علوم اسلام کی مسلمہ بزرگ شخصیت
سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ مفتی اعظم سعودی عرب
کی مسلم حکمرانوں،دانشوروں اور عوام کے لئے نصیحت
((((عراق ،کویت تنازعہ کافیصلہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے)))

 عراق کے صدر صدام حسین کی طرف سے کویت پر جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب کی سرحدوں پر افواج کے بھاری اجتماع سے حرمین شریفین کے تحفظ کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔اس تنازعے کا جائزہ لینے والے سیاسی مبصرین عموماً فریقین کی مسلمانوں میں حیثیت اور اُن کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بحث کررہے ہیں۔اسی طرح کویت کو ہڑپ کرنے کے بعد صدام حسین کی طرف سے سعودی عرب وغیرہ کے خلاف اقدام کی دھمکی سے جس طرح ایک سپر طاقت امریکہ کی فوجیں اچانک خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئی ہیں۔اس کے واضح نقصانات محسوس کیے جارہے ہیں۔ان مجوزہ نتائج کی بظاہر ہولناکی کے اعتراف کے باوجود انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عراق کی زیادتی اور امریکی فوجوں کی مداخلت کی درمیانی کڑی نظر انداز نہ کی جائے۔کیونکہ  تاریخ اسباب سے مربوط ہوتے ہیں۔اگر اسباب سے قطع نظر فریقین کی عالمی حیثیت اور خطرناک نتائج کو ہی مد نظر رکھا جائے گا۔تو اس المیے کا شافی علاج ہوسکے گا۔اور نہ اس قضیے کا درست حل نکلے گا۔اس وقت یہ مسئلہ دو  پہلو رکھتاہے۔ ایک کویت پر عراق کی زیادتی،دوسرا عراق اور سعودی عرب کی متوقع جنگ کے ہولناک نتائج،جہاں تک عراق کی زیادتی کا پہلو ہے۔اس سلسلے میں تقریباً پوری د نیا عراق کو جارح اورظالم قرار  دے چکی ہے۔جس میں عراق کے مخالفین کے ساتھ اُس کے حمایتی اور دوست بھی شامل ہیں۔دوسرا پہلو متوقع جنگ سے مسلمانوں کی تباہی اور سپر طاقتوں کی مداخلت کے نقصانات کا ہے۔واقعتاً سیاسی اعتبار سے یہی پہلو زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔لیکن یہ نتیجہ ہے پہلی زیادتی کا۔اگر اس زیادتی کا مداوا اسلامی   تعلیمات کی روشنی میں تلاش کرلیا جائے۔تو اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوگی اور امید ہے کہ مسلمانوں کے لئے اس دو طرفہ خطرہ سے نجات کی کوئی راہ بھی نکل آئے گی۔جس میں وہ اب پھنس کے رہ گئے ہیں۔

عالم اسلام کے معزز شیخ اور مسلمہ عالم دین کی زیر نظر نصیحت مسلمان حاکموں اور دانشوروں کو اسی طرف توجہ دلاتی ہے۔کہ ساری تگ ودود اور تدابیر کو اسی جذبہ اور نکتہ نظر سے ترتیب دیا جائے۔نیز متنازعہ امر کا فیصلہ بھی ایسے اجل اور معتمد علماء کی جماعت سے کرایا جائے۔تاکہ شریعت کی برکات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ر حمت سایہ فگن رہے۔اس ضمن میں بعض مخالفین نے صلح وجنگ میں مسلمانوں کے علاوہ  کفار کی مدد حاصل کرنے کے خلاف یہود وہنود کے زیر اثر ذرائع ابلاغ کے استعمال سے جو جذباتی فضا پیدا کرکے عراق کے ظالمانہ کردار کی  پردہ پوشی کی کوششیں شروع کررکھی ہیں۔شیخ  موصوف نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل اورصریح  فرمان سے واضح کیا ہے کہ ظلم وفساد کے خاتمے کےلئے نہ(الفاظ مٹے ہوئے ہیں) سے تعاون حاصل کیا جاتا ر ہا ہے۔بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں(اہل کتاب) کے مسلمانوں کے ساتھ تعاون اور صلح کے نتیجے میں مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی اور مال غنیمت کے حصول کی پیش گوئی بھی فرمائی تھی۔لہذا اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔البتہ اس تدبیر کی خوبی میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اگر مسلمان ظلم کا علاج خود کرسکیں تو یہ خطروں سے پاک صورت ہے۔(مدیر)

(عربی)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(سماحۃ الشیخ) عبدالعزیز بن باز ؒ کی طرف سے ہر اُس شخص کے نام جو اس بات سے آشنا ہو!

