ابن کثیرؒ کہتے ہیں ۔یہ آیت تو حید باری تعا لیٰ پر دلیل ہے کہ اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ۔صرف اُس کی عبادت لازم ہے مفسریننے اس آیت سے باری تعا لیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے جس طرح یہ آیت وجود باری تعا لیٰ پر دال ہے ۔اُسی طرح یہ آیت تو حید عبادت پر بھی بطریق اَولیٰ دلیل ہے کیونکہ جو آدمیان موجود ات سفلیہ اور عُلویہ اور لوگوں کی صورتوں اور رنگوں طبائع اور منافع کے اختلاف میں غور کرے گا تو اُسے پتہ چلے گا ان منافع کو کس عمدہ طریقے سے اس مقام اور منصب پر رکھا گیا ہے تو ضروری طور پر وہ ان سب کے خالق کی قدرت و حکمت علم و اتفاق اور عظمت و شان کو جان لے گا ۔

ایک گنوار سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے وجود پر کیا دلیل ہے اُس نے جواب دیا :

(عربی)

"بڑی تعجب کی بات  ہے مینگنی اُونٹ پر دلالت کرتی ہے قدم کا نشان مسافرکی نشاندہی کرتا ہے یہ بر جوں والا آسمان راستوں والی زمین اور یہ موجیں مارتے  ہو ئے سمندر کیا اللہ کی ہستی پر دلالت  نہیں کرتے ؟"

امام رازیؒ نے امام مالکؒ سے حکایت بیان کی ہے کہ خلیفہ ہارونالرشید نے اُن سے پوچھا تھا کہ اللہ کے وجود پر کیا دلیل ہے تو انھوں نے یہی جواب دیا کہ انسانوں کی زبانوں اُن کی آوازوں اور اُن کے رنگوں کا اختلاف بہت بڑی نشانی ہے ۔

امام ابو حنیفہؒ سے کسی زند یق نے پوچھا کہ اللہ کے وجود پر کیا دلیل ہے؟ انھوں نے فر ما یا مجھے ذرا مہلت دو ۔میں نے ایک خبر سنی ہے اُس کے فکر میں ہوں لوگوں نے بتا یا ہے کہ دریا میں ایک کشتی ہرطرح کا سامان تجارت لیے چلی جا رہی ہے کوئی اس کا نگہبان یا چلانے والا نہیں وہ خود ہی آتی جا تی چلتی پھرتی رہتی ہے بڑی بڑی موجوں کو پھاڑ کر جہاں چاہتی ہے چلی جا تی ہے کو ئی اُس کا کھیون ہار نہیں لوگوں نے کہا ایسی بات تو کو ئی عقلمند نہیں مانے گا ۔امام ابوحنیفہؒ نے فر ما یا ۔کمبختوبھلا یہ ساری موجود ات جس میں عالم علوی و سفلی بھی ہے اور مضبوط و محکم چیزیں  جو اس کا ئنات میں پا ئی جا تی ہیں یہ سب بغیر کسی صانع کے ہیں ؟سب لوگ حیران ہو کر اسلام لے آئے اسی طرح امام شافعیؒ سے کسی نے وجود باری تعا لیٰ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فر ما یا دیکھو یہ تو ت کے پتے ہیں ان کا ایک ہی مزہ ہے کیڑا ان کو کھا تا ہےتو ریشم بنتا  ہے شہد  کی مکھی کھا تی ہے تو شہد بنتا ہے گا ئے بکری کھاتی  ہے تو مینگنی اور گوبر ہو جا تا ہے ہرن کھاتا ہے تو مُشک  نکلتا ہے ۔حالانکہ یہ سب ایک ہی چیز ہے یہی سوال کسی نے امام احمدؒ سے بھی پوچھا ۔آپ نے فر ما یا یہاں ایک مضبوط قلعہ ہے اُوپر سے چکنا جس کے اندر نہ کوئی دروازہ ہے نہ کھڑکی باہر سے جیسے سفید چاندی اور اندر سے جیسے خالص سونا اچانک اس قلعے کی دیوار ٹوٹ گئی اس میں سے ایک جانور بہت خوبصورت شکل باریک آواز دیکھتا سنتا برآمد ہوا ۔یعنی انڈے سے مرغ کا بچہ پیدا ہونا کسی دوسرے آدمی نے کہا جوکوئی ان آسمانوں کی بلندی اور کشیدگی پر غور کرے گا چھوٹے بڑے تارے چلتے اور ٹھہرے ہو ئے دیکھے گا فلک کا دن رات چکر کاٹنا ایک خاص چال پر چلنا جان لے گا ۔نیز ان دریاؤں کو دیکھے گا کہ ہر طرف سے زمین کو گھیرے ہو ئے ہیں اور پہاڑ زمین پر اس طرح رکھے ہوئے دیکھے گا کہ زمین اپنی جگہ پر مزید رہے پھر انسانوں کے رنگ اور صورتوں کا اختلاف دیکھے گا جس طرح اللہ نے فر مایا :

