محدثین کے گروہ میں امام محمد بن اسماعیل بخاری کو جو خاص مقام حاصل ہے ا س سے کون واقف نہیں ہے؟امام بخاری ؒ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں صرف کردی ہے۔ اور اس میں جس قدر ان کو کامیابی ہوئی اس سے ہر وہ شخص جو تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھتا ہے۔وہ اس کو بخوبی جانتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ امام المحدثین اور"امیر المومنین فی الحدیث" کے لقب سے ملقب ہوئے اور ان کی پرکھی ہوئی حدیثوں اور اور جانچے ہوئے راویوں پر کمال وثوق کیا گیا اور ان کی مشہور کتاب الجامع الصحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ"کاخطاب  دیاگیا۔

نام ونسب وابتدائی حالات؛امام بخاری ؒ کا نام محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بروزبہ ہے۔کنیت ابو عبداللہ اور لقب امام المحدثین اور امیر المومنین فی الحدیث ہے۔آپ کے جداعلیٰ بروزبہ فارس کے رہنے والے تھے اور مذہباً مجوسی تھے۔

امام بخاری ؒ کے پردادا مغیرہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا۔اور اس زمانہ کا قاعدہ یہ تھا کہ جس شخص کے ہاتھ پر اسلام لاتے تھے اسی کی نسبت سے نومسلم مشہور ہوجاتے تھے۔مغیرہ چونکہ حاکم بخارا یمان جعفی کے ہاتھ  پر مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اسی لئے جعفی کہلائے حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ء) لکھتے ہیں۔

(عربی)

جعفی اسلام لانے کی وجہ سے مشہور ہوئے اس لئے کہ(یمان ضعفی) کے ہاتھ پر   مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔اور جعفی خاندان سے ویسے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امام بخاریؒ کے والد ابوالحسن اسماعیل بن ابراہیم بڑے پایہ کے محدث تھے۔آپ کے اساتذہ میں امام مالک ؒ بن انس(م179ہجری) اور امام عبداللہ بن مبارک (م181ہجری) کے نام ملتے ہیں۔امام بخاری ؒ نے ان کا متصل تذکرۃ اپنی تصنیف تاریخ کبیر میں کیا ہے۔

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خطیب قسطلانی(م923ہجری) نے ارشاد الساری کے مقدمہ میں حافظ ابن حبان ؒ کی کتاب الثقات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اسماعیل نے حماد بن زید،امام مالکؒ۔ابو معاویہ ؒ۔اوردیگر اعیان زمانہ سے احادیث روایت کیں۔

(عربی)

علامہ اسماعیل بن ابراہیم بہت پاکیزہ نفس اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔امام بخاری  ؒ کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ آپ کے والد کا شمار جلیل القدر  محدثین کے گروہ میں ہوتا ہے۔اور یہ فخر اسلام میں چیدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔

امام بخاری ؒ کی والدہ بھی بہت عبادت گزار اور صاحب کرامات تھیں۔اللہ سے دعا کرنا ،رونا اورعاجزی کرنا ان کا خاص حصہ تھا۔امام بخاریؒ کی صغر سنی میں آنکھیں خراب ہوگئیں۔اور بصارت جاتی رہی۔امام صاحب کی والدہ اللہ تعالیٰ کے حضور بڑی انکساری اور عاجزی سے دعا کرتی تھیں۔کہ اے اللہ میرے بچے کی بینائی درست فرمادے۔ایک دن ان کو خواب میں حضرت  ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔وہ فرمارہے ہیں کہ تمہارے رونے اور دعا کرنے سے تمہارے بیٹے کی آنکھیں اللہ تعالیٰ نے درست کردی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے جس شب خواب دیکھا اسی صبح کو میرے بیٹے کی آنکھیں درست ہوگئیں۔

علامہ سبکی ؒ لکھتے ہیں۔

یعنی محمد بن اسماعیل کی بصارت جاتی رہی اور ان کی والدہ ان کے لئے دعا کرتی تھیں۔اور انہوں نے خواب میں حضرت ابراہیمؑ کو دیکھا جو آپ سے فرمارہے تھے کہ تمہارے کثرت سے رونے اور دعا کرنے سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کی بینائی درست کردی ہے۔

ولادت:امام محمد بن اسماعیل بخاری ؒ 13شوال 194ہجری جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔بخارا خراسان کا مشہور شہر ہے۔فتوحات اسلامیہ سے پہلے یہ شہر ملوک سامانیہ کادارالخلافہ تھا۔ یہ شہر بنو امیہ کے دور میں اسلامی سلطنت میں داخل ہوا۔

تعلیم وتربیت:۔امام بخاری ؒ صغیر السن ہی تھے کہ آپ کے والد اسماعیل بن ابراہیم نے انتقال کیا۔اس لئے آپ کی تعلیم وتربیت آپ کی والدہ کی آغوش میں ہوئی امام صاحب کی تحصیل علم کا زمانہ بچپن ہی سے شروع ہوتا ہے۔ابتدائی تعلیم میں علم فقہ پر توجہ کی اور امام وکیع اور امام عبداللہ بن مبارک جیسے اساتذہ فن کی تصنیفات کا مطالعہ کیا اور 15 برس کی عمر میں ہی فقہ کی تعلیم سے فارغ ہوگئے۔

