ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
؏ وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا ! 
کسی دوسرے کی مصیبت کااحساس اس وقت ہوتاہےجب وہی مصیبت خو د پرآئے،یاکم از کم انسان یہی تصور کرےکہ اگراس مصیبت زدہ کی جگہ وہ خو د ہوتاتو اس کی کیفیت کیا ہوتی ؟----- بیروت میں نہتےفلسطینیوں کوقطاروں میں کھڑاکرکے گولیوں سےبھوں دیا گیا ہزاروں بےگوروکفن لاشیں بیروت کےگلی کوچوں میں بکھرگئیں ------- اخبارات میں ان دلدوز مناظر کےفوٹو بھی شائع ہوئے------- انسانی بھیریوں کی سفاکی ،درندگی اوربہمیت کی داستانیں بھی زبان زد عام ہوئیں اورمظلوموں کی جگر سوز چیخوں نےلبنان کی فضاؤں کومرتعش کرکےعرشی الہی تک کوہلا ڈالا ہوگا ---لیکن میں دوسروں کوکیا الزام دوں ، میں خود بھی توان کروڑوں بےنصیب مسلمانوں میں سےایک ہوں کہ جن کی آنکھوں سےایک آنسو بھی نہ ٹپکا ، جن کےمنہ سےایک آہ تک نہ نکل سکی،جن کےسینے سےاِک ہوک بھی نہ اٹھی -----
  • اکتوبر
1982
عزیز زبیدی
دوا کےلیے مہندی ٭ نیک رشتہ اوروالدین
نماز کےبعد دائرہ کی شکل میں ورد ٭ اذان سےپہلے درود

سوال 1۔ : عبدالرؤف صاحب سید مٹھا بازارلاہور سےلکھتےہیں :میں نےایک کتاب سےحدیث پڑھی کہ آں حضرت ﷺ کوجب کبھی سردرد ہوتاتو مہندی لگا لیا کرتے تھے ۔اسی کتا ب میں یہ بھی لکھا تھا کہ گرتےبالوں کےلیے مہندی اکسیر ہے۔ کیاایسا کرنےسے گرتےبال پھر نہیں گرتے؟ 
اس کی وضاحت اگرحدیث میں ہوتومجھے ضرور لکھ دیں –شکریہ !
  • اکتوبر
1982
حکیم محمد یحیٰ
پانچویں صدی ہجری میں باطنیوں کی ایک تنظیم
از قلم ، جنا ب حکیم محمد یحیی فال صاحب
ماہنامہ ’’ محدث ،، لاہور کی جلد 12 کےنویں شمارہ میں جناب ڈاکٹر جبیب الرحمٰن الہی علوی کایک مضمون ’’ تاریخ کی روشنی میں تصو ف کی حقیقت ، ، کےنام سےشائع ہوا ہے۔اس میں تحقیق وتنقید کےانداز میں یوسف سلیم چشتی کےمقابلہ ’’ ہندوستان میں بھگتی تحریک ،، مطبوعہ ’’ میثاق ،، اکتبور 1980ء کےبعض حصوں پربڑی مفید اوربصیرت افروز گفتگو کی گئی ہےاورمروجہ تصوف کی غیر اسلامی ، عجمی اوردیدانتی اساس کی خوش اسلوبی سےاجاگر کیا گیا ہے۔ 
اتے اچھے مضمون میں ڈاکٹر علوی صاحب کےذھول یاتغافل کی بناء پربعض تسامحات،بھی راہ پاگئے ہیں جو،یوں توہرانسانی کا م میں ممکن الوقوع ہیں اورخطاونسیان کےاس مرکب کی چند درچند معذور یوں کی بنا ء پراس کےکام کااہمیت ونوعیت پران کا چنداں اثر نہیں پڑتا، تاہم ایسی قیمتی اوراصلاحی تحریر میں ان کاوجود علم وفکر اورتحقیق وتاریخ کی نگاہوں میں کھٹکتاہے۔
  • اکتوبر
1982
عبدالرحمن کیلانی
کسی چیز کےبتدریج آگے بڑھنے کانام ارتقاء ہے۔انسان کا بچہ عمر کےساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ا س کاجسمانی ارتقاء ہے، پھر وہ تعلیم کی طرف آتا ہے،پہلی جماعت میں بیٹھتا ہےاورآہستہ آستہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتاہے۔یہ اس کاعلمی ارتقاء ہے۔کسی انسانی ذہن نےپہیہ کی ساخت اوراس کےفوائد پرغور کیا پھر اسےعملی شکل دی ، توآج انسان نےمحیر العقول مشینیں ایجاد کرلی ہیں ، یہ انسان کا ذہنی ارتقاء ہے۔
ارتقاء کا یہ قانون صرف انسان میں نہیں بلکہ تمام موجودات میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نےآسمان دودنوں ( periods ) میں ننائے اس کےبعد چاردنوں میں زمین اوراس میں بالیدگی کی قوتوں کوبنا یا اس سے ارتقاء کاقانون واضح پرثابت ہے۔
پھریہ بات بھی ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہےکہ ان قدرتی قوانین میں کچھ نہ کچھ مستثنیات بھی آجاتےہیں مثلاً تمام مائعات کی یہ خاصیت ہےکہ وہ جم کریاٹھوس شکل اختیار کرکےسکڑ جاتےہیں اور یاان کا حجم کم ہوجاتا ہےلیکن پانی جم کر پھیل جاتا ہے۔یہ اس تمام قانون سےمستثنیٰ ہوا۔ پھرہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ بالکل صحیح عقل وحواس اورذہن رکھنے والے میاں بیوی کےہاں بلید الذہن بچہ پیداہوجاتاہ ے۔یہ ارتقاء کےعام قانون قدرت سےمستثنیٰ ہوا۔
  • اکتوبر
1982
محمد اسحاق
آپ کااسم ِ گرامی عبداللہ اورکنیت اورعبدالرحمن تھی ، مگرابن عمر    کےنام سے مشہور ومعروف ہیں ۔
خاندان  : 
ابن عمر   کاسلسلہ نسب نویں پشت پررسول اللہ ﷺ سےمل جاتاہے۔ 
تاریخ پیدائش : 
آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔بعض کےنزدیک آپ نبوت کےپہلے سال پیدا ہوئے بعض دوسرے یاتیسرے سا ل کی تاریخ بتاتےہیں مگر راجح تاریخ پیدائش نبوی مطابق 611ء ہے۔ 
حلیہ : 
شکل وشباہت میں والدماجد سےمماثلت تھی : قد لمبا ، جسم بھاری ، رنگ گندمی، داڑھی مشت بھر ، مونچھیں کاٹی ہوئی جس سےلبوں کی سفیدی نمایاں ہوجاتی ، بال کاندھوں، تک ، سیدھی مانگ نکالا کرتے،عموماً زردخضاب پسند فرماتے تھے۔ 
لباس : 
معمولی موٹا پائجامہ ، سیاہ عمامہ اورپاؤں میں سادہ سی چپل ، کبھی کبھار قیمتی لباس زیب تن فرماتے تاکہ کفران نعمت نہ ہو۔ انگوٹھی پرعبدالرحمن بن عمر  کندہ تھا جومہرکاکام بھی دیتی تھی ۔
  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ابراء اهلحديث والقرآن مما فى جامع الشواهدمن التهمتر البهتان 
تاليف------------------ مولانا حافظ عبدالله محدث غازى پوری 
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 136 صفحات 
ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ سلیم ناظم نشرواشاعت دارالحدیث کمالیہ 
رجسٹر راجووال ]( ساہیوال ) 
ملنے کاپتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحانی اکیڈیمی اردو بازار لاہو ر 
سفید کاغذ، آفسٹ طباعت وکتابت ، قیمت درج نہیں ۔
تقریباً ایک صدی قبل ( 1883؁ ء میں ) صادق پور، عظیم آباد ۔پٹنہ کےعلاقے سےایک رسالہ یافتویٰ شائع کرکے عوام میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں درج ذیل سوالات اٹھائے گےتھے