دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جن تبع تابعین نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں۔ان میں ایک امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ بھی تھے۔ جو جملہ علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث ،فقہ،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ سیرت کردار کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے ان کے جلالت قدر حفظ وضبط عدالت وثقاہت ذکاوت وفطانت ،زہد وورع ،بے نفسی،خشیت الٰہی تبحر علمی کا اندازہ ان کے اساتذہ وتلامذہ کی فہرست سے لگایا جاسکتاہے۔
اساتذہ:
تابعین کرام میں امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م93ہجری) کے تلمیذ رشید حضرت یحییٰ بن سعید ؒ(م143ھ) اورحضرت سلیمان بن طرخاںؒ تیمی(م143ھ) شامل ہیں۔
امام یحیٰ بن سعید ؒ (م143ھ) علمی اعتبار سے اپنے دور کے ممتاز ترین تابعین میں تھے۔ ان کی جلالت علمی پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق جلالت اور امامت پر سب کا اجماع ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی ؒ (م847ھ) نے ان کو امام اورشیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔
امام سلمان ؒ بن طرخاں تیمی (م143ھ) کا طرہ امتیاز زہد وورع اورریاضت وعبادت ہے ۔وہ قائم الیل وصائم النہار تھے۔حدیث کے ممتاز ترین حافظ تھے۔
علامہ ابن سعد ؒ(م230ھ) نے انہیں ثقہ اور کثیر الحدیث لکھا ہے۔
حافظ ذہبیؒ (م847ھ) نےان کو حافظ امام اورشیخ الاسلام لکھا ہے۔
تبع تابعین ؒ میں امام یزید بن ہارونؒ کے اساتذہ میں امام شعبہؒ(م160ھ) امام سفیان ثوریؒ (م161ھ) اورامام حماد بن زید ؒ(م179ھ)اور امام حماد بن سلمہ ؒ(م167ھ) زیادہ مشہور ہوئے ہیں۔
امام شعبہ ؒ کا شمارکبار تابعین میں ہوتاہے ان کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں۔
(عربی)
"ان کے ممتاز تلامذہ کا شمار نہیں کیا جاسکتا"
اس وقت کے تمام محدثین کرام نے ان کے علم و فضل کااعتراف کیا ہے۔امام احمد بن حنبلؒ(م241ھ)فرماتے تھے۔کہ علم وحدیث میں امام شعبہ ؒ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم تھے۔ امام شعبہؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے سب سے پہلے رواۃ حدیث پر کلام کیا۔امام نوویؒ(م676ھ) لکھتے ہیں۔
(عربی)
راویوں پر سب سے پہلے تنقید امام شعبہ ؒ نے کی۔(لفظ مٹا ہوا ہے) پھر یحییٰ القطانؒ نے ان کے بعد امام احمد بن حنبل ؒ اوریحییٰ بن معین ؒ نے حافظ ابن حجر ؒ عسقلانی لکھتے ہیں۔
(عربی)
عراق میں سب سےپہلے امام شعبہ ؒ نے عام محدثین اور ضعیف اور متروک راویوں کےبارے میں چھان بین شروع کی۔
امام شعبہؒ نے 160ھ میں وفات پائی۔
امام سفیان ثوری ؒ زمرہ تبع تابعین کے گل سرسید تھے ،علم و فضل کے لحاظ سے ان کا شماار ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے۔جو ایک جدا فقہی مسلک کے بانی تھے۔مگر ائمہ اربعہ کے مسلک کے سامنے یہ مسلک زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا۔تاہم فقہ وحدیث کی تمام کتابوں میں ائمہ اربعہ کے ساتھ سفیان ثوری ؒ کےآراء ومجتہدات کا ذکر ملتا ہے۔
امام سفیان ثوریؒ نے کوفہ ،بصرہ،اورحجاز کے ممتاز اساتذہ سے استفادہ کیا۔حافظ ا بن حجر عسقلانیؒ (م852ھ) لکھتے ہیں۔
(عربی)
اہل کوفی کی ایک بڑی تعداد سے استفادہ کیا،اسی طرح بصرہ کی ایک بڑی جماعت سے فیض اٹھایا۔اورحجاز کے مختلف حلقہ ہائے درس سے بہرہ ور ہوئے۔
امام سفیان ؒ کے علم وفضل ،تبحر علمی ،ذکاوت وفطانت ،عدالت وثقاہت اور حفظ وضبط کا ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اعتراف کیاہے۔
علامہ ابن خلکان ؒ (م681ھ) لکھتے ہیں کہ:
یہ بات زبانوں پر ہے کہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانہ میں راس الناس تھے۔ان کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راس الناس ہوئے۔
اور ان کے بعد امام شعبیؒ (تابعین میں) اور امام سفیان ثوریؒ(تبع تابعین) میں راس الناس ہوئے۔
امام سفیان ثوری ؒ کا شمار ان چھ صاحب مذہب آئمہ میں ہوتاہے۔جو متبوع خلائق ہیں ۔امام سفیان ثوری ؒ نے 161ھ میں بصرہ میں انتقال کیا۔
حماد بن سلمہؒ(م167ھ) کا شمار ممتاز تبع تابعین میں ہوتا ہے۔علم و فضل کے ساتھ ان کا خاص امتیاز ان کازہد واتقاء اور تدوین حدیث ہے ،حافظ شمس الدین ذہبیؒ(م748ھ) لکھتے ہیں کہ:
(عربی)
یہ ان اشخاص میں سے ہیں۔جنھوں نے سب سے پہلے سعید بن ابی عروبہؒ کے ساتھ تصنیف وتالیف میں حصہ لیا۔
حماد بن سلمہ ؒ کے فضل وکمال اور علمی تبحر کاارباب سیر اور تذکرہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے۔علامہ عبدالحئی بن عماد الحنبلیؒ(م1089ھ)فرماتے ہیں۔
(عربی)
وہ فصیح بولنے والے اور عربیت کے امام تھے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) لکھتے ہیں کہ:
"جس شخص کو حماد بن سلمہ کی برائی کرتے ہوئے دیکھو اس کے اسلام کو مشتبہ سمجھو۔
حافظ شمس الدین زہبی ؒ(م748ھ ) نے تذکرۃ الحفاظ میں امام حبان ؒ(354ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
حماد بن سلمہ ؒ کاشمار مستجاب الدعوات عابدین میں ہوتاہے وہ اپنے زمانے کے اقران میں فضل وکمال ،دین وعبادت میں ممتاز تھے۔
سنت کے سخت پابند اور اہل بدعت کے اثرات کوختم کرنے میں انتہائی کو شان تھے۔
حماد بن سلمہ ؒ نے 80 سا ل کی عمر میں 167ھ میں بصرہ میں انتقال کیا۔ امام حمادبن زید ؒ(م179ھ) کی امامت فی الحدیث اورجلالت شان پرعلمائے کرام کا اتفاق ہے بڑے بڑے محدثین کرام ان سے استفادہ کواپنے لئے باعث فخر جانتے تھے امام احمد بن حنبل ؒ (م241ھ) ان کی عظمت وجلالت شان کے معترف تھے۔اور ان کا ذکر بہت تعظیم وتکریم سے کرتے تھے۔
حافظ ذہبی ؒ (م748ھ) نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
(عربی)
"وہ مسلمانوں کے امام اور بڑے دین دار ہیں۔اور مجھے حماد بن سلمہؒ سے زیادہ پسند اورمحبوب ہیں۔
امام یحییٰ بن معین ؒ(م233) فرماتے ہیں کہ۔
اتقان فی الحدیث میں حماد بن زید ؒ کے مرتبہ کاکوئی نہیں ہے۔ رمضان 179ھ میں حماد بن زیدؒ نے بصرہ میں انتقال کیا۔
مذکورہ بالا سطور میں آپ نے امام یزید بن ہارون ؒ کے چند اساتذہ کے علم وفضل اور علمی علو کے مرتبت۔کی ایک اجمالی جھلک ملاحظہ کی ہے ان منتخب علمائے کرام اور فضلائے روزگار سے اکتساب ضو کرکے امام یزید بن ہارون اسلمیؒ چشمک زن آفتاب بن گئے تھے۔
تلامذہ:۔
امام یزید بن ہارون اسلمیؒ کے دبستان علم سے جن اساطین دہرے استفادہ کیا۔ان میں امام آدم بن ایاسؒ (م220ھ) امام یحییٰ بن معین ؒ(م233ھ) امام علی ؒ بن مدینیؒ (م234ھ) اما م اسحاق بن راہویہؒ(م238ھ) اور امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ) کے نام قابل ذکر ہیں۔اور(عربی) کے مصداق ان ائمہ وحفاظ حدیث میں سے ہر ایک اپنے استاد امام یزید بن ہارون اسلمیؒ کے فضل وکمال اور تبحر علمی کاشاہد ہے۔
حضرت آدم بن ابی ایاس ؒ(م220ھ) علوم قرآن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔حدیث میں ان کاپایہ بہت بلند تھا۔علمائے کرام نے ان کی ثقاہت وعدالت کا اعتراف کیا ہے۔تبحر علمی کے ساتھ عمل اور تقویٰ میں بھی کامل تھے۔اور ان کو علمائے کرام نے(عربی) کے لقب سے یاد کیا ہے۔ ان کی زندگی کا مل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھلی ہوتی تھی۔حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ( م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام خطیب بغدادی ؒ (م463ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے۔
(عربی)
اور امام ابن جوزی ؒ(م597ھ) نے ان کو (عربی) لکھا ہے۔
امام یحییٰ بن معین ؒ(م233ھ) فن اسماء الرجال کے صرف امام ہی نہیں۔بلکہ امام الائمہ تھے۔امام یحییٰ بن معین ؒ کے حالات زندگی ان کےعلم وفضل کے علاوہ اس حیثیت سے بھی قابل ذکر ہیں،کہ ان کی زندگی اسلامی معاشرہ کی مساوات اور رفعت کا صحیح مرقع ہے،ان کی ساری زندگی علم حدیث کی تحصیل میں گزری۔امام یحییٰ بن معین ؒ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے فن اسماء الرجال کی بنیاد ڈالی۔اور حدیث کے خلاف جو فتنہ برپا ہواتھا۔ اس کا قلع قمع کیا۔ ان کے اس وصف وکمال اور علم وفضل کی بناپر تمام معاصر اور آئمہ حدیث ان کی جلالت شان کے قائل تھے۔
حافظ ابن حجرؒ(م852ھ) نے امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جو روایت یحییٰ بن معین ؒ کو معلوم نہ ہو۔اس کی صحت مشکوک ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ (م852ھ) نے امام ابو عبیدؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
امام احمد بن حنبل ؒ ،علی بن مدینیؒ ابو بکر بن ابی شیبہؒ اور یحییٰ بن معینؒ پر علم ختم ہوگیا۔مگر ان چاروں میں یحییٰ بن معین ؒ حدیث کو صحت وسقم کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔
امام یحییٰ بن معینؒ نے 223ھ میں مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔اور آپ کو سب سے بڑی سعادت یہ نصیب ہوئی،کہ آپ کاجنازہ اسی تابوت میں اٹھایاگیا۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاجسد مبارک اٹھایا گیا تھا،جس وقت آ پ کا جنازہ اٹھایا گیا،تو لوگوں کی زبان پرعام طور پر یہ جملہ تھا کہ:
یہ اس شخص کا جنازہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو کذب بیانی سے بچاتاتھا۔
امام علی بن مدینی (م234ھ) بھی امام بن معینؒ(م233ھ) کی طرح جرح وتعدیل کے امام تھے۔علم وفضل کی وجہ سے ان کاشمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے۔آپ امام سفیان بن عینیہ (163ھ ) کے خاص تلامذہ میں سے تھے فرمایا کرتے تھے کہ:
میں نے علی بن مدینیؒ کے علاوہ کسی کے سامنے اپنے کو حقیر نہیں سمجھا۔
امام احمد بن حنبل ؒ(م341ھ) ان کا اتنا احترام کرتے تھے ،کہ ادب سے ان کا نام نہیں لیتے تھے۔بلکہ ہمیشہ ان کی کنیت ابوالحسن ہی مخاطب کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ حدیث اور اس کی سندوں اور علتوں سے ان سے زیادہ واقف میں نے نہیں دیکھا۔
امام علی بن مدینیؒ اپنے اخلاق وعادات میں اسلاف کا نمونہ تھے،
بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں۔
(عربی)
ان کی چال ڈھال ،نشست وبرخاست ان کے لباس کی کیفیت غرض ان کے ہر قول وعمل کو لوگ اسوہ سمجھ کرلکھ لیا کرتے تھے۔
ان ہی اوصاف کاکرشمہ تھا کہ جب تک بغداد میں رہتے،سنت کا چرچا بڑھ جاتا،اورشیعت کا زورگھٹ جاتا۔ اور جب آپ بصرہ تشریف لے جاتے۔توشیعت کا فتنہ زور پکڑ جاتا۔امام یحییٰ بن معینؒ (م233ھ) فرماتے ہیں۔
(عربی)
علی بن مدینی ؒ جب بغداد جاتے ،تو سنت کا چرچا کیا جاتا تھا۔اور جب وہ بصرہ چلے جاتے ،تو شیعت زور پکڑ جاتی۔
امام علی بن مدینی ؒ نے 234ھ میں انتقال کیا۔
امام اسحاق بن راہویہ ؒ (م238ھ) کاشمار اساطین اؐمت میں ہوتاہے ۔جنھوں نے علوم اسلامیہ یعنی توحیدوسنت کی اشاعت میں بے بہاخدمات سر انجام دیں۔تفسیرقرآن میں ان کو خاص ملکہ حاصل تھا۔
حافظ ابن حجرعسقلانیؒ (م852ھ) نے امام ابوحاتم رازیؒ(م36 4ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
حدیث کے سلسلہ روایت اورالفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے ۔ابن راہویہ ؒ میں کمال یہ ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے ہیں۔
امام یحییٰ بن معین ؒ(م233ھ) ان کےعلم و فضل کے معترف تھے۔
علامہ ابی القاسم علی بن الحسن بن عساکر ؒ الدمشقی (م871ھ) لکھتے ہیں کہ۔امام اسحاق بن راہویہؒ جب امام یحییٰؒ بن معین کے پاس آتے تو ان کا اس قدر احترام کرتے کہ ان کے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کو تعجب ہوتا۔ایک دن ایک آدمی نے آپ سے دریافت کیا کہ امام اسحاق بن راہویہؒ یہ عمر میں آپ سے چھوٹے ہیں۔ان کی اتنی عزت افزائی کیوں کرتے ہیں۔تو امام یحییٰ بن معین ؒ نے فرمایا۔
(عربی)
"اسحاق علم میں مجھ سے بڑے ہیں۔اور میں عمر میں ان سے بڑا ہوں۔"
امام اسحاق بن راہویہؒ فقہ میں ایک مسلک کے بانی تھے جسے اسحاقیہ کے نام سے پکاراجاتا تھا حافظ ابن کثیرؒ(م774ھ) لکھتے ہیں۔
(عربی)
"اسحاق بن راہویہؒ امام وقت تھے۔ایک گروہ ان کی تقلید کرتا تھا اور ان کے مسلک کے مطابق مسائل کا استنباط اوراجتہاد کرتا تھا۔"
امام اسحاق بن راہویہ ؒ نے 77 سال کی عمر میں 238ھ میں انتقال کیا۔
امام احمد بن حنبل ؒ(م241ھ) کی شخصیت محتاج تعارف نہیں وہ نہ صرف ایک فقہی مسلک کے بانی اور ایک ضخیم مسند کے جامع تھے۔بلکہ اپنے فہم وتدبر ،اخلاص عمل وصبر واستقلال ،زُہدوورع اورتواضح وانکسار کے لحاظ سے بے مثال تھے۔
امام یحییٰ بن معینؒ(م233ھ) فرماتے ہیں۔
(عربی)
"میں نے امام احمد بن حنبل ؒ جیسا نہیں دیکھا۔میں پچاس سال ان کے ساتھ رہا انہوں نے کبھی بھی ہمارے سامنے اپنی صلاح وخیر پر فخر نہیں کیا۔امام احمد بن حنبلؒ نے فتنہ خلق قرآن میں جس استقامت اور جرائت وحق گوئی کا اظہار کیا وہ ان کا قابل تقلید اسوہ ہے۔فتنہ خلق قرآن میں ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے تمام عالم اسلام ان کی شہرت سے معمور تھا۔اور ہر طرف ان کی تعریف اوردعا کا غلغلہ تھا۔ان کی حق گوئی اوراستقامت کے بارے میں خطیب بغدادیؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام احمد بن حنبلؒ جرائت اوراستقامت میں بے مثال تھے۔وہ پوری جرائت اوراستقامت کے ساتھ تمام وقت خلیفہ مامون الرشید کے سامنے یہ اعلان کرتے کہ قسم ہے ا س ذات کی جس کے سواکوئی معبود نہیں ہے کہ جو شخص خلق قرآن کا قائل ہے وہ کافر ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ نے 77 سال کی عمر میں 241ہجری میں انتقال کیا۔ان کے جنازےمیں آٹھ لاکھ مرد اور 60ہزار عورتیں شامل تھیں۔
امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے مشہور اساتذہ اور تلامذہ کے مختصر حالات آپ نے پڑھے اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جس شخص کے اساتذہ اور تلامذہ اپنے علم و فضل،تبحر علمی،عدالت وثقات ،زُہدورع اور حفظ وضبط میں بلند مرتبہ ہیں۔وہ خود کس درجہ کے بلند مرتبت ہوں گے۔
امام یزید بن ہارون ؒ کاعلمی مرتبہ:
امام یزید بن ہارون ؒ فقہ میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔لیکن ان کا اصل طرہ امتیاز فن حدیث تھا۔اور بلاشبہ اس فن میں وہ ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت اور قوت حافظہ کی غیر معمولی دولت سے سرفراز کیا تھا۔اس حیثیت سے وہ اپنے ہم عصروں میں ممتازتھے۔
امام علی بن مدینی ؒ(م234ھ) فرماتے ہیں۔
(عربی)
میں نے صغار اور کبار میں یزید بن ہارون ؒ سے زیادہ قوی حافظہ نہیں دیکھا۔حدیث کےساتھ فقہ میں بھی کامل عبور رکھتے تھے۔
علم وفضل کے ساتھ زُہد واتقاء اورعبادت وریاضت کی صفات بھی ان کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں،نماز بہت خشوع وخضوع سے پڑھتے تھے۔ان کاشمار ان لوگوں میں ہوتا تھا۔جن کی زندگی کا مقصد اور مشن امر بالمعروف ونہی عن المنکر تھا۔ ان کے علم وفضل ،زہد واتقاء اور جذبہ امر بالمعروف کا لوگوں کے دلوں پر اتنا گہرا اثر تھاکہ خلفائے وقت تک کوئی غلط اقدام کرنے سے ڈرتے تھے۔
حافظ شمس الدین ذہبی ؒ(م748ھ) لکھتے ہیں۔
"خلق قرآن کے مسئلہ کی ابتداء تودوسری صدی ہجری کی ابتداء میں ہوچکی تھی۔معتزلہ کے اثر سے مامون الرشید بھی اس کا قائل ہوگیاتھا۔اورچاہتا تھا کہ اپنے اس عقیدے کی تبلیغ واشاعت کرے۔لیکن حضرت یزید بن ہارونؒ کے خوف سے اس کے ا ظہار کی جرائت نہ کرسکا۔اور ایک دن مامون الرشید نے قاضی یحییٰ بن اکثم سے کہا،اگر یزید بن ہارونؒ کے مرتبہ اوراثر کا خیال نہ ہوتا۔(جو لوگوں کی نگاہ میں ان کا ہے۔)تو میں قرآن کے مخلوق ہونے کا اظہار کردیتا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جذبہ عہد صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین ؒ میں عام تھا۔امام یزید بن ہارونؒ اس کا مجسم نمونہ تھے۔مامون الرشید جیسا یا جراتمند خلیفہ بھی اس بارے میں ان سے خوفزدہ رہتا تھا۔ان کی زندگی کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا۔
امام یزید بن ہارون ؒ کی تعلیم وتربیت:
امام یزید بن ہارون ؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر واسط میں حاصل کی۔اس کے بعد تحصیل تعلیم کے لئے دوسرے ممالک کاسفر کیا،جیسا کہ ان کے اساتذہ کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے۔
خود فرماتے ہیں۔
(عربی)
میں اس وقت تک معرفت حاصل نہیں کرسکا۔جب تک واسط سے باہر نہیں آیا۔
تکمیل تعلیم کے بعد:
اما م یزید بن ہارون ؒ تکمیل تعلیم کے بعد واسط تشریف لے گئے اوردرس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا۔مگر کبھی کبھی بغدادمیں بھی اکثر تشنگان علم کو سیراب کرتے تھے۔
اما ابو بکر خطیب بغدادی ؒ (م423ھ) فرماتے ہیں۔
(عربی)
امام یزید ؒبغداد آئے وہاں درس حدیث دینے کے بعد واسط چلے گئے۔
کبار ائمہ حدیث ان سے استفادہ کرنے پر اپنے لئے فخر سمجھتے تھے۔ان کی مجلس میں شائقین کا ہجوم رہتا تھا۔
ولادت ووفات:
امام یزیدؒ بن ہارون 118ھ میں واسط پیدا ہوئے۔ اور88 سال کی عمر میں 206ھ میں انتقال کیا۔ (عربی)(آمین)