محترم جناب غازی عزیر صاحب حفظہ اللہ قارئین "محدث" کے لئے محتاج تعارف نہیں۔  آپ کے مضامین اکثر محدث کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔محدث(زی الحجہ 1409ہجری) میں"الاستفتاء" کے اوراق  پر آپ کامقالہ بعنوان " کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول وبراز پاک تھا؟ شائع ہوا تھا جس میں فاضل مقالہ نگار کوتگ ودود کے باوجود چند احادیث کاطریق نہ مل سکا۔محترم زبیر بن مجدد علی صاحب نے ان احادیث کے طرق کا تتبع کیا ہے اور حوالہ تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔قارئین کے علم میں اضافے کی خاطر ان کے"استدراک" کو شائع کیاجارہا ہے۔۔۔ادارہ
1۔حدیث ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  :۔
ماہنامہ محدث (جلد 19عدد 11) میں صفحہ 44 یا45 پر جناب مولانا غازی عزیرحفظہ اللہ نے "الانوار الحمدیہ من المذاھب الدنیہ" کے حوالے سے حضرت  ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے ایک حدیث نقل کی ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب پی لیا تھا وغیرہ وغیرہ۔

مولاناصاحب لکھتے ہیں"افسوس کہ ہمیں اس روایت کا مکمل طریق اسناد بھی نہ مل سکا!" میں نے  اس روایت کے طریق کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بلاخر ان کتب میں مجھے یہ روایت مل گئی جو کہ درج ذیل ہیں:۔

1۔المعجم الکبیر للطبرانی ج25 ص89۔

2۔مستدرک الحاکم ج3 ص63۔64۔

3۔حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبھانی ج2 ص67۔

4۔مسند الحسن بن سفیان بحوالہ تلخیص الجیر لابن حجر ج1 ص31۔

اس کادارومدار ابومالک النھی عن الاسود بن قیس عن نسیح الغزی "عن ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا " پر ہے حافظ ہثیمیؒ نےمجمع الزوائد ج8 ص271۔پر کہا۔

(عربی)

یعنی اسے طبرانی نے روایت کیا اور اس میں ابو مالک بھی ضعیف ہے۔

ابو مالک کے مفصل حالات "تہہذیب التہذیب"وغیرہ میں موجود ہیں۔

ابن معین ؒ نے کہا (عربی) (یہ کچھ بھی نہیں ہے) عمرو بن علیؒ نے کہا(عربی) ابوزرعۃ ؒ اور ابو حاتم ؒ نے کہا:(عربی) ابو داؤد ؒ نے کہا۔(عربی)نسائی ؒ اور اذدیؒ نے کہا:(عربی) اور نسائی ؒ نے مزید کہا۔(عربی) یعنی(یہ ثقہ نہیں ہے اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے) ابواحمد الحاکم نے کہا۔(عربی) (تہذیب التہذیب ج12 ص240)

اس روایت کی دوسری علت یہ ہے کہ"نسیح" کی ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔حافظ ابن حجر ؒ نے کہا(عربی)(تلخیص الجیر ج1 ص31)یعنی نسیح نے ام ایمن  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے ملاقات نہیں کی ہے۔

لہذا ان دو علتوں کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف ہے۔

2۔فاضل مصنف نے"محدث" مذکور کے ص 41/727 پر حضرت مالک بن سنان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت عبداللہ بن زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے خون پینے کے دو واقعات لکھے ہیں اور ص 41/727 پر کہا:

"افسوس یہ کہ دونوں حکایتوں کا مکمل طریق اسناد کہیں نہ مل سکا"ان دونوں واقعات کی تخریج کے لئے  ملاحظہ فرمائیں:

حضرت مالک بن سنان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا واقعہ:۔

یہ واقعہ(عربی) پر مفصل موجود ہے۔اس واقعہ کو حافظ ابن حجر ؒ نے اب ابی عاصم اور بغویؒ کے حوالے سے از طریق موسیٰ بن محمد بن علی الانصاری ؟(عربی)

نقل کیا ہے(کئی  راویوں کی توثیق نا معلوم ہے) اور ابن السکن کے حوالہ سے (عربی)؟(عربی) نقل کیا ہے۔(اس میں بھی مجہول الحال اور غیرثقہ راوی موجو د  ہیں۔اورسعید بن مسعود کے حوالہ سے عمرو بن السائب سےنقل کیا ہے"یہ سند منطقع ہے" غرض یہ تمام اسانید حجت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔

حضرت عبداللہ زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کاواقعہ

یہ واقعہ درج ذیل کتابوں میں باسناد موجود ہے۔

1۔مستدرک حاکم ج3ص54۔

2۔حلیۃ الاولیاء ج1ص330۔

3۔مسند ابی یعلیٰ بحوالہ ج3 ص366۔

4۔الطبرانی فی الکبیر بحوالہ تلخیص الجیر ج1 30۔

5۔الخصائص من سنن بیہقی بحوالہ التلخیص ج1،ص30۔

6۔البزار بحوالہ مجمع الزوائد للہشیمی ؒ ج8 ص27۔

اس روایت کا دارومدارابن القاسم بن عبدالرحمٰن بن ماعز پر ہے۔

ھنید بن قاسم کو ابن حبان ؒنے کتاب الثقات (ج5ص515) میں ذکر کیا۔ابن ابی حاتمؒ نے کتاب الجرح والتعدیل(ج9ص121) میں ذکر کیا اور سکوت کیا۔حافظ ذہبیؒ نے کہا(عربی)(سیراعلام النبلاء 366/3) یعنی مجھے ھنید میں کوئی جرح معلوم نہیں ہے حافظ ہثیمیؒ نے کہا۔(عربی)(مجمع الزوائد ج5،ص727) اور ایک دوسرے مقام پر کہا(عربی) (مجمع الزوائد ج1 ص28) حافظ ابن حجرؒ نے کہا(عربی)(تلخیص الجیر ج1ص30)

یہ بھی یاد رہے کہ "ھنید،سے روایت کرنے والا صرف ایک شخص موسیٰ بن اسماعیل التبوز کی ہے۔بہرحال محدثین کی ان  تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت حسن کی درجہ کی ہے۔"واللہ اعلم" یہ خون"دم مسفوح" نہیں تھا۔دم مسفوح سے مراد وہ سیاہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت اچھل کرنکلتاہے۔سینگی وغیرہ کا خون دم مسفوح کے حکم میں نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ اس سے بول وبراز کی طہارت کی دلیل لانا انتہائی غلط اور "قیاس مع الفارق" ہے۔