پانچویں صدی ہجری میں باطنیوں کی ایک تنظیم
از قلم ، جنا ب حکیم محمد یحیی فال صاحب
ماہنامہ ’’ محدث ،، لاہور کی جلد 12 کےنویں شمارہ میں جناب ڈاکٹر جبیب الرحمٰن الہی علوی کایک مضمون ’’ تاریخ کی روشنی میں تصو ف کی حقیقت ، ، کےنام سےشائع ہوا ہے۔اس میں تحقیق وتنقید کےانداز میں یوسف سلیم چشتی کےمقابلہ ’’ ہندوستان میں بھگتی تحریک ،، مطبوعہ ’’ میثاق ،، اکتبور 1980ء کےبعض حصوں پربڑی مفید اوربصیرت افروز گفتگو کی گئی ہےاورمروجہ تصوف کی غیر اسلامی ، عجمی اوردیدانتی اساس کی خوش اسلوبی سےاجاگر کیا گیا ہے۔
اتے اچھے مضمون میں ڈاکٹر علوی صاحب کےذھول یاتغافل کی بناء پربعض تسامحات،بھی راہ پاگئے ہیں جو،یوں توہرانسانی کا م میں ممکن الوقوع ہیں اورخطاونسیان کےاس مرکب کی چند درچند معذور یوں کی بنا ء پراس کےکام کااہمیت ونوعیت پران کا چنداں اثر نہیں پڑتا، تاہم ایسی قیمتی اوراصلاحی تحریر میں ان کاوجود علم وفکر اورتحقیق وتاریخ کی نگاہوں میں کھٹکتاہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ صاحب مضمون نےبڑی دلسوزی اورحق پسندی سےچشتی صاحب کےمقالہ پربصیرت مندانہ تنقید کی ہےاوراپنے مضمون میں بہت سی کام کی باتیں کہی ہیں ۔ خصوصیت سےنام نہاد تصوف کےدلدادگان کوایرانی سازش کےسیاسی پہلووں سےآشنا کرکےمجوسی اورویدانتی فکرونظر کی دسیسہ کاریوں سےخبردار کرنے کی پسندیدہ اورمفید کوشش کی ہے، ان کی تحریر کےبین السطور سےایسا معلوم ہوتاہےکہ انہوں نےاس مضمون پربہت کچھ لکھا ہےیالکھنے کاارادہ رکھتےہیں ۔مزید برآں نام نہاد طریقت اورسری وباطنی علوم وفنون کی سراب انگیزیوں پر’’چادر کی حقیقت ،، کےنام سےکوئی کتاب بھی شائع کرچکےہیں۔
ہماری دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ ان کےجذبہ علم وتحقیق میں روز افزوں اضافہ کرےاوروہ دینِ متین کی حمایت میں اس سےبھی زیادہ مستند انداز میں قلمی خدمات انجام دےسکیں ۔
؏ اللہ کرے اورزور قلم زیادہ !
ان کے زیرنظر مضمون میں صوفی اورصفہ کےلفظوں پرکلام کرتےہوئےصفا اورپھر اخوان الصفا کےساتھ تصوف کارشتہ جوڑنے کےسلسلہ میں جوتسامح واقع ہوا ہے،میں یہاں اس پرتھوڑی سی روشنی ڈالنےکی کوشش کرتا ہوں ۔
اس بات کاایک بارپھر اعادہ کروں گا کہ نفسِ مضمون کی قوت واہمیت پراس’’لغزشِ فکر،، اور زلۃقلم کابہت کم اثر پڑتاہے۔البتہ مضمون کی خونی اورخوبصورتی اس سےضرور واعذار ہوتی ہےاس لیے میں اس کےحسن وجمال کےتہذیب کی خاطر اس داغ کوچہرہ مضمون سےدور کردینا ضروری سمجھتاہوں ۔
میں نےابھی لغرش فکر ، کی ترکیب استعمال کی ہے۔براہ کرم اس سےیہ تاثر ہرگز نہ لیاجائے کہ بحث ونقد میں صاحب تحریر کی فکر کولغزیدہ قرار دے رہاہوں۔ اسی طرح’’زلۃ قلم ،، کےالفاظ میں بھی طنز واستخفات کاکوئی پہلو نہیں ہےبلکہ جیسا کہ میں نےآغاز سخن میں کہاہے،اس غلطی کانظریہ واستدلا ل سےکوئی واسطہ نہیں ہے۔اس کاتعلق محض انسانی ذھول و تغافل سےہے۔یہ توکچھ ایسی بات ہےکہ صوفی پشمینہ پوش کےلفظ پرغور کرتےوقت یونانی لفظ کےانگلش ورشن ( )نےایک ( ) کی طرف لاشعوری طورپراشارہ کردیا ۔اس پرصفہ اوراصحاب صفہ کانقش ابھرااوران کاتقدس اوران کی للہیت ذہن میں اجاگرہوتی اورایک غلط العام خمو ش خیالی نےتصوف اورصفہ کا جوڑ ملا کر جورایت مشہور کررکھی ہےاس کےغیرمحسوس تاثر نےاصحاب صفہ کی نیک اوربرگزیدہ ہستیوں کومحض تغافل کی بنا ء پراصحاب سےاخوان بنادیا اورصفہ کوصفا کرکےانہیں اخوان الصفا قرار دےدیا۔اس جگہ یہ ذہول واقع ہواکہ اصحاب صفہ کےساتھ اخوان الصفا کا زبانی یاذہنی کوئی رشتہ نہیں تھا ۔ چہ نسبت خاک راباعالم پاک اصحاب صفہ پہلی صدی ہجری علی صاحبہا الف الف تحیۃ کےنصف اول میں تھےاوراخوان الصفا چوتھی صدی کےنصف آخر میں پیدا ہوئےہیں ساڑھے چارسوسال کابعد زمانی ان دونوں جماعتوں کےفکر ونظر ،عقیدہ وعمل ذوق وشغل ہرچیز میں فرق بین ظاہر کرتاہے۔ڈاکٹر علوی صاحب نے صفہ کی پیش کرصفا کی زیرمیں تحویل کرنےکوتحریف کہااوراسے حاملان تصوف کی دیدہ دلیری قرار دیاہےلیکن شائدان کی نظرصفہ کی ’’ہ،، کوصفا کی الف میں بدل ڈالنے پرنہیں پڑی ۔
اسی سادگی سےڈاکٹر صاحب نےاصحاب صفہ کواخوان الصفا ٹھہراتےہوئے فرمایاہے:’’ ان اخوان ،، کوصفاکہہ کراس لیے پکاراجاتاہےکہ اذان کےبعد صف اول انہی سے بنتی تھی ،،
مزے کی بات یہ ہےکہ آپ نےصِفاَ اور صَفاً صفاً کےفرق پربھی غور نہیں فرمایااوررواروی میں لکھ دیا:
’’کلام مجید میں یہ لفظ صف درصف ہونے اورصف بنانے کےمفہوم میں متعدد ومقام پرآیا ہے،،......... اورلطف مزید یہ کہ آخر میں یہ بھی لکھتےہیں ’’ واللہ اعلم ،،
اس آخری جملے سےیہ تویدا ہےکہ ڈاکٹر علوی کواپنی نگارش متذکرہ بالاپروثوق بہرصورت یہ واضح ہےکہ اصحاب صفہ اوراخوان الصفا کوایک ہی گروہ قرار دینے میں موصوف نادانستہ تسامح سرزہواہے۔ا س سےان کےزیر مطالعہ مضمون پراثرپڑے نہ پڑے لیکن تاریخ کی روشنی اورتحقیق کےنکتہ نظر سےیہ بات بالکل انمل اورقطعی بےجوڑ ہے۔
اس لیے اس کی تصحیح اورتفہیم بےحدضروری ٹھہرتی ہے۔
اصحاب صفہ مومنین مقدسین کی ایک معروف وممتاز جماعت تھی ۔جس میں بڑے جلیل القدر اورذی علم صحابہ ؓ شامل تھے۔ان کےباہر میں توعام طورپرہرایک باشعور مسلمان کوپتہ ہےکہ علومِ نبوت اورمعارف ِ رسالت کاتعلم وتحفظ ان کاکام تھااوروہ فکرِ معاش میں زیادہ الجھنے کی بجائے اپنا زیادہ وقت بلکہ اپنے شب وروز کااکثر حصہ حضوراکرمﷺ کےارشادات کی سماعت اورحفاظت میں صرف کرتےتھے۔ان میں اکثر ایسے تھے جوگھر بارکےبکھیڑوں سےآزاد تھےاوررات کوبھی مسجد نبویﷺ کےصحن میں ایک چبوترے (صفہ ) پرپڑرہتےتھے ۔
البتہ اخوان الصفا سےمتعلق بہت کم لوگوں کومعلوم ہےکہ وہ کون اورکتنے تھےاورکہاں کہاں رہتے تھے۔ ڈاکٹر علوی نے بھی اغلباً حسن ِ ظن کےکام لیتے ہوئےاور ان کےجماعتی نام کےمعنویت سےمطمئن ہوکرانہیں اصحاب صفہ ایسے نیک برگزیدہ اورتعلیمات بنوی کےشیدائیوں کی صف میں لاکھڑا کیاہے۔ ممکن ہےکچھ اورلوگ بھی ان کےبارےمیں اسی خوشگمانی میں مبتلا ہوں اوربظاہرالفاظ انہیں صوفیاء سمجھ کران کےعلم وتقوائے کوعین اسلام قرار دے بیٹھے ہوں حالانکہہ حقیقت اس کےبرعکس بہت حد تک مختلف ہے۔اخوان الصفاء علمی ، فکر ی اورذہنی لحاظ سےکتنے ہی ممتاز اورسربرآور دہ سہی ، بہرنوع انکی اسلامی ، دینی اورمذہبی کوئی حیثیت نہیں ہے۔وہ ان ارباب عقول سےتعلق رکھتےہیں جنہوں نےاسلام کی سادہ فطری اورطبعی تعلیم کوخود ساختہ افکار ونظریات کی اس روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کی جوانہیں آسمانی ہدایت اور الہامی حکمت سےنہیں بلکہ یونانی ، ہندی اورایرانی ، دانشوروں ،، کےدانشورانہ فرمودات ، متصوفانہ ارشادات اورفککیات وریاضیات کےنظریات پرغور وفکر کی بجائے فلسفیانہ تشکیک وارتیاب ، فکری وعلمی اضطراب کی سفسطہ انگیز ظلمانیت کی جنم دیتی ہےوہ ظلمانیت جس کےلیے قرآن حکیم میں فرمایا ہے:
’’ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ،،
اسی قسم کےفلاسفہ مشائیین اور حکمائے اشراقیین کےبارے میں ملاعلی قاری﷫نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں امام فخرالدین رازی کاایک دردمندانہ قول نقل کیا ہے۔موصوف فرماتےہیں :
’’لقد تائلت الطرق الكلامية والماهج الفلسفية فما رأيتها تشقى صليلاولا تروى غليلا ،،
آخر میں انہوں نےواضح کیا ہےکہ :
’’ من جرب مثل تجربتی عرف مثل معرفتی ،، ۔
انہی اما م فحر الدین ابن خطیب الرّے کےیہ اشعار بھی بڑے بصیرت افروز ہیں :
نهاية اربا ب العقول عقال واكثرسعى العالمين ضلال
و ارواحنا فى وحشة من جسومنا وحاصل دنيانا اذى ووبال
ولم نستفد من بحثنا طول عمرنا سوى عن جمعنا فيه قيل وقال
یہ اخوان الصفا اسی قسم کےبرخود غلط فلاسفہ ومتصوفین تھے جومن حیث المجموع قرآنی اورالہامی برہانیت کےبجائے فکر ومراقبہ اورگیان دھیان کےذریعہ بالراست حقیقت رسی کےزعم باطل میں مبتلا تھے اوراسی لیے قرآن وحدیث کےاعتقادی اورعلمی تعلیم کوپس پشت ڈال کریونانی حکمت ، ارسطو کےفلسفہ ، افلاطونیت جدیدہ ،دیدانتی وثنیت اورمجوسی باطنیت کےملغوبہ کواپنےفکروتعمق کی اساس قراردے کرا ن لوگوں نےاسلامی مصطلحات کونئے معانی دینے کی جدت پسند انہ کوششیں کیں اوریجادلون فی آیات اللہ بغیر سلطان کےجر م کےمرتکب بنےبلکہ قرآن کی زبانی میں ’’ قد ضلوا من قبل واضلوا كثيرا وضلوا عن سواء السبيل کےمصدق ٹھہرے ۔
یہ لوگ بغداد میں جمع ہوئے اورخفیہ مجالس منعقد کرکے بزعمِ خویش اسلامی شریعت کوجہالت اوربےعقلی کی آلودگیوں سےپاک کرنے کےلیے فلسفیانہ بحثیں کرتےتھے۔ان کا فلسفہ بقول لطفی بادن رسائل پرمشتمل تھا وہ علم النفس ،حس محسوس، اورعقل معقول پریونانی ،ایرانی اورہندی فلسفہ کی روشنی میں گفتگو کرتےاورنجوم ، ریاضی ، علم العدد‎، اورہندسہ کےفنون سےبحث کرتےتھے۔ان کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔
خفیہ مجالس میں شریک ہونےوالوں کی تعداد تواس لیے معلوم نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی مجالس میں سوائے معتمدبن کےکسی کوداخل نہیں ہونے دیتے تھے۔
بعض ذرائع سے ان کےپانچ بڑے اراکین کےنام معلوم ہوئےہیں :
1۔ ابوسلیمان محمد بن معشراللبستی
2۔ ابوالحسن علی بن ہارون الزنجانی
3۔ابواحمد المہرجانی
4۔العونی
5۔ زید بن رفاعہ
یہ اخوان الصفا ء خلّان الوفاسمجھتےجاتےتھے اورموخرالذکر ان میں سب سے زیادہ مشہور اورپرجوش ( ) تھا ۔
عقیدہ اورمسلک کےاعتبار سےیہ نام نہاد دانشور اسماعیلیوں کےبدنام اورسفاک ترین گروہ حسن بن صباح کےفدائی قرامطہ سےتعلق رکھتےتھے،اسی نسبت پرنظرکریں توان کی متصوفانہ دانشوری کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات سےبیزاری دینی مصطلحات کو مسخ دمادل کرنا اورملت کی بیخ کی ان کانصب العین تھا۔ یہ جہاں کہیں بھی ہوتے، جس فن یاپیشہ سےدابستہ ہوتے، اسی کےرسائل وذرائع اسلام دشمنی میں استعمال کرلیتےتھے ۔ تاجرہوں طبیب ہوں ، فلسفی ہوں ، ادیب ہوں ، صوفی ہوں ، خطیب ہوں ، ہرحال میں اپنی بساط کےمطابق ملتِ اسلامیہ کاشیرازہ بکھیرنے اورخالص دین اسلام میں زندقہ والحاد کا پیوند لگانے میں کمربستہ رہتے تھے۔
خود اپنی ہی ذات میں باطنیوں کایہ گروہ اسلام اور مسلمانوں کےلیے کچھ کم خطرناک نہ تھا ۔ مستزاد یہ کہ بعض اہل فکرو نظر اورصاحبان بصیرت وخبرت کےنزدیک یہ لوگ(اخوان الصفاء ) کسی یہودی تنظیم ( ) گماشتےاورآلہ کار تھے۔یہود بے بہبود کی اسلام دشمنی اورمسلم کشی کسی وضاحت واستدلال کی محتاج نہیں ۔ان مغضوب ومعتوب اورانسانیت کےنام پربدنماداغ کی حیثیت رکھنے والوں نےہمیشہ اسلام اورمسلمانوں کےخلاف مذہبی ، فکری ، علمی سائنسی تکنیکی اوریہاں تک کہ سیاسی، طبقاتی اوراقتصادی ہرمحاذپر خانہ برانداز نوعیت کی سازشیں کی ہیں ۔عہد عباسیہ میں ہنود اورمجوسی کےساتھ مل کر علم ودستی اورمعارف پردری کی آڑ میں سادہ ، فطری اورطبعی ، انسانی اسلام میں فکروفلسفہ ،تشکیک وسفسفہ اورالحاد وزندقہ کی حقیقت سوز آمیزش سےان پرستاران طاغوت نےجوطوفان بےتمیزی برپاکیا تھا وہ تاریخ اسلام کاناقابل فراموش اورانتہائی تباہ کن المیہ ہے۔جس نےمسلمان قوم کوفکری ژولید گی میں مبتلا کرکے ہلاکت خیز مخمصوں ، مغالطوں اوردسوسوں میں الجہاد یا اورعقل تنور، ذہنی توسع اور علمی تفضل کی سراب کاریوں میں ملت اسلامیہ کےاکثروبیشتر عوام وخواص (الامن شاء اللہ ) کوکچھ اس طرح بھٹکا یا کہ وہ یوماًً فیوماً کردار عمل کی صلاحیتوں سےمحرون ہوتی بےعملی اورپراگندہ خیالی کی دلدلوں میں دھلسنی چلی گئی۔فیاللمصیبۃ دیا للرزیہ
م خواست رستخیز زعالم برآدرد آں باغباں کہ تربیت ایں نہال کرو
کوئی عجب نہیں اورنہ ہی مستبعد ہےکہ جمعیت اخوا ن الصفاء ، برعکس نہنیدنام زنگی کافورکےمصداق اسی یہودی اورسبائی سازش کاشاخسانہ ہو۔ جس کےباعث نبی امیﷺ کی رحلت پردوصدیاں گزرنے سےپہلے ہی مملکت اسلامیہ کےتقریباً تمام بڑے شہروں اوران کےاکثر گلی کوچوں میں تصوف اورتفلسف کےنام پریونانی تذبذب،عجمی ثنویت اورہندی دیدانت کی گمراہ کن تعلیمات کی صدائے بازگشت گونجنے لکی تھی ۔ فلاحول ولا قوة الا بالله اللهم لحفظنا من فتن الاشرار و هدنا وثبتنا على سبيل الرشاد وتوفنا مع الابرار- آمين !