ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے دور سے ہی "ابلیس" کا فرشتہ ہوناایک اختلافی مسئلہ رہا ہے۔چنانچہ علامہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
"اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا وہ پہلے ملائکہ میں سے تھا ،لیکن جب اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اسے مسخ کردیاگیا یا اصلاً وہ ملائکہ میں سے نہیں تھا۔اس کے متعلق دو اقوال مشہور ہیں جن کا ذکر ان شاء اللہ کتاب التفسیر میں کیاجائےگا۔
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملعون ٹھہرائے جانے سے قبل اس کا نام "ابلیس" نا تھا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس،ناکام ونامراد ہونے کےبعد اس کانام "ابلیس" پڑ گیا تھا۔عربی لغت میں بلس اور ابلاس چونکہ انتہائی مایوس ونامراد اور دل شکستہ ہونے کے لئے استعمال ہوتاہے۔لہذا ابلیس کانام ابلیس اس کی مایوسی وناکامی ونامرادی اور دل شکستگی کی حالت کے پیش نظر ہی پڑاتھا۔اس امر کی تائید میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت جو پیش کی جاتی ہے اسطرح ہے:
(عربی)
"ابلیس کانام جب وہ ملائکہ کےساتھ تھا تو عزازیل تھا۔بعد میں ابلیس پڑ گیا۔"
علامہ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
"۔۔۔پھر صرف ابلیس کے ساتھی فرشتوں سے فرمایا کہ آدمؑ کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کا وہ غرور وتکبر ظاہر ہوگیا۔اس نے نہ مانا اور انکار کردیا اور کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں۔اس سے بڑی عمر والا ہوں۔اور اس سے قوی اور مضبوط ہوں یہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میں آگ سےبنا ہوں اور آگ مٹی سے قوی ہے۔اس انکار پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے ناامیدکردیا۔اور اسی لئے اسے ابلیس کہا جاتا ہے۔ اس کی نافرمانی کی سزا میں اسے راندہ درگاہ شیطان بنا دیا۔
اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے"تفہیم القرآن" میں ابلیس کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"اصل میں لفظ (عربی) استعمال ہوا ہے ۔جس کا پورا مفہوم مایوسی سے ادا نہیں ہوتا۔بلس اور ابلاس کالفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔حیرت کی وجہ دنگ ہوکر رہ جانا،خوف اور دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا،غم ورنج کے مارے دل شکستہ ہوجانا،ہر طرف سے نا امید ہوکر بہت توڑ بیٹھنا اور اسی کا ایک پہلو مایوسی و نامرادی کی وجہ سے برافروختہ Desperate ہوجانا بھی ہے۔جس کی بناء پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا ہے اس نام میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یاس اور نامرادی Frustration کی بناء پر س کا زخمی تکبر اس قدر برانگیختہ ہوگیا ہےکہ اب وہ جان سے ہاتھ دھو کر ہر بازی کھیل جانے اور ہر جرم کا ارتکاب کرگزرنے پر تلا ہوا ہے۔"
بعض ضعیف روایات میں"عزازیل" کے علاوہ"ابلیس" کے چند اورنام بھی ملتے ہیں۔مثلاً۔حارث ،اجدع ،خزب ،وھان ،حباب ،حیات ،علوان ،حمدون ،تعموس ،اورحکم وغیرہ۔اسی طرح بعض مفسرین نے اس کی کیفیت "ابو مرہ" ابو الکرویین" اور ابو کردوس، بیان کی ہے۔ لیکن علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں:
"قرآن کریم (کے مطالعہ ) سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نام اس (سجدہ آدم کے) واقعہ سے بھی قبل ابلیس ہی تھا۔"
اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر ؒ کی یہ رائے زیادہ قوی اور باوزن معلوم ہوتے ہے واللہ اعلم۔ذیل میں اب اس مسئلہ پر کہ آیا"ابلیس" فرشتہ تھا یا نہیں؟فریقین کے دلائل اور اُن کا علمی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
علامہ ابو بکر عبدالعزیز ؒ فرماتے ہیں:
"ابلیس ملائکہ میں سے تھا کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے،
(عربی)
"اور جس وقت ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے سامنے سجدہ میں گرجاؤ تو سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے۔"
اس آیت میں واضح طور پر ابلیس کا استثناء کسی غیر جنس کے ساتھ نہیں ہوتا۔اہل عرب کے نزدیک یہ امر مشہور ومعروف ہے ۔پس اگر کوئی کہنے والا یوں کہے کہ تمام نان بائیوں نے دوکان کھولی سوائے فلاں کے ،تو اس قول میں "فلاں" سے مراد کوئی دوسرا نان بائی ہوگا۔
اس فلان سے قائل کی مراد لوہار ہوتو قائل کا یہ قول حسن نہیں سمجھا جائےگا۔اس کی مثال تو وہی ہوگی کہ کوئی کہنے والا یوں کہے کہ میں انسانوں کو دیکھا سوائے گدھے کے۔یہاں پر کوئی شخص استثناء از غیر جنس کی شہادت کے طورپرعربی کا یہ شعر پیش کرسکتا ہے۔
(عربی)
مگر اس کاجواب یہ ہے کہ"یعافیر"اور "عیس" دونوں ایک ہی جنس(یعنی ایناس کی جنس) سے ہیں۔لہذا اس شعر میں ان کا استثناء انہیں جنس "ایناس" سے جدا نہیں کردیتا البتہ اس مقام پرکسی "آدمی" یا"جن" کا ذکر ہوتا تو بلاشبہ یہ استثناء غیر از جنس نہیں ہے نیز یہ مذکورہ بالاآیت اس امر کی صحت پردلالت کرتی ہے۔کہ ابلیس یقیناً فرشتوں میں سے تھا۔ورنہ اس کا سجدہ نہ کرنا ہر گز باعث ملامت وعتاب قرار نہ پاتا۔جب اس کو سجدہ کا حکم ہی نہیں دیا گیا تھا تو اس کی حیثیت تو محض ایک مناظر کی رہ جاتی ہے۔اس کو مردود ٹہرانے والی بات اس کا یہ متکبرانہ قول تھا (عربی)(یعنی میں اس سے بہتر ہوں)یہ کہہ کر اس نے حکم باری تعالیٰ کی خلاف ورزی کی ۔اور اس کے غضب کو اپنی جانب موڑ لیا۔اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے۔کہ بادشاہ وقعت امتناعی اعلان کرے کہ بزاز اپنی دکانیں نہ کھولیں۔اس اعلان کی وجہ سے بزاز تو دکانیں نہ کھولیں۔مگر نان بائی اپنی اپنی دکانیں کھول لیں۔تو ان کو ھدف ملامت بنانا قطعاً درست نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ا س شاہی ممانعت میں سرے سے داخل ہی نہیں ہیں۔"
علامہ ابو بکر عبدالعزیزؒ نے اپنی کتاب"التفسیر" میں بھی اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ بلاشبہ ابلیس فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا۔ان کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کی آیت:
(عربی)
جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔آں رحمۃ اللہ علیہ اس امر میں علماء کے تمام اختلافات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اگر ابلیس ملائکہ میں سے نہ ہوتا تو باری تعالیٰ کےسجدہ کرنے کے حکم سے خارج ہوتا۔۔۔کیونکہ سجدہ کے اس حکم کے مامور تو فقط ملائکہ تھے ۔ہمارا اجماع ہے کہ وہ بھی اس سجدہ کے لئے مامور تھا۔اکثر مفسرین اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے ابلیس کو مامور بالسجدہ قرار دیا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت ،سعید بن المسیب،بعض دوسرے اصحاب علم وفضل اور متکلمین کی ایک جماعت ابلیس کے مامور بالسجدہ ہونے کی قائل ہے۔"
ابو یعلیٰ ؒ بیان کرتے ہیں:
" میں نے ابو اسحاق بن شاقلاؒ کی تعلیقات میں دیکھا ہے کہ ابو اسحاق نے اپنے شیخ(یعنی ابو بکر عبدالعزیزؒ) سے کسی کو سوال کرتے ہوئے سنا،کیا ابلیس ملائکہ سے تھا؟آں رحمۃ اللہ نے جواب دیا،امر بالسجود یہی بتاتا ہے۔اگرابلیس ملائکہ میں سے نہ ہوتا تو و ہ مامور نہ ہوتا۔"
ابلیس کے ملائکہ کی جنس سے ہونے اور ملائکہ کے درمیان اس کی فضیلت بیان کرنے والی بہت سی روایات مختلف کتب تفاسیر میں مذکور ہیں۔مثلاً
1۔(عربی)
"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،ابلیس اشرف الملائکہ اور ان میں سے سب سے مکرم قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔وہ جنتوں کا خازن تھا۔اس کی بادشاہت آسمان دنیا اور زمین پر قائم تھی۔"
یہ روایت بطریق "قاسم بن الحسن حدثنا الحسین بن داؤد حدثنی حجاج عن ابن جریج قال ابن عباس نحوہ" مروی ہے۔لیکن اس طریق میں ایک راوی"سنید حسین بن داود" ہے۔جس کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ:
"اپنی معرفت وامامت کے باوجود ضعیف ہے۔"
امام نسائی ؒ فرماتے ہیں:
"وہ ثقہ نہیں ہے۔"
علامہ ذہبی بیان کرتے ہیں:
"نسائی ؒ نے اسے واہ قرار دیا ہے اس لئے ایسی حدیث مروی ہیں جن کا ائمہ حدیث نے انکار کیا ہے۔"
ابوحاتم ؒ نے اسے "صدوق" قرار دیا ہے۔"
علامہ ہثیمی ؒ فرماتے ہیں:
"امام احمد ؒ نے اس کی تضعیف کی ہے لیکن ابن حبان ؒ اور ابو حاتم الرازیؒ نے اس کی توثیق کی ہے۔"
تفصیلی ترجمہ کے لئے تقریب التہذیب لابن حجرؒ ،میزان الاعتدال للذہبیؒ،مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہثیمی ؒ فہارس مجمع الزوائد للبسیونی الزغلولؒ اور سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
اس طریق کادوسرا مجروح راوی"حجاج بن محمد المصیصی الاعور" ہے۔جسے علامہ ذہبیؒ اور علامہ عجلی ؒ وغیرہ نے "ثقہ" اور امام احمد ؒنے "احفظ" قرار دیاہے۔لیکن ابن معین ؒفرماتے ہیں کہ:
"اختلاط کرتا تھا۔"
ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ:
"ثقہ اور ثابت ہے لیکن آخر عمر میں اختلاط کیا کرتا تھا۔"
حجاج کے تفصیلی ترجمہ کے لئے میزان الاعتدال للذہبی ؒ،تحفۃ الاحوزی،للمبارکفوری،تقریب التہذیب لابن حجرؒ معرفۃ الثقات للعجلیؒ،تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ اور تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ؒ وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
اس طریق کا تیسرا مجروح راوی"عبدالملک بن عبدالعزیز ابن جریح" ہے۔جو علامہ عجلی ؒ اورعلامہ ابن حجر ؒ وغیرہ کےنزدیک "ثقہ" تو ہے لیکن امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ:
"وہ مدلس ہے اورارسال کرتاہے۔"
علامہ ذہبی ؒ نے بھی اس کی تدلیس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
ابن حبان ؒ نے عبدالملک بن عبدالعزیز کا ذکر اپنی کتاب "الثقات" میں کیا ہے۔یحییٰ بن سعیدؒ اور خراش ؒ کا قول ہے کہ"صدوق" تھا۔
ذہلی ؒ فرماتے ہیں کہ:
"اگر حدثنی" اور "سمعت" کے ساتھ روایت کرے تو اس کی حدیث قابل احتجاج ہوتی ہے۔"
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے عبدالملک بن عبدالعزیز کو اپنی کتاب"تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس کے مرتبہ ثالثہ میں شمار کیا ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جس کے اکثر رجال کی احادیث کے ساتھ ائمہ نے احتجاج نہیں کیا ہے تاوقت یہ کہ وہ اپنے سماع کی صراحت نہ کریں۔اس طبقہ میں بعض ایسے رجال بھی ہیں جن کی احادیث کامطلقاً رد کیا گیا ہے۔
امام نسائیؒ وغیرہ نے عبدالملک بن عبدالعزیز میں "تدلیس" کا وصف بیان کیا ہے۔
امام دارقطنی ؒ فرماتے ہیں کہ:
"ابن جریج کی تدلیس،شر التدلیس کی قبیل سے ہے کیونکہ وہ قبیح التدلیس ہے۔
اما م احمد بن حنبل ؒ نے بھی اس کی "تدلیس" کی طرف اشار ہ فرمایا ہے۔عبداللہ بن احمد ؒ اپنے والد احمد بن حنبل ؒ سے نقل فرماتے ہیں کہ:
"ابن جریح نے جن احادیث میں ارسال کیا ہے ان میں سے کچھ احادیث موضوع ہیں۔"
مذیدتفصیلی ترجمہ کےلئے میزان الاعتدال فی نقد الرحال للذہبیؒ معرفۃ الرواۃ لذہبیؒ تقریب التہذیب لابن حجر ؒ تہذیب التہذیب لابن حجرؒ تعریف اہل التقدیس لابن حجرؒ ،السلامی والکنیٰ لاحمد بن حنبل ؒ تہذیب الکمال للحافظ الامزیؒ معرفۃ الثقات العجلیؒ اور تحفہ الاحوزی للمبارک فوری ؒ وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
(عربی)
"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،ملائکہ میں سے ایک قبیلہ جنوں کا ہے۔ابلیس اسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اور آسمان وزمین کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر حکمرانی کرتا تھا۔"
یہ روایت بطریق "ابن جریح عن صالح مولیٰ التوامہ وشریک بن ابی مروی ہے۔"ابن جریح پر علمائے جرح وتعدیل کی جرح اوپر بیان ہوچکی ہے۔اس سند کا دوسرا مجروح راوی" صالح بن نبہان مولیٰ التوامہ ہے۔جس کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں۔
"صدوق تھا لیکن آخر عمر میں اختلاط کرتا تھا۔"
علامہ ذہبی ؒ بیان کرتے ہیں:
"اصمعی ؒ کا قول ہے کہ شعبہؒ اس سے روایت نہیں کرتے تھے بلکہ اس سے روایت لینے سے دوسروں کو منع بھی فرماتے تھے۔"
مالک ؒ کا قول ہے کہ:
"ثقہ نہیں ہے۔"
عبداللہ بن احمد ؒ نے یحییٰ بن معین ؒ کے متعلق بیان کیا ہے کہ:
"انہوں نے فرمایا،قوی نہیں ہے۔"
یحییٰ القطانؒ کا قول ہے:
(عربی)
ابن عینیہؒ فرماتے ہیں:
"وہ اختلاط کرتا تھا پس اس کو ترک کیاگیا ہے۔"
امام نسائی ؒفرماتے ہیں کہ:
"ضعیف ہے"
ابن معین ؒ کا ایک قول ہے کہ:
"ثقہ تھا لیکن وفات سے پہلے اسمیں تحریف آگئی تھی۔پس جس نے اس سے اس تخریف کے آنے سے قبل کچھ سنا و ہ ثابت ہے۔"
ابوحاتمؒ کا قول ہے کہ:
"وہ قوی نہیں ہے۔"
ابن مدینی ؒ نے اس کی "توثیق" کی ہے۔"
امام احمد ؒ بھی اسے "صالح الحدیث"بتاتے ہیں۔
ابن حبان ؒ بیان کرتے ہیں کہ:
