آج کل نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جو چند  مسائل اہمیت سے ملک و ملت کو در پیش ہیں اُن کے بارہ گذشتہ شمارہ میں ہم اجمالی تبصرہ کر چکے ہیں ۔آج کی صحبت  میں ہم سپر یم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے 5/جولائی۔1989ء،کے ایک فیصلہ کی روشنی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی پچاس سے کچھ اُوپر دفعات کے کالعدم قرار پانےسے بظاہر جو قانونی خلاء باور کرا یا جا رہا ہے اس پر اپنی گذارشات پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ قبل ازیں یہی خلاء حق شفع کے قانون مجریہ 1913،کی کئی دفعات کو عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بنچ کی طرف سے غیر اسلامی قرار دینے سے بھی پیدا ہوا تھا جو 31/جولائی 1986ءتا 29/مارچ 1990ءتقریباً3سال آتھ ماہ قائم رہا ۔حتیٰ کہ حکومت پنجاب نے نیا حق شفع کا قانون نافذ کر دیا۔ جسے پھر دوبارہ احکا م اسلامی کے خلاف ہو نے کی بناء پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے ۔

اندریں حالات یہ سوال اُبھراکر کہ تقریباً ساڑھے تین سال جب حق شفع 1913ءکا متبادل قانون موجود نہیں تھا تو جو مقدمات شفع دائر ہو ئے اُن کا کس قانون سے فیصلہ کیا جا ئے گا ؟ اگرچہ وفاقی شرعی عدالت کے زیر غور قانون شفع مجریہ 1990ء سے قبل زیر سماعت مقدمات کی ایک بڑی تعداد ملکی عدالتوں میں دائرہے ۔تاہم قانون شفع کا زیادہ تر تعلق دیہی زند گی کے ایک مخصوص حصہ سے ہے ۔جبکہ تعزیرات پاکستان کی کا لعدم ہو نے والی دفعات کا تعلق عام مارکٹا ئی سے لے کر قتل تک کے شدید جرائم سے ہے جو معاشرتی بد حالی اور معاشی ابتری کے سبب پورے ملک میں روز افزوں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے اس بارے میں 18/فروری 1990ءکو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دی اور 23/مارچ 1990ء  کی جو آخری تاریخ اصلاح قانون کے لیے مقرر تھی اُس میں  مزید مہلت بھی مانگی جسے سپر یم کو ر ٹ نے پہلے 14/مارچ 1990ء کو مسترد کر دیا لیکن بعد ازاں مرکزی حکومت کو 30/مئی 1990ء تک مہلت بھی دے دی ۔نظر ثانی کی درخواست اگرچہ میعادگزرنے کے بعد دائر کی گئی ہے تا ہم مرکزی حکومت نے 30 /مئی 1990ء کو نظر یہ ضرورت کے تحت سہ بارہ مزید لمبی مہلت طلب کی ہے لہذا اس سنجیدہ مسئلہ میں ماہرین قانون کی معاونت بھی لی گئی ۔

بہر صورت سپر یم کورٹ کی طرف سے پہلے 6جون/1990ء تک فیصلہ محفوظ رکھ کر پھر تاحکم ثانی غیر محدود تو سیع دے کر اسے التواء میں رکھا تو جا رہا ہے لیکن کا بینہ کی طرف سے سب کمیٹی کی تشکیل اور بیرونی ممالک کی رپورٹوں کے حوالہ سے مرکزی حکومت کے رویہ کی نشاندہی بھی ہو رہی ہے لہٰذا مجوزہ قانونی خلاء کا مسئلہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے لیے امتحان بن گیا ہے جس کے جواب میں یہ نکتہ احکام اسلامی کے معیار قانون ہو نے کے اعتبار سے بڑا اہم ہے کہ کیا موجود ہ قانونی خلاء میں  دستور ملکی  کی رُوسے براہ راست شریعت محمدیؐ سے استفادے کی کو ئی صورت نکل سکتی ہے ؟اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر کیا ہمارے جج حضرات اور وکلاء اس اہم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو نے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں ؟ فی الوقت ہم دستور کے مروجہ عملی پہلو اور جج و وکلا ء حضرات کی اہلیت سے قطع نظر مذکورہ بالا اعلیٰ عدالتوں کی ذمہ داری اور بصیرت افروز فیصلہ کے اسلئے منتظر ہیں کہ اس کے نہ صرف قانون ملکی پر گہرے اثرات مرتب ہو ں گے ۔ بلکہ یہ فیصلہ شاید پاکستا ن کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو۔