(عربی)

"اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات میں اور بعض کا لے سیاہ ہیں انسانوں اور جانوروں اور چار پائیوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں اللہ سے تو اُس کے بندوں میں سے صرف  وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں اسی طرح اُن ندی نالوں پر غور کرے گا جو ایک طرف سے دوسری طرف کو بہتے ہیں طرح طرح کے جانوروں کو زمین پر پھیلے ہیں اس گھاس پھوس اور پھولوں کو جن کی شکل جن کا مزہ جن کی بُو اور جن کی رنگت باوجود ایک زمین اور ایک جیسے پانی کے مختلف سے دیکھے گا تو جان لے گا کہ یہ سب وجود باری تعا لیٰ پر اور اُس کی کار یگری کی حکمت کی دلیل ہیں اور یہ بغیر کسی صانع کے کیونکہ ممکن ہے ۔(عربی)

"اگر تم اس کتاب میں جوہم نے اپنے بندے (محمد عربؐی) پر نازل فر مائی  کچھ شک ہے تو اسی طرح کی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو تمھارے مدد گار ہیں اُن کوبھی بلالو۔اگر تم سچے ہو لیکن اگر ایسا نہ کر سکو اور ہر گز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرجاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔

توحید کے بیان کے بعد نبوت کا بیان شروع کیا ۔کافروں سے مخاطب ہو کر فر ما یا ۔اگر تم کو اس کتاب میں کچھ شک ہے اور تم اسے غیر اللہ کی طرف سے سمجھتے ہوتو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ اور جنھیں تم پوجتے اور معبود ٹھہراتے ہو ان سے مدد لو ۔اگر یہ کتاب اللہ کا کلام نہیں تو تم بھی یہ ایسی اکیلے یاسب مل کر بنالاؤ اگر نہیں بنالاؤ گے توپھرتمھارا اس کتاب سے انکار ناحق ہے قرآن پاک کے (اس مقابلےکی دعوت کئی مقامات پر آئی ہے ۔سورۃ "قصص"میں ہے ۔

(عربی)

"کہہ دیجئے کہ اگر تم ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو تاکہ میں بھی اس کی پیروی کروں "

سورۃ "اسرای"میں ہے :

(عربی)

(کہہ دیجئے کہ انسان اور جن اس بات پر مجمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنالائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے ۔اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدگار ہوں )

سورۃ ہود میں ہے ۔

(عربی)

"یہ کیا کہتے  ہیں کہاُس نے قرآن خود بنا لیا ہے ۔کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تم تم بھی ایسی دس سورتیں بنالاؤ ۔اور اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو ۔"

سورۃ یونس میں فر ما یا ۔

(عربی)

"اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اس کو بنالائے ۔ہاں ہاں یہ اللہ تعا لیٰ کا کلام ہے جو کتابیں ا ُن سے پہلے  کی ہیں اُن کی تصدیق کرتا ہےاور انہی کتابوں کی اس میں تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنالاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم لا سکو بلا بھی لو۔"

یہ ساری آیتیں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں پھر مدینہ طیبہ میں بھی چیلج کیا فر ما یا تم کو اگر شک ہے تو کوئی سورۃ قرآن کی سی بنا لاؤ اسی کو ابن جریر ؒ زمخشری رازیؒ وغیرہاور صحابہ و تابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین اور محققین کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے ۔حاصل کلام یہ ہے کہ یہ چیلنج سب قوموں اور نسلوں کو دیا گیا ہے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کفار کی دشمنی بہت زیادہ تھی دین اسلام سے اُن کابغض بھی معروف تھا لیکن عداوت کی اس شدت کے باوجود وہ قرآن مجید کے مقابلے سے عاجز آگئے ۔اللہ تعا لیٰ نے اسی لیے  فر ما دیا کہ تم ایسا نہ کر سکو گے یعنی نہ اب آئند ہ یہ ایک دوسرا معجزہ ہے کہ قطعیتکے ساتھ بتادیا کہ قیامت تک وہ قرآن کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔

ابن کثیرؒ نے فر ما یا کہ ایسا ہی ہوا ہے کہ اُس دور سے لے کر آج ہمارے زمانے تک کسی نے یہ مقابلہ نہیں کیا اور نہ ایسا کر سکیں گے اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق خالق کے کلام کا مقابلہ کیونکر کر سکتی ہے ؟