دعا ہے کہ اللہ مجھے اور سب مسلمانوں کو اپنے نیک ،ایمان والے بندوں کی راہ پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہم  سب کو اُن (غلط کار) لوگوں کے رویہ سے محفوظ رکھے جو گمراہ ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔آمین!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!اما بعد!

(میں اپنی گفتگو کا آغاذ اللہ عزوجل کے ارشادات مبارکہ سے کرتا ہوں جنھیں بگوش ہوش سننا اور اُن پر مستعدی سے عمل بجا لانے میں ہی ہم سب کی بھلائی اوردُنیا وآخرت کے تمام مصائب سے نجات پانے کی ضمانت موجود ہے)اللہ تعالیٰ(جن وانس کو اُن کا مقصد حیات یاد دلاتے ہوئے)

قرآن مجید میں فرماتے ہیں:۔

(عربی)

"میں نے جنوں اور انسانوں کو  اس لئے پیدا فرمایا کہ وہ میری عبادت کریں۔"

اور (اپنے اس حق کی دلیل پیش کرتے ہوئے ) فرمایا:

(عربی)

"اے لوگو! اپنے پروردیگار کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم عذاب سے بچو!"

اور (اپنی ذات سے تعلق اور باہمی رشتہ داری کی بناء پر معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے )فرمایا:

(عربی)

"اے لوگو!اپنے پروردیگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان  سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد اور عورت پیدا کرکے روئے زمین پر  پھیلادیئے۔نیز اللہ سے جس کے نام کو حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو۔ڈرو اور (قطع محبت) ارحام سے بچو،کچھ شک نہیں کہ وہ تم پر نگہبان ہے۔"

اور موت کے بعد کے سخت محاسبے اور اعمال کی ذاتی جوابدہی کا خوف دلاتے ہوئے دنیا کی رنگینی اور شیطان کے دھوکہ سے آگاہ کرتے ہوئے)فرمایا:

(عربی)

"اے لوگو! اپنے پروردیگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا۔اور نہ ہی بیٹا باپ کےکچھ کام آسکے گا۔بے شک اللہ کا وعدہ  سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکہ میں نہ ڈال دے۔اور نہ ہی بُرا فریب دینے والا (شیطان) تمھیں اللہ کے بارے میں کسی طرح فریب دے سکے۔"

(لہذا عبادت میں اخلاص اور کارزار  حیات میں اللہ ہی کا ہو کر نیک اعمال بجا ہلانے کی تلقین فرمائی)۔

(عربی)

" اور ان کو حکم تو یہی  ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور یکسو ہوکر نمازیں پڑھیں اور زکواۃ دیں۔اور یہی سچا دین ہے۔"

اور(مرتے دم تک اللہ کا حقیقی ڈر قائم رکھنے اور  مسلمان بن کر متحد رہنے کی ہدایت فرمائی)۔

(عربی)

"اے مومنو!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے۔مرنا تو مسلمان ہی مرنا،اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رکھنا اور متفرق نہ ہونا۔"

اور اسی بارے میں کھری بات اور جرائت کردار کا مظاہرہ کرنے کا ) حکم دیا:

(عربی)

"مومنو! اللہ سے ڈرو،بات سچ اور صحیح کہو(نتیجہ کے طور پہ) وہ تمہارے تمام اعمال درست کردے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا۔لہذا جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا۔تو بے شک بڑی مراد پائے گا۔"

اور(اپنے محسن اعظم اللہ عزوجل کو نظر انداز کرکے خودفراموش انسانوں کا انجام بتا کر بھی  ہمیں اپنے بارے میں غور کرنے کی ہدایت فرمائی:

(عربی)

