کسی چیز کےبتدریج آگے بڑھنے کانام ارتقاء ہے۔انسان کا بچہ عمر کےساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ا س کاجسمانی ارتقاء ہے، پھر وہ تعلیم کی طرف آتا ہے،پہلی جماعت میں بیٹھتا ہےاورآہستہ آستہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتاہے۔یہ اس کاعلمی ارتقاء ہے۔کسی انسانی ذہن نےپہیہ کی ساخت اوراس کےفوائد پرغور کیا پھر اسےعملی شکل دی ، توآج انسان نےمحیر العقول مشینیں ایجاد کرلی ہیں ، یہ انسان کا ذہنی ارتقاء ہے۔
ارتقاء کا یہ قانون صرف انسان میں نہیں بلکہ تمام موجودات میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نےآسمان دودنوں ( periods ) میں ننائے اس کےبعد چاردنوں میں زمین اوراس میں بالیدگی کی قوتوں کوبنا یا اس سے ارتقاء کاقانون واضح پرثابت ہے۔
پھریہ بات بھی ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہےکہ ان قدرتی قوانین میں کچھ نہ کچھ مستثنیات بھی آجاتےہیں مثلاً تمام مائعات کی یہ خاصیت ہےکہ وہ جم کریاٹھوس شکل اختیار کرکےسکڑ جاتےہیں اور یاان کا حجم کم ہوجاتا ہےلیکن پانی جم کر پھیل جاتا ہے۔یہ اس تمام قانون سےمستثنیٰ ہوا۔ پھرہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ بالکل صحیح عقل وحواس اورذہن رکھنے والے میاں بیوی کےہاں بلید الذہن بچہ پیداہوجاتاہ ے۔یہ ارتقاء کےعام قانون قدرت سےمستثنیٰ ہوا۔اسی طرح سنکھیا کی یہ خاصیب ہےکہ انسان کوہلاک دیتاہے، مگر کبھی یوں بھی ہوتاہے کہ وہ کسی انسان کےلیے تریاق بن جاتا ہے۔یہ ستثنائی صورت ہوئی ۔ ان سب مثالوں سےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ عام قوانین فطرت میں شاذ ونادرہی سہی ، تاہم مستثنیات کاوجود بھی ممکن ہے۔
کیاانسان اولاد ِ ارتقاء ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ کیاانسان بھی اس ارتقائی قانون ِ فطرت کےتحت حیوانیت سےانسانیت کی منزل میں پہنچا ہےیا اس کی تخلیق مستثنیات کےتحت بحیثیت انسان ہی ہوئی ہے۔اس سوال کےجواب میں کئی نظریات معرضِ وجود میں آچکےہیں، مثلا :
1۔ ایک طبقہ تومذہبی لوگوں کاہے۔ان کاخیال ہےکہ انسان کواللہ تعالیٰ نےیہ حیثیت انسان ہی پیدا کیا ہے۔اس تصور کےمطابق اللہ تعالیٰ نےآدم کوپیدا کیاپھر اس سےاس کی بیوی پیدا کی ، پھر اس جوڑےسےبنی نوعِ انسان تمام دنیا میں پھیلی ۔عام ارتقائی قانون سےانسان کومستثنیٰ قرار دینے کےلیے ان کےہاں دلیل یہ ہےکہ انسان کائنات کاایک حصہ ہونے کےباوجود دوسرے تمام حیوانات اوردیگر اشیاء سےکئی باتوں میں الگ ہےمثلاً اس میں قوت اختیار و ارادہ ہے۔ عقل وشعو ہےپھر بادی النظر میں قرآن کےمطالعہ سےبھی یہی معلوم ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ نےآدم کوبناکر اس میں اپنی روح پھونکی جودوسرے کسی چیز میں نہیں پھونکی گئی اوراسی سےاسے عقل وشعور اوراختیار وارادہ عطاء کیاگیا۔
یہ چیز اسے عام ارتقائی قانون سےمستثنیٰ کردیتی ہے۔اس نظریہ کی حمایت بعض مغربی مفکرین نےبھی کی ہے۔
2۔ دوسرا گروہ مادتین کا ہےجواسے خالص ارتقائی شکل کانتیجہ قرار دیتےہیں ، کیونکہ کائنات میں بالعموم یہی قانون جاری وساری ہے۔ان کےنظریہ کےمطابق زندگی اربوں سال پہلے ساحلِ سمندر سےنمودار ہوئی ۔پھر اس سےنباتات اوراس کی مختلف انواع ظہور پذیر ہوئیں ۔پھر حیوا نات پیدا ہوئےانہی حیوانات سےانسان غیرانسانی اورنیم انسانی حالت کےمختلف مدارج سےترقی کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے۔اس تدریجی سفر کےطویل سفر میں کوئی نقطہ نظرایسا نہیں ہوسکتا جہاں سےغیرانسانی حالت کووجود ختم کرکے نوعِ انسانی کاآغاز تسلیم کیاجائے ۔
بعض مسلمان مفکرین مثلاً ابن خلدون ، ابن مسکویہ اورحافظ مسعودی نےبھی اشیائےکائنات میں مشابہت دیکھ کراس نظریہ ارتقاء کی کسی حدتک تائید کی ہے۔اس سے بھی آگے چلیے توتاریخ کےمطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ سب سے پہلے ارسطو(384۔322 ق م ) نےیہ نظریہ پیش کیا تھا( زریں معلومات ازعطش درانی ص 7) اورانسائیکلوپیڈیا اردو ( مطبوعہ فیروز سنز زیرعنوان ارتقائیت ) کےمطابق قدیم زمانہ میں تھیلیں ، عناکس میندر ، عناکسی میلنس ، ایمپی دوکل اور جوہر پسند فلاسفہ ارتقاء کےقائل تھے ۔
انیسویں صدی عیسوی میں سرچارلس ڈارون ( 1808۔1882 ) نےاصل الانواع (origin of spicies ) لکھ کر اس نظریہ کو یاضابطہ طورپرپیش کیا ۔
پھر اس نظریہ ارتقاء کوتسلیم کرنےوالوں میں بھی کافی اختلافات ہوئے۔ڈارون نےبندر اور انسان کوایک ہی نوع قرار دیاکیونکہ جس وادراک کےپہلو سےان دونوں میں کافی مشابہت پائی جاتی ہےگویا ڈارونِ کےنظریہ کےمطابق انسان بندرکاچچیرا بھائی ہےلیکن کچھ انتہاء پسندوں نے انسان کوبندر ہی کی اولاد قراردیا ہے۔کچھ ان سے بھی آگے بڑھے اورکہاکہ تمام سفید فام انسان توچمپینزی ( chimpenzy ) سےپیدا ہوئے ہیں ، سیاہ ، فام انسانوں کاباپ گوریلا ہے۔
اورلمبے ہاتھوں اورسرخ بالوں والے انسان تگنان بندر کی اولاد ہیں ۔
پھر کچھ اورنظریہ ارتقاء کایہ خیال بھی ہےکہ انسان بندر کی ا لاد نہیں بلکہ بندر انسان کی اولاد ہے۔انسان اورنظریہ ارتقاء ص 118 ) اور اس رجعت قہقری کی مثالیں بھی کائنات میں پائی جاتی ہیں ۔
قرآن سے بھی نظریہ کی کسی حدتک تائید ہوجاتی ہےجیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:﴿فقلنا لهم كونوا قردة خاسئين﴾-(البقره : 65 )
’’ہم نےان بدکردار بنی اسرائیل سےکہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ ،،۔
اس آیت کی تفسیر میں راجح قول یہی ہےکہ انسان کےذہن تووہی پہلے ہی رہےتھےمگر جسمانی حالت بدل دی گئی اوروہ بندربن گئے۔
3۔ تخلیق کائنات بشمولیت انسان کاایک تیسرا انظریہ ،نظریہ آفت گیری ہے جس کےبانی کوئیر ہیں ۔ اس نظریہ کےمطابق تمام اقسام کےتائبے علیحدہ علیحدہ طورپرتخلیق ہوئے، یہ ارضی وسماوی آفات میں مبتلا ہوکر نیست ونابود ہوگئے۔پھر کچھ اورحیوانات تخلیق ہوئے، یہ بھی کچھ عرصہ بعد نیست ونابود ہوگئے۔ اسی طرح مختلف ادوار میں نئے حیوانات پیدا ہوئے اورفنا ہوتےرہےہیں ۔ (اسلام اور نظریہ ارتقاءص85 ) اس نظریہ کی بھ تائید قرآن کریم کی بعض آیتوں سے ہوجاتی ہے۔
چونکہ ڈارون کےنظریہ نےمذہبی دنیا میں ایک طرح کااضطراب پیدا کردیا ہے،لہذا ہم اس کوذراتفصیل سےجائزہ لینا چاہتےہیں ۔پہلے اس نظریہ کوزرا تفصیل سےپیش کریں گے پھر اسے زیرِ بحث لایا جائے گا ۔
نظریہ ارتقاء کیا ہے؟
زندگی کی ابتداء ساحلِ سمندر پرپایاب پانیوں سےہوئی ۔پانی کی سطح پرکائی نمودار ہوئی۔پھر اس کائی کےنیچے سےحرکت پیدا ہوئی ۔
یہ زندگی کی ابتداء تھی ۔ پھراس سےنباتات کی مختلف شکلیں بنتی گئیں ۔ جرثومہ حیوانات میں تبدیل ہوا ۔ پھر اس نےفقری جانور کی شکل اختیار کی۔پھر انسان کےمشابہ حیوان بنا اوراس کےبعد انسا ن اول بناجس میں عقل وفہم اورتکلم کی صلاحیتیں نہیں تھیں ۔بالآخر وہ صاحب فہم وذکا، انسان بن گیا ۔ان تمام تبدّلات ،تغیرات اورارتقائےزندگی میں کتنی مدت صرف ہوئی، اس کااندازہ کچھ اس طرح بتلایا جاتاہے:
آج سے دوارب سال پشیتر سمندر کےکنارے پایاب پانی میں کائی کی نمود شروع ہوئی یہ زندگی کاآغاز تھا ۔ 60 کروڑ سال قبل یک خلوی جانور پیدہ ہوئے۔ مزید 3 کروڑ سال بعد اسفنج اوردیگر سہ خلوی جانور پیدا ہوئے 45 سال قبل پتو ں کےبغیر پودے ظاہر ہوتےاوراسی دور میں ریڑھ کی ہڈی والے جانور پیدا ہوئے۔40 کروڑ سال قبل مچھلیوں اور کنکھجوروں کی نمودہوئی ۔30 کروڑ سال قبل بڑے بڑے دلدل جانور پیداہوئے ۔یہ عظیم الجثہ جانور 84 فٹ تک لمبے اور 35 ٹن تک وزنی تھے۔13کروڑ سال بعد یا آج سے کروڑ سال پہلے ان عظیم الجثہ جانوروں کاخاتمہ ہوگیا ۔4 کروڑ سال قبل ہاتھیوں ، گھوڑوں اوربندروں کی نمو د ہوئی ايك بٹہ دو سال قبل بےدم بوز نے (ape) نمودار ہوئے اورریڑھ کروڑ سال بعد یعنی آج سےایک کروڑ سال پہلے یہ بےدم بوزنہ سیدھا ہوکرچلنے لگا ۔
(یہی وہ بندر ہےجس کےمتعلق کہا جاتاہےکہ یہ انسان کی جدِّا اعلیٰ ہے) اس سے30لاکھ سال بعد یاآج سےستر لاکھ سا ل پہلے بےدم بوز نے کی ایک قسم تپھکن تھروپس سےپہلی انسانی نسل پیدا ہوئی مزید 50 لاکھ سال یاآج سے20 لاکھ سال پہلے پہلی باشعور انسانی نسل پیدا ہوئی جس نےپتھر کا ہتھیار اٹھایا ۔مزید 2 لاکھ سا ل بعد اس میں ذہنی ارتقاء ہوا اورانسانی نسل نے غاروں میں رہنا شروع کیا ۔اورمعلومات ازعطش واوراق ص 7 تا 9 )
ڈارون سب سےپہلے کتاب اصل الانواع 1859ء میں لکھی ، پھر اس کےبعد اصل الانسان اورتسلسل انسانی لکھ کر اپنے نظریہ کی تائید مزید کی ڈارون نےاس نظریہ ارتقاء کومندرجہ ذیل چاراصولوں پراستوار کیا ہے۔
1۔ تنازع للبقاء ( Struggal for Existence )
اس سے مراد زندگی کی بقا کےلیے کشمکش ہے، جس میں صرف وہ جاندار باقی رہ جاتےہیں جوزیادہ مکمل اورطاقتور ہوں ۔اورکمزور جاندار ختم ہوجاتےہیں ۔
مثلاً کسی جنگل میں وحشی بیل ایک ساتھ چرتےہیں پھر جوان میں طاقتور ہوتاہےوہ گھاس پرقبضہ جمالیتا ہےاوراس طرح مزید طاقتور ہوجاتاہےمگر کمزور خوراک کی نایابی کےباعث کمزور ترہوکر بالآخر ختم ہوجاتا ہے۔اسی کشکمش کانام تنازع للبقاء ہے۔
2۔اس کادوسرا اصول طبعی انتخاب ہے۔ اس سے اس کی مراد یہ ہےکہ مثلاً اوپرکی مثال میں وحشی بیل دور کی مسافت طےکرتےاور دشوار راستوں سےگزرتےہیں توجوطاقتور ہوتےہیں وہی یہ مسافت طےکرپاتے ہیں اور اپنے اپنےآپ کوخطرات سے محفوظ کر لیتےہیں ۔گویا فطرت خود طاقتور اورمضبوط کوباقی رکھتی اورکمزور وناقص کوختم کردیتی ہے۔
اگر مندرجہ بالادوالگ الگ اصول بتلائے گئے ہیں مگر دونوں کانتیجہ دراصل ایک ہی سےجو مصداق
تقدیر کےقاضی کایہ قنون ہےازل سے
ہےجرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات !
ان کےختم ہوجانےکی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔
3۔ ماحول سےہم آہنگی :
ا س کی مثال یوں سمجھے کہ شیرایک در گرشت خورجانور ہے۔فطرت نےسے سکار کےلیے نیچے اورگوشت کھانے کےلیے نوکیلے دانت عطاء کیےہیں ۔اب اگر اسے مدت دراز تک کوشت نہ ملے تواس کی درہی سورتیں میں ۔یاتووہ بھوک سےختم ہوجائےگا یانباتات کھانے ایک جائےگا ۔ اس دوسری صورت میں اس کےتیزدست اورنیچے رفتہ رفتہ خود بخود ختم ہوجائیں گے ۔اور ایسے نئے اعضاء وجود میں آنے لگیں گےجوموجودہ مشیت کےمطابق ہوں، اس کی آیتیں بھی طویل ہوکر سبزی خور جانوروں کےمشابہ ہوجائیں کی۔ اسی طرح اگر شیر کوخوراک ملنے کی واحد صورت یہ ہوکہ اسے کسی درخت پرچڑھ کرحاصل کرنی پڑے توایسے اعضاء پیدا ہونے شروع ہوجائیں گےجودرختوں پرچڑھنے میں مدردیے جائیں ۔
4۔ قانون ِ وراثت :
اس کامطلب یہ ہےکہ اصول کی روسے یعنی مشیت اورماحول کےاختلاف سےجوتبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں وہ نسلاً بعد نسل آگے منتقل ہوتی جاتی ہیں۔تاکہ یہ اختلاف فروعی نہیں بلکہ نوعی بن جاتاہےاوریوں محسوس ہوتاہےکہ یہ دوالگ الگ نسلیں ہیں جیسے گدھا اورگھوڑا ایک ہی نوع ہیں ۔مگر گدھا گھوڑے سےاس لیے مختلف ہوگیا کہ اس کی معاشی صورت حال بھی بدل گئی اوراصول معاش کےلیے اس کی جدوجہد میں بھی اضافہ ہوگیا ۔
یہ ہے ڈارون کےنظریہ ارتقاء کاخلاصہ جواس وقت بھی صرف نظریہ ہی تھا آج بھی نظریہ ہی ہے۔ا س نظریہ کوکوئی ایسی ٹھوس بنیادمہتا نہیں ہوسکتی جس کی وجہ سے یہ نظریہ سائنس کاقانون بن سکے۔اس نظریہ پربعد کےمفکرین نےشاید اعتراف کیےہیں ،مثلا:
1۔ زندگی کی ابتداء کیسے ہوگی ؟ معلول توموجود ہےلیکن علت کی کڑی نہیں ملتی ۔گویا اس نظریہ کی بنیادی ہی سائنس لحاظ سےکمزور ہے۔ اس سلسلہ میں پرویز صاحب اپنی کتاب ’’ انسان نےکیا سوچا ،، کےصفحہ 55 پررقطمراز ہیں :
’’یہ توڈارون نےکہاتھالیکن خود ہمارے زمانے کاماہرارتقاء زندگی کی ابتداء اورسلسلہ علت معلول کی اولین کڑی کےمعلق لکھ ہےزندگی کی ابتداء ہوگی ؟ نہایت دیانتداری سےاس کاجواب یہ ہےکہ ہمیں اس کاکچھ علم نہیں ....... اس معمہ کوسل کرنے کوکوشش کی جاری ہےاوررفتہ رفتہ اس کےقریب پہنچا جارہاہے.......... لیکن اس معمہ کاآخری نقظہ (یعنی زندگی کانقطہ آغاز)
وه ہے جوسائنس کےانکشافات کی دسترس سےباہر ہےاورشائد انسان کےحیطہ ادراک سےہی باہر......... کائنات کےآغاز اورسلسلہ علت ومعلول کی اولین کڑی کامسئلہ لایخل ہےاورسائنس اس تک نہیں پہنچ سکتی ............ یہ اولین کڑی رازہےاورمیر اخیال ہےکہ ذہن انسانی اس راز کوکبھی نہیں پاسکےگا۔ہم اگرچاہیں تواپنے اپنےطریق پراس علت اولیٰ کےحضور اپنےسرجھکا سکتےہیں لیکن اسے اپنے ادراک کےدائرئے میں کبھی نہیں لاسکتے۔،،
گویا نظریہ ارتقاء کےمادہ پرست قائلین کوآج تک اس کےلیے کوئی سائنسی اورحتمی دلیل مہیا نہیں ہوسکی۔
2۔دوسرا عتراض یہ ہےکہ ارتقاء کاکوئی ایک واقعہ بھی آج تک کسی انسان نےمشاہدہ نہیں کیا۔ یعنی کوئی چڑیا ارتقاء کرکے مرغابن گئی ہویا کدھا ارتقاء کرکےگھوڑا بن گیا ہویالوگون نےکسی بندرکوانسان بنتےدیکھا ہو۔ نہ ہی یہ معلو م ہوسکاہےکہ فلاں دور میں ارتقاء کورد کردیتی ہیں ۔ مثلاً ریشم کاکیڑا جوعموماً موسمِ برسات میں شہتوت کےپتوں پرگزرِ اوقات کرتا ہے۔جب ساٹھ دن کاہوجاتاہےتواس کارنگ سیاہ سےسفیدہ ہوجاتاہے۔اس کےمنہ سےایک مادہ تاروں کی شکل میں نکلتاہے۔جسے یہ اپنے جسم کےگرد لپٹینا شروع کردیتاہے۔یہ تارساتھ ہی ساتھ خشک ہوتےجاتےہیں۔ ریشم کےکیڑے کےگردتاروں کایہ جال جب اخروٹ کےبرابرہوجاتاہےتواس کےاندر کیڑا مرجاتا ہےاوراس کےسیاہ مادے سے ایک سفید تتلی بن جاتی ہے۔جب یہ باہر نکلتی ہے تونرومادہ کاملاپ ہوتاہےاوراسی کےسیاہ مادے سےایک سفید تتلی بن جاتی ہے۔جب یہ باہرنکلتی ہےتونرومادہ کاملاپ ہوتاہےپھر مادہ انڈے دیتی ہےاوردونوں نرومادہ مرجاتےہیں ۔اس کیڑے کابالخصوص اس لیے ذکر کیاگیا ہےکہ انسان زمانہ قدیم سےریشم حاصل کررہاہےاوراس کیڑے کی داستان حیاتِ اس کےسامنے رہتی ہے۔ اس کیڑے کی داستان حیات میں نہ کبھی تبدیلی ہوئی نہ ہی ارتقاء کاعمل کبھی پیش آیا ۔اسی طرح بعض کمتر درجے کےبحری جانور جوابتدائے زمانہ میں پائے جاتےتھے ۔آج بھی اس شکل میں موجود ہیں ۔ ان پر ارتقاء کاکوی عمل نہیں ہوا۔حشرات الارض کا وجود بھی نظریہ ارتقاء کی تردید کرتا ہے۔ اسی لیے بعض مفکرین ارتقاء کےمنکرہیں ، اس کےبجائے تخلیق خصوصی ( SPECLAL creation ) کےقائل ہیں یعنی ہرنوع زندگی کی تخلیق بالکل الگ طورپرہوئی ہے۔ایک مفکر ڈی وریز ( De Viries ) ارتقاء کےبجائے انتقال کاقائل ہےجسے آچ کل فجائی ارتقاء کانام دیا جاتاہے۔
3۔ نظریہ ارتقاء پرتیسرا اعتراض یہ کیا جاتاہےکہ ان کی درمیانی کڑیا ں موجود نہیں مثلاجوڑوں والے اوربغیر جوڑوں والے جانوروں کی درمیانی کڑی موجود نہیں ۔فقری اورغیرفقری جانوروں کی درمیانی کڑی بھی مفقود ہےمچھلی اوران کےحیوانات کی درمیانی کڑی بھی غائب ہےجوخشکی اورپانی کےجانورکہلاتےہیں۔اسی طرح رینگنے والے جانوروں اورپرندوں ، رینگنے والے جانوروں اورممالیہ جانوروں کی درمیانی کڑیا ں بھی مفقود ہیں ، فلسفہ ارتقاء کی یہ اصل دشواری ہےجوکہ سال سے زیر بحت چلی آرہی ہے۔
بعض نظریہ ارتقاء کےقائلین اس کایہ جواب دیتے ہیں درمیانی کڑی کاجب کام پورا ہوچکتا ہےتووہ ازخود غائب ہوجاتی ہے۔اس کاجواب میں جنتا وزن یامعقولیت ہےاس کا آپ خوداندازہ کرسکتےہیں ۔
4۔ چوتھا اعتراض یہ کیاجاتاہےکہ جب اس نظریہ کی رو سےیہ ثابت کیا گیا ہےکہ پہلا انسان کمزور جسم اورناقص العقل تھا تواس نے شیروں اورچیتوں کےدرمیان گرارہ کیسے کیا اوراس کمزور ی اوربےعقلی کےباوجود تنازع للبقاء میں کامیاب کیسےہوگیا ؟
5۔ پانچواں اعتراض بڑا وزنی ہےاور وہ یہ ہےکہ اتبدائے زندگی سےبندرتک جوشعوری ترقی جس کےلیے ارب ہاسال کی مدت درکارہے۔جبکہ زمین کی عمر صرف 3 ارب سا ل بتائی جاتی ہے، یہ ذہنی ترقی انسانی میں یکدم کیونکہ آگئی ؟
6۔ ڈاروں نےنظریہ ارتقاء کےلیے جواصول بتلائے ہیں وہ مشاہدات کی رو سےصحیح ثابت نہیں ہوتےمثلاً :
الف: ایک صول قانونِ وراثت ہے۔ڈارون کہتاہےکہ لوگ کچھ عرصہ تک کتوں کی دم کاٹتےرہےجس کانتیجہ یہ ہواکہ کتے بےجم پیداہ ہونےلگے ۔ جس پراعتراض یہ ہوتاہےکہ عرب اورعبرانی لوگ صدیوں سےختنہ کرواتے چلے آئے ہیں لیکن آج تک کوئی مختون بچہ پیدانہیں ہوا؟
ب: ماحول سےہم آہنگی پریہ اعتراض ہےکہ انسان کےپستانوں کابدنما داغ آج تک کیوں باقی ہےجس کی کسی دور میں بھی ضرورت پیش نہیں آتی اورانسان سےکمتر درجے کےجانوروں (نروں میں یہ داغ موجود نہیں تو انسان میں کیسے آگیا ؟علاوہ ازیں یہ کہ ایک ہی جغرافیائی ماحول میں رہنے والے جانوروں کےدرمیان فرق کیوں ہوتاہے؟
7۔ رکاز کی دریافت بھی نظریہ ارتقاء کوبالکل باطل قراردیتی ہے۔رکاز سےمراد انسانی کھوپڑیا ں یاجانوروں کےوہ پنجر اورہڈیا ں ہیں جوزمین میں موفون پائی جاتی ہیں ۔
نظریہ ارتقاءکی رو سےکمتر درجے کےجانوروں کی ہڈیاں زمین کےزریں حصہ میں پائی جانی چاہییں جبکہ معاملہ اس کےبرعکس ہے۔ ایسی ہڈیا ں عموماً زمین کےبالائی حصہ میں ملی ہیں ۔ارتقاء یہ بھی کہتےہیں کہ انسان لاکھوں سال قبل جسمانی اورعقلی لحاظ سے ناقص تھا ۔بالآخر تکمیل کی طرف آیا۔ رکاز کی دریافت اس بات کی بھی تردید کرتی ہےکیونکہ بالائی طبقوں میں جورکاز ملے ہیں وہ غیرمکمل اور ناقص انسان کی یاد گار ہیں اورزیریں طبقوں میں اعلی انسان کےرکاز ملےہیں ۔حالانکہ معاملہ اس کےبرعکس ہونا چاہیے تھا ۔
نظریہ ارتقاء اورمغربی مفکر ین :
یہ ہیں وہ اعتراضات جنہوں نےاس نظریہ کےانجرپنجر تک ہلادیے ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ صدی نےاس نظریہ میں استحکام کی بجائے اس کی جڑیں بھی ہلادی میں ۔اب نظریہ کےمتعلق چند مغربی مفکرین کےاقوال بھی ملاحظہ فرمالیجئے :
(1) ایک اطالوی سائنسدان روز ا کہتاہےکہ گذشتہ ساٹھ سال کےبجربات نظریہ ڈارون کی باطل قراردے چکےہیں ۔اسلام اورنظریہ ارتقاء ص)
(2) ڈی وریز ارتقاء کوباطل قرار دیتاہے،وہ اس نظریہ کےبجائے انتقال نوع کاقائل ہے( ایضا ص
(3) ولاس عام ارتقاء کاقائل ہےلیکن وہ انسان اس سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔(ایضا ص 61 )
(4) فرخوکہتاہےکہ انسان اوربندرمیں بہت فرق ہےاوریہ کہنا بالکل لغوہےکہ انسان بندر کی اولاد ہے۔
(5) میفرٹ کہتاہےکہ ڈارون کےمذہب کی تائید ناممکن ہےاوراس کی رائے بچوں کی باتوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ۔
(6) آغاسیز کہتاہےکہ ڈارون کامذہب سائنسی لحاظ سےبالکل غلط اوربےاصل ہے۔اورقسم کی باتوں کاعلم سائنس سےکوئی تعلق نہیں ہوسکتا ۔(ایضاص 62 )
(7) ہکسلے کہتاہےکہ جودلائل ارتقاء کےلیے دیے جاتےہیں ان سے یہ بات قطعا ثابت نہیں ہوتی کہ نباتات یاحیوانات کی کوئی نوع کبھی کبھی طبعی انتخاب سےپیدا ہوئی ہو۔ (ایضا ص 118)
(8) ٹنڈل کہتاہےکہ نظریہ ڈارون قطعاً ناقابل التفا ت ہے۔کیونکر جن مقدمات پراس نظریہ کی بنیاد ہے وہ قابل تسلیم ہی نہیں ہیں ۔
نظریہ ارتقاء کی مقبولیت :
اب سوال یہ ہےکہ اگر یہ نظریہ ارتقاء اتنا ہی غیر سائنٹیکٹ ہےتویہ قبول کیسے ہوگیا ؟
تواس کاجواب یہ ہےکہ اس کاپرچار کرنے والوں میں مادہ پرست ، دہریت پسند اوراشتراکیت نواز سب شامل ہوجاتےہیں ۔ دہریت ، مادہ پرستی ، لاادریت اوراشتراکیت بذات خود الگ الگ مذہب میں ۔یہ نظریہ چونکہ ایجاد اورخدا سےانکار کی طرف لےجاتاہےلہذا ازیں ایک دلیل کا کام دیتاہے۔
ڈارون خود پہلے خدا پرست تھا جب اس نے کتاب اصل الانواع لکھی تواس وقت وہ لاادریت کی طرف مائل ہوگیا پھر جب اس نےاوربھی دوکتابیں لکھیں اور اپنےنظریہ میں پختہ ہوگیا توخدا کامنکر بن گیااوراہل کلیسا نےاس پرکفر والحاد کافتویٰ لگا دیا ۔
نظریہ ارتقاء اورمفکرین قرآن :
ہمارے اس مغربی تہذیب سےمرعوب قرآنی مفکرین نےاسے اپنالیا۔سرسیداحمد خاں جوڈارون کےہمعصر اورسوامی دیانند سےمتاثر تھے انہوں نےاس نظریہ کوکلیچر کےمطابق پایا اوراسےقبول کرلیا ۔آج کل ادارہ طلوع اسلام سرسید کی تقلید میں اس نظریہ کےپرچارمیں سرگرم ہیں سوچنے کی بات ہےکہ وہ نظریہ جسے مغربی مفکرین ناقابل اعتماد وٹھہراچکےہیں توہمارے قرآنی ومفکرین کواحادیث جیسے ظنی علم کورد کرکےاس ’’یقینی علم ،، کوسینے سےلگانے کی کیا ضرورت تھی؟ سانئسی نظریات کاتویہ حال ہےکہ جب وہ اپنے تجرباتی اورتحقیقی مراحل سےگزرنے کےبعد سائنسی قانون بن جاتےہیں ۔تب بھی انہیں آخری حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا بعد میں آنے والے مفکر ایسے سائنسی قوانین کورد کردیتےہیں ۔نیوٹن کےدریافت کردہ قانون کششِ ثقل کوآئن سٹائن نےمشکوک قرار دیا ۔یہی صورت حال اس کےقوانین حرکت کی ہےتوایسی صورت حال میں ان نظریات کوتاویل وتحریف کےذریعہ قرآں سےثابت کرناکوئی دینی خدمت یا قرآنی فکر قرار دیا جا سکتا ہے؟
پرویز صاحب نےاس نظریہ ارتقاء کودوشرائط کےساتھ اپنایا ہے:
1۔ یہ کہ پہلے جرثومہ حیات میں زندگی کسی نہ کسی طرح خودبخود ہی پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ زندگی خدا نےعطا کی تھی ۔
2۔ انسان کافکر وشعور ارتقاء کانتیجہ نہیں بلکہ نفخ خداوندی کانتیجہ ہےاوریہ کہ نفح روحِ خداوندی فجائی ارتقاء کےطورپرواقعہ ہوا۔ فجائی ارتقاء کےنظریہ کاموجد موجود ہ دورکاامام لائڈمارگن ہےجس نےیہ ثابت کردیا ہےکہ فجائی ارتقاء ممکن العمل ہے۔
اب سوال یہ ہےکہ اگر خداہی کوخالقِ زندگی اورنفخِ روح کابطور فجائی ارتقا ء عامل تسلیم کرنا ہےتوپھر کیوں نہ آدم کوعام قانونِ ارتقاء سےمستثنیٰ قرار دے دیا جائے استثناء کاقانون بھی توآخر اس کائنات میں موجود ہے۔ گواس قانون تک انسان کی دسترس آج تک نہیں ہوسکی پھریہ سوال بھی بڑا وزنی ہےکہ جب نوعِ انسان پہلے سےچلی آرہی تھی توکیا نفحِ روح اس نوع کےسارے افراد میں ہوا تھا یاکسی فردِ واحد میں ۔ اگرکسی فرد ِ واحد میں ہواتو وہ کون تھااور یہ واقعہ کس دورمیں ہوا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کاان حضرات کےپاس کوئی جواب نہیں ۔
