان لوگوں کےلیے ایک خصوصی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔جودنیاوی بکھیڑوں میں الجھ کرفکرِ آخرت سےمنہ موڑ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ مولانا کوخدمت ِدین کی مزید توفیق عطاء فرمائے ! آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(5)
فقہائے ہند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا محمد اسحاق بھٹی
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 416 صفحات
قیمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔: 35 روپے
ناشر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارہ ثقافت اسلامیہ کلب روڑ لاہور
( سفید کاغذ ، مجلد ، کتابت طباعت آفسٹ )
زیرِ نظر کتا ب’ ’ فقہائے ہند،، جلد پنجم کاحصہ دوم ہے۔اس سےقبل اس کتاب کی جلد اول، جلد دوم ، جلد سوم ، جلد چہارم، حصہ او ل ، جلد چہارم – حصہ دوم اورجلدپنجم ۔حصہ اول طبع ہوہوچکی ہیں ۔
جلد پنجم کےحصہ دوم میں بارھویں صدی ہجری کےعلماء وفقہاء کےحالات وسوانح، ان کی علمی ، فقہی مساعی اورتدریسی وتصنیفی خدمات کاتذکرہ کیا گیا ہے۔جیسا کہ اس کتاب کی پہلی جلدوں میں مصنف نےیہ اہتمام کیا ہےکہ ہرجلد میں جن علماء وفقہاء کاتعارف ان کےپیش نظر رہا ہے، مصنف نےان علماء کےدور کےپلوک وسلاطین کےسیاسی حالات اوران علماءے سےان کےتعلقات ومراسم کی وضاحت کےدور کےملوک وسطلاطین کےسیاسی حالات اوران علماء سےان کےتعلقات ومراسم کی وضاحت کےلیے تفصیلی مقدمات لکھے ہیں ، اسی طرح اس جلد کےشروع میں بھی انہوں نے اس عہد (بارہویں صدی ہجری ) سیاسی معاملات اورعلمی کوائف کوموضوع ِ بحث بنایا،نیز برّ صغیر کےمختلف حصوں میں جوعلاقائی سلطنتیں قائم ہوئیں ، ان کےضروری حالات 96 صفحات کےطویل مقدمہ میں بیان کیے ہیں جبکہ کتاب کےباقی صفحات میں 101 علماء وفقہاء کےحالات وسوانح ذکر کیے ہیں ۔ تاریخ اورفقہاء ہند کےموضوع سےدلچسپی رکھنے والے حضرات اس کتاب سےخاطر خواہ فائدہ اٹھاسکتےہیں ۔
(6)
غزوات نبوی ( ﷺ )
مولف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثناء الحق صدیقی
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 162 صفحات
قیمت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 6 روپے
ناشر............. پاک اکیڈمی 141 وحید آباد گولیمار ، کراچی 187
زیرِ نظر کتا ب میں مولف نےستائیس غزوات نبویﷺ کےحالات بیا ن کرتے ہوئے مندرجہ ذیل امور کوپیش نظر رکھا ہے:
(1) رسول اللہ ﷺ کواپنی عسکری زندگی میں کن کن عزوات سےواسطہ پڑا اورآپ کس طرح ان سےعہد ہ برآ ہوئے ۔؟
(2) ان عزوات کےسیاسی ، معاشرتی ، مذہبی عوامل ۔۔۔۔ اوان کےنتائج کیا تھآ؟
(3) واقعات ۔
(4) جنگی معاملات میں رسو ل اللہ ﷺ کےانسانیت کی راہنمائی کےلیے ابدی اصول ۔
(5) عزاوت نبوی ﷺ کاغیرجانبدار انہ طریقے سےجائز لیا جائے توکوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام تلوار کےذریعے پھیلا ہے۔
مؤلف نےکتا میں ،وضاحت کےلیے کہیں کہیں مشہور عزوات کےمیدانوں کےنقشے بھی ترتیب دیے ہیں اورآخر میں فہرست عزوات کےتحت ہرعزوہ کانام،لشکرِاسلام کی تاریخِ ردانگی ، تاریخ واپسی ، کس عزوہ کےموقع پررسول اللہ ﷺ نےکن صاحب ِرسول ﷺ کومدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا،اسلامی لشکر کی تعداد ، جنگ ہوئی یا نہیں ؟ جنگ کی مذت ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے مسلمان شہید اورکتنے دشمن ہلاک ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ تفصیلات بھی درج کی ہیں ۔ الغرض عزوات نبوی کےموضوع پریہ کتابچہ جامع اورنہایت مفید ہے