میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(إتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله )
(مومن کی فراست سے ڈرتے رہو،کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے)
قرآن کریم کی آیت ﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ﴿٧٥﴾...الحجر  کی شرح میں بیان کی جانے والی اس حدیث نے علمائے شریعت اور عوارف ہردو طبقات میں بہت شہرت حاصل کی ہے۔آیت مذکورہ  میں لفظ"(متوسمین)" کی تفسیر میں امام ترمذی ؒ بعض اہل علم حضرات سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد(متفرسین) ہے۔[1]
امام ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں:
"اس سے مراد(عربی ) ہے۔"

بعض لوگ کہتے ہیں کہ(عربی) ہے۔"

اور  ابو عبیدہ  ؒ کا قول ہے کہ ا س سے مراد(عربی) ہے۔[2]

علامہ جلا الدین ؒ  اس سے مراد (عربی) بتاتے ہیں۔[3]

اور  علامہ شیخ عبدالرحمٰن مبارک پوری ؒفرماتے ہیں کہ:

"ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کاقول ہے کہ اس سے مراد (عربی) ہے۔"

قتادہؒ فرماتے ہیں،(عربی) ہے۔

مقاتل ؒ (عربی) بتاتے ہیں۔

اورمجاہد ؒ(عربی) بتاتے ہیں۔[4]

بہرحال ذیل میں اس حدیث سے ہمارے اصحاب لغت،علمائے کرام اور صوفیاء کرام نے کیامطلب ومعنی اخذ کئے ہیں۔اس کا مختصر خاکہ پیش کیا جائے گا بعد ازاں محدثین کے اصول پر اس حدیث کی صحت اور اس کے مقام ومرتبہ پر بحث پیش کی جائے گی۔وباللہ التوفیق۔

الیاس الظون اپنی عربی،انگریزی لغت"قاموس الیاس العصری" میں(عربی) کے معنی (عربی)      To observe  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  study physiognomy of(یعنی  علم  قیافہ سے کسی شخص کے اخلاق کا مطالعہ ومشاہدہ کرنا)بتاتے ہیں۔[5]  لیکن اس کا صحیح اور قریب ترین انگریزی ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے:

“To Serutinize The Promising sighns in.”

علامہ الیاس انطون نے اپنی لغت میں "فراست" کی کئی قسمیں شمار کی ہیں۔مثلاً "(عربی)"جس کو انگریزی میں پامسٹری  یاکیرومینسی( Pamistry chiromancy) کہتے ہیں۔اور(عربی) جسکو انگریزی میں فرینو لوجی (Pherenology) کہتے ہیں وغیرہ۔[6]

علامہ شیخ  محمد اسماعیل ؒ عجلونی الجراحی ؒلفظ (عربی) کی شرح میں فرماتے ہیں:

"(عربی) میں حرف "ف" کسرہ کے سا تھ ہے،صحاح میں مذکور ہے کہ فراسہ کسرہ کے ساتھ اسم ہے اور اس سے مراد وہ قول ہے کہ کوئی کہنے والا یوں کہے کہ میں نے اس میں یہ اچھی (علامات ) دیکھیں۔(عربی) دیکھتا اور تثبیت کرتا ہے۔اسی لفظ کی مناسبت سے کسی کو فارس النظر شخص کہاجاتا ہے۔"[7]

اور علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں:

"فراسہ بالکسر اسم ہے،مثلاً یہ قول کہ میں نے فلاں میں خیر( کی علامات ) دیکھیں۔"

فراست کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم وہ جو اس حدیث کے ظاہری معنی پر دلالت کرتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے دلوں میں فراست ڈال دیتا ہے۔جس سے وہ لوگوں کے احوال،واقعات اور حوادث کے اصابت بنو عیت کرامت جان لیتے ہیں۔

فراست کی دوسری قسم وہ ہے جوتجربات ،خلق واخلاق کے وسیع مشاہدے اور ان کے دلائل سے حاصل ہوتی ہے۔فراست کی اس قسم سے بھی لوگوں کے احوال کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔علماء نے علم الفراست میں بہت سی قدیم وجدید کتب تصنیف کی ہیں جیسا کہ النہایۃ اورخازن وغیرہ میں مذکور ہے۔"[8]

جیوتش،علم قیافہ،علم جعفہ،علم الرمل،پامسٹری،علم کا سہ سر ،فال گوئی یا کہانت،علم الاعداد ،علم الحروف،علم النجوم (عربی) اور علم طبیعات وموسمیات وغیرہ کا تعلق بھی اسی دوسری قسم کی فراست سے ہے۔

شارح ترمذی علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری ؒ نے علامہ منادیؒ کے حوالہ سے اس حدیث کی شرح اصلاً وہی فکر  پیش کی ہے جو اکثر ہمارے صوفیاء کرام بیان کرتے ہیں،چنانچہ رقمطراز ہیں:

"علامہ منادیؒ کا قول ہے کہ(عربی) یعنی کسی  مومن کو ضمائر کی پوشیدہ باتوں کی اطلاع اس طرح ہوجاتی ہے کہ انوار (الٰہی) اس کے قلب  پر پڑ کر چمکنے لگتے ہیں۔جس سے اس کے لئے حقائق روشن اور واضح ہوجاتے ہیں۔(عربی) سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے مشرق دل کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے نور کودیکھتا ہے۔فراست کی اصل یہ ہے  کہ اس روح کو جو عقل کی بصیرت سے متصل ہواگر انسانی آنکھوں کے گرد لپیٹ دیا جائے تو اس کا ان آنکھوں سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔چنانچہ ایسا شخص اس روح سے اپنی بصیرت اور ان دونوں ک ے بیچ سے اشیاء کے ادراک کا کام لیتا ہے۔پر اگر عقل اورروح کو نفس کی مشغولیات سے  فارغ کرلیاجائے تو روح دیکھنے لگتی ہے۔اور عقل ہر اس چیز کا ادراک کرنے لگتی ہے۔ جو کچھ روح دیکھتی یا دیکھ سکتی ہے لیکن عام طور پر لوگ ایسا کرنے سے عاجز وقاصر رہتے ہیں کیونکہ ان کی ارواح ان کے نفوس اوران کی خواہشات سے ہمہ وقت وابستہ ہوتی ہیں۔پس اشیائے  با طن کے ادراک کے لئے روح کی بصیرت کا کام کرنا ایسی حالت میں کہ کوئی شخص اپنی شہوات وخواہشات اور عبودیت کے کاموں میں اس قدر مصروف ہوکر اپنے نفس میں ہی الجھ کر رہ جائے تو اس پر تو صرف ظلمات کا نزول ہی ہوتا ہے۔وہ شخص ان اشیاء کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔جو اس سے پردہ غیب میں ہیں۔؟"[9]

اس کلام کے موازنہ کےلئے ذیل میں ہم بعض مشہور صوفیاء کا نظریہ پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔

مشاہدہ اہل تصوف کی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے مشاہد ہ کاتعلق چونکہ قطب سے ہوتاہے۔اور  اسی کے آئینہ میں نورالٰہی کا  انعکاس ہوتاہے۔لہذا قلب کی نورانیت کو مستقل اور پائیدار کرنے کے لئے مجاہدہ،ریاضت،خلوت نشینی اور  چلہ کشی سے اسے صیقل کیاجاتا ہے۔چنانچہ امام ابو حامد غزالی ؒ(م505ھ)فرماتے ہیں:

"اب جاننا چاہیے کہ اہل تصوف علوم الہامی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔علوم تعلیمی کی طرف مائل نہیں ہوتے۔اور یہی وجہ ہے کہ کتابیں مصنفین کی نہیں پڑھتے اوراقوال ادلہ سے بحث نہیں کرتے۔بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ اول خوب مجاہدہ کرناچاہیے اور صفات ذمیمہ اورتمام علائق کو قطع کرکے ہمہ تن وتمام ہمت خدائے  تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور جب یہ  بات حاصل ہوجائے گی۔تو اللہ تعالیٰ خود متکفل اور متولی اپنے بندہ کے قلب کا ہوجاوےگا۔اور جب وہ متولی ہوگا تو اس پر سایہ رحمت ہوگا۔اور قلب میں نورچمکنے لگےگا۔اور سینہ کھل جاوے گا اور سر ملکوت اس پر ظاہر ہوگا۔اورقلب کے سامنے سے حجاب دور ہوجائے گا۔اور اُمور الٰہیہ کے حقائق اس میں روشن ہوں گے پس اس  تقریر کے بموجب بندے کا کام صرف اتناہے کہ محض تصفیہ کرے۔اور اپنی ہمت کو ارادہ صادق کے ساتھ متوجہ کرے اور رحمت الٰہی سے ہمیشہ انکشاف کا منتظر اور پیاسا رہے۔پس انبیاءؑ اور اولیاء کے اوپر جو امر منکشف ہوجاتاہے۔اور دلوں پر نور پھیل جاتا ہے۔کچھ تعلیم اورنوشت خواند کتب سے نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں زھد کرنے اور خلائق سے  منقطع ہونے اور اشغال دنیاوی سے فارغ البال ہونے اور بتمام ہمت متوجہ الی اللہ ہونے سے ہوتا ہے۔کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کا ہورہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہوجاتاہے۔اور اہل تصوف کا یہ بھی مقولہ ہے۔ کہ اسباب میں اول علائق دنیا کو بتمامہا منقطع کرڈالے۔اور دل کو ان سے فارغ کرے اور ہمت کو اہل اور مال اور اولاد اور باطن اور علم اورولایت اورجاہ سے اٹھالے اوروں کو ایسی حالت میں کرے کہ اس کے سامنے چیزوں کاہونا (اور نہ ہونا) برابر ہوجاوے پھر اپنے آپ ایک گوشہ میں ہو بیٹھے اور ضروریات فرائض ووضائف پراکتفاء کرکے بجمیع ہمت ماسوی اللہ سے فارغ البال ہوجاوے۔یہاں تک کہ قرائت قرآن اور معانی تفسیر وحدیث وغیرہ کی فکر سے بھی اپنا دھیان پریشان نہ کرے بلکہ اس باب میں کوشش کرے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے دل میں اور کچھ نہ رہنے پائے اور خلوت میں بیٹھ کربحضور قلب اللہ اللہ کہتا رہے۔۔۔تولوامع حق اس کے دل میں چمکنے لگیں گے۔اور ابتداء میں بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔اور ذرا نہیں ٹھہریں گے الخ۔"[10]

مشہور صوفی علی بن عثمان ہجویریؒ فرماتے ہیں۔

"جب اللہ تعالیٰ کا دوست موجودات سے انھیں پھیر لیتا ہے تو لامحالہ دل سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور جو مجاہدہ میں جتنا خالص ہوگا مشاہدہ میں اتنا ہی سچا ہوگا۔کیونکہ باطن کا مشاہدہ ظاہر کے مجاہدہ کے ساتھ مقرون ہے۔"[11]

اور شیخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں:

"اہل تصوف کاخیال ہے کہ قلب  کو جلادینے کی ان تمام کوششوں کے نتیجے میں ایک طرف تونور یقین پیدا ہوتاہے۔ اور دوسری طرف مشاہدہ غیب یعنی خدائے پاک کی عظمت وجلال کے مشاہدہ کے علاوہ علوم الہامی لدنی پر مکشوف ہوتے ہیں۔"[12]

امام غزالی ؒ اس مشاہدہ کی کیفیت اور نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔

"قلب میں جو حقیقت عالم کی آتی ہے۔تو کبھی تو حواسی ہی سے آتی ہے اور کبھی لوح محفوظ سےآتی ہے۔جس طرح پرآنکھ میں سورج کی صورت کبھی تو اس کی طرف دیکھنے سے آتی ہے۔اور کبھی بذریعہ پانی کے دیکھنے سے جس میں کہ آفتاب کا عکس ہوتاہے۔اور یہ عکس آفتاب کی صورت اصل ہی کے مشابہ ہوتا ہے۔اس طرح جب دل کے سامنے سے حجاب دور ہوجاتاہے۔تو  لوح محفوظ کی چیزیں سوجھنے لگتی ہیں۔اور ان کاعلم اس  میں آجاتاہے۔اس صورت میں جو اس کے استفادہ سے مستغنی ہوجاتا ہے۔پھر(رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے)ان لوگوں کی توصیف میں خداوند کریم کا یہ قول ارشاد فرمایا کہ پھر میں اپنے چہرہ کو ایک طرف کرکے متوجہ ہوتا ہوں ۔تجھے معلوم ہے کہ کس کے سامنے میں اپنا چہرہ کرتا ہوں۔اور کوئ جانتا ہے کہ میں ان کو کیا دینا چاہتا ہوں۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اول یہی عطاہوتی ہے۔کہ ان کے دلوں میں روشنی ڈال دیتا ہوں۔تو وہ میرے حال سے خبردینے لگتے ہیں۔جیسے میں ان کا حال کہتا ہوں اور مدخل ان خبروں کا دروازہ باطنی ہے۔الخ"[13]

امام غزالی ؒ مذید فرماتےہیں:

"حضرت ابو درداء  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ مومن وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے نور سے پردہ کے پیچھے کی چیز نظرآوے اور قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ بات ٹھیک ہے۔کہ اللہ تعالیٰ امر حق کو مومنوں کے دلوں میں ڈال دیتاہے۔اوران کی زبانوں پرجاری کردیتاہے۔اور بعض سلف کا قول ہے کہ مومن کا غلبہء گمان کہانت ہے اور حدیث شریف میں وارد ہے:

(عربی)[14]

یہ مشاہدہ حق یا مشاہدہ غیب صوفیاء کو بالعموم یقین قلب کے نور سے ہوتا ہے جیسا کہ شیخ ابو طالب مکی ؒ فرماتے ہیں:

(عربی)

"یعنی بنظر یقین غیب بینی کو ہی مشاہدہ کہتے ہیں۔"[15]

اسی طرح ابو الحسن نوری کا قول ہے کہ:

"یقین ہی مشاہدہ کانام ہے۔"[16]

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی بھی یقین کی حقیقت (عربی) [17]بتاتے ہیں۔

"یقین قلب" کا نورجس سے  صوفیاء کو مشاہدہ حق ہوتا ہے اسے نور الٰہی کی ہی ایک شعاع سمجھا جاتا ہے۔جس دل میں یہ نورالٰہی موجود ہو جسے مشاہدہ حق ہوتاہے اسے صوفیاء کی  اصطلاح میں "روشن ضمیر " کہاجاتاہے۔یہ نور الٰہی اس قوت فراست  سے عبارت ہے جو بندہ صادق کے قلب میں مراقبہ ،مجاہدہ،ریاضت،خلوت نشینی اور چلہ کشی وغیرہ کے باعث عطیہ ربانی کے طور پر ودیعت کرتی ہے۔اسی شعاع یا نور  الٰہی کی وساطت سے بندہ ذوقی طور پر خدایا  اپنے اطراف یا غیوب کی اشیاء حتیٰ کہ لوح محفوظ کامطالعہ ومشاہدہ کرتا ہے۔صوفیاء کہتے ہیں کہ:

"جس شخص کے اندر یہ "نورفراست" جتنا زیادہ ہوگا اس کامشاہدہ حق اتنا ہی حکم ہوگا۔"[18]

اس "نورفراست" کو تصوف کے علماء ربانیین کے خواص میں سے بتایاگیا ہے جن کے متعلق ان کا خیال ہے  کہ :

"وہ متخلق باخلاق اللہ ہوتے ہیں۔"[19]

ایک مشہور بزرگ صوفی واسطی اس"نورفراست" کے متعلق فرماتے ہیں:

(عربی)[20]

ایک اور صوفی بزرگ کا فراست کے متعلق قول ہے:

(عربی)[21]

صوفیاء بیان کرتے ہیں کہ یہ"صحت یقین" یا"نور فراست"صفات وذات حق کے مشاہدہ سے پیدا ہوتاہے۔اور صفات وذات کا مشاہدہ ذوقی یا وجدانی طور پر ہی ممکن ہے۔عقل سے اس کاادراک نہیں ہوسکتا کیونکہ عقل اس کے ادراک سے قاصر ہے۔صفات وذات  الٰہی کے مشاہدے سے اہل  تصوف کو مراد عموماً یہ ہوتی ہے کہ اسماء وصفات کے معانی اور ذات حق کے اسرار ان کے قلوب پردرجہ ء یقین کی حد تک منکشف ہوجائیں۔اس انکشاف کے مختلف درجات بیان کئے جاتے ہیں جنھیں اہل تصوف مدارج توحید کے الفاظ میں لے آتے ہیں۔

غرض ان تمام بلند وبالا دعوؤں بلکہ صوفیانہ ہفوات کی بنیاد اسی مشہور  روایت (عربی) پر ہے ۔مقام صدا افسوس ہے کہ ہمارے بعض مقتدر علماء اور اکابرین بھی اہل تصوف کی اسلام دشمنی کی شناخت نہ کرسکے لہذا انھوں نے صوفیاء کی فکر کے زیر اثر اپنی قابل قدر تصانیف میں ان غیر مستند لغویات وخرافات کو جگہ دے ڈالی ہے۔(عربی)

(یہ حدیث الجامع لترمذیؒ،المجعم لطبرانیؒ،"النوادر"للحکیم ترمذیؒ،۔الطب لابی نعیم حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ؒ،الطبقات الصوفیہ لسلمیؒ،الاربعین الصوفیہ للمالینیؒ،الاربعین الصوفیہ لابی نعیم ؒ،احیاء علوم الدین للغزالیؒ،تاریخ بغداد للخطیب بغدادیؒ، التاریخ الکبیر للبخاریؒ،الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ،الکامل فی الضعفاء لابن عدی ،کتاب المجروحین لابن حبان،میزان الاعتدال للذہبیؒ،صفۃ الصفوۃ لابن الجوزیؒ ،تفسیر لاب جریرؒ،تفسیر لابن کثیرؒ،الجز لحسن بن عرفہؒ،الامثال لابی الشیخ عسکریؒ،الفوائد النصر الدمشقیؒ،جامع العلم لابن عبدالبرؒ، المنتقی من مسموعۃ بمر ولضیاء المقدسیؒ، مجمع الزوائد للہثیمی ؒ،مجلسین الامالی لابن بشران ؒ،طبقات الاصبہا نیین لابی الشیخ عسکری ؒ،کنز الثمین لابی الفضل الغماری،الجامع الکبیر للسیوطیؒ،الجامع الصغیر ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ للبانی الد المنتشرۃ للسوطیؒ،فیض القدیر للمناوی ؒ،تحفۃ الاحوذی للمبارک فوری ؒ۔اسنمی المطالب للحوت بیروتیؒ۔تمیز الطیب من الخبیث لشیبانی الاثریؒ،المقاصد الحسنۃ للسخاویؒ التذکرۃ فی الاحادیث المتشہرۃ لذرکشیؒ۔اللاآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ لابن الجوزیل  تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ؒ،کشف الخفاء ومزیل اللباس عما من اشتہر للعجلونی ؒ،الفوائد المجوعۃ لشوکانی ؒ۔الفرقان بین الاولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان لابن تیمیہؒ قواعد التحدیث عن فنون مصطلح الحدیث لقاسمیؒ،فہرس الاحادیث الصحیۃ در اختتام الضعفاء الکبیر العقیلیؒ مرتبہ دکتور عبدالمعطی امین قلعجی،سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للبانی وغیرہ میں مذکور ہے۔[22]

کتب کی اس طویل فہرست سے ہی اس حدیث کی مقبولیت وشہرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔یہ حدیث متعدد طرق سے وارد ہوئی ہے۔عموماً اس کو حضرات ابو سعید الخدری ۔ابو امامہ الباھلی ،ابو ہریرۃ عبداللہ بن عمر،ثوبان اور انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً مروی ہونا بیان کیا جاتا  ہے۔ان  شاء اللہ ذیل میں اس حدیث کے تمام طرق پرسیر حاصل ناقدانہ بحث پیش کی جائے گی۔

1۔حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی مرفوع حدیث کاجائزہ:۔

یہ حدیث بطریق عمر بن قیس عن عطیہ عن  ابی سعید قال قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم بہ مروی ہے۔اس طریق کی تخریج حسن بن عرفہؒ نے اپنی "الجزء" میں ،امام بخاری ؒ نے "التاریخ الکبیر" میں ،امام ترمذی ؒ نے اپنی "الجامع" میں امام عقیلیؒ نے اؒلضعفاء الکبیرؒ" میں خطیب بغدادی ؒ نے "تاریخ بغداد میں،ابو نعیم اصبہانی ؒ نے حلیۃ الاولیاء" میں امام ابن الجوزی ؒ نے "صفۃ الصفوۃ" میں ،سلمیؒ نے طبقات الصوفیہ" میں ،ابوالشیخ عسکریؒ نے"الامثال" میں ابن جریر ؒ نے اپنی "تفسیرقرآن" میں ،مالینی ؒ نے "اربعین الصوفیہ " میں ابن مردودیہ ؒ نے اپنی  "تفسیر" میں اور ابن السنیؒ وغیرہ نے کی ہے۔علامہ سخاویؒ نے "المقاصد الحسنۃ" میں ،علامہ شیبانی ؒ نے"تمیزالطیب" میں علامی شوکانی ؒ نے "الفوائد المجموعۃ" میں علامہ مبارک پوری ؒ نے تحفۃ الاحوزی میں علامہ عجلونی ؒالجراحی نے"کشف الخفاء" میں اور علامہ ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر میں بھی اس حدیث کو وارد کیاہے۔[23]

مگر اس طریق میں تمام فساد کی جڑ تابعی :

(عربی)

ہے۔جس کو امام نسائی ؒ نے "ضعیف" کہا ہے۔

ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:

"صدوق لیکن کثیر الخطاء ہے،اس میں شیعیت ہے اور وہ مدلس بھی ہے۔"

امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"مشہورضعیف تابعی ہے،۔"

ابو حاتم ؒفرماتے ہیں:

"اس کی حدیث لکھی جاتی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔"

سالم المراوی ؒ کا قول ہے وہ تشیع کرتا تھا۔"

ابن معین ؒ اسے صالح بتاتے ہیں۔

امام احمد ؒ کا قول ہے کہ ضعیف الحدیث ہے۔"

ہشیم ؒ عطیہ پر کلام کیا کرتے تھے۔

امام احمدؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ:

" مجھے یہ خبر ملی ہے کہ عطیہ کلبی کے پاس آتاتھا اور اس سے تفسیر میں روایات بیان کرتا تھا۔اس نے کلبی کی کنیت از خود ابو سعید رکھ لی تھی چنانچہ جب کبھی وہ کلبی سے روایت کرتا تو یوں کہتا:قال ابو سعید (امام ذہبی ؒ بیان کرتے ہیں) تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوجائیں کہ ابو سعید سے مراد ابو سعید الخدریؒ ہیں حالانکہ اس کے راوی وہ  نہیں ہوتے۔"

امام نسائی ؒا ورائمہ کی ایک جماعت نے اس کی تضعیف کی ہے۔

امام عقیلی ؒ فرماتے ہیں کہ:

"امام ثوری  نے بیان کیا کہ میں نے کلبی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عطیہ نے میری کنیت ابو سعید رکھ لی ہے۔"

امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ:

"سفیان ثوری ؒ عطیہ کی حدیث کی تضعیف کیا کرتے تھے ۔"

یحییٰ بن معین ؒ بھی عطیہ کو ضعیف بتایاکرتے تھے۔"

علامہ ہشیمی ؒ بیان کرتے ہیں:

"ضعیف ہے لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے۔"

ابن معین ؒ نے اس کی توثیق کی ہے لیکن امام احمد ؒ اور ایک جماعت نے اسکوضعیف بتایاہے ضعیف ہے اور اس کی لچک کے ساتھ توثیق کی گئی ہے۔"

امام ابن حبانؒ نے بھی عطیہ کا کلبی کی کنیت ابو سعید مقرر کرکے(عربی) کے ساتھ اس سے ر وایت کرنا بیان کیا ہے اور پھر فرماتے ہیں:

"پس اس کے ساتھ احتجاج اور اس کی حدیث لکھنا جائز نہیں ہے۔

(عربی)

عطیہ العوفی کے تفصیلی ترجمہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں:

(الضعفاء والمتروکون لنسائیؒ۔ تاریخ یحییٰ بن معین ؒ۔التاریخ الکبیر للبخاریؒ۔الضعفاء  الکبیر للعقیلیؒ ۔الجرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ۔کتاب المجروحین لابن حبانؒ ۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ،میزان الاعتدال لذہبیؒ۔دول  السلام لذہبیؒ۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ،تقریب التہذیب لابن حجرؒ،تعریف اہل التقدیس لابن حجرؒ ،۔المجوعۃ فی الضعفاء والمتروکین للسیروان۔الطبقات الکبریٰ ۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃللبانی،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للبانی ،معرفۃ الثقات لعجلی ؒ ،۔مجمع الزوائد لہثیمی ؒ ۔فہارس مجمع الزوائد للبسیونی الذغلول اور تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ؒ وغیرہ۔[24]

ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ اس روایت میں فساد کی  اصلی جڑ علیہ العوفی ہے،ایسا محض اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ "ضعیف" ہے یا اس میں "شیعیت" موجود ہے بلکہ وہ ان عیوب کے ساتھ مدلس بھی ہے۔ اور اس کی تدلیس کی نوعیت انتہائی خطرناک ہے جیسا کہ ا وپر بیان کیاجاچکاہے۔کہ ائمۃ الجرح والتعدیل کے نزدیک اس نے از خود کلبی کی کنیت ابو سعید مقرر کرلی تھی۔اور اس کنیت کے ساتھ وہ مشہور زمانہ کذاب "کلبی" سے روایات سے سن کر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بیان کردیتا تھا۔جس سے اکثر لوگوں کو یہ گمان پیدا ہوجاتا تھا کہ وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت"ابو سعید الخدری"  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےروایت کررہاہے حالانکہ وہاں"ابو سعید" سے مراد کلبی ہوتا تھا۔اس روایت کی بدقسمتی بھی یہی ہے کہ اس کو"عطیہ العوفی" نے قرآن کی آیت (عربی) کی تفسیر میں "ابو سعید" سے روایت کیا ہے۔بعض لوگوں کو یہاں بھی "ابو سعید" سے وہم ہوا ہے کہ یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت "ابو سعید الخدری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ " ہیں حالانکہ یہاں بھی اس سے عطیہ کی مرد کذاب کلبی ہی ہے۔

چنانچہ امام سیوطیؒ ،امام ابن الجوزیؒ،امام ذہبی ؒ، علامہ شوکانی ؒ،علامہ سخاوی ؒ ،علامہ محمد اسماعیل عجلونیؒ۔اور علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اس طریق کو بیان کرتے وقت "ابو سعیدالخدری "  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بجائے فقط "ابو سعید" لکھنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔[25]

پس معلوم ہوا کہ:

1۔یہ روایت مرفوع نہیں بلکہ مرسل ہے۔نیز،

2۔اس کی عدم  صحت کے لئے اسے عطیہ العوفی کا روایت کرنا ہی کافی ہے۔حسن بن عرفہؒ کے طریق میں عمر و بن قیس الملائی سے روایت کر نے والے راوی کا نام"محمد بن کثیر الکوفی القرشی" ہے۔یہ شخص بھی انتہائی مجرو ح ہے۔چنانچہ اما م عقیلیؒ فرماتے ہیں۔

"اس کی حدیث میں وہم ہوتاہے۔"

امام احمد ؒ نے اس کی حدیثیں جلا دی تھیں اور اس سے راضی نہ تھے۔"

امام بخاری ؒ کا قول ہے کہ:

"منکرالحدیث  ہے"

یحییٰ  ؒ کا قول ہے کہ :

"وہ شیعہ تھا لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"

امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:

" یہ ان اشخاص میں سے ایک تھا جو ثقات کی طرف سے اشیائے مقلوبات بیان کرنے میں منفرد تھے۔۔۔اس کے ساتھ کسی بھی حال میں احتجاج درست نہیں ۔"

امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"ابن المدینی ؒ کا قول ہے کہ ،ہم نے اس سے عجائبات لکھی ہیں۔"

ابن عدی ؒ فرماتے ہیں کہ:

"اس کی حدیث کا ضعف واضح ہوتاہے۔"

علامہ ہثیمی ؒ فرماتے ہیں:

"امام احمدؒ ،بخاریؒ اور ابن مدینی ؒ وغیرہ نے اس کی تضیعف کی ہے مگر ابن معین ؒ نے اس کی توثیق کی ہے۔"

ایک جگہ لکھتے ہیں:

"بہت زیادہ ضعیف ہے۔"

علامہ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:

"ضیعف ہے"

علامہ برہان الدین حلبی ؒ فرماتے ہیں:

"امام ابن الجوزیؒ نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے فضائل میں سے ایک حدیث روایت کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس میں محمد بن کثیر ؒ ہے جو شیعہ تھا اور وضح احادیث کے لئے متہم ہے۔"

(محمد بن کثیر الکوفی کے  تفصیلی ترجمہ کے لئے الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ ،میزان الاعتدال لذہبیؒ،کتاب المجروحین لابن حبان ؒ،التاریخ الکبیر بخاریؒ،تاریخ یحییٰ بن معین ؒ،تقریب التہذیب لابن حجرؒ،کشف الحثیث للعجلی ؒ،الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ؒ ،تاریخ روایۃ الدوریؒ،الکامل فی الضعفاء لابن عدیؒ،الموضوعات لابن الجوزی ،مجمع الزوائد للہثیمی،فہار مجمع الزوائد للغزول اور سلسلۃ الاحادیث الضیعفہ والموضوعۃ للبانی وغیرہ ملا حظہ فرمائیں)[26]

امام عقیلیؒ نے،"الضعفاء الکبیر" میں اور امام ذہبیؒ نے "میزان الاعتدال فی نقد الرحال میں اس حدیث کو نقل کرنے کے  بعد اسے محمد بن کثیر الکوفی القرشی کی منکرات میں سے شمار کیا ہے۔[27]

امام ابن الجوزیؒ نے محمد بن کثیر کے اس طریق کو ا پنی کتاب "الموضوعات" میں بیان کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے:

"ابو سعید کی حدیث میں محمد بن کثیر ؒ کا عمرو کے ساتھ تفرد ہے۔"

امام احمد ؒ فرماتے ہیں:

"ہم نے اس کی احادیث جلاڈالی تھیں۔"

علی  بن المدینی ؒ کا قول ہے کہ:

"ہم نے اس سے عجائبات لکھیں اور اس کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے۔[28]

علامہ ابن عراق الکنانی ؒ" تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ" میں اس حدیث کی نسبت  لکھتے ہیں کہ:

"اس میں محمد بن کثیر بہت زیادہ ضعیف ہے۔"[29]

اسی طرح امام جلال الدین سیوطی ؒ نے بھی "اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ" میں اس طریق میں محمد بن کثیر کے تفرد اور ضعف کا تذکرہ کیاہے لیکن آن رحمۃ اللہ علیہ امام ابن  الجوزی ؒ پر تعقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ابو سعید کی حدیث کی تخریج بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں بطریق الغریابی (عربی) کی ہے اور ترمذی ؒ نے بطریق (عربی) کی ہے۔ان دونوں طرق میں محمد بن کثیر کاتفرد نہیں ہے۔اورابو حاتم ؒ فرماتے ہیں کہ مصعب محل صدق ہے۔ابن معین ؒ نے اس کی توثیق کی ہے۔ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ شیعہ ہے۔لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کی متابعت پائی جاتی ہے۔ابن مردودیہ ؒ نے اپنی تفسیر میں محمد بن مروان (عربی) کے طریق سے ا س کی تخریج کی ہے ۔اور عمرو بن قیس عطیہ سے روایت کرنے میں متابعت رکھتاہے۔ابو نعیم ؒنے اس کی تخریج اپنی کتاب الطب  میں بطریق جعفر بن محمد بن الحسین الخزاز الکوفی :

(عربی)

کی ہے۔"[30]

"اللآلی المصنوعۃ" میں مذکور اس تعقب کو علامہ ابن عراق الکنانیؒ نے بھی"تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ" میں نقل کیا ہے۔[31]

لیکن امام سیوطیؒ شاید اپنے جوش تعقب میں یہ بھول گئے ہیں کہ ان کا بیان کردہ ہر طریق(جو محمد بن کثیر کے تفرد سے پاک ہیں)میں فساد کی اصل جڑ"عطیہ العوفی" ضرور موجود ہے۔اور وہ "ابو سعید خدری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ " سے نہیں بلکہ ابو سعید کلبی سے اس حدیث کی روایت کرتا ہے جہاں تک ترمذی ؒ کے طریق میں مصعب بن سلام کی توثیق کا  تعلق ہے تو راوی مصعب بن سلام التمیمی الکونی  تنزیل بغداد کی نسبت اما ذہبیؒ فرماتے ہیں:

"علی بن المدینیؒ نے اسے ضعیف بتایا ہے جبکہ ابو حاتم ؒ اس محل صدق قرار  دیتے ہیں۔اس کی نسبت ابن معین ؒ کے دو اقوال مشہور ہیں۔"

ابن حبان ؒ فرماتے ہیں کہ:

"کثیر الغلط ہے لہذا اس کے ساتھ کوئی حجت نہیں ہے۔"

امام ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں:

"صدوق ہے لیکن اس کو وہم رہتا ہے۔"

(تفصیلی ترجمہ کے لئے معرفۃ الثقات للعجلی ؒ تقریب التہذیب لابن حجر ؒتہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔تاریخ بغداد للخظیب کتاب المجروحین لابن حباب ؒ،میزان الاعتدال للذیبیؒ الضعفاء الکبیر لعقیلیؒ ۔التاریخ الکبیر للبخاریؒ اور تحفۃ الاحوذی للمبارک فوری وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔[32]

ترمذیؒ کے اس طریق میں ایک دوسرا راوی احمد بن ابی الطیب البغدادی ابو سلیمان المروزی ہے۔جو مصعب بن سلام سے روایت کرتاہے۔مگر وہ بقول حافظ ابن حجرؒ عسقلانی "صدوق حافظ تو ہے مگر اس سے اغلاط بھی مروی ہیں۔جس کی وجہ سے ابو حاتم ؒ نے اس کی تضعیف کی ہے صحیح بخاریؒ میں اس سے مروی صرف ایک حدیث بصورت متابعت موجود ہے۔"

اما م ذہبی ؒ فرماتے ہیں:

"اس کی توثیق کی گئی ہے صرف ابو حاتمؒ نے اس کی تضعیف کی ہے۔"

اور ابو زرعہؒ کا قول ہے کہ:

"وہ محل صدق ہے۔"

(تفصیلی ترجمہ کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ۔تہذیب التہذیب لابن حجرؒ۔معرفۃ الرواۃ لذہبیؒ۔الکاشف فی معرفتۃ من لہ روایۃ فی الکتب السنۃ لذہبی ؒ میزان الاعتدال لذہبیؒ۔تحفۃ الاحوذی لمبارکفوری ؒ "اورھدی"  وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔)[33]

 پیش نظر سند کے مندرجہ بالا ان دونوں راویوں کے متعلق کتب الجرح والتعدیل میں اگرچہ کوئی سخت جرح مذکور نہیں ہے لیکن چونکہ وہ واہمہ۔اور کثرت سے مغالطہ کاشکار رہتے ہیں۔لہذا باوجود صدوق ہونے کے ان کو بصورت متابعت زیادہ سے زیادہ "حسن الحدیث" کہا جاسکتاہے۔

شیخ ابو الفضل الغماری نے "کنز الیثمن" [34]میں اور علامہ محمد جمال الدین قاسمی ؒ نے "قواعد لتحدیث" [35]وغیرہ میں بھی اس کی صحت بیان کی ہے۔مگر اس سلسلے میں یقیناً اس سے خطا سرزد ہوئی ہے۔افسوس توامام تیمیہؒ جیسے محقق وقت پر  ہوتاہے۔کہ جنھوں نے اس حدیث کو مومنین کی توصیف میں نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے:

"۔۔۔۔۔۔۔پس یہ لوگ مومنوں میں سے ہیں کہ جن کے لئے ایک حدیث  جسے ترمذیؒ نے ابو سعید الخدری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا ہے،میں آیا ہے۔(عربی) امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں کہ:

"یہ حدیث  حسن ہے۔"[36]حالانکہ امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کو"حسن کی بجائے غریب قراردیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

(عربی)[37]

امام عقیلی ؒ نے اس حدیث کو عمر بن قیس الملائی کے ایک دوسرے طریق سے بھی (عربی) کے ساتھ روایت کیاہے جو اس طرح ہے:

(عربی)

اس طریق کے متعلق خود امام عقیلیؒ فرماتے ہیں:

(عربی)[38]

اور خطیب بغدادیؒ امام عقیلیؒ سے نقل فرماتے ہیں:

(عربی)[39]

اس حدیث کو امام ذہبیؒ نے محمد بن کثیر الکوفی القرشی کے ترجمہ میں اس کی مناکیر بیان کرتے ہوئے آگے ذکر کیا ہے،[40]امام ابن الجوذیؒ نے اسے اپنی کتاب"الموضوعات" میں وار دکیا ہے،[41]مگر ا س پر کوئی کلام نہیں کیا،علامہ سخاوی ؒ  اور علامہ سیوطیؒ نے اس روایت کے متعلق خطیب ؒ کا قول نقل کیا ہے کہ:

"یہ طریق محفوظ ہے"[42]

علامہ ابن عراق الکنانیؒ نے بھی اس طریق کو محفوظ قراردیا ہے۔[43]

2۔حضرت  ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  الباھلی کی مرفوع حدیث کا جائزہ:

یہ حدیث بطریق بکر بن سہل:

(عربی)

مروی ہے۔اس کی تخریج طبرانی ،ھبروی اور صوفی حکیم ترمذی نے اپنی"النوادر" وغیرہ میں کی ہے۔طبرانیؒ سے ابن عدی ؒ نے "الکامل فی الضعفاء" میں ،خطیب بغدایؒ نے اپنی "تاریخ" میں ،ابو نعیم ؒ نے "حلیۃ الاولیاء" میں،عبدالرحمٰن بن نصر الدمشقی ؒ نے"الفوائد" میں حافظ ضیاء المقدسی ؒ نے "المنتقی من مسموعاۃ بمرو" میں اور حافظ ا بن عبدالبرؒ نے "جامع الکلم" وغیرہ میں اس کو روایت کیا ہے۔علامہ سخاویؒ نے"المقاصد الحسنۃ" میں ،علامہ مبارک پوری نے"تحفۃ الاحوذی" میں ،علامہ ہثیمی ؒ نے"مجمع الزوائد" میں ،علامہ زرکشیؒ نے "التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ" میں ،علامہ شوکانیؒ نے"الفوائد المجموعۃ" میں اور علامہ عجلونی ؒ نے "کشف الخفاء" وغیرہ میں اس کو وارد کیا ہے۔[44]

اس حدیث کے متعلق علامہ زرکشی ؒ طبرانی ؒ سے نقل فرماتے ہیں:

"اس حدیث کو اس سند کے سوا ء  اور کسی مرفوع کے ساتھ روایت نہیں کیا گیا ہے اس میں معاویہ بن صالح کا تفرد ہے۔"[45]

اس طرح ابن عدیؒ فرماتے ہیں:

"مجھے علم نہیں کہ اس حدیث کو کسی نے راشد بن سعید سے بغیر معاویہ کے  روایت کیا ہو اور اس سے ابو صالح  روایت کرتا ہے۔جو میرے نزدیک مستقیم الحدیث  ہے۔بجز اس کے کہ ا س کی احادیث کی اسانید اور متون میں اغلاط  واقع ہوتی ہیں۔لیکن کسی نے اس پرکذب کا نہیں لگایا ہے۔"[46]

اس حدیث کو امام ابن الجوزیؒ نے بھی اپنی "الموضوعات" میں وارد کیا  ہے اور فرماتے ہیں:

"ابو امامہ کی حدیث میں عبداللہ بن صالح یعنی کاتب اللیث ہے۔"

امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ:

"وہ کچھ بھی نہیں ہے"

ابن حبان ؒ کا قول ہے کہ:

"ثقات کی طرف سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جو اثبات کی حدیث میں سے نہیں ہوئیں۔"[47]

لیکن علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث کو"اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ" میں وار  کرنے کے بعد امام ابن الجوزی ؒ پر تعقب کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

"ابو امامہ کی حدیث میں تفرد ہونے کے باجود وہ حسن کی شرط  پر ہے۔اور اس کے راوی عبداللہ بن صالح میں کوئی حرج نہیں ہے۔"[48]

علامہ ابن عراق الکنانیؒ نے بھی "تنزیعۃ الشریعۃ المرفوعۃ" میں علامہ سیوطی ؒ کے تعقب سے اپنی موافقت ظاہرکی ہے۔"[49]

علامہ ہثیمیؒ نے بھی اس حدیث کی اسناد کو "حسن" بتایا ہے۔[50]

لیکن میرے نذدیک واقعہ یہ ہے کہ اس حدیث کا"حسن" کی شرط پر ہونے کا دعویٰ قطعی باطل ہے۔اس کے ضعف" کی  کئی علتیں ہیں مثلاً:۔

1۔بکر بن سہل الدمیاطی کا عبداللہ بن صالح کاتب اللیث کے ساتھ تفرد۔

2۔عبداللہ بن صالح کاتب اللیث کاکثیر الغلط اور مغفل ہونا۔

بکر بن سہل الدمیاطی ابومحمد کے متعلق امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

"امام نسائی ؒ کا قول ہے کہ،ضعیف ہے۔"

علامہ ہثیمی ؒ اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین اللبانی حفظہ اللہ نے بھی بکر بن سہل کے "ضعف " کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(تفصیلی  ترجمہ کے لئے میزان الاعتدال لذہبیؒ ۔مجمع الزائد ہشیمیؒ ۔فہارس مجمع الزوائد للذغول اورسلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔[51]

اس سند کا دوسرا مجروح راوی عبداللہ بن صالح ابو صالح صاحب اللیث ہے جس کی نسبت امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

"وہ صاحب حدیث وعلم ہے لیکن اسے پاس مناکیر ہیں۔"

عبدالملک بن شعیبؒ کاقول ہے کہ:

"ثقہ مامون ہے۔"

امام احمد بن حنبلؒ  فرماتے ہیں کہ:

"پہلے وہ حدیث کو سختی کے ساتھ پکڑنے والا تھا۔ لیکن اپنی آخری عمر میں  فساد کا شکار ہوگیا تھا۔

ابو حاتمؒ کا قول ہے کہ:

" صدوق ہے"

ابو زرعہؒ کا قول ہے کہ:

"میرےنزدیک کسی نے اس پر کذب بیانی کا اعتماد نہیں کیا۔پس وہ حسن الحدیث ہے۔"

احمد بن صالح ؒ فرماتے ہیں:

"(عربی) یعنی ہیچ ہے۔"

صالح جزرہ کا قول ہے کہ:

"ابن معین ؒ اس کی توثیق کرتے تھے ۔لیکن میرے نزدیک وہ حدیث میں کذب سےکام لیتاہے۔"

امام نسائی ؒ نے فرمایا کہ:

"ثقہ نہیں ہے"

ابن المدینیؒ فرماتے ہیں کہ:

" میں اس سے کوئی بھی روایت نہیں لیتا۔"

ابن حبان ؒ فرماتے ہیں کہ:

"فی نفسہ صدوق ہے۔اس کی جن احادیث میں مناکیر ہوتی ہیں وہ اس کے پڑوسی کی طرف سے ہوتی ہیں۔(جو اس سے مخاصمت کی بناء پر اس کے خط میں جھوٹی احادیث لکھ کر اس کے گھر میں ڈال دیاکرتا تھا۔لیکن ابو صالح اس میں  تمیز نہ کرپاتا تھا)۔"

ابن عدیؒ کا قول ہے کہ:

"میرے  نزدیک وہ مستقیم الحدیث ہے۔اگرچہ اس کی اسانید اور متون میں غلط چیزیں واقع ہیں۔"

امام ذہبیؒ  فرماتے ہیں:

"امام بخاریؒ نے اس سے صحیح  میں روایت لی ہے لیکن وہ تدلیس کرتا ہے۔"

امام نسائی ؒ نے اس کو اپنی کتاب "الضعفاء والمتروکون" میں وارد کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ:

"وہ ثقہ نہیں ہے"

امام ابن حبانؒ کتاب المجروحین" میں اس کی نسبت فرماتے ہیں:

"بہت زیادہ منکر الحدیث ہے۔اثبات سے ایسی چیزیں روایت کرتا ہے۔جو ثقات کی حدیث کے مشابہ نہیں ہوتیں۔اس کے پاس کثرت کے ساتھ ایسی مناکیر ہیں۔جنھیں وہ ائمہ مشاہیر کی ایک قوم کے ساتھ روایت کرتاہے۔وہ فی نفسہ صدوق ہے۔"

علامہ ہشیمی ؒ فرماتے ہیں:

"ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے جبکہ دوسروں نے اس کی  تضعیف کی ہے۔"

ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"جمہور نے اس کی تضعیف کی ہے۔حالانکہ عبدالملک بن شعیبؒ نے اسے ثقہ مامون بتایاہے۔"

اور حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

"صدوق مگر کثیر الغلط ہیں جیسا کہ اس کی کتاب سے ثابت ہے ۔۔۔اور اس میں غفلت بھی موجود ہے۔"

(عبداللہ بن صالح ابو صالح صاحب اللیث کے تفصیلی ترجمہ کے لئے "الضعفاء والمتروکون"للنسائی ؒ۔التاریخ الکبیر للبخاریؒ۔الضعفاء الکبیرؒ۔للعقیلیؒ۔الجرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ۔کتاب المجروحین لابن حبان،۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ۔میزان الاعتدال للذہبیؒ ۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔المجوع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان،مجمو الزوائد للہشیمی ؒ۔فہارس مجمع الزوائد للزغلول۔تحفۃ الاحوزی للمبارکفوریؒ۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ؒ اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ؒ وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔[52])

جب معلوم ہوچکا کہ عبداللہ بن صالح ابوصالح صاحب اللیث حدیث کی اسانید اور متون میں کثرت کے ساتھ غلطیاں کرتا ہے۔ اس میں غفلت بھی موجود ہے۔جو کسی معمولی نوعیت کی نہیں ہے۔بلکہ وہ اپنی کتب  میں احادیث مفقلہ تک کو داخل کردیتا ہے۔اور ان کی حقیقت کو نہیں پہچانتا۔مزید اس سے مناکیر بھی مروی ہیں۔تو ایسی حالت میں اس راوی کے متعلق علامہ سیوطیؒ اور علامہ ابن عراق الکنانی ؒ وغیرہ کا یہ کہنا کس طرح درست ہوسکتا ہے کہ:

"اس میں کوئی حرج نہیں ہے"

یا اسی طرح علامہ ہشیمیؒ ۔علامہ سیوطیؒ اور علامہ ابن عراقؒ وغیرہ کا یہ فرمانا کہ :

"یہ حدیث حسن کی شرط پر ہے؟"           (جاری ہے)

[1] ۔الجامع ترمذی ؒ مع  تحفۃ الاحوذی ج4،صفحہ 132۔
[2] ۔فتح الباری لابن حجر ؒج6 ص 416۔
[3] ۔تفسیر جلالین برحاشیہ قرآن کریم ص219۔
[4] ۔تحفہ الاحوذی للمبارک فوری ج4،ص 132،133۔
[5] ۔قاموس الیاس العصری لانطون ص498۔
[6] ۔ایضاً۔
[7] ۔کشف الخفاء للعجلونی ؒ ج1 ص43۔
[8] ۔تحفۃ الاحوذی للمبارک فوری ؒج4،ص 132۔133۔
[9] ۔ایضاً وفیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی ؒ ج1،ص142۔143۔
[10] ۔احیاء العلوم الدین الغزالیؒ ج3 ص28۔ترجمہ محمد احسن صدیقی نانوتوی طبع دارالاشاعت کراچی 1978ء۔
[11] ۔کشف المعجوب مصنفہ علی ہجویریؒ ص289،طبع لاہور 1978ء۔
[12] ۔عوارف المعارف للسہروردی صفحہ 114۔طبع مصر 1292۔
[13] ۔احیاء علوم الدین لغزالیؒ ص30۔
[14] ۔ایضاً ص 33۔
[15] ۔قوت القلوب لابی طالب المکی ج1،ص187،طبع مصر 1391ہجری۔
[16] ۔(عربی)
[17] ۔فتوحات المکیہ لابن عربی ج2ص495۔طبع مصر 1329ہجری۔
[18] ۔الرسالۃ القشیریۃ لابی القاسم القشیری ص139،طبع مصر،1304ہجری۔
[19] ۔ایضاً ص138۔
[20] ۔ایضاًص137۔
[21] ۔ایضاً ص138۔
[22] ۔جامع ترمذی مع تحفہ الاحوزی ج4 ص 132،حلیۃ الاولیاء لابی نعیم اصبہانی ؒ،ج4 ص781،94ج2س118ج10ص281۔اطبقات الصوفیہ لسلمیؒ ص156۔اربعین الصوفیہ للمالینیؒ ج3 ص1 اربعین الصوفیہ لابی نعیم ج1 ص62۔احیاء علوم الدین الغزالی ؒ(مترجم) ج3 ص 28 ،تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ؒ ج3 ص 191ج5ص99 ص7 ص246۔التاریخ الکبیر لبخاری ؒج4 ص 354۔الضعفاء الکبیر عقیلیؒ ج4 ص129۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒج1 ص 220 کتاب المجروحین لابن حبان ؒ ج3 ص32۔میزن الاعتدال لذہبی ؒج4 ص71،صفۃ الصفوۃ لابن الجوزیؒ ج2 ص126۔تفسیر ابن جریرؒ ج14۔ص31۔32۔تفسیر ابن کثیرؒ ج3 پ14 الجزلحسن بن عرفہ (بعدم قید صفحات) الامثال لابی الشیخ ؒ  صفحہ 126۔128۔الفوائد النصر دمشقی ؒ ج2 ص229۔جامع العلم لابن عبدالبر ؒج1 ص196۔المنتقی من مسموعاۃ بمرولضیاء المقدسیؒ ج2ص32 ۔127۔مجمع الزوائد لہشیمی ؒج10،ص268۔مجلسین من الامال لابن بشران ص210۔211۔طبقات الصبہاینین لابی الشیخ ص223۔224۔کنز الشمین لابی الفضل الغماریؒ حدیث 55الجامع الکبیر لسیوطیؒ۔ج1 ص17۔الجامع الصغیر حدیث 151۔ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ لبانی حدیث 127۔المنتشرۃ لسیوطیؒ حدیث 9۔فیض القدیر لمناویؒ۔ج1 ص142۔144۔تحفۃ الاحوزی لمبارکفوری ج4 ص 132۔133۔اسنمی المطالب لحوت بیروتی،ص30 تمیز الطیب لشیبانی ص13۔المقاصد الحسنۃ لسخاویؒ ص19۔المتذکرۃ فی الاحادیث المتشرہ لذرکشی ص181۔ا82۔اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ لسیوطی ؒج2۔ص329۔الموضوعات لابن لاجوزی ؒجص146۔148۔ تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی ؒ ج2،ص305۔306۔کشف الخفاء ومزیل الباس لعجلونی ؒ ج1 صآ42۔الفوائد المجوعۃ لشوکانی ؒ ص243۔الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء اشیطان لابن تیمیہؒ ص 96۔طبع ریاض قواعد الحتدیث من  فنون مصطلح الحدیث لجمال الدین قاسمی ؒ ص165۔فہرس الاحادیث الصحیۃ در اختتام الضعفاء الکبیر العقیلی ؒ مرتبہ عبدالمعطی امین قلجع ج4 ص501۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ لبانی ج4 ص244۔302۔سلسلۃ الاحادیث الصحیۃ للبانی ج4 ص268۔
[23] ۔الجز لحسن بن عرفہ بعدم الصفحات التاریخ الکبیر للبخاریؒ ج4 ص354۔جامع الترمذیؒ مع تحفۃ الاحوذی ج4 الضعفاء الکبیر العقیلی ؒ ج4 ص129 تاریخ بغداد للخطیب ؒ ج7  ص 242۔حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ؒ ج1 ص281۔صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی ج2 ص126۔الطبقات الصوفیہ لسلمی ؒ ص 156۔الامثال لابی الشیخ ص127۔التفسیر لابن جریر ؒ ج14 ص 31۔اربعین الصوفیہ لعالینی ؒ ج3 ص1 المقاصد الحسنۃ لسخاوی ؒ ص 19 ۔تمیز الطیب لشیبانی ؒ ص13۔الفوائد المجوعۃ لشوکانی ؒ ص243تحفۃ الاحوذی للمبارک فوری ج4 ص133۔کشف الخفائ عجلونیؒ ج1 ص42۔التفسیر لابن کثیرؒ پ14۔ج3۔1
[24] ۔الضعفاء والمتروکون لنسائی ترجمہ 481۔تاریخ یحییٰ بن معین ؒ ج2  ص407۔التاریخ الکبیر للبخاری ؒج7 ص 8۔الضعفاء الکبیر لعقیلی ؒ ج3 ص359۔الجرح والتعدیل لابن ابی  حاتم ؒ ج6 ص382۔کتاب المجروحین لابن حبان ج2 ص 176۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ ج5 ترجمہ 2007۔میزان الاعتدال لذہبی ؒ ج3 ص79۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ ج7 ص224۔تقریب التہذیب لابن حجر ؒج2 ص24۔المجوع فی الضعفاء والمتروکین لسیروان ص185۔وغیرہ
[25] ۔الموضوعات لابن الجوزیؒ ج3 ص147۔اللآلی المصنوعۃ لسیوطیؒ ج2ص329۔میزان الاعتدال لذہبیؒ ج4 ص المقاصد الحسنۃ لسخاویؒ ص19 کشف الخفاء للعجلونی ؒ ج1 ص 42۔43۔والفوائد المجموعۃ لشوکانی ؒ ص243۔244۔
[26] ۔ تاریخ یحییٰ بن معین ؒ ج2  ص536۔التاریخ الکبیر للبخاری ؒج1 ص 217۔الضعفاء الکبیر لعقیلی ؒ ج4 ص129۔الجرح والتعدیل لابن ابی  حاتم ؒ ج8ص68۔کتاب المجروحین لابن حبان ج2 ص 287۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ ج5 ترجمہ 2007۔میزان الاعتدال لذہبی ؒ ج4 ص17۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ ج7 ص224۔تقریب التہذیب لابن حجر ؒج2 ص203۔ ۔ تاریخ یحیی ٰ بن معین ؒ ج2 ص536۔ کشف الحثیث للعجلی ؒ،401وغیرہ
[27] ۔الضعفاء الکبیر للقعیلیؒ ج4 س129۔ومیزان الاعتدال لذہبیؒ ج4 ص17۔
[28] ۔الموضوعات لابن الجوزیؒ ج3 ص147۔
[29] ۔تنزیہۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ج2 ص305۔
[30] ۔اللآلی المصنوعۃ لسیوطیؒ ج2ص329۔330۔
[31] ۔تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ؒ ج2 ص305۔
[32] ۔ معرفۃ الثقات لعجلی ؒ ج2ص 280۔تقریب التہذیب لابن حجر ج2 ص 251۔ تاریخ بغداد للخظیب ج 13 ص 109۔کتاب المجروحین لابن حبان ج3 ص28۔ ،میزان الاعتدال للذیبیؒ ج4 ص120۔ الضعفاء الکبیر لعقیلیؒ ۔ج 4  ص 195۔التاریخ الکبیر للبخاریؒ  ج۔7۔ص 354۔اور تحفۃ الاحوذی للمبارک فوری ج4 ص132۔
[33] ۔ تقریب التہذیب لابن حجر ؒج 1۔ص 17۔۔تہذیب التہذیب لابن حجرؒ۔ج 1۔ ص 45۔معرفۃ الرواۃ لذہبیؒ58۔الکاشف فی معرفتۃ من لہ روایۃ فی الکتب السنۃ لذہبی ؒ ج1ص60۔ ۔میزان الاعتدال لذہبیؒ۔ ج 1۔ص 102۔تحفۃ الاحوذی لمبارکفوری ج4۔ص 132۔ ھدی"  ج 2۔ص۔113۔
[34] ۔کنز الثمین لابی الفضل الغماری حدیث 55۔
[35] ۔قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث للقاسمی 165۔
[36] ۔الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان لابن تیمیہؒ ص96۔
[37] ۔جامع الترمذی ؒ مع تحفۃ الاحوذی ؒ ج4 ص132۔
[38] ۔ الضعفاء الکبیر للعقیلیؒ ج4ص129۔
[39] ۔تاریخ بغداد لخطیب ؒ ج3 ص91۔
[40] ۔میزان الاعتدال لذہبیؒ ج4 ص17۔
[41] ۔الموضوعات لابن الجوزیؒ ج3 ص148۔
[42] ۔المقاصد الحسنۃ لسخاوی صفحہ 19۔اللآلی المصنوعۃ للسیوطی ؒج2،ص330۔
[43] ۔تنزیعۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراقؒ ج2 ص305۔306۔
[44] ۔ طبرانیؒ سے ابن عدی ؒ  "الکامل فی الضعفاء" ج1۔ص220۔ ،خطیب بغدایؒ "تاریخ" ج5ص99۔ ،ابو نعیم ؒ "حلیۃ الاولیاء"  ج 6۔ص 118۔ ،عبدالرحمٰن بن نصر الدمشقی ؒ ج2ص 229۔"الفوائد" میں حافظ ضیاء المقدسی ؒ ج 2۔ص 127۔ "المنتقی من مسموعاۃ بمرو"  حافظ ا بن عبدالبرؒ ج 1ص196۔ "علامہ سخاویؒ نے"المقاصد الحسنۃ" ص19۔ ،علامہ مبارک پوری "تحفۃ الاحوذی" ،علامہ ہثیمی ؒ ج10۔ص268۔"مجمع الزوائد"  ،علامہ زرکشیؒ  "التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ" ص 181۔182۔میں ،علامہ شوکانیؒ نے"الفوائد المجموعۃ"   ص 243۔میں اور علامہ عجلونی ؒ نے "کشف الخفاء"ج1۔ص42۔وغیرہ
[45] ۔التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرہ لذرکشی ؒ ص181۔182۔
[46] ۔الکامل فی الضعفاء لابن عدیؒ ج1ص220۔
[47] ۔الموضوعات لابن الجوذیؒ ج3 ص147۔
[48] ۔اللآلی المصنوعۃ لسیوطیؒ ج2 ص330۔
[49] ۔تنزیعۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق ؒ ج2 ص306۔
[50] ۔مجمع الزوائد لہثیمیؒ ج10ص268۔
[51] ۔میزان الاعتدال للذہبیؒ ج1ص345۔مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہشیمی ؒ ج4 ص100۔ج5ص46۔فہارس مجمع الزوائد لذغول ج ص259۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج4 ص33۔127۔
[52] ۔"الضعفاء والمتروکون"للنسائی ؒ۔ص 334۔التاریخ الکبیر للبخاریؒ۔ ص 5 ج 121۔الضعفاء الکبیرؒ۔للعقیلیؒ۔ج 2ص 267الجرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ۔ج 5۔ص 86۔کتاب المجروحین لابن حبان، ج2ص40۔الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ۔ج 4۔ص 1522۔میزان الاعتدال للذہبیؒ ج 2۔ص 440۔۔تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ۔ج 5۔ص 258۔المجوع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان،ص 142۔مجمو الزوائد للہشیمی ؒ ج1۔ص 63۔فہارس مجمع الزوائد للزغلول۔ج 3 ص 332۔تحفۃ الاحوزی للمبارکفوریؒ۔ ج 2ص 15۔سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ؒ ج 1ص 228۔اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج1۔ص 66۔647۔