ہم اپنے تبصرہ کی تمہید میں ہی یہ بات واضح کئے دیتے ہیں کہ چونکہ ہمارے قانون دانوں کی تر بیت اور ہمارا قانونی مزاج ایک خاص انداز پر دفعہ دار قانون کی لفظ بہ لفظ پیروی میں ڈھلا ہوا ہے ۔لہٰذا ہم اس طرح کی دفعہ دار  تدوین  قانون سے اس قدر مایوس ہو چکے ہیں  کہ اس کے علاوہ کسی کا میاب تجربہ سے بھی آشناہونے کو تیار نہیں ۔حالانکہ یہ انداز ہمارے لیے افرنگی سامراج کی غلامی کے ورثہ کے طور پر مقبول ہے ورنہ خود برطانیہ اپنے ہاں رسم رواج (عرف عام ) کو بنیادی دستور کی حیثیت دیتا ہے اور اس کی تدوین بھی ہوتی ہے تو عدالتی تشریحات اور تعینات کے بعد گویا ہمارے لیے غلامی کا طریقہ الفاظ و حروف کی پابندی اور اُن کے لیے آزادمنش روایات ۔

بہر حال ہماری حالیہ گفتگو دو زاویوں سے ہو گی ۔ان شاء اللہ !

1۔پاکستان کے دستور 1973ءکی رُوسے ۔

2۔قانون اور شریعت کے تقابلی تصوررات سے۔

(ا)چونکہ فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ (شریعت بنچ ) کے اختیارات  کا منبع دستور پاکستان ہے ۔ اس لیے ہماری پہلی گفتگو اسی کی روشنی میں ہو گی ۔زیربحث دفعات (فوجداری قانون)کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیارات مذکورہ عدالت کو دستور کے باب 3،ا۔کی دفعہ d. 203کے تحت حاصل ہے جو یوں ہے ۔

قابل  توجہ امر یہ ہے کہ کو ئی قانون اگر احکام اسلام (Injunctions of islam)کے منافی ہو نے کی بناء پر کالعدم ہو جا تا ہے تو حکومت کو عدالت کی مقررہ مدت کے اندر نئی قانون سازی کرنا پڑتی ہے اور اس قانون سازی کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ وہ احکام اسلامی کے مطابق ہو ورنہ  قانون بھی اسی طرح ختم کر دیا جا ئے گا جس طرح پہلا قانون ختم ہو گیا ۔یہیں سے دستور میں احکام اسلام کی قانون پر مستقل بالا دستی کا تصور حاصل ہو تا ہے ۔جسے دستور میں مزید صراحت  سے دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل دستوری۔(لفظ مٹا ہوا ہے)بھی ملاحظہ فرمائیں۔

1۔دستور پاکستان کے باب (1)کی دفعہ (2)یوں ہے
اس دفعہ سے پاکستان کے اسلامی نام کے بعددستور کی (لفظ مٹا ہوا ہے)تفصیل  میں ہی اسلام سر کاری مذہب قرار پایا جو گویا بنیاد ہے دستور (لفظ مٹا ہو اہے)ان ساری دفعات کے اسلام کے مطابق بننے کی جن میں مذکورہ بالا d۔203بھی شامل ہے۔

2۔اسی دفعہ 2کی تکمیل دستور میں دفعہ (a۔2)سے یوں کی گئی ہے کہ قرار داد مقاصد کو آئین کا اصلی مؤثر حصہ دیا گیا ہے ۔(لفظ مٹا ہوا ہے)قرار داد مقاصد کا ابتدائی حصہ یوں ہے ۔

دستور کی (2۔اکے ضمیمہ میں قرار داد مقاصد کے ابتدائی حصہ میں ہی درج ذیل باتیں بالخصوص زیر توجہ ہیں ۔

