قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ ادارہ"منہاج" کے تعاقب کے جواب میں
سہہ ماہی مجلہ "منہاج" اشاعت اپریل 1987ء میں میرا ایک مضمون بعنوان "خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں"شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں  نے پرویز صاحب اور جعفر صاحب پھلواروی کے اس اعتراض کا جواب پیش کیا تھا۔"خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بالعموم اور حضرت عمر فاروق بالخصوص اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔"پھر ان حضرات نے نتیجہ یہ پیش فرمایا تھا کہ:۔
"اگر خلفائے راشدین اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق پچیس تیس سنت ہائے رسول میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں تو آخر ہم اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی تبدیلیاں کیوں نہیں کرسکتے۔"
اسی ضمن میں ایک مشہور مسئلہ"تطلیق ثلاثہ" بھی زیر بحث آیا جسے میں نے اپنے مضمون کے آخر میں حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی "اجتہادی غلطیوں" کے ذیلی عنوان کے تحت درج کیا تھا۔اور بتلایا تھا کہ لےدے کے یہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں آپ کا فیصلہ کتاب وسنت کی منشاء کے خلاف تھا۔اب ادارہ منہاج نے غالبا"مسلکاً" حنفی ہونے کی وجہ سے میرے مضمون کو جوں کا توں شائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ نے میرے دو صفحات کے اس آرٹیکل پر چودہ صفحات کے حواشی چڑھا کر اپنی طرف سے بھر پور تردید کے ساتھ شائع فرمادیا۔حالانکہ اگر ادارہ مذکور وسعت نظر سے کام لیتے ہوئے ان حواشی کے بغیر بھی چھاپ دیتا تو بھی اس پر کچھ الزام نہ آسکتا تھا کیونکہ کوئی بھی ادارہ یہ عبارت لکھنے کے بعد کہ "ادارہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں"جوابدہی کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجاتاہے۔اور اگر ی بات ایسی ہی ضروری تھی تو الگ مضمون شائع کردیتا۔

تطلیق ثلاثہ کامسئلہ ایسا ہے جس پر صدر اول سے اختلاف چلا آرہا ہے۔اس مسئلہ پر فریقین کی طرف سے بہت کچھ لکھاجاچکا ہے۔بایں ہمہ یہ مسئلہ جوں کا توں قائم ہے۔ایسے گسے پٹے مسائل کو زیر بحث لانامیرے ذوق سے خارج ہے۔اب چونکہ قاری صاحب مجھے اس میدان میں کھینچ لائے ہیں۔لہذا اب جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں اور اس لہاظ سے میں قاری صاحب کاممنون بھی ہوں کہ ان کے ان حواشی کی وجہ سے مجھے دوبارہ اس مسئلہ کے مطالعہ کا موقع فراہم ہوگیا۔

قاری صاحب موصوف کے حواشی کا ما حصل میرے خیال میں مندرجہ ذیل چار باتوں پر مشتمل ہے:۔

1۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ایک مجلس کی تین طلاقوں کو بطور تین ہی نافذ کردینے کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ شرعی بنیادوں پر استوار تھا۔

2۔یہ مسئلہ ایک آیت اور دو احادیث سے ثابت ہے۔

3۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے اس فیصلہ کے بعد امت کا اس پر اجماع ہوگیا تھا۔

4۔اس فیصلہ پر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ندامت والا قصہ بھی من گھڑت ہے۔

اعتذار:۔

ان باتوں کا جواب دینے سے پیشتر میں اپنی ایک غلطی(مسافت) کا اعتراف ضروری سمجھتا ہوں جس کی بناء پرمیری عبارت میں سے صرف دو الفاظ کے چھوٹ جانے پر مطلب میں نمایاں فرق پڑگیا۔شائع شدہ عبارت یوں ہے"تاہم ہمیں یہ تسلیم کرلینے میں کچھ باک نہیں ہے۔کہ آپ(حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا یہ  فیصلہ کتاب اللہ اور سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تھا۔"جبکہ میرے رف مسودہ میں اس فقرہ کے آخری الفاظ یوں تھے"کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے خلاف تھا" جب دوسری بار مسودہ صاف کرکے لکھا تو"کی منشاء" کے الفاظ درج ہونے سے رہ گئے جس سے مطلب کچھ کا کچھ بن گیا۔شائع شدہ فقرہ سے یوں معلوم ہواہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نعوذ باللہ کتاب اللہ  اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی فیصلہ فرماسکتے تھے۔اور"کی منشاء"کے الفاظ شامل کرنے کے بعد یہ مفہوم بنتاہے کہ آپ کا یہ فیصلہ محض ایک اجتہادی غلطی تھی۔اور میں نے اس مضمون کو درج بھی"اجتہادی غلطی" کے عنوان کے تخت ہی کیا تھا۔

یہ تو خیر جو ہوا سو ہوا،کہ میرے مضمون میں تو عبارت یوں چھپی تھی کہ آپ کا یہ فیصلہ کتاب اللہ اور سنت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تھا۔لیکن قاری صاحب موصوف نے اس مخالفت کی نسبت حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلہ کے بجائے براہ راست حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ذات کی طرف کرکے اسے میری طرف منسوب کردیا اور لکھا کہ:

(کیلانی صاحب) حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  پر برس پڑے اور بیک جنبش قلم انہیں مخالف کتاب اللہ اور سنت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرار دینے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا۔"

(عربی ) اللہ تعالیٰ ہم سب کی بھول چوک ،لغزشوں ،اور غلطیوں کو معاف فرمائے۔آمین۔اس اعتذار کے بعد اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں:۔

1۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فیصلہ سیاسی تھا یا شرعی؟

اس ضمن میں قاری صاحب موصوف نے جناب مولانا ابراہیم صاحب  میر سیالکوٹی کا ایک اقتباس درج فرمایا ہے۔جس میں مولانا ابراہیم صاحب نے اس بات پرزوردیا ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیک مجلس تین طلاق  کو تین طلاق کے وقوع ےطور پر نافذ کرنے کا فیصلہ سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ شرعی بنیادوں پر تھا۔اتمام حجت کے طور پر قاری صاحب موصوف نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ مولانا ابراہیم صاحب موصوف غیر مقلد ہیں۔

اس اقتباس کاجواب تو تب ہی درست سمجھا جاسکتا ہے۔کہ ہم کسی حنفی مقلد عالم کا ایسا ہی اقتباس پیش کردیں۔جس میں یہ وضاحت موجود ہو کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ فیصلہ شرعی نہیں بلکہ سیاسی اور تعزیری قسم کا تھا۔چنانچہ اس ضمن میں پیر کرم شاہ صاحب ازہری(جو مسلکاً بریلوی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل کے بھی رکن ہیں۔اور روئیت ہلال کمیٹی کے بھی مزید برآں ماہنامہ"ضیائے حرم" کے مدیر بھی ہیں) کا اقتباس ذیل پیش خدمت ہے:۔

حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس  فیصلہ پر پیرکرم شاہ صاحب کاتبصرہ:۔

آپ اس مسئلہ پر  تفصیلی بحث کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:۔

"لیکن ایک خلجان ابھی تک موجود ہے۔جس کا ازالہ ازحد اہم ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب طلاق ثلاث ایک طلاق شمار کی جاتی تھی تو الناملق بالصدق والصواب،الفارق بین الحق والباطل،حضرت امیر المومنین  سیدنا عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس کے برعکس حکم کیوں دیا؟تو اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ لوگ طلاق ثلاث کی حرمت کو جانتے ہوئے اب اس کے عادی ہوتے چلے جارہے ہیں۔تو آپ کی سیاست حکیمانہ نے ان کو اس امر حرام سے باز رکھنے کے لئے بطورسزا حرمت کا حکم صادرفرمایا۔اور خلیفہ وقت کو اجازت ہے کہ  جس وقت وہ یہ دیکھے کہ لوگ اللہ کی دی ہوئی سہولتوں اور رخصتوں کی قدر نہیں کررہے اور ان سے استفادہ کرنے سے رک گئے ہیں۔تو بطور تعزیر انھیں ان رخصتوں اور سہولتوں سے محروم کردے تاکہ وہ اس سے باز آجائیں۔۔۔حضرت امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ حکم نافذ کرتے ہوئے انہیں فرمایا کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ:

(عربی)(کاش! ہم اس کو ان پرنافذ کردیں) ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ  آپ کی رائے تھی۔اور امت کو فعل حرام سے باز رکھنے کے لئے یہ تعزیری اقدام اٹھایا گیا تھا۔اس تعزیری حکم کو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے پسند فرمایا اور اس کے مطابق فتوے دیئے۔(مقالات علمیہ ص241۔242)

جناب پیر کرم شاہ صاحب ازہری کے اقتباس سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:۔

1۔دور فاروقی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے پہلے دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور صدیقی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔

2۔حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جو فیصلہ کیا تھا وہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیقی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے تعامل کے برعکس تھا۔

3۔آپ کا یہ  فیصلہ آپ کی سیاست حکیمانہ کانتیجہ تھا۔اور آپ نے یہ فیصلہ بطور سزا صادر فرمایا تھا۔

4۔اس کے بعد ہی صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے بھی ایسے تعزیری  فتوے دینا شروع کردیئے تھے۔

حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلہ کو سیاسی قرار دینے والے  دیگر حضرات:۔

ممکن ہے اس جواب کو محض الزامی سمجھاجائے جبکہ مولانا ابراہیم صاحب کسی "بزرگ دین" کا نام بھی جاننا چاہتے ہیں۔جس نے آپ کے اس حکم کو سیاسی قرار دیا ہو۔کیونکہ ان کے بقول آج تک انہیں کوئی ایسی تحریر نہیں مل سکی۔لہذا  اب ہم ان چند بزرگان دین کا نام بتائیں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی تحریریں بھی ان شاء اللہ آپ کو دکھلادیں گے۔

1۔ہمارے خیال میں سب سے پہلے بزرگ تو خود حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہیں۔جنھوں نے (عربی) فرما کر یہ واضح کردیا کہ یہ ان کا اپنا حکم تھا۔انہوں نے یہ حکم جاری کرتے وقت ہر گز یہ نہیں کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یا حدیث ہے۔ نہ ہی کسی قرآنی آیت سے آپ نے استدلال فرمایا جیسا کہ آپ نے عراق کو زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے وقت استدلال فرمایا تھا۔اب بتلائیے کہ ہم اسے آپ کاسیاسی اور تعزیری حکم نہ سمجھیں تو کیا سمجھیں؟ آپ کی اپنی شہادت کے بعد کسی دوسرے"بزرگ دین" کانام گنوانے کی ضرورت تو نہیں رہ جاتی تاہم چند نام اور بھی پیش خدمت ہیں۔

2۔مشہورحنفی امام طحاوی اپنی تصنیف در مختار ج2 ص 105 پر لکھتے ہیں:۔

(عربی)

پہلے زمانہ میں تاخلافت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جب کوئی شخص اکھٹی تین طلاقیں دیتا تو ایک ہی قرار دی جاتی پھر جب لوگ بکثرت ایسا کرنے لگے۔تو  آپ نے سیاستاً"تین طلاقوں کے تین ہی واقع ہونے کا حکم نافذ کردیا۔(بحوالہ مقالات علمیہ ص232)

3۔اور امام ابن قیم تو آپ کے اس حکم کو درہ فاروقی سے تعبیرکرتے ہوئے "اعلام  الموقعین" میں  فرماتے ہیں:۔

(ترجمہ) "جب  لوگوں نے بے خوف ہوکر بکثرت اسے (یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دینا) شروع کردیا تو آپ نے بحیثیت قانون یہ حکم فرمایاتھا  کہ میں آئندہ تین طلاقوں کو تین ہی شمار کروں گا۔یہ صرف اس لئے تھا کہ لوگ ایک ساتھ تین طلاق دینے س باز آجائیں۔ورنہ پھر تین سال تک یہ حکم شرعی کیوں جاری نہ کیا؟پس یہ حکم شرعی نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھتا ہے کہ لوگ ڈرجائیں۔۔۔پس یہ فتویٰ گویا ایک درہ  فاروقی تھا۔جو ایسے لوگوں کی سزا کے لئے تھا۔نہ کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کسی شرعی حکم کو بدل دیا۔نعوذ باللہ من ذالک۔"(اعلام الموقعین اردو۔ص4۔3)

امام ابن قیم کے اس اقتباس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:۔

1۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ حکم شرعی نہیں بلکہ تعزیری تھا۔اگر یہ حکم شرعی ہوتا تو آپ کو اسے ابتدائے خلافت سے جاری فرمانا چاہیے تھا۔

2۔آپ نے کسی شرعی حکم کو بدلا نہیں۔بلکہ یہ حکم ایسے خطاکارلوگوں کے لئے نافذ کیاجو بیک وقت تین طلاقیں دیتے تھے۔رجوع کے سلسلہ میں شریعت نے جو رعایت دے رکھی تھی۔وہ آپ نے ان سے سلب کرلی۔گویا یہ قانون وقتی تھا۔جوسزا کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔

اب موجودہ دور کے چند" بزرگان دین" کے تبصرے اور تحریریں بھی ملاحظہ فرما لیجئے:۔

4۔سب سے پہلے تو جناب پیر کرم شاہ صاحب ازہری،مدیرماہنامہ ضیائے حرم رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رکن رویئت ہلال کمیٹی کا نام ہی پیش کرنا مناسب ہے۔جن کا اقتباس اوپر درج کیاجاچکاہے۔اس میں آپ نے برملا اعتراف کیا ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا تھا اور سزا کے طور پر تھا۔

5۔مولانا عبدالحلیم صاحب قاسمی مہتمم جامعہ حنفیہ مدرسہ لاہور اور صدر علمائے احناف پاکستان فرماتے ہیں:۔

"حضرت عمرفاروق اعظم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے سیاستاً ایک مجلس کی تین طلاق کو تین تسلیم کرلیاتھا۔یہ آپ کی سیاست تھی جس میں تبدیلی کا امکان ہے۔ چنانچہ اکثرجلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اس معاملہ میں آپ سے اختلاف فرمایا ہے۔جو کتب احادیث میں معہ دلائل موجود ہے۔آج تک کسی مفتی کو یہ جرائت نہ ہوئی یہ یہ لکھ دے کہ یہ فیصلہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں ہے۔(ایک مجلس کی تین طلاق علمائے احناف کی نظر میں ص15)

