خطبہ مسنونہ:

اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم﴿ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾...البقرة
"یعنی سود خور شیطانی جنون سے خبطی بن جا تے ہیں کیونکہ وہ بیع اور سود کو یکساں بتاتے ہیں ۔حالانکہ خریدو فروخت اللہ نے حلال کی ہے جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے پس جو شخص رب تعا لیٰ سے نصیحت ملنے پر باز آجا ئے تو اس کا سابقہ کیا کرایا معاف ہو کر معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا لیکن جو لوگ پھر بھی باز نہ آئیں تو وہ دائمی جہنمی ہیں ۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے لیے تین عمل بتا ئے ہیں کہ انسان ان کا اہتمام کر لے تو جنت میں داخل ہو جا تا ہے ۔فر ما یا :
(عربی)
"کہ جو آدمی حلال کھا ئے شریعت کے طریقے کے مطابق عمل کرے اور ہمسائے اُس کے جھگڑوں سے محفوظ رہیں وہ شخص جنت میں داخل ہو گیا ۔"
گو یا اللہ تعا لیٰ نے انسان کے عمل کی مقبولیت کے لیے جس چیز کو بڑا اہم قرار دیا ہے بلکہ اسے عمل کا مدا رٹھہرا یا ہے وہ رزق حلال ہے ۔
حدیث مذکورہ بالا میں رزق حلال اللہ تعا لیٰ نے نیک علم سے پہلے کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم سے ہی استنباط ہے چنانچہ قرآن حکیم میں ہے

(عربی)
"اے انبیاؑء کی جماعت !پاکیزہ چیزیں (حلال )کھاؤ اور نیک عمل کرو۔"
چنانچہ عام انسانوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا کہ پہلے وہ حلال کھانے کا اہتمام کریں اس لیے کہ جو جسم حرام سے پرورش پاتا ہے اس کا ٹھکانہ آگ ہو تی ہے ۔آگ اس کے زیادہ لا ئق ہے کیونکہ اُس نے اپنا جسم ناجائز طریقوں سے پالا ہے۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعا لیٰ مجھے ایسا بنا دیں کہ میں جو دُعا کروں قبول ہو جا ئے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فر ما یا کہ اے سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ حلال کھا ؤ تمھاری دُعا قبول ہو گی ۔(ترغیب و ترہیب )
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فر ما تے ہیں کہ کو ئی شخص اگر حرام کما کر اُس سے صدقہ بھی کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے مفید نہیں ہو تا اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی نے اپنے کپڑے کو پیشاب سے دھو یا ۔اسی طرح جو شخص حرام مال کا صدقہ کرتا ہے اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو تا ۔اللہ تعا لیٰ پاک ہیں اور ہم سے پاک حلال ہی چاہتے ہیں ۔
(مفہوم اقتباس حدیث مسلم ادراحیاء العلوم غزالی)
قرآن پاک میں فر ما یا : (عربی)
"ایمان والو! ہمارے رزق میں سے صرف حلال اور پاکیزہ کھا ؤ۔"
اسی طرح ارشاد ہے:
(عربی)
(ایمان والو! جو تم کماتے ہو اس میں سے حلال کا صدقہ کرو اور جو کچھ ہم زمین سے تمھارے لیے نکالتے ہیں اُس میں سے خرچ کرو اور اللہ کے راستے میں نکمی چیز نہ دو ۔اس لیے کہ تم اپنے لیے خود اس کو لینے پر تیار نہیں ہو بجُز اس کے کہ چشم پوشی کر جا ؤ ۔جان لو کہ اللہ تعا لیٰ بے نیاز ستودہ صفات ہیں ۔"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(عربی)
"یعنی نماز وضوء کے بغیر نہیں ہو تی ۔اور اگر مال حلا ل نہ ہو تو اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا ۔"
اُن بڑے اعمال میں سے وہ عمل جو انسان کی ساری زندگی کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف کرالیتا ہے حج ہے ۔لیکن جب کو ئی شخص اللہ کے راستے حرام مال سےسفر کر کے بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے دُعا کر رہاہو تا ہے یا میقات سے تلبیہ کہنا شروع کرتا ہے جو یہ ہے ۔
(عربی)
اور اسی طرح کا تلبیہ اور بھی ہے :"(عربی)
(اے اللہ میں تیرا وفا دار ہو کر بار بار حاضر ہوا ) کا جواب ملتا ہے (عربی)
(نہ تو تیری حاضری قبول ہے اور نہ تیری وفاداری کا دعویٰ !)
ایسے حاجی کے (عربی)پکارنے کا جواب ملتا ہے کہ : (عربی)
(اس کا کھانا بھی حرام پینا بھی حرام ہے اور جو کچھ اُسے غذا دی گئی وہ بھی حرام تو قبولیت کیسے ہو ئی ؟)
حاصل یہ ہے کہ رزق حلال چھوڑنے سے اُس کا حج جیسا بڑا عمل قبول ہونے کی بجائے رد کر دیا جا تا ہے گو یا رزق حلال کی بڑی اہمیت ہے مثلاً ایسا انسان جو کفر کی حالت میں غلط را ہوں پر پڑا ہو ۔اسلام لا تے ہو ئے اس کے لیے بہت مشکلا ت ہو تی ہیں کیو نکہ وہ عملی طور پر زند گی کے مختلف مراحل سے گزر کر ہی اپنے آپ کو صحیح طریقوں پر چلا سکتا ہے لیکن کیا اُس کے لیے منا سب ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان بھی نہ ہو بلکہ پڑھنے سے پہلے اپنی ساری زندگی کو درست کر لے ۔نہیں اس کے لیے طریقہ کا ر تو یہ ہے کہ فوراً کلمہ پڑھ لے کلمہ پڑھنے کے بعد اُس کی جہت سیدھی ہو گئی ایسے جیسے اُس نے اللہ تعا لیٰ سے تعلق کی ڈوری باندھ لی ہے اب اُس نے جو مراحل بھی طے کرنے ہیں اس کے مطابق کرنے ہیں اگر چہ وہ اپنی زندگی کے معا لات کو آہستہ آہستہ صحیح کرے گا ۔لیکن کلمہ پڑھنے کے بعد اُس پر لا زمی ہو جا ئے گا ۔کہ وہ اپنے معا لات شریعت کے مطابق طے کر ے ۔
اسی طرح ہماری اجتماعی زندگی میں حکومت کا مسئلہ ہے حکومت جب مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو تو اُن کے لیے ایک لمحہ بھی جا ئز نہیں ہے کہ وہ غیر اسلامی طریقوں کے مطابق اپنا نظام جاری رکھیں اپنا قانون اللہ کے قانون کے بالمقابل اپنی مملکت میں جاری و ساری رکھیں بلکہ اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اللہ تعا لیٰ کی فر مانبرداری کا اعلان کریں ۔اس اعلان کے ساتھ حکومت اسلامی ہو گی جس کا دستور و قانون کتا ب و سنت ہو گا اور اس طرح حکومت کا سارا نظام اور پالیسیاں شریعت کے تابع ہو جا ئیں گی ۔انہی میں ہمارامالیاتی نظام بھی ہے جو سودی معیشت پر مبنی ہے ۔ اگریہ اعلان نہیں کرتے تو نظام معیشت کبھی درست نہ ہو گا ۔حرام پر ہی قائم رہے گا ۔
جس میں پورا معاشرہ بھی ملوث رہے گا ۔چنانچہ جب کسی شخص کے پیٹ میں ایک لقمہ بھی حرام کا ہے تو چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو تی ۔اسی طرح حکومت اگر کسی ملک میں اسلامی مالیاتی نظام نافذ نہیں کرتی تو وہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔اس لیے کہ ناجائز طریقے جن میں سے ایک بڑا طریقہ سُود کا ہے کا ہے ۔اس کی موجودگی میں اللہ تعا لیٰ کی طرف سے اعلان جنگ ہو تا ہے ۔
قرآن مجید میں ہے ۔(عربی)
یعنی سُود کے معاملات میں صرف اصل زرکو لو اور سُود کو چھوڑدو ۔اگر تم یہ کام نہیں کرتے تو پھر اللہ تعا لیٰ کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے ۔خبر دار ہو کر سُن لو کہ اللہ تعا لیٰ سے اعلان جنگ کے بعد اگر کو ئی شخص یہ سمجھے کہ اُس کے معاملات میں برکت ہو گی یا نظام سیدھا چلے گا تووہ دھوکے میں ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے :
(عربی)
(اللہ تعا لیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقوں کو بڑھاتے ہیں )
اب جب سودی کا روبار کسی ملک میں رائج ہو تا ہے اُس وقت اللہ کی طرف سے مٹانے کی یہ صورت ہو تی ہے کہ اُس کا پورا نظام معاشرت تباہ کردیا جا ئے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں سارے رزق کی کنجیاں ہیں ۔خزائن السماوات والارض کا وہ مالک ہے اور ارشاد ہے ۔
(عربی)
یعنی آسمانوں میں تمھارا رزق ہے اور تم سے جو وعدہ کیا جا تا ہے دنیا میں یا آخرت میں وہ سب کا سب بھی آسمانوں میں ہی ہے ۔
لہٰذا سب فیصلے آسمانوں پر ہو تے ہیں خوا ہ وہ تمھیں زمینی ذرائع سے ملیں چنانچہ اللہ تعا لیٰ ارشاد فر ما تے ہیں ۔
(عربی)
(میں نے جن وانس کو صرف اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے میں اُن سے رزق نہیں چاہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے(بندوں کے)بھی رازق بنیں ۔اللہ ہی بہت رزق دینے والا ہے جو قوت والا مضبوط ہے)
حاصل یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی اس میں تنگی اور کشادگی کا فیصلہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے :
(عربی)
(اللہ جسے چاہے رزق فراخ دے اور جسے چاہے تنگ کر دے )
گو یا معاشرے میں اللہ تعا لیٰ کی برکت سے ہی ساری برکتیں اور رونقیں ہوتی ہیں اور اگر وہی بے برکتی پیدا کردے یا دوسرے لفظوں میں نظام کو تباہ برباد کر دے تو پھر اُس کے بعد کیا خیر کی اُمید رکھی جا سکتی ہے ۔ہمارے ملک میں سودی نظام چلتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نظام کو اگر ختم کردیا گیا تو ملک میں بحران پیدا ہو جا ئے گا ۔کیا یہ سودی نظام اللہ کے خلا ف اعلان جنگ نہیں ہے ؟یقیناً ہے لہٰذا یہ جو بے برکتی ہو رہی ہے یہ سب کچھ سودی نظام کی وجہ سے ہے اور حکومت کے معاملات سیدھے نہیں ہو تے ۔جب تک عقیدہ درست نہ ہو بات نہیں بنتی حالانکہ اللہ تعا لیٰ نے رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی ہے برھواں پارہ شروع ہو تا ہے:
(عربی)
"یعنی زمین میں ہر رینگنے چلنے والی چیز کی ذمہ داری للہ تعا لیٰ پر ہے اللہ تعالیٰ
کو علم ہے کہ کہاں کسی کا مستقل ٹھکانہ ہے یا عارضی۔"
جب اللہ ہی کو علم ہے اور اللہ تعا لیٰ نے یہ سارے کا سارا علم لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا ہے۔اس دنیا میں اگر چہ اللہ تعا لیٰ رزق دوست دشمن سب کو دیتے ہیں ۔لیکن مسلمان بن کر اگر کو ئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اسلام کے منافی تدبیروں سے اللہ تعا لیٰ کی طرف سے برکت ہو گی تو وہ سخت دھوکہ میں ہے ۔اسی خیال کو باطل کرنے کے لیے اللہ تعا لیٰ نے قرآن کریم میں قارون کا قصہ ذکر کیا ہے جو یوں ہے۔
(عربی)
مفہوم یہ ہے کہ قارون موسیٰ علیہ السلام کی قوم س تھا (جو فرعون کی غلام تھی )پھر اُس نے اپنے بھائی بندوں پر سرکشی کی۔حالانکہ اللہ نےاُسے اتنی دولت دی کہ اُس کے خزانے کی کنجیاں ایک بڑی جماعت اٹھاتی تھی آگے بیان ہے کہ جب یہ شان و شوکتکے ساتھ لوگوں کے سامنے سے گزرتا تھا تو اُس وقت دنیا دار لوگ آرزو کرتے کہ ہمارے پاس بھی ایسی ہی دولت ہوتی بلکہ زبان حال سے ماؤں کی خواہش ہوتی کہ ہمارے بچوں کو بھی اپنا ساتھی بنالے ۔لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی بددُعا کی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے اُس پر عذاب مسلط کیا (کیونکہ اُس نے موسیٰ علیہ السلام پر تہمت لگائی تھی) اس پر عذاب یہ آیا کہ اُسے زمین میں دھنسا دیا گیا ۔جب زمین میں دھنسنا شروع ہوا تو کہنے لگا ۔موسیٰ!تم نے میری دولت لینے کے لیے یہ معاملہ میرے ساتھ کیا ہے موسیٰ علیہ السلام جوش میں آکر کہنے لگے کہ اللہ !اس کی دولت بھی اس کے ساتھ زمین میں دھنسا دی جا ئے ۔اب وہ بمعہ دولت زمین میں دھنسا جا رہا ہے ۔
یہ باتیں زیادہ تر حدیث میں یا اسرائیلیات میں ہیں قرآن میں صرف اتنا ذکر ہے کہ اس سے چھٹکارا پانے میں کو ئی اس کی مدد کو نہ آیا :
(عربی)
ارشاد الٰہی ہے کہ جب ہم نے اسے گھر بار سمیت زمین میں دھنسا دیا تو وہ دولت جو کل اُس کے ہم مرتبہ ہونے کی آرزوکرتے تھے ۔کہنے لگے ۔۔۔(عربی)یہ بڑی عجیب بات ہے کہ رزق کی فراخی اور تنگی اللہ کے ہاتھ ہے ۔اس قصہ میں جہاں دنیا کی آندھی خواہش کرنے والوں کے لیے عبرت ہے وہاں یہ نکتہ بھی نکلتا ہے کہ جب رزق کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔تو اللہ کے نظام کے ساتھ بغاوت کرنے کے بعد یہ امید رکھنا کہ ہمارے معاملات سُدھر جا ئیں گے ۔یہ ہمارا دھوکہ ہے فریب ہے ۔
گذشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے اشارہ کیا تھا کہ اس وقت ہمارے ملک میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے سرمایہ دار نہ نظام کو جاری رکھنے کی کو شش ہو رہی ہے نعرے لگتے ہیں سوشلزم کے لیکن سرمایہ دار نظام کا تحفظ کیا جا تا ہے۔تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ جنرل ضیاالحق نے جوا چھے اقدامات کئے اُن اقدامات میں سے ایک قدم یہ تھا کہ اس نے ملک میں اسلام کے نفاذ کے لیے ایک عدالت بنائی جس کا نام وفاقی شرعی عدالت ہے ۔اُسے یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ملکی قوانین کو کتاب و سنت کی روشنی میں پرکھ سکتی ہے لیکن خرابی اس طرح ہوئی کہ اس عدالت کے طریقہ کار کے لیے آئین کا ایک cnapterہے ۔a.۔3کی صورت میں اس میں گڑ بڑ ہے یعنی جہاں اس عدالت کے اختیارات کا ذکر ہے وہاں سرمایہ دار انہ نظام کو تحفظ مہیا کیا ہے کہ اس سے ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا۔اور ملکی نظام معطل ہوکر رہ جا ئے گا چنانچہ بحران سے بچانے کے لیے جس طرح قانونی نظام کو بچانا چاہیے اسی طرح اس ملک کا مالیاتی نظام محفوظ ہو نا چاہیے ۔اس طرح بظاہر صورت یوں بنائی کہ اس ملک میں قانون کی جو قوت ہے اُسے محفوظ ہو نا چاہیے ۔چنانچہ لاء کی تعریف محدود کر کے تحفظ دے دیا کہ شریعت کورٹ دستور Constitutionکو کتاب و سنت کی روشنی میں نہیں پرکھ سکتی ۔پھر اس قانون و دستور پر عمل کرنے کا ایک طریقہ ہے جسے Becedural lawکہتے ہیں اسے بھی مستقل طور پر محفوظ کردیا ۔پھر قوانین کا اہم حصہ ہمارے Personal lawsجن میں ہمارا Family lawبھی داخل ہے اسے بھی مستقل طور پر محفوظ کر دیا کہ کورٹ ان پر بھی غور نہیں کرسکتی۔
میں کہتا ہوں کہ مذکورہ بالا تمام اہم قوانین کو محفوظ کر کے سیکولرزم کی حفاظت کی گئی ہے ۔اسی طرح اسلام کے تدریجی نفاذکے دعوے سے مالیاتی نظام کو دس سال کے لیے مستثنیٰ کرلیا گیا ۔کہ ہم فوری طور پر اسے تبدیل نہیں کرسکتے ۔پہلے تین سال کی مدت مقرر کی گئی اس کے بعد مدت کو بڑھا دیا اور کہا کہ دس سال تک ان پر غور نہیں ہو سکتا ۔اب دس سال کی جو مدت ضیاء الحق نے مقرر کی تھی وہ 25/جون 1990ءکو ختم ہو رہی ہے اور یہ مسئلہ بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے حالانکہ کسی بڑی تبدیلی کا بھی کو ئی خطرہ نہیں کیونکہ اسلامی احکام کی روشنی میں مالیاتی نظام کا جا ئزہ لینے کے لیے جو عدالت ہے وہ ان ججوں پر مشتمل ہے جنھوں نے شریعت پڑھی اور نہ وہ اس نظام کے اوپر شریعت کو نافذ کر سکتے ہیں اس کے باوجود خائف ہیں کہ وہ نہ کہہ دیں کہ ہمارا طریقہ کار غیر اسلامی ہے کتاب و سنت کے مطابق نہیں حکمران ان لوگوں سے خائف ہیں جو ان کے اپنے تیار کردہ ہیں حالانکہ قوانین کو اسلام کے منافی قرار دلانے کے لیے بڑی شرطیں ہیں ایک تو سماعت کی لمبی مدت مقرر کرتے ہیں پھر نہ تو وہ Stayدے سکتے ہیں اور نہ نئی قانون سازی کا کو ئی اختیار ہے اگر ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیار ہوتا تو ہائی کورٹ Stayدے سکتی تھی ۔جیسے کہ ایک موقع پر پنجاب ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے یہ کا م کیا بھی پنجاب میں جسٹس خلیل الرحمٰن اور سندھ میں جسٹس تنزیل الرحمٰن نے دو معا ملا ت میں سود سے روک دیا ۔اب جن کو روکا گیا اُنھیں بہت پریشانی ہو ئی سپر یم کورٹ میں گئے اس نے پھر آسانی پیدا کردی کیونکہ اس وقت ملکی قانون کی صورت حال یہ تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے آئین کے اندر ترمیم کر کے قرار داد مقاصد کو اس دستور کا حصہ بنا دیا تھا ۔a۔2 کی صورت میں ہائی کورٹنے اسی بنیاد پر یہ کا م کیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ سے جو سلسلہ چلا تھا وہ بھی رک گیا چنانچہ اس کے لیے اب طریقہ کار صرف یہ رہ گیا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت ہی غور کرے ۔
وفاقی شرعی عدالت Stay order جاری نہیں کرسکتی ہے۔وہ صرف اتنا کر سکتی ہے کہ اس معاملے کو سنے۔ماہرین اس میں آئیں انھیں سننے کے بعد فیصلہ کرے کہ وہ قانون کتنی حد تک کتاب و سنت کے مخالف ہے اس کے بعد سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کے پاس اس کی دوبارہ سماعت ہو گی یہ سارا معاملہ عدالت سن کر پھر مدت مقرر کر ے گی کہ حکومت نیا قانون لا ئے ۔یہ اختیار بھی عدالت کو دس سال تک نہیں تھا ۔اب 25/جون تک عدالت کو یہ اختیار مل رہا ہے ۔
اب اس حکومت کو یہ پر یشانی ہے جو یہ کہتی ہے کہ ہماری معیشت سوشلزم ہے حالانکہ یہ حکومت سرمایہ دارانہ نظام کو ہی نہیں مانتی ۔آج شاید آپ نے کوثر نیازی کا مضمون پڑھا ہو اُس میں اُس نے ٹیکسوں تک کی مخالفت کی ہے اشترا کی نظام کے اندر ٹیکس بھی نہیں سودبھی نہیں ۔
اب پیپلز پارٹی اپنے منشور سوشلزم سے بھی ہٹ رہی ہے اور "اسلام ہمارا دین ہے" سے بھی بغاوت کر دی ہے ۔اصل میں اب عوامی قوت کا مظاہرہہونا چا ہیے لین ملک کے اندر ابھی بات دَبی دَبی اُٹھی ہے بلکہ ایک آواز اور اٹھی ہے کہ سرمادارانہ نظام ختم ہو نا چاہیے مگر تھوڑی سی اُنھیں مہلت دے دی جا ئے ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مہلت ہی تو فساد ہے آج تک اس مہلت کے نام پر ہی تو سرمایہ دارانہ نظام کو جا ری رکھا جا رہا ہے جس کے بارہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کیا گیا ہے ۔کہ سود کی ستر70سے اوپر کچھ شاخیں ہیں وہ لینے والا دینے والا اس پر گواہ سب برابر کے گنہگار ہیں ۔اور اس کا کم سے کم گنا ہ اتنا ہے جتنا اپنی سگی ماں سے بد کاری کرنا ہے اتنا سنگین معاملہ اور اس کے بارے میں اتنی مداہنت کہ اس کے لیے کچھ مزید مہلت دے دی جا ئے ۔
ہمیں بھول جا نا چاہیے کہ بحران پیدا ہو گا ۔جب سے ہمارے ہمسائے افغانستان اور ایران میں انقلاب آیا ہے دونوں نے فوراً سود کو ختم کر دیا ہے افغانستان میں بھی اور ایران میں بھی کیا کو ئی بحران پیدا ہوا ؟ بلکہ اس وقت دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی روس چین وغیرہ میں ہے ۔دونوں میں سود کے بغیر نظام موجود ہے اور کیا بحران ہے؟
پھر کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمان ہو کر اتنی مشکل محسوس کرتے ہیں صرف وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ایمان نہیں ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ۔
سچ یہ ہے کہ ہم نے سنجیدہ طور پر اپنے مطالبات پیش نہیں کئے جب تک ہماری طرف سے بلند آواز نہیں اٹھے گی ۔حکومتیں اپنا رستہ سیدھا نہیں کریں گی ۔ہماری حالت یہ ہے کہ سودی معیشت کی وجہ سے ہر آدمی اس وقت مقروض ہے جو بچہ پیدا ہو تا ہے وہ قرضہ لے کر پیدا ہو تا ہے ۔ہماری حالت دب بدن یوں بنتی جا رہی ہے کہ قرض پر قرض چڑھ رہا ہے اور ہم مزیداسی سود کی لعنت میں پھنستے جا رہے ہیں ۔ارشاد بار ی تعا لیٰ ہے ۔ملاحظہ فرمائیے ۔
(عربی)
"اے ایمان والو! سود کو کئی حصے بڑاھا کر نہ کھا ؤ ۔اللہ کا ڈراختیار کرو تا کہ فلاح حاصل کر سکو۔"
سودکی ایک شکل یہ ہے کہ پہلے سود چڑھتا ہے جس کی ادائیگی نہیں ہو تی اس کے بعد وہ سود اور اصل زر کو ملا کر مزید سود بڑھتا ہے تو سود ہو جا تا ہے
(عربی)
"اللہ سے ڈرو۔اس لیے کہ فلاح اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔"
پاکستا ن فلاحی ریاست اُس وقت بنے گی جب اللہ کے راستے پر چلے گی۔
(عربی)
"جب کو ئی شخص اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی راہیں نکالتے ہیں ۔"
(عربی)
"اور جہاں سے اسے رزق ملتا ہے وہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہو تا ۔"
(عربی)
"اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اُس کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں
واضح رہے کے سود کا معاملہ اتنا نازک ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما تے ہیں کہ کو ئی شخص جب کسی سے قرض لےتو وہ شخص جس نے قرض دیا ہو تا ہے وہ اپنے قرضدار سے کو ئی ہدیہ بھی قبول نہ کرے اور نہ ہی اس کی سواری استعمال کرے کہ تحفہ قبول کرنا بھی سود کی ایک شکل بنتی ہے وہاں اگر پہلے سے کو ئی ان کا معاملہ چلتا ہے تو اس صورت میں ہدیہ وغیرہ لینا جائز ہے ۔ (ابن ماجہ)
اس معاملہ میں اتنی سختی ہے کہ اگر کسی نے کسی شخص کی سفارش کی اور اس سفارش کرنیوالے کو دوسرا شخص کو ئی تحفہ بھیجے ۔اور یہ شخص تحفہ قبول کرلیتا ہے تو اُس نے سود کا بڑا دروازہ کھول دیا ۔
جس کے بارے میں اتنی سختی ہے اُس کے متعلق ہماری اتنی بے احتیاطی تھوڑی سی بے احتیاطی انسان کو کہاں لے جا تی ہے !اسی لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ ایک وقت آئے گا کہ کو ئی شخص سود سے نہیں بچ سکے گا اگر کو ئی شخص سود سے بچے گا تو اُس کے غبار سے نہیں بچ سکے گا ۔(احمد ابن ماجہ)
آج کل ہمارے ہاں بھی سود اس طرح ریشے ریشے میں رچ چکا ہے کہ اس سے بچنا مشکل ہے لیکن جو شخص اللہ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے اُس کے لیے اللہ آسانی پیدا کردیتے ہیں ۔اللہ تعا لیٰ ہمیں حلال کمانے اور کھانے کی توفیق دیں اور سود کی لعنت سے بچائیں ۔(آمین!)