(ج)حضرت آدم علیہ السلام کی وسیلہ اختیار کرنے والی حدیث کے آخر میں (عربی)(یعنی اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا )وارد ہے جو عقائد سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ہے چونکہ اسے لیے کو ئی متواتر نص موجود نہیں ہے لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صحت ثابت کرنا محال ہے اس حدیث کو مختلف لوگ مختلف الفاظ اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان کرتے ہیں شعیہ حضرات اور باطنیہ فرقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ :
"اگر علی نہ ہو ئے تو اے محمد میں صلی اللہ علیہ وسلم میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا ۔" متنبی مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے یہ الفاظ اُن سے اس طرح فرما ئے تھے ۔
"(اے غلام احمد )اگر تم نہ ہو ئے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔" صوفی مزاج علماء کا ایک گروہ بیان کرتا ہے کہ:
"اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوتے تو یہ آسمان پیدا نہ کیئے جا تے ۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ:
"حضرت جبرائیلؑ نے فر ما یا ۔اللہ تعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نہ ہو تے تو میں نہ جنت پیدا کرتا نہ دوزخ ۔" ایک روایت اس طرح بھی بیان کی جا تی ہے کہ:
"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !)اگر آپ نہ ہو تے تو میں یہ دنیا پیدا نہ کرتا ۔" اس سلسلہ کی ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں :
"اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں نہ آدم ؑ کو پیدا کرتا نہ جنت کو نہ جہنم کو۔" اگر دیکھا جائے تو بعض عیسائیوں کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ: "کائنات کی تمام اشیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیدا کی گئی ہیں ۔ مولانا زکریا صاحب مرحوم نے بھی حضرت آدم ؑ کی وسیلہ والی حدیث کی تخریج کرتے ہو ئے تحریر فر ما یا ہے ۔
"میں کہتا ہوں کہ ایک دوسی مشہور حدیث (عربی)اس کی تائید کرتی ہے جس کے متعلق مُلاعلی قاریؒ موضوعات کبیرمیں لکھتے ہیں کہ موضوع ہے لیکن اس کے معنی صحیح ہیں اور تشریف میں اس کے معنی ثابت ہیں الخ۔اسے مولانا زکر یا مرحوم کے التباس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے ۔راقم نے مشہور حدیث (عربی)"پر بحث کرتے ہو ئے اپنے سابقہ مضمون "حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نور محمدی کی حقیقت "میں شیخ ملا علی القاریؒ کے قول"موضوع ہے لیکن اس کے معنی صحیح ہیں "کا بدلائل بطلا ن کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ نہ اس کے معنی کی صحت کا دعویٰ درست ہے اور نہ اس کے ثبوت کا دعویٰ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس مضمون کی تمام روایات سنداًو متناً قطعی طور پر باطل ہیں چنانچہ ان میں ابن حجرعسقلانی ؒ علامہ ذہبیؒ علامہ طاہر پٹنیؒ علامہ محمد بن علی الشولانی ؒعلامہ ابن الجوزیؒ علامہ سیوطیؒ علامہ ابن عراق الکنانیؒ ملا علی القاریؒ وغیرہ نے موضوع"ہونے کا صریح حکم لگاہے علامہ ابن عبدالحلیم ؒ ابن تیمیہ نے بھی اس مضمون کی تمام احادیث پر سخت تنقید فر ما ئی اور ان کا بطلان کیا ہے اس کے تفصیلی مطالعہ کے لیے راقم کے مضمون بعنوان "حقیقت محمد یہ اور نورمحمدی کی "کی طرف رجوع فرمائیں ۔
ویسے بھی (عربی)کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت آدمؒ کی تخلیق سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خلاف واقعہ امر ہے حالانکہ اسی حدیث میں چند سطور اوپر قبل از تخلیق آدم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خود کی نفی بھی کی گئی ہے الفاظ اس طرح ہیں ۔(عربی)
"تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پہچانا جبکہ میں نے انہیں پیدا بھی نہیں کیا ہے ۔"چنانچہ ان دونوں الفاظ کا آپس میں تضاد اور ایک دوسرے کی تکذیب کرنا روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔حدیث کے مذکورہ الفاظقرآن کریم کی اُس آیت کے خلاف بھی ہیں۔جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت آدمؑ(اور بنی آدمؑ)کی تخلیق کا مقصدوحکمت اس طرح بیان فرماتا ہے ۔
(عربی)
"میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں ۔
خلاصہ کلام:
یہ کہ زیرنظر حدیث بلانزاع ضعیف الاسناد مضطرب خلاف کتاب و سنت باطل بلکہ قطعی موضوع اور اسرائییات سے ماخوذ ثابت ہو تی ہے جس سے شریعت میں با تفاق اُمت استدلال کی کو ئی گنجائش نہیں ہے جن علماء نے حضرت آدمؑ کے وسیلہ اختیار کرنے والی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اُنھوں نے دراصل امام حاکم ؒ کی تصحیح پر اعتماد کیا ہے حالانکہ امام ابوعبد اللہ الحاکم ؒ کا کسی حدیث کی حدیث کی تصحیح فر ما نا اہل علم حضرات کے نزدیک قابل اعتماد نہیں ہے مشہور ہے کہ حدیث کی تصحیح و تحسین کے معاملہ میں امام حاکمؒ بہت متساہل واقع ہوئے ہیں شارح ترمذی ؒعلامہ عبد الرحمٰن مبارکپوری ؒفر ماتے ہیں :
"جاننا چاہیئے کہ ابوعبد اللہ الحاکم بھی حدیث کی تحسین و تصحیح میں امام ترمذیؒ کی طرح متساہل ہیں لیکن اس معاملہ میں ان دونوں کا مقام برابر نہیں ہے ۔۔۔بعض علماء یہاں تک فر ما تے ہیں کہ حاکم کی تصحیح ترمذیؒ یادارقطنی ؒ کی تصحیح جیسی نہیں ہے بلکہ ان کی تصحیح ترمذیؒ کی تحسین جیسی ہوتی ہے جبکہ ابن خزیمہؒ اور ابن حبان ؒ کی تصحیح حاکم کی تصحیح کے مقابلہ میں بلانزاع ارجح ہوتی ہے ۔ ایک اور مقام پر علامہ مبارک پوریؒ فر ماتے ہیں "بلا رَیب حاکم کی مستدرک میں بہت سی احادیث صحت کی شرط پر نہیں ہیں بلکہ اس میں تو موضوع احادیث تک موجود ہیں ۔میں کہتاہوں کہ تصحیح کے معاملہ میں حاکم کا تساہل مشہور ہے جس طرح کہ بقول علامہ سیوطیؒ حدیث کی تضعیف کے معاملہ میں ابن الجوزیؒ کا تساہل مشہورہے علامہ ابن حجر ؒفر ماتے ہیں کہ ابن الجوزیؒ اور حاکم ؒکا۔۔۔(مستدرک میں) تساہل ان کی کتبمیں موجود احادیث کے نفع کو معدوم کردیتا ہے ۔پس ہر ناقد پراعتناء بلا تقلید واجب ہے بالخصوص اس وقت جبکہ وہ ان کتب میں سے کچھ نقل کرے ۔جزائریؒ فر ما تے ہیں اس معاملہ میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ حاکمؒ کی تصحیح کے انفراد کی صورت میں کیا حکم ہے ۔" علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں ۔"امام حاکمؒ صدوق تھے لیکن اُنھوں نے اپنی مستدرک میں بہت سی ساقط احادیث کی بھی تصحیح کی ہے ۔" اور اس میں امر شک نہیں کہ مستدرک میں ایسی بہت سی احادیث ہیں جو صحت کی شرط پر نہیں ہیں بلکہ اس میں احادیث موضوعہ بھی وارد ہیں الخ۔" اور علامہ تیمیہؒ فر ما تے ہیں :"حاکم ؒپر اس (زیرنظر ) حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث کی تصحیح کی بناء پر آئمہ حدیث نے سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسی حدیثوں کی بھی تصحیح کردیتے ہیں جو محدثین کے ہاں بالکل جھوٹی اور موضوع ہوتی ہیں ۔اسی لیے علمائے حدیث تنہاء حاکمؒ کی تصحیح پر کبھی اعتماد نہیں کرتے ۔یہ بجا ہے کہ حاکمؒ کی تصحیح کردہ بہت سی حدیثیں صحیح ہیں لیکن تصحیح کرنے والوں میں ان کا مرتبہ وہی ہے جو کسی ایسے ثقہ راوی کا ہو سکتا ہے جو روایت میں بہت غلطی کرتا ہے اگرچہ محفوظ روایات بھی اس کے پاس بہت ہیں اس فن میں حاکمؒ کی تصحیح سے کمزور کسی کی تصحیح نہیں برخلاف حاتم ابن حبانؒ البستیؒ کے کہ جن کی تصحیح حاکمؒ سے کہیں بلند ہے اسی طرح ترمذیؒ دارقطنیؒ ابن خزیمہؒ ابن مندہ ؒ وغیرہ مصحین حدیث ہیں کہ گوان کی کسی کسی رائےمیں اختلاف ہے مگر وہ حاکمؒ سے بہت زیادہ مہارت رکھتے ہیں ۔ علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ علامہ الجزائریؒ علامہ ابن تیمیہؒ اور علامہ ذہبیؒ کے علاوہ علامہ ہیثمیؒ علامہ عبد الرحمٰن معلمی الیمانیؒ علامہ زیلعیؒ اور علامہ محمد ناصر الدین الالبانی وغیرہ نے بھی اپنی مختلف تصانیف میں حاکم ؒ کی تصحیح پر علمائے حدیث کا عدم اعتماد اور اس معاملہ میں ان کے تساہل کا ذکر کیا ہے تفصیل کے لیے لسان المیزان لابن حجر ؒ التنکیل بمانی تائنیب الکوثری للشیخ عبد الرحمٰن معلمی الیمانی ؒ نصب الرایہ فی تخریج الہدایۃ للزیلعی ؒاور سلسلۃ الاحادیث الضعیفتہ والموضوعۃ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فر ما ئیں
بلاتحقیق امام حاکمؒ کی تقلید میں اس حدیث کی تصحیح کرنے والوں میں سب سے زیادہ مشہور نام علامہ سبکیؒ کا بیان کیا جا تا ہے ۔علامہ ابن الہادیؒ نے علامہ سبکیؒ کے تصحیح فرمانے پر سخت تنقید فر ما ئی ہے چنانچہ لکھتے ہیں :
"مجھے تعجب ہے کہ سبکی ؒ نے کس طرح حاکمؒ کی تقلید میں اس (زیرنظر )روایت کی تصحیح کی ہے حالانکہ یہ حدیث غیر صحیح اور سرے سے ثابت ہی نہیں ہے بلکہ حد درجہ ضعیف الاسناد ہے اور بعض آئمہ نے اس پر موضوع کا حکم بھی لگایا ہے حاکمؒ کی حدیث کی اسناد عبد الرحمٰن بن زید تک صحت کے ساتھ نہیں پہنچتیں بلکہ مفتعل ہیں ۔اگر عبد الرحمٰن بن زید تک اس کی اسناد کو صحیح مان لیا جا ئے تو بھی وہ ضعیف اور غیر متج بہ رہے گی کیونکہ خود عبد الرحمٰن اس کے طریق میں موجود ہے ۔حاکمؒ نے بلاشبہ عظیم خطاکی ہے اور ان کا یہ تناقض تناقض فاحش ہے کیونکہ اُنھوں نے خود عبد الرحمٰن کو اپنی کتاب "الضعفاء "میں ذکر کیا ہے سبکیؒ نے حاکمؒ کی اس بڑی خطاء اور تناقض فاحش کی تقلید کی اور اُن پر اعتماد کیا ہے چنانچہ خود فر ما تے ہیں ہم نے حاکم کی تصحیح پر اعتماد کیا ہے۔ علامہ سبکیؒ کے علاوہ اس حدیث کی تصحیح کرنے والوں میں دوسرا قابل ذکر نا م علامہ کوثری کا ہے علامہ سبکیؒ تو حاکم ؒ کی تصحیح پر اعتماد کر کے دھوکہ کھا گئے لیکن علامہ کوثری نے غیر جانبدار محقق کا رویہ اختیار نہ کرتے ہوئے بطلان کی تمام واضح علامات کے باوجود اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔ عبد الرحمٰن ابن زید کے ضعف کا خود انہیں بھی اعتراف ہے لیکن اس کے دفاع کی ناکام کوشش کرتے ہو ئے تحریر فر ما تے ہیں ۔
مگر وہ کذبکے ساتھ متہم نہیں بلکہ وہم کے ساتھ متہم ہے اور ایسے شخص کی بعض احادیث صاف ستھری ہو تی ہیں ۔علامہ کوثری کے اس قول پر تنقید کرتے ہوئے علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں :"عبد الرحمٰن بن زید میں جو وہم بتلایا گیا ہے تو وہ اسی باعث ہے ۔
کہ اس نے احادیث موضوعہ روایت کی ہیں جیسا کہ حاکمؒ اور بو نعیم ؒ سے منول ہے پس ایسے شخص کی کو ئی حدیث شیخ کوثری کے نزدیک بھی صاف ستھری نہیں ہو سکتی ۔اِلایہ کہ اس میں تعصب اور ہویٰ سے کا م لیا جا ئے علامہ کوثری ایک مقام پر فر ماتے ہیں کہ:
"کسی خبر پر باعتبار صناعۃ الحدیث وضع یا ضعف شدید کا حکم لگا نے کا مدار اس بات پر ہے کہ اس میں کذاب متہم بالکذب اور فاحش الخطاء رواۃ کے ساتھ انفراد پایا جا ئے ۔ اور بقول ناصر الدین الالبانی : " ززیر نظر حدیث کے راوی عبد الرحمٰن بن زید میں کم ازکم فاحش الخطاء ہو نے کی علت تو ضرور پا ئی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ جن جلیلُ القدر محققین نے اس حدیث کا بطلان کیا ہے وہ بلا شبہ حق بجانب ہیں اور ان شا ءاللہ عند اللہ ماُجور ہوں گے ان کبار آئمہ حدیث میں سے چند محققین کے اقوال مختصراً پیش خدمت ہیں :علامہ ذہبیؒ "تلخیصُ المستدرک "میں فر ماتے ہیں ۔(عربی)
"میں کہتا ہوں بلکہ یہ حدیث گھڑی ہو ئی ہے ۔ "میزان الاعتدال فی الرجال "میں بھی علامہ ذہبی ؒنے اس حدیث کو "باطل" قرار دیا ہے ۔ علامہ ابن حجرعسقلانی ؒ نے علامہ ذہبی ؒ سے اتفاق کرتے ہو ئے ان کے قول کی توقیر کی ہے ۔ علامہ ا بن کثیرؒ نے بیہقی کا قول ( اس میں عبد الرحمٰن بن زید کا تفرد ہے اور وہ خود ضعیف ہے) نقل کر کے اس کی تا ئید فر ما ئی ہے ۔ علامہ حافظ ابن تیمیہ ؒ فر ما تے ہیں ۔(عربی) "پس یہ وہ حدیث ہے جس پر آئمہ حدیث نے انکار کیا ہے ۔"علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فر ما تے ہیں :"یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو اصلاً موقوف اور اسرائیلیات میں سے ہیں ۔"عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرنے میں خطاء کی ہے ۔جس کی تا ئید ابو بکر الآجریؒ کی روایت سے بھی ہو تی ہے ۔ الخ ۔"علامہ حافظ ابن تیمیہ ؒ نے بھی اس روایت کو اسرائیلیات کے قبیل سے قرار دیا ہے چنانچہ فر ما تے ہیں :
"اس طرح کی حدیثوں پر شریعت کی بناء جائز نہیں اور باتفاق مسلمین ان سے دین میں قطعاًاستدلال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ اسرائیلیات وغیرہ کی قسم سے ہیں کہ جن کی حقیقت بغیر صحیح و ثابت حدیث کی شہادت کے معلوم نہیں کی جاسکتی ۔اس طرح کی حدیثیں اگر کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وَہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ بھی جو اہل کتاب سے دنیا کی پیدائش اور متقدمین کے قصے نقل کرتے ہیں روایت کرتے تو بھی باتفاق مسلمین شریعت میں ان سے استدلال جائز نہ ہو تا ۔پھر ایسی حالت میں ان کا کیا وزن ہو سکتا ہے جبکہ انہیں ایسے لو گ روایت کرتے ہیں جن کا مآخذنہ اہل کتاب ہیں نہ ثقات علمائے اسلام بلکہ ایسے اشخاص سے روایت کرتے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک مجروح اور ضعیف ہیں اور جن کی حدیث حجت نہیں ہو تی پھر خود راوی ایسے مضطرب ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حافظہ درست نہیں ہے ۔علاوہ ازیں یہ حدیثیں یا ان کے ہم معنی کو ئی حدیث بھی کسی ایسے عالم نے روایت نہیں کی جو مسلمانوں کے نزدیک ثقہ اور جس کی روایت قابل اعتماد ہے بلکہ اس کے راوی اسحٰق بن بشر جیسے لوگ ہیں جو پیدائش عالم کی کتابوں میں روایتیں کرتے پھرتے ہیں ۔اگر یہ چیز نبیوں سے ثابت ہو تی تو اہل کتا ب کے لیے شریعت ہوتی اور اس بنیا د پر احتجاج ہو تا کہ پہلے لوگوں کی شریعت ہمارے لیے بھی شریعت ہے یا نہیں ؟اس بارے میں اختلاف مشہور ہے لیکن آئمہ اور اکثر علماء کی رائے یہی ہے کہ وہ ہمارے لیے بھی شریعتہے بشرطیکہ خاص ہماری شریعت میں اس کے خلاف کو ئی حکم موجود نہ ہو۔لیکن یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں بات اگلوں کے لیے شریعت تھی؟ ظاہر ہے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث یاخود اہل کتاب سے متواتر خبر کا پا یا جا نا ضروری ہے نہ اس طرح کی بے بنیاد روایتیں کہ جن سے استدلال مسلمانوں کی شریعت میں کسی کے نزدیک بھی صحیح نہیں ۔" علامہ حافظ ابن تیمیہؒ اور علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حافظہ اللہ کے اس دعویٰ کی صداقت کے لیے حضرت عیسیٰ ؑکے ایک حواری برنا باس کی انجیل سے دو تائیدی اقتباسات ذیل میں پیش خدمت ہیں :
“ God hid himself, and the angel micheal.drove thern forth form.paradise.Where upon. Adam, thrning him round,saw written above the gate ,” there is only one God.” Where upon, weeping , he said: May it be pleasing to God.” O my son, that thou come quickly and draw us out of misery.
ترجمہ :
"پھر اللہ تعا لیٰ نے اپنے آپ کو چھپا لیا اور فرشتہ میکائیل نے آدمؑ وحَواکو جنت سے نکال باہر کیا۔ اس وقت حضرت آدم ؑ نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا تو جنت کے دروازہ پر (عربی) لکھا ہوا پا یا ۔تب آدم علیہ السلام نے کہا۔ شاید اللہ تعا لیٰ کو پسند ہو اے میرے بچہ !تم جلد آؤ اور ہمیں اس مصیبت سے باہر نکالو۔"
انجیل برنا باس کے ایک اور مقام پر مذکورہے :
“ A dam ,having sprung up upon this fut,saw in the air a writing that shown like the sun, which said:
“ There is only one God, and Muhammad is the messenger of God.”
ترجمہ:۔
"(جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا گیا تو) وہ اپنےپیروں پر اُچھل کر کھڑے ہو گئے اور اُنھوں نے ہوا میں ایک تحریر دیکھی جو سورج کی مانند چمک رہی تھی ۔وہ تحریر اس طرح تھی :
(عربی)
حدیث زیر مطالعہ پیش کی گئی مذکورہ بالا تمام بحثوں کا خلاصہ حافظ ابن تیمیہؒ کے جامع الفاظ میں اس طرح پیش خدمت ہے :
"تجھے یہ بات کا فی ہے کہ یہ حدیث معتمد علیہ کُتب احادیث صحاح بخاری و مسلم صحیح ابن خزیمہ و ابو حاتم وابن حبان وحاکم ومستخرج علی الصحیح لابیٰ عوانہ وابی نعیم ومستخرج البراقانی واسماعیلی میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی کتب سنن ابی داؤد و نسائی وابن ماجہ میں ہے اور نہ جوامع مثلاً جامع الترمذی وغیرہ میں ہے اور نہ ہی مسانید مثلاً مسند احمد وغیرہ میں ہے اور نہ ہی مصنفات مثلاً مؤطا امام مالک ومصنف عبد الرزاق و سعید بن منصور و ابن ابی شیبہ و وکیع و سلمہ میں ہے اور نہ ہی ان کتب تفاسیر میں ہے جن کی اسانید مقبول و مردود میں امتیاز کیا جا سکتا ہے ۔مثلاًتفسیر عبد الرزاق وعبد بن حمید واحمد بن حنبل واسحاق بن ابراہیم و عبد الرحمٰن بن ابراہیم ووحیم وابن ابی شیبہ و بقی بن مخلد و تفسیر ابن ابی حاتم وابن ابی داؤد محمد بن جریر الطبری وابی بکر بن المنذر وابن مردویہ ۔کئی ایک حفاظ نے حضرت آدم علیہ ا لسلام کا واقعہبیان کیا ہے مثلاً ابو القاسم ابن عساکر نے تاریخ کبیر میں پورا واقعہ درج کیا ہے اور لوگوںسے مروی تمام روایات جمع کر دی۔ہیں لیکن اس روایت کو وہ بھی نہیں لا ئے ہیں ۔ اس روایت یا اس کے مثل دوسری روایات کو وہ لوگ لا تے ہیں جو موضوعات کثیرہ اور اکاذیب عظیمہ کو بلا ئمیز جمع کر دیتے ہیں مثلاً مصنف کتاب وسیلُۃالمعترین للشیخ عمر موصلی یا اس کے مثل "تنقل الانوار"للبکری جس میں کذب موجود ہے اور سمجھدار آدمی اسے بخوبی جانتے ہیں اسی طرح قاضی عیاض ؒ بن موسیٰ الیحصبی جن کے علم و فضل اور دینداری کے باوجود علماء نے ان کی کتاب "الشفاء "میں ذکرکردہ بہت سی احادیث و تفاسیر کا انکار کیا ہے اور ان کو موضوعات ومناکیر میں سے قرار دیا ہے ثعلبیؒ اور واحدیؒ وغیرہ کی تفاسیرمیں فضائل و تفسیری مواد ہیں غریب اور موضوعچیزیں موجود ہیں لہٰذا کسی بات کو محض ان کی طرف منسوب کردینے سے وہ بات قابل اعتماد نہیں ہو جا تی ۔اسی طرح ابو القاسم القشیری ابو اللیث السمرقندی اور ابوعبد الرحمٰن السلمی کی تفاسیر پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے پھر یہ گمراہ وہم کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام ذوات سے قبل مخلوق ہوئی اور اس پر موضوع اور بناوٹی روایات سے استشہاد کرتے ہیں مثلاً اس حدیث سے جس میں ہے کہ عرش کے گرد نور تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا جبریلؑ وہ نور ہی تھا ۔ان میں سے بعض کا دعویٰ ہے کہ حضرت جبریلؑ کے نازل ہونے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن تھے ۔یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے بعد اور اس رُوح پھونکنے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی لکھ دیا تھا اور یہ بات صحیحین کی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عین مطابق ہے جس میں جنین کے پیدا ہونے اور درجہ بدرجہ حالات کی تبدیلی کابیان ہے اس کے مناسب ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور نفخروح کے درمیان اس کے احوال لکھے اور یہ عظیم حال بھی تحریر ہوا کہ اس کی اولاد میں ان کا سردار ہو گا ۔آدم ؑ کے توسل کے بارے میں بکری نے جو روایت ذکر کی ہے اس کی کو ئی اصل نہیں ہے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی بھی نقل نہیں کرتا ۔یہقابل اعتماد نہیں ہے نہ ہی کسی اور روایت کی تائید واستشہا د میں پیش کی جا سکتی ہے اس روایت کی تکذیب اس سے ہوتی ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
(عربی)
"حضرت آدم ؑ نے اپنے رب سے کلمات حاصل کئے پس اللہ تعا لیٰ نے اس پر رجوع کیا یعنی اس کی توبہ قبول کی کیونکہ وہ بیشک توبہ قبول کرنے والا اور رحم فر ما نے والا ہے پھر ہم نے کہا کہ نیچے چلے جاؤ سب یہاں سے ۔"اس سے معلوم ہوا کہ حضرت آدمؑ نے ان کلمات سے توبہ کی تھی جواُنھوں نے اپنے رب سے حاصل کئے تھے اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے :
(عربی)
"وہ پکار اُٹھے اے ہمارے رب ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہماری مغفرت فر ما ئی اور ہم پر رحم نہ فر ما یا تو ہم خسارہ میں پڑنے والوں میں سے ہو جا ئیں گے۔:
اللہ تعا لیٰ نے خبر دی ہے کہ ان کلمات کے بعد کو ھبوط کا حکم دیا گیا تھا معلوم ہوا کہ ھبوط کا حکم انہی کلمات کے بعد تھا جو اُنھوں نے رب تعا لیٰ سے حاصل کئے تھے اور وہ کلمات تھے (عربی) الخ۔یا انہیں کے ہم معنی دوسرے کلمات مفسرین کے طائفہ کثیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ جو کلمات اُنھوں نے رب تعا لیٰ سے حاصل کئے تھے وہ کلمات ان کے علاوہ کو ئی اور تھے تو ظاہر قرآن کے خلاف اس قائل کے پاس کو ئی دلیل نہیں ہے ۔ابن ابی الدنیا نے کتاب "التوبہ" میں ان کلمات کے بارے میں بہت سی چیزیں پیش کی ہیں جو کہ حضرت آدم ؑ کے قول کے گرد ہی گھومتی ہیں جو اللہ تعا لیٰ نے ذکر فر ما یا ہے نیز آدمؑ و حَواکے اس قول (عربی) الخ ۔میں اقرار جُرم اور طلب بخشش ہے آدمؑ سے کم تر اگر کو ئی ایسا اقرار جُرم کرے اور بخشش چاہے تو اللہ تعا لیٰ بخش دیتا ہے جیسا کہ صحیحین میں مذکورہ ہے:
(عربی)
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر ما یا کہ اگر تجھ سے کو ئی جرم ہو کگیا ہے تو اللہ تعا لیٰ سے استغفار کر اور اس کی طرف رجوع کر۔بندہ جب جرم کا اقرار کر کے تو بہ کرے تو اللہ تعا لیٰ اس کی تو بہ قبول فر ما تا ہے ۔"
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
(عربی)
"جو بُرا کا م کرتا ہے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ تعا لیٰ سے استغفار کرے تو اللہ تعا لیٰ کو بخشنے والا مہربان پائے گا ۔"
اسی طرح وہ آیت جو سورۃ آل عمران میں ہے :
(عربی)
"جو فحش کا م کرتے ہیں یا اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اللہ تعا لیٰ کے سوا کون گناہ معاف کر سکتا ہے اور جان بوجھ کر اپنے کاموں پر اصرار نہیں کرتے ۔"
جب تو بہ سے مغفرت حاصل ہو جاتی ہے تو مقصود اسی سے حاصل ہو گا ۔نہ کسی دوسرے ذریعہ سے صحیح حدیث میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :
(عربی)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا ۔اے عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام پہلے کی تمام چیزیں سا قط کردیتا ہے اور تو بہ پہلے کے تمام کام گرا دیتی ہے ۔"نیز اگر حجرت آدم ؑ نے ایسا کیا ہوتا تو اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کہتی بلکہ حضرت آدمؑ کی اولاد میں تمام انبیاؑء بھی ایسا ہی کہتے جبکہ آثار سنن کے عالم جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو اس کا حکم نہیں دیا ہے اور نہ کسی صحابی سے منقول ہے نہ ہی کسی نیک و متقی عالم نے ایسا کیا ہے معلوم ہوا یہ جھوٹے وضاعین کی اختراع ہے ۔جنہوں نے صحیح کے مقابلے میں اس سے زیادہ جھوٹ وضع کر لیا ہے مگر اللہ تبارک وتعا لیٰ نے حق و باطل کے درمیان نقد اور علماء نقل یعنی علماء جرح و تعدیل کے ذریعہ تفریق کرا دی ہے ۔" شیخ الالسلام علامہ حافظ ابن تیمیہ ؒ کی اس مفصل علمی اور لا جواب تحقیق کے ساتھ ہی ہم زیر نظر مضمون کو ختم کرتے ہیں ۔