عقلی علوم وفنون کی مختلف انواع میں سے ایک نوع عقائد انسانی سے بھی متعلق ہے۔اس "علم" کے تحت متعدد ادوار میں بسنے والی انسانی نسلوں کے خیالات سے بحث کی جاتی ہے۔انگریزی میں اس علم کے لیے جو لفظ مخصوص ہے وہ ایک ایسے لفظ سے مشتق ہے۔جو "بت پرستی" کامترادف ہے۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فرنگی علماء عرصہ دراز تک یہی نعرہ لگاتے رہے کہ عالم انسانی کا اولین مذہب"بت پرستی" رہا ہے۔لیکن آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ماضی قریب کے معدودے چند مفکرین نے ،جو علم انسان،کے چوٹی کے ماہرین فن مانے جاتے ہیں۔برسوں کی تحقیق وتدقیق کے بعد اب یہ فتویٰ صادر کردیا ہے کہ درحقیقت کائنات انسانی کا اولین عقیدہ توحید تھا۔اور اب تک کی ساری ،تحقیقات،کو دلائل قطعی کے ذریعہ رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ پہلا انسان موحد تھا !آیئے ان فرنگیوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس رب الارباب کی بارگاہ الوہیت میں سر بسجود ہوجائیں جس نے صدیوں پہلے ہی اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس تاریخی حقیقت کا اعلان کردیا تھا۔کہ پہلا انسان آدمؑ موحد ہی نہیں بلکہ خدا کا پہلا پیغامبر تھا۔"قابل رحم " ہے اس عقلیت کے پجاری کی ذہنیت ،جو خالق عقول سے دریافت کرنے کے بجائے دو سو سال تک اپنے دماغ کوتھکاتا رہتاہے۔اور تب وہ بات معلوم کرتا ہے۔جو خدا کے نبی کے ذریعہ چند لمحات میں معلوم کی جاسکتی ہے۔اس طرح نہ صرف تفیع وقت ہوتا ہے بلکہ متعدد نسلوں کی دنیاد اورآخرت دونوں کی زیاں کاری ہوتی ہے اور راہ ر است پر گامزن ہونے کے بجائے انسان کاسارا وقت"علوم عقلیہ" یعنی" توہمات، کی نذر ہوجاتا ہے کاش اکبر کے اس شعر پر قہقہہ لگانے کی بجائے عبرت کے دو آنسو بہائے جاتے۔
برسوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی
خلقت آدم علیہ السلام سے پہلے کائنات کے مختلف مرئی اورغیر مرئی طبقات وجود میں آ چکے تھے ۔مثلاً ملائکہ،اجنہ،افلاک،زمان ومکان،سیارات،عناصراربعہ،نباتات ،معدنیات ،جمادات اور حیوانات وغیرہ۔ خالق کائنات کی تخلیقی کارفرمائیوں کا احاطہ کرنا کس کے بس میں ہے۔
بہرحال یہ واقعہ ہے کہ نظر آنے والی ہر غیر انسانی مخلوق اپنے خالق کے تکوینی قوانین پر عمل پیرا رہنے اور اُس کے مطابق کام کرنے پرمجبور ہے۔اور اسی جبر کی یہ برکت ہے کہ غیر انسانی مخلوق کی انفرادی اوراجتماعی زندگی حسن وخوبی کی قابل ستائش مظہر ہے۔
سب سے آخر لیکن سب سے افضل اوراحسن تقویم کے ساتھ آدم کی شخصیت نمودار ہوئی۔اور اس شخصیت انسانی میں تمام صفات الٰہی کاانعکاس ہوا۔روح انسانی فطرت الٰہی کی مظہر بن کر آئی اور ساتھ ہی خود مختاری کی صفت بھی اپنے ساتھ لائی،اسی حیثیت سے انسان دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوا۔آزادی اور اختیار میں خیر وبشر ،دونوں رخ نمایاں تھے۔شمع ہدایت کے بغیر انسان کے گمراہ ہوجانے کا خطرہ تھا۔لہذا حکیم مطلق نے خلقت عالم انسانی کی ابتداء ہی ایک نبی سے کی اورآدمؑ نے اپنی نگرانی میں ایک مثالی سوسائٹی قائم کردی۔اس سوسائٹی میں صفات الٰہی بنیادی اقدار بن کر جاری وساری ہوگئیں۔اور نبی پر نازل شدہ وحی الٰہی حکم بنی رہی۔آدمؑ نے ایک قائد کی حیثیت سے ہرہم عصر انسان کے دل میں یہ حقیقت نقش کردی۔کہ محدود عقل انسانی فطرت انسانی کا احاطہ نہیں کرسکتی اور جب روح انسانی غیر محدود ذات وصفات الٰہی سے بذریعہ وحی عالم حاصل کرلیتی ہے تو یہی علم الٰہی فطرت انسانی کے حقائق کواجاگر کرتاہے۔اور پھر انسان اسی علم کی روشنی میں انسان کا مل کامرتبہ حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے،اور اسی جدوجہد میں اس کی ابدی ترقی کا راز مضمر ہے۔
ہرلحظہ نیا طور،نئی برق تجلی
اللہ کرے مرحلہ شوق نہ ہوطے
آدم مکی سوسائٹی میں توحید اور رسالت کی حکومت کا یہ کرشمہ تھا کہ عدل وفلاح اور امن وچین،اخوت اور مساوات ،پاکبازی اور ایثار بچہ بچہ کی زندگی میں رونما ہوگئے اور معاد،معاش پر غالب رہا۔مادیت مغلوب رہی اور روحانیت غالب،غصب حقوق اور ظلم وستم کے سب راستے مسدود رہے۔حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک سوسائٹی کا یہی نقشہ رہا۔لیکن شیطان کی ایجاد یعنی عقلیت واباحیت پسندی کب تک صبرکرتی۔جب تک پیغمبر اپنے خاکی پیکر میں حکمراں تھا۔کسی جنی یا انسی شیطان کا سکہ چلنا انتہائی دشوار تھا۔لیکن اب تو میدان صا ف تھا۔کم ظرف لوگوں کو ابھرنے کاموقع ملا۔اور ان چند خواص نے عوام کو بے وقوف بنا کر ان کے حقوق غصب کرنے کو اپنا مطمع نظر بنالیا۔بالفاظ دیگر انہوں نے دوسروں کی دنیا اور آخرت بگاڑ کر اپنی دنیا بنانے اور اپنی آخرت بگاڑنے کا فیصلہ کرلیا ان کاعقیدہ آخرت ہوس پرستی کے باعث کمزور ہوچکا تھا۔اور مادی اور معاشی عیش و عشرت کی حرص نے ان کی چشم بصیرت کو نا بینا کردیا تھا۔
یہ حالت انہوں نے اپنی پسند سے اختیار کی تھی۔ اور اپنی خود مختاری کی بناءپر عقلیت کے پرستار بن گئے تھے۔لیکن آدمؑ کی تعلیم وتربیت سے سرشار انسانوں کوگمراہ کرنا اورفریب دینا کوئی آسان کام نہ تھا۔صداقت شعار آدمیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اب بھی کسی دشمن آدمؑ کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی تھی۔لیکن یہ چالاک خواص بھی بڑے "دوراندیش" تھے۔یہ جانتے تھے کہ عیب کرنے کو بھی ہنر چاہیے۔"کفر اورشرک کے اعلان سے کام نہین چلےگا۔ آدم ؑ کا معتقد بن کر آدمیوں کو شکار کیا جاسکتا ہے۔ توحید ور رسالت کا نام لیتے ہوئے صفات الٰہی کا ورد کرتے ہوئے اور چند بدنی عبادتوں کا ر یاکارانہ اظہارکرتے ہوئے آدمؑ کے مشن کی جڑوں کو کھودنا ممکن ہے۔مارآستین بن کرڈسنا کس قدر آسان ہے!آدم ؑ کے استعمال کئے ہوئے ہر لفظ کو اس کے متضاد معنی پہنا کر انسانی سوسائٹی کی بیخ وبن کو متزلزل کیا جاسکتا ہے اور اس ابلیس دجل کے ذریعے قوم کی اکثریت کی جیبیں کاٹنا اور اپنی جیبیں گرم کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوجاتاہے۔
صیاد اگر دکھلائے ہنر ،تدبیر سے سب کچھ ممکن ہے
کے لئے کیا مشکل ہے تو بھی بنے اوخوش بھی رہے
المختصر شیطانی مکر کی عنایت سے یہ چند کج رو خواص پیروان آدم ؑ کے روپ میں لیڈ ر بن گئے۔اور آہستہ آہستہ انسانی سوسائٹی صراط مستقیم سے دور ہوتی گئی۔
روحانیت کی بجائے عقلیت کا دور دورہ ہوگیا معاش کو معاد پر غلبہ حاصل ہوگیا اجتماعی خوشحالی کی بجائے لیڈروں کی انفرادی خوشحالی اور قوم کی بدحالی سوسائٹی کا "طرہ امتیاز " بن گئی۔"خواص" عوام کے پیسنے لگے لیکن چونکہ یہ سب کچھ خدا اور رسول کا نام لے کر کیا جارہا تھا اور حکومت کی مادی قوت کی پشت پناہی کے ساتھ کیا جارہاتھا اس لئے اصلاح کی آواز ابھرنے ہی نہ پاتی تھی ۔مگر
بترس ازآہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن
اجابت ازدرحق بہر استقبال می آید!
جب پانی سر سے اونچا ہوگیا،رحمت الٰہی جوش میں آئی اور آدم ثانی یا دوسرا نبی ،اللہ کانمائندہ بن کر اپنی پوری روحانی اور اخلاقی قوت کے ساتھ اسی سوسائٹی میں نمودار ہوا،اللہ کی بے پناہ طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس نام نہاد ربہروں کی قلی کھول دی۔اور ان کے ابلیسی دجل وفریب پر سے "تہذیب وتمدن" کے تمام پردے ہٹا کر قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔لیکن
باطل از قوت پزیر دشان حق
حق فرد تر گرد داز بطلان حق
اس لئے حکومت سے مرعوب اکثریت میں سے چند ہی لوگوں نے روحانی اوراخلاقی ہمت سے کام لیا اور معاد کو معاش پر روح کو عقل پر نبی کو فلسفی پرغالب سمجھتے ہوئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نبی کے پیروکار بن گئے۔حکومت نے انھیں باغی قرار دیا اور انہیں ختم کرنے کےلئے ساری مادی قوت کو مہیا کرلیا۔قادر مطلق نے ان بدکردار خواص کاچیلنج قبول کرلیا اور عین قانون فطرت کے مطابق نبی کی پارٹی غالب آگئی۔ اور پھر آدمؑ کی تاریخ کا اعادہ ہوگیا مخالفین برساتی کیڑوں کی طرح اپنی موت آپ مرگئے۔اور مثالی انسانی سوسائٹی ،صفات الٰہی کی جلوہ گری کے ساتھ پھر نمودار ہوگئی۔
للہ الحمد ہر آں چیز کہ خاطر می خواست
آخر آمد ز پس پردہ تقدیر پدید
لیکن پھر پیغمبر کی وفات کے کچھ عرصہ بعد دجالوں کی تاریخ کا اعادہ ہوا۔اورپھر جب پانی سرسے اونچا ہوگیا۔تو سنت الٰہی نے ایک اور نبی کے ذریعے حق کا غلبہ قائم کردیا اور باطل کاسر توڑ دیا۔بساط ہستی پر یہ کوئی کھیل یا تماشہ نہ تھا۔بلکہ انسان کی خلقت کا یہی تقاضاتھا۔اور اس میں وہ عظیم الشان مصلحت پنہاں تھی،جس کا مکمل ظہور آگے چل کر دنیا اورآخرت میں ہونے والا تھا۔غیر محدودقدیر مطلق اور محیط کل کی بے کراں اسکیم کو سمجھنا محدود عالم انسانی کے مجموعی اذہان کے بھی بس کا روگ نہیں۔یہ ایک ایسی سائنٹفک حقیقت ہے۔جس کو ثابت کرنے کےلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ہر ماہر فن سائنس دان اپنی تجربہ گاہ میں اسی حقیقت پر ایمان رکھتا ہے۔لیکن افسوس کے جب انسانی فطرت کے مسائل کا ذکر ہوتا ہے۔تو وہ انتہائی معصومیت اور بے اصولی کے ساتھ اس حقیقت کا منکر ہوجاتاہے۔ اور انسان کو سمجھنے کےلئے کسی "مافوق الانسان" کی طرف رجوع کرنے کو رجعت پسندی سے تعبیر کرتا ہے۔اسی عقلی فالج پر عبرت کےجس قدر آنسوبہائے جائیں کم ہیں۔اور اسی حماقت اورجہالت کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر غیر انسانی مخلوق انسان سے افضل نظر آرہی ہے۔(عربی)
غرض انبیاءؑ اور رسلؑ کی آمدورفت کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ایک مخصوص دور میں نوح ؑ کی شخصیت نمودار ہوئی۔انہوں نے سرکشان قوم کو مخاطب کرکے فرمایا۔"یہ کچھ نہیں ہیں مگر الفاظ جو تم نے اور تمہارے آباواجداد نے گھڑ لئے ۔اللہ نے ان کے حق میں کوئی سند نازل نہیں کی۔اس پیغمبرانہ اعلان پر مذیدغوروفکر کیجئے۔یہ تذکرہ نہیں ہے کہ نوح ؑ کے مخاطبین نے پتھروں کے بتوں کی پرستش قائم کررکھی تھی۔الفاظ یا اسماء کا ذکر ہے یعنی سرکشان قوم"جدید" الفاظ کے ذریعے کفر اور شرک قائم کئے ہوئے تھے۔عنوان تو توحید تھا مگر متعدد الفاظ اورادارے افکار اور فنون توہمات اور مزخرافات ،لوگوں کے اذہان کو اس طرح جکڑے ہوئے تھے کہ خدا کی خدائی تو محض زبانی جمع خرچ تک محدود تھی۔اور ان مہملات کی خدائی عملاً نافذ تھی۔یہی وہ خطرناک کفر وشرک ہے جو اصنام سنگ وگل کی پرستش سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔اور اس کو سمجھنے کےلئے آپ کو کسی کدو کاش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کیونکہ آج کی مغربی اورمغرب زدہ دنیا میں یہی فیشن ایبل ،بت پرستی،عین تہذیب اور جان تمدن ہے۔اور متعدد خوشنما الفاظ اورادارے سفلی ادب اورفنون خبیشہ کی خدائی منوانے اور جمانے کے ل لئے ہمارے دماغوں پر حاوی کردیئے گئے ہیں۔خدا اور رسول کا نام لے کر آپ کسی کی زبان بندی نہیں کرسکتے ۔لیکن فن،ادب۔ثقافت۔اور ترقی وغیرہ کے الفاظ بول کر ہر مصلح کی زبان دوزی کی جاسکتی ہے۔اور ان بے جان الفاظ کے رنگین پردوں کے ذریعہ پست ترین ذہنیت کالوہا منوایا جاسکتاہے۔تاکہ "انسانی تمدن" کے نام سے حیوانیت سے پست تراذکار واقوال اوراعمال کو سوسائٹی میں رائج کردیا جائے۔
الغرض ،نوحؑ کے مخالفین نے نوحؑ کی ایک نہ سنی۔انہوں نے الٹا اپنے خدا پرست ہونے کا اور نوحؑ کے بے خدا ہونے کا اعلان کیا۔اور پوری طاقت نے نوح ؑ کو چیلنج کیا حسب دستور سنت الٰہی چیلنج قبول کرلیا گیا اور کشتی نوحؑ کا مذاق اڑانے والے اپنے بداعمال کے رد عمل کے طوفان میں نیست وبابود ہوگئے۔ مادی ومعاشی تمدن کی سر بفلک عمارتیں منہدم ہوگئیں۔۔نہ سیم زر کام آیا اور نہ خون کے رشتے مفید ثابت ہوئے۔عقلیت پسپا ہوگئی۔روحانیت فاتح بن کرچمکی۔وحی نے غالب آکر عقل کو شکست فاش کا مزہ چکھا دیا۔
اگر چہ عقل فسوں پیشہ لشکر سے انگیخت
تو دل نگرفتہ نباشی کہ عشق تنہا نیست
اب آیئے اپنے تاریخی سفر پر اور آگے بڑھیں اور تیز رفتاری کے ساتھ متعدد اسٹیشنوں کو چھوڑتے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے دور پرٹھریں۔قدیم رسولوں کے صحیفے بھی ضائع کردیئے جاتے تھے۔ اور خرافات وشطحبات کا مجموعہ تیار کرکے صحف آسمانی کے لیبل کے ساتھ شائع کردیا جاتا تھا۔موسیٰ ؑ الواح توریت کے ساتھ فرعون کی خدائی اور اس کے وزراء کی رسالت کا پول کھولنے کے لئے میدان میں آگئے۔ عجیب وغریب مقابلہ ہوا ۔تاریخ کا یہ حیرت انگیز ورق ہرشخص کی نظر سے گزراہے۔دہرانے کی ضرورت نہیں۔آج کے فرنگستان سے کئی گنازائد طاقتور "مہذب" متمدن ،تعلیم یافتی ،اورترقی یافتہ،مصر مع اپنے فراعنہ کے زیر خاک ہوگیا۔اوربظاہر "کمزور"اورغیرمتمدن"موسیٰ ؑ اور ہارونؑ کےگروہ نے غالب آکرمثالی سوسائٹی قائم کردی۔لیکن کچھ عرصہ گزرنے پر پھر وہی ہواجوہوتا رہاتھا۔توریت غائب ہوگئی اور توریت کے نام سے ایک جعلی مسودہ وجود میں آگیا۔آخر کار حضرت عیسیٰ انجیل لے کر آئے اورحق کو باطل سے ممیز کردیا۔ لیکن ان کے رخصت ہونے کے بعد پھر وہی تماشا ہوا۔توریت کی طرح انجیل کو آزاد انسان نے ناپید کردیا اور شرپسنداقلیت نے اپنے قلم سے کتاب آسمانی تیار کرلی جس میں پیغمبروں اور ان کے اہل بیت کی زندگیوں کو اس قدرتاریک کرکے پیش کیا گیا ۔انسانی ضمیر شرم سے پانی پانی ہوجائے۔
توحید اوررسالت کے عنوان سے اس قسم کے خرافات کی اشاعت کے ذریعہ ایک بہت درد ناک نقصان یہ ہورہاتھا کہ تعلیم یافتہ اورروشن خیال انسانوں کی ایک خاصی تعداد غلط راستہ پرلگ گئی تھی۔ ماضی کے نیکو کار مردوں اور خواتین کو غلط کاردیوتاؤں اور دیویوں کی شکل میں پیش کرکے اور وحی کے ماننے والوں کو عقل کا پرستار دکھا کر اور ان کی طرف غلط اقوال منسوب کرکے ایسا جال بچھایا گیاتھا کہ اکثر صداقت شعار عقلا بھی نہ بچ سکے۔ اور متعدد ارسطو اورافلاطون بھی انہیں فریب کاریوں میں پھنس کررہ گئے۔مصر اور یونان میں ایران اورہندوستان میں چین اور جاپان میں متعدد فلسفی پیدا ہوئے جن کے عقلی فلسفہ نے انھیں اوران کی قوم کو بری طرح گمراہ کردیا۔یہ بے چارے اسلام کج رفتار کے پھندوں میں ایسا پھسے کہ روح سے بیگانہ ہوکرشمع عقل کے پروانے بن گئے۔اور ظن وتخمین کی پیچدگیوں میں مبتلا ہوکر مرتے دم تک راہ راست پر نہ آسکے۔یونانی فلسفہ ومنطق،ایرانی ما بعد الطبعیات ہندی دیدانت اور چینی عقلیات اسی قابل رحم گمراہی کے مختلف ابواب ہیں۔بطورمثال یہ سن لیجئے۔
کہ زر دشت کو پہلے تو موحد اور پیغمبر کا درجہ دیاگیا۔اور پھر اسے فورا مشرک بھی قرار دے دیاگیا۔اور اسی طرح ایران میں زردشتی فلسفہ کی بنیاد ہی دو خداؤں(یزدان اور اہرمن) کی پرستش پر رکھی گئی!۔
حضرت عیسیٰ ؑ کو گزرے تقریبا پانچ سو سال گزرچکے تھے اور مذکورہ گمراہی ربع مسکون کے گوشہ گوشہ میں علم وفن کے نام سے پھیل چکی تھی۔ضرورت تھی کہ ایک پیغمبر اکمل اور ایک بین الاقوامی اور ابدی رسول کی جوخاتم نبوت اوررحمۃ اللعالمین بن کر سارے عالم انسانی کو راہ راست پر لگادے۔اور ایک ناقابل تغیر صحیفہ الٰہی کے ذریعہ مستقبل کے پر فریبی کے ممکن وجود کو ناممکن بنا دے تاکہ قیامت تک کے لئے ماضی کی گمراہیوں کے اعادہ کا خاتمہ ہوجائے۔
فی الجملہ ہمیں بود کہ می آمددمی رفت ہرقرن کی دیدی
تاعاقبت آں شکل عرب دار برآمد دارائے جہاں شد
تاریخ شاہد ہے اور ہر منکر توحید ورسالت بھی(الا یہ کہ جن لوگوں کا دماغی توازن صحیح نہیں) ان ناقابل انکار حقیقت کا معترف ہے۔ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات انسان اکمل کی ذات ہے۔اور ان کی قائم کردہ سوسائٹی از منہ وادوار کی بہترین سوسائٹی ہے۔ بعد ازخدا بزرگ ہستی کا یہ کارنامہ تاریخ عالم کے تمام کارناموں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوراور عہد خلافت راشدہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے بہتر مثالی سوسائٹی قیامت تک بھی وجود میں نہیں آسکتی۔بین الاقوامی اور عالمی حکومت کا قیام اگرفطرت انسانی کی غیر متبدل بنیادوں پر استوار کرنا ہے تو اپنا رخ بدلنا پڑے گا۔
ہاں دیکھا دے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
دین کو کامل کرنے کے بعد اور قرآن کے ایک ایک گوشہ کی ابدی حفاظت کا اعلان کرنے کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جوار رحمت ایزدی میں اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وصحابیات رضوان اللہ عنھما اجمعین نے آپ کی قائم کردہ سوسائٹی کو علمی اور عملی حیثیت سے برقرار ر کھا ۔ساری دنیا خلافت اسلامیہ کا جذو بن گئی۔مخالف قوتیں بظاہر موت کی نیند سوگئیں۔لیکن نمرودوں۔فرعونوں۔اورسامریوں کی نسل کو کون ختم کرتا۔بیج زمین کے اندر پہنچ کر پھر اگنے لگتا ہے۔مسیلمہ کذاب ختم ہوا تو ابن سبامار آستین بن کر پھنکارنے لگا۔ اور اس شر انگیز منافق نے ایک جماعت تیارکرلی۔زبان،قلم،اور تلوار کو مواقع کی مناسبت سے استعمال کیا گیا۔ آیات قرآنی کی بہتان آمیز تفسیر بیان کی گئی۔ احادیث کو ان کے سیاق وسباق سےعلیحدہ کرکے غلط معانی پہنا دیئے گئے۔روایات گھڑ کر جھوٹا پروپیگنڈہ کیاگیا اور اسلامی اصول زندگی اور نظام حیات کو مٹا دینے کےلئے ایڑی چوٹی کازور لگا دیا گیا۔شروع میں زیادہ کامیابی نہ ہوئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہم کو شہیدکیا۔اورحضرات علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھی شہید کیا۔یہ تھے اس سبائی جماعت کے کارنامے ۔اسلام کی طاقت نے اس جماعت کو بڑی حد تک دبائے رکھا۔لیکنUnder ground ان کی سازشیں جاری رہیں چنانچہ حضرت عمر ؒ ابن عبدالعزیز کو شہید کرنے میں اس جماعت کا بھی ہاتھ نظر آتاہے۔بنوامیہ کے بعد بنو عباس کے زمانہ میں خلفاء نے بظاہر تو اسلام کو برقراار رکھا۔لیکن اکثریت کی بے عملی اورگمراہی نے مخالفین حق کی جماعت کو ابھرنے کا موقع دیا۔مرکزی حکومت کی روحانی کمزوری سے پورا پورا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے عقلیت پر ستوں اور بوالہولوں کی صدیوں پرانی نسل نے اپنا کام شروع کردیا۔قدیم یونان ،مصر،ہند،چین،اور ایران کے عقلی خرافات مختلف زبانوں سے ترجمہ ہوکر عربی زبان وادب میں منتقل ہونے لگے اور علم کے نام سے سوسائٹی کی "زینت" بن گئے۔عوام وخاص کے اذکار واقوال واعمال پر اس کا وہی اثر پڑا جو اس سے پہلے مختلف تاریخی ادوار میں انبیاءؑ کے رخصت ہوجانے کے بعد ظاہر ہوا تھا۔قرآن وحدیث کے ہوتے ہوئے حکم کا درجہ عقلی فلسفہ کو دیا گیا۔اور پھر ہر باطل پر بے تامل اسلام کا لفظ چسپاں کیا جانے لگا۔چند اہل درداس منظر کو نہ برداشت کرسکے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ نے انہیں مجبور کردیا کہ جان کی بازی لگا کر میدان میں آئیں۔یہ علمائے حق جو پاک باطن اور اہل صفا تھے حقیق اسلام کو پیش کرنے لگے اور عقلیات اورخرافات کی گندگی کو دور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوگئے۔مگر مکاروں کاگروہ کسی مصلح کو کب گوارا کرسکتا تھا۔ان اہل صفا کی علانیہ مخالفت سخت دشوار معلوم ہوئی۔تو انہوں نے وہی فرسودہ حربہ استعمال کیا۔یعنی خودصوفی بن گئے۔ اور لا یعنی مہل اور مخرب اقوال،صوفیوں کے نام سے شائع کرنا شروع کردیا۔علم کلام میں تصوف کی آمیزش کردی اور محکمات اور متاشبہات کے عنوانوں سے غیر اسلامی مباحث اور مجادلات کا ایک طوفان برپا کردیا۔تاکہ نام تو توحید و رسالت اور آخرت کا رہے لیکن علماً اور عملاً ابن سبا اور حسن صباح کی مہلک حکمرانی قائم ہو جائے۔عوام وخاص گمراہ ہوجائیں اور چنداشرار سب کی دنیا اور آخرت کے ٹھیکہ دار بن جائیں ہو اور ہوس کی ان چالبازیوں نے اور عقل پرستی کی ان چالاکیوں نے منافقین کی دنیا بنادی اور آخرت بگاڑ دی اوردوسروں کے دینی ودنیاوی خسران کا کافی سامان مہیا کردیا۔
ہے کس کی یہ جرائت کہ مسلمان کو روکے
حریت افکار کی دولت ہے خداداد
چاہے تو کرے کعبہ کو آتشکدہ پارس
چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد
قرآن کو بازیچہ ءتاویل بنا کر
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
سنائی،عطار اور رومی وغیرہ نے بہت کوشش کی کہ لسانی ادب کے ذریعہ اس طوفان شرکا مقابلہ کریں۔لیکن یہ سیلاب پرفتن اس قدر زور دار تھا۔کہ اکثر شعرائے متصوفین خود اسی کی موجوں کا شکار ہوگئے۔پھر بھی غزالی اور رومی وغیرہ نے جہاد قلمی کا حق ادا کردیا اور انسانوں کو براہ راست قرآن وحدیث ،توحید ورسالت،آخرت اور روحانیت کی طرف دعوت دی۔
کیسا عبرتناک ہے یہ منظر کہ قرآن اپنی اصلی ہیت میں موجود ہے لیکن پھر بھی اس کی آیات کی غلط تاویل کرکے اور احادیث کو اپنے مزاج کے موافق بیان کرکے وہی مقصدحاصل کیا جارہا ہے۔جس کی خاطردیگر صحف آسمانی کو ضائع کرکے ان کے بجائے اپنے ہاتھ سے مجموعہ خرافات تیار کیا گیا تھا!
دنیا کے ہر خطے میں وقتاً فوقتاً مصلحین پیدا ہوتے رہے اور حتی الامکان ،کذب وافترا کا مقابلہ کرنے میں خیر امت کا نقشہ پیش کرتے رہے۔لیکن مجموعی حیثیت سے حالات بگڑنے کے بعد سدھرنے نہ پائے ہر مصلح کی (الفاظ مٹا ہوا ہے)کے بعد اس کی طرف متضاد کلمات منسوب کرکے معتقدین کو گمراہ کردیاگیا۔اُمت وسط کے افراد گنے چنے رہ گئے اور نام نہاد عیسائیوں فرنگیوں نے دجل وفریب کی پوری جلوہ گری کے ساتھ دنیا کے ممالک کو اپنے زیر نگیں کرنا شروع کردیا۔ان دجالوں نے بڑی ہمت سے کام لیا۔اور قرآن وحدیث پر براہ ر است جملے کسنے لگے۔آخرت کی ڈھونگ قرار دے کر دنیا کی "جنت" تعمیر کرنے لگے۔اور سادہ لوح مسلمانوں کو شکار کرنا شرو ع کردیا۔حتیٰ کہ بعض گمراہ مسلمان فرنگیوں کو عام قرآن سمجھنے لگے۔۔۔اورانسانی یعنی اسلامی عقائد کی جگہ مادی اور عقلی دیوتاؤں نے لے لی۔جب حالات بد سے بد تر ہوتے جائیں اور باطل کی قوت روز افزوں نظرآنے لگے توحق پرست میدان میں آتے ہوئے ہچکچانے لگتے ہیں۔پھر بھی ماضی قریب میں اسماعیل ؒ شہید کی جماعت نے بڑا کام کیا۔اور مختلف مسلم ممالک میں فرنگی سامریوں کاسحر اتارنے کے لئے موسیٰ صفت افراد وجود میں آتے رہے۔ہندوستان میں بھی ادب کے ذریعے حالی اور اکبر نے بہت کوشش کی۔مگر پوری کامیابی اقبال ؒ ہی کے لئے مقدر تھی۔
ایں سعادت بزور بازونیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
نصرت الٰہی اقبال کی دامن گیر ہوئی اوراقبال نے اپنی انگریزی ،فارسی اور اردو ادب کے فرنگیت کے خاکی مادی معاشی عقلی علمی اور تمدنی خداؤں کو پاش پاش کردیا۔ان معبودان باطل کو منہدم کرتے ہوئے اقبال نے توحید ورسالت اور آخرت کی غیر متزلزل بنیاد پر انسانی سوسائٹی کا نقشہ پیش کیا۔اور اس نقشے کی عملی تکمیل کےلئے خلافت علی منہاج النبوۃ کوناگزیر تصور کیا۔اسی مقصد کے لئے اس نے ایک آزاد مملکت کا خواب دیکھا۔تاکہ فرنگیت کی جکڑ بندیوں سے جسمانی ،ذہنی اور روحانی آزادی حاصل کرنے کے بعد قرآن وسنت کی بنیادوں پر قرآن کی حکومت قائم کی جائے یعنی رسالت آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریح کردہ اللہ کے احکام کی کارفرمائی ہو۔
از روزگار خویش ندانم جز ایں قدر
خوابم زیادہ رفتہ وتعبیر م آرزوست
تعبیر خواب سے پہلے اقبال اس دارفانی سے رخصت ہوگئے ۔ابتداء میں تو اکثر لوگ ان کے شعروسخن کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور جو متوجہ ہوئے وہ اچھی طرح اشعار کو جذب نہ کرسکے فرنگی تسلط کی وجہ سے اقبال نے انداز بھی کچھ ایسا اختیار کیا کہ طلب صادق ہی رکھنے والا انہیں سمجھ سکے۔مبادا کہ حکومت کی نظر میں وہ مشکوک ہوجائیں اور بنتا ہوا کام بھی بگڑ جائے اقبال کے رخصت ہونے کے بعد فرنگی حکومت بھی جلد ہی رخصت ہوگئی۔اور اب لوگوں کو اس کا موقع ملا کہ آزادی کے ساتھ اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں۔اور فرنگیت کا قلع قمع کرتے ہوئے خلافت راشدہ کے عہد زرین کی تابناکیوں کو واپس لانے کی فکر کریں۔کلام اقبال کی مقبولیت کے ساتھ قرآن وحدیث کی مقبولیت بھی بڑھنے لگی کیونکہ اقبال نے اپنے کلام میں جا بجا انہیں دوعلمی سرمایوں کا ذکر کرتاہے۔ اورقرآن وحدیث کے علاوہ کسی شے کو علم نہیں ،بلکہ جہل سے تعبیر کرتاہے۔عقل کی کوتاہ دستی نمایاں کرتاہے اور قلب کی روشنی میں قرآن وحدیث سے حاصل کئے ہوئے پر علم ناز کرتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکمل شخصیت کے ذریعے خدائے واحد تک پہنچنے کا ذکر کرتاہے۔اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر خدا کی اطاعت کو محال قرار دیتاہے۔
ظاہر ہے کہ جب اقبال کو علمبردارتوحید ورسالت و آخرت کی حیثیت سے فروغ ہونے لگے۔اور مثالی اسلامی سوسائٹی کے قائم ہونے کا امکان نظر آئے تو ابن سبا اور کذاب مسیلمہ اوسر نماردہ وفراعنہ جیسے مفسدین کے سعادتمند مریدین کی جماعت کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے لیکن وہی دجل وفریب پھر اختیار کرنا پڑے گا۔مسلمان کا مخالف ،مسلمان کا مخالف بن کر نہیں کامیاب ہوسکتا۔مسلمان کاموافق بن کرپنپ سکتاہے۔مثالی اسلامی سوسائٹی کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کردینا اس طرح ممکن نہیں ہے کہ قرآن وحدیث اوراسلام کی علانیہ مخالفت کی جائے بلکہ اس طرح ممکن ہے کہ قرآن کی تو موافقت کی جائے اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہوئے حدیث کی مخالفت یہ کہہ کر کی جائے کہ اقبال بھی موافق قرآن ومخالفت حدیث تھا! اقبال کے شیدائی اکثریت میں ہیں،اقبال کا نام سنتے ہی"زندہ باد کہنے لگیں گے اور اس طرح اقبال کانام لیتے ہوئے حدیث وسنت کے بغیرقرآن تک اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر خدا تک پہنچنے کی سعی لاحاصل کریں گے وہ اس سعی لاحاصل کے چکر میں دنیا اور آخرت سے غافل ہوجائیں گے اور پھر ہم نہایت اطمینان سے انہیں مغربیت اور بے خدااشتراکیت کے غار میں دھکیل سکیں گے۔لہذا چاروناچاریوم اقبال منایا جائے،جرائد کے"اقبال نمبر" شائع کئے جائیں۔اقبالی ادارے قائم کئے جائیں اور کتابیں شائع کی جائیں۔تاکہ عوام وخاص کلام اقبال کامطالعہ ہمارے زیر اثر کریں۔قرآن بازیچہ اطفال بن جائے اورحدیث روپوش ہوجائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صرف "یوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم" رہ جائے اور خداسے براہ راست کشف حقیقت ہونے لگے۔مہبط وحی ؐ اور اس کی تعلیمات کو درمیان سے ہٹا کر قرآن کے "معارف" بیان کئے جائیں!!
دین کی بنیادیں ہلادینے کے لئے اور خاص عوام کی دنیاوی واخروی زندگی جہنمی بنا دینے کے لئے یہ حربہ دل دہلا دینے والاہے۔لیکن حضرت آدم ؑ کے رخصت ہونے کے بعد سے ماضی قریب تک کی ساری تاریخ کش مکش حق وباطل آپ کی نظر کے سامنے رہے تو ان حالات حاضرہ پر تعیب ذرا سا بھی نہیں ہونا چاہیے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی! (اقبال)
ازیں چمن گل بے غار کس نہ چید آرے
چراغ مصطفوی باشرار بولہبی ست (حافظ)
ہر حقیقت کا نام لے کر اس سے ٹکرانے والے باطل کو پیش کردیناکوئی نیا فیشن نہیں ہے۔لاکھوں سال پرانی فرسودہ ادا ہے۔جدیدعصر کا تقریباً ہر فیشن اس طرح کہنہ اورگھسا ہواہے۔صرف لیبل کا رنگ بدل گیا ہے۔متعددصدیوں کے اس دردناک پس منظرکو سامنے رکھنے اور بہتان کی اس تاریخ سے واقف ہونے کے بعد کلام اقبال سے براہ راست رجوع کیجئے تاکہ اقبال کی روح سے قربت حاصل کرتے ہوئے اس کے صحیح عقائد کانقشہ سامنے آجائے اور کسی فتنہ گر کا فتنہ زیادہ عرصہ تک بیدار نہ رہنے پائے اگر کلام اقبال ؒ میں حدیث یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت یاہتک کا شائبہ بھی نظر آیا تو اقبال سے کنارہ کش ہوجائیں گے نہ کہ حدیث یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ہم اقبال کو اقبال کی حیثیت سے چنداں قابل توجہ نہیں سمجھتے"ادب"یا"فلسفہ" یا 'شہرت"وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی معیار نہیں ہے۔اقبال تو ہماری نظر میں اسلئے عزیز ومقبول ہے کہ وہ خدا تک پہنچنے کے لئے حب رسول اور اطاعت حدیث وسنت کو لازم قرار دیتا ہے۔حز ب مخالف کو بھی اقبال سے دلچسپی اسی لئے ہے کہ اگر اقبال کے کلام کی غلط تعبیر نہ کی گئی تو رسول اور حدیث کو حکم کارتبہ حاصل ہوجائے گا۔انہوں نے اپنی مقصد برآری کے لئے ایک نیا اقبال گھڑلیا ہے۔ اور ہم کلام اقبال کی طرف سے اس غرض سے رجوع کرتے ہیں کہ اس کا کلام ہمارے عقائد کی صحیح ترجمانی کررہا ہے۔اس طرح بیک کرشمہ دوکار کا منظر سامنے آجائے گا۔حجیت سنت بھی ثابت ہوجائے گی۔اورمخالفین کے فتنہ کا پول بھی کھل جائے گا۔
اس پر فتن دور میں جب ہر چیز کو غلط اور غلط کو صحیح کہا جارہا ہے بڑے جہاد کی ضرورت ہے۔نہ صرف زبانی اور تحریری بلکہ ذہنی اور عملی ختم نبوت کے بعد کوئی نبی تو آنے سے رہا۔لہذا صاحب صدق کو اپنے پیروں پرکھڑا ہونا چاہیے اور تن من دھن سے اپنی اور دوسروں کی آخرت اور دنیا کو سنوارنے میں ثابت قدم ہوجاناچاہیے تقریر اور تحریر کی بجائے اگر قرن اولیٰ کا عمل اختیار کرلیا جائے تو آج کل کے سارے علمی اور عملی فنتے چشم زدن میں نیست ونابود ہوجائیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