ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • اکتوبر
1990
شیخ ابن باز
علوم اسلام کی مسلمہ بزرگ شخصیت
سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ مفتی اعظم سعودی عرب
کی مسلم حکمرانوں،دانشوروں اور عوام کے لئے نصیحت
((((عراق ،کویت تنازعہ کافیصلہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے)))
 عراق کے صدر صدام حسین کی طرف سے کویت پر جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب کی سرحدوں پر افواج کے بھاری اجتماع سے حرمین شریفین کے تحفظ کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔اس تنازعے کا جائزہ لینے والے سیاسی مبصرین عموماً فریقین کی مسلمانوں میں حیثیت اور اُن کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بحث کررہے ہیں۔اسی طرح کویت کو ہڑپ کرنے کے بعد صدام حسین کی طرف سے سعودی عرب وغیرہ کے خلاف اقدام کی دھمکی سے جس طرح ایک سپر طاقت امریکہ کی فوجیں اچانک خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئی ہیں۔اس کے واضح نقصانات محسوس کیے جارہے ہیں۔ان مجوزہ نتائج کی بظاہر ہولناکی کے اعتراف کے باوجود انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عراق کی زیادتی اور امریکی فوجوں کی مداخلت کی درمیانی کڑی نظر انداز نہ کی جائے۔کیونکہ  تاریخ اسباب سے مربوط ہوتے ہیں۔
  • اکتوبر
1990
صدیق حسن خان
جس طرح اللہ تعالیٰ کو مچھر پیدا کرنے میں کوئی عار نہیں۔اسی طرح مچھر یا مکھی یا مکڑی کی مثال بیان کرنے میں بھی اسے کوئی عار نہیں۔فرماتا ہے:۔
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿٧٣﴾...الحج
"لوگوں ایک مثال بیان کیجاتی ہے اسے غور سے سنوجن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے۔اگرچہ اس کے لئے سارے جمع کیوں نہ ہوجائیں۔اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔طالب اور مطلوب(عابد اور معبود)دونوں گئے گزرے ہیں۔"
  • اکتوبر
1990
عبدالرحمن عاجز
سینے میں اگر دل ترا تاریک نہیں ہے      پھر نکتہ کوئی نکتہ باریک نہیں ہے
گر مشورہ لینا ہے تو لے ٹھیک کسی سے        ہاں مشوہ بد پر عمل ٹھیک نہیں ہے
گرعزم ہے پختہ تو پہنچ جائے گا آخر   یہ مانا       کہ منزل تیری نزدیک نہیں ہے
  • اکتوبر
1990
سید محمد اکرم
چونکہ خالق کائنات کے منکر تو کافر بھی نہیں اور اسی سلسلہ میں قرآن کریم قریش مکہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے اقرار کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس لئے وجود باری تعالیٰ کو نقلی وعقلی دلائل سے ثابت کرنا کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے انبیاءؑ کی تعلیمات میں اس توحید علمی پر زیادہ زور نہیں دیا۔جس میں ذات باری تعالیٰ کاوجود زیر بحث ہو۔البتہ اللہ تعالیٰ کی صفات کیا ہیں؟اور ان میں کوئی اللہ کا ہمسر ہے یا مثیل؟قرآن مجید سے بطور خاص موضوع بناتاہے۔اور اس کے سارے پہلو وا کرتا ہے کیونکہ ان صفات کے عقیدہ سے ہمارا عمل براہ راست متعلق ہے۔ کہ ہم اللہ کو جیسا مانیں گے اسی طرح اس سے معاملہ کریں گے۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی بھی ذات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا رائی برابر بھی شائبہ ہو یا عکس تو پھر اس سے بھی اسی طرح کا معاملہ درپیش ہوسکتاہے جس طرح اللہ سے ہوتا ہے۔چنانچہ شرک کی تردید میں وحی اسی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی آپ کو اسی طرح کی حقیقتیں ملیں گے۔(مدیر)
  • اکتوبر
1990
غازی عزیر
ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔ 
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔
  • اکتوبر
1990
لطیف الدین
مشورہ کے لغوی معنی:
عربی زبان میں مشورہ "اور شوریٰ" کا استعمال رائےدینے کے لئے کیا جاتا ہے۔مشاورت (باہم رائ زنی کرنا) اوراستشارۃ(رائے طلب کرنا) ایسے الفاظ ہیں جو خاص طور پر انھیں موقع پر بولے جاتے ہیں۔ایک اور لفظ جس کا استعمال مخصوص اس بارے میں نہیں ہے بلکہ صلہ کے بدلنے سے اس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔اور وہ لفظ اشارہ کے صلہ میں"الیٰ"آتا ہے۔تو اس کے معنی محض کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اوراگر علی آتا ہے تو اس کے معنی مشورہ دینے کے ہوجاتے ہیں۔یہ پانچوں الفاظ اگرچہ باعتبار صیغوں اور باب کے مختلف ہیں مگر ماخذ اور موضع اشتقاق ان کا ایک ہے ان سب کی اصل شور ہے۔
  • اکتوبر
1990
احمد خالد عمر
عقلی علوم وفنون کی مختلف انواع میں سے ایک نوع عقائد انسانی سے بھی متعلق ہے۔اس "علم" کے تحت متعدد ادوار میں بسنے والی انسانی نسلوں کے خیالات سے بحث کی جاتی ہے۔انگریزی میں اس علم کے لیے جو لفظ مخصوص ہے وہ ایک ایسے لفظ سے مشتق ہے۔جو "بت پرستی" کامترادف ہے۔ اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فرنگی علماء عرصہ دراز تک یہی نعرہ لگاتے رہے کہ عالم انسانی کا اولین مذہب"بت پرستی" رہا ہے۔لیکن آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ماضی قریب کے معدودے چند مفکرین نے ،جو علم انسان،کے چوٹی کے ماہرین فن مانے جاتے ہیں۔برسوں کی تحقیق وتدقیق کے بعد اب یہ فتویٰ صادر کردیا ہے کہ درحقیقت کائنات انسانی کا اولین عقیدہ توحید تھا۔اور اب تک کی ساری ،تحقیقات،کو دلائل قطعی کے ذریعہ رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ پہلا انسان موحد تھا !آیئے ان فرنگیوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس رب الارباب کی بارگاہ الوہیت میں سر بسجود ہوجائیں جس نے صدیوں پہلے ہی اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس تاریخی حقیقت کا اعلان کردیا تھا۔کہ پہلا انسان آدمؑ موحد ہی نہیں بلکہ خدا کا پہلا پیغامبر تھا۔
  • اکتوبر
1990
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جن تبع تابعین نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں۔ان میں ایک امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ بھی تھے۔ جو جملہ علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث ،فقہ،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ سیرت کردار کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے ان کے جلالت قدر حفظ وضبط عدالت وثقاہت ذکاوت وفطانت ،زہد وورع ،بے نفسی،خشیت الٰہی تبحر علمی کا اندازہ ان کے اساتذہ وتلامذہ کی فہرست سے لگایا جاسکتاہے۔
اساتذہ:
تابعین کرام میں امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م93ہجری) کے تلمیذ رشید حضرت یحییٰ بن سعید ؒ(م143ھ) اورحضرت سلیمان بن طرخاںؒ تیمی(م143ھ) شامل ہیں۔
امام یحیٰ بن سعید ؒ (م143ھ) علمی اعتبار سے اپنے دور کے ممتاز ترین تابعین میں تھے۔ ان کی جلالت علمی پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق جلالت اور امامت پر سب کا اجماع ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی ؒ (م847ھ) نے ان کو امام اورشیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