(1)حاکمیت صرف اللہ تعا لیٰ کے لیے ہے جو قرآن مجید کی آیت (عربی)کا مفہوم ہے

(2)مملکت پاکستان کو اختیارات حقیقی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ہیں۔

 (3)مملکت کو اختیارحکومت یادستور و قانون سازی کلی نہیں بلکہ مقررہ حدود سے پابند ہے ۔

(4)اختیارات کا استعمال مقدس امانت کے طور پر ہو نا چاہیے جس میں حدود سے تجاوز ہو اور نہ امانت میں خیانت کی جا ئے ۔

(5)دستور کی دفعہ (2۔اکی روسے قرارداد مقاصد کے الفاظ بھی ملا حظہ ہوں۔

مذکورہ عبارت دستور سے یہ پالیسی اصولاً طے پاگئی  کہ دستور پاکستا ن اس کا پابند ہے کہ وہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زند گیاں اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق گزارنے کا سامان مہیا کرے ۔

یہ دستوری دفعات جہاں حکومت کو پابند بناتی ہیں کہ وہ اپنی جملہ کا ر گزاری اسلامی احکامات کے تابع رکھے ۔وہاں فرد و معاشرہ کی کار گردگی کو بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق انجام دینے اور دلانے کو لا زم کرتی ہیں جس کے خلا ف اگر کو ئی قانون رکاوٹ بنتا ہو تو اُسے درست کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تو شہری کا بنیادی حق بھی واضح رہے کہ دستور کی دفعہ 8کی رُوسے بنیادی حقوق سے متصادم کو ئی بھی قانون کا لعدم قرار پاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرار دادمقاصد کے مذکورہ بالا فقرہ

(ج)میں درج الفاظ بنیادی حقوق کی دفعہ 8کی روشنی میں دیکھیں تو مسلمانوں کا یہ انفرادی اور اجتماعی حق بھی بنتا ہے کہ جس طرح وہ قرآن و سنت میں مرتب اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہوں ۔یعنی وہ ان کا بنیادی حق ہے اسی طرح حکومت و ریاست کا فرض ہے کہ وہ اُن کے لیے جملہ انتظامی اور عدالتی فیصلے شریعت کے مطابق کریں کیونکہ جو ریاستکا فرض ہے وہ مسلمانوں کا حق ہے اور یہی بنیادی  حق باقی سارے قوانین پر بالادستی بھی رکھتا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ صدر وزیر اعظم  گورنر ،وزراء سمیت جملہ اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے علاوہ عدلیہ فوج وغیرہ کے سر برا ہان کے حلف نامے جو دستورکے شیڈول 3میں درج ہیں ملاحظہ کریں تو حکومت کے تینوں شعبوں انتظامیہ مقننہ اور عدلیہ کے ارکان کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قیام پاکستانکی اساس (اسلامی نظریہ) کو برقرار رکھنے کی بھر پور جدو جہد کریں ۔گو یا ان دستوری تصریحات سے یہ عیاں ہو گیا کہ قانونی  طور پر نہ صرف مسلمانوں کے لیے احکام اسلام کی بالا تر حیثیت ہے بلکہ پاکستا ن کے ہر شہری بشمول غیر مسلم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نظر یہ پاکستان کا تحفظ کرے جو دستور پاکستان کی رُوسے "اسلام " ہی ہے ۔حاصل یہ ہے کہ موجودہ دستور کی رُوسے بھی شریعت کو بنیادی حیثیت اور قانونی بالادستی ثابت ہے۔

(2)قانون اور شریعت کے نقابلی تصورات سے:

جب شرعی عدالت کے اختیار زیر دفعہ d۔203اور دستور میں دیگر اسلامی دفعات سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ احکام اسلامی کو دیگر قوانین پر بالادستی حاصل ہے تو اب ہم اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ قوانین کے کلعدم قرار پانے سے جو بظاہر خلاء نظر آتا ہے اس کی موجود گی میں حقوق کا مسئلہ ہو یا جرائم کی سزا تو اُن کا فیصلہ کس کے تحت کیا جا ئے گا ؟اس سوال کا جواب ہم پہلے قانون کے عام تصور سے دینا چاہتے ہیں کہ قانون ملکی میں کو ئی خلاء رہ جا ئے یا بعد میں پیدا ہو تو اس سلسلے میں اعلیٰ عدالتیں کچھ اصولی مسلماتسے کمی کو پورا کرتی ہیں چونکہ سیکولر قانون میں خدا کا ذکر نہیں کیا جا تا ۔لہٰذا قدرتی انصاف عالمگیر سچائیاں اور معاشرتی روایات وغیرہ ۔کا ذکر کیا جا تا ہے کیونکہ مذکورہ بنیادی تصورات قانون کی اصل روح اور قوت شمار ہوتے ہیں اس کے بالمقابل پاکستان میں حاکمیت اللہ کی تسلیم ہے لہٰذا وحی الٰہیجو کتاب و سنت ہیں کی حیثیت اسی طرح اصل اور بنیادی قانون کی ہو گی گو یا مزعومہ قانونی خلاء کا جواب یہ ملا کہ اسے کتاب و سنت (شریعت ) ہی پُر کرے گی ۔جسے بالا ترین قانون (supremelaw)کہہ سکتے ہیں اس بات کو ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھیے کہ جب اللہ تعا لیٰ (sovereign)ہیں اور محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  اس کے آخری رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  جیسا کہ حلف ناموں اور دستوری ترمیم 1974ءمیں اسے مزید زور دار بنایا گیا ۔اسی لیے دستور کی دفعہ 227میں ہر قانون کے لیے قرآن و سنت سے ماخوذ اسلامی احکام کی مطابقت ضروری قراردی گئی ہے تو ایک نکتہ سامنے یہ آتا ہے کہ ایسی شریعت  کا قانوناًوجود یا نفاذ موجود ہے جس کی مطابقت لا زمی  ہے چنانچہ اس کی  تشریح یوں کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے جو شریعت نافذ کی ہے وہ عبادات و معاملات بشمول حکومت وسیاست ہر طرح مکمل ہے اور جس کا اعلان (eniorecment)محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  نے 23سال میں مکمل طور پر کردیا ہے اور آپ کے خاتم النبین ہونے کے سبب کو ئی شخص شریعت کی کسی جُزوی کو منسوخ کر سکتا ہے اور نہ شریعت پر اضافہ کرسکتا ہے تو ایسی شریعتکی موجودگی میں اس کے منافی قانون کی کو ئی حیثیت نہیں ہو گی ۔اب موضوعہ قوانینکے جواز اور فوائد و نقصان سے قطع نظر یہ بات تو طے ہے کہ شریعت نافذ العمل موجود ہے ۔اگر وہ نافذ نہ ہوتی تو عبادات میں نماز ،روزہ ،خاندانی معاملات میں نکاح ،طلاق رصیت وغیرہاور معیشت  وسیا ست میں حرام و حلال کا کو ئی سوال ہی پیدا نہ ہو تا کہ نفاذ قانون کے بغیر قانون کی پابندی کرانے کا کوئی معنی ہی نہیں ۔لہٰذا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قانون موضوعہ کی موجودگی میں بھی شریعت کا نفاذ فی الواقع ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ جب وضعی قانون شریعت سے ٹکرائے گا تو اس وقت اسکی اصلاح ضروری ہو گی یہیں سے یہ نتیجہ نکلا کہ اگر شریعت کے منافی قانون کی عملاً ا صلاح نہیں ہو تی تو شریعت بطور قانون کے تو موجود ہے لہٰذا فیصلے اسی کے ساتھ کئے جائیں گے ۔جہاں تک وفاقی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے مذکورہ بالا فیصلے کی وجہ سے قانونی خلاء کا شور و غوفا ہے ۔وہ دیگر کئی اعتبار سے بھی محل نظر ہے۔

(ا)سپریم کورٹ نے 5/جولائی 1989ءکے فیصلے میں قوانین کی اصلاح کےلیے آخری تاریخ 23/مارچ 1990ء مقرر کی تھی جبکہ وفاق کو شرعی عدالت کے کئی سال قبل تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی زیر بحث دفