جن یا فرشتہ؟؟؟
جہاں یہ فرمایا:۔﴿كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ... ﴿٥٠﴾...الكهف
ترجمہ:۔ "وہ جنات میں سے تھا اپنے رب کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا۔"
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابلیس کا اس حکم عدولی سے پہلے فرشتے میں شمار ہوتا تھا۔"عزازیل" نام تھا۔زمین پر رہتا تھا اور نہ صرف سب سے زیادہ علم رکھتا تھا۔بلکہ سب سے زیادہ عابد بھی تھا۔انہیں خوبیوں کے گھمنڈ میں اس نے تکبر کیا۔مگر یہ بات طے ہے کہ اس کا تعلق جنات سے تھا۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اس کا پہلا نام عزازیل تھا۔فرشتوں میں معزز تھا۔چار پر ر کھتا تھا۔ بعد میں ابلیس کہلایا۔تیسری روایت یہ ہے کہ آسمان وزمین کی بادشاہت اورسیاوت کا مالک تھا۔لیکن معصیت کی پاداش میں اللہ نے اسے مسخ کرکے شیطان رجیم قرار دے دیا۔۔۔
حسن بصری ؒ کہتے ہیں کہ ابلیس ہر گز ملائکہ میں سے نہیں تھا۔ بلکہ جس طرح آدم علیہ السلام اصل نوع انسان سے ہیں۔اسی طرح اسی ملعون کی جنس "جن" ہے (ف) ابوالعالیہ کا کہنا ہے اس آیت میں "الکافرین" سے مراد نافرمان ہیں۔سدیؒ کاکہنا ہے کہ"الکافرین" سے مراد وہ کافر ہیں جو بعد میں ہوں گے!
قرطبی ؒ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو کفر وگمراہی ہی پر پیدا کیاتھا۔ مگر اس کے اعمال فرشتوں جیسے تھے۔ لیکن بعد میں اس کے اصل میں لوٹا دیا گیا۔"(عربی)" طے ہوا وہ کافروں میں سے تھا۔
سجدہ تعظیمی:۔
(ف) قتادہ ؒ کہتے ہیں کہ فرشتوں کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنا در اصل حکم الٰہی کی تعمیل تھی۔اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو یہ اعزاز بخشا کہ انہیں مسجود ملائک بنادیا۔بعض نے کہا یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم علیہ السلام کے لئے بطور عزت وتکریم سب سے پہلا ہدیہ تھا۔(یعنی سجدہ تعظیمی) جس طرح یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے سجدہ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔(عربی) (یوسف ۔100)
اور سب یوسف علیہ السلام کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔مگر سجدہ تعظیمی سابقہ امتوں میں تو جائز تھا لیکن امت مسلمہ کے لئے ممنوع قرار دے دیا گیا۔ معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔میں نے شام میں دیکھا وہ لوگ اپنے علماء کو سجدہ کرتے ہیں واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ تو اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنا تو بہت صحیح ہوگا۔جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اگر کسی بشر کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا اپنے شوہر کوسجدہ کیا کرو۔اس لئے کہ عورت پر شوہر کا بہت بڑا حق ہے۔علامہ رازیؒ نے بھی اسی خیال کو ترجیح دی۔لیکن بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سجدہ جل شانہ ہی کو تھا۔آدم علیہ السلام تو فقط علامت قبلہ تھے جس طرح فرمان ہے۔
(عربی)(الاسراء:78)
ترجمہ:۔سورج کے ڈھلنے پر نماز قائم کرو "
لیکن یہ دلیل اتنی ٹھوس نہیں پہلا قول ہی زیادہ مدلل ہے۔یہ سجدہ آدم علیہ السلام کو ہی بطور اکرام واحترام اور تعظیم وتسلیم تھا۔اس کو بجا لانے میں اطاعت الٰہی بھی مقصود تھی۔بصورت دیگر جو شرف منکسرانہ وضع پیشانی میں مضمر ہے وہ قبلہ ٹھہرانےمیں نہیں۔علامہ رازیؒ نے دونوں اقوال کو ضعیف قراردیتے ہوئے پہلی بات کوصحیح قرار دیا۔بخاری شریف کی حدیث جو شفاعت کے باب میں ہے۔اس سے اسی قول کی تائید وتصریح ثابت کی ہے جو اس طرح ہے۔(عربی)
"اور ان کو سب فرشتوں نے سجدہ کیا"
(ف) امام رازی ؒ اہل علم کے دوسرے دو اقوال کا بھی ذکر کرتے ہیں۔بعض علماء کا خیال ہے کہ سجدہ کرنے کا حکم جن فرشتوں کو دیا گیا تھا وہ زمین کے ہی رہنے والے تھے دوسرے گروہ کا خیال ہے سجدہ کے مامور مخصوص آسمانی فرشتے تھے۔لیکن یہ آیت بلاتخصیص ارضی وسماوی فرشتوں کو مامور قرار دیتی ہے ۔ارشاد ربانی ہے:۔
(عربی)
"پس سجدہ کیا سب فرشتوں نے ماسوائے ابلیس کے"
میرے خیال میں لفظ عموم کا اطلاق اسی وقت ہوسکتا ہے۔جب ملائکہ سے مراد وہ مخصوص ملائکہ نہ ہوں جو ابلیس کے ساتھ گئے تھے۔علاوہ ازیں جب کوئی مرفوع حدیث اس بارہ میں موجود نہیں تو پھر ہمیں کتاب وسنت کی ظاہرعبادت پر یقین کرتے ہوئے زیادہ غور وخوض کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔
کبر وحسد کی ابتداء:۔
قتادہ ؒ کا کہناہے کہ ابلیس نے آدم علیہ السلام پرصرف اس لئے حسد کیا کہ اللہ تعالیٰ نےانہیں شرافت وفضیلت کیوں عطا کی جبکہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے! چنانچہ اسی مردود سے کبر وحسد کی ابتدا ہوئی۔اسی حسدو وکبر میں اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کیا۔صحیح حدیث میں ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی حسد ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
ابلیس کے دل میں کبر وکفر اور عناد ہونے کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ رحمت سے دھتکارا گیا۔بارگاہ الٰہی کی حضوری سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگیا۔
بقول سعدیؒ:۔
تکبر عزازیل راخوار کرد
بزندان لعنت گرفتارکرد
ترجمہ:۔تکبر نے عزازیل کو ذلیل وخوار کردیا اورہمیشہ کے لئے لعنت کے جیل خانہ میں قید کردیا۔"
البتہ مفسرین میں سے اپنی الگ الگ رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک گروہ نے کہا ۔وہ کافر ہوگیا ،کسی نے کہا وہ کافر ہے۔اس کا علم اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے تھا ۔قرطبی ؒ بھی اسی خیال سے متفق ہیں۔
ولایت ور کرامات:۔
اہل علم کا کہنا ہے کہ نبی کے علاوہ اگر کسی کے ہاتھوں سے کرامات یا قابل حیرت باتوں کااظہار ہوتا دیکھو تو اسے صوفیاء اور روافض کیطرح ولی مت سمجھ لو۔
اس لئے کہ ولی اللہ کےلئے باایمان ہونالازمی امر ہے اور بے ایمان بارگاہ الٰہی سے شرف تجلیات پا ہی نہیں سکتا۔ابن کثیر لکھتے ہیں خبردار رہو۔کبھی کافروفاجر کے ہاتھوں سے بھی کرامات جیسے قابل حیرت مظاہرے ہوسکتے ہیں۔صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد(کاہن) سے آیت۔(عربی)
دل میں چھپا کر اسے پوچھا بتا میں نے اپنےدل میں کیا چھپا رکھاہے۔اس نے کہا"دخ" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔تو برباد ہو۔اس سے آگے تیری کہانت نہیں چلے گی۔یہی نہیں بلکہ اسے یعنی ابن صیاد کو جب غصہ آتا تواتنا پھول جاتا کہ رستہ بند ہوجاتا۔چنانچہ ابن عمر نے اسی بنا پر اس کی ایک بار پٹائی بھی کردی تھی۔
احادیث میں دجال کی شعبدہ بازی یا خارق عادات کے بارے میں کیا کچھ کم ذکر ہے؟جیسےآسمان سے پانی برسانا،زمین کا خزانہ ہاتھ میں لئے پھرنا،ایک جوان کو مار کرپھر اسے زندہ کرنا،بناء پر شافعی"ولیث بن سعد" نے کہا جب تم کسی آدمی کو پانی پر چلتا اورہوا میں اڑتا دیکھو تو اس پر ولی اللہ ہونے کادھوکا نہ کھاؤ۔جب تک اس کے تمام اعمال کوکتاب و سنت کے پیمانے پر ماپ نہ لو۔میرا اپنا کہنایہ ہے کہ ہوا میں باز اور کبوتراڑتے پھرتے ہیں۔پانی پر کتے اور چوپائے تیرتے چلے جاتے ہیں۔اس میں فخر کی کیابات ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اس کافخر یہ نہیں کہ پانی پر چلے یا ہوا میں اڑے۔اس کاشرف تو اس میں ہے۔کہ بندگی کا پورا پورا حق ادا کرے۔غرور وتکبر کی ہوا بھی نہ لگنے دے۔مزاج میں نعلین کی طرح خاکساری ہو۔دل دستار کی طرح نخوت سے خالی ہو۔
فضیلت آدم علیہ السلام:۔
(ف) بقائی ؒ نے کہا ہے"آدم علیہ السلام کو پہلے اسماء کی تعلیم دی گئی،پھرانھیں مسجود ملائک بنایاگیا۔اس کے بعد جنت میں ٹھرایا،پھر جنت سے نکال کرزمین کاساکن بنایا۔اہل سنت کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں۔
آدم علیہ السلام کا قصہ قرآن پاک کی سات سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔سورہ بقرہ،سورہ اعراف،سورہ حجر،سورۃ الاسراء، سورہ کہف، سورہ طہٰ، اور ساتویں سورہ ص ہے اغلب خیال یہ ہے کہ اس تکرارسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کوتسلی دینا تھا۔جس کیوجہ یہ تھی۔کہ انہیں اپنی قوم کےہاتھوں بڑی اذیت اور تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔خطیب ؒ کا بھی یہی خیال ہے مگرتکرار مذکور سے جو بات ظاہر ہوتی ہے۔اس سے آدم علیہ السلام کی ساری مخلوقات پر شرف وفضیلت ثابت ہوئی ہے۔یہاں تک کہ ملائکہ پر بھی انھیں فضیلت حاصل ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس سے مستثنیٰ ہے۔
مسئلہ موافاۃ:
تفسیر"فتح البیان" میں ہے کہ"حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ جمعہ کے زوال سے عصر تک کیاگیا۔سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام پھر میکائیل علیہ السلام ۔پھر اسرافیل علیہ السلام،اور عزرائیل علیہ السلام نے سجدہ کیا۔اس کے بعد تمام ملائکہ مقربین نے حکم خداوندی کی تعمیل کی۔"اس ترتیب عمل سے یہ خیال درست ہوگا۔ کہ سجدہ کےعمل میں ملائکہ کے ہمراہ ابلیس کو شامل نہ کیاجائے۔میرے اس خیال کی تائید میں اہل علم کی اکثریت موجود ہے۔ شیطان کا نام سریانی زبان میں عزازیل تھا۔عربی میں حارث تھا۔ نافرمانی کے بعد "ابلیس" نام ہوا۔ ابلیس کے معنی مایوس کے ہیں۔روایت ہے کہ نام کے ساتھ اس کی صورت بھی بدل دی گئی۔یہاں ایک بات کی وضاحت کئے دیتا ہوں کہ استکبار کے معنی اپنے آپ کو بڑ سمجھنا ہے۔حدیث صحیح میں اس کے معنی اس طرح بیان کئے گئے ہیں۔
"کبر حق بات کو رد کردینے اور دوسروں کو حقیر ماننے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح "اباء" یعنی افکار اسکتبار کے بعد تھا۔لیکن اس کا ذکر مقدم کردیا گیا۔ اس لئے کہ انکار ظاہری افعال سے ہے۔اور استکبار دل کا ف فعل ہے۔ پھر سورہ ص میں صرف استکبار کا ذکر فرمایا سورہ حجر میں انکار کا لفظ منتخب کیاگیا۔
مختصر یہ کہ آیت کریمہ سےکبر کافعل قبیح ہونا اور اللہ کی ذات کی حکمتوں پرغور وخوض کرنا برا ثابت ہوا۔یہ بھی ثابت ہوا کہ "صیغہ امر" وجوب کے واسطے ہوتا ہے۔جیسے اللہ نے جان لیا کہ ابلیس کی موت کفر پرہوگی۔اس سے ثابت ہوا کہ اصل میں کافر وہی ہے۔جس کا خاتمہ کفر پر ہو۔چاہے وہ حال یا ماضی میں مومن ہی کیوں نہ کہلائے۔اسی کو "مسئلہ موافاۃ"کہتے ہیں۔گو اس میں حنفیہ ،شافعیہ۔ اور ماتریدیہ کا اختلاف ہے۔سبکیؒ نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے۔
آیت نمبر 35۔36۔جنت سے زمین تک۔
(عربی)
"ترجمہ:۔اور ہم نے کہا اسے آدم علیہ السلام تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ(پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا۔نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہوجاؤ گے۔پھر شیطان نے دونوں کووہاں سے پھسلادیا۔ اور جس(عیش ونشاط) میں وہ تھے ،ان سے ان کو نکلوادیا۔تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ۔تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین کا ایک وقت تک ٹھکانا اور رہائش( مقرر کردیاگیا) ہے۔
(ف) اولاد آدم ؑ پر اللہ تعالیٰ کا یہ تیسرااحسان ہے کہ اس نے آدم علیہ السلام کو جنت میں ٹھہرنے کااعزاز بخشا اور اس میں موجود اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کو سوائے شجرممنوعہ کے ان پر حلال کردیا۔
نبی اور رسول:۔
ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدم علیہ السلام کے بارے میں پوچھا۔کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے؟
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں وہ "نبی بھی تھے اور رسول بھی۔اللہ تعالیٰ سے انہوں نے بالمشافہ گفتگو کی اور ان سے اللہ نے کہا۔اے آدم علیہ السلام آپ اورآپ کی بیوی جنت میں رہائش اختیا ر کرو۔"
جنت کہاں تھی؟
ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ اس جنت کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ آسمان پر تھی یا زمین پر!
قرطبی ؒ نے معتزلہ اور قدریہ کے حوالے سے نقل کیا کہ زمین پر تھی۔
اس کی تفصیل سورہ اعراف میں آئے گی۔البتہ "فتح البیان" میں لکھا ہے کہ بعض کے خیال میں یہ جنت فلسطین میں تھی۔یا ایران اورکرمان کے درمیان واقع تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے آدم علیہ السلام کے امتحان کے لئے بنایا تھا۔اور وہاں سے آدم علیہ السلام کا اتارنایہ تھاکہ وہ سر زمین ہند کی طرف نقل مکانی کرجائیں۔جیسے کہ فرمایا(عربی) (البقرۃ۔16)
یعنی یہاں سے نکلو اور مصر چلے جاؤ۔خیال ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق اسی خطہ زمین پر ہوئی تھی۔لیکن اس قصہ میں ان کےآسمان پراٹھائے جانے کا ذکر نہیں۔اگرآسمان پراٹھائے گئے ہوتے تو اس نعمت عظمیٰ کا ذکر ضرور کیاجاتا۔اگر یہ جنت"دارالخلد" میں ہوتی تو ابلیس اس جنت میں نہ جاتا۔بعض نے کہا یہ سب ممکن ہے۔اس مسئلہ میں ادلہ (لفظ کی سمجھ نہیں آرہی) متعارض ہیں۔ اس لئے کسی بات پر یقین نہ کرنا اور خاموش رہناواجب ہے۔ابو السعود بھی اسی خیال سے متفق ہیں۔حافظ ابن قیم ؒ نے اپنی کتاب "حادی الارواح" میں فریقین کےدلائل کو نقل کیا ہے۔لیکن کسی قول کوحتمی قرار نہیں دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جس بات کی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتہ خبر نہ دی ہو اس میں بال کی کھال اتارنا مناسب نہیں۔
حضرت حوا علیہما السلام:۔
حافظ ابن کثیر ؒ کہتے ہیں۔ آیت کا سیاق وسباق یہ بتاتا ہے کہ حوا ؑ آدمؑ کے جنت میں جانے سے پہلے پیدا ہوئیں۔محمد بن اسحاق بھی (بحوالہ توراۃ وغیرہ) اسی سے اتفاق کرتے ہیں۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔جب آدم ؑ پر نیند غالب آئی تو ان کی ایک بائیں پسلی نکال کر اس جگہ گوشت بھر دیاگیا۔آدم علیہ السلام بدستور سوتےرہے یہاں تک کہ ان کی اس پسلی سے پیدا ہوکر پوری ایک عورت بن گئی۔تاکہ آدمی کو اس سے سکون ملے۔آرام پائے۔جب وہ اس خواب راحت سے جاگے توحوا کو اپنے پہلو میں پاکر کہنے لگے۔(عربی) یعنی یہ میرا ہی گوشت،میرا ہی خون،اورمیرا ہی جوڑاہے۔پھرآدم علیہ السلام کا دل ان کے ساتھ لگ گیا۔پھر اللہ نے ان کی شادی کردی۔
فرمایا تو دونوں جنت میں رہو۔مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔
ایک گروہ کا خیال کہ حوا کی پیدائش جنت میں داخل ہونے کے بعد ہوئی تھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اور ایک جماعت کا قول ہے کہ حوا کانام حوا اس لئے ہے کہ یہ "شئ حی" سے پیداہوئیں۔یعنی تم زندہ رہو۔
شجر ممنوعہ کونسا تھا؟
درخت کے پاس جانے سے روکنا تو دراصل آدم علیہ السلام کو بطورامتحان آزمانا تھا۔مگر وہ شجر ممنوعہ کیا تھا؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کہنا ہے کہ یہ درخت انگور کاتھا۔صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین ؒ تبع تابعینؒ کی ایک جماعت کا بھی یہی خیال ہے۔
یہود کازعم یہ ہے کہ یہ درخت گندم کادرخت تھا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ایک روایت اسی کے حق میں ملتی ہے۔دوسری روایت میں سنبل کا درخت کہاگیاہے۔ابوالجلد بھی اسی کے قائل ہیں۔
مگر جس د رخت کے پاس آدم علیہ السلام نے توبہ کی تھی۔وہ زیتون کا درخت تھا۔ کہتے ہیں گندم کا دانا جنت میں اتنا بڑاتھا۔ جتنا گائے کا سر،مکھن سے زیادہ نرم،شہد سے زیادہ شریں تھا۔ابومالک کا خیال ہے کہ کھجور کادرخت تھا۔مجاہد ؒفرماتے ہیں انجیر کادرخت تھا۔کسی نے کہا بادام،کسی نے قلم کا درخت کہا،کسی نے کافور۔کسی نے ناشپاتی کا درخت قراردیا۔کسی نے بات مختصر کرتے ہوئے کہا درخت کی جنس میں سے تھا۔
ابو العالیہ نے کہا۔جو کوئی اس درخت کا پھل کھاتا اسے "حاجت" ہوتی۔چنانچہ جنت"حدث" کی جگہ نہیں اس لئے آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے۔وھب بن منبہ نے کہا،یہ درخت شاخدار تھا۔ اس میں پھل لگتا تو فرشتے اسے ہمیشہ رہنے کے لئے کھاتے۔اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس درخت کے پاس جانے سے روک دیا۔کھانے کی بات تو بعد کی ہے۔
خاموشی بہتر ہے:۔
ابن جریرؒ نے فرمایا۔صحیح بات تو اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص درخت سے منع کیا تھا۔اب وہ کون سادرخت تھا۔اس کا نام نہ ہی قرآن حکیم میں ہے اور نہ ہی سنت صحیحہ میں کسی نام کا ذکر ہے۔کوئی کسی درخت کوئی کسی جھاڑی کانام لیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر اس درخت کا نام معلوم بھی ہوجائے تو کسی عالم کی شان میں اضافہ نہیں ہوگا۔اور اگر معلوم نہ ہوتو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچےگا۔چنانچہ علامہ رازی ؒ نے اسی ابہام پر اکتفا کرنے کو کہا ہے۔ابن کثیرؒ اورشوکانیؒ بھی انہیں کے ہم خیال ہیں۔مختصراً یہ کہ شیطان نے دونوں میاں بیوی کو اس درخت کا غچہ دیا۔ان سے لغزش ہوئی اور جنت سے نکلنے کا حکم ملا۔اچھے لباس ۔اچھے گھر۔اچھے رزق اور بہترین آرام وسکون سے نکلنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اب تم زمین میں معینہ مدت تک یعنی تاقیامت رہوگے۔اب تمہارا مسکن تمہارا رزق اور تمہاری موت اسی میں ہے۔
سانپ اور ابلیس:
ابن کثیر ؒ نے سانپ اورابلیس کے حوالے سے سورہ اعراف کی تفسیر یں لکھیں۔ابلیس کس طرح جنت میں داخل ہوا اور آدم علیہ السلام کے دل میں وسوسہ ڈالنے کے واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے۔لیکن یہ سب اسرائیلی روایات کی اساس پر ہے۔ہم نہ اس کی تکذیب کرسکتے ہیں اور نہ ہی تصدیق!
ابن ابی کعب مرفوعاً کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بہت طویل قد بنایا۔سر پر بہت بال تھے جیسے کھجور کا درخت انھوں نے جب اس درخت کو چکھا جس سے اللہ تعالیٰ نے انھیں منع کیاتھا۔توان کاسر عریاں ہوگیا۔جنت میں دوڑے پھرتے تھے کہ ایک درخت کے ساتھ بال الجھ گئے۔آدم علیہ السلام نے بال چھڑانے کی کوشش کی تو رحمان نے پکارا۔اے آدم ؑ کیا تو مجھ سے بھاگتاہے۔آدم علیہ السلام نے کہا نہیں میرے پروردگار بلکہ میں شرماتا ہوں اسے ابن ابی حاتم نے بھی روایت کیاہے۔
قیام جنت کی مدت اور مقام نزول:
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں آدم علیہ السلام جنت میں عصر سے مغرب تک رہے۔حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاکہنا ہے کہ دن کی ایک ساعت قیام کیا۔یہ ساعت دنیا کے ایک سو تین ایام کے برابر تھی۔
ربعیہ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔آدم علیہ السلام نویں یا دسویں ساعت میں جنت سے نکلے۔ان کےسر پرجنت کے ایک درخت کا تاج تھا۔سدی ؒ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہاں سے نکل جاؤ تو آدم علیہ السلام ہند میں اترے۔ان کے ساتھ حجر اسود اور کچھ جنت کے پتے تھے۔وہ پتے ہند میں پھینک دیئے۔ان سے یہ سارے خوشبوداردرخت پیدا ہوئے۔ہندوستان کے عطر کی اصلیت در اصل وہی جنت کے پتے تھے۔
آدم علیہ السلام ان پتوں کو بطور یادگارنہایت حسرت وافسوس کے ساتھ اپنے ہمراہ مٹھی بھر کرجنت سے لیتے آئے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا!آ دم علیہ السلام "رحنا" نامی زمین پر اترے۔یہ زمین مکہ اور طائف کے درمیان ہے۔حسن بصری ؒ نے فرمایا آ دم علیہ السلام ہند میں "حوا جدہ میں ور ابلیس"وستمیسان" جوبصرہ سے چند میل کے فاصلے پر ہے اور سانپ اصفحان میں اترا۔رجاء بن سلمہ نے کہا۔آدمؑ زانو پر ہاتھ رکھے ہوئے سرنگوں اترے۔ابلیس انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کودیکھتا ہوااترا۔یہ سب صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے اقوال ہیں۔حدیث مرفوع میں آدم علیہ السلام کے اتر نے کی کوئی جگہ متعین نہیں ہے۔اتناصحیح ہے کہ ہند میں اُترے۔مگرشہر،قصبہ،یا گاؤں کا نام مرفوعاً ثابت نہیں۔
لیکن ہمارے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ جہاں اللہ نے چاہا اتارا۔جگہ معلوم ہوئی تو کیا نہ معلوم ہوئی تو کیا؟ابو موسیٰ نےکہا۔جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو زمین پر اتارتوہرچیز کی صنعت سکھادی۔کچھ جنت کے پھل زاد راہ کے طور پردے دیئے۔یہ دنیا کے تمام پھل وہیں سے آئے ہیں۔بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ گل سڑ جاتے ہیں اور وہ خراب نہیں ہوتے۔
سب سے بہترین دن:۔
ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے۔اسی دن آدم علیہ السلام پیداہوئے۔اسی دن جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے۔(مسلم ونسائی)
نجات کی راہ:۔
(ف) امام رازی ؒفرماتے ہیں کہ اس آ یت میں سب کے لئے گناہوں پر سخت وعید آئی ہے۔تاکہ اولادآدم ؑ میں سے جب کوئی یہ تصور کرے گا کہ آدم علیہ السلام پر اس لغزش کے سبب کیا بیتی تو وہ گناہ کے تصور سے بھی ڈرےگا۔
لیکن افسوس یہاں اولاد آدمؑ سے گناہ پر گناہ ہوتاجارہا ہے۔ مگر کسی کوخیال تک نہیں آتا اس کا انجام دیکھئے کیا ہوتاہے۔ایسے فاسقوں پر یہ شعر بالکل صادق آتاہے۔
پدرم جنت جاوید بگندم بفروخت
ناخلف باشم اگر من بجو نفروشم
میرے با پ نے ہمیشہ کی جنت گیہوں کے ایک دانہ کے بدلے بیچ دی۔اگر میں اس ایک جو کے بدلے نہ بیچوں تو میں انتہائی ناخلف کہلاؤں گا۔
فتح موصلی ؒ نے یوں بھی کہا کہ ہم جنت میں رہنے والی قوم تھے۔ابلیس ہمیں قید کرکے دنیا میں لایا۔ہم کو نتیجہ کےطور پر سوائے رنج وغم کے کچھ بھی نصیب نہ ہوا۔نہ ہوگا۔اگر کوئی صورت ہے تو یہ کہ ہم پھر اسی گھر میں داخل ہونے کے قابل بنیں۔جس طرح مسافر کو سکون تبھی ملتاہے۔جب وہ ساری مصیبتوں سے گزرجانے کے بعد اپنے گھر اپنی منزل تک پہنچ جاتاہے۔
ہمارے دیرینہ دشمن:۔
ہمارے پرانے دو ہی دشمن ہیں۔اور ایک شیطان اور دوسرا سانپ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔"یہاں سے نکلو بعض تمہارے دشمن ہیں بعض کے۔گویا ابلیس اور اولادآدم علیہ السلام میں دشمنی قدیم سے چلی آتی ہے۔جس کی وضاحت میں ایک آیت یوں ہے۔
(عربی)
"بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے"تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو عدو کے لفظی معنی ہیں "ظلم" عدو وہ ہوگا جو ظالم ہوگا۔دوست نہیں ہوگا اب آپ ہی سوچیئے۔
بقول دشمن پیمان ددست بشکستی
ببیس کہ از کہ بریری وباکہ پیوستی
اپنے د شمن کے کہنے پہ تم نے اپنے دوست کےساتھ باندھا ہوا عہد وفا توڑ دیا۔نادان! سوچ تو نے کس سے ناطہ توڑا اور کس سے جوڑا۔
سانپوں کی دشمنی تو مشہورہے۔ بہت سی حدیثوں میں (اہل سنن) کےنزدیک حکم آیا ہے کہ سانپوں کو قتل کرنے کا معاوضہ لینے سے نہ ڈرو۔قرطبی ؒ نے ان حدیثوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا ہے ۔بعض فتح البیان میں بھی مذکور ہیں۔یوں بھی سانپ کو لوگ اس لئے مارنا ضروری سمجھتے ہیں۔کہ اس کے ڈسنے سے ان کی جان جاتی ہے۔گویا سانپ کی دشمنی جان لیواہے۔ظاہر نظر آتی ہے۔ مگرشیطان جو ایمان کی جان لیتا ہے۔جس کامکرو فریب سانپ کے زہر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ہزاروں لاکھوں میں سے د و چار ہی ایسے عابد متقی ہوں گے جوتوحید خالص کے عقیدے سے اسے موت کے گھاٹ اتارتے ہوں گے۔
آیت نمبر 37۔اعتراف لغزش اور طلب مغفرت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
(عربی)
"پھر سیکھ لئے آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات ،پھر قبول فرمائی اللہ تعالیٰ نے توبہ ان کی وہی ہے برحق معاف کرنے والا مہربان۔"
"موضع القرآن" میں لکھا ہے ۔یعنی آدم علیہ السلام کے دل میں اللہ تعالیٰ نے کئی لفظ ڈال دیئے۔اس طرح پکارا تو بخش دیئے گئے۔(بحوالہ سورہ اعراف)
حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں کہ وہ کلمات یہ تھے۔
(عربی)
"ترجمہ:۔اے رب ہمارے ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا،اور ہم پررحم نہ کیا ،تو ہم نامراد ہوجائیں گے۔"
ایک جماعت سلف کا بھی اسی خیال سے اتفاق ہے۔البتہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں وہ "تلقی" یہ تھی کہ انہیں حج کرنے کاطریقہ معلوم ہوگیا۔
عبید بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں ایک اور بات کہی وہ یہ تھی کہ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:۔
"اے میرے رب مجھ سے سرزد ہونے والی خطا آپ نے مجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی لکھ دی تھی۔یا اس خطا کا موجد بھی میں ہوں؟یعنی اس بدعت کا وقوع مجھ سے ہوا؟جواب ملا۔"نہیں نہ تم موجد ہو نہ بدعین بلکہ میں نے تیری پیدائش سے پہلے یہ خطا تیرے نا م لکھی تھی۔"آدم علیہ السلام نے عرض کیا "تو پھر جس طرح میرے نام خطا لکھی تھی۔ اسی طرح اس خطا کو بخش بھی دے۔"
سو "تلقی" مذکور سے یہی کلمات مراد ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ۔آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔"کیا آپ نے مجھے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنایا؟"جواب ملا۔ہاں"بنایا"۔عرض کیا"کیا آپ نے اپنی روح مجھ میں نہیں پھینکی؟"جواب ملا۔ہاں ہم نے روح پھونکی عرض کیا۔چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ میں نے کہا؟کیا آپ کی رحمت آپ کے غضب سے بڑھ کرنہیں؟فرمایا یقیناً میری رحمت غضب سے بڑھ کر ہے۔پھرعرض کیا میری یہ خطا میرے نام آپ ہی کی لکھی ہوئی تھی؟فرمایا ہاں۔توعرض کیا تو پھر اب میں اگر توبہ کروں اور اپنے کئے پر پشیمان ہوجاؤں۔تو مجھے واپس جنت میں لے جائیں گے۔جواب ملا۔ہاں ضرور لے جاؤں گا۔حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دے کرروایت کیا ہے۔
توبہ اور جنت:۔
سابقہ دلائل سے ثابت ہوا کہ توبہ کرنے والا جنت کامستحق قرار دیا جاتاہے اور جو توبہ نہیں کرتا وہ جنت سے محروم رہتاہے۔
توبہ کے اوقات:۔
توبہ کابہترین وقت وہ ہے جب کسی سےبھول چوک سے غلطی ہوجائے تو اس کے فوراً بعد ہی سچے دل سےتوبہ کرلی جائے۔ ذرا بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔لیکن ایک بات اٹل ہے کہ مرنے سے پہلے عالم نزع میں "توبہ" قبول نہیں ہوتی۔
ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ آدم علیہ السلام نے عرض کیا اے رب!اگر میں تائب ہوجاؤں اور رجوع کروں تو کیامجھے جنت عطا ہوگی؟
فرمایا۔ہاں۔وہ کلمے یہی باتیں ہیں۔اسے ابن ابی حاتم نے بھی روایت کیاہے۔مگر یہ حدیث غریب منقطع ہے۔مجاہد کا خیال یہ ہے کہ وہ کلمات یہ تھے۔
(عربی)
"ترجمہ:۔اسے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے۔اور ساتھ تیری حمد کے اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پرظلم کیا۔مجھے بخش دے بلاشبہ تو بہترین بخشنے والا ہے۔"
مگر میرےخیال میں پہلا قول ہی بہتر ہے۔اس لئے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعینہ وہ کلمات نہیں بتائے۔وہی جانے وہ کلمات کیا تھے۔بہرحال آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔اور یہی وعدہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم ؑ سے بھی کیا ہے۔اس کا ارشاد ہے۔
(عربی)
"کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہی تواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔اورفرمایا۔
(عربی)
ترجمہ:۔اورجو کوئی برا کام کربیٹھے اوراپنے نفس پر ظلم کرگزرے۔اور یہ بھی فرمایا۔
(عربی)
"مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا۔اور نیک عمل کئے پس یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ان آیات کے علاوہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہونے والوں کی توبہ قبول کرنے کے اثبات میں اور بھی بہت سی آیات موجود ہیں۔"محو الحوبہ"(نام رسالہ) میں استغفار اور توبہ کی تمام تفصیلات لکھی گئی ہیں۔مختصراً یہ حقیقت ہے کہ گناہ گاروں کی توبہ قبول کرنا اس کی اپنے بندوں پہ بے حد وحساب رحمت اور بے پایا ں شفقت ومہربانی ہے۔
(عربی)
ترجمہ:۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور وہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ومہربان ہے۔"
(عربی)
"اے اللہ مجھ کو بخش دے اور میری توبہ قبول کر!آمین
توبہ کی قبولیت کے بعد:۔
توبہ کے قبول ہونے کے بعد جس فعل کو اللہ کے ڈر سے چھوڑا اس پر سچے دل سے پشیمانی محسوس کی۔آنسوؤں کی زبان میں توبہ کی تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے بعد ہمیشہ اس فعل سے بچے۔ورنہ۔۔۔توبہ توڑنے سے سابقہ گناہ پھر بحال ہوجائیں گے۔
آیت نمبر 38۔39۔الوداعی اعلان یا منشور
آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف روانہ کرتے ہوئے جو الوداعی اعلان اللہ تعالیٰ نے فرمایا آخری منشور عطا فرمایا تھا وہ یہ تھا۔
(عربی)
"ترجمہ:۔ہم نے فرمایا تم سب یہاں سےاتر جاؤ(مگریاد رکھو) جب تمھیں میری طرف سے ہدایات موصول ہوں تو ان کی تعمیل کرنا۔جنھوں نے میری ہدایات کو مانا ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی کبھی وہ غمزدہ ہوں۔اور جنھوں نے انہیں قبول کیا۔ہماری آیات کوجھٹلایا۔تو وہ دوزخ میں جانے والے ہوں گے۔اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
اس اعلان یا مشروط ڈراوے کے مخاطب کوبظاہر آدم علیہ السلام حوا اور ابلیس تھے۔لیکن فی الحقیقہ اس منشور یااعلان کی مخاطب تمام اولادآدمؑ تھی۔اورہے۔ابو العالیہ ؒ نے کہا کہ ہدیٰ سے مراد انبیاءؑ رسل،بینات،اور بیانات ہیں۔
مقاتل بن حبان نے کہا۔رسول اللہ ہیں۔حسن بصریؒ نے کہا ھدیٰ قرآن ہے ۔ابن کثیر ؒ نے کہا یہ دونوں قول صحیح ہیں۔
ابوالعالیہ ؒ کاقول عام تر ہے۔آیت اس بات پردال ہے کہ متبع کتاب وسنت پرآخرت میں کچھ خوف اور غم نہ ہوگا۔یعنی نہ آخرت کاڈرہوگا۔اورنہ ہی اموردنیا کی وفات کا۔
سورہ طہٰ میں ارشاد ہے:۔
(عربی)
"ترجمہ:۔ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ۔تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔پھر جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جوشخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا۔وہ نہ ہی گمراہ ہوگا اور نہ ہی تکلیف میں پڑ ے گا۔"
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ان ہدایات کی تعمیل کرنے والا نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ ہی آخرت میں بدبخت ہوگا۔
اسی منشور کا ایک حصہ یہ بھی ہے۔
(عربی)
ترجمہ:۔"اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائےگی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔"
ابن جریر نے سعد بن مالک خدری سے مرفوعاً روایت کیاہے دوزخی لوگ دوزخ میں نہ مریں گے نہ جئیں گے۔لیکن کچھ لوگ جن کو ان کی خطاؤں کے سبب آگ میں ڈالاگیا۔ اللہ ان کو مارے گا۔جب وہ کوئل ہوجائیں گے۔تو ان کے لئے شفاعت کا اذن ہوگا۔
باقی رہی تیسری قسم جو ایمان لائے مگر اطاعت نہ کی۔وہ قسم ان دونوں آیتوں میں داخل نہیں ہے۔"خلوو" سے مراد یہاں دوام بلا انقطاع ہے کسی نے کہا یہ "اھباط ثانی" تاکید وتکرار ہے۔کسی نے پہلا اھباط جنت سے دنیا کے آسمان پرہوا دوسرا دنیا کے آسمان سے زمین پر ہوا۔پہلا قول صحیح ہے۔
(ف) صحیحین وغیرھما میں قصہ آدم وموسیٰ علہما السلام کی جو تفصیلات آئی ہیں۔ اس میں آدم علیہ السلام نے اپنی آخری بات یہ کہی۔کیا یہ ملامت اس بات پر ہے کہ جسے اللہ نے میرے پیدا کرنے سے پہلے مجھ پر مقدر کیا تھا۔
مقام نزول پرزیربحث:۔
صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے کہ آدم علیہ السلام کانزول سرزمین ہند پر ہوا تھا۔علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ خوشبودار سرزمین ہندہے۔کیوں کہ آدم علیہ السلام یہیں اترے تھے۔جنت کی خوشبو یہاں کے درختوں میں سمو گئی ہے۔
یہ بات کہ آدم علیہ السلام کا اترنا کس طرح ہوا؟ ان کے ساتھ کیا کیاچیز آئی؟اتر کر کیا کام کیا؟اس کامختصرذکر علامہ ابن قیم ؒ نے" حادی الارواح" میں لکھا ہے۔میرآزاد بلگرامی نے ہند کے فضائل پر ایک رسالہ"ہدایۃ السائل" لکھاہے۔جس میں ہند کا نام "شمامۃ العنبر" (عنبر کی خوشبو) مرقوم ہے۔
کہتے ہیں آدم علیہ السلام جب اس عالم رنگ وبومیں آئے تو ان کی پیشانی میں نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چمکتا تھا۔ جو پشت درپشت منتقل ہوئے ہوئے مکہ معظمہ سے ظاہر ہوا۔گویاسارے جہاں(ہفت اقلیم ) کے انسانوں کااصل وطن ہندوستان ہی ہے۔اس زمین سے نکل کر انسان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے توگوشت نہ سڑتا۔حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔حاکم! اور بخاری میں بھی یہ روایت موجودہے۔کہتے ہیں کہ عورت ہی نے سب سے پہلے شرک کیا۔سب سے بڑ ے فتنہ کی جڑ عورت ہے۔ہابیل ؑ اس کی وجہ سے قتل ہوئے۔"قصہ بقرہ" کی بنیاد بھی یہی عورت تھی۔سب سے پہلے عشق وہوس کی ابتداء اسی سے ہوئی۔زنا کا آغاذ بھی اسی سے ہوا۔عورت کا مکروفریب سب سے بڑا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت ناقص العقل اور ناقص دین ہے۔عورت بڑے سے بڑے عقلمند کی عقل بے کار کردیتی ہے۔(اے اللہ ہمیں اس کے فتنہ سے محفوظ فرما۔آمین!
آیت نمبر 40۔41۔عہد شکنی بنی اسرائیل
(عربی)
ترجمہ:۔"اے بنی اسرائیل ہم نے جو احسان تم پر کئے ہیں انہیں یاد کرو۔تم مجھ سے کئے ہوئے عہد وفا کرو۔میں تم سے کئے ہوئے عہد پورے کروں گا۔اور مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔اور جو کتاب میں نے(اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کی ہے۔جوتمہارے پاس موجود کتاب(توراۃ) کو سچا کہتی ہے۔اس پرایمان لاؤ۔انکار کرنےوالوں میں تم پہل نہ کرو۔اور میری آیتوں(میں تحریف کرکے ان) کی تھوڑی قیمت وصول نہ کرو اور مجھ سے ہی ڈرو۔
حضرت یعقوب ؑ بن اسحاقؑ بن ابراہیم ؑ کی اولاد کوبنی اسرائیل کہتے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام بھی انھیں میں پیدا ہوئے۔ان پر توراۃ نازل ہوئی انہوں نے ہی بنی اسرائیل کوفرعون سے نجات دلا کر شام میں بسایا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عہد لیاتھا کہ حکم توراۃ پرقائم رہنا۔میں جو بھی نبی بھیجوں اس کی مدد کرنا۔ملک شام تمہاری ملکیت میں رہے گا۔لیکن یہ گمراہ ہوگئے۔دنیا کےلالچ میں رشوت لیتے غلط مسئلے بتاتے،خوشامد کروانے کے لئے حق بات چھپاتے پیغمبر کی اطاعت کرنے کی بجائے اپنی من مانی کرتے۔
توراۃ میں پیغمبر کے بارے میں لکھی ہوئی صفات بدل ڈالیں۔مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا احسان یاد دلایا۔اور ان کی نافرمانی کا ذکر کیا۔
توراۃ میں یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ جو بھی نبی توراۃ کی سچائی تسلیم کرے تو اسے ہماری طرف سے بھیجا ہوا نبی تسلیم کرلینا۔اگر ایسا نہ ہوتو وہ سمجھ لینا وہ جھوٹاہے۔آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرنے کا مطلب یہ کہ دنیا کے لئے دین کو چھوڑتے۔
ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔یعقوب علیہ السلام کا نام یاد دلا کر ان کے حوصلوں کو بڑھاوا دیا ہے۔یعنی جس طرح تمہارے آباواجداد اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اوراعمال صالح میں ہرلمحہ چاک وچوبند رہتے تھے۔اسی طرح تم بھی ہر وقت اعمال صالح اور اللہ کے حکم کی فرماں برداری میں مستعد رہو۔جس طرح عام طور پرجوش دلانے کے لئے کہاجاتا ہے۔
(عربی)
"یعنی اسے سخی باپ کے بیٹے تو بھی سخاوت کر۔اے عالم کے بیٹے تو بھی علم حاصل کر"
مذکورہ خطاب در اصل یعقوب علیہ السلام کی اس اولادسے ہیں۔جورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں مقیم تھی۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔بعض نے رجل اللہ یعنی مردخدا اور "صفوۃ اللہ" بھی اس کے معنی لکھے ہیں لیکن پہلا قول ہی اولیٰ ہے۔
ذکر اور شکر:۔
یاد کرنےسے مراد یہ ہے کہ شکر کرو۔نعمت کا یاد کرنا شکر کے مترادف ہوتا ہے۔جس نے اللہ کی نعمتوں کو بھلادیا اس نے کفران نعمت کیا۔
ذکر بالکسر ضد ہے خاموشی کی اور زکر بالنصم فراموشی کی ضد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کوجو نعمتیں عطا ہوئی تھیں۔ان میں ایک تو پتھر سے نہر جاری کی۔کھانے کے لئے من وسلویٰ اتارا۔فرعون کی غلامی سے نجات دی۔ابوالعالیہؒ کہتے ہیں کہ نعمتوں کی فہرست یوں ہے بنی اسرائیل سے نبی اور رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔جس کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان ہے۔
(عربی)
"اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم!تم پر اللہ نے جو احسان کئے ان کو یاد کرو۔کہ اس نے تم میں سے پیغمبر پیدا کیے اور تمھیں بادشاہت بخشی۔اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا۔(عالمین سے مراد اسی زمانے کے لوگ ہیں)
عہد کیا تھا؟
عہد سے مراد وہ عہدہے۔ جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیا گیا تھا۔کہ جب وہ(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) آئیں تو تم ان کی تصدیق کرنا ان کی پیروی کرنا۔(یہ عہد تم پورا کرنا) ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں گے۔اور جو ذمہ داریاں اور گناہوں کے سبب بوجھ تمہاری گردنوں پررکھے گئے ہیں۔وہ سب دور کردیں گے۔حسن بصریؒ کے نزدیک عہد سے مراد یہ آیت ہے:
(عربی)
"اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم کرتے اور ذکواۃ دیتے رہو گے۔اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا۔اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا۔جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔"
بعض مفسرین نے فرمایا یہ عہد وہ تھا جو توراۃ میں لیاگیا تھا کہ ہم جلد ہی بنی اسرائیل سے ایک عظیم نبی اٹھائیں گے۔سب قومیں اس کی فرمانبردار ہوں گی۔جس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جس نے ان کی اطاعت کی اللہ اس کے گناہ بخشے گا۔اس کو جنت میں لے جائےگااور دوہرااجردے گا۔
قرآن حکیم میں اس کی وضاحت یوں ہے۔
(عربی)
ترجمہ:۔"جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔اور جب قرآن پڑھ کرسنایاجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔بے شک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے۔ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں۔ان لوگوں کو دگنا بدل دیا جائے گا کیوں کہ یہ صبر کرتے رہے ہیں۔اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں۔اور جو مال ہم نے ان کودیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔علی بن عیسیٰ کہتے ہیں اس کی تصدیق اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔
(عربی)
"اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ۔وہ تمھیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا۔پھر حدیث میں جن لوگوں کے دوہرے اجر کا ذکرآیا ہے ان میں وہ اہل کتاب بھی ہیں۔جو حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے۔اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے۔
بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں:۔
امام رازی ؒ نے مذکورہ باب میں بہت سی بشارتیں ان انبیاءؑ کی نقل کی ہیں۔جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے متعلق ہیں۔ بعض بشارتیں فتح البیان میں بھی مرقوم ہیں۔
ابوالعالیہ ؒ نے کہا۔ان کاعہد یہ تھا کہ دین اسلام کے احکامات پر عمل کریں گے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ان سے یہ عہد تھا کہ میں تم سے راضی ہوں گا۔تمھیں جنت میں داخل کروں گا۔ابن الفارس ؒ نے کہا اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کفار پر بھی ہوتی ہے ۔بعض نے کہا وہ عہد یہ تھا۔
(عربی)
ترجمہ:۔"اور جب اللہ نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ اس میں جو کچھ لکھا ہے اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔بعض نے کہا وہ عہد یہ تھا۔
(عربی)
"جو کتام ہم نے تم کو دی اس کو مجتمع قوت کے ساتھ پکڑے رہو۔"
بعض نے کہا وہ عہد یہ ہے جو سورہ اعراف میں آیا ہے۔
(عربی)
ترجمہ۔جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز سے وسیع ہے۔میں اسے ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو پرہیز گاری کرتے،ذکواۃ دیتے اور ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں۔اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو نبی امی ہیں۔ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔جن کے اوصاف کو وہ اپنے ہاں توراۃ انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔اللہ کا عہد ان سے کیا تھا؟اس کے بارے میں ایک آیت یہ ہے۔
(عربی)
"اور جو اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں اور پھر تمہارے پاس ایسا پیغمبر آئے جوتمہاری کتاب کی تصدیق کرے۔
(عربی)
"وہ وقت بھی یاد کرو جب مریم ؑکے بیٹے عیسیٰؑ نے کہا۔اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کابھیجا ہوا آیا ہوں۔اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے۔(توراۃ) اس کی تصدیق کرتا ہوں۔اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کانام "احمد" ہوگا اس کی بشارت سناتاہوں۔
یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان آیات میں آنے والے سارے عہد مراد ہوں۔(واللہ اعلم)