سفرحج:16 سال کی عمر میں امام بخاریؒ مع اپنی والدہ اور بڑے بھائی کے حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے آپ کی والدہ اور بھائی حج سے فراغت کے بعد بخارا واپس آگئے اور امام بخاری ؒ مکہ معظمہ میں قیام فرما رہے۔مکہ معظمہ میں آپ کا قیام دو سال رہا اور اس کے بعد آپ اٹھارہ سال کی عمر میں مدینہ منورہ چلے گئے قیام مدینہ میں آپ نے روزہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چاندنی راتوں میں"قضایا الصحابہ والتابعین "اور "تاریخ کبیر" تصنیف کی۔

سماع حدیث کے لئے سفر:رحلت(سفر) محدثین کی اصطلاح میں وہ سفر  ہے جو حدیث یا حدیث کی اسناد عالی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔امام محمد بن اسماعیل بخاری ؒنے سماع حدیث کے لئے سفر کا آغاذ 210 ھ میں کیا۔ اور اس سلسلے میں شام ،مصر،جزیرہ،حجاز مقدس ،کوفہ اور بغداد کا سفر کیا۔بصرہ آپ چارمرتبہ  گئے۔اور بغداد کاسفر آپ نے 8 مرتبہ کیا آپ نے ہر جگہ اساطین فن سے استفادہ کیا۔

اساتذہ وشیوخ:۔امام بخاری ؒ کے اساتذہ وشیوخ کی تعداد بہت زیادہ ہے حافظ ابن حجرؒ نے امام صاحب کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ:

(عربی)

میں نے 1080 آدمیوں سے حدیثیں لکھیں ان میں سب کے سب محدث تھے۔آپ کے چند مشہور اساتذہ کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔

اما م محمد بن سلام بیکندی:۔

ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔امام عبداللہ بن مبارک اورامام سفیان بن عینیہؒ کے شاگرد تھے۔امام مالک بن انس کے ہم عصرتھے۔علوم اسلامیہ کی تحصیل واشاعت میں 80ہزاردرہم صرف کئے 225ہجری میں وفات پائی۔

امام عبداللہ بن محمد مسندی:ان کا شمار بھی ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔امام سفیان بن عینیہؒ اور امام فضیل بن عیاض ک شاگرد تھے۔112ھ میں پیدا ہوئے اور 229 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ارباب سیر اور محدثین کرام نے ان کی عدالت وثقاہت اورحفظ وضبط کا اعتراف کیا ہے۔

یحییٰ بن معین ؒ:۔فن حدیث میں ایک اہم شعبہ اسماء الرجال ہے۔اس میں حدیث کے رواۃ پر اس حیثیت سے بحث ہوتی ہے۔کہ کون راوی قابل اعتماد ہے۔اور کون ناقابل  اعتماد یاراوی کی اخلاقی زندگی کیسی ہے۔اس میں عقل وفہم کا ملکہ کس قدر ہے۔اس کے علم اور قوت حافظہ کا کیاحال ہے۔امام یحییٰ بن معین ؒ اس فن کے امام ہی نہیں بلکہ امام  الائمہ سمجھے جاتے ہیں۔یحیٰ بن معین ؒ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن الجراح اور یحیٰ بن سعید القطان کے نام ملتے ہیں۔امام یحییٰ بن معین ؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آ پ نے اپنی ساری زندگی صحیح اور غیر صحیح روایات کی تمیز کرنے میں صرف کردی۔امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ) جو آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں فرمایاکرتے تھے جو روایت یحییٰ بن معین ؒ کو معلوم نہ ہو اس کی صحت مشکوک ہے۔امام یحیٰٰ بن معین ؒ نے 233 ہجری میں مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔

امام علی بن مدینی ؒ:امام علی بن مدینی کاشمار اکابرمحدثین کرام میں ہوتاہے۔جرح وتعدیل کے امام تھے۔آپ کے اساتذہ میں یحییٰ بن سعید القطان ۔سفیان بن عینیہ امام عبدالرحمٰن بن مہدی(م198ہجری) اور امام ابو طیالسی کے نام ملتے ہیں۔امام علی بن مدینی ؒ کے علم وفضل ،تبحر علمی،حفظ وضبط اورعدالت وثقاہت کا علمائے فن نے اعتراف کیا ہے۔حافظ ابن حجر ؒ عسقلانی نے امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ن علی بن مدینی ؒ کو علم حدیث کے لئے پیدا کیا۔

امام علی بن مدینی ؒ اخلاق وعادات میں سلف کانمونہ تھے۔ان کی زندگی کا ہر گوشہ اتنا پاکیزہ اور پرکشش تھا کہ

(عربی)

"ان کی چال ڈھال،نشست وبرخاست،ان کے لباس کی کیفیت غرض ان کے ہر قول وعمل کہ لوگ لکھ لیا کرتے تھے۔

ان ہی اوصاف کا کرشمہ تھا۔کہ جب تک ان کا قیام بغداد میں رہتا۔سنت کا چرچا بڑھ جاتا۔اور شیعت کا زور گھٹ جاتا اور جب آپ بغداد سے بصرہ چلے جاتے تو شیعت کا زور دوبارہ ہوجاتا۔حافظ ابن حجر عسلقانی ؒ نے امام یحییٰ بن معین ؒ کا یہ قول نقل کیا  ہے کہ۔

(عربی)

اما م علی بن مدینی نے 24ہجری میں انتقال کیا۔       (جاری ہے)