نام کتاب۔عالم برزخ
مولف۔عبدالرحمان عاجز
ناشر۔رحمانیہ دارالکتب۔امین پور بازار فیصل آباد
ہر روزاٹھتے جنازوں اور ہنگاموں سے بھر پور بستیوں کے دامن میں قبرستانوں کے سناٹوں کو  دیکھ کر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر بے ساختہ یہ کہنے پرمجبور ہوتا ہے۔
دل دھڑکنے کو زندگی نہ کہو
موت کااضطراب ہوتاہے
مگر خوگر پیکر محسوس انسان کی عقل ودانش یہیں تک دم توڑ دیتی ہے۔
فکری تجسس کبھی اس وھم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ:
(النازعات۔10)"کیا ہم پھر پہلی حالت پرلوٹائے جائیں گے؟کبھی اس خیال میں بھٹکنے لگتا ہے۔کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔اور پھر شیطان اس سلسلے میں انسان کو تباہ کن افکار میں دھکیلتا چلا جاتا ہے۔لیکن انسان کی سانسوں کی آمدورفت کا سلسلہ جب ٹوٹ جاتا ہے۔ہنستا کھیلتا چلتا پھرتا اور بولتا انسان جب ہمیشہ کے لئے بے جان لاشا بن جاتا ہے۔جب قبر کے چوکھٹے میں جڑ کر اس کے رشتہ  دار اور دوست اسے مٹی میں دبا دیتے ہیں تو اس کے بعد اس پر کیا بیتتی ہے؟ اس کی صحیح سچی اور محکم تفصیلات تو صرف وہی ذات ہمہ صفات ہی بیان کرسکتی ہے جس نے انسان کو"کچھ نہیں " سے قابل ذکر وجود بخشا ،حصول علم کے لئے حواس عطا فرمائے۔اس عالم رنگ وبو پر حکمرانی کے لئے عقل وہوش سے نوازا۔اس پر مذید اگر کوئی ہستی علم وحکمت روشنی ڈال سکتی ہے۔تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔انہوں نے موت کے بعد کے عالم کو جسطرح کا بیان فرمایا۔جناب عبدالرحمان عاجز نے اس کو بخوبی بیان فرمایا ہے۔اللہ کا ارشاد ہے۔

(عربی)

پردہ کے اس پار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا عالم کیسا ہے؟عالم برزخ"کے لغوی معنی کیا ہیں؟قبر کی زندگی کیسی ہے؟ قبر میں عذاب وثواب کا صرف روح سے تعلق ہے یا بد ن سے بھی اس کا واسطہ ہوگا؟روح کی ماہیت کیاہے؟روحوں کامستقر کیا ہے؟

انسانی ذہن میں پیدا ہونے والے ایسے تمام سوالات کے جوابات موصوف نے بڑے احسن انداز میں پیش کئے ہیں۔

624  صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتاب"عالم برزخ" سفید عمدہ کاغذ،خوبصورت جلد مقبولیت کا یہ عالم کہ ماشاء اللہ پانچواں ایڈیشن ہمارے سامنے ہے۔

کتاب میں عالم برزخ سے متعلق اساسی یا ضمنی کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس کا ذ کر آ پ کو اس کتاب میں نہیں ملے گا۔

مردے مردوں کی تعزیت کس طرح کرتے ہیں۔قبر میں فرشتے کیسے داخل ہوتے ہیں۔

میت چاہے جلاکرراکھ کردی جائے اور اس راکھ کو دریاؤں یا سمندروں میں بہادیا جائے مگر مرنے والا اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرشتوں کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا۔

مرنے والے اگر اعمال صالح ہیں تو عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ اسے کیسی کیسی نعمتوں سے نوازیں گے۔اس کی تفصیل بھی آپ کو اس کتاب میں ملے گی۔اور بدکار لوگوں کو کتنے ہیبت ناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔اس کی بھی مدلل وضاحتیں ملیں گی۔

انہیں کی تصنیف "موت کے سائے" کی طرح اس کتاب کی بھی ابتدا اور آخر میں جلیل القدر علماء کی آراء اور تبصرے شامل ہیں۔