منکرین قرآن کےقرآنی دلائل :
حقیقت میں دیکھا جائے توقرآن میں کوئی ایسی نص موجو د نہیں جوانسان کونظریہ ارتقاء کی کڑی میں منسلک کردے ، تاہم جن آیات سےاستشہاد کیا جاتاہےوہ درج ذیل ہیں :
﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ﴾ - ( النساء )
’’ اے لوگو! خدا سےڈروجس نےتمہیں ایک نفس سےپیدا کیا پھر اس سےاس کا جوڑا بنایا ۔ پھر ان دونوں سےکثیر مرد وعورت (پیدا کرکےروئے زمین پر)پھیلادئے ،،
یہ آیت اپنے مطل میں صاف ہےکہ نفس واحدہ سےمراد آد م ہیں لیکن ہمارے یہ دوست نفس واحدہ سےمراد پہلا جرثومہ حیات لیتے ہیں ۔اس جرثومہ حیات کےمتعلق نظریہ ہےکہ وہ کٹ کردوٹکڑے ہوگیا پھر ان میں سے ہرایک بڑا ہوکر پھرکٹ کردودو ٹکڑے ہوتا گیا ۔ اس طرح زندگی میں وسعت پیدا ہوتی گئی جوجمادات سےنباتات ،نباتات سےحیوانات اورحیوانات سےانسان تک پہنچی ہے۔
یہ تصور اس لحاظ سے غلط ہےکہ ’’ خلق منھا زوجھا ،، کےالفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ اس جوڑے سےآئندہ نسل نوالد وتناسل کےذریعہ چلی تھی جبکہ جرثومہ حیات کی صورت یہ نہیں ہوتی ۔آج بھی جراثیم کی افزائش اسی طرح ہوتی ہےکہ ایک جراثیم کٹ کر دوحصے بن جاتا ہے ۔پھر ان میں سے ہرایک کٹ کر دوحصے بن جاتاہے۔ اس طرح افزائش ہوتی چلی جاتی ہے!
ان میں توالد وتناسل نہیں ہوتا ۔ لہذا وہ ایک جرثومہ دوٹکڑے توکہلا سکتےہیں زوج نہیں کہلا سکتے۔
2۔ دوسری آیت یہ ہے:
﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴾(العلق 1 )
(’’ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا (1) جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا،، ۔
اس آیت میں ’’ علق ،،کالغوی معنیٰ جماہوہوا خون بھی ہےاور جونک بھی ۔ہمارے علما ء اس سےدوسرامعنی مراد لیتےہیں اوراسے رحم مادر کی کیفیت قرار نہیں دیتےبلکہ اس سےارتقائی زندگی کےسفر کاوہ دورمراد لیتےہیں اور جونک کی قسم کےجانور وجود میں آئے ۔اورکہتےہیں کہ انسان انہی جانداروں کی ارتقائی شکل ہے۔
اس اشکال کو،کہ آیایہ رحم مادر کاقصہ ہےیاارتقائے زندگی کےسفرکی داستان، درج ذیل آیت دور کردیتی ہے:
﴿ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾(المومنون : 14 )
’’ پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے ،،
انسان کی پیدائش کےیہ تدریجی مراحل صاف بتار رہےہیں کہ یہ رحم مادر میں ہونے والے تغیرات ہیں ، کیونکہ ارتقائے زندگی کےمراحل ان پرمنبطبق ہوتے۔نیز یہ بھی قرآنی مجید نے’’علق ،، یا’’ علقہ ،، سےمراد رحمِ مادر میں جما ہوا خون ہی لیا ہے۔اس سےارتقائی نظریہ کی جونک مراد نہیں ۔
( بقیہ آئندہ ان شاء اللہ )