6۔نومبر 1972ء میں احمد آباد(گجرات۔کاٹھیا وار) میں تطلیق ثلاثہ کے موضوع پر ایک سمینار منعقد کیاگیا۔جس میں جناب مولانا شمس  پیرزادہ امیر جماعت اسلامی نے ایک مقالہ پڑھا۔ا س مقالہ کے بعض مقامات کاجناب عامر عثمانی صاحب۔مدیر ماہنامہ تجلی دیو بند نے تعقب کیا۔ان کادرج ذیل سوال وجواب ملاحظہ ہو:۔

عامر صاحب فرماتے ہیں کہ " حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حاکم وقت نہ تھے نہ کہ قاضی ۔نیز یہ کہ ان کا فیصلہ کسی عدالت میں بطور نظیر بھی پیش نہیں ہوا تھا کیونکہ عدالت میں عدالتی نظائر کام آتے ہیں۔حکام کے انتظامی یا سیاسی یا اصلاحی اقدامات کام نہیں آتے"

اس کے  جواب میں جناب مولاناشمس پیر زادہ صاحب فرماتے ہیں:۔

"سوال یہ ہے کہ اگرحضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مذکورہ فیصلہ کی حیثیت عدالتی نہیں بلکہ سیاسی اقدام کی تھی۔تو حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے یکجائی تین طلاقوں کا نافذ کرنے کی جو علماء یہ توجیہ کرتے ہیں کہ اس کا نفاذ محض تعزیراً کیا گیا تھا۔ان کی یہ توجیہ کیوں غلط قرار دی جائے؟مذید یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ا گر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فیصلہ عدالتی نہ ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے۔توصحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے فتوے کہ ان کی حیثیت بھی عدالتی فیصلوں کی نہیں ہے حجت کس طرح بن سکتے ہیں؟"(مقالات علمیہ ص2116)

دیکھا آپ نے عامر عثمانی صاحب بھی جو متعصب حنفی ہیں۔اور شمس پیر زادہ  صاحب بھی دونوں آپ کے اس فیصلہ کو شرعی کی بجائے سیاسی اور تعزیری یا انتظامی اور اصلاحی قرار دے رہے ہیں۔

7۔اسی سیمنار کے ایک اورمقالہ نگار جناب حفیظ الرحمٰن صاحب قاسمی فاضل دیو بند فرماتے ہیں:۔

"اگرتین طلاق سے مراد(عربی) ہے تو آخر دور نبوت اور دور صدیقی  کے تعامل کو حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کس مصلحت سے بدلا؟وہ کوئی شارع اورقانون ساز تو تھے نہیں۔پھر قانون سازی بھی ایسے مسئلے میں کہ جس میں دوررسالت اوردور ابوبکر کا تعامل موجود ہو۔جب مسلم شریف کی روایت ابو الصباء کے متعلق ہم کچھ عرض کرتے ہیں توفوراً وہی اعتراض ہم سے کیا جاتاہے۔۔۔اب آپ ہمیں واضح طور سے دو ٹوک انداز میں یہ بتائیے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے لئے دورسالت اوردور صدیقی کے تعامل کا بدلنا اس روایت سے بالکل واضح ہے۔آخر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایسا کیوں کیا؟"(مقالات علمیہ ص201)

فیصلہ کی شرعی حیثیت کی تعین میں اختلافات:۔

حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلہ کو مشروع قرار دینے والے بالعموم وہی حضرات ہیں جو  کہ ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ہی قرار دیتے ہیں۔اور اس حد تک تو یہ سب حضرات متفق ہیں۔مگر اس فیصلے کی شرعی  حیثیت کے تعین میں پھر بہت سے اختلافات رونماہوئے مثلاً:۔

1۔کچھ حضرات تو تطلیق ثلاثہ اور ان کے وقوع کو ایسے ہی سنت اورجائز سمجھتے ہیں۔جیسے کہ متفرق طور پر طلاق دینے کو جیسا کہ خود قاری عبدالحفیظ صاحب نے رسالہ منہاج مذکور کے ص304 پر تحریر فرمایا ہے۔

اس توجیہ پر درج ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں:۔

الف:۔اگر بیک وقت تین طلاق دینا بھی سنت اور جائز ہے تو علمائے احناف اور اسی طرح د وسرے تمام فقہاء اسے بدعی طلاق کیوں قرار دیتے ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک چیز بیک وقت سنت بھی ہو اور بدعت بھی؟

ب:۔بیک وقت تین طلاق  دینے والے کو تمام علماء وفقہاء گناہ کبیرہ کامرتکب سمجھتے ہیں۔اب سوا ل یہ ہے کہ کسی سنت کے عامل  یا کم از کم جائز کام کرنے والے کو گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار دیاجاسکتاہے؟

ج:۔اگر ایک مجلس کی تین طلاق بھی سنت اور جائز ہیں۔تو حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنے دورخلافت میں کیا چیز نافذ فرمائی تھی۔جوچیز پہلے ہی موجود اورنافذ ہو اسے نافذ فرمانے کا مطلب؟

2۔دوسرافریق اس مسئلہ کو سنت تو نہیں البتہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا درست اجتہاد تسلیم کرتا ہے اس کا کہنا ہےکہ آیت(عربی) کا ظاہری مفہوم اگرچہ وقفوں سے طلاق دینا ہی ہے۔تاہم یکبارگی تین طلاق دینے  اور ان کے واقع ہونے کے بھی گنجائش موجود ہے۔اس فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلہ پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔لہذا اب مزید اجتہاد واختلاف کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

یہی وہ امور ہیں جن کا ہم آگے چل کر نہایت تفصیل سے جائزہ پیش کررہے ہیں کہ ان حضرات کا یہ نظریہ اور یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے۔

3۔تیسرا گروہ آپ کے اس فیصلہ کو سیاسی ،تعزیری اور وقتی سمجھتا ہے۔جسے آج کی زبان میں آرڈیننس کہتے ہیں۔یعنی  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حالات کے تقاضا کے تحت ایک سراٹھانے والی برائی کی  روک تھام کے لئے ایسے لوگوں سے خدا کی دی ہوئی سہولت کو بطور تعزیر چھین لیا تھا۔اور اکثر صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اس سلسلہ میں آپ سے تعاون کے طور پرآپ کے اس فیصلہ کوقبول کرلیا جیسا کہ ابن رشد قرطبی اپنی کتا ہدایۃ المجتہد میں رقم طراز ہیں کہ:۔

(عربی)

جمہور نے سد ذریعہ کے طور پر تین طلاق کو(لفظ مٹا ہوا ہے) مان لیا ہے ۔حالانکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت وشفقت اور رخصت ختم ہوجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس قول (عربی) میں ہے۔

اس طبقہ کے کچھ وسیع النظر علماء اپنے سابقہ موقف میں زمانہ کے تقاضوں کے تحت لچک پیدا کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

4۔چوتھا گروہ وہ ہے جو آپ کے اس اجتہاد کو(اگر یہ اجتہاد تھا۔۔۔تو) درست نہیں سمجھتا ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ نص کی موجود گی میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔جب صحیح  روایات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے۔کہ دور نبوی،صدیقی،اورفاروقی کے ابتدائی دو تین سالوں تک تعامل امت یہی رہا کہ تین طلاق کو تین نہیں بلکہ ایک ہی شمار کیاجاتا تھا۔تو پھر کسی آیت یا روایت سے بیک مجلس کی تین طلاق کے تین ہی واقع ہونے کے معنی نکالنا درست نہیں۔

اس گروہ  میں وہ تمام لوگ شامل ہیں۔ جوتطلیق ثلاثہ میں تین کے وقوع کے قائل نہیں۔یہ لوگ آپ کے اس فیصلے کو اجتہادی غلطی قرار دینے کے بجائے یہ کہنابہتر سمجھتے ہیں کہ آپ کا یہ فیصلہ سیاسی اور تعزیری تھا۔یہ گروہ دور فاروقی سے لے کر آج تک بلا انقطاع زمانہ موجود چلا آرہا ہے۔چنانچہ موجودہ دور کے ایک نامور  مولف محمد حسین ھیکل نے اپنی تالیف"الفاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ " میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:۔

"حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کتاب اللہ کے نص میں اجتہاد کیاتھا۔جس کی آج ہم مخالفت کرتے ہیں۔کیونکہ نص  قرآنی کا مقصود یہ ہے کہ طلاق بالفعل ایک کے بعد دوسری  دفعہ دینے پر واقع ہو۔ اور شوہر کے لئے دو دفعہ کا موقع باقی رہے کیونکہ اس کے اثرات زندگی پر گہرے مرتب ہوتے ہیں۔اس لئے جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تین طلاقیں ہیں تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی کیونکہ طلاق ایک فعل ہے۔جسے واقع ہونا ہے۔نہ کہ قول جسے زبان سے ادا کرنا ہے۔"(مقالات ص65)

5۔اورپانچواں گروہ وہ ہے جو تطلیق ثلاثہ کے قائلین اور مخالفین دونوں کو درست قراردیتے ہوئے درمیانی راہ  اختیار کرتے ہیں جیسا کہ مصر کی مطبوعہ کتاب"کتاب لافقہ علی المذاہب الاربعہ" کامصنف عبدالرحمٰن الجزیری رقم طراز ہے کہ:۔

لیکن واقعہ ہے یہ ہے کہ اس پر(یعنی تطلیق ثلاثہ کے وقوع پر) اجماع ثابت نہیں ہے چنانچہ بہت سے مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بلاشبہ مجتہدین میں سے تھے۔جن پر دین کےمعاملہ میں پورا اعتماد کیاجاسکتاہے۔لہذا  آپ کی تقلید کرناجائز ہے۔جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ان کی  رائے کے معاملہ میں تقلید کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ آپ بھی مجتہد ہی تھے۔رہااکثریت کا آپ سے اتفاق کرنا تو اس سے آ پ کی تقلید لازم نہیں آتی۔ممکن ہے  آپ نے لوگوں کی تعزیر کی غرض سے اسے نافذ کیا ہو۔جب کہ لوگ خلاف سنت طریقہ پر طلاق دے رہے تھے۔کیونکہ سنت ہے مختلف اوقات میں طلاق دی جائے اور جو شخص سنت کے خلاف کرتا ہے تو اس کا تقاضا ہے ککہ اس کے ساتھ زجر کا معاملہ کیا جائے۔ مختصر یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ تین طلاق بلفظ واحد ایک واقع ہوتی ہے۔انہیں ان کا تین کہنا معقولیت پر مبنی ہے۔کیونکہ عہد  رسالت دورصدیقی اور فاروقی کے ابتدائی دو برسوں تک ایک ہی طلاق واقع ہوئی تھی۔اس کے بعد حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جو  اجتہاد کیا اس کی دوسروں نے مخالفت کی لہذا مخالفت کرنے والوں کی تقلید بھی اسی طرح درست ہے جسطرح حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تقلید درست ہے۔اللہ تعالیٰ نے فروعی اعمال میں کرید کر یقینی صورت حال معلوم کرنے کا ہمیں مکلف نہیں بنایاہے۔کیونکہ اسیا کرنا عملاً ممکن نہیں ہے۔"(کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ص243۔244 بحوالہ مقالات ص66)

2۔قرآنی آیت سے قاری عبدالحفیظ صاحب کا استدلال:۔

فائے تعقیب اور ثم کی بحث

قاری صاحب موصوف  فرماتے ہیں:۔

"جمہور اپنے اس دعویٰ میں (یعنی ایک مجلس کی تین طلاق کے وقوع میں ) قرآن پا ک کی اس  آیت سےاستدلال کرتے ہیں کہ:۔

(عربی)

۔۔۔اس سے متصل پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طلاقوں کا ذکر کیا ہے(عربی) اس کے فوراًبعد (عربی) والی آیت ہے۔یعنی طلاقیں تو دو ہی ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص نے دو طلاقیں دینے کے بعد  فوراً" بعد نادانی کی  بناء پر تیسری طلاق بھی دے دی تو پھر اس کی بیوی اس کے لئے حلال نہیں رہے گی۔جب تک کہ یہ عورت کسی دوسرے مرد سے  نکاح نہ کرے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حرف فا کو استعمال کیا ہے جو کہ تعقیب مع الوصل کے لئے آتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دو طلاقیں دینے کے فوراً بعد اسی مجلس میں تیسری بھی دے دی وتیسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی اور اب اس کے لئے بیوی حلال نہیں۔یہاں پر اگر حرف ثم ہوتا۔جو مہلت اورتراخی کے لئے آتا ہے۔پھر معنی یہ بنتے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دوسرے  طہر میں دوسری اورتیسرےطہر میں تیسری طلاق۔اس صورت میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی واقع ہوتی ہیں۔مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔"(منہاج مذکورہ ص302)

مندرجہ بالااقتباس میں قاری صاحب موصوف کی دلیل کاساراانحصار اس بات پر ہے کہ حرف فا"تعقیب مع الوصل" کے لئے آتاہے۔ہمیں اس کلیہ سے  ہی اتفاق نہیں ہے کہ ہر ہر مقام پر فا تعقیب مع الوصل کے لئے ہی آتا ہو۔درج ذیل آیات پرغور فرما کر بتلائیے کہ یہاں فا کا حرف تعقیب مع الوصل کے لئے ہی استعمال ہواہے؟

1۔(عربی)

2۔(عربی)

3۔(عربی)

قاری صاحب کے بیان میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ حرف فا کے چھ استعمالات میں سے ایک استعمال بطور  تعقیب مع الوصل بھی ہے اور وہ چھ استعمال یہ ہیں۔ترتیب،"تعقیب(مع الوصل9" سبب،شرط،رابطہ،اورزائدہ۔اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیت زیر بحث میں عرف فاتعقیب مع الوصل کے طور پر ہی استعمال ہواہے۔ یا کسی اور غرض کے لئے؟اس مقصد کے لئے ہم اس سے پہلی آیت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جس کیطرف قاری  صاحب نے بھی توجہ دلائی ہے۔اور وہ آیت یوں ہے۔

(ترجمہ) طلاق  دو بار ہے۔پھر یاتو ان کو شائستہ طور پر اپنے نکاح میں رکھا جائے۔یابھلائی کے ساتھ رخصت کردیاجائے۔۔۔پھراگر خاوند(بیوی کو) تیسری بار طلاق دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے پہلے خاوند کے لئےحلال نہ ہوگی۔

اب دیکھئے آیت مذکورہ میں (عربی) کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ تین تو درکنار دو طلاقیں بھی بیک وقت دینا اس آیت کے صریح مفہوم کے خلاف ہے (عربی) کاتعلق پہلی طلاق کے بعد بھی ہے اور دوسری کے بعد بھی۔اندریں  صورت جو تیسری طلاق کے وقت لفظ فاء استعمال ہوا ہے وہ تعقیب مع الوصل کے لئے کیونکر ہوسکتاہے مخصوص اس صورت میں کہ درمیان میں خلع کے احکام بھی بیان کئے جارہے ہیں؟لہذا ہمارے خیال میں اگر فاء کو تعقیب مع الوصل کے لئے قرار دینا ہی ہے تو کیوں نہ (عربی) کی  فاء کو ایسا قرار دیاجائے جو(عربی) کے ساتھ ہی واقع ہے اتنی دورجاکر(عربی) کی فا کوتعقیب مع الوصل قرار دینے کی کوئی تک نظر نہیں آتی۔

قاری صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ"اگر فا کے بجائے (عربی) کا لفظ آتا تو  پھر یہ معنی بنتے کہ ایک طھر میں ایک طلاق دوسرے میں د وسری اورتیسرے میں تیسری طلاق۔ اس صورت  میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی واقع ہوتیں۔مگر یہاں ایسا نہیں ہے"(منہاج ص303)

گویا قاری صاحب موصوف کے نزدیک قرآن کی آیت کے مطابق طلاق دینے کی یہ شکل بالکل درست ہے کہ یک لخت تین طلاقیں دے کر انہیں تین ہی شمار کرلیا جائے کیونکہ عرف فا کا یہی تقاضا ہے۔اور یہ جوطلاق دینے کا شرعی طریقہ مشہور ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دی جائے دوسرے میں دوسری تیسرے میں تیسری۔تو طلاق کی یہ شکل قرآن کی آیت کی رو سے درست نہیں،کیونکہ ایسی صورت تو (عربی) کے لفط کا تقاضا تھا جو یہاں استعمال نہیں ہوا۔اب ہم یہ بتلائیں گے کہ قاری صاحب اپنی بات کی پچ میں آکراپنے ہی مسلک کے خلاف کیا کچھ باتیں فرماگئے ہیں اس کے لئے ہمیں طلاق کی مختلف شکلوں پر نگاہ ڈالنا ہوگی۔

طلاق کی مختلف شکلیں اور ان کے احکام

طلاق کی مختلف صورتوں کی وضاحت کے لئے چونکہ عدت کاتعین ضروری ہے لہذا پہلے عدت کے مسائل واحکام کی وضاحت کی جاتی ہے اور وہ درج ذیل ہے۔

عدت کے مسائل واحکام:۔

1۔بیوہ غیرحاملہ کی عدت چارماہ دس دن ہے(2/239)

2۔بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔سید اسلمیہ کے ہاں خاوند کی وفات کے تقریباً ایک ماہ بعد (مختلف روایات میں یہ مدت 30 دن سے 40 دن تک ہے) بچہ پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اگلے نکاح کی اجازت دےدی۔(بخاری۔کتاب الطلاق)

3۔غیر مدخولہ عورت خواہ وہ بیوہ ہو یامطلقہ،اس کی کوئی عدت نہیں(49/33)

4۔بے حیض عورت،خواہ ابھی حیض ہونا شروع ہی نہ ہوا ہو یا بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے آنا بند ہوچکاہو،کی عدت تین ماہ قمری ہے۔(4/65)

5۔مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے(4/65)

6۔حیض والی غیر حاملہ کی عدت تین قرو ء ہے۔(2/228) قرء بمعنی حیض بھی اور طھر بھی۔احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں۔جبکہ شوافع اور مالکیہ تین طہر مرادلیتے ہیں۔اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے کہ:۔

طلاق دینے کاصحیح طریق یہ ہے کہ عورت جب حیض سے فارغ ہوتو اسے طھر کے شروع میں ہی بغیر مقاربت کئے طلاق دی جائے۔اور پوری مدت گزر  جانے دی جائے۔عدت کے بعد عورت بائن ہوجائےگی۔اب فرض کیجئے کہ ایک عورت ہندہ نامی کو ہر قمری مہینہ کی ابتدائی تین دن ماہواری آتی ہے۔اس کے خاوند نے اسے حیض سے فراغت کے بعد 4 محرم کو طلاق دے دی۔تو احناف کے نزدیک اس کی عدت تین حیض یعنی 3 ربیع الثانی کی شام جب وہ حیض سے فارغ ہوجائےگی تو ا س کی عدت ختم ہوگی۔جبکہ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہونے تک اس کے تین طھر پورے ہوچکے ہوں گے۔یعنی یکم ربیع الثانی صحیح حیض شروع ہونے پر اس کی عدت ختم ہوگی۔

عدت کامقصد:۔ عدت کے ٹھیک  ٹھیک شمار کرنے پر قرآن کریم نے خاصازوردیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔

(عربی)

"اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)(مسلمانوں سے کہہ دوکہ) جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لئے طلاق دو اور اس عدت کی مدت کو گنتے رہو۔"

عدت کا شمار اس لئے اہم ہے کہ اس دوران اس سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ اس کو واضح الفاظ میں منگنی کا پیغام بھی نہیں دیا جاسکتا۔

کوئی عورت عدت کے اندر اندر نکاح کرے تو وہ بالکل باطل ہوگا:۔

عدت کامقصد تحفظ نسب اور میراث کے تنازعات کوختم کرناہے۔عدت کے اندر اندر یہ معلوم ہوجاتاہے کہ حاملہ ہے یا نہیں،اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ جس عورت سے صحبت سے پہلے ہی اسے طلاق ہوجائے اس کی کچھ مدت نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں نہ نسب کے اختلاف کا کوئی امکان ہے نہ وراثت کا تنازعہ کا۔

خاوند کاحق رجوع:۔

عدت کاعرصہ عورت کو اپنے خاوند کے ہاں گزارنے کا حکم ہے۔کیونکہ اس دوران وہ خاوند کی زوجیت میں ہوتی ہے۔اور عدت کے دوران خاوند کسی وقت بھی رجوع کرنے کاحق رکھتا ہے۔اور اس رجوع میں وہ اپنی عورت کی مرضی کا پابند نہیں ہے۔نکاح کے وقت عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔مگررجوع کے لئے عورت کی رضامندی ضروری نہیں ہے ارشاد باری ہے:۔

(عربی)

اے ایمان والو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکےانہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوتو ان عورتوں پرتمہارے لئے کچھ عدت نہیں جسے تم پوری کراؤ۔

اس آیت سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ مطلقہ اوربیوہ عورتوں کا عدت گزارنا در اصل مردوں کے حقوق کی نگہداشت کے لئے ہوتا ہے تاکہ

1۔اگر وہ چاہیں توعدت کے دوران کسی وقت بھی رجوع کرسکیں۔

2۔ان کے نسب میں کسی قسم کے اشتباہ کی گنجائش نہ رہے اور

3۔وراثت کے مسائل میں الجھاؤ پیدا نہ ہو۔

لہذا عدت کے دوران مطلقہ عورت کا سکنی اور نفقہ طلاق دہندہ پر اور وفات کی صورت میں مرد کے لواحقین پر لازم قرار دیاگیا۔

طلاق کی شرائط:۔

اس سلسلہ میں بخاری کی درج ذیل  حدیث ملاحظہ فرمایئے:۔

(عربی)

 عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ انہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمانہ میں اپنی بیوی(آمنہ بنت غفار) کو حالت حیض میں طلاق دےدی۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"عبداللہ کو حکم دو کہ ر جوع کرنے اور حیض سے پاک ہونے تک اپنے پاس رہنے دے پھر اس کو حیض آنے دے پھر جب حیض سے پاک ہوتواب چاہے تو اپنے پاس رکھے اورچاہے تو صحبت سےپہلے اسے طلاق دے دے اور یہی مطلب اللہ کے اس قول کا کہ عورتوں کو ان کی عدت کےلئے طلاق دو۔

اس حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتاہے:۔

1۔حیض کی حالت میں طلاق دینے پر آپ نے رجوع کا حکم فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا خلاف سنت اورحرام ہے۔نیز یہ بھی معلوم ہواکہ اگر چہ حیض کی طلاق دیناخلاف سنت اورحرام ہے تاہم طلاق  واقع ہوجاتی ہے۔ورنہ رجوع کے حکم کاکچھ مطلب نہیں نکلتا۔[1]

 2۔طلاق طہر کی حالت [2]میں اسے دینا چاہیے۔جس میں صحبت نہ کی گئی ہو۔[3]اور بہتر یہی ہے کہ طہر کے ابتداہی میں طلاق دی جائے۔

3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو طلاق کا جو طریقہ بتلایا وہ یہی ہے کہ صرف ایک طلاق ہی دیکر عدت گزرنے دی جائے۔اورساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (عربی) کا یہی مطلب ہے۔

اب فرض کیجئے کہ عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اہلیہ یکم محرم سے تین محرم تک حائضہ رہتی تھی۔اورحضرت عبداللہ نے دو محرم کوطلاق دے دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہلیہ کو اپنے پاس روک رکھیں اور رجوع کریں۔ یہ رجوع 2 محرم سے آخر محرم والے طہر میں ہی ممکن تھا۔اور رجوع کی وجہ سے اس طہر میں طلاق نہیں دی جاسکتی تھے۔اب دوسری طلاق کاموقعہ 4 محرم کو حیض کے بعد اور مقاربت سے پہلے ہی ممکن تھا۔4 صفر کو دی ہوئی رجعی طلاق کی عدت تین قروء گزرنے کے بعد ہی ایک طلاق بائن ہوجاتی ہے۔طلاق کا مسنون طریقہ یہی ہے اور اس طریقے کے دو فائدے ہیں۔پہلا یہ یہ عدت کے آخری وقت تک رجوع کاحق باقی رہتا ہے۔اور دوسرے یہ کہ اگر بعد میں بھی فریقین رضا مند ہوں تو تجدید نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

احناف کےہاں طلاق کی اقسام:۔

احناف کےہاں طلاق کی تین اقسام ہیں۔

1۔احسن۔2۔حسن۔3۔بدعی(ہدایہ اولین ۔کتاب الطلاق ۔باب طلاق السنۃ)

1۔احسن  تو یہ صورت ہے جسے ہم پہلے طلاق کی صحیح اور مسنون صورت کے تحت درج کرچکے ہیں۔یعنی ایک ہی طلاق دے کرعدت گزرجانے دینا۔صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  اس طریق طلاق کو پسندفرماتے تھے۔(ابن ابی شیبۃ بحوالہ تفہیم القرآن ج5ص557۔

2۔حسن۔طلاق حسن یہ ہے کہ ہر طہر میں مقاربت کئے بغیر ایک طلاق دے۔یعنی ایک طہر میں پہلی دوسرے میں دوسری اور تیسرے میں تیسری اور اص  صورت میں :

الف۔رجوع کاحق صرف پہلے دو طھروں میں رہتا ہے۔تیسری طلاق دیتے ہی حق رجوع باقی نہیں رہتا۔حالانکہ عدت ابھی تقریباً ایک ماہ باقی رہتی ہے۔

ب۔آئندہ جب تک عورت کسی د وسرے مرد سے نکاح نہ کرے۔پھر وہ دوسرا خاوند یا  تو مرجائے یا اپنی مرضی سے بغیرکسی سازش یا دباؤ کے طلاق دے دے۔زوجین کے باہمی نکاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔

اس قسم کی طلاق کو عموماً شرعی طریقہ سمجھا جاتاہے۔حتیٰ کہ پیر کرم شاہ صاحب ا زہر نے فرمایا:۔

اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا جو طریقہ بتلایا ہے وہ یہی ہے کہ ایک ایک طلاق ہرطہر میں دی جائے۔(عربی)(مقالات ص229)

ہم حیران ہیں کہ جوطریقہ خود اللہ تعالیٰ بتلائیں وہ تو حسن ہو اور احسن طریق اس کے بجائے کچھ اور ہو۔یہ بات ہماری سمجھ سےباہر ہے۔

مولانا مودودی مرحوم جو غالباً حنفی ہونے کے ناطے سےایک مجلس کی تین طلاق ہی واقع ہونے کے شدت سے قائل نظر آتے ہیں۔انہوں نے  بھی اس طریق طلاق کو یہ تبصرہ فرمایا کہ"اس صورت میں تین طھروں میں تین طلاق دنیا بھی سنت کے خلاف نہیں ہے۔"(تفہیم القرآن ج5 ص557) اور مالکیہ ایسی طلاق کو بدعی گروہ کا نام دیتے ہیں۔(تفہیم لقرآن :ایضاً)

میری معلومات کے مطابق تین طھروں میں تین طلاقیں پوری کرنے کاطریقہ طلاق کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں ہے البتہ ابو داود میں جو حیث رکانہ مذکورہے اس کے آخر میں یہ ذکر ضرور آتاہے کہ حضرت  ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  یہ رائے رکھتے تھے کہ تین طھروں میں طلاقیں دی جائیں۔اس حدیث کے راوی بھی ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہی ہیں جو فرماتے ہیں کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے ڈالیں تو وہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کو بلا کر پوچھا طلاق کیسے دی؟اس نے کہا تینوں طلاقیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا"ایک ہی مجلس میں ؟" اس نے کہا"ہاں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا"تو یہ ایک ہی ہوئی اگر چاہو تو رجوع کرلو"اسی حدیث کے آخر میں ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی یہ رائے مذکور ہے(یہ حدیث آگے تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئے گی)

3۔بدعی طلاق بدعی یہ ہے کہ کوئی شخص (1) بیک وقت تین طلاق دے دے(2) یا ایک طہر کے اندر الگ الگ اوقات میں تین طلاق دے یا(3) حالت حیض میں طلاق دے یا(4) ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وہ مباشرت کرچکا ہو۔ان میں سے جو فعل بھی کرے گا گناہگار ہوگا۔

امام مالک کے ہاں طلاق کی اقسام:۔

امام مالک کے نزدیک طلاق کی تین قسمیں ہیں۔1۔طلاق السنہ 2۔بدعی مکروہ 3۔بدعی حرام۔

1۔جس طریق طلاق کو احناف احسن کا نام دیتے ہیں یا مالکیہ اسی کو طلاق السنۃ کہتے ہیں۔

2۔بدعی مکروہ کی شکلیں یہ ہیں۔(الف) ایسے طہر میں طلاق دینا جس میں مباشرت کرچکا ہو (ب) ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے(ج) عدت کے اندر الگ الگ طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں۔یعنی وہ طلاق جسے احناف حسن کا نام دیتے ہیں۔(د) بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں۔

3۔بدعی حرام یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دی جائے۔

امام احمد بن حنبل ؒ:۔

 کے ہاں طلاق کا صحیح طریقہ وہی ہے جسے احناف احسن اور مالکیہ طلاق السنہ کہتے ہیں۔باقی سب شکلیں بدعت اور حرام  ہیں ان کے ہاں بھی تین طہروں میں تین طلاق دینا بدعت اور حرام ہے۔(تفہیم القرآن ج5 ص558)

امام شافعیؒ

(الف) تین طہر میں تین طلاق (ب)الگ طہر میں تین طلاق۔یا(ج) بیک وقت تین طلاق کسی کو بھی خلاف سنت نہیں سمجھتے ان کے ہاں خاموش کی صورتیں یہ ہیں(د) حیض کی حالت میں طلاق دینا اور(ھ) ایسے میں طلاق دینا جس میں مباشرت کرچکاہو۔

قاری صاحب کے نزدیک طلاق کی  صورت:۔

عدت طلاق کے ان احکام ومسائل کی تفصیل کے بعد اب ہم قاری عبدالحفیظ صاحب سے مخاطب ہوتے ہیں جن کے نزدیک قرآن کی  آیت(عربی) سے طلاق کی قسم ثابت ہوتی ہے۔جس کو احناف کے علاوہ مالکیہ اور حنابلہ بھی بدعی طلاق سمجھتے ہیں۔

(ب) اگر (لفظ مٹا ہوا ہے) کی بجائے ثم ہوتا تو طلاق کی وہ قسم ثابت ہوتی جسے احناف تو حسن کہتے ہیں اور موالک بدعی مکروہ۔

(ج) اور حسن طلاق کاقرآن سے اشارہ تک نہیں ملتا وہ طریقہ وہ ہے جسے احناف تو احسن کہتے ہیں اورباقی ائمہ بھی اسے سنت کے مطابق طلاق سمجھتے ہیں۔

یکبارگی تین طلاق کی کراہت وحرمت کے قرآنی دلائل

اگرچہ یہ بات متنازعہ فیہ نہیں ہے۔کہ یکبارگی تین طلاق دے دینا بدعت،حرام اور کار معصیت ہے۔تاہم اس مسئلہ کو کتاب وسنت سے واضح کرنے کی ضرورت اس لئے پیش  آتی ہے۔کہ ہمارے علمائے احناف بجائے اس کے اس کار معصیت کی حوصلہ شکنی کریں۔یکبارگی تین طلاق کے وقوع کو ثابت کرنے کے شوق میں اس کی بھر پور حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں۔لہذا ہم یہاں ایسے دلائل پیش کریں گے جن سے یہ ثابت ہوکہ اگر ایک سے زیادہ طلاقوں کاموقع بن جائے تو بھی طلاقیں متفرق طور پر ہی دینا چاہیں اوران کےدرمیان وقفہ انتہائی ضروری ہے۔

پہلی دلیل:طلاقوں کے درمیان وقفہ :

(عربی ) کے فوراً بعد (عربی) کے الفاظ اس بات کی بین دلیل ہیں کہ طلاقیں متفرق  طور پر ہوں اور ان کے درمیان وقفہ بھی ضروری ہے۔

مقام حیرت ہے کہ علمائے احناف کو جب شوافع کی مخالفت مقصود ہوتی ہے(جو بیک وقت تین طلاق کوسنت کے خلاف نہیں سمجھتے) تو یہ حضرات تین طلاقوں میں وقفہ  قرآن کی صراحت کے مطابق ضروری ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیتے ہیں اور یکبارگی تین طلاق کو حرام اور کار معصیت قرار دیتے ہیں۔مگر جب ان کے وقوع کامسئلہ سامنے آتاہے۔تو(عربی) کے استعمال کافرق بتلاکر بیک وقت تین طلاق کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے جاتے ہیں۔جن نامور علمائے احناف نے طلاقوں کے درمیان وقفہ کوضروری قرار دیا ہے ان میں سے چند ایک کےنام یہ ہیں۔

1۔ابو بکر ص احکام القرآن(ج1ص380۔زیرآیت  اطلاق مرتان بحوالہ مقامات ص107۔

2۔زمخشری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تفسیر کشاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3۔شیخ محمد تھانوی استاد مولانا اشر ف علی تھانوی حاشیہ نسائی (ج2 ص29) بحوالہ مقالات 87۔108۔

4۔مولاناسندھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مطبع انصاری دہلی) ۔۔۔۔

5۔ابوالبرکات عبداللہ احمد سلفی مدارک (ج2ص177۔۔۔۔۔ص88۔

56۔مولانا عبدالحق صاحب۔۔۔۔مدارک العزیل۔۔۔۔۔۔

7۔علامہ انور صاحب کاشمیری فیض الباری (ج4ص38)

8۔قاضی ثناء اللہ پانی پتی ۔تفسیرمظہری زیر آیت طلاق مرتان

دوسری دلیل:آیت مذکور کاشان نزول:۔

اگر ہم آیت محولہ بالا کے پس منظر یاشان نزول پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے ۔ کہ دور جاہلیت میں طلاق کی تعداد کا کچھ شمار ہی نہ تھا اور ہر طلاق کے بعد مرد کو عدت کے دوران رجوع کاحق حاصل تھا۔اس طرح مردحضرات مظلوم عورت کو خاصا پریشان اور تنگ کرتے رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ذریعے مردوں کے حق رجوع کو دوتک محدود کردیا تاہم بالکل ختم نہیں کیا۔اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ طلاقوں کے درمیان وقفہ ہو شان نزول سے متعلق درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمایئے:۔

(عربی)

عروہ بن زبیر کہتے ہیں پہلے یہ دستور تھا کہ مرد اپنی عورت کو طلاق دیتا۔جب عدت پوری ہونے لگتی رجعت کرلیتا۔وہ ایسا ہی کرتا اگرچہ ہزار مرتبہ طلاق دے ایک شخص نے اپنی عورت کے ساتھ ایسا ہی کیا۔اس کو طلاق دی جب عدت گزرنے لگی رجعت کرلی۔پھر طلاق دے دی  اور کہا"خدا کی قسم! نہ  تو میں تجھے اپنی جگہ دوں گا اور نہ ہی کسی سے  ملنے دوں گا۔تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ طلاق(رجعی صرف) دوبار پھر یا تو پہلے طھر پر اسے اپنے ہاں رکھو یا پھر اسے اچھے طریقے سے رخصت کردو۔اس دن سے لوگوں نے از سر نو طلاق شروع کی۔جنھوں نے طلاق دی تھی انہوں نے بھی اور جنھوں نے نہ دی تھی انہوں نے بھی۔

(عربی)

 حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں۔کہ ایک مرد جتنی بھی طلاقیں چاہتااپنی عورت کو دیئے جاتا اور عدت کے اندر پھر رجوع کرلیتا۔اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے بھی زیادہ طلاقیں دیتا جائے یہاں تک کہ ایک (انصاری) مرد نے اپنی بیوی سے کہا:اللہ کی قسم! میں نہ تو تجھے طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوسکے۔اور نہ ہی تجھے بساؤں گا۔اس عورت نے پوچھا وہ کیسے؟کہنے لگا،میں تجھے طلاق  دوں گا جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا وہ عورت یہ سن کر حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  خاموش رہیں تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے۔حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے  آپ کو یہ ماجرا بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے حتیٰ کہ قرآن نازل ہوا۔طلاق صرف دو بار ہے۔پھر یا تو ان مطلقہ عورتوں کو ٹھیک طور پر اپنے پاس رکھو یا پھر اچھی طرح سے  رخصت کردو۔حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  فرماتی ہیں کہ اس دن سے لوگوں نے نئے سرے سے طلاق شروع کی ،جس نے طلاق دی تھی اس نے بھی اور جس  نے نہ دی تھی اس نے بھی۔

تیسری دلیل:۔

(عربی)

اور مطلقہ عورتیں  تین قروء(حیض یا طہر) تک اپنے تئیں روکے رکھیں۔۔۔اور ان  کے خاوند اگراصلاح چاہیں تو ان کو اپنی زوجت میں رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد بھی اپنے پہلے خاوند سے نئے نکاح کے جواز کی صورت پیش فرمائی ہے۔اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تین طلاقیں اکھٹی نہ دی گئی ہوں یعنی تیسری آخری طلاق سے پہلے ایک یا ددرجعی طلاقوں کے بعد یا پھر اس صورت میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیاگیا ہو۔

چوتھی  دلیل آیت ،3/231)

"اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہونے لگے تو یا تو انہیں بھلائی کے ساتھ اپنے پاس رکھو یا شائستہ طور پر رخصت کردو۔

اس آیت سے بھی ایک مجلسی تین طلاق دینا پھر انہیں تین ہی شمار کرلینا منشائے الٰہی کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔

پانچویں دلیل:۔

(عربی)

"اے نبی !( صلی اللہ علیہ وسلم)(مسلمانوں سے کہہ دو) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے لئے طلاق دو۔۔۔تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد(بہتری یعنی رجوع کی) سبیل پیدا کردے۔

اب دیکھئے اگر عورت کو ایک دفعہ تین طلاق دے کر پھر انہی تین یہ شمار کرلیا جائے۔تو بہتری یا رجوع  کا کوئی موقعہ باقی رہ جاتا ہے۔(عربی) کے الفاظ اس بات کے متقاضی ہیں۔کہ اگر طلاق دی جائے تو رجعی ہی ہونا چاہیے۔عدت کاشمار بھی لحاظ سے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔

چھٹی دلیل:۔

(عربی)

"پھر جب مطلقہ  عورتیں اپنی میعاد(یعنی انقضائے عدت) کو پہنچ جائیں توا نہیں یا تو ٹھیک طرح زوجیت میں رکھو یااچھی طرح سے علیحدہ کرو۔"

مندرجہ بالاتمام آیات سے واضح ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے طلاق کے بعد مرد کے حق رجوع کو بحال رکھا ہے اوردور جاہلیت کےلا محدود حق رجوع کو دوبار تک محدود کردیا ہے۔کتاب وسنت میں کوئی ایسی نص موجود نہیں جو مرد کے اس حق رجوع کوساقط قرار دیتی ہو۔اب سوال یہ ہے کہ اگرکوئی شخص غصے میں آکر یا حماقت کی وجہ سے اکھٹی تین طلاقیں دے بیٹھے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟اس سلسلہ میں ہمیں احادیث سے پوری رہنمائی مل جاتی ہے۔

ایسی احادیث جو ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک واقع ہونے پر نص قطعی ہیں

ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زمانے میں اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت کے ابتدائی دو  سالوں تک ایسا تھا کہ جب کوئی یک بارگی تین طلاق دینا تو وہ  ایک ہی شمار کی جاتی تھی۔پھر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا! لوگوں نے اس کام میں جلدی کرنا شروع کیا جس میں انھیں مہلت ملی تھی۔سو اس کو اگر ہم نافذ کردیں تو مناسب ہے۔پھر انہوں نے جاری کردیا(یعنی قانون نافز کردیا کہ یکبارگی کی تین طلاق فی الواقعہ تین ہی شمار ہوں گی)

ابو الصباء نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے کہا:کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خلافت میں اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی امارت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنادیاجاتاتھا؟تو حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا"ہاں"[4]

 ابو الصباء نے حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے کہا:ایک مسئلہ تو بتایئے؟کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زمانے میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار نہ ہوتی تھیں؟حضرت عبد اللہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا ہاں ایسا ہی تھا۔پھر جب حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا زمانہ آیا تولوگ اکھٹی طلاقیں دینے لگے تو حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے انہیں لوگوں پر نافذ کردیا۔

یہ احادیث اگرچہ تین الگ الگ ہیں مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سےدرج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے:۔

1۔دور نبوی،صدیقی،اورفاروقی کے ابتدائی دو تین سالوں تک اس عرصہ میں بھی لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بری عادت میں مبتلا تھے۔اور یہ عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آرہی تھی۔جو دور  نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ختم نہ ہوئی تھی۔چنانچہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شخص نے یکبارگی تین طلاقیں دی تو آپ غصہ کی وجہ سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا میری زندگی میں ہی کتاب اللہ سے یوں کھیلا جارہاہے؟

2۔لوگوں کی اس بدعادت پر انہیں زجر توبیخ تو کی جاتی تھی۔کیونکہ یہ طریق طلاق کتاب وسنت کے خلاف تھا تاہم ہجری 15 تک عملاً یکبارگی تین طلاق کو ایک ہی قرار  دیا جاتا تھا۔اور لوگوں کو معصیت اور حماقت کے باوجود ان سے بحق ر جوع کو سلب نہیں کیا جاتا تھا۔

3۔حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے یہ(عربی) اس بات پر واضح دلیل ہے۔کہ آپ کا  فیصلہ تعزیر  وتادیب کے لئے تھا۔ تاکہ لوگ اس بری عادت سے باز آجائیں۔اور اس لحاظ سے کہ آپ نے یہ فیصلہ سرکاری اعلان کے ذریعے نافذ کیا تھا۔ا س کی نوعیت سیاسی بن جاتی ہے۔گویا یہ ایک وقتی اور عارضی قسم کاآرڈیننس تھا۔

4۔اگرچہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کوئی شرعی بنیاد موجود ہوتی تو آپ یقینا استنباط کرکے لوگوں کو مطلع فرماتے۔جیسا کہ عراق کی زمینوں کو قومی تحویل میں لیتے وقت آپ نے کیا تھا۔ اور  تمام صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے آپ کے استنباط کو درست تسلیم کرکے اس سے پورا پورا اتفاق  کر لیا تھا۔اگر آپ کسی آیت یا حدیث سے استنباط کرکے لوگوں کو مطلع کرکے یہ فیصلہ نافذ کرتے۔تو پھر واقعی اس فیصلے کی شرعی اور دائمی حیثیت بن سکتی تھی۔

صحیح مسلم کی مندرجہ بالا احادیث کے رجال چونکہ نہایت ثقہ ہیں اس لئے تطلیق ثلاثہ کے قائلین ان احادیث کو ضعیف یا مجروح کہنے کی جرات تو نہ کرسکے۔البتہ ان احادیث  کو اور خصوصاً ا بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  والی پہلی حدیث کو بے اثربنانے اور اس کی افادیت کو ختم کرنے کے لئے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیتے ہیں۔اور بہت سے اعتراضات وارد کیے ہیں۔جنھیں جوابات کا نام دیا جاتا ہے۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ صحیح مسلم کی ایسی معتبر احادیث کی تاویلات ان حضرات کی طرف سے پیش کی گئی ہیں جو اپنے موقف کی حمایت  میں ضعیف اور مجروح روایات(بالخصوص ایسی روایات جو تیسرے اورچوتھی درجہ کی کتابوں میں مذکور ہیں) پیش کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔

ان اعتراضات یا جوابات کی تعداد دس تک جاپہنچی ہے۔ان اعتراضات کو ہم ذیل میں کرکے ان کے جواب بھی لکھیں گے یہ یاد رہے کہ ان اعتراضات یا جوابات میں سے پہلے تین جوابات ہمارے قاری عبدالحفیظ صاحب موصوف نے بھی منہاج میں پیش فرمائے ہیں۔

صحیح مسلم کی ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی حدیث پرواردشدہ اعتراضات 1۔پہلا اعتراض یہ حدیث منسوخ ہے

(منہاج ص309) حیرت ہے کہ حدیث تو منسوخ ہوگئی مگر اس کا دور نبوی میں بھی کسی کو پتہ  نہ چل سکا۔دور صدیقی میں بھی اور دورفاروقی کے ابتدائی دو تین سال تک بھی اور حدیث بھی ایسی جس کا تعلق زندگی کے ایک نہات اہم گوشہ اور حلت وحرمت سے ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسی  آیت یاحدیث اس حدیث کی ناسخ ہے؟ یا کیا یہ حدیث حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فرمان سے منسوخ ہوگئی تھی؟اور دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تو خود فرمارہے ہیں کہ لوگوں نے اس معاملہ میں جلدی کی جس میں ان کےلئے مہلت تھی۔تو کیا کسی منسوخ حکم میں بھی مہلت ہوا کرتی ہے؟نیز حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی کا قول ناسخ کیونکر ہوسکتاہے؟

2۔دوسرا اعتراض یہ حکم غیر دخولہ کا ہے:۔

اس اعتراض کی بنیاد  یہ ہے کہ ابو  داؤد کی دو روایات ہیں اور دونوں ابو الصباء عن ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی سند سے مروی ہے۔دوسری  حدیث کا مضمون بالکل وہی ہے جیسا کہ ہم نے صحیح مسلم کی حدیث نمبر دو اوپر درج کی ہے۔یعنی تین طلاقوں  کو  ایک شمار کرنے کا حکم ہر طرح کی (لفظ مٹا ہوا ہے)کے لئے تھا۔ جبکہ ابو داود کی پہلی حدیث میں یہ صراحت ہے کہ غیر مدخول بہا عورت کی تین طلاقوں کو ایک بنایا جاتا تھا۔

اب دیکھئے تین احادیث مسلم میں ایک حدیث نسائی8 میں اور ایک ابو داود میں ۔ان پانچ احادیث میں علی الاطلاق یہ ذکرہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک بنادیا جاتا تھا۔اب  اگر ابو داود والی اس حدیث کو صحیح بھی تسلیم کرلیاجائے تو ایک عام حکم کو  خاص کےتحت کیسے لایا جاسکتاہے؟مزید برآں یہ روایت ویسے بھی ضعیف ہے۔امام نووی  شارح صحیح مسلم نے اس حدیث کو ضعیف  قرار دیا ہے۔کیونکہ طاؤس سے روایت کرنے والے مجہول لوگ ہیں۔(نووی شرح مسلم ص478)

3۔تیسرا  اعتراض اس حدیث میں کوئی حکم نہیں۔بلکہ یہ محض اطلاع اور خبر ہے۔

اور وہ اطلاع یا خبر یہ ہے کہ دور فاروقی تک لوگ صرف ایک ہی طلاق پراکتفاء کرتے تھے۔اور اکھٹی تین طلاقیں دینے سے پرہیز کیاکرتے تھے۔(منہاج ص ایضاً)

 یہ  تو جیسا دیکھ کر یہ مصرعہ فوراً یا دآگیا کہ:

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

یہ اعتراض یا تاویل یا جواب در اصل تاویل وتعبیر نہیں بلکہ صحیح معنوں میں تحریف ہے۔جس میں حقیقت کو یکسر الٹا کر یہ توجیہ پیش کی گئ ہے۔حدیث کے مطابق تو واقعہ یہ ہے کہ ابو الصباء حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو معلوم ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صدیقی۔فاروقی  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے ابتدائی دو سالوں تک ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک بنادیا جاتا تھا؟تو اس سوال کاجواب عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اثبات میں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہاں میں جانتا ہوں" اب سوال یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں دی ہی نہیں جاتی تھیں تو ایک کس چیز کو بنایا جاتا تھا؟(قاری صاحب محترم کے پیش کردہ تین جوابات ختم ہوئے۔اب مزید"جوابات" کی تفصیل دیکھئے):۔

4۔چوتھا اعتراض۔تین طلاق کہنے سے مراد محض ایک کی تاکید تھی:۔

 کہا یہ جاتاہے کہ یہ حدیث الفاظ کی تکرار کے سلسلہ میں ہے۔جیسے کوئی یوں کہے (عربی) تو صدر  ا ول میں دلوں کی سلامتی کے باعث لوگوں کا یہ عذر قبول کرلیا جاتاتھا۔کہ ان کا ارادہ تو صرف  حقیقتاً ایک طلاق کا تھا۔تین بار الفاظ محض تاکید کے لئے کئے گئے تھے۔مگر بعد کے دور  میں فریب دہی زیادہ ہوگئی جس کے باعث تاکید کا دعویٰ قبول کرنا ممکن نہ رہا۔لہذا حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ظاہری الفاظ اور تکرار کو کو ہی اصل بنیاد قرار دے کر تین طلاقوں کو نافذ کردیا۔(فتح الباری) قاری صاحب موصوف نے بھی اس"جواب " کو رسالہ مذکور کے ص307 پر ایک دوسرے عنوان کے ت تحت پیش کیا ہے اور مولانا مودودی بھی اس تاویل کو پسند فرماتے ہیں۔(تفہیم القرآن ایضاً)

یہ جواب اس لئے ہے کہ شرعی فیصلے تو ہمیشہ ظاہر پر ہوا کرتے ہیں۔دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہی دستور تھا۔خلفاء راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دور میں یہی دستور تھا اور آج کی عدالتوں میں بھی یہی دستور ہے۔باطن یا نیت کے مطابق فیصلے کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔بندوں  کانہیں۔اگر حضرت  عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ظاہر پر فیصلہ کا مدار  رکھا  تو یہ اصولاً کوئی نیا کام نہیں تھا۔حالانکہ وہ  خود اعتراف  فرمارہے ہیں۔کہ انہوں نے کچھ نیا کام کیا تھا۔جو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دور صدیقی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے برعکس تھا۔اور حقیقت یہ ہے کہ تین طلاقوں کو ایک بنانے کا حکم مستقل قائم بالذات تھا۔بالعموم ایسے معاملات میں لوگوں کی نیتوں کو ٹٹولا نہیں جاتا تھا۔

پانچواں اعتراض یہ حدیث غیر مشہور ہے:۔

کہا جاتا ہے کہ معاملہ اس قدر اہم ہو اور روایت صرف اکیلے ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہی کریں یہ بات قابل  تعجب ہے۔یہ اعتراض ابن رشد قرطبی نے اٹھایا پھر خود ہی یہ کہہ کر اس کی تردید کردی کہ محض اس وجہ سے کسی حکم کوجھٹلایا نہیں جاسکتا۔

امام محمد بن اسماعیل یمنی صنعانی شارع بلوغ المرام نے اپنی  تالیف سبل اسلام (ج2 ص114) پراس اعتراض کا یہ جوابدیا کہ"کتنے ہی ایسے مسائل ہیں جو  صرف ایک راوی کے باجود قبول کرلئے گئے ہیں۔تو پھر  ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت کو جو مبرالامہ ہیں،کیوں قبول نہیں کیاجاسکتا؟

چھٹا اعتراض حدیث موقوف ہے:۔

کہا یہ جاتا ہے کہ اس حدیث میں کہیں یہ تصریح نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کا علم تھا کہ مسلمان لوگ تین طلاقوں کو ایک بنار ہے ہیں۔دلیل تو تب بن سکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہ روکتے۔

ا س  اعتراض کاجواب حافظ ا بن حجرؒ عسقلانی نے یہ دیا ہے کہ"صحابی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جب یہ کہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسا کرتے تھے۔تو یہ مرفوع کاحکم رکھتا ہے۔اور ایسے معاملات کو اس بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے معاملات کا خوایہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے ،علم ہوتا تھا اور آپ نے انہیں برقرار  رکھا۔"

علاوہ ازیں معترضین کے اعتراض کی رو سے صورتحال یوں بنتی ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمان ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک بنا کر اسے رجعی قرار دے لیا کرتے تھے۔حالانکہ حقیقتاً وہ تین ہی پڑ جاتی تھیں۔اور عورت فی الواقعہ طلاق دینے والے پرحرام ہوجاتی تھی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات نہ آئی تھی نہ لائی گئی تھی۔اس طرح آپ کی زندگی ہی میں نعوذباللہ زنا ہوتا رہا اور اللہ تعالیٰ بھی خاموش دیکھتا رہا اور اس کا رسول بھی؟

ساتواں اعتراض ۔راوی کافتویٰ روایت کےخلاف ہے۔

کہا جاتاہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا عمل اور فتویٰ اس  کے خلاف ہے۔خصوصاً حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بھی جو اس حدیث کے راوی ہیں۔

اس اعتراض کے ددجواب ہیں:۔

الف۔اصول فقہ کا  مسلمہ قاعدہ ہے کہ:۔

(عربی ) یعنی راوی کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا۔نہ کے اس کی رائے کا۔اور اس قاعدہ کی بنیا د یہ ہے کہ(عربی)

ب۔تمام صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کاعمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔بعض صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہی واقع ہونے کے قائل رہے۔بعض صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  حالات کا لحاظ رکھ کر دونوں طرح کے فتوے دیاکرتے تھے۔حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  انہی میں سے تھے۔(تفصیل آگے آرہی ہے) آپ کا فتویٰ جو ابو داود میں مذکور ہے وہ یہی ہے کہ آپ یکبارگی تین طلا ق کو ایک ہی تصور فرماتے تھے۔فتویٰ کی عبارت یوں ہے:۔

(عربی)

"جب کسی نے (اپنی بیوی سے) ایک ہی وقت میں تین طلاق کہا ۔تو یہ ایک(ابو داود کتاب الطلاق۔باب نسخ المراجعہ) ہی ہوگی۔

آٹھواں اعتراض یہ حدیث بخاری میں کیوں مذکور نہیں؟

کہا یہ جاتاہے کہ اگر یہ حدیث فی الواقعہ قابل اعتماد ہوتی تو ا مام بخاری  ؒ بھی اسے اپنی صحیح بخاری میں درج فرماتے۔

جواب۔الف۔امام بخاریؒ نےیہ کہیں نہیں فرمایا کہ انہو ں نے تمام صحیح احادیث کواپنی کتاب میں درج کردیا ہے۔لہذا یہ اعتراض تو محض ڈوبتے کوتنکے کا سہارا والی بات ہے۔

ب۔امت مسلمہ نے بخاری ؒ ومسلمؒ دونوں کتابوں کو صحیح تسلیم کرلیاہے۔اسی لئے انھیں صحیحین کانام دیا گیا ہے(لہذا اس کی حیثیت اعتراض برائے اعتراض سے بڑھ کرکچھ نہیں۔)

ج۔اگر معترض حضرات کے نزدیک مسلم۔بخاری کے درجہ میں کمتر کتاب ہے تو کیا اس مسئلہ کی طرح آ پ دیگر مفردات مسلم کو بھی ایسے اعتراض کا نشانہ بنانے کے لئے تیار ہیں؟

9۔سنت کی مخالفت اورحضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔

اعتراض یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو درست تسلیم کرلیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے سنت کی مخالفت کی۔

جواب:۔اگر  آپ کے اس  فیصلے کو شرعی اور دائمی کی بجائے تعزیری اور عارضی تسلیم کرلیاجائے تو یہ اعتراض از خود ختم ہوجاتا ہے۔اورحقیقت ہے بھی یہی۔اور یہ مشکل تو ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے اماموں کے قیاس کو درست قرار دینے کی خاطر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلے کو شرعی اوردائمی ثابت کرنے پرادھار کھائے بیٹھے ہیں۔

خلیفہ وقت کو مصالح امت کی خاطر شریعت کی رعایتوں کو سلب کرنے یا از خود کوئی تعزیر تجویز کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔جن ک تحت وہ  تعزیری یاعارضی قسم کے قوانین نافذ کرسکتے ہیں۔انہی اختیارات کو بروئے کار لا کر آپ نے نہ صرف یہ کہ یکبارگی تین طلاق کے نفاذ کا قانون نافذ کیا بلکہ ایسے طلاق دہندہ کو آپ سزا بھی دیتے تھے۔انہی اختیارات کی رو سے آپ شراب کی دکانوں اور شرب کشید کرنے والی بھٹیوں کو آگ  بھی لگادیا کرتے تھے۔

10۔دسواں اعتراض اجماع امت؟

یہ دراصل اعتراض یاجواب یا تاویل وتعبیر نہیں بلکہ ایک اپیل ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فیصلہ کے بعد اس پر امت کا اجماع ہوگیا تھا۔لہذا اب کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کے خلاف عمل کرے۔

جواب۔اس مزعومہ اجماع کی حقیقت۔۔۔جس کا ہمارے قاری عبدالحفیظ صاحب نے بھی ذکر فرمایا ہے۔۔۔ہم آگے چل کر نہایت ہی  تفصیل سے پیش کررہے ہیں۔

4۔حدیث رکانہ(مسنداحمد) اور اس پر اعتراضات۔

مخالفین تطلیق ثلاثہ کی طرف سے مسلم کی تین احادیث کے بعد چوتھی حدیث"حدیث رکانہ" پیش کیجاتی ہے۔جس کے متعلق امام احمد فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد صحیح ہے:۔

(عربی)

"عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔کہ رکانہ بن عبدیزید بنومطلب کے بھائی نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں۔پھر اس کی جدائی کا بہت غم ہوا۔رکانہ سے رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:تم نے طلاق کیسے دی تھی؟رکانہ نے کہا۔"میں تو تین طلاق  دے چکا ہوں۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں؟رکانہ نے کہا"ہاں ایک ہی مجلس میں"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(تو یہ ایک ہی ہوئی ۔اگر چاہو تو رجوع کرلو۔"ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں کہ پھر  رکانہ نے رجوع کرلیا۔اس حدیث کی روشنی میں ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طلاق کے متعلق یہ رائے تھی کہ تین طلاق ایک ساتھ نہیں بلکہ ہر طہر میں الگ الگ ہونی چاہیے۔

احادیث مسلم کی طرح اس حدیث پرکئی اعتراضات کئے گئے ہیں ۔جن میں چار قابل ذکر اعتراضات درج ذیل ہیں:۔

پہلا اعتراض:۔

اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق اور ان کے استاد کے متعلق علمائے جرح وتعدیل کا اختلاف ہے لہذا یہ حدیث حجت نہیں بن سکتی۔

جواب۔ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ اسی سند سے کئی احکام میں احتجاج کیاگیا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیٹی زینب کو اپنے پہلے نکاح کی بناء پرچھ سال بعد اس کے خاوند ابو العاص بن ربیع کے ایمان لانے پر اسے لوٹانا(یہ حدیث ترمذی میں مذکور ہے باب (عربی) تو جب دوسرے مسائل میں اسی سندسے احتجاج کیا جاسکتاہے۔تو آخر اس مسئلے میں کیوں نہیں کیاجاسکتا؟

دوسرا اعتراض:۔

یہ حدیث ابو داود میں بھی مذکور ہے۔اس میں تین طلاق کی بجائے"طلاق البتہ" کے الفاظ ہیں۔ممکن ہے راوی نے طلاق البتہ سے تین طلاقیں سمجھ لی ہوں اور اپنی سمجھ کے مطابق بیا ن کردیا ہو۔

جواب:۔ابو داود میں اس سے ملتے جلتے ایک کے بجائے دو واقعات مذکور ہیں۔اب چونکہ ان تینوں احادیث میں لفظ رکانہ موجود ہے۔لہذا خوامخواہ خلط مبحث س اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ابو داود میں جو دو احادیث ہیں وہ بھی الگ الگ واقع ہیں جودرج ذیل ہیں۔

1۔راوی نافع بن عجیر۔۔۔رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی۔

2۔راوی ابن جریج۔۔۔ابورکانہ نے ام رکانہ کو تین طلاقیں دیں۔

ابو داود پہلی روایت کو بہتر قرار دیتے ہیں۔لیکن ابن حجر عسقلانی ؒ کی تحقیق کے مطابق یہ دونوں ہی ضعیف ہیں فرق صرف یہ ہے کہ پہلی ضعیف ہے اور دوسری ضعیف تر۔

رہی مسند احمد میں مندرج حدیث رکانہ تو وہ اسناد کے لحاظ سے ان دونوں سے بہت قومی ہے اور اس کی سند بھی بالکل الگ ہے۔

تیسرا اعتراض:۔

اس حدیث کے راوی عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہیں۔جن کا فتویٰ اس حدیث کے خلاف ہے۔اس اعتراض کا جواب پہلے دیاجاچکا ہے۔مختصراً یہ کہ راوی کی روایت کا اعتبار کیا جائےگا نہ کہ اس کے فتوے کا۔

چوتھا اعتراض:

یہ مذہب شاذ ہے۔ اس لئے اس پر عمل نہ ہوگا۔دوسرے الفاظ میں یہ اعتراض یوں ہے کہ یہ مذہب جمہور کے مذہب  کے خلاف ہے جس پر اتفاق ہے اس شاذ مذہب یا جمہور کے اجتماع اتفاق پر تو  ہم آگے چل کر تفصیل سے بحث کرہی رہے ہیں۔

تطلیق ثلاثہ کے ثبوت میں قاری صاحب کی پیش کردہ دو احادیث پہلی حدیث لعان کے بعد کی طلاقیں

(عربی)

حضرت عویمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کی تین طلاقیں دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ کردیا(اس حدیث میں (عربی) اور (عربی) کے الفاظ قابل  غور ہیں۔"(منہاج مذکورہ ص304)

یہ روایت نقل کرنے کے بعد  قاری عبدالحفیظ صاحب فرماتے ہیں کہ" اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔لیکن عیاض بن عبداللہ انصری پر بعض حضرات نے ضعف کاحکم لگایا ہے۔

۔۔۔بعد ازاں قاری صاحب اس روایت کے رواۃ کو ثقہ تسلیم کرانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اور تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے۔کہ امام خطابی کی تصریح کے مطابق ابو داود کی کتاب موضوع وغیرہ سے بالکل خالی ہے۔اور ان جملہ قسموں(موضوع۔مجہول۔ضعیف) سے مبرا ہے"

(عمدہ لاثاث فی حکم اللطلقات الثلاث ص19)(منہاج ص305)

اب دیکھئے اگر قاری صاحب موصوف یا خطابی صاف کی سنن ابی داؤد کے متعلق یہ بات درست تسلیم کرلی جائے تو درج ذیل سوالوں کا کیا جواب ہوگا:۔

1۔صحت کے لحاظ سے ابوداؤد کو  د وسرے درجہ کی کتابوں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے؟

2۔عویمر  عجلانی  کا واقعہ بلامبالغہ صحیحین میں بیسیوں مقامات میں مذکور ہے۔لیکن (عربی) کا لفظ جس پر قاری صاحب کی دلیل کا سارا دارومدار ہے ۔آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

3۔اگر ابوداؤد اتنی صحیح کتاب ہے تو پھر آپ کو ابوداؤد کی یہ حدیث بھی تسلیم کرلینی چاہیے جس میں مذکور ہے کہ ابورکانہ نے ام رکانہ کو تین طلاقیں دیں۔اور نئی بیوی سے نکاح کرلیا۔ام رکانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رکانہ کو بلا کرکہا ام رکانہ سے رجوع کرلو۔"ابو رکانہ نے کہا میں تو تین طلاق دے چکا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "میں جانتا ہوں۔رجوع کرلو۔"(ابوداود کتاب الطلاق۔باب نسخ المراجعہ۔۔۔)

اگر قاری صاحب ابوداود کی یہ حدیث بھی ضعیف مجہول اور موضوع سے پاک تسلیم فرمالیں تو سارا جھگڑا ہی ختم ہوجاتاہے۔کیونکہ یہ حدیث بھی یکبارگی تین طلاق کےایک واقع ہونے میں نص قطعی کادرجہ رکھتی ہے۔

4۔اگر فی الواقعہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکبارگی تین طلاقوں کونافذ کردیا تھا تو اتنی مدت بعد حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کیا چیز نافذ کی تھی؟جس کے متعلق وہ خود فرمارہے ہیں۔کہ(عربی)

امام ابن تیمیہؒ کا فتویٰ:۔

اس قسم کی حدیثوں کے متعلق امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:۔

(عربی)

کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسناد کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ نقل نہیں کیا ہے۔کہ کسی شخص نے بیک کلمہ تین طلاقیں دی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان طلاقوں کو لازم کردیاہو۔ بلکہ اس سلسلہ میں جو حدیثیں بھی مروی ہیں۔وہ باتفاق اہل علم جھوٹی ہیں۔ہاں احادیث صحیحہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ فلاں شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے متفرق طور پر تین طلاقیں دی تھی۔(فتاویٰ ابن تیمیہؒ ج ص88 بحوالہ مقالات ص313)

دوسری حدیث لعان کے بعد کی طلاقیں:۔

قاری صاحب موصوف نے جو دوسری حدیث پیش فرمائی وہ بھی عویمر عجلانی کے لعان والے واقعہ سے متعلق ہے حدیث کے آخری الفاظ یوں ہیں۔

(عربی)

حضرت عویمر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کرنے کے بعد آپ کے فیصلہ کرنے سے قبل یہ کہا کہ اگر میں اس عورت کو اپنے پاس رکھوں توگویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا تھا۔لہذا عویمر نے فوراً آپ کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔(منہاج ص305)

دیکھئے میاں بیوی کے درمیان جدائی کی پانچ اقسام ہیں:

1۔ایلاء۔2۔ظہار۔3۔طلاق۔4۔خلع اور ۔5۔لعان۔ان سب سے میں سے سخت اور شدید تر قسم لعان ہے۔لہذا جدائی کی یہ قسم مرد کے ایک  یا تین طلاقیں دینے کی قطعاً محتاج نہیں۔اورحضرت عویمر عجلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے تین طلاق کے الفاظ کہہ کرمحض اپنے دل کی حسرت مٹائی  تھی کیونکہ لعان سے جو دائمی جدائی ہوتی ہے وہ طلاق مغلطہ سے بھی شدید تر ہوتی ہے۔(بخاری کتاب الطلاق ۔باب التغریق بینالمتلاعنین) اس بات میں تو اختلاف کیا جاسکتا ہے۔کہ یہ جدائی لعان کے فورا ًبعد از خود ہی مؤثر ہوتی ہے یا قاضی کے فیصلہ کی بھی محتاج ہےجیسا کہ لعان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عویمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا تھا۔کہ (عربی) (اب تمہارا اس عورت سے کوئی سروکار نہیں) لیکن اس بات میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں کہ اس موقعہ پرمرد کا طلاقیں دینا ایک عبث اورزائد از ضرورت فعل ہے۔۔۔دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں  عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے علاوہ لعان کا ایک اور واقعہ بھی ہوا تھا۔ہلال بن امیہ اور ا س کی بیو ی نے آکر آپ کے سامنے لعان کیا اورقسمیں کھائیں ہلال بن امیہ کے طلاق یاطلاقیں دینے کے بغیر ہی مکمل جدائی ہوگئی(بخاری کتاب الطلاق۔باب (عربی))

لعان۔جدائی کی شدید ترقسم

اب ہم یہ وضاحت کریں گے کہ لعان کن کن امور میں طلاق سے شدید تر ہوتا ہے:۔

1۔احسن طلاق یا طلاق سنہ(صرف ایک طلاق دے کر پوری عدت گزرجانے دینا) کے بعد زوجین آپس میں تجدید نکاح کےذریعہ پھر اکھٹے ہوسکتے ہیں۔اورتین طلاق یاطلاق کے مغلطہ کے بعد(عربی) کی شرط ٹھیک طور پر پوری ہونے پر سابقہ زوجین پھر نکاح کرسکتے ہیں۔مگر لعان کےذریعے جدائی اتنی سخت ہوتی ہے کہ بعد میں ان کے اکھٹے ہونے  کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔(موطاامام مالک کتاب الطلاق۔باب جامع الطلاق)

2۔طلاق کے بعد عورت متعہ کی حقدار ہوتی ہے۔لیکن لعان کی صورت میں اسے متعہ 2 نہیں ملےگا۔(بخاری ۔کتاب الطلاق۔باب المتعہ انتھی)

3۔طلاق کے بعد نومولود (اگر کوئی ہو تو) کا نسب باپ سے چلتاہے)

لعان کی صورت میں یہ نسب ماں کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔(بخاری کتاب الطلاق۔باب (عربی)۔۔۔)

4۔طلاق کی صورت میں نومولود(اگر کوئی ہوتو)والد کا وارث ہوتا ہے۔لیکن لعان کی صورت میں بچہ ماں کا وارث،ماں بچے کی وارث ہوتی ہے۔ماں کے خاوند سے نومولود کا یا اس کی ماں کا کسی قسم کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔(بخاری ۔کتاب الطلاق باب (عربی)۔۔۔)

انہی وجوہ کی بناء پر علمائے احناف نے بھی حضرت عویمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تین طلاق کہنے سے تطلیق ثلاثہ کے جواز پر احتجاج نہیں کیا۔

اب رہا یہ سوال کہ اگر حضرت عویمر عجلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ فعل عبث تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش کیوں رہے؟اس کے دو عدد جوابات ممتاز حنفی عالم شمس الائمہ سرخسی کی زبانی سنئے جو انہوں نے اپنی تالیف"مبسوط" میں بیان فرمائے ہیں۔

الف۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عویمر عجلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو ٹوکانہیں تو یہ بات شفقت کی بناء پر تھی۔کیونکہ یہ ممکن تھا کہ شدت غضب کی بناء پر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول نہ کرپاتے اور کافر  ہوجاتے۔اسلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے وقت کے لئے ٹوکنے کو مؤخر کردیا۔اور  اتنا اسی وقت فرمادیا کہ (عربی) یعنی تجھے اب اس عورت پر کچھ اختیار نہیں رہا۔"

ب۔"یا یہ بات ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا اس لئے مکروہ ہے کہ تلافی کا دروزہ بلا ضرورت بند ہوتاہے۔اورحضرت عویمر عجلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے معاملہ میں یہ بات موجود نہیں۔کیونکہ لعان کرنے والے جب لعان پرمصر ہوں تو تلافی کا دروازہ یو ں بند ہوتا ہے۔کہ پھر کبھی کھل نہیں سکتا اور عویمرعجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس بات پرمصر تھے۔"(مقالات ص147)

مجوزین تطلیق ثلاثہ کے مزید دلائل:۔

جہاں تک قاری  صاحب کی پیش کردہ دو احادیث کا تعلق تھا تو ان کا جواب ہوچکا اب ہم یہ چاہتے ہیں۔کہ ان تمام احادیث کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔جو تطلیق ثلاثہ کے واقع ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔تاکہ مسئلہ زیر بحث کے سب پہلو سامنے آجائیں۔

تیسری حدیث:۔

فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ

(عربی)

مجھے میرے شوہر نے طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے(میرے شوہر کے ذمہ) نہ رہائش رکھی اور نہ نفقہ۔

اس حدیث سے استدلال یوں کیا جاتا ہے کہ اگر تین طلاق ایک ہی رجعی طلاق شمار ہوتی تو یقیناً سکنی اور نفقہ شوہر کے ذمہ ہوتا۔شوہر کے سکنی اور نفقہ سے سبکدوش ہونے کی ممکن صورت ہی یہ ہے کہ تین طلاقوں کو  تین ہی(یعنی( الفاظ مٹا ہوا ہے)قرار دیا جائے۔

جواب۔الف۔یہ استدلال اس لئے مبہم ہے کہ ثلاثاً کے لفظ سے قطعاً"یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ تین طلاقیں متفرق اوقات میں دی گئی تھیں یاایک ہی مجلس میں؟

ب۔مزید برآں مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ یہ تیسری اور آخری طلاق تھی۔جو فاطمہ بنت قیس کے شوہر عمرو بن حفص نے دی تھی۔اس  روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں۔(عربی)(مسلم ۔کتاب الطلاق۔باب المطلقہ البائن لانفقہ لھا) یعنی عمرو بن حفص نے آخری تیسری طلاق دی تھی(ج) اور مسلم ہی کی ایک اور روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں:،

(عربی)

"یعنی عمرو بن حضص نے فاطمہ بنت قیس کو وہ طلاق بھیجی جو ابھی باقی تھی(یعنی تیسری یاآخری)

ان وجوہ کی بناء پر اس واقعہ سے استدلال قطعاً درست نہیں۔

چوتھی حدیث"رفاعہ قرظی کا قصہ"

رفاعہ قرظی سے متعلق ہے رفاعہ کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی کہ  رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ دی۔اور میں نے  عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کیا۔مگر وہ تو کچھ بھی نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو۔یہ ناممکن ہے تا آنکہ تم دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لو۔"(بخاری کتاب الطلاق۔باب من اجاز الطلاق الثلاث)

اس حدیث سے لفظ بتہ سے اکھٹی تین طلاق کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے حالانکہ یہ استدلال بھی مبہم ہے کیونکہ بتہ اور آخری یاتیسری طلاق سب کا مفہوم ایک ہے۔تو جس طرح حدیث  سابق میں تیسری کا لفظ مبہم تھا۔ بعینہ اسی طرح یہاں بھی مبہم ہے۔مزید برآں اس کی تفصیل بخاری ہی میں کتاب الادب میں موجود  ہے جو یہ ہے کہ:

(عربی)

وہ ر فاعہ کی بیوی تھی رفاعہ نے اسے آخری تیسری طلاق بھی دے دی۔تو اس کے بعد اس سے عبدالرحمٰن بن زبیر نے نکاح کرلیا۔(بخاری:کتاب الادب)

پانچویں حدیث حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا طلاق دینا:۔

حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دینے سے متعلق ہے۔مرفوع احادیث میں تو اتنا ہی مذکور ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طلاق کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو رجوع کا حکم دیا۔اور طلاق دینے کاصحیح طریقہ بتلایا۔

قائلین  تطلیق ثلاثہ کا احتجاج اس واقعہ سے متعلق نہیں بلکہ حضرت عبداللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس  فتوے سے متعلق ہے۔جو انہوں نے کسی سائل کےجواب میں دیا۔اور وہ بخاری ؒ میں یوں مذکور ہے۔"اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو بار طلاق دی ہے تو یہ وہ صورت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رجعت کا  حکم دیا اوراگر تم نے تین طلاقیں دے دیں تو تم پر بیوی حرام ہوگئی۔جب تک وہ کسی دوسرے آدمی سے نکاح نہ کرلے۔اور تم نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے سلسلے میں نافرمانی کی۔"

جواب:یہ اثر بھی مبہم ہے۔کیونکہ (عربی) سے مراد تین دفعہ کی طلاق ہی ہو سکتی ہے اور اللہ کی نافرمانی کا تعلق حالت حیض میں طلاق دینے سے ہے کیونکہ ان کا اپنا واقعہ  معصیت حالت حیض میں طلاق دینے سے تعلق ر کھتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کےفتویٰ کی مزید وضاحت مصنف ابن ابی شیبہ ۔دار قطنی اور طبرانی میں جیسے مرقوم ہے۔اس نے آپ کے اس ا ثر  کو مرفوع حدیث کادرجہ عطا کردیاہے اس کے الفاظ یہ ہیں:۔

(عربی)

(ابن عمر کہتے ہیں) میں نے کہا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر میں تین طلاقیں دیتا تو کیا میرے لئے رجوع حلال ہوتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!"نہیں۔وہ تجھ سے جداہوجاتی اور(تیرا ایک ہی دفعہ طلاق دینا) گناہ کا کام ہوتا۔

یہ ا ثر  اگر صحیح ثابت ہوجاتا تو  قطع نزاع کے کام آسکتاتھا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ یہ اثر  انتہائی مجروح ہے۔کیونکہ یہ حدیث درج کرنے کے بعد اما م بہیقی ؒ نے خود لکھا ہے کہ اس ٹکڑے کا راوی شعیب ہے جس میں محدثین نے کلام کیا ہے۔دوسرا ر اوی رزیق ہے جو ضعیف ہے۔تیسرا عطا خراسانی ہے جسے امام بخاری ؒ نے شیعہ اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے سعید بن مسیب اسے جھوٹا بتلاتے ہیں۔

اب اس اثر کےبالکل برعکس ایک روایت تفسیر قرطبی میں یوں ہے کہ:۔

"عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں  تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجو ع کرنے کا حکم دیا۔اور یہ تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوئی ۔"(تفسیر قرطبیؒ ج3ص129 بحوالہ مقالات ص144)

چھٹی حدیث"میری موجودگی میں کتاب اللہ سے مذاق"؟

نسائی کی وہ حدیث ہے جس کا میں نے اپنی طرف سے اجمالی طو ر پر مفہوم بیان کیا تھا۔حدیث کامتن یا اس کا ترجمہ یا حوالہ کچھ بھی درج نہیں کیا گیا۔اور وہ اجمالی ذکر یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ایک شخص نے ا پنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں تو  آپ غصہ کی وجہ سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا"میری موجودگی میں کتاب اللہ سے کھیلا جارہا ہے"اس کے بعد میں نے لکھاتھا"تاہم آپ نے ایک ہی طلاق شمار کی۔"

قاری  صاحب موصوف نے تعاقب کرتے ہوئے اس فقرہ کے متعلق فرمایا ہے کہ"کیلانی صاحب نے یہ جملہ اپنی طرف سے بڑھایا ہے اس لئے کہ حدیث میں ایسے کوئی الفاظ نہیں جن سے معلوم ہوا کہ آپ  نے ان کو ایک ہی شمار کیا۔"منہاج ص312)

 مجھے یہ تسلیم ہے کہ فی الواقع نسائی والی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔مگر قاری صاحب کااعتراض اس صورت میں درست ہوتااگر میں نسائی کی حدیث درج کرکے ترجمہ میں یہ اضافہ کردیتا یا صرف ایسا اضافہ شدہ ترجمہ ہی لکھ کر نسائی کا حوالہ درج کردیتا جبکہ تنازعہ فقرہ نسائی کی حدیث میں اضافہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد درج ذیل امور ہیں:۔

1۔مسلم کی تین احادیث کے مطابق دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اکھٹی دی گئی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔

2۔نسائی ہی کی روایت کے مطابق آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اکھٹی تین طلاق دینے پر اس قدر برافروختہ ہوئے کہ شدت غضب سے اٹھ کھڑے ہوگئے اور فرمایا(میری موجودگی میں ہی کتاب اللہ سے یوں کھیلاجارہا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھ کر ایک صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اذن چاہتا ہے کہ "یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس شخص کو قتل نہ کردوں۔"

ان حالات میں یہ عقل باور نہیں کرتی کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ان تین طلاقوں کو تین ہی  رہنے دیا ہو۔اس کے برعکس جناب قاری صاحب فرماتے ہیں کہ:

"آپ نے اس ناراضگی کے باوجود ان تین طلاقوں کو اس  پر نافذ کردیاتھا۔چنانچہ محمود بن لبید کی اسی روایت کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن قیم ؒ لکھتے ہیں کہ:

(عربی)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقوں کو رد نہیں کیا۔بلکہ ان کو نافذ کردیا۔اور جیسا کہ عویمر عجلانی کی لعان والی حدیث میں ہے کہ آپ نے اس کی تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا اور ر د نہیں کیا تھا۔"(منہاج مذکور ص312)

امام ابن قیم کے حوالہ سے درج کردہ قاری عبدالحفیظ صاحب کی یہ روایت کئی وجوہ کی بنا پر محل نظر ہے ۔مثلاً

1۔آپ نے عمدۃ الاثات کاحوالہ مکمل درج نہیں فرمایا کہ اس کی طرف رجوع کیاجاسکے۔

2۔حافظ ابن قیم ان اساطین میں سے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک قرار دینے والے گروہ کے علمبردار ہیں۔ان سے ایسی تحریر کی توقع محال ہے۔

3۔عویمر عجلانی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تین طلاق کے نفاذ والی روایت بجائے وہ خود ضعیف ہے جسے بنیاد بنایاجارہا ہے اس لحاظ سے یہ بنائے فاسد علی الفاسد والی بات ہے۔

4۔تطلیق ثلاثہ کے قائلین اور مخالفین سب  اس بات پرمتفق ہیں کہ عویمر عجلانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور اس کی بیوی کی  تفریق طلاق کی بناء پرنہیں بلکہ لعان کی بنا پر ہوئی تھی۔(اور یہ بحث پہلے گزر چکی ہے) لعان کے بعد جیسے حضرت عویمر عجلانی کاتین طلاقیں دیناعبث فعل تھا۔اس طرح ان تین طلاقوں کے نفاذ یا عدم نفاذ کی بحث کرنا بھی ایک عبث فعل  ہے۔جس چیز کے نفاذ یا عدم نفاذ کا کچھ اثر ہی نہ ہوسکے اس سے احتجاج کیسے درست ہوگا؟

5۔حافظ ابن قیم ؒ کے استاد امام ابن تیمیہؒ ایسی روایات کو جن میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین قرار دیے یا ان کے نفاذ کا ذکر ہو"باتفاق اہل علم جھوٹی" قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔پھر اس خاص مسئلے میں استاد اور شاگرد کا اختلاف بھی کہیں مذکور نہیں ا س صورت حال میں حافظ ابن قیم ؒ کے حوالے سے یہ روایت کیونکر درست قرار دی جاسکتی ہے؟

ساتویں حدیث:عبادہ بن صامت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے دادا کا قصہ

مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت ہے۔"عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو ہزار  طلاقیں دیں۔ اس کے بعد میرا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔تیرا دادا اللہ سے  ڈرا نہیں۔تین طلاقیں اس کا حق تھا۔باقی  سب کچھ زیادتی ہے اللہ چاہے تو سزا دے چاہے تو معاف کردے۔"

یہ  روایات تین طلاقوں کے واقع ہونے پر نص تو ہے مگر یہ روایت نہ درایۃً درست ہے نہ روایتہً۔درایۃً اس لئے کہ عبادہ بن صامت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ان بارہ سرداروں میں سے ہیں جنھوں نے عقبہ ثانیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔یہ بات بھی معلوم کرنا مشکل ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔اس وقت عبادہ بن صامت انصاری کے دادا زندہ بھی تھے یا نہیں اور ان کا اسلام  ثابت کرنا تو دور کی بات ہے۔اور  یہ روایۃً اس لیے غلط اور ناقابل اعتماد ہے۔کہ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن العلاء کذاب اور واضع حدیث ہے۔دوسرا عبیداللہ بن ولید متروک الحدیث ہے۔تیسراابراہیم بن عبیداللہ مجہول ہے۔(میزان الاعتدال للذہبیؒ)

ایسی ہی روایات کے باوصف مصنف عبدالرزاق حدیث کے چوتھے درجہ کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

آٹھویں حدیث حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی تین طلاقیں

بیہقی کی ہے سوط بن عقلہ کہتے کہ عائشہ منثعمیہ حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے نکاح میں تھی۔جب حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  شہید ہوئے تو کہنے لگی"تجھے خلافت مبارک ہو" حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی شہادت پر خوشی کا اظہار کرتی ہو۔جاؤ تجھے تین طلاق"جب اس کی مدت پوری ہونے لگی تو حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس کو حق مہر کی بقایا رقم اوردس ہزار (مذید) بطور صدقہ بھیجے جب ایلچی یہ کچھ لے کرآیا تو کہنے لگی"مجھ کو چھوڑنے والے دوست کی طرف سے یہ متاع قلیل ہے"جب حضرت حسن  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  یہ بات پہنچی تو روپڑے پھر کہا"اگر میں نے اپنے دادا سے نہ سنا ہوتا یا میرے باپ نے میرے دادا سے نہ سنا ہوتا وہ  کہتے تھے کہ جو شخص اپنی عورت کو طہروں میں تین طلاقیں دے یا غیر واضح طلاقیں دے تو وہ عورت خاوند پر حلال نہیں تاآنکہ کے کسی دوسرے سے نکاح کرے"تو میں اس عورت سے ضرور رجو ع کرلیتا۔(السنن الکبریٰ للبیہقی ج7 ص 236)

یہ ر وایت بھی روایۃً اور درایۃً دونوں طرح سے ناقابل اعتماد ہے۔روایۃً یوں کہ امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا ایک راوی محمد بن حمید الرازی ہے جس کو ابوزرعہ ؒ نےکذاب اور  ابو حاتم ؒ نے منکر الحدیث کہا ہے(اغاثہ الصفان ج 1ص 317،319 بحوالہ مقالات ص214) اور درایتہً اس لئے حضرت حسن کے دادا ابو طالب تھے جو  مکی دور میں ہی بحالت کفر انتقال کرگئے۔جبکہ نکاح وطلاق کے احکام مدنی دور میں نازل ہوئے تھے گویا درایتہً بھی اس روایت میں دو خامیاں ہیں۔

نویں حدیث:۔

دارقطنی ؒ کی ہے جو اس طرح ہے۔"حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا"تم اللہ کی آیات کو کھیل اور مذاق بناتے ہو۔جو شخص بھی طلاق بتہ دے گا۔(عربی) یعنی ہم اس پر تین لازم کردیں گے۔اور  اس کی عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک وہ کسی اور سے نکاح نہ کرے"(دارقطنیؒ)

اس حدیث کے بارے میں خوددارقطنی ؒ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند میں اسماعیل بن ابی امیہ قرشی  ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔اور یہ حدیثیں بھی گھڑتاہے۔

دوسرے راوی عثمان بن قطر کے متعلق ابن حبان کہتے ہیں کہ وہ ثقہ لوگوں سے موضوع حدیثیں روایت کرتا ہے۔ایک تیسرا راوی عبدالغفور کے متعلق علامہ محمد طاہر نے کی ہے۔کہ وہ حدیثیں گھڑتا ہے۔چنانچہ امام ابن تیمیہؒ نے فرمایا۔(عربی) یعنی اس ی سند میں کئی ضعیف اور کئی مجہو ل راوی  ہیں۔(مقالات ص155)

سو یہ تھیں وہ احادیث جن سے ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہی واقع ہونے کو ثابت کیا جاتا ہے۔ان احادیث کے جائزہ کے بعد اب ہم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے  فتاویٰ کی طرف آتے ہیں۔

صحابہ کرام کے فتاوےٰ

میں نے اپنے مضمون "خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں" میں لکھا تھا کہ"حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس تعزیزی فیصلے پر صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا اجماع نہ ہوسکا۔ اور بڑے بڑے صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  مثلاً حضرت عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اور حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وغیر ہم آپ کے اس فیصلے کے خلاف تھے۔"

اس کے جواب میں قاری صاحب نے تین صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  حضرت عبداللہ ابن  عباس ،حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ایسے فتوے پیش کردیئے جو تین طلاقوں کے تین ہی واقع ہونے پر دلالت کرتے تھے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے متعلق شاید انہیں اپنے حق میں لکھنے کو کچھ مواد نہیں مل سکا۔حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے متعلق البتہ قاری صاحب نے لکھا ہے کہ آپ سے دونوں قسم کی احادیث مروی ہیں۔پھر اس سلسلے میں صحیح و مسلم کی وہ حدیث درج فرمائی جس میں حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس تعزیری فیصلہ کے نفاذ کا ذ کر ہے۔

ہم پہلے پیر کرم شاہ صاحب ازہری کے حوالہ سے لکھ چکے ہیں کہ جب حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنا فیصلہ نافذ کردیا تو اکثر صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  چونکہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو دین اور مسلمانوں کا نگہبان سمجھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ کام یا یہ تعزیر مسلمانوں پر اس لئے عائد کی ہے کہ ا س فعل حرام سے باز آجائیں۔لہذا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ہمنوائی میں بسااوقات اختلاف رکھنے کے باوجود حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فیصلہ کے مطابق فتوے دے دیا کرتے تھے۔

حضرت  عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حمایت میں فتوے:۔

اس کی مثال یہ سمجھئے کہ عند الضرورت جنابت سے تیمم کے مسئلے میں حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت عمار بن یاسر میں اختلاف تھا۔حضرت عمار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو یاد بھی دلایا کرتے تھے۔کہ "اے امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ !آپ کو یاد نہیں۔جب میں اور  آپ لشکر کے ایک ٹکڑے میں تھے پھر ہم کو جنابت ہوئی اور پانی نہ ملا۔ آپ نے نماز نہ پڑھی لیکن میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فرمایا۔تجھے کافی تھا اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتا پھر ان کو پھونکتا پھر ان پر مسح کرتا دونوں پہنچوں پر۔"اپنے حافظ پراتنے وثوق کے باوجود جب حضرت عمار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے دیکھا کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس مسئلہ میں ان سے اتفاق نہیں کرتے(حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ اختلاف محض مصلحت کی بناء پر تھا۔کے لوگ اس حقیقت سے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کردیں گے تو  حضرت عمار  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہاں تک کہہ دیا کہ:۔

(عربی)

"اے امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا جو حق مجھ پر رکھا ہے۔(یعنی آپ خلیفہ ہیں۔اور  میں  رعیت ہوں) اگر آپ چاہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں گا۔"

اسی  طرح حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کسی سیاسی مصلحت کی خاطر حج تمتع سے بھی منع فرمایا کرتےتھے۔حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو حج تمتع کی ترغیب دی تھی۔اس مسئلے میں بھی بعض صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مقصد کالحاظ رکھتے تھے۔صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث ملاحظہ  فرمایئے:۔

(عربی)

ابو موسیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حج تمتع کافتویٰ دیتے تھے۔ تو ایک شخص نے کہا۔تم اپنے بعض فتوے  روک رکھو کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومنین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حج کے سلسلہ میں جو نئی بات نکالی ہے۔(مسلم ،کتاب الحج،باب جواز تعلیق الحرام)

ان واقعات سے واضح طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت معلوم ہونے کے باوجود صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بسا اوقات حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی عائد کردہ حدود وقیود کے مطابق فتوے دے دیا کرتے تھے۔یا کم از کم اس کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔تطلیق ثلاثہ کامسئلہ بھی انھیں میں سے ایک ہے۔اس مسئلہ میں جن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے آپ کے فیصلے کے مطابق فتوے دیناشروع کردیئے تھے ان کے نام یہ ہیں:۔

حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔عبداللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔عثمان بن عفان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اورمغیرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور جو صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے خلاف ہی فتوے دیتے رہے۔ان کے نام یہ ہیں:۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔زبیر بن العوام  رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اعلام الموقعین ص 803)

اور مندرجہ  ذیل صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے دونوں قسم کے فتوی منقول ہیں:۔

حضرت  عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔اورعبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔(حوالہ ایضاً) جب یہ حضرات عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فیصلہ کے موافق فتوے دیتے تو ان کے ایسے فتووؤں کی خاص علامت یہ ہوتی ہے کہ ایسے فتاویٰ سے زجروتوبیخ اور تعزیر از خود مترشح ہوتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے  فتوے:۔

مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لیجئے۔مسلم میں مذکور حد کہ"دور فاروقی کے پہلے دو سالوں تک ایک مجلس کی تین طلا ق کو ایک ہی شمار کیاجاتا تھا۔"کے راوی آپ ہی ہیں۔پھر دو مزید  احادیث جن میں اسی مضمون پر ابو الصباء کے سوال کا جواب دیتے ہیں۔مسلم ہی میں موجود ہیں۔ابو داود میں بھی آپ سے اسی مضمون پرمشتمل ایک روایت موجود ہے علاوہ ازیں ابو داود میں آپ کا یہ فتویٰ بھی موجود ہے۔

(عربی)

جس کسی نے(اپنی بیوی سے) ایک ہی وقت میں تین طلاق کہا تو یہ ایک ہوگی۔(ابو داود ۔کتاب الطلاق۔باب بقیۃ نسخ المراجعۃ)

اور ایک صحیح روایت میں حضرت طاؤس ؒ سے مروی ہے کہ:

(عربی)

اللہ کی قسم ! ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اسے (تطلیق ثلاثہ کو) ایک ہی طلاق شمار کرتے تھے۔(عون المبعود شرح ابو داود ج2 ص237)

اب  حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا وہ تعزیری فتویٰ بھی ملاحظہ فرمایئے جو قاری صاحب نے درج فرمایا ہے۔(ہم صرف ترجمہ پر اکتفا ء کریں گے)

"حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں  حضرت عبداللہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس بیٹھا تھا۔ کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا کہ میں نے ا پنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  خاموش ہوگئے۔میں نے گمان کیا۔شاید ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس کی بیوی کو و اپس لوٹا  دیں گے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ تم میں ایک شخص حماقت کربیٹھتا ہے۔پھر کہتا ہے  اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اے ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ !اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لئے آسان کی راہ نکالتا ہے۔اور بلاشبہ تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرا۔میں تیرے لئے اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا ہوں۔تو نے اللہ کی نافرمانی کی ہے تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی"(ابوداود ص299بحوالہ منہاج ص310)

مندرجہ بالا فتوے سے دو باتیں معلوم ہوئیں:۔

1۔حضرت مجاہد ؒراوی جو حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طبیعت سے خوب واقف تھے۔انہیں طلاق دینے والے کی بات سننے کے بعد بھی یہی گمان ہواتھا کہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایسی طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرکے اس کی بیوی کو واپس لوٹا دیں گے۔گویا سنجیدہ صورت حال میں آپ کا فتویٰ یہی ہوتاتھا کہ ایک مجلس کی تین طلاق حقیقتاً ایک ہی ہوتی ہے۔

(2) فتویٰ کے الفاظ سے صاف معلوم ہورہاہے کہ یہ فتویٰ سائل کو اس کی حماقت کی سزا کے طور پر دیاجا رہا ہے۔

حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کافتویٰ:۔

قاری صاحب نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا جو فتویٰ در ج فرمایا وہ یوں ہے:۔

"حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار مرتبہ طلاقیں دیں ہیں تو  آپ نے فرمایا"تین طلاقوں نے تیری بیوی کوتجھ پرحرام کردیاہے۔باقی 997 طلاقیں اپنی دوسری بیوی میں تقسیم کردے۔"(منہاج ص310 بحوالہ بیہقی ج7 ص335 طبع بیروت)

قطع نظر اس بات کے کہ ایسی روایات کی اسنادی حیثیت انتہائی کمزور ہوتی ہے۔کیونکہ یہ تیسرے اور چوتھے درجہ کی کتب سے لی گئی ہیں۔اگر اس واقعہ کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائل انتہائی جاہل اور بے ہودہ انسان تھا۔جاہل اس لئے کہ اسے اتنا علم نہ تھا کہ طلاقیں زیادہ سے زیادہ تین ہی ہیں۔اور بے ہودہ اس لئے کہ اپنی اس جہالت اور حماقت کو اپنے تک محدود نہ رکھا بلکہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو بھی جابتلایا۔پھر حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جو جواب دیا وہ بھی "جیسی روح ویسے فرشتے" کے مصداق ہے۔ذراسوچیئے کہ واقعی سائل نے حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ارشاد کے مطابق 997 طلاقیں اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کردی ہوں گی؟فرض کیجئے کہ اس کی چار بیویاں تھیں۔ان 997 میں سے مزید طلاقیں تو بقایا تین بیویوں کے لئے ہوئی اس طرح وہ بھی اس سے جدا ہوئیں۔پھر 988 طلاقیں بچی رہیں جو کسی کام نہ آسکیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کافتویٰ:۔

اب حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا وہ فتویٰ جو قاری صاحب موصوف نے درج فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیے۔

ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے دی ہیں۔تو حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ان سے پوچھا:تجھے علماء نے کیا کہا ہے۔؟کہنے لگا،وہ کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے جدا ہوئی"آپ نے جواب دیا"لوگوں نے سچ کہا"(منہاج ص311 بحوالہ؟ص 457 طبع بیروت)

آج کامسلمان بھی دینی مسائل سے کم ہی واقفیت رکھتا ہے مگر  اتنا جاہل یا بے ہودہ نہیں کہ وہ آٹھ آٹھ ہزار طلاقیں دیتا پھرے۔اس دور میں معلوم نہیں کہ کس قسم کے مسلمان تھے۔اور حکومت ایسے بے ہودہ اور کتاب  اللہ سے کھیلنے والوں کو سزا کیوں نہیں دیتی تھی۔جنھوں نے دین کو مذاق بنا رکھا تھا۔ایسے لوگوں کے لئے یہ تعزیر بہت کم ہے کہ صرف ان کی بیوی ان سے جدا کردی جائے ایسے لوگوں کو تو بدنی سزا بھی ضروری دینا چاہیے۔جیسا کہ حضرت عمر  فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایسے لوگوں کو مارا بھی کرتے تھے۔

اسی طرح ایک اور حضرت اپنی بیوی کو دو سوطلاقیں دے کر حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس فتوے پوچھنے تشریف لائے تھے۔انہیں بھی آ پ نے یہی جواب دیا تھا۔(موطا امام مالک ؒ ۔کتاب الطلاق۔باب ماجاء فی البتہ)   

(جاری ہے)

[1] ۔اس طرح فقہاء یہ قیاس  فرماتے ہیں کہ اگرچہ بیک مجلس تین طلاق دینی خلاف سنت اورحرام ہے تاہم تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔قیاس کی حد تک  توان کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس نص کی موجودگی میں کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیقی اور فاروقی  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے ابتدائی دو تین سالوں تک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی تھی اس قیاس کے چنداں وقعت باقی نہیں رہتی۔
[2] ۔غیر مدخولہ عورت کو طہر اورحیض دونوں حالتوں میں طلاق دی جاسکتی ہے۔
[3] ۔بے حیض عورت کے مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جاسکتی ہے۔اسی طرح حاملہ عورت کو بھی مباشرت کے بعد طلاق دی جاسکتی ہے۔کیونکہ ان تینوں صورتوں میں عدت کا کوئی مقصد،مجروح یا مشکوک نہیں ہوتا۔
[4] ۔نیز  دیکھئے نسائی۔کتاب الطاق باب طلاق الثلاث المتفرقہ۔ابو داود کتاب (عربی)