"115ہجری میں اس کے اندر تغیر آگیا تھا پھر وہ ایسی خبریں لایا جو ثقات کی طرف سے موضوعات بیان کرنے کے مشابہ تھیں۔اس کی حدیث میں اختلاط موجود ہے۔اس کی قدیم حدیث میں خیر ہوتی ہے۔لیکن بعد میں وہ تمیز نہ کرپایا چنانچہ مستحق ترک ہے۔"
ابن نبہان کے تفصیلی ترجمہ کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ الضعفاء والمتروکون لنسائی،ؒ المجروحین لابن حبان ؒالتاریخ الکبیرللبخاریؒ الضعفاء الکبیر للعقیلی ؒ الجرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ الکامل فی الضعفاء لابن عدیؒ میزان الاعتدال للذہبی ؒ المجموع فی الضعفاء و والمتروکین للسیروان،تحفہ الاحوزی للمبارک فوریؒ مجمع الزوائد للہثیمی فہارس مجمع الزوائد للزغول سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
3۔(عربی)
"جب اللہ تعالیٰ تخلیق کائنات سے فارغ ہوا توعرش پر مستوی ہونا پسند فرمایا پھر ابلیس کو دنیا کاملک بنایا۔وہ ملائکہ کے اس قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔جس کو جن کہتے ہیں۔ان کو جن اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ جنت کے خزان ہیں اور ابلیس بھی بمع ملکہ اس کا ایک خازن تھا،پھر اس کے دل میں یہ تکبر پیدا ہواکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دوسرے فرشتوں پر یہ فضیلت(میری لیاقت کیوجہ سے) دی ہے۔"
یہ ر وایت بطریق موسیٰ بن ہاروں الحمدانی حدثنا وعمرو بن حماد حدثنا اسباط بن نصر عن السدی بن مسعود وعن اناس من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "مروی ہےاس سند میں دو مجروح راوی موجود ہیں۔
پہلا عمرو بن حماد بن طلحہ القناد ،جسےعلامہ ابن حجرعسقلانی ؒ،ابن معین ؒ،ابو حاتمؒ،اورعلامہ ذہبی ؒ نے "صدوق" لکھا ہے مگر ابوداؤد ؒ فرماتے ہیں کہ:
"وہ رافضہ میں سےتھا۔"
امام ابن حجرؒ نے بھی اس کے"رفض" کاذکر فرمایا ہے۔
علامہ ذہبی ؒ نے اس سے مروی ایک منکر حدیث اس کے ترجمہ میں نقل فرمائی ہے۔تفصیلی ترجمہ کے لئے تقریب التہذیب لابن حجرؒاور میزان الاعتدال لذہبی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
اس سند کا دوسرامجروح راوی "اسباط بن نصر الھمدانی" ہے۔جس کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں:"صدوق توتھا مگر کثرت کے ساتھ خطاء کرتا تھا۔"
علامہ ذہبی ؒبیان کرتے ہیں:
"یہ سدی کے علاوہ اور کسی سے روایت نہیں کرتا۔"
ابن معین ؒ نے اس کی توثیق کی ہے۔امام احمدؒ نے توقف فرمایا ہے۔
ابو نعیمؒ نے تضعیف کی ہے اور امام نسائی ؒ فرماتے ہیں کہ"وہ قوی نہیں ہے۔"
امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ الاوسط میں اسے "صدوق" لکھا ہے۔ابن حبانؒ نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب"الثقات" میں کیا ہے۔موسیٰ ؒ بن ہاروں کا قول ہے کہ:"اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"
مذید تفصیل کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ ،تہذیب التہذیب لابن حجرؒ میزان الاعتدال للذہبیؒ،معرفۃ الرواۃ لذہبیؒ،تحفۃ الاحوزی للمبارکفوریؒ اورسلسلۃ الاحادیث الصحیہ للبانی الکاشف لذہبیؒ وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
(عربی)
"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتاتھا۔جن کو"جن" کہاجاتاہے۔اس کو فرشتوں کے درمیان نار سموم یعنی جلتی ہوئی آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا تھا۔"
اس روایت کو طبریؒ نے بطریق ابور کریب بن عثمان بن سعید حدثنا بشر بن عمارہ عن ابی روق عن الضحاک عن ابن عباس وارد کیا ہے۔لیکن اس کی سند میں بھی ایک مجروح راوی"بشر بن عمارہ" ہے جو عندالمحدثین انتہائی "ضعیف" ہے۔
ابوحاتم ؒ فرماتے ہیں : "قوی نہیں ہے۔"
اما م بخاری ؒ فرماتے ہیں۔(عربی)
امام نسائیؒ نے اس کی تضعیف کی ہے ۔
ابن حبان ؒفرماتے ہیں کہ اس قدرخطاء کرتا ہے کہ حد ا حتجاج سےخارج ہے۔"
علامہ ذہبیؒ نے بھی امام بخاریؒ اور امام نسائیؒ کے اقوال نقل فرمائے ہیں۔
ابن عمارہ کے تفصیلی ترجمہ کےلئے الضعفاء والمتروکون لنسائیؒ،التاریخ الکبیر للبخاری ؒ،الضعفاء الصغیر للبخاریؒ ،الضعفاءالکبیر للعقیلی ؒ،الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ؒ المجروحین لابن حبانؒ الکامل فی الضعفاء لابن عدی ؒ الضعفاء والمتروکون لدارقطنی ؒ ،میزان الاعتداللذہبیؒ،تہذیب التہذیب لابن حجرؒ،المجموع فی الضعفاء والمتروکین للسیروان مجمع الزوائد للثیمی ؒ،فہار س مجمع الزوائد للزغول اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ؒ وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔
5۔(عربی)
اس روایت کو ابو بکر قرشیؒ نے بطریق "ابراہیم بن سعید حدثنا نضر بن علی حدثنا نوح بن قیس عن ابی یسر بن جزور عن قتادہ " روایت کیا ہے لیکن اس طریق میں "نوح بن قیس بصری الحدانی" پربعض ائمہ حدیث نےجرح فرمائی ہے۔
امام احمد ؒ ابن معین ؒ اور عجلی ؒ نے اس کو "ثقہ" قرار دیاہے۔
علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ "صدوق" لیکن مہتم بالتثیع تھا۔"
ابو داود کا قول ہے کہ: "تشیع کرتا تھا۔"
یحییٰ ؒ نے اس کی "تضعیف" کی ہے۔
نسائی ؒ فرماتے ہیں کہ:
"اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"
علامہ ذہبی ؒ اسے"صالح الحال"بتاتے ہیں۔
نوح بن قیس کے تفصیلی ترجمے کے لئے تقریب التہذیب لابن حجر ؒ،تہذیب التہذیب لابن حجر ؒ،معرفۃ الثقات للعجلیؒ،میزان الاعتدال لذہبیؒ اور تحفۃ الاحوزی للمبارک فوری وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
(عربی)
"طاؤس ؒ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابلیس اپنی معصیت کےارتکاب سے قبل ملائکہ میں سے تھا۔اس کا نام عزازیل تھا ۔وہ دنیا کے باشندوں میں سے تھا۔وہ ملائکہ میں سب سے بڑا مجتہد اور زیادہ علم رکھنے والاتھا۔اس کی اس بات نے اسے تکبر میں مبتلاکردیا وہ اس گروہ سے تعلق رکھتا تھا جس کو جن کے نام سے پکارا جاتا تھا۔"
7۔(عربی)
"سعید بن المسیب ؒ فرماتے ہیں کہ ابلیس آسمان دنیا کے فرشتوں کا رئیس تھا۔"
اس موضوع پر ان کے علاوہ اور بہت ساری روایات کتب تفاسیر میں مل جائیں گی۔مثال کے طور پر امام ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں:
"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابلیس شریف فرشتوں میں سے تھا اور بزرگ قبیلے کاتھا۔جنتوں کاداروغہ تھا،آسمان دنیا کا بادشاہ تھا۔اور زمین کا بھی سلطان تھا،اس سے کچھ اس کے دل میں گھمنڈ آگیا تھا کہ وہ تمام اہل آسمان سے شریف ہے۔وہ گھمنڈ بڑھتا جارہاتھا،اس کا صحیح اندازہ اللہ کو ہی تھا پس اس کے اظہار کے لئے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو اس کا گھمنڈ ظاہر ہوگیا۔بربنائے تکبر صاف انکار کردیا اور کافروں میں جا ملا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں وہ جن تھا۔یعنی جنت کا خازن تھا۔جیسے لوگوں کی شہروں کی طرف نسبت کردیتے ہیں۔اور کہتے ہیں مکی ،مدنی،بصری،کوفی،یہ جنت کاخازن آسمان دنیا کے کاموں کا مدبرتھا۔یہاں کے فرشتوں کارئیس تھا۔اس معصیت سے پہلے وہ ملائکہ میں داخل تھا۔ لیکن رہتا تھا زمین پر۔سب فرشتوں سے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا۔اسی وجہ سے پھول گیاتھا۔اس کے قبیلے کا نام جن تھا۔آسمان وزمین کے درمیان آمدورفت رکھتا تھا۔رب کی نافرمانی سے غضب میں آگیا۔اورشیطان رجیم بن گیاز اور معلون ہوگیا۔۔۔کہتے ہیں یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں سے تھا۔"
اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں کے ایک قبیلہ میں سے تھا جنہیں جن کہتے تھے جو آگ کے شعلوں سے پیدا ہوئے تھے۔اس کا نام حارث تھا اور جنت کا خازن تھا۔اس قبیلےکے سوا اورفرشتے سب کے سب نوری تھے قرآن نے بھی ان جنوں کی پیدائش کا بیان کیا ہے اورفرمایا ہے:
(عربی)
آگ کے شعلے کی جو تیزی بلند ہوتی ہے۔اسے مارج کہتے ہیں۔جس سے جن پیدا کئے گئے تھے اور انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔زمین میں پہلے جن بستے تھے انہوں نے فساد اور خونریزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا لشکر دے کر بھیجا انہی جو جن کہا جاتھا تھا۔ابلیس نے لڑ بھڑ کر مارتے اور قتل کرتے ہوئے انہیں سمندروں کے جزیروں اور پہاڑوں کے دامنوں میں پہنچا دیا اور ابلیس کے دل میں یہ تکبر سماگیا کہ میں نے وہ کام کیا ہے جو کسی اور سے نہ ہوسکا۔الخ"
ان تمام تفسیری روایات کی موجودگی کے باوجود حق تو یہ ہے۔ کہ اس سلسلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی صحیح وصریح اثر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔جتنی بھی تفسیری روایات ملتی ہیں اُن کا مدار مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے موقوفاً مروی اقوال پر ہے،اور اُن میں سے بھی اکثر اقوال ضعیف الاسناد ہیں جیسا کہ اوپر ثابت کیا جاچکا ہے ۔اگرچہ شریعت میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا قول وعمل بھی اُمت کے لئے حجت ہوتاہے۔(بشرط یہ کہ وہ قطعی طور پر ثابت ہو اور قرآن وسنت ثابتہ کے صریح وعمومی احکام کے خلا ف نہ ہو) مگر اس واقعہ سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اور اُن کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین علم و فضل اور تقویٰ وبزرگی کے اعتبار سے اگرچہ ارفع واعلیٰ مسانید پر فائز ہیں لیکن بہرحال وہ انبیاء علیہم السلام کی طرح ہرگز معصوم عن الخطاء نہیں تھے۔لہذا بعض اجتہادی معاملات میں ان سےسہو اور تسامح کا صدور ممکن ہی نہیں بلکہ تقاضائے بشریت ہے۔
اب ذیل میں فریق ثانی کے دلائل پیش خدمت ہیں جو ابلیس کو ملائکہ میں سے تسلیم کرنے کا منکر ہے:
1۔ابلیس اور فرشتوں کا مادہ تخلیق مختلف ہے۔ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے۔اور ابلیس کو نار سموم سے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اس مرفوع حدیث میں مروی ہے:
(عربی)
قرآن کریم میں بھی متعدد مقامات پر ابلیس کو آگ سے پیدا کئے جانے کا ذکر موجود ہے،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(عربی)
"اور جنات کو(خاص) آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔"
(عربی)
"اور "جن" کو اس سے قبل آگ کی گرم لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔" اور
(عربی)
"(ابلیس) بولا میں اس سے بہتر ہوں،آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔"
ابلیس اور ملائکہ چونکہ دو مختلف مادوں سے تخلیق کئے گئے ہیں لہذا ان کی عادات ،صفات اور طبائع بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں،جو آپس میں ان کی جنس مختلف ہونے کی دلیل ہے۔
2۔فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے،نہ مذکر ہیں نہ مؤنث ،نہ ان میں نکاح وتولید وافزائش نسل کا سلسلہ موجود ہے جبکہ جن انسانوں کی طرح کھاتےپیتے بھی ہیں،مذکر ومؤنث دونوں صفتیں بھی ان میں موجود ہیں اور تولید وافزائش نسل کاسلسلہ بھی انہیں پایا جاتا ہے۔چنانچہ علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں:
"سعید ؒ بن المسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا،ملائکہ نہ مذکر ہیں نہ مؤنث ،نہ کھاتے ہیں ،نہ پیتے ،نہ نکاح کرتے ہیں اور نہ ہی ان میں توالد وتناسل کا سلسلہ ہے۔"
اور علامہ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں:
"بے شک جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں وہ بنی آدم کی طرح کھاتے پیتے اور افزائش نسل کرتے ہیں۔"
قرآن کریم میں بھی جن کی اولاد ہونے کا ذکر بصراحت موجود ہے،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(عربی)
"پھر بھی کیا تم اس کو اور اس کی ذریت(اولاد) کو مجھے چھوڑ کردوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔یہ ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔"
اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی ؒ فرماتے ہیں:
"شیطان کی ذریت ،توابع،مددگار اور اس کا لشکر ہونا قطعی دلائل سے ثابت ہے۔"
لیکن بعض مفسرین نے سورہ کہف کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں خوامخواہ کا تکلف برتا ہے۔چنانچہ ان کا دعویٰ ہے کہ:
"اس جگہ ذریت سے مراد معین ومددگار ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ شیطان کی صلبی اولاد بھی ہو۔"
علامہ قرطبیؒ اپنی کتاب "التذکرۃ" میں فرماتے ہیں:
"یہ واضح نہیں ہے کہ جنوں میں سلسلہ تولید موجود ہے لیکن ایسا کہنے کی ممانعت مذکور نہیں ہے ۔ملائکہ کے برخلاف ان میں مذکر و مؤنث موجود ہیں۔"
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک صحیح حدیث میں شیطان کی صلبی اولاد کا موجود ہونا اس طرح مروی ہے:
"۔۔۔بازار ایسی جگہ ہے جہاں شیطان نے انڈے بچے دے رکھے ہیں۔"
ایک اور حدیث میں مروی ہے کہ:
"حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن الحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا،یا رسول اللہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات دریافت کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال نہ کیاہوگا۔(وہ بات یہ ہے کہ) ہمارے باپ کون تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)،حواء،(پھر سوال کیا) جن کا باپ کون تھا؟جواب دیا کہ ابلیس،پھر پوچھا کہ جنات کی ماں کون تھی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اس کی عورت۔"
ا س حدیث کو طبرانیؒ نے "معجم الاوسط" میں روایت کیا ہے لیکن علامہ ہثیمیؒ فرماتے ہیں کہ:
"اس کی اسناد میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے جس کی امام بخاری ؒ اور امام احمدؒ نے تضعیف کی ہے،لیکن ابن حبان ؒ نے اس کا ذکر اپنی کتاب الثقات میں کیا ہے۔"
اگرچہ طبرانی ؒ کی یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔مگر ملائکہ کے برخلاف ابلیس کو صاحب العائلہ اور صاحب اولاد ثابت کرتی ہے۔
ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"ابو اسحاق بن شاقلاؒ نے اپنی تعلیقات میں لکھا ہے کہ ہمارا اجماع ہے کہ ملائکہ میں نکاح نہیں ہوتا اور نہ ان کی اولاد ہوتی ہے لیکن ابلیس صاحب اولاد ہے اس کاصاحب اولاد ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ملائکہ سے مختلف جنس ہے۔اگرچہ ابو بکر عبدالعزیز ؒ کا ظاہر کلام ہے کہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔"
3۔ابو اسحاق بن شاقلا ؒ مزید فرماتے ہیں:
"ابلیس میں شہوت بھی موجود تھی جو اسے ملائکہ سے مختلف جنس ثابت کرتی ہے۔"
لیکن ابو اسحاق ؒ کے اس قول کا جواب فریق اول اس طرح دیتا ہے:
"ابلیس کی شہوت اس کے دیوان سے معزول کئے جانے کے بعد بیان کی گئی ہے۔جس طرح کہ ہاروت وماروت کے قصہ میں شہوت کا ذکر ان کو دنیا میں اُتارے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔
4۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے ملائکہ کو پیدائشی طور پر فطرۃ وطبعاً اپنا مطیع وفرمانبردار بنایا ہے۔چنانچہ علامہ فخر الدین ر ازی ؒ فرماتے ہیں:
"علمائے دین میں سے جمہور اعظم کا تمام ملائکہ کی عصمت پراتفاق ہے۔"
قرآن کریم کی متعدد آیات میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہےچنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(عربی)
"اللہ تعالیٰ جو حکم بھی ان کو دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیاجاتا ہے۔"
(عربی)
"وہ اپنے رب کی سرکشی نہیں کرتے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کاانہیں حکم دیا جاتا ہے۔"اور:
(عربی)
"بلکہ( وہ فرشتے اس کے) معزز بندے ہیں،وہ اس سے آگے بڑھ کربات نہیں کرسکتے اور وہ اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں۔"
یہ تمام آیات فرشتوں کی تمام معاصی سے برائت ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔بخلاف اس کے جنات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی طرح ذی اختیار بنایا ہے ان بھلے بُرے،کفر وایمان اور اطاعت ومعصیت کی تمیز کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔چونکہ ابلیس فرشتہ نہیں بلکہ جن تھا اسی باعث اس کے لئے اپنے ذاتی اختیار وارادہ سے تکبر وغرور میں مبتلا ہوکر فسق ومعصیت کی راہ اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری سےخارج ہونا ممکن ہوا۔شیطانی کی ذاتی ،عمداً اور اختیاری حرکت کے لئے قرآن حکیم میں بصراحت (عربی) اور (عربی) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم سورہ کہف کی آیت 50 کی تفسیر کے خلاصہ میں ابلیس کی نافرمانی کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں:
"۔۔۔اس نے(ابلیس نے) اپنے رب کے حکم سے عدول کیا(کیونکہ جنات کا عنصر غالب جس سے وہ پیدا کئے گئے ہیں آگ ہے اور عنصر نار کامقتضا پابند نہ رہناہے مگر اس تقاضائے عنصری کی وجہ سے ابلیس کو معذور سمجھا جائے گا۔کیونکہ اس تقاضائے عنصری کو خداکے خوف سے مغلوب کیا جاسکتا تھا۔الخ"
5۔سورۃ الکہف کی آیت نمبر 50 ابلیس کے "جن" ہونے پر صریح نص ہے،جو فرشتوں سے الگ مخلوق کی ایک مستقل صنف ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(عربی)
"اور جس وقت ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ میں گر جاؤ آدمؑ کے سامنے ،سو سب سجدے میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا سو اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا۔"
اس یا بعض دوسری آیات میں ابلیس کا ملائکہ کے ساتھ جو استثناء بیان ہوا ہے اس سے ہی بعض مفسرین کو ابلیس کے فرشتہ ہونے کاگمان ہوا ہے،حالانکہ یہ استثناء متصل نہیں بلکہ منقطع ہے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے آیت (عربی) کی تفسیر میں اور اس اسثناء متصل ومنقطع کے متعلق علماء کے اختلاف کو نقل فرمایا ہے:
"بعض لوگ کہتے ہیں کہ جن ملائکہ کی ہی ایک قسم ہیں کیونکہ یہ استثناء متصل ہے۔جبکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ استثناء متصل نہیں بلکہ منقطع ہےی اور ابلیس "ابوالجن" ہے۔پس اس کی ذریت بھی ہے جس کا ذکر اس کے ساتھ اسی آیت میں آگے کیا گیا ہے۔اورملائکہ کی کوئی ذریت نہیں ہے۔"
امام جلال الدین سیوطیؒ نے متعدد مقامات پر "ابلیس" کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
"وہ ابوالجن تھا اور ملائکہ کے درمیان رہتا تھا۔"
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
"وہ ابو الجن تھا اور اس کی مصاحبت ملائکہ کے ساتھ تھی۔وہ ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتاتھا۔"
ایک اور مقام پر "شیطان" کی تفسیر میں "ابلیس" اور "الجان" کی تفسیر میں"ابوالجن یعنی ابلیس" لکھا ہے الغرض علامہ امامین جلیلین المحلی ؒ والسیوطی ؒ کی تحقیق کے مطابق ابلیس ابو الجن تھا۔خود فرشتہ نہ تھا۔ لیکن ملائکہ کے ساتھ مصاحبت کرتااور اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتاتھا۔نیز ابلیس شیطان اور جن در اصل ایک ہی صنف کے دو مختلف نام ہیں۔
ابلیس کے استثناء کی گتھی کو سلجھانے کے لئے مختلف اصحاب تفاسیر نے نت نئی تاویلات اور باتیں درج کی ہیں جن میں سے چند ابلیس کے فرشتہ ہونے کی تائیدمیں بیان کی جانے والی بحث میں اوپر مذکور ہوچکی ہیں چند اور یہاں پر بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں:
مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی ؒفرماتے ہیں:
"یعنی ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا بلکہ جنوں میں سے تھا۔اسی لئے اطاعت سے باہرہوجانا اس کے لئے ممکن ہوا۔۔۔رہا یہ سوال کہ جب ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا تو پھر قرآن کا یہ طرز بیان کیوں کرصحیح ہوسکتا ہے کہ ہم نے ملائکہ کوکہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو پس ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نہ کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے کے معنی یہ تھے کہ وہ تمام مخلوقات ارضی بھی انسان کی مطیع فرمانبردار بن جائیں جو کرہ زمین کی عمل داری میں فرشتوں کے زیر انتظام آباد ہیں۔چنانچہ فرشتوں کے ساتھ یہ سب مخلوقات بھی سربسجود ہوئیں مگر ابلیس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔"
اور مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم سورہ بقرہ کی آیت 34 کی تشریح وتفسیر میں فرماتے ہیں:
"اس آیت میں جو بات صراحتہ مذکور ہے وہ تو یہ ہے کہ آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا مگرآگے جب استثناء کرکے یہ بتلادیاگیا ہے کہ سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔اس سے ثابت ہوا کہ سجدہ آدمؑ کاحکم اس وقت کی تمام ذوی العقول مخلوقات کے لئے عام تھا جن میں فرشتے اور جنات سب د اخل ہیں۔مگر حکم میں فرشتوں کے ذکر پر اس لئے اکتفاء کیا گیا کہ وہ سب سے افضل اوراشرف تھے۔جب حضرت آدمؑ کی تعظیم کاحکم ان کو دیاگیا تو جنات کا بدرجہ اولیٰ اس حکم میں شامل ہونا معلوم ہوگیا۔"
مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
"حکم سجدہ فرشتوں کو ہواتھا ابلیس اس میں تبعاً شامل قرار دیاگیا،سورہ اعراف میں ابلیس کو خطاب کرکےارشاد فرمایا ہے:
(عربی)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیاگیا تھا۔اسی لئے اس صورت کی جوآیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیاگیا۔مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا۔اس لئے تبعاً وہ بھی اسی حکم میں شامل تھا۔کیونکہ آدمؑ کی تعظیم وتکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیاگیا تودوسری مخلوق کا تبعاً اس حکم میں داخل ہونا بالکل ظاہر تھا۔اسی لئے ابلیس نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ مجھے سجدہ کا حکم دیا ہی نہیں گیا۔تو عدم تعمیل کا جرم مجھ پر عائد نہیں ہوتا اور شاید قرآن کریم کے الفاظ(عربی) میں بھی اس طرف اشارہ ہوکہ (عربی) کے بجائے (عربی) ذکرفرمایا جن سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔کہ اصل ساجدین تو فرشتے ہی تھے۔مگر عقلاً لازم تھا کہ ابلیس بھی ان میں موجود تھا تو وہ بھی ملائکہ ساجدین کے ساتھ شامل ہوجاتا۔ اس کے عدم شمول پرعتاب فرمایا گیا۔"
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم اور مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کی توجہیات سے قدرے ہٹ کر علامہ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
"الغرض جب اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو آدم ؑ کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ان ملائکہ کے خطاب میں ابلیس بھی داخل تھا۔کیونکہ اگرچہ وہ ان ملائکہ کے عنصر تخلیق سے نہ تھا لیکن پھر بھی اس میں ملائکہ سے بہت کچھ مشابہت موجود تھی(یعنی ملائکہ بھی نظروں سے مستور ہوتے ہیں اور جن بھی) پس وہ اس خطاب میں داخل تھا جو ملائکہ کے لئے تھا۔الخ"
ابلیس کو ملائکہ میں سے ثابت کرنے والے سب سے بڑے وکیل علامہ شیخ ابو بکر عبدالعزیز ؒ کو استثناء متصل کی بھر پور وکالت کرنے کے بعد جب سورہ کہف کی آیت 50 اپنے مؤقف سے متعارض نظر آئی تو اس کی تاویل اس طرح فرمادی:۔
"اگر یہاں بعض لوگ ابلیس کے مختلف ناموں یا اس آیت کو پیش کریں،"(عربی) تو اس سلسلے میں بعض محققین کا قول ہے کہ"جن" بھی ملائکہ کی ہی ایک قسم ہے جن کو"جن " کہاجاتا ہے۔جس طرح کہ کربیون،روحانیون،خزنہ،زبانیہ وغیرہ۔سب ایک ہی جنس کی مختلف انواع کے نام ہیں،اسی طرح آدمی ، زنج وعرب وعجم(کہلاتے ہیں)پس اگر کہنے والا کہے کہ میں نے اپنے تمام غلاموں کو فرمانبرداری کا حکم دیا پس انہوں نے اطاعت کی فلاں کی پس وہ زنج سے تھا اور اس نے میری نافرمانی کی اس قول کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ اس کا زنجی غلام جنسیت کے اعتبار سے ان باقی غلاموں میں شریک نہ تھا یا وہ باعتبار نوعیت اس سے الگ تھے۔الخ
علامہ ابو بکر عبدالعزیز ؒ کی یہ تفسیر اگر تاویل بعید نہیں تو کم از کم قرآن کریم کے ظاہری کلام سے مختلف اورمحتاج دلیل بہرحال ہے۔یہاں پر اس امر کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے۔کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اور ابلیس کے درمیان تمام مکالمہ براہ راست ہوا تھا جن بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ:
"اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مقالمہ کسی فرشتے کے توسط سے ہواتھا۔"
انہوں نے قرآنی آیات کے ظاہری معنی کو چھوڑ کرمحض تکلیف کیا ہے چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم سورۃ البقرۃ کی آیت 34 کے فائدہ میں لکھتے ہیں:
"فرشتوں کو بلاواسطہ حکم کیاہوگا اور جنوں کو کسی فرشتے وغیرہ کے ذریعہ سے کیاگیا ہوگا۔"
اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم سورہ ص کی آیت 69 کی شرح میں فرماتے ہیں:
"اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ ملاء اعلیٰ سے مرادفرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سےشیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے۔
سورۃ الاعراف کی آیات 12 تا 18 سورۃ الحجر کی آیات 32 تا43 اورسورۃ ص کی آیات 75 تا85 صاف طور پر بتلاتی ہیں کہ ابلیس سے اللہ تعالیٰ کا مکالمہ دو بدو اور براہ راست ہوا تھا۔چنانچہ ارشا د ہوتا ہے۔
(عربی)
"اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایاکہ تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کون سا امر مانع ہے جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا،کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔حق تعالیٰ نے فرمایا،تو آسمان سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے آسمان میں رہ کر،سو نکل بے شک تو ذلیلوں میں شمار ہونے لگا۔وہ کہنے لگا مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کےدن تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی وہ کہنے لگا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا ہے،میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں اکثروں کو احسان ماننے والے نہ پائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ: یہاں سے ذلیل وخوا ر ہو کر نکل جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا،میں ضرور تم سے جہنم کو بھر دوں گا۔"
(عربی)
"اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا، اے ابلیس تجھ کو کون امر باعث ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں؟کہنے لگا کہ میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آ پ نے بجھتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا(اچھا پھر) یہاں سے نکل جا کیونکہ بے شک تو مردود ہوگیا اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی۔کہنے لگا کہ اے رب پھر مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے دیجئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا(اچھا) تجھےوقت معلوم کے دن تک مہلت دی گئی۔کہنے لگا اے رب بسبب اس کے کہ آپ نے مجھے (بحکم تکوین) گمراہ کیا ہے۔میں قسم کھاتا ہوں۔کہ میں دنیا میں ان کی نظر میں معاصی کو مرغوب کرکے دکھاؤں گا اور سب کوگمراہ کروں گا بجز آ پ کے ان بندوں کے جوان میں سے مخلص ہوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا،یہ ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے۔واقعی میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیری راہ پر چلنے لگے ان سب سے بے شک جہنم کا وعدہ ہے۔"
اور ارشاد ہوتا ہے:
(عربی)
"اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا،اے ابلیس جس چیز کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون چیز مانع ہوئی؟کیا تو مغرور ہوگیا ہے۔یا (واقعی) اعلیٰ درجہ والوں میں سے ہے؟کہنے لگا،میں اس سے(آدمؑ سے) بہتر ہوں۔آپ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اس کو گارے سے۔اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا،نکل جا یہاں سے پس تو مردود ہوگیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت قیامت کے دن تک رہے گی۔کہنے لگا،اے رب پھر مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے دیجئے ،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا،(جا) تجھ کو وقت معلوم کے دن تک مہلت دی گئی۔کہنے لگا تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں بجز آپ کے ان بندوں کے جو مخلصین میں سے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا،میں سچ کہتا ہوں اور میں تو (ہمیشہ) سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیرا ساتھ دیں ان سب کو دوزخ سے بھردوں گا۔"
6۔اسلاف میں سے حسن بصری ،قتادہ اور شھر بن حوشب رحمہم اللہ وغیرہ ابلیس کو ملائکہ سے نہیں بلکہ جنات میں سے بتاتے ہیں۔چنانچہ مروی ہے:
(عربی)
"حضرت حسن ؒ سے مروی ہے کہ ابلیس قطعاً ملائکہ میں سے نہ تھا بلکہ اس کی اصل جن سے ہے جس طرح کہ آدمؑ کی اصل بشر سے ہے۔"
علامہ حافظ ابی الفداء عماد الدین بن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ:
"حسن سے اس روایت کی اسناد صحیح ہیں۔"
اور
(عربی)
"حضرت شھر بن حوشبؒ سے مروی ہے کہ ابلیس جنات میں سے تھا۔جن کو ملائکہ نے مارا تھا۔پھر بعض ملائکہ نے اس کو قید کرلیا تھا اور اپنے ساتھ آسمان پرلے گئے تھے۔
علامہ ابو القاسم انصاری فرماتے ہیں:
"ہمارے شیخ ابو الحسن ؒ کا مسلک اور ابو اسحاق بن شاقلا ؒ کا ظاہر کلام یہ ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ ابو اسحاق ؒ نے علامہ عبدالعزیز ؒ پرحسن بصریؒ کے قول کو دلیل بنا کر ابلیس کے ملائکہ میں سے ہونے کی سخت تردید فرمائی ہے۔"
علامہ شیخ محدث القاضی بد الدین عبداللہ الشبلیؒ (م769ھ) جو بقول علامہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ،امام ذہبیؒ کے تلامذہ میں سے تھے ۔فرماتے ہیں:
"میں کہتا ہوں کہ ابن شاقلاؒ کا قول جسے ابن ابی الدینا نے بطریق علی بن محمد بن ابراہیم حدثنا ابو صالح حدثنی معاویۃ بن صالح عن العلاء بن الحارث حدثہ،عن ابن شہاب روایت کیا ہے کہانہوں نے ابن شاقلاؒ سے ابلیس کے متعلق سوال کیا،تو انہوں نے فرمایا،ابلیس جنات میں سے تھا بلکہ وہ تو ابو الجن ہے جس طرح کہ آدمؑ انسانوں میں سے ہیں اورابو الناس ہیں،واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔"
مشہور مفسرین میں سے علامہ ابن کثیر ؒ،علامہ شیخ فخر الدین الرازیؒ اور علامہ زمخشریؒ وغیرہ ابلیس کے ملائکہ میں سے ہونے کے بجائے جنات میں سے ہونے کے قائل ہیں،چنانچہ علامہ حافظ ابن کثیرؒ سورۃ الکہف کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
"ابلیس کبھی بھی فرشتوں میں سے نہ تھا وہ جنات کی اصل ہے۔جیسے کہ حضرت آدمؑ انسان کی اصل ہیں۔"
اسی طرح دور حاضر اور ماضی قریب کے مفسرین میں سے علامہ شیخ علی الصابونی ،
ڈاکٹر محمد محسن خان،ڈاکٹر محمد تقی الدین الھلالی المراکشی اور مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی ؒ وغیرہ نے بھی ابلیس کو فرشتہ تسلیم نہیں کیابلکہ اس کے متعلق جنات میں سے ہونے والے قول کو ترجیح دی ہے۔چنانچہ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی مرحوم اپنی تفسیر "تفہیم القرآن" کے بعض مقامات پر بصراحت فرماتے ہیں:
"۔۔۔نیز کسی کی یہ غلط فہمی بھی نہ ہونی چاہیے کہ وہ فرشتوں میں سے تھا ۔آگے چل کر قرآن نے خود تصریح کردی ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا جو فرشتوں سےالگ مخلوقات کی ایک مستقل صنف ہیں۔"
"۔۔۔یہ تصریح ان غلط فہمیوں کو رفع کردیتی ہے جو عموماً لوگوں میں پائی جاتی ہیں کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا اورفرشتہ بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ معلم الملکوت ،مذید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورۃ الحجر، آیت 27،اور سورۃ الجن آیات 13،15۔"
علمائے سلف وخلف کی قرآن وسنت کے عین مطابق ان تمام تصریحات کے باوجود فریق اول کے دوسرے بڑے وکیل علامہ آلوسیؒ اور ان کی تقلید میں ماضی قریب کے مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم وغیرہ ابلیس کو ملائکہ میں سے منوانے پر بضد ہیں،چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:
"مسئلہ:یہ بات قابل غور ہے کہ ابلیس علم ومعرفت میں یہ مقام رکھتاتھا کہ اس کو طاؤس الملائکہ کہا جاتا تھا پھر اس سے یہ حرکت کیسے صادر ہوئی؟بعض علماء نے فرمایا کہ اس کے تکبرکے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی دی ہوئی معرفت اور علم وفہم کی دولت اس سے سلب کرلی اس لئے ایسی جہالت کاکام کربیٹھا ،بعض نے فرمایا کہ حب جاہ اورخود پسندی نے حقیقت شناسی کے باوجود اس بلا میں مبتلاء کردیا۔تفسیر روح المعانی میں اس جگہ ایک شعرنقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہےکہ بعض اوقات کسی گناہ کے وبال سے تائید حق انسان کاساتھ چھوڑ دیتی ہے تو اس کی ہرکوشش اور عمل اس کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔شعر یہ ہے۔
(عربی)
اسی طرح شیخ ابو الوفاء علی بن عقیل ؒ بھی اپنی کتاب "ارشاد" میں فرماتے ہیں:
"اگر کوئی تم سے یہ سوال کرے کہ آیا ابلیس ملائکہ میں سے تھا یا نہیں؟تو ہمارے بعض اصحاب کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ جواب دو کہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔"
خلاصہ کلام یہ کہ ابلیس کےملائکہ میں سے ہونے کے متعلق فریقین کے تمام دلائل اور ان کا تقابلی وعلمی جائزہ اوپر پش کیا جاچکا ہے۔ان تمام دلائل کو سامنے رکھ کر اگر قطعی غیر جانبدارانہ نظرسے مطالعہ کیاجائے تو یہی بات باعتبار عقل ودانش زیادہ صحیح اور کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی احکام سے قریب تر نظر آئے گی کہ ابلیس فرشتہ نہیں بلکہ جنات میں سے تھا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اورسلف صالحین ؒ سے ابلیس کے فرشتہ ہونے کے سلسلہ میں جو اقوال مروی ہیں ان کی تائید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرمان سے نہیں ہوتی مذید یہ کہ ان موقوف اقوال کی روایات میں سے اکثر انتہائی ضعیف الاسناد،منکر اور ناقابل احتجاج بھی ہیں،اگر الاماشاء اللہ کسی روایت کی اسناد صحیح ہیں تو بھی اس کا ماخذ یاتو اسرائیلی روایات ہیں یا پھر دور جاہلیت کاوہ تصور جس کی طرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشارہ فرمایا ہے:
"بعض عرب قبائل دور جاہلیت میں ملائکہ کی ایک صنف کی پوجا(عبادت)کیا کرتے تھے۔ملائکہ کی اس صنف کا نام ان لوگوں نے "جن"رکھا ہوا تھا۔
جہاں تک اسرائیلی روایات کا ان روایات کے اصل ماخذ ہونے کا تعلق ہے تو اس دعویٰ کا تائیدمیں ہم انجیل برناباس کا مندرجہ ذیل اقتباس پیش کرنے کی اجازت چاہیں گے،بالخصوص اس کی خط کشیدہ عبارت:
Jerus departed from Jerusalem,and went to the deseert beyond Jordan: and his disciples that were seted round him said to jesus:” O’ master ,tell us how satan fell through pride,for we have understood that he fell through dis obedience,and because he always thempteth ,man to do evil?
Jesus answered: God heving created a mass of earth, and having left it for twenty five thousand years without doing aught el se, Satam, who was as it were prist and head of the angels ,by the great understaning that he prossessed ,knew that God of that mass of earth was, to take one hundred and forty and fous thousand signed with the mark of propheey…”
ترجمہ۔"حضرت عیسیٰ یروشلم سے رخصت ہوئے اور اردن سے پرے ریگستانوں میں چلے گئے۔ان کے حواری،جو ان کے اطراف بیٹھے تھے،نے حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کیا،اے مالک! ہمیں باخبر فرمائیے کہ شیطان کس طرح مغرور ہوکر معزول ہوا؟کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نافرمانی کی وجہ سے معزول ہوا ہے۔۔۔حضرت عیسیٰؑ نے جواب دیا ،اللہ تعالیٰ نےزمین کامادہ(یعنی مٹی) پیدا فرمانے کے بعد پچیس ہزار سال بغیر کچھ کئ ہوئے اسے یوں ہی پڑے رہنے دیا شیطان جو کہ بہت عابد اورفرشتوں کا سردار تھا،اعلیٰ عقلی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے سبب جان گیاتھا کہ اللہ تعالیٰ اس مٹی سے ایک لاکھ چوالیس ہزار انبیاءؑ کو پیدافرمائے گا۔الخ
علامہ حافظ ابن کثیر ؒ نے بھی اس باب میں وارد ا کثر روایات کو اسرائیلی قصص سے ماخوذ قرار دیا ہے۔چنانچہ سورۃ الکہف کی آیت 50 کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
"سلف کے اور بھی اس سلسلے میں آثار مروی ہیں لیکن یہ اکثر وبیشتر اسرائیلی ہیں۔اس لئے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزرجائیں ۔اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ہاں بنی اسرائیل کی روایتیں وہ تو قطعاً قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں بات یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن کافی وافی ہے۔ہمیں اگلی کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ہم ان سے محض بے نیازہیں۔اس لئے وہ تبدیل ترمیم کمی بیشی سے خالی نہیں۔الخ"
جب ان روایات کا اسرائیلیات سے ماخوذ ہونا موکد ہوچکا تو اس سلسلہ میں یہ وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ایسی اسرائیلی روایات پر کس درجہ اعتماد کیا جاسکتاہے۔ اور ان پر اعتماد کرنے کے لئے کن شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے۔
شیخ الاسلام علامہ حافظ ابن تیمیہؒ نے اسرائیلی روایات پر اعتماد کرنے کےلئے صحیح وثابت احادیث کی شہادت کولازم قرار دیاہے۔چنانچہ ایک دوسری مشہوراسرائیلی روایت پر تنقید فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس طرح کی حدیثوں پرشریعت کی بناء جائز نہیں اور باتفاق مسلمین ان سے دین میں قطعاً استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ یہ اسرائیلیات وغیرہ کی قسم سے ہیں۔کہ جن کی حقیقت کو صحیح وثابت حدیث کی شہادت کے بغیر معلوم نہیں کیا جاسکتا۔اس طرح کی حدیثیں اگر کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن منبہ وغیرہ بھی جو اہل کتاب سےدنیا کی پیدائش اور متقدمین کے قصے نقل کرتے ہیں روایت کرتے تو بھی باتفاق مسلمین شریعت میں ان سے استدلال جائز نہ ہوتا۔الخ
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی کوئی صحیح اور ثابت حدیث موجود نہیں ہے جو ابلیس کو فرشتہ ثابت کرنے والی اسرائیلی روایات کے لئے موید وشاہد بن سکے لہذا اس فکر کی موافقت کرنے والی تمام روایات سے استدلال کرنا درست نہیں بلکہ لائق ترک ہے،واللہ اعلم بالصواب