عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد ہ کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔مگر یہ بات عقلاً غیر معقول ہے۔
چونکہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے اس لیے جس طرح دنیا میں انسان کی نسبت والد کی طرف ہو تی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہر انسان کو والد ہی کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادیت چونکہ معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوئی تھی ۔اس لیے ان کی نسبت والدہ ہی کی طرف ہو گی ۔
ان کے علاوہ عام انسانوں کو والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کے بارے میں مندرجہ ذیل ایک حدیث روایت کی جاتی ہے۔
(عربی)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا کہ لوگوں کو قیامت کے روز ماؤں کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر پردہڈالنے کے لیے ۔۔۔مگر سند کے لحاظ سے یہ حدیث حد درجہ ضعیف ہے ۔خود مصنف ابن عدی ؒ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس پر جرح کرتے ہو ئے اسے "منکر" قرار دیا ہے ۔چنانچہ لکھا ہے (عربی)
"کہ یہ حدیث اس سند کے ساتھ "منکر" ہے ۔
"سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ "431/1میں نو محدث العصر ماہر فن حدیث شیخ ناصرالدین البانی (حفظہ اللہ و متعنا بطول حیاتہ آمین) نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا اور اس کے ایک راوی "اسحاق بن ابراہیم "پر "منکر الحدیث " کے لفظ سے جرح کی ہے امام ابن حبانؒ نے کتاب المجروحین میں لکھا ہے کہ اسحاق بن ابراہیم حد درجہ منکر الحدیث ہے ثقہ راویوں سے موضوع روایات کرتا ہے ۔اس کی بیان کردہ احادیث کو بیان کرنا حلال نہیں سوائے اظہار تعجب کے اس نے فضل بن عیاض اور ابن عیینہ سے موضوع احادیث روایت کی ہیں اس حدیث کو ابن الجوزیؒ نے ابن عدیؒ کی مذکورسند سے " الموضوعات میں درج کیا ہے اور اسحاق بن ابراہیم کو "منکر الحدیث "لکھا ہے اسحاق بن ابراہیم کو شیخ الاسلام حافظ ابن حجر ؒنے بھی ضعیف قراردیا ہے ۔(ملاحظہ ہو لسان المیزان 244/1۔
والد کے نام سے پکارے جا نے کے بارے میں ایک حدیث اس بارہ میں امام ابوداؤد ؒ نے ایک حدیث روایت کی ہے ۔
(عربی)
(سنن ابی داؤد مع عون المعبود 442/4باب فی تفسیر الاسماء )
ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تمہیں قیامت کے روز تمھارے آباء کے ناموں سے پکارا جا ئے گا ۔اس لیے اچھے اچھے نام رکھا کرو ۔اس حدیث کو امام ابو داؤد ؒ کے علاوہ امام احمد ؒ دارمیؒ اور ابن حبان ؒ نے بھی روایت کیا ہے ۔چنانچہ ملاحظہ ہو سند امام احمد 194/5سنن دارمی 204/2باب فی حسن الاسماء حدیث نمبر2697۔موار دالظمان الی زوائد ابن حبا ن ۔ص479۔باب ما جآء فی الاسماء "حدیث نمبر1944۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ابو داؤدؒ نے اس کی سند کو منقطع قرار دیا اور کہا ہے کہ عبد اللہ بن ابی زکریا کی ابو الدرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں مگر امام نوویؒ نے دو مقامات پر اس سند کو جید قرار دیا ہے ۔
چنانچہ امام موصوف "الاذکا ر" میں رقمطراز ہیں :
(عربی)
اسی طرح "تہذیب الاسماء والصفات "11/1فصل :بالسمیتہ والاسماء والکنی والقاب"میں اسی حدیث کو ذکر کر کے فر ما تےہیں ۔
(عربی)
کہ اس حدیث کو امام ابو داؤد ؒ نے جید (بہترین ) سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ابوداؤد ؒ کی اس حدیث کی شرح امام ابن قیمؒ فر ما تے ہیں : کہ اس حدیث میں ان لوگوں کی تر دید ہے جو کہتے ہیں کہ قیامت کے روز لوگوں کو والدہ کے نام سے پکارا جا ئے گا ۔نہ کہ والد کے نام سے ۔چنانچہ امام بخاریؒ نے "الصحیح " میں باب (عربی)قائم کر کے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد کی نسبت سے پکارا جا ئے گا ۔نہ کہ والدہ کی نسبت سے۔
امام موصوف آگے فر ما تے ہیں جو لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کے روز لوگوں کو والدہ کی نسبت سے پکارا جا ئے گا ۔ان کی دلیل وہ حدیث ہے جسے امام طبرانی ؒ نے المعجم "میں سعید بن عبد اللہ الاوری سے نقل کیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ
"میں ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ نزع کے عالم میں تھے انہوں نے فر ما یا کہ جب میں مرجاؤں تو تم میرے ساتھ اسی طرح کرنا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ہے کہ جب تم میں سے کو ئی مسلمان فوت ہو جا ئے اور تم اسے دفن کر کے فارغ ہو جا ؤ تو تم سے ایک آدمی اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے یا فلان بن فلا نہ وہ اس کی بات کو سن رہا و تا ہے مگر جواب نہیں دے سکتا ۔۔۔۔
ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اگر اس کی والدہ کا نام معلوم نہ ہو تو ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا !اسے اسکی والدہ حوا علیہا السلام کی نسبت سے یا فلان بن حواکہہ دے ۔
امام صاحب فر ما تے ہیں کہ:
(عربی)
کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ہو نے پر اہل علم کا تفاق ہے یہ حدیث ضعیف کے سبب دلیل نہیں بن سکتی کجایہ کہ اسے صحیح ترین حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جا ئے۔
امام المحدثین امام بخاریؒ کا موقف
اس بارہ میں امام بخاریؒ کا موقف بھی یہی ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد کے نام سے پکارا جا ئے گا ۔چنانچہ انہوں نے "الصحیح "میں یوں باب قائم کیا ہے ۔باب : (عربی)
لوگو ں کو اباء کے ناموں سے پکارے جا نے کا بیان :
(عربی)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : دھوکہ باز کے لیے قیامت کے روز (بطور علامت )ایک جھنڈا بلند کیا جا ئے اور کہا جا ئے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کے دھوکہ کے سبب سے ہے ۔
امام قسطلانیؒ شارح صحیح بخاری کا موقف:
امام قسطلانی ؒ اس حدیث کی شرح میں فر ما تے ہیں یعنی انسان کی نسبت والد کی طرف ہو گی کیو نکہ اس طرح تعریف و تمیز زیادہ ہو تی ہے ۔نیز اس حدیث میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ لوگوں کو والدہ کے ناموں سے پکارا جا ئے گا ۔
ہاں والدہ کے نام سے پکارے جانے کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک حدیث ہے جسے امام طبرانیؒ نے "المعجم " میں روایت کیا ہے مگر اس کی سند حد درجہ ضعیف ہے ۔(ملاحظہ ہو ارشاد الساری شرح صحیح بخاری 9/106105۔
شیخ الالسلام حافظ ابن حجرؒ کا موقف:
حافظ صاحب : فرماتے ہیں :
(عربی)
اس حدیث سے ثا بت ہوا کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد کی طرف کر کے پکار نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔
اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ جن احادیث میں والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کا ذکر کیا ہے وہ حد درجہ ضعیف ہیں :
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح ترین حدیث کی روشنی میں امام بخاری امام قسطلانی حافظ ابن حجراور امام ابن قیم رحمہ اللہ اجمعین وغیرہ اساطین علم کا موقف ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد کی نسبت سے پکارا جا ئے گا اور یہی بات قرین قیاس قرین دلائل ہے ۔(واللہ اعلم)