"مومنو! اللہ سے ڈرتے رہو۔اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے اُس نے کل یعنی فردا(قیامت کے) لئے کیا سامان تیار کیا ہے۔(اور ہم پھر کہتے ہیں) اللہ سے ڈرو۔بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا تو اللہ نے(انھیں ایسا ہی کردیا کہ وہ خود اپنے تئیں بھول گئیں۔یہی بدکردار لوگ ہیں۔(خبردار) اہل دوزخ اور اہل ج جنت برابر نہیں ہوسکتے۔اہل جنت تو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔"

اور(اللہ سے پیارومحبت کارشتہ جوڑنے کا واحد راستہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا) اعلان فرمایا:

(عربی)

"اے پیغمبر! ان سے کہہ دو اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔اللہ تعالیٰ بھی تمھیں دوست رکھے گا۔اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔"

نیز(ایک د وسرے کی اصلاح سے غفلت کی بناء پر اپنے سخت گیر اصول سزا سے بھی متنبہ کرتے ہوئے) فرمایا:

(عربی)

"اور اُس فتنہ سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گناہگار ہیں اور جان رکھو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔"

دوسری طرف مومنین اور مومنات کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا:

(عربی)

"اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کوکہتے ہیں۔اوربُری باتوں سے منع کرتے ہیں، اور نماز پڑھتے اور زکواۃ دیتے ہیں،اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا،بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔"

عظمت کردار کے انعام کاذکر کرتے ہوئے بتایا:

(عربی)

"بے شک پرہیز گار باغات اور چشموں میں ہوں گے۔"

نیز فرمایا:

(عربی)

"پرہیز گاروں کے لئے اُن کے پروردیگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں۔"

ان نعمتوں کے حصول اورعذاب الٰہی سے بچنے کے لئے اللہ سبحانہ ،وتعالیٰ ہر صاحب ایمان کو اُس کے فرض منصبی کا احساس دلاتے ہیں:

(عربی)

"مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آتش جہنم سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔جس پر تُند خو اور سخت مزاج فرشتے مقرر ہیں۔جو حکم اللہ اُن کو فرماتا ہے اُس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔"

ایسی ہی پرہیزگاری کا حکم دینے والی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف بلانے والی اور مومنین کی (خوشی انجام) کامیابیوں کا ذکر کرنے والی اوربھی بہت سی آیات قرآن مجید میں موجود ہیں۔

غرض مذکورہ آیات وضاحت سے بتاتی ہیں کہ انس وجن کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی ہی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے اور ان آیات میں تقویٰ اور فرمانبرداری کی بار بار تاکید فرمائی ہے۔ جبکہ اہل ایمان کو خصوصاً اپنی ذات الٰہی سےڈرنے ،حق عبودیت ادا کرنے،دین کی رسی اور شریعت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا ذکر فرمایا ہے۔اور اُنھیں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپ نے اہل وعیال کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی تاکید فرمائی ہے۔ایسے بھیانک فتنوں سے بھی چوکناکردیا جن کی گرفت میں صرف ظالم ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی آئیں گے۔

ایمان کی سچائی اور مومن کا کردار:

اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی وضاحت بھی فرمادی جن پر اللہ عزوجل کی ا پنے بندوں سے محبت اور بندوں کی اپنے اللہ سے سچی محبت کا انحصار کامل ہے۔چنانچہ عقیدہ وعمل میں اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سچی محبت کی علامت ہے۔لہذا مومنوں کی صفات میں سے باہمی ایسے تعلقات رکھنا ہے۔جس سے نیکی کا حکم اور بُرائی سے بچانے کا کردار سامنے آتا رہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ روئے زمین پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔کہ وہ  صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔اُس کے احکامات بجالائیں۔برائیوں سے اجتناب کے ساتھ ساتھ اللہ ہی کی خاطر آپس میں محبت کریں۔جس کا طریق باہمی نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ کیونکہ  اسی میں اُن کی دنیاوی کا کامیابی اور اخروی فلاح ونجات مضمر ہے۔

فتنوں سے بچاؤ اور نصرت الٰہی کے اسباب:

واضح رہے کہ مذکورہ بالا کردار اور طرز  عمل ہی دشمن کے مکروشر سے بچاؤ اور اُ ن کے خلاف اللہ کی رحمت خاص کا ذریعہ ہے۔جس سے نصرت الٰہی کے دروازے کھلتے ہیں۔چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

(عربی)

"اور جو شخص اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اُس کی مدد کرتا ہے۔بے شک اللہ توانا اور غالب ہے۔وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکواۃ دیں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔"

اور فرمایا:

(عربی)

"اے اہل ایمان اگر تم اللہ مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔"

خوف الٰہی اور اسلامی کردار پر اللہ کے وعدے:

تقویٰ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ دین پر ا ستقامت کا نام ہے۔جس کا اظہار عقیدہ وعمل سے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کاربند رہنے سے ہوتا ہے۔یہی قرآن کی اصطلاح میں ایمان اور عمل صالح ہے بلکہ یہی وہ اسلام ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ا پنے تمام رسول اور کتابیں نازل فرمائیں۔چنانچہ ارشاد ہے:

(عربی)

"جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں۔"

(اسی طرح کے نیک اعمال کا فائدہ دنیا وآخرت میں پاکیزہ اور خوشی کی زندگی کی صورت میں حاصل ہوگا)۔

(عربی)

"جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہویا عورت ۔اور وہ مومن بھی ہوگا۔تو ہم اُس کودنیا میں (پاک) اور آرام کی زندگی سے زندہ رکھیں گے اور آخرت میں اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔"

(نیزاللہ کاوعدہ ہے کہ روئے زمین کا اقتدار اور دینی استحکام بھی انھیں حاصل ہوگا جس میں وہ امن  وسکون کی زندگی بسر کریں گے)۔

(عربی)

"جو لوگ تم میں سے ا یمان  لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن سے اللہ کاوعدہ ہے کہ اُن کو ملک کا حاکم بنا دےگا جیسا اُن سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا۔اور اُن کےدین کو جسے اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے۔مستحکم وپائیدار کرے گا۔اور خوف کے بعد اُن کو امن بخشے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔"

(مذید واضح رہے کہ جو دین اللہ کے ہاں معتبر اور کامل ہے جس پر ساری نعمتیں پوری ہوتی ہیں وہ اسلام ہے۔اسی پر صبر واستقلال اختیار کرنے سے دشمنوں کی تدبیریں ناکام ہوتی ہیں۔

(عربی)

"دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے"

ارشاد ہے :

(عربی)

"اور آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔"

ارشاد ہے:

(عربی)

"اور جو شخص ا سلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اُس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائےگا۔اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔"

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صبر وتقویٰ کو دشمن کی سازشوں سے بطور خاص حفاظت کا مدار ٹھہرایا،کیونکہ سب کچھ اس کے حیطہ اختیار میں ہے:

(عربی)

"اوراگر تم تکلیفوں کو برداشت اور اُن سے کنارہ کشی کرتے رہو گے تو اُن کا فریب تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔یہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اُس پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔"

یہ چند آیات بطور نمونہ مشتے از خروارے دی گئی ہیں۔

عراق کی کھلم کھلا جارحیت:

ان دنوں کویت پر عراقی فوجوں کی یلغار  سے جو تباہی مچی ہے۔ اور جس طرح عراق نے تباہ کن اسلحے کے بل بوتے پر لوٹ مار کر عصمتوں کی پامالی کے علاوہ مسلمانوں کے خون ناحق سے ہاتھ رنگے ہیں۔اُس سے ہر شخص واقف ہے۔اب حالت یہ ہے کہ کویت کے باشندے سہمے ہوئے ہیں۔اور سعودی  عرب کی کویت سے ملنے والی سرحدوں پر اسلحہ سے لیس عراقی فوجیں  تیار کھڑی ہیں۔بلاشبہ یہ عراق کی بہت بڑی زیادتی اور قبیح جرم ہے جس کی مذمت کرنا جملہ عالم اسلام اور عرب ملکوں کے لئے ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا ماسوائے اس کے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔اس کھلی جارحیت کی جو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور مسلمان ملکوں کے عہدوپیمان کی بھی خلاف ورزی ہے۔شرعا ً یا اخلاقاً اس کی مخالفت میں بیک آواز ہے۔اگرچہ بلاشبہ حقیقت یہی ہے کہ یہ المیہ ایمانی کمزوری اور کھوکھلے اقتدار کی بناء پر برائیوں اور کوتاہیوں کے سبب ظہور پذیر ہوا ہے۔تاہم تمام دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے۔ کہ وہ عراقی جارحیت کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مظلوم ملک کے عوام کی بھی مدد کریں۔جہاں ہم گناہوں  اور برائیوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ اپنے آپ کا محاسبہ کرتے ہیں۔وہاں نیکی اور پرہیز گاری کے اعمال میں ایک دوسرے سے بھر پور تعاون بھی کریں۔نیز آپس میں ایک د وسرے کو حق بات کہنے اور عمل کرنے کی تلقین کریں۔اپنے نفوس سے جہاد میں صبر سے کام لیں۔دشمنوں سے جہاد کرتے وقت جرائت اور مردانگی کا مظاہرہ کریں۔دشمنوں کے ہاتھوں جبر واستداد کا شکار ہونے والوں کا صبروضبط سے ساتھ دیں۔گویا سب مل کر ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی رسی کو یوں مضبوطی سے پکڑ لیں،دشمن اور ظالم چاہے اُس نے اسلام کا چوغہ پہن  رکھا ہو۔یا غیر مسلم کے خلاف ایک صف ،ایک جسم،اور ایک دیوار بن جائیں ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے:

(عربی)

"اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔"

اورفرمایا:

(عربی)

"اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) ر سی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا۔"ارشاد ہے:

(عربی)

"عصر کی قسم! کہ انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اورنیک عمل کرتےرہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔"

معزز قارئین!

شارح اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(عربی)

"اہل ایمان کی آپس میں محبت ،رحم اور شفقت کی مثال یوں ہے جیسے ایک جسم ہوتا ہے۔کہ جب اس کا ایک عضو متاثر ہوتا ہے تو سارا جسم بخار اور بیداری کا شکار ہوجاتا ہے۔"

ایمان والوں کے کردار کی مذید وضاحت فرماتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(عربی)

"مومن،مومن کے لئے اُس عمارت کی مانند ہے جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط کرتا ہے۔(یہ فرماتے ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی اُنگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے اکھٹا کردیا۔"

اور بھی بہت سی احادیث نبویہ اس بارے میں موجود ہیں۔

تنازعہ کا منصفانہ حل صلح وصفائی سے ہوسکتا ہے:

عراق کے صدر پر واجب ہے کہ اللہ احکم الحاکمین سے ڈرے،سچی توبہ کرے اور کویت سے اپنی فوجوں کے فوری انخلاء کو عمل  میں لائے جس کے بعد افہام وتفہیم کے ذریعے صلح وصفائی کا راستہ اختیار کرکے تنازع کا منصفانہ حل نکل سکتا ہے۔

عدل وانصاف کے لئے صاحب فضل وبصیرت علماء سے فیصلہ کا مطالبہ

اور اگر ایسی صورت میسر نہ ہو تو پھر ایسے علماء   پر مشتمل شرعی عدالت تشکیل دینا چاہیے۔جن کی بصیرت اور علم وفضل پر اعتماد ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم فرمایا ہے۔اور شریعت مطہرہ کو دونوں فریق اپنا حاکم مان کر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں۔

ارشاد ہے:

(عربی)

"اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو رسول کی اطاعت کرو اور ا پنے اولوالامر کی ۔اور اگر کسی معاملہ میں اختلاف ہوجائے تو اُسے اللہ اور اُس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔یہ طریقہ بہتر اور باعتبار انجام بہترین ہے۔"

دوسری جگہ یوں ذکر فرمایا:ارشاد ہے:

(عربی)

"اور تم جس  بات پر اختلاف کرتے ہو اُس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔"

نیز فرمایا:

(عربی)

"کیا یہ زمانہ جاہلیت کے خواہش مند ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں اُن کے لئےاللہ سے اچھا حکم کس کا ہے؟"

آخری فیصلہ کن ہدایت پر غور کیجئے:

(عربی)

"تمھارے پروردیگار کی قسم !یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمھیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اُس سے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اُس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہو گے ۔"

اسی طرح اللہ تعا لیٰ نے اپنی ربویت کی قسم کے ساتھ ان لوگوں کے دعویٰ کی تردید کی ہے جو اپنے تنازعات میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصل نہیں بناتے ۔پھر اُن کی شریعت کے فیصلہ کو بے چوں و چرا تسلیم نہیں کرتے ۔

ہم رُوئے زمین پر عرب و عجم کے تمام مسلمان حاکموں کے لیے اللہ عزوجل سے دُعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعا لیٰ اُن کو سب کی بھلائی اور ظاہر و باطن کی اچھا ئی کی توفیق عطا فر ما ئے ۔تاکہ اُن کے درمیان باہمی صلح وآشتی لوٹ آئے ۔نیز ہماری دُعا ہے کہ اللہ سب کو نفسانی خواہشات اور شیطان کی پیروی سے محفوظ  رکھے وہ فوری قبول کرنے والاہے ۔

ہنگامی حالات میں غیروں سے مدد:

جہاں تک سعودی حکومت کی طرف سے اپنے علاقوں اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے غیروں سے مدد لینے میں مجبوری کا مسئلہ ہے تو اس کا صل مقصد تو صدام حسین کی جارحانہ کاروائیوں ۔۔۔۔۔سے بچاؤ حاصل کرنا ہے تاہم یہ اقدام وقتی ہونے کے باوصف درست اور شرعاًجائز ہے چنانچہ اجل علماء کے بورڈ (ہئیۃکبارالعُلماء)جن میں سے ایک میں بھی ہوں نے سعودی حکومت کے اس اقدام کی مکمل تائید کی ہے ۔کیونکہ موجودہ حالاتمیں یہ واقعی مجبوری تھی جو اللہ تعا لیٰ کے ارشادات ذیل کی روشنی میں درست ہے ۔ارشاد ہے:

(عربی)

"مومنو!جہاد کے لئے ہتھیار لے لیا کرو۔"

اور فرمایا:

(عربی)

"اوردشمنوں کے خلاف جتنی طاقت حاصل کرسکتے ہو کرو۔"

بلاشبہ ہر مسلمان حکومت کو اپنے ملک   میں بسنے والوں کی حفاظت،اپنی سرزمین کی آزادی کے تحفظ اور دفاع  کے لئے غیر مسلموں سے فوجی مدد لینا جائز ہے بلکہ جب حالات کا اہم ترین تقاضا بھی یہی ہو تو پھر ایسا کرنا واجب  ہے۔کیونکہ اس کا مقصد مسلم رعایا کی حفاظت کے لئے پیش آمدہ جارحیت اور درندگی سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔

خود  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان   بن امیہ سے چند درعیں  عاریۃً لینے کی صورت اختیار کی۔حالانکہ صفوان بن امیہ اس وقت کافر تھے۔

اس طرح فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ کے لوگ جن میں کافر اور مسلمان سبھی شامل تھے کفار مکہ کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں شریک ہوئے۔

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معتبر طریق سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پیشگی خوشخبری سنائی:

(عربی)

اس حدیث کو امام احمد اور ابو داؤد نے صحیح سند سے بیان کیا ہے۔

یعنی"بے شک تم روم(اہل کتاب) سے خیرسگالی کرکے صلح کروگے۔پھر تم اور وہ (روم) دونوں مل کر اپنے پیچھے پڑے  دشمن سے لڑائی کروگے۔پس تمہاری مدد کی جائے گی اور تم بہت سا مال غنیمت حاصل کرو گے۔"

مخلصانہ نصیحت:

اہل کویت ہوں یا دنیا کے کسی خطے میں بسنے والے مسلمان صدر صدام ہو یا اُس کا لشکر سب کےلئے میری نصیحت ہے کہ فوری خالص اور سچی توبہ کریں اپنے سابقہ گناہوں پر نادم اور پشیمان ہوں اپنی غلط روش سے اس طرح باز آجائیں کہ آئندہ ایسے امر سے اجتناب کا پختہ ارادہ کرلیں کیونکہ کتاب وسنت کی بے شمار نصوص اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔کہ دنیا وآخرت کی ہر مصیبت وآزمائش یا فتنہ وفساد میں مبتلا ہونے کی وجہ ہمارے اپنے غلط اعمال ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ جل شانہ  ہماری غلطیوں کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(عربی)

"اور جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے۔سو تمہارے اپنے فعلوں سے ۔اور وہ اللہ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ نے یہی حقیقت یوں بھی بیان فرمائی:

(عربی)

"اے آددم زاد تم کو جو فائدہ پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو نقصان  پہنچے وہ تیرے ہی شامت ا عمال کی وجہ سے ہے۔"

نیز فرمایا:

(عربی)

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد   پھیل گیا ہے تاکہ اللہ اُن کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔

نافرمانی کے بھیانک نتائج:

تاریخ ا ٹھا کر دیکھئے کہ جب مسلمانوں کو غزوہ احد کی شکست کی صورت میں قتل وغارت کی تکلیف برداشت کرنا  پڑی،حالانکہ مسلمان عنقریب اپنی فتح کی حالت دیکھ رہے تھے تو اس کا سبب تیر انداز گروہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرکے اپنا وہ مقام چھوڑ دینا تھا۔ جس پر ٹھہرنا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاحکم ثانی ضروری تھا۔جب مسلمانوں پر یہ امر بہت شاق ہوا اور مسلمان گھبرائے تو اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت اتاردی:

(عربی)[1]

"(بھلایہ) کیا بات ہے کہ جب احد کےدن کفار کے ہاتھوں تم پر مصیبت آئی،حالانکہ جنگ بدر میں اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ ہائے ہم پر آفت کہاں سے آپڑی ہے کہہ دو کہ یہ تمھاری ہی شامت اعمال ہے کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا۔بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔"

حاصل یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنی کتاب عظیم میں ہمیں توبہ کے بارے میں بتایا کہ ہماری برائیاں اس کے ذریعے ہی معاف ہوسکتی ہیں۔اور وہ تمام مشکلات سے نجات دلا کر عزت وجنت کی کامرانیوں کا ذریعہ بن سکتی ہے۔چنانچہ ارشاد ہے:۔

(عربی)

"مومنو!سب اللہ کے آگے  توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔"

اور فرمایا:

(عربی)

"اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے پھر نیک عمل کرے پھر سیدھے رستے چلے اُس کو میں بخش دینے و الا ہوں۔"

نیز  فرمایا:

(عربی)

"مومنو! اللہ کے آگے صاف دل سے توبہ کرو ،امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کرے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے  بہریں بہہ رہی ہیں۔داخل کرےگا۔"

توبہ کے مظاہر میں سب سے بڑا اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کےلئے اخلاص اور ہر قسم کے چھوٹے یا بڑے شرک سے اجتناب ہے پانچ نمازوں کا اہتمام ہونا چاہیے یعنی جنھیں مردوزن مقررہ اوقات میں قائم کریں۔خصوصاً مردوں کا نماز کی محافظت مسجدوں میں کرنا ضروری ہے۔جن میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے نام کی بلندی مطلوب ہے۔

نیز زکواۃ۔روزہ۔اور حج بیت اللہ کے علاوہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی صورت میں نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں کی ایک دوسرے کو نصیحت اور ان میں باہم تعاون کرنا حق بات کو قبول کرنے اور اس کے لئے پہنچنے والی تکالیف پر ایک دوسرے کو  صبر کرنے کی تلقین کی طرف بھی بھر پور توجہ دینی چاہیے۔

خاتمہ:

آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے اس کے بلند وبالا صفات کے ساتھ سوال کر تا ہوں کہ وہ تما م دنیا کے حالات درست کردے۔ان کےدلوں اور اعمال کی اصلاح کرے۔نیز ان کو دین کی سوجھ بوجھ عطا فرمائے۔اور ان کے لیڈروں کی کج رویوں یوں دورفرمائے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت پر راضی ہوکر اپنے سارے تنازعات کے فیصلے اسی سے کرائیں۔اسی  طرح اللہ ان کو اچھے ساتھی مہیا کرے جو ہر خیر پر ان کے معاون بنیں۔اور اس طرح سبھی سیدھی راہ  اختیار کریں۔بے شک وہ اس شان کے لائق ہے اور اس پر قدرت بھی رکھتا ہے:۔

(عربی)

(سماحتہ الشیخ9 عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز۔!)

چئیرمین  تاسیسی مجلس  رابطہ العالم الاسلامی۔ڈایئرکٹر جنرل ادارہ جات علمی تحقیقات ۔افتاء اورعالمی دعوت وارشاد۔

[1] ۔آل عمران ۔165۔