میرے خیال میں اس کتاب کی عبارتیں ہمارے اس یقین کو پختہ تر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں جن کی ناپخگتی سے  ہمیں بہت سے نقصان پہنچنے کے احتمال ہوتے ہیں۔ایمان کا وہی سرمایہ یقین ہے۔جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتے ہیں۔

(عربی)

"ترجمہ۔بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے مگر ان فرمانبرداروں کے لئے مشکل نہیں ہے جو یقین  رکھتے ہیں کہ آخر کار انھیں اپنے رب سے ملنا اور اسی طرف پلٹ جانا ہے۔معلوم ہوا موت کے بعد کی زندگی کے تمام مراحل کا یقین ہمیں اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار بننے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔اس میں ذرا سی غفلت یاتشکیک ہماری بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔

سورہ یونس  میں ہمیں موت کے بعد کی زندگی کو یاد رکھنے کی اہمیت کو ہر لمحہ یاد رکھنے کی ہدایت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

(عربی)

"ترجمہ۔حقیقت یہ ہے کہ جولوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں۔اور یہی لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں ان کی کمائی(برائیوں) کےسبب ان کاٹھکانہ جہنم ہوگا"(یونس۔7۔8)

گویا"موت کے بعد کی زندگی" کے خدوخال قرآن وحدیث میں جس طرح بیان کئے گئے ہیں۔ہمارے خیال ویقین میں جتنے گہرے پیوست ہوں گے۔اللہ عزوجل اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہمارے لئے اتنی ہی آسان ہوگی۔

حال ہی میں جہاد افغانستان میں پندرہ لاکھ سے زائد اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کی سب سے بڑی قوت ان کا یہی یقین تھا۔کہ موت کے بعد شہید کی زندگی اتنی ہی عظیم الشان ہوتی ہے جتنی اللہ عزوجل نے بیان فرمائی۔

(عربی)

"ترجمہ۔اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں ہرگز مردہ مت خیال کرو بلکہ وہ لوگ اپنے پرودگار کے پاس زندہ اوررزق پاتے  رہے ہیں۔"(آل عمران۔169)

غرض بحیثیت مجموعی مصنف کتاب جناب عبدالرحمٰن صاحب عاجز قارئین کے دلوں میں موت کے بعد کی زندگی کو  یاد رکھنے کا احساس دلانے میں کامیاب ہیں۔نثر اور اشعار۔۔۔دونوں میں ان کی یہ کوشش قابل تحسین ہے۔

لیکن ڈیڑھ صدی سے ہم میں سے ہی ایک تعداد ایسی بھی ہے جوانسانی دماغوں سے ابلتے ہوئے علوم کی دریافتوں اور مہماتی کامیابیوں کو دیکھ کر اتنے مبہوت ومغلوب ہوچکے ہیں کہ بعد کی زندگی کا تصور اول تو ہے ہی نہیں اگرہے بھی تو۔۔۔اتنا مضبوط یقین نہیں ۔تشکیک کا مرض ان کے دماغوں میں سمو گیا ہے!

میرے خیال میں اپنی تحریروں میں ہمیں اس مہلک مرض میں مبتلا افراد کو بھی مخاطب تصور کرلینا چاہیے۔اور اپنی ر وایت اور درایت کی عظمت کو برقرار رکھتے ہوئے منتجہ موضوعات سے متعلق ان علوم کا بھی مطالعہ کرکے حوالوں کا اہتمام کرلینا چاہیے۔جن علوم نے انھیں مسحور کررکھاہے۔یقین مانئے انسانی دماغوں سے نمودار ہونے والا کوئی علم بھی ایسا نہیں جس کے وجود کی نشاندہی "علم الوحی" میں موجود نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

(عربی)

"ترجمہ:اور ہم نے ا س قرآن میں لوگوں کی ھدایت کے لئے ہر قسم کے مضمون  بیان کردیے ہیں۔تاکہ لوگ نصیحت حاصل کرتے رہیں۔"

