چونکہ خالق کائنات کے منکر تو کافر بھی نہیں اور اسی سلسلہ میں قرآن کریم قریش مکہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے اقرار کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس لئے وجود باری تعالیٰ کو نقلی وعقلی دلائل سے ثابت کرنا کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے انبیاءؑ کی تعلیمات میں اس توحید علمی پر زیادہ زور نہیں دیا۔جس میں ذات باری تعالیٰ کاوجود زیر بحث ہو۔البتہ اللہ تعالیٰ کی صفات کیا ہیں؟اور ان میں کوئی اللہ کا ہمسر ہے یا مثیل؟قرآن مجید سے بطور خاص موضوع بناتاہے۔اور اس کے سارے پہلو وا کرتا ہے کیونکہ ان صفات کے عقیدہ سے ہمارا عمل براہ راست متعلق ہے۔ کہ ہم اللہ کو جیسا مانیں گے اسی طرح اس سے معاملہ کریں گے۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی بھی ذات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا رائی برابر بھی شائبہ ہو یا عکس تو پھر اس سے بھی اسی طرح کا معاملہ درپیش ہوسکتاہے جس طرح اللہ سے ہوتا ہے۔چنانچہ شرک کی تردید میں وحی اسی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی آپ کو اسی طرح کی حقیقتیں ملیں گے۔(مدیر)
اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں:
قرآن پاک کے دلائل درج ذیل ہیں:۔
1۔(عربی)
"اور معبود تمہارا یک ہی معبود ہے۔نہیں کوئی معبود مگر وہی جو رحم کرنے والا مہربان ہے۔
2۔(عربی)
"اللہ تعالیٰ نہیں کوئی معبوو مگر وہی جو زندہ ہے قائم رہنے والا ہے۔نہیں پکڑتی اس کو اونگھ اور نہ نیند۔واسطے اسی کے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کے حکم سے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے۔اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔اور نہیں گھیرتے کسی چیز کو اس کے علم سے مگر جو چاہے ۔گھیر لیا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں تھکاتی اس کو ان دونوں کی نگرانی اور وہ بلند بڑا ہے۔
3۔(عربی)
"اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی زندہ قائم رہنے والا ہے۔"
4۔(عربی)
"گواہی دی اللہ نے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہی اور گواہی دی فرشتوں نے اور علم والوں نے کہ اللہ قائم ہے۔ساتھ انصاف کے نہیں کوئی معبود مگر وہی جو غالب حکمت والا ہے۔
5۔(عربی)
"پکڑا انھوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب اور میسحؑ مریم ؑ کو۔اور نہیں حکم کئے گئے وہ مگر تاکہ عبادت کریں وہ ایک معبود کی۔نہیں کوئی معبود مگر وہی،پاک ہے وہ اس چیز سے جو شرک کرتے ہیں۔
6۔(عربی)
"اے قید خانے کے ساتھیو،کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا ایک ہی اللہ زبردست۔
7۔(عربی)
"معبود تمہارا ایک ہی معبود ہے۔جو لوگ نہیں ایمان رکھتے ساتھ آخرت کے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں۔ اور وہ تکبر کرتے ہیں۔
8۔(عربی)
"کہہ دو میں بشر ہوں تم جیسا وحی کی جاتی ہے طرف میرے جو کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے،جو شخص اللہ کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہے۔چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔"
9۔(عربی)
"اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی،اس کے لئے اچھے نام ہیں۔
10۔(عربی)
"بے شک تمہارا معبود اللہ ہے۔نہیں کوئی معبود مگر وہی گھیر لیا ہے اس نے ہر چیز کو علم سے۔
11۔(عربی)
"اور وہ اللہ ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی اسی کے لئے تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اسی کا حکم ہے اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔
12۔(عربی)
"قسم ہے صفب بندی کرنے والے فرشتوں کی پھر ڈانٹ دینے والوں کی پھر تلاوت کرنے والے ذکر کی کہ تمہارا معبود ایک ہے۔
13۔(عربی)
"کہہ کہ میں تو ڈرانے والا ہوں۔اور نہیں کوئی معبود مگر اللہ ایک زبردست۔
14۔(عربی)
"اگر ارادہ کرے اللہ تعالیٰ کہ پکڑے اولاد تو چن لیتا اس سے جو پیدا کیا اس نے جو چاہتا۔پاک ہے وہ اللہ جو ایک زبردست ہے۔
15۔(عربی)
"اس دن ظاہر ہوں گے سب نہیں پوشیدہ ہوگا اللہ پر ان میں سے کوئی بھی۔آج بادشاہی کس کی ہے ؟ ایک اللہ کی جوزبردست ہے۔
16۔(عربی)
" کہہ دو بے شک میں آدمی ہوں تم جیسا وحی کی جاتی ہےطرف میری کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے سیدھے ہوجاؤ طرف اس کے اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے واسطے مشرکوں کے۔
17۔(عربی)
"اور مت پکار ساتھ اللہ تعالیٰ کے کوئی دوسرا معبود،ہر چیز ہلاک ہوگی سوائے اس کی ذات کے اسی کے لئے حکم ہے اور طرف اسی کے پھیرے جاؤ گے۔
18۔(عربی)
"اور مت جھگڑا کرو اہل کتاب سے مگر ایسے طریقہ سے کہ وہ اچھا ہے مگر وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا۔ان میں سے۔اور کہو ایمان لائے ہم اس کے ساتھ اس پر جو اتارا گیا طرف ہمارے اور اتارا گیا طرف تمہارے اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اس کے مطیع ہیں۔
19۔(عربی)
"البتہ تحقیق تمہارے پاس تمہاری جانوں سے رسول آیا۔گراں ہے اس پر کہ تم مشقت میں پڑو۔حرص کرنے والا ہے تم پر مسلمانوں پر شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ اگر پھر جاویں تو کہہ کہ مجھے کافی ہے اللہ تعالیٰ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی،اس پر بھروسہ کیا میں نے۔اور وہ بڑے تخت کامالک ہے۔"
20۔(عربی)
"کہہ دو اللہ ایک ہے اللہ بے احتیاج ہے۔ نہیں جنا اس نے اور نہیں جناگیا۔اور نہیں ہے کوئی بھی اسی کی برابری کرنے والا۔
فائدہ:
اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت مکی ہے۔اور بعض اسے مدنی کہتے ہیں۔اس کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔جن میں سے ہم اختصار کے ساتھ دو کا ذکر کرتے ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،مجھے اس ذات پا ک کی قسم،جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔(بخاری)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جہاد میں سردار بنا کر بھیجا۔وہ جب لوگوں کو نماز پڑھاتا تو قرائت ختم کرنے سے پہلے (عربی) ضرور پڑھتا۔لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ لوگوں نے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی صفت بیان ہوئی ہے۔اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔(بخاری ومسلم بحوالہ اشرف الحواشی) ص719۔
(عربی)
ایک خدا کو ہی معبود بناؤ:
1۔(عربی)
"اور کہا اللہ تعالی نے مت بناؤ دو معبود اور ایک ہی معبود ہے۔پس مجھ ہی سے تم ڈرو۔
فائدہ۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ معبود ایک ہی ہے۔دو نہیں جب دو کی نفی ہوئی تو وہ سے زائد خود بخود ختم ہوگئے۔انسان توحید پرست اس وقت ہوگا جبکہ ایک خدا کو معبود مانے گا اور اسی کی عبادت کرے گا۔لیکن معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ لوگوں نے بت پرستی کے علاوہ بھی بہت سے معبود بنا رکھے ہیں جیسا کہ مذکور ہے:
1۔(عربی)
"دانش مندوں میں سے کسی نے کہاتھا کہ تجھے تو اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے سے روکاتھا لیکن تو نے تو کئی خدا بنا ڈالے تو نے اپنے نفس کو،اپنی خواہش کو،اپنی دنیا کو،اپنی طبعیت کو ،اپنے مقصد کو کو اپنا معبود بنایا،اور مخلوقات کی عبادت کی ابھی تک تو نے اپنے آپ کو توحید پرست ہی سمجھتاہے۔(تفسیر طبرسی ج3ص365)
اپنے آپ کو معبود بنانا بھی گمراہی ہے:
2۔(عربی)
"کیا دیکھاتو نے اس شخص کو جس نے پکڑا اپنی خواہش کو اپنا معبود ،کیا پس تو اس پر داروغہ لگا ہواہے۔کیا تو گمان کرتاہے کہ اکثر ان کے سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔نہیں ہیں وہ مگر چارپایوں کی طرح۔بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔(سورۃ الفرقان)
(عربی)
"کیا دیکھا تو نے اس کو جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا۔اور اُس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا۔اوپر علم کے اور مہر کردی اس کے کان پر اور اس کے دل پر۔اوراس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔کون اسے اللہ کے بعدہدایت کرے گا۔کیاتم نصیحت نہیں پکڑتے۔(سورۃالجاثیہ)
فائدہ:
یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ انسان کو حکم یہی ہے کہ وہ صرف اور صرف کتاب وسنت کی پیروی کو اپنا دستور العمل بنائے۔اور اپنی خواہشات کو ان ہی کے تابع کرے جیسا کہ حدیث میں ہے:
(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں بن سکتا۔یہاں تک کہ اس کی خواہش تابع ہوجائے اس چیز کے جو کہ میں لے کر آیا ہوں (یعنی کتاب وسنت)(مشکواۃ ج1 ص30)
لیکن خواہش پرستی ایک ایسا گمراہ کن مرض ہے۔ جس میں عموماً اہل اسلام مبتلا ہیں۔جو دل میں آتا ہے وہی کرتے ہیں احکام الٰہی کی کوئی پرواہ نہیں۔زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا:
(عربی)
"زمانہ جاہلیت میں ایک انسان سفید پتھر کی زمانہ بھر عبادت کرتارہتا تھا۔ جب اس سے زیادہ خوبصورت پتھر مل جاتا تو پہلے کو چھوڑ کردوسرے کی عبادت شروع کردیتا۔(تفسیر ابن کثیرج3ص33)
در اصل یہ پتھر کی نہیں بلکہ خواہش کی عبادت تھی،کیونکہ خواہش کی وجہ سے وہ ایسا کرتاتھا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس سے روک کر ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا ہے۔
3۔(عربی)
"اور بھیجا ہم نے ہر امت میں رسول یہ کہ عبادت کرو تم اللہ تعالیٰ کی اور بچو طاغوت سے پس ان میں سے وہ بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی اور وہ بھی تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی پس چلو زمین میں دیکھو کیسے جھٹلانے والوں کا انجام ہوا۔(سورۃ النحل)
4۔(عربی)
کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جو کہ کتاب کا ایک حصہ دیئے گئے ،ایمان لاتے ہیں ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں کافروں کو،یہ زیادہ ہدایت والے ہیں ایمانداروں سے از روئے راستہ کے۔
(عربی)
یہ لوگ کہ ان پر لعنت کی اللہ تعالیٰ نے ،اور جس پر اللہ لعنت کرے ہر گز تو اس کے لئے مددگارنہ پائے گا۔(سورۃ النساء)
5۔(عربی)
"اللہ تعالیٰ دوست ہے ایمانداروں کا نکالتا ہے ان کو اندھروں سے طرف روشنی کے اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے دوست شیطان ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔یہ لوگ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔
6۔(عربی)
کیا نہ دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو گمان کرتے ہیں کہ ایمان لائے وہ ساتھ اس کے جو اتارا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے اور ارادہ کرتے ہیں کہ فیصلہ لے جائیں طرف سرکش کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کا حکم دیئےگئے ہیں۔اورارادہ کرتا ہے شیطان کہ ان کو دور کا گمراہ کرے۔
7۔(عربی)
"کہہ کیا نہ خبردوں میں تم کو اس لئے بھی بدترین کی بدلہ کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک جو کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور ناراض ہوا اور ان میں بندر خنزیر بنائے۔اور جس نے شیطان کی عبادت کی یہ لوگ مرتبے میں بدترین ہیں اور راستے سے گمراہ ہیں۔(سورۃ المائدہ)
فائدہ:۔
الجبت بت کوکہتے ہیں اور جادو گر ،کاہن،ٹونے،ٹوٹکے،اور اس قسم کی سب چیزیں الجبت میں داخل ہیں ۔حدیث میں ہے۔(عربی)
شگون لینا،پرندوں کو اڑا کر اور زمین پر لکیریں کھینچ کرفال گری کرنا جبت میں داخل ہیں۔اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔اور ہر وہ شخص جو معاصی کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے تھے ان کو طاغوت کہا جاتا تھا۔(اشرف الحواشی ص166)
متعدد معبودوں کانقصان:
8۔(عربی)
"اگر ہوتے ان دونوں میں معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے تو البتہ بگڑ جاتے یہ پاک ہے اللہ جو کہ عرش کا مالک ہے اس سے جو بیان کرتے ہیں۔
فائدہ:،
کیونکہ ہر خدا اپنی جگہ قادر وخود مختار ہوتا تو ان میں ہمیشہ کشمکش کا بازار گرم رہتا،جیسے اور کوئی چیز اپنی مرتب شکل میں بن سکتی نہ چل سکتی۔توحید پر یہ دلیل سادہ بھی ہے۔ اور ناقابل تردید بھی ۔(اشرف الحواشی ص388)
اللہ رب العالمین عرش پر ہے:
اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لحاظ سے عرش پر ہے جن لوگوں کا خیال یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہرشے میں موجود ہے اور حقیقت میں ہر چیز ایک ہی ہے ان لوگوں کا یہ نظریہ کتاب وسنت کےلحاظ سے سراسر باطل ہے۔اللہ تعالیٰ کا تعلق ہر چیز کے ساتھ خالق ومخلوق کا ہے۔خالق کاوجود الگ ہے۔مخلوقات کے وجود الگ ہیں۔دونوں میں اتحاد نہیں بلکہ تبائن ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لحاظ سے وحدہ لا شریک ہے اس کاعلم ہر چیز پر حاوی ہے ذات کے لحاظ سے وہ ہر جگہ نہیں۔قرآن پاک میں اس مسئلہ پر متعدد آیات مبارکہ میں کلام کیا گیا ہے۔
چند دلائل ہم بھی ذیل میں درج کرتے ہیں۔کیونکہ اس میں مسئلہ کا تعلق عقیدہ سے ہے۔اس میں وضاحت ہی مناسب ہے۔
1۔(عربی)
"وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر قصد کیا طرف آسمان کےدرست کیا ان کو سات آسمانوں میں اور وہ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔(البقرہ)
2۔(عربی)
بے شک تمہارا پروردیگار اللہ ہے جس نے پیدا کیا ،آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر قرار پکڑا عرش پر ڈھانک دیتا ہے رات کو دن پر ڈھونڈتا ہے اس کو شتاب شتاب اور پیدا کیا سورج اور چاند کو اور ستارے اس کے حکم کے ساتھ مسخر کیے ہوئے ہیں۔خبردار اس کے لئے ہے حکم کرنا اور پیدا کرنا ۔بابرکت ہے جہانوں کا پالنے والا۔(سورۃ الاعراف)
3۔(عربی)
" تمہارے پاس رسول آیا تم میں سے شاق ہے اس پر کہ ایذا میں پڑوتم حرص کرنے والا ہے اور مومنوں پر شفیق ومہربان ہے پس اگر پھر جاویں کہہ کافی ہے مجھے اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہی۔اسی پر بھروسہ کیا میں نے اوروہ بڑے تخت کا مالک ہے۔(سورۃ التوبہ)
4۔(عربی)
" تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر قرار پکڑا عرش پر تدبیر کرتاہے کام کی نہیں کوئی سفارش کرنے والا بغیر اس کے حکم کے یہ تمہارا رب ہے اسی کی عبادت کرو۔کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے۔(سورۃ یونس )
5۔(عربی)
"اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے تم دیکھتےہو پھر قرار پکڑا عرش پر اور مسخر کیا سورج اور چاند کو ہر ایک وقت مقررہ پر چلتا ہے تدبیر کرتاہے کام کی تفصیل سے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرو۔(سورۃ الرعد)
6۔(عربی)
"اور تحقیق پھیر پھیر کر ہم نے بیان کیا اس قرآن میں تاکہ نصیحت پکڑیں اور نہیں زیادہ کیا ان کو مگر نفرت میں۔
کہہ اگر ہوتے ساتھ اس کے بہت معبود جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو اس وقت پکڑتے طرف عرش والے کے راستہ۔(بنی اسرائیل)
7۔(عربی)
" نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن کہ آپ رنج میں پڑ جائیں جو شخص ڈرتا ہے اس کے لئے نصیحت ہے۔اتارا ہوا ہے اس کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین اور بلند آسمانوں کو وہ رحمٰن ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا۔(سورہ طہٰ)
(عربی)
"کیا گمان کیا ہے تم نے کہ پیدا کیا ہے ہم نے تم کو بے فائدہ اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے پس بلند ہے اللہ جو کہ سچا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عزت والے عرش کا مالک ہے۔(سورۃ المومنون)
9۔(عربی)
"اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔چھ دنوں میں پھر اس نے قرار پکڑا عرش پر وہ رحمٰن ہے تو سوال کرو اس کے متعلق خبر رکھنےوالےسے۔(سورۃ الفرقان)
10۔(عربی)
"اللہ وہ ذات ہے جس نے یپدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں۔پھر قرارپکڑا عرش پر نہیں ہے تمہارے لئے اس کے سوا کوئی دوست اور نہ سفارش کرنے والا۔کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے۔(سورۃ الم السجدۃ)
11۔(عربی)
"اور تو دیکھے گا فرشتوں کو گرد عرش کے پاکی بیان کرتے ہوئے ساتھ اپنے رب کی تعریف کے اور فیصلہ کیا جائے گاان کے درمیان ساتھ حق کے۔اور کہا جائے گا تمام تعریف اللہ کے لئے ہے۔جو جہانوں کا پروردگار ہے۔(سورہ الزمر)
12۔(عربی)
" کہہ کیا کفر کرتے ہو اس کے ساتھ جس نے دو دن میں زمین پیدا کی اور شریک بناتے ہو اس کےلئے یہ جہانوں کا پروردگار ہے۔
اوراس میں اوپر سے پہاڑ بنائے ان میں برکت کی اور اندازہ کیا اس کی روزی کا چار دن میں۔برابر ہے پوچھنے والوں کے لئے۔پھر قصد کیا طرف آسمان کی اور وہ دھواں تھا ۔پس کہا آسمان وزمین کو آؤ خوشی یا نہ خوشی سے ان دونوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آئے۔
پس مقرر کیا ان کو سات آسمانوں میں دو دنوں میں۔اور ڈال دیا ہر آسمان میں کام اُس کا اور زینت دی آسمان دنیا کو ساتھ چراغوں کے اور واسطے حفاظت کے یہ اندازہ ہے غالب علم والے کا۔(سورۃ حم السجدۃ)
13۔(عربی)
"پاکیزگی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو جو کہ عرش کا مالک ہے اس سے جو کہ وہ بیان کرتے ہیں۔
14۔(عربی)
"وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو چھ دنوں میں پھر قرار پکڑا عرش پر جانتاہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو نکلتا ہے اس سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو۔اور جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ جانتاہے۔(سورۃ الحدید)
15۔(عربی)
"اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے ،اور بھیجتا ہے تم پر نگرانی کرنے والے فرشتے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی ہے تو اُس کو ہمارے فرشتے فوت کرلیتے ہیں۔اور وہ کمی نہیں کرتے۔(سورۃ الانعام)
16۔(عربی)
"کیا نڈر ہوچکے ہو توتم اس اللہ سے جو کہ آسمان میں ہے۔کہ دھنسادیوے تم کو زمین میں۔ناگاہ وہ پھٹ جاوے کیا نڈر ہوچکے ہو تم اس سے جو کہ آسمان میں ہے یہ کہ بھیجے تہارے اوپر مینہ پتھروں کا پھر تم جان لوگے کیسے تھا میرا ڈرانا۔(سورۃ الملک)
17۔(عربی)
"اور اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں جو کہ آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں چوپائے اور فرشتے وہ تکبر نہیں کرتے۔
ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے جو کہ ان کے اوپر ہے اور کرتے ہیں جو کہ حکم دیئے جاتے ہیں۔(سورۃ النحل)
اس مسئلہ کی وضاحت فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے:
18۔(عربی)
"معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی میں نے ایک بکری گم پائی،پوچھا تو اس نے کہا بھیڑیا کھا گیا ہے،مجھے غصہ آیا تو میں نے اسے تھپڑ مارا مجھ پر گردن کا آزاد کرنا ہے کیا اسی کو ہی نہ آزاد کردوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا کہ اللہ کہاں ہے؟اس نے جواب دیا۔آسمان میں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کون ہوں؟اس نے جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو اس کو مالک نے روایت کیا۔
مسلم شریف کی روایت یہ ہے کہ میری لونڈی احد اور مقام جوانیہ کی طرف بکریاں چرارہی تھی۔ایک دن میں نے دیکھا کہ بھیڑیا بکری لے گیا ہے۔میں نے غصے سے اس کو تھپڑ دے مارا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت بڑا گناہ سمجھا میں نے کہا کہ میں اس کو آزاد کردوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس لاؤ،میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟اس نے کہا،آسمان میں ہے۔تو فرمایا کہ میں کون ہوں؟تو اس نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کردو یہ لونڈی ایمان دار ہے۔(مشکواۃ ج2 ص285)
فائدہ:۔
(عربی)
"اہل سنت کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اپنی مخلوق سے الگ ہے۔جس طرح اس کو لائق ہے۔(شرح عقیدہ واسطیہ ص74)
اللہ تعالیٰ کا عرش کتنی بلندی پر ہے:
یہ تو معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لحاظ سے مخلوقات کے اوپر عرش عظیم پر ہے۔ اس مسئلہ میں لو گوں نے بہت سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔در اصل وہ ذات خداوندی کو عرش پر ماننا نہیں چاہتے۔اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ تخمین وقیا س سے ان کی عقل باور نہیں کرتی۔کہ ذات خدا کے متعلق یہ عقیدہ قائم کیا جائے۔لیکن ہم اپنے ناقص علم سے گزارش کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کو قیاسی بنانا ہی بنیادی غلطی ہے جب کہ کتاب وسنت میں نصوص موجود ہیں کہ اللہ رب العالمین عرش پر ہے تو پھر ایمان لانا ہی ضروری ہے آراء وقیاسات کو نصوص کے تابع کرنا ہی دانش مندی ہے ذیل میں اللہ تعالیٰ کے عرش کی بلندی کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ہوگا۔تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے :
(عربی)
"عباس بن مطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مقام بطحاء میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جماعت میں تھا۔ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔بادل گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاُسے دیکھ کر فرمایا کہ تم اس کا کیا نام رکھتے ہو،انھوں نے کہا کہ (سحاب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(مزن) انھوں نے کہا(مزن بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ (عنان) انھوں نے کہا(عنان) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی مسافت ہے؟انھوں نے کہا نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے۔اور اوپر کا آسمان بھی اتنا ہی بلند ہے۔سات آسمان ایسے ہی شمار کئے۔پھر ساتویں آسمان پر سمندر ہے۔اس کی مسافت بھی دونوں ہی آسمانوں کے برابر ہے۔پھر اس کے ا و پر آٹھ فرشتے ہیں ان کے پاؤں کے پاؤں اور گھٹنوں کا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے برابر ہے۔پھر ان کی کمروں پر عرش ہے عرش الٰہی کی مسافت ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک ہےپھر اُس کے اوپر اللہ رب العالمین کی ذات بابرکات ہے۔(ابو داؤد مع شرح عون المعبود ج4 ص368)
2۔(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا پس اس نے کہا جانیں سختی میں پڑ گئیں۔اولادیں ضائع ہوگئیں مال کم ہوگئے چار پائے ہلاک ہوگئے۔اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارشی بناتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کو سفارشی بناتے ہیں تجھ پر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ کو معلوم ہے کہ تو کیا کہہ رہا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک تسبیح بیان کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے چہروں میں بھی یہ معلوم ہونے لگا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس سفارشی نہیں بنایا جاتا۔اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے۔تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کیا ہے؟اس کاعرش آسمانوں پر ہے قبہ کی طرح وہ سوار کی سواری کی طرح آواز نکالتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہے۔(ابو داؤد مع عون ج4ص269)
3۔(عربی)
"اللہ تعالیٰ معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ زندہ اور قائم ہے۔نہ آتی ہے اسے اونگھ او نہ نیند۔اُسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے کون ہے جو کہ اُس کے حکم کے بغیر اس کے پاس سفارش کرسکے۔وہ جانتا ہے جو کچھ انکے پہلے ہوا اور جو کچھ بعد میں ہوگا نہیں نہیں گھیر سکتے اس کے علم سے کسی چیز کو مگر وہ جو چاہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمینوں کو گھیر لیا ہے۔ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بلند ہے بڑا۔(آیۃ ا لکرسی)
کُرسی کی وُسعت کا بیان:
(عربی)
"ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔۔۔کرسی کے متعلق سوا ل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں کرسی کے سامنے اس طرح ہیں۔جیسا کہ کھلی زمین پر ایک چھلا پڑا ہوا ہو۔اور عرش کی فضیلت کرسی پر اتنی ہے جتنی اس کھلی زمین کی فضیلت اس چھلا پر ہے۔(تفسیر ابن کثیرؒ ص310۔ج1)
فائدہ:۔
اللہ تعالیٰ کی کرسی کی وسعت کا بیان احادیث میں مذکور ہے یعنی یہ کہ سات آسمان اور زمین کی نسبت کرسی کے مقابلہ میں وہی ہے جو جنگل میں پڑے ہوئے ایک حلقہ کی ہوتی ہے۔پس صحیح یہ ہے کہ کرسی کے لفظ کو اس کے ظاہر معنیٰ پر محمول کیا جائے۔اور تاویل نہ کی جائے۔کیونکہ یہ آیات صفات اور ان کے ہم معنی احادیث صحیحہ میں سب سے بہتر طریق سلف صالح کا طریق ہے۔یعنی (عربی)(اشرف الحواشی ص51)
اللہ تعالیٰ عرش پر ہے:
اللہ تعالیٰ اپنی ذات بابرکات کے لحاظ سے عرش پر مستوی ہے کتاب وسنت کے دلائل کا خلاصہ یہی ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے لے کر امت کے تمام اکابرین کا یہی عقیدہ ہے۔چنانچہ صاحب"عون المعبود" علامہ ڈیانوی ؒ سلف صالحین کا تذکرہ فرماتے ہوئے ان کا یہ عقیدہ تحریر فرماتے ہیں۔
(عربی)
"یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اللہ عرش پر ہے۔اور یہی حق ہے قرآن اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر دلالت کرتی ہیں۔اور سلف صالحین میں سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تابعین عظام ؒ اور دوسرے اہل علم کا بھی یہی مذہب ہے۔اللہ ان سب پر راضی ہو۔آمین
"وہ کہتے ہیں استویٰ الٰہی تو معلوم ہے اور کیفیت غیر معلوم ہے اس میں تشبیہ دینا یا تاویل کرناجائز نہیں۔
"اور فرقہ جہمیہ نے عرش الٰہی کا انکار کیا ہے۔ذات الٰہی کا عرش پر ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اس مسئلے میں ان کے اقوال قبیح اور باطل ہیں۔اگر تجھے سلف صالحین کے دلائل کو معلوم کرنا ہوتو جس سے فرقہ جہمیہ کا رد نکلتا ہے۔تو کتاب الاسماء والصفات کتاب الافعال العباد،کتاب العلو،قصیدہ نونیہ اور جیوش اسلامیہ کا مطالعہ کرو۔اللہ تعالیٰ ان کتب کے لکھنے والوں پر اپنی رحمت کا سایہ برسائے۔آمین!(عون المعبود شرح ابو داؤد ج4 ص369)
امام ابو حنیفہ ؒ کامذہب:
(عربی)
"کتاب الفقہ الاکبر کے مصنف ابو مطیع بلخی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے پوچھا کہ ایک آ دمی کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین میں تو اس کا کیا حکم ہے۔تو امام صاحب ؒ نے فرمایا کہ وہ کافر ہوگیا۔کیونکہ قرآن میں ہے کہ رحمٰن عرش پر مستوی ہے۔اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔میں نے کہا کہ اگر وہ استواء علی العرش تو مانے لیکن کہے کہ مجھے معلوم نہیں عرش آسمان میں ہے یا زمین میں تو فرمایا اگر آسمان میں نہ مانے تو بھی کافر ہے۔
امام اوزاعی ؒ کا مذہب:
(عربی)
"امام اوزاعی ؒ فرماتے ہیں کہ بہت سے تابعین کی موجودگی میں ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات احادیث میں موجود ہیں ہم سب پرایمان رکھتے ہیں۔
صفات باری تعالیٰ کا تذکرہ:
1۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن پاک میں اپنی صفات کا تذکرہ متعدد آیات مبارکہ میں فرمایا ہے۔ان کو اسی طرح تسلیم کرنا ضروری ہے۔جس طرح ان کا ذکر ہوا۔ان میں تاویل یا تشبیہ جائز نہیں کیونکہ فرمان خداوندی ہے:
(عربی)
"کہ اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔
اسی طرح ان صفات باری تعالیٰ کا انکار بھی کوئی عقلمندی نہیں۔
2۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بعض صفات باری تعالیٰ کا ذکر موجود ہے۔ان کو بھی بلاتاویل تسلیم کرنا ہی اہل علم بزرگوں کا طریقہ ہے۔اور یہی اسلامی تعلیم ہے۔
چندآیات کا ذکر جن میں صفات خداوندی کا تذکرہ ہے:
(عربی)
"اور ڈرا ساتھ اس کے ان کو جوڈرتے ہیں کہ اکھٹے ہوجائیں گے طرف اپنے رب کے۔ان کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا نہ سفارشی تاکہ وہ بچیں۔اور نہ ہانک ان لوگوں جو کہ پکارتے ہیں اپنے پروردگار کو صبح اور شام ارادہ رکھتے ہیں اُس کے منہ کا نہیں ہے۔ تجھ پر ان کے حساب سے کچھ بھی۔اور نہ تیرے حساب سے ان پر کچھ ہے۔اگر ہانکےگا تو ظالموں سے ہوگا۔
2۔(عربی)
"اور روک رکھ جان اپنی کو ان لوگوں کے ساتھ جو کہ پکارتے ہیں ا پنے رب کو صبح اور شام اور ارادہ کرتے ہیں اس کی رضا مندی کا۔اور نہ پھیریں تیری آنکھیں ان سے کہ تو ارادہ کرتا ہو دینا کی بناوٹ کا۔اور نہ اطاعت کر اس کی کہ غافل کردیا اس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہواہے۔
3۔(عربی)
"اور نہ پکار ساتھ اللہ کے دوسرا معبود نہیں کوئی معبود مگر وہی۔ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔
4۔(عربی)
"جو کچھ اس زمین پر ہلاک ہونے والا ہے۔اور باقی رہے گی تیرے رب کی ذات جو کہ بزرگی اور عزت والا ہے۔
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ میں لفظ (عربی) مذکور ہواہے جس کا معنی چہرہ ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں۔کیونکہ آیات قرآنی میں یہ لفظ و ارد ہوا ہے۔
1۔(عربی)
"اور وحی کی گئی طرف نوح ؑ کے کہ ہر گز نہ ایمان لائیں گے تیری قوم سے مگر جو ایمان لاچکے۔مت غم کھا ساتھ اس چیز کے کہ وہ کرتے ہیں۔اور بنا کشتی سامنے ہماری آنکھوں کے اور ساتھ ہماری وحی کی اور مجھ سے کلام نہ کرنا ظالموں کے متعلق وہ غرق کئے جائیں گے۔(سورۃ ھود)
(عربی)
"جس وقت کے وحی کی ہم نے طرف تیری ماں کے یہ کہ ڈال دے اس کو صندوق میں۔پس ڈال دے اس کو دریا میں چاہیے کہ ڈالے دریا کنارے پر پکڑے اس کو میرا اور اس کا دشمن اور ڈالی میں نے اپنی محبت تجھ پر تاکہ تو پرورش کیاجائے میری آنکھ پر۔(سورہ طہٰ)
(عربی)
"تکذیب کی ان کے پہلے قوم نوحؑ نے اورجھٹلایا انھوں نے ہمارے بندے کو اور کہا کہ دیوانہ اور ڈانٹا ہواہے۔
پس پکارا اس نے اپنے پروردگار کو کہ میں مغلوب ہوا بدلہ لے میرا۔کھولے ہم نے آسمان کے دروازے برسنے والے پانی کے ساتھ اور پھاڑ دیا ہم نے زمین کو چشموں میں مل جل گیا پانی ایک کام پر جو کہ اندازہ کیا گیا تھا۔اور سوار کرلیا ہم نے اس کو سختیوں اور میخوں والی کشتی پر،چلتی تھی سامنے ہماری آنکھوں کے بدلہ تھا واسطے اس شخص کے جو کہ کفر کیا گیا تھا۔
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ میں لفظ (اعین) کا اثبات ذات باری تعالیٰ کے لئے کیاگیا ہے۔جس معنی آنکھیں ہے۔ان کا انکار بھی نہیں ہوسکتا۔
1۔(عربی)
"اور کہا یہود نے اللہ کا ہاتھ بند ہے ان کےہاتھ بند کئے گئے ہیں اور لعنت کئے گئے ہیں بہ سبب ان کے کہنے کے بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں خرچ کرتا ہے جسے چاہتاہے۔اورضرور زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے جو اتارا گیا طرف تیرے تیرے پروردگار کی طرف سے سرکشی اور کفر میں اور ڈالی ہم نے ان کے درمیان عداوت اوربغض قیامت تک جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے بجھادیتے ہیں۔اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کی اور اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔(سورۃ المائدہ)
2۔(عربی)
"کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم نے پیدا کیا ان کے لئے اس سے جو کہ ہمارے ہاتھوں نے کیا چار پاؤں کو اور وہ ان کے مالک ہیں۔(سورۃ یٰس)
3۔(عربی)
"کہا اے ابلیس ! کس چیز نے روکا تجھے یہ کہ سجدہ کرے اس کو جسے میں نے دونوں ہاتھوں پیدا کیا تکبر کیا تو نے یاتھا بلند مرتبے والا اس نے کہا کہ میں بہتر ہوں اس سے پیداکیا تو نے مجھے آگ سے اور پیدا کیا تو نے اسے مٹی سے۔(سورۃ ص)
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ میں ذات اقدس کے لئے لفظ (یدان) کا ذکر ہے جس کا معنیٰ ہاتھ ہے۔ان کو تسلیم کرنا عین ایمان ہے۔کیونکہ قرآن پاک میں موجود ہے۔
1۔(عربی)
"اور بہت سے رسول ہم نے بھیجے تحقیق ہم نے بیان کیا ان کو تجھ پر اور بہتوں کو نہیں بیان کیا اور اللہ نے کلام کیا موسیٰ سے۔(سورۃ النساء)
2۔(عربی)
"اور جب کہا اللہ نے فرشتوں کو بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں زمین میں ایک غائب انھوں نے کہا کیا تو بنائیگا اس کو جو کہ زمین میں فساد کرے اور خون بہائےگا۔اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور تقدیس کرتے ہیں تو اللہ نے فرمایا کہ میں جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔(سورہ البقرہ)
3۔(عربی)
"ہم نے کہا اے آگ ہوجاؤ ٹھنڈی اور سلامت اور ا وپر ابراہیمؑ کے۔(سورۃ الانبیاءؑ)
4۔(عربی)
"اور پکارا ہم نے اس کو اے ابراہیم( علیہ السلام) سچ کیا تو نے خواب کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی کرنے والوں کو۔(سورۃ الصافات)
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ثابت ہوتا ہے۔
1۔(عربی)
"اللہ تعالیٰ ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی زندہ قائم ہے۔نہیں پکڑتی اسے اونگھ اور نہ نیند۔اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کون ہے جو اس کے پاس سفارش کرے مگر ساتھ اس کے حکم کے ،وہ جانتا ہے جو ان کے آگے اور پیچھے ہے۔نہیں گھیرتے کسی چیز کو اس کے علم سے مگر جو وہ چاہے گھیر لیا ہے اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو۔اور نہیں تھکاتی اسے ان دونوں کی حفاظت اور وہ بلند بڑا ہے۔(سورۃ البقرۃ)
فائدہ:۔
اس آیت مبارکہ میں کرسی کا ذکر موجودہے۔اور یہ آیت مبارکہ اتنی بابرکت ہے کہ تمام مسلمانوں کو تقریباً زبانی یاد ہوتی ہے اور ہر فرض نماز کے بعد اسے پڑھتے ہیں۔
1۔(عربی)
"پس جب پھونکا جائے گا صور میں ایک دفعہ پھونکا جانا۔اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ پس توڑے جائیں گے پس اس دن واقع ہوگی واقعہ ہونے والی۔اور آسمان پھٹ جائے گا پس اس دن کمزور ہوگا۔اور فرشتے ہوں گے اس کے کناروں پر اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔(سورۃ الحاقۃ)
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ میں ذات باری تعالیٰ کے عرش کا ذکر ہواہے جو کہ قرآن پاک کی متعدد آیات سے پہلے بھی ثابت ہوچکا ہے۔
1۔(عربی)
"اے ایمان والو! جو شخص مرتد ہوگا تم میں سے اپنے دین سے عنقریب لائے گا۔اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کہ محبت کرے گا ان سے اور وہ محبت کریں گے اس سے وہ نرم ہوں گے مومنوں پر اور سختی کریں گے کافروں پر جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں۔اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا،جاننے والا ہے۔(سورۃ المائدہ)
2۔(عربی)
"کہہ کیا نہ خبر دوں میں تم کو اس کی جو کہ بہت بُرا ہے۔بدلہ میں اللہ کے نزدیک جو شخص کہ اللہ نے اس پر لعنت کی اور ناراض ہوا اس پر اور بنائے ان سے بندر اور خنزیر اور عبادت کی شیطان کی۔یہ لوگ بڑے بڑے ہیں مرتبے میں اور گمراہ ہیں سیدھے راستے سے۔(سورۃ المائدہ)
فائدہ:۔
مندرجہ بالا آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دو اوصاف کا ذکر ہوا ہے ۔ایک محبت کرنا اور دوسرا غصہ ہونا۔معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے محبت بھی کرتا ہے۔اور مخلوقات کے بعض افراد پر کبھی ناراض بھی ہوتا ہے۔ان دونوں اوصاف کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
1۔(عربی)
"البتہ اللہ نے سن لی بات ان لوگوں کی،جنھوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔اب ہم لکھ دیتے ہیں جو کہ انھوں نے کہا۔اور ان کا نبیوں کو بغیر جرم قتل کرنا بھی لکھا ہوا ہے اور ہم کہیں آگے کہ آگ کا عذاب چکھو۔یہ تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا۔اللہ تعالیٰ تو بندوں پرظلم نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران)
2۔(عربی)
"تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی جو تجھ سے اپنے خاوند کے متعلق جھگڑا کررہی تھی،اور اللہ تعالیٰ کی طرف شکایت کرتی تھی۔اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا۔بے شک وہ سننے دیکھنے والا ہے۔(سورۃ المجادلۃ)
فائدہ:۔
ان آیات مبارکہ سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے اسلئے ان صفات کو تسلیم کرنا عین ایمان ہے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تشریح:
1۔(عربی)
"سلیم بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا۔(عربی) جب لفظ (عربی) تک پہنچے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا انگوٹھا کان پر رکھا۔اور قریب والی انگلی اپنی آنکھ پر رکھی۔ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو پڑھ رہے تھے۔اور اپنی انگلیاں رکھتے تھے۔ابن یونس راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید المقری محدث فرماتے ہیں کہ(عربی) کا معنیٰ یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ کے لئے سننا اور دیکھنا ثابت ہے۔امام ابو داؤد ؒ جب سنن فرماتے ہیں کہ اس سے فرقہ جہمیہ کا رد ثابت ہوا جو کہ صفات باری تعالیٰ کے منکر ہیں۔(ابو داؤد مع عون المعبود ج4 ص273)
امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ کی تاویل اور اُس کاجواب:
(عربی)
"امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ قراءت کے وقت کان اور آنکھ پر انگلیان رکھنے کامعنیٰ یہ ہے کہ سمع اور بصر کی صفتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت کیا جائے۔کان اور آنکھ ثابت کرنا مقصود نہیں۔کیونکہ وہ تو اعضاء ہیں۔اور اللہ تعالیٰ صفات کے ساتھ موصوف ہے۔انسانوں کی صفات اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں۔اس لئے ان کی نفی کردی جائےگی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اعضاء اجزاء اور ابعاض والا نہیں ہے۔قرآن پاک میں ہے کہ"اس کی کوئی مثل نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔)(معالم السنن الخطابی)
فائدہ:۔
امام خطابی ؒ نے اس حدیث کے الفاظ میں لفظ اذن اور عین کو بیان کرنے میں خطاء کی ہے اور یہ تاویل ہے اس کا جواب لکھتے ہوئے مولانا ڈیانوی ؒ فرماتے ہیں۔
(عربی)
"اور بعض علماء میں سے خطابیؒ پر تنقید کی ہے کہ اُس کا یہ کہنا کہ اس حدیث میں آنکھ اور کان کو ثابت نہیں کیا گیا۔امام خطابی ؒ کا یہ کلام درست نہیں۔اہل تحقیق اللہ تعالیٰ کے اوصاف وہ بیان کرتے ہیں جو خود اُس نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے لئے بیان فرماتے ہیں۔ایسا وصف جوکی کتاب وسنت میں وار د نہیں ہوا وہ اپنی طرف سے ثابت نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے آنکھ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔امام خطابیؒ کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ جوارح ۔اجزاء اور ابعاض والا نہیں۔یہ نئی اور بناوٹی بات ہے اسلاف میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کی نہ نفی میں اور نہ اثبات میں۔بلکہ وہ اللہ کا ہی وصف بیان کرتے ہیں۔جو اُس نے خود بیان کیے ہیں۔جہاں اللہ خاموش وہ بھی خاموش دیتے ہیں نہ کیفیت اور نہ تمثیل اور نہ مشابہت دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے۔کیونکہ جو ایسا کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا وہ وصف بیان کرنا جو اس نے یا اس کے رسول نے بیان کیا ہے تشبیہ نہیں اور سمع اور بصر کی صفت اللہ کے لئے ثابت کرنا حق ہے۔جیسا کہ امام خطابیؒ نے فرمایا ہے۔صاحب عون المعبود ؒ فرماتے ہیں۔جو کچھ ناقد نے کہا وہ حق ہے۔اور جو خطابی نے کہا تھا وہ اہل تحقیق کا مذہب نہیں۔
فائدہ:۔
مندرجہ ذیل عبارت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے ہیں،ان کو اسی طرح تسلیم کرناضروری ہے۔ان کو بغیر کیفیت بیان کرنے کے یا بغیر تمثیل کے ماننے سے مخلوق کے ساتھ مشابہت لازم نہیں آتی۔ اگر ایسا ہوتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان نہ فرماتے۔
2۔(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں جہنم والوں کو ڈالا جائے گا۔تو وہ کہے گی اور بھی ہوتو لاؤ۔یہاں تک کہ رب العزت اپنا قدم مبارک اس میں رکھیں گے۔تو وہ سکڑ جائے گی اور کہے گی بس بس!تیری بزرگی اور عزت کی قسم۔(مشکواۃص505 ج2)
فائدہ:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ میں رب العزت کے قدم مبارک کا ذکر فرمایا ہے۔جس کو اسی طرح تسلیم کیا جائےگا۔مخلوق کے ساتھ مشابہت جائز نہیں۔
3۔(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں سرکش اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟پھر زمینوں کو لپیٹ کر دوسرے ہاتھ میں پکڑ کر فرمائے گا۔میں بادشاہ ہوں ،سرکش،اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟(ابو داؤد مع عون المعبود ج2 ص376)
فائدہ:۔
اس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر ہواہے،جس کو بلاتاویل وتحریف تسلیم کیا جائے گا کتاب وسنت کا تقاضا یہی ہے۔
4۔(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رات کا آخری تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ کون ہے جو مجھے پکارے تو میں قبول کروں کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں کو ن ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اُسے معاف کروں(ابوداود مع عون المعبود ج4 ص376)
فائدہ:۔
اس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کا رات کے آخری حصہ میں آسمان دنیا پر اترنا زکر فرمایاگیا ہے۔ہم اس کو اسی طرح مانیں گے جس طرح کہ اس کی شان کے لائق ہے۔
5۔(عربی)
جس دن کھولا جائے گا پنڈلی سے اور بلائے جائیں گے سجدہ کی طرف پس وہ طاقت نہیں رکھیں گے۔(سورۃ القلم)
(عربی)
"نیچے ہوں گی اُن کی آنکھیں،ڈھانپے گی اُن کو ذلت۔تھے بلائے جاتے سجدہ کی طرف جبکہ وہ سلامت تھے۔
فائدہ:۔اس حدیث مبارکہ میں لفظ ساق وارد ہوا ہے جس کی تشریح وتفہیم اور معنی پنڈلی کیاگیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا معنیٰ یہی بیان کیا ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے:
(عربی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنی پنڈلی کو کھولےگا تو اسے تمام مرد مومن اور عورتیں سجدہ کریں گے،اور وہ باقی رہ جائے گا جو کہ دنیا میں ریا کاری کے لئے سجدہ کرتاتھا۔وہ جب سجدہ کرنے لگے گا تو اس کی کمر ایک ہی طبق بن جائےگی اور جھک نہیں پائے گا۔(مشکواۃ ج2ص484)
فائدہ:۔ یہ آیت متشابہات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کی کوئی تاویل کرنا بدعت پرست متکلمین کا طریقہ ہے۔سلف صالحین ان کی کوئی تاویل نہیں کرتے بلکہ ان کو ان کے ظاہر معنی پر محمول کرتے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ سمع،بصر عین اور وجہ کی طرح اللہ تعالیٰ کی پنڈلی ہونا بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔اس لئے ہم اس پر بلا کیف ایمان رکھتے ہیں۔ متاولین اہلحدیث اورسلف کو عدم تاویل کی وجہ سے تجسیم وتشبیہ کا طعنہ دیا ہے۔حالانکہ دوسری طرف ان کی یہ تاویلات مفضی الی التعطیل ہیں۔شاہ ولی اللہ ؒ صاحب فرماتے ہیں جو لوگ اہل حدیث کو تجسیم وتشبیہ کا قائل قرار دیتے ہیں وہ خودخطا پر ہیں۔(اشرف الحواشی ص675)
صفات باری تعالیٰ میں جہمیہ اور متعزلہ کا عقیدہ:
تاریخ اسلام میں کچھ ایسے لوگوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔جو کہ اہل علم ہونے کے باوجود صراط مستقیم سے برگشتہ رہے۔اور نئی نئی اعتقادی بدعات میں ملوث رہے۔اور امتداد زمانہ کی وجہ سے یہ لوگ فرقہ بندیوں میں الجھ گئے۔سلف صالحین نے ان لوگوں کو گمراہ فرقوں میں شمار کیا ہے۔کیونکہ اس وقت کی اعتقادی بدعات کے یہی لوگ موجد تھے ان میں خوارج،قدریہ،مرجیہ،جہمیہ،اور متعزلہ فرقوں کا نام سرفہرست ہے۔ان بدعتی فرقوں کی تفصیلات توسلف کی کتب میں موجود ہیں۔ہم صرف صفات باری تعالیٰ کے ذکر کی وجہ سے فرقہ جہمیہ اور معتزلہ کا اعتقاد صفات باری تعالیٰ کے متعلق ذکر کریں گے کہ یہ دونوں فرقے صفات خداوندی کے منکر ہیں اور اسی انکار کو یہ لوگ عین اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھتے اور صحیح اسلامی عقیدہ تصور کرتے ہیں،لیکن وہ سمجھتے نہیں کہ اس عقیدہ کیوجہ سے وہ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔فرقہ جہمیہ اور اس کے عقائد:
شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ اپنی مشہور کتاب میں مختلف مذاہب اور فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرقہ جہمیہ کا تعارف ان الفاظ میں پیش فرماتے ہیں۔
1۔(عربی)
"فرقہ جہمیہ ،جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہے ۔وہ کہا کرتا تھا کہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جو کچھ وہ اللہ کی طرف سے لے کرآئے ہیں اُس کی معرفت کا نام ہے اور بس۔اور خیال رکھتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے کوئی کلام نہیں کیا اور نہ ہی وہ کلام کرتا ہے۔اور نہ دیکھتا ہے نہ ہی اس کی کوئی جگہ ہے اور نہ عرش ہے اور نہ کرسی ہے۔اور نہ ہی وہ عرش پر ہے۔ترازو اورعذاب قبر کے بھی منکر ہیں۔جنت اور دوزخ کی تخلیق کے انکار ہیں۔اور کہتے ہیں کہ جب پیدا کی جائیں گی تو فنا ہوجائیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ نہ یہ اپنی مخلوق سے کلام کرے گا اور نہ ہی قیامت کےدن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی اہل جنت اللہ تعالیٰ کودیکھیں گے ایمان صرف دل کی پہچان کا نام ہے۔زبان سے اقرار کی ضرورت نہیں ۔اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔(غنیۃ الطالبین ج1ص90 عربی)
فرقہ معتزلہ کاعقیدہ:
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرقہ معتزلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس مسئلہ میں اُن کے عقیدہ کو جہمیہ کے ساتھ ہی ملاتے ہیں۔فرماتے ہیں:
(عربی)
"اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی میں معتزلہ جہمیہ اور فرقہ قدریہ کا ایک ہی مذہب ہے۔(غنیۃ الطالبین ج1 ص93)
امام ابن القیمؒ جہمیہ کا نظریہ بیان فرماتے ہیں:
(عربی)
"جہم بن صفوان اور اُس کی جماعت نے خالص کائنات کی صفات کا انکار کردیا ہے۔
(عربی)
بلکہ بلند آسمانوں سے اسے معطل کردیا اور عرش بریں کورحمٰن سے انھوں نے خالی کردیا ہے۔
(عربی)
اور اللہ تعالیٰ کی کلام کا انکار کردیا اور فیصلہ کیا کہ یہ قرآن حادث اور مخلوق ہے۔
(عربی)
کہا انھوں نے کہ ہمارے پروردیگار کے لئے سننا اور دیکھنا نہیں نہ ہی چہرہ ہے تو ہاتھ کیسے ہوسکتے ہیں۔
(عربی)
ایسے ہی ہمارے پروردیگار کے لئے کوئی قدرت نہیں اور ارادہ رحمت اورشفقت نہیں۔
(عربی)
ہرگز نہیں اور نہ ہی کوئی وصف اس کے ساتھ قائم ہے۔صرف خالی ذات ہے ہے بے مقصد(نعوذباللہ)
(عربی)
اور اس کی حیات تو اس کا نفس ہے اور اس کی کلام اس کا غیر ہے تعجب ہے ایسے بہتان پر۔(الشافعۃ والکانیہ فی الانتصار للفرقۃ الناجیہ المعروف القصیدہ النونیہ عربی ص147)
فرقہ جہمیہ کا تعارف کرواتے ہوئے علامہ شہر ستانی لکھتے ہیں:
(عربی)
"فرقہ جہمیہ کے لوگ جہنم بن صفوان کے پیروکار ہیں۔اور یہ لوگ خالص فرقہ جبریہ سے ہیں۔(کہ انسان مجبورمحض ہے) اس کی بدعات ترمذ شہر میں ظاہر ہوئیں۔بنی امیہ کے آخری دورحکومت میں سالم بن احوزنے اسے قتل کیا تھا ذات حق کی صفات کی نفی میں یہ لوگ فرقہ معتزلہ کے موافق ہی نہیں بلکہ کچھ آگے ہیں۔
اما م العصر میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ فرقہ جہمیہ کے تعارف میں لکھتے ہیں:
ہشام ؒ بن عبدالملک کے عہد میں ایک شخص جہد بن درہم نے صفات الٰہیہ سے انکار شروع کیا۔اس کا انکار قرآن مجید وحدیث کی تصریحات اور خیار امت یعنی صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین وتابعین کے عقائد کے بالکل خلاف ہے۔اس اختلاف نے ملکی فتنہ کی آگ میں بھی ہیزم کشی کاکام کیا کہ جعد مذکور نے سیاسی تحریکوں میں خالد قسری حاکم عراق اورحجاج بن یوسف مشہورظالم کا مخالف پارٹی میں پارٹ ادا کیا۔اور وہ ہر ممکن طور سے ان کی مدد کرتا رہاتھا۔جس کی پاداش میں خالد قسری نے جعد مذکور کو بقرعید کے دن شہر و اسط میں جس کو حجاج بن یوسف نے آباد کیاتھا قتل کردیا۔
کوفہ میں جعد مذکور کا ایک شاگرد تھا جہم بن صفوان اگرچہ وہ کوئی بڑا عالم نہیں تھا،لیکن بولنے میں ماہر انسان اور فصیح البیان تھا۔اس نے جعد کے خیالات کی اشاعت بہت زور سے شروع کردی۔بہت لوگ اس کے ہم خیال ہوگئے اور ان کا نام جہم کے نام پر جہمیہ پڑگیا۔جہم بھی ا پنے پیشوا جہد کی طرح بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان الحماد کے عہد میں 128ھ میں نصر بن سیارحاکم خراسان کے حکم سے قتل کردیا گیا۔
حضرت میر صاحب مرحوم فرقہ معتزلہ کے تعارف میں لکھتے ہیں:
حضرت حسن بصریؒ نے کسی سے عرض کیا کہ خوارج کا یہ قول ہے کہ کبیرہ گناہ کفر ہے۔اور اس کا مرتکب (ہونے والا ) کافر ہے۔اور مرجیہ کہتے ہیں کہ مومن کو گناہ سے قطعاً کوئی ضرر نہیں پہنچے گا جس طرح کہ کافر کو طاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔آپ اس میں فیصلہ فرمائے۔آپ ابھی خاموش تھے۔کہ آپ کے شاگردوں میں سے ایک شخص واصل بن عطا نامی بول اٹھا کہ صاحب کبیرہ کاحکم ان دونوں کے درمیان ہے۔کہ نہ وہ مومن ہے اور نہ وہ کافر واصل یہ کہتا ہوا ایک ستون کی طرف الگ چلا گیا۔اس پر حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا:
(عربی)
"یعنی واصل ہم سے الگ ہوگیا"
واصل نے اپنے خیالات کی اشاعت شروع کردی اور کئی ایک اشخاص جو پہلے بھی مسئلہ تقدیر وغیرہ میں اس کے ہم خیال تھے۔اس کے ساتھ ہوگئے۔ ان کا گروہ بڑھتا گیا اور اُن کا نام حسن بصری ؒ کے قول کے مطابق معتزلہ پڑا۔خلیفہ مامون الرشید اس مذہب کے مشہور عالم ابو ہذیل کے شیشے میں اترگیا اور ان کے مخصوص مسائل کو جبر وتشدد سے منوانے لگا۔جس سے علمائے سنت سخت امتحان وابتلاء میں پڑے۔(تاریخ اہل حدیث از میر سیالکوٹی ص40۔41۔)
نوٹ۔امام اہل سنۃ حضرت اما م احمد بن حنبل ؒ پر مسئلہ خلق قر آن کے متعلق جو جبر وتشدد ہوا اور آپ کو (عربی) کا عقیدہ بیان کرنے پر کوڑے لگائے گئے۔اور بیڑیاں پہنا کر جیل خانہ میں ڈال دیا گیا۔یہ غلط عقیدہ کے قرآن مخلوق ہے۔انہی فرقہ معتزلہ کا پیدا کیا ہواتھا۔جس کے قبول نہ کرنے پر علمائے اہل سنۃ خصوصاً امام احمد بن حنبل ؒ کوبہت سی تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل حکومت سے سامنا رہا۔اور وہ سزا دیتے رہے۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندے امام احمد بن حنبل ؒ کے استقلال کو قبول فرمایا۔اور آپ بصد عزت واحترام اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور اہل اسلام نے آپ کو اس استقامت پر امام اہل سنۃ کا معزز ومحترم لقب عطا فرمایا۔
(عربی)
فائدہ:۔فرقہ جہمیہ اور متعزلہ کے تعارف میں ہم نے اس لئے گزارشات عرض کی ہیں۔کے اُن کا تذکرہ تعار ف کے بغیر مسئلہ صفات باری تعالیٰ کی وضاحت نہیں ہوسکتی۔