قرآن پر غور کرنے سے قرآن کے اعجاز کے بہت سے اسباب تلاش کئے جا سکتے ہیں اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :

(عربی)

"یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔اور اللہ حکیم و خبیر کی طرف سے تفصیلاً بیان کر دی گئی ہیں ۔"معلوم ہوا کہ اس کتاب کے الفاظ محمکم ہیں اور معنی مفصل یا بالعکس اس کے غرضیکہ کچھ بھی ہو الفاظ و معانی دونوں فصیح اور معجز ہیں کس کی جرات اور ہمت ہے کہ مقابلے کی تاب لاسکے ۔اللہ کا سارا کلام برحق اور باعث صدق و عدل اور ہدایت ہے جس میں کسی طرح کی لغو اور یہود ہ بات نہیں ہے ۔جس طرح اشعار عرب میں مبالغہ آمیزی اور حاشیہ آرائی ہوتی ہے ۔

(عربی)

"اور تمھارے پروردیگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں ۔"

شعر کے حق میں یہ کہا جا تا ہے کہ جو شعر جس قدر دروغ گو ئی کا حامل ہو گا اتنا ہی بہتر گردانا جا ئے گا ۔کسی طویل قصید ے کو دیکھو ۔اس کے زیادہ تر اشعار عورتوں کے وصف گھوڑے یا شراب کی یا کسی خاص شخص کی تعریف اُونٹنی یاجنگ پہ کسی درندہ کے خوف سے عبارت ہوں گے جن میں سوائے متکلم کی قادر الکلامی کے کچھ نہیں ہوتا۔ سارےقصیدے یا غزل میں صرف دوتین اشعار حاصل قصیدہ ہو تے ہیں جنھیں عرف عام میں" بیت الغزل"کہا جا تا ہے باقی سارا کلام ہذیان و طغیان  کے سوا کچھ نہیں ہوتا نجلاف قرآن مجید کے اول سے آخر تک فصاحت و بلاغت کا منبع ہے قرآن مجید کے معانی پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں کس قدر حلاوت ہے الفاظ اور فقرات کی تکرار میں عجب حلاوت ہے بار بار پڑھو ،سنو ، نہ کلام پرانا ہو تا ہے نہ علماء اس سے ملول ہوتے ہیں ۔نہ دل گھبراتا ہے نہ جی پر وحشت طاری ہوتی ہے وعید کی آیات کو غور سے پڑھو بڑے بڑے ٹھوس اور جامد پہاڑ اپنی جگہ سے ہ جا ئیں ۔پھر ان دلوں کا کیا ذکر جن کو کچھ فہم اور شعور حاصل نہیں وعدے کی آیات پر غور کروتو یوں معلوم ہو تا ہے کہ دل اور کان کھل جاتے ہیں آخرت کا شوق چُراتا ہے عرش رحمٰن کی ہمسا ئیگی کا ذوق دوبالا ہو تا ہے ترغیب دیتے ہو ئے فر ما یا :

(عربی)

"کوئی متنفس نہیں جا نتا کہ ان کے لیے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی ہے یہ ان اعمال کا صلہ ہے جودہ کرتے تھے۔"

دوسری جگہ فر ما یا :

(عربی)

"اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہو گا )اور اہل جنت !تم اس میں ہمیشہ رہو گئے ۔"

ایک جگہ ڈراتے ہو ئے فر ما یا :

(عربی)

"کیا تم اس لیے بے خوف ہو کہ اللہ تمھیں خشکی کی طرف لے جا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔"

"کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بیخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور اس وقت وہ حرکت کرنے لگے کیا تم اُس سے جو آسمان میں ہے نڈرہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑدے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے ۔"

ایک جگہ فر ما یا :

(عربی)

"تو ہم نے سب کو اُن  کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا ۔"

ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فر ما یا :

(عربی)

"بھلا دیکھوتو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں پھر اُن پر وہ عذاب آواقع ہو جس کا اُن سے وعدہ کیا جا تا ہے تو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے۔"

اس طرح کی فصاحت و بلاغت اور حلاوت کے انواع واقسام سے یہ قرآن بھرا ہوا ہے پھر ان آیات کو دیکھو جو احکام وادمرد نواہی میں آتے ہیں کہ کس طرح ہر وہ چیز جو حسن نافع طیب اور محبوب ہے اُس کا امر کیا ہے اور ہر اُس چیز جو قبیح ،رذیل اور ادنیٰ ہے اُس سے منع فر ما یا ہے: ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وغیرہم سلف نے کہا ہے جب تُو قرآن  میں پڑھے کہ اللہ (عربی) فر ما تا ہے تو ذرا اس پر کان رکھ کہ یا تو وہ کسی چیز کا حکم ہے یا کسی شر سے منع فرماتا ہے چنانچہ اسی جگہ ارشاد فر ما یا ہے:

(عربی)

"وہ انھیں نیک کا م کا حکم دیتے ہیں اور برے کا م سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو اُن کے لیے حلال کرتے ہیں ۔اور ناپاک چیزوں کو اُن پر حرام ٹھہراتے ہیں اور اُن پر سے بوجھاور طوق جو اُن کے سر پر اور گلے میں تھے ۔اتارتے ہیں ۔"

پھر جو آیتیں آخرت کی صفات احوال قیامت ،وصف،جنت و دوزغ  بیان نعیم وجحیم و ذکر لذت و عذاب الیم میں بیان ہوئی ہیں وہاپنی جگہ نیکی کی دعوت دیتی ہیں اور منکرات سے منع کرتی ہیں دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھتی ہیں صحیحین میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ ہر نبی کو کچھ نشانیاں (معجزے)دی گئی تھیں جن کے سبب سے لو گ ان پر ایمان لا ئے !مجھے یہی وحی (قرآن ) اللہ کی طرف سے دی گئی ہے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ لوگ میرے ہی مطبع اور فر مانبردار ہوں گے (مسلم شریف)

مطلب یہ ہوا کہ مجھے اللہ تعا لیٰ نے قرآن مجید کا یہ معجزہ عطاکیا ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اس کے بر عکس دوسری آسمانی کتابوں کے بارے میں اکثر علماء کا خیال ہے وہ معجزہ نہیں تھیں ۔

ابن کثیرؒنے فر ما یا کے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے معجزات اتنے زیادہ ہیں کہ اُن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ۔

وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے صدوق پر دلیل ہیں بعض متکلمین نے قرآن مجید کے اعجاز کا اقرار و اعتراف اس طرح کیا ہے کہاُن کا اعتراف اہلسنت اور معتزلہ دونوں پہ مشتمل ہے یعنی اگر یہ قرآن فی نفسہ معجزہ ہے اور کو ئی جن وانس اس جیسا کلام نہیں لا سکتا اور ان کی قوت اور طاقت میں قرآن کا مقابلہ ممکن ہی نہیں تو مطلب حاصل ہو گیا اور اگر اس کا مقابلہ ممکن ہے اور باوجود عداوت کی شدت کے مقابلہنہیں کر سکتے تو ان کا یہ عجز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے باوجود قدرت کے ان کو مقابلے کی تو فیق سے محروم رکھا۔ ابن کثیرؒ فر ما تے ہیں کہ یہ اقرار واعتراف اگرچہ پسند نہیں ہے اس لیے کہ قرآن فی نفسہ معجزہ ہے کسی جن وانس کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا مقابلہ کرسکے لیکن بطریق تنزل مجادلہ اور حق کی حمایت کے یہ اقرار واعتراف درست تسلیم کیا جا سکتاہے۔

امام رازیؒ نے بھی اسی طریق پر سورۃ العصر اور سورۃ الکوثر سے متعلق سوال و جواب کی صورت میں مثالیں دی ہیں ۔

ف:اس آیت میں اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو اپنا بندہ کہا یہ اضافت رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تشریف و تعظیم کے لیے ہے لفظ عبد"(عربی)سے مآخذ ہے "تعبد "تذلل"کو کہتے ہیں ۔

داغ غلامیت کرو پاسیہ خسرو بلند

میر ولایت شود بندہ کہ سلطان خرید

اہل تجربہ نے یہ بات کہی ہے کہ بندہ بننا تو مشکل ہے مگر خدا بننا بڑا آسان ہے کیونکہ اکثر لوگ غرور و تکبر میں گرفتار ہو جا تے ہیں سو یہ وصف اللہ کے علاوہ کسی کو زیبا نہیں متکبر دیا خدائی کا دعویدار ہوتا ہے جس طرح کی خاکسار منکسرالمزاج "عبدیت" کا مدعی ہو تا ہے ۔علامہ اقبال نے خوب کہا ہے :

متاع  بے بہاہے درودسوز آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی !

پس جو شخص رتبہ غلامی و بندگی میں جس قدر خود مبنی و خود پرستی اور فخر و غرور میں مبتلا ہوگا۔اتنا ہی اللہ کی رحمت سے دور اور مہجور رہے گا ۔

اقبال ؒ نے سچ کہا ہے ۔

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

ف:۔سورۃ قرآن مجید کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں چھوٹی سے چھوٹی سورۃ وہ ہے جس میں تین آیتیں ہوں ۔ایسی سورۃ بھی معجزہ ہے معتزلہ کا یہ کہنا کہ اعجاز کا تعلق سارے قرآن کے ساتھ ہے یہ درست نہیں بلکہ سورۃ الکوثر اور سورۃ العصر سب معجزہ ہیں ۔

ابن کثیرؒ نے فر ما یا کہ اللہ کا یہ فر ما ن (عربی)جو اس جگہ آیا ہے اور وہ جو سورۃ یونس میں آیا ہے (عربی)فر ما یا ہے سواس کا اطلاق قرآن مجید کی ہر سورت لمبی ہو یا مختصر پر ہوتا ہے چونکہ "سورۃ "کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے لہٰذا محققین کے نزدیک سیاق شرط میں اس طرح عام ہو تا ہے جس طرح سیاق نفی ہیں پس قرآن کا اعجاز تمام سورتوں میں چھوٹی ہو ں یا بڑی ایک برابر ہے میں نہیں جانتا کہ سلف و خلف میں سے کسی نے اس بات پر اختلاف کیا ہو۔

امام شافعیؒ نے فر ما یا ۔اگر لو گصرف "سورۃ العصر" میں غور کریں تو وہ اۃن کو کفایت کرسکتی ہے ۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اسلام لانے سے قبل مسیلمہ کذاب کے پاس گئے تھے اُس نے پوچھا آج کل مکہ میں تمھارے صاحب پر کیا نازل ہوا ۔اُنھوں نے کہا ایک مختصر سورت بہت بلیغ پھر"العصر "پڑھ کرسنائی تھوڑی دیر سوچ میں پڑ ارہا پھر سر اٹھا کر کہا مجھ پر بھی اسی طرح کی ایک سورت نازل ہوئی ہے حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے پوچھا کونسی ؟اُس نے کہا :"(عربی)

کہو اے عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ کیسی سورت ہے حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا واللہ تو خود جانتا ہے کہ میں تجھ کو کاذب جانتا ہوں ۔یعنی یہ زٹل قافیہ جو تُونے قرآن کے مقابلے میں ہانکا ہے ہر گزوحی نہیں ہے اور نہ تو رسول ہے ۔میں کہتا ہوں کہ پوری سورت و آیت کو بھی مختصرہو یا لمبی جا نے دو ہر جملہ تامہ قرآن پاک کا بجائے خود معجزہ ہے کسی بڑے ادیب فصیح بلیغ شاعرعربی دان کی کیا مجال ہے کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔اس جیسی ترکیب الفاظ کی بٹھا سکے ۔گو کو ئی احمق جاہل اس بات کو نہ مانے ۔اس لئے اللہ پاک نے نفی ماضی و حال اور مستقبل کی فر مائی ہے کہ اگر کسی کو کچھ قدرتہوتی تو ضرور اب تک کچھ نہ کچھ بنالاتا ۔مگر جب کو ئی نہ لا سکا تو رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معجزہ اور قرآن پاک کا اعجازبخوبی نمایاں ہو گیا حالانکہ عرب اہل فصاحت و بلاغت تھے قرآن پاک نھیں کے جنس کلام سے آیا ہے ان کو اس بات کی بڑی حرص اور طمع تھی کہ وہ نور قرآن کو بجھا دیں ۔امرنبوی کو باطل کردیں ۔مگر باوجود اس شدت حرص کے کسی ایک نے بھی کچھ مقابلہ نہ کیا بلکہ گرفتاری ذریت ۔اخذاموال اور قتل نفوس پر راضی ہو گئے ۔سوجب اُن کا عجز ظاہر ہو گیا تو اب صدق رسول میں کیا شک باقی رہا ۔پھر جب یہ بات صحیح ٹھہری تو اب سب کو ترک عناد واجب ہے ۔یہ خبر تو قرآن نے وقوع سے پہلے دی ہے اسی لیے ایام نبوت میں اور بعد اس کے اب تک کسی ایک کافر سے بھی مقابلہ نہ ہوا ۔(عربی)۔۔۔کہتے ہیں لکڑی اور "ایندھن "کو جیسے اللہ نے فر ما یا :

(عربی)

"اورجو گنہگار ہو ئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے ۔"اورفرمایا۔

(عربی)

"کافر واس دن تم اللہ اور جن کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو دوزخ کا  ایندھن ہونگے اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے ۔اگر یہ لوگ در حقیقت معبود ہو تے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور وہ سب اس میں ہمیشہ جلتے رہیں گے ۔"

"پتھر "سے مراد اس جگہ بت ہیں جن کو وہ کافر پوجتے تھے ۔یا گندھک کا پتھر مراد ہے ۔جس میں آگ جلد لگ جا تی ہے ۔یاہر قسم کے پتھر مراد ہیں کچھ بھی ہواس آگ کی توت ظاہر ہے کہ وہ نہ آدمی کو چھوڑے گی نہ پتھرسے منہ موڑے گی۔

انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے مرفوعاًکہا ہے اس آگ کو ہزار برس سلگا یا گیا تھا پھر وہ سرخ ہوئی پھر ہزار برس جلایا گیا تب سفید ہوئی ۔پھر ہزار برس سلگایا تب کہیں جاکر سیا ہ ہوئی ۔اب یہ کالی سیاہ ہے اس کی لپٹ  نہیں بجھتی ۔(ابن مردویہ۔البیہقی )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً یہ الفاظ مروی ہیں یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کی نسبت ایک گُنا ہے جہنم کی آگ اس سے انہترگُنا زیادہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے عرض کی اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   صلی اللہ علیہ وسلم یہ ایک جُزوہی کافی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا ۔جہنم کی آگ حدت میں اس سے انہتر گُنا زیادہ ہے (بخاری مسلم) (عربی)

اس دوزخ کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں ) اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دوزخ اپنے آلات واوزار کے ساتھ اس وقت بھی موجود ہے یہ بات نہیں ہے کہ قیامت کے دن پیدا کی جا ئے گی۔اس سلسلے میں بہت سی احادیث آئی ہیں (عربی)یا(عربی) یاجیسے حدیث ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہ ہم نے ایک آواز سنی پوچھا اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  !یہ کیا ہے ؟فر ما یا ایک پتھر ہے جس کو جہنم کے کنارے سے نیچے پھینکا گیا ہے ستر برس سے وہ نیچے جا رہا تھا اباُس کی تہ میں پہنچا ہے ۔(مسلم شریف)

اسی طرح جہنم کا ذکر نماز کسوف اور حدیث معراج میں بھی متواترآیاہے معتزلہ اس عقیدہ کے مخالف ہیں قاضی اندلسی بلوطی بھی معتزلہ کے ہمنوا ہیں یہ دراصل اُن کی صریح غلطی ہے یہ عقیدہ قرآن و سنت کے خلاف ہے کیونکہ کتابو سنت میں ماضی کا صیغہ آیا ہے اس سے ثابت ہو ا کہ جہنم آج بھی موجود اور تیار ہے ورنہ اللہ کی خبر میں کذب لازم آئے گا اس کی کیا ضرورت ہے کہ ماضی کو مستقبل کے معانی پر محمول ٹھہرایا جا ئے جو اللہ آگ کو اس روز پیدا کر سکتا ہے اگر اُس نے اسے پہلے پیدا کر رکھا ہے تو اس میں معتزلہ کا کیا نقصان ہے قوم فرعون کے حق میں فر ما یا ۔(عربی)

"یعنی آتش جہنم کہ صبح و شام اُس کے سامنے پیش کی جا تی ہے ۔"

یعنی قوم فرعون دریا ئے نیل میں ڈوبنے کے بعد ہر دن صبح و شام دوزخ پر پیش کی جا تی ہے اگر دوزخ نہیں ہے تو وہ کس آگ پر پیش کی جا تی ہیں ۔حدیث میں ہے کہ مرد ے پر صبح و شام اُس کی جگہ جنت و دوزخ پیش کی جا تی ہے ۔اُسے کہہ دیا جا تا ہے کہ یہ تیری جگہ ہے جبکہ تو قبر سے دوبارہ زندہ ہو گا ۔ سوکسی  چیز کا پیش کرنا اۃس کے وجود کے بغیر ناممکن ہے ۔

(عربی)

"اور جو لو گ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خوشخبری سُنا دیجئے کہ اُن کے لیے نعمت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جب اُنھیں اُن میں سےکسی قسم کا پھل کھا نے کو دیا جا ئے گا ۔تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور اُن کو ایک دوسرے کے ہم شکل پھل دئیے جا ئیں گے ۔اور وہاں اُن کے لیے پاک بیویاں ہو ں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔"

اللہ تعا لیٰ نے جب کا فروں کا انجام بتا دیا ان کے عذاب کا حال جتلادیا تو اب مومنین کا انجام خیر ارشاد فر ما یا ۔اسی لیے قرآن مجید کا نام "مثانی "رکھا ہے ایمان کے ذکر کے بعد کفر کا ذکر آتا ہے اشقیاء کا حال بیان کرنے کے بعد سُعداء کا حال آتا ہے ترغیب وترہیب وعدہ وعید کے جمع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ مؤمنین کو اطاعت الٰہی میں ایک طرح کا سرور حاصل ہو تا ہے ۔کا فروں کی نافر ما نی کا حوصلہ پست ہو تا ہے ۔

ایمان اور عمل صالح :

عمل صالح کی قید سے معلوم ہوا کہ جنت تب ملتی ہے ایمان کے ہمراہ اعمال بھی اچھے ہوں یہ بات نہیں ہے کہ صرف ایمان جنت کا باعث بن جا ئے اہل علم نے کہا ہے عمل صالح وہ ہے جس میں چار باتیں ہوں علم ،نیت،صبر،اخلاص،یعنی عمل ریا سے پاک ہو جنت کے درختوں اور کھڑکیوں کے نیچے ندیاں جا ری ہوں گی حدیث میں آیا ہے یہ نہریں گہرائی کے بغیر ہو ں گی ۔برابر زمین کے اوپر بہہ رہی ہوں گی دنیا کی طرح نشیب میں نہیں ہو ں گی "کوثر "کے بارے میں آیاہے کہ اس کے دونوں کناروں پر خالی موتیوں کے قبے ہوں گے سواس میں کچھ تضاد نہیں ہے اس لیے کہ "کوثر "کی مٹی خالص مشک کی ہو گی اُس کے سنگریزے موتیوں اور جواہروں پر مشتمل ہوں گے اے اللہ ہم تجھ سے تیرا فضل مانگتے ہیں تو رحمت فر ما نے والا ہے ۔حدیث ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاً آیا ہے کہ جنت کی نہریں ٹیلوں کے نیچے سے پھوٹ کر آتی ہیں یہ ٹیلے مشک کے پہاڑوں کے نیچے ہیں ۔(ابن حاتم)

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا کہ جنت کی کو ئی چیز دنیاکی کسی چیز سے مشابہ نہیں ہو گی لیکن صرف نام میں ابن زید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا فقط چیزوں کے نام پہچانیں گے جیسے دنیا میں سیب انار وغیرہ لیکن اس کا ذائقہ بالکل جدا ہو گا بیویاں ہر قسم کی نجاست وغیرہ سے پاک و صاف ہوں گی مجاہد ؒنے فر ما یا یعنی حیض بول براز آب دہن کہنی نفاس وغیرہ نہیں ہو گا ۔قتادہؒ نے فر ما یا ایزاء و گناہ سے پاک ہوں گی نہ حیض نہ کلف جابر بن عبد اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مرفوعاً کہتے ہیں کہ اہل جنت کھائیں گے پئیں گے مگر رفع حاجت وغیرہ نہیں ہو گی نہ تھوک آئے گا ان کو حمدو تسبیح کا اس طرح الہام ہو گا جس طرح سانس لینے کا الہام ہو تا ہے اُن کا پسینہ مشک کی طرح خوشبو دار ہو گا کسی نے کہا بیویاں دنیا کی عورتیں ہی ہوں گی مگر انھیں ہر طرح کی غلاظت سے پاک کر دیا جا ئے گا بعض نے کہا ۔اخلاق بد سے سے پاک ہو ں گی ۔

جنت:

"جنت"گلستان بوستاں کو کہتے ہیں جس کو درخت ،پتے، اور پھول ڈھانکے رکھتے ہیں کسی نے کہا "جنت" کھجور کا باغ ہو تا ہے ۔"فردوس"انگور کا باغ ہو تا ہے یہاں جنت نام ہے ثوابکے گھر کا ۔"خلود "کہتے ہیں ہمیشہ باقی رہنے کو جس کی انتہاء نہ ہو مطلب یہ ہے کہ نہ جنت سے باہر نکالے جا ئیں گے ۔نہ موت آئے گی بلکہ اپنے حال پر ہمیشہ نازو نعمت میں بلا انقطاع رہیں گے ۔واللہ الحمد۔

ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جا ئیں گے تو ایک منادی پکار کر کہے گا ۔اے دوزخ اور جنت والو!موت نہیں ہے ہر کو ئی جس حال میں ہے اسی میں ہمیشہ رہے گا ۔ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے الفاظ یہ ہیں کہ اگر جہنم والوں سے یہ کہا جا ئے کہ تم دنیا میں سنگریزوں کی تعداد کے برابر دوزخ رہوگے تو وہ خوش ہو جا ئیں گے اور اگر اہل جنت سے کہا جا ئے کہ تم بھی دنیا میں سنگریزوں کی تعداد کے مطابق جنت میں رہو گے تو وہ غمگین ہو ں گے لیکن اب سب کے لیے ابد مقرر ہے ۔(طبرانی مردویہ ۔ابو نعیم )

اُسامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث میں مرفوعاًآیا ہے ۔ہے کو ئی کمر باندھنے والا جنت کے واسطے ؟ جنت میں کو ئی خطرہ نہیں قسم ہے رب کعبہ کی جنت ایک چکمتا نور ہے ایک لہلہاتا ہوا پھول ہے ایک شاندار محل ہے ایک بہتی ہو ئی نہر ہے ایک پکا ہوا پھل ہے ایک حسین  وجمیل دوشیزہ ہے بہت سے لباس ہیں ہمیشہ سلامتی کے گھر میں قیام کرنا ہے ایک پھل ہے سر سبز و شاداب ۔

(ابن ماجہ ۔لبزار ۔ابن حبان ۔البیہقی )

جنت اہل جنت اور ازواج مطہرات رضوان اللہ عنھما اجمعین کے ضمن میں بہت سی احادیث وارد ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں ۔یہ احادیث صحاح ستہ میں ہیں ۔جنت کی تعریف میں "حادی لارواح "اور " مشیرساکن انعرام" سے بہتر کتاب اسلام میں تا لیف و تلخیص نہیں ہو ئی ۔ابن کثیرؒ نے فر ما یا کہ جنت میں ہمیشہ رہنے کی خبر سعادت عظمیٰ ہے کہ اس مقام میں موت وانقطاع سے بالکل امن میں ہوں گے جس کے لیے نہ آخر ہے نہ انقضاء بلکہ نعمت سرمدی ابدی علی الدوام ہو گی اللہ تعا لیٰ ہم کو نصیب کرے ۔آمین۔

(عربی)

"اللہ اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاًمکھی مکڑی وغیرہ )کی مثال بیان فر ما ئے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ اُن کے پروردیگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافرہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی مراد ہی کیا ہے !

اس سے (اللہ) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو صرف نافرمانوں کو۔"

شان نزول:

قرآن مجید میں کہیں مکڑی کی مثال دی کہیں مکھی کی ۔اس پر کا فر اعتراض کرتے تھے کہ اللہ کی یہ شان نہیں کہ ان چیزوں کا ذکر کرے اگر یہ اللہ کا کلام ہو تا تو ایسی حقیر چیزوں کا ذکر نہ ہو تا اس پر اللہ تعا لیٰ نے دو آیتیں نازل کیں ربیع بن انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا ۔یہ مثال اللہ نے دنیا کے لیے بھی بیان کی ہے کہ جس طرح مچھر بھوکا رہتا ہے جیتا ہے ۔جب کھا تن جا تا ہے تو مرجا تا ہے اسی طرح یہ قوم جن کے لیے یہ کہاوت بیان کی گئی ہے اس کا عالم بھی یہ ہے کہ جب پیٹ بھر کر دنیا حاصل کر لیتے ہیں ۔تو اللہ اُن کو پکڑ لیتا ہے پھر آیت پڑھی :

(عربی)

"پھر جب اُنھوں نے اس نصیحت کو جو اُنھیں کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیتے ۔"

آیت کی شان نزول میں یہ اکتلاف ہے ۔ابن جریر ؒ نے اسی کو اختیار کیا ہے اس لیے کہ سورت سے تعلق زیادہ بنتا ہے حدیث میں ہے کہ دنیا کی قدر ومنزلت اگر مچھر کے پَر سے زیادہ ہو تی تو کا فر کو اللہ پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا معلوم ہوا کہ دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پَر سے زیادہ حقیر و بے قدر ہے یہ معنی اس بناء پر کیا گیا ہے "فوق" سے مراد "ذلت وحقارت "میں فوقیت مراد ہے اکثر محققین کا یہ قول ہے بعض نے کہا " فوق" سے مراد اکبریت ہے کہ کو ئی چیز مچھر سے زیادہ حقیر و صغیر نہیں ہے اس کو ابن جریرؒ نے اختیار کیا ہے دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی حدیث ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا کہ کسی مسلمان کو کو ئی کانٹا یا اُس سے زیادہ کچھ نہیں لگتا مگر اُس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جا تا ہے اس کی ایک خطا مٹا دی جا تی ہے سواللہ تعا لیٰ نے خبر دی ہے کہ مثال دینے میں کو ئی چیز صغیر نہیں سمجھی جا تی ۔اگر چہ حقارت و صغر میں مچھر کے برابر ہی کیو ں نہ ہو ۔