علاوہ  ازیں یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ انسانی علوم کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جتنی زیادہ بصیرت اور وسعت نصیب ہوتی جارہی ہے اتنی ہی شدومد کیساتھ علم الوحی کی تصدیق ہوتی جارہی ہے۔

نیند ہی کے موضوع کو لیجئے عصر حاضر میں سرفہرست دو علم(1) علم الطبیعہPhsical Sience اور علم النفس “Psychology” ہیں۔ جن سے پڑھا لکھا طبقہ زیادہ مسحور و مرعوب ہے۔

وہ دونوں نیند کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ یہ ہیں۔

نیند ۔۔کاتعلق۔۔۔دماغی اغشیاء اور دیگر ان بافتوں سے ہوتا ہے جو آلات حس وادراک کہلاتے ہیں۔

جب دماغی اغشیاء اور بافتوں سے پیدا ہونے والی رطوبتیں ان آلات حس وادراک پر غالب آجاتی ہیں تو انسان سوجاتا ہے۔سونے کے بعد۔۔۔اس کی آنکھیں اپنے ماحول کو نہیں دیکھ سکتیں۔کان سن نہیں سکتے۔ہاتھ۔حرکت نہیں کرسکتے۔زبان بول نہیں سکتی بالکل اسی طرح مردہ اپنے ارد گرد سے بے خبرہوجاتا ہے۔اور اس کی آنکھیں کھلی رہ جانے کے باوجود بصارت سے کان۔۔۔سماعت سے۔اور زبان نطق سے محروم ہوجاتی ہے۔

گویا مردہ اورسونے والادونوں ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ماہر طبیعات یا ماہرین نفسات تو ایک طرف نیند کے بارہ میں ہر ملک ہر قوم میں اسی مفہوم کا جملہ سب کی زبانوں میں مووجود ہے کہ سونے والا ۔اور مردہ ۔۔۔دونوں ایک سے ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن حکیم میں نیند کوموت کے مترادف قرار دیتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے۔

(عربی)

"ترجمہ۔اور وہی ہے جو رات کوتمھیں مارتا ہے اور جانتا ہے۔جو تم نے دن میں کیا پھر وہ تمھیں زندگی کی عالم میں واپس کردیتاہے۔تاکہ تم موت کی معینہ مدت پوری کرسکو!"

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رات کو سونے سے پہلے پڑھی جانے والی دعا میں بھی نیند کوموت ہی نام دیا ہے۔

ترجمہ۔اے اللہ تیرے نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندگی پاؤںگا۔"

ثابت ہوا کہ ہر علم جب بھی کسی ٹھوس فیصلہ پر پہنچے گا تو اس کے فیصلہ کی عبارت قرآن وحدیث کی موید ہوگی۔

صرف نیند ہی کیا"خواب(Dream) کے بارے میں بھی جدید انکشافات ہمارے سامنے آئے ہیں۔وہ بھی اللہ عزوجل کی قرآن حکیم میں پیش کردہ ارشادات کی تائید مذید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اب آپ اس طبقہ کو لیجئے جو ہر حقیقت کو اساس تجربہ اور مشاہدہ ہی کو قرار د یتاہے۔تو کیا اس کے لئے ہر روز کا یہ تجربہ یامشاہدہ کافی نہیں۔

کہ جو اللہ ہر رات ہر انسان کو "نیند" کی صورت "موت"دیتا ہے۔اور ہرصبح جگانے کی صورت زندگی کے ہنگامے عطا کرتا ہے۔کیا وہ حقیقی موت کے بعد انسان کو(پھر جگانے) زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوگا؟

میرا مقصد یہ ہے کہ آئندہ عالم برزخ کی اشاعت سے پہلے اللہ عزوجل کے ارشادات کی تائید میں جسطرح آپ نے صوفیوں کے خواب ترتیب دیئے ہیں اسی طرح جدید علوم کے حوالوں کو بھی شامل کرلیں۔تو اس کتاب کو اپنی افادیت اور اہمیت میں  اور بھی چار  چاند لگ جائیں گے۔ان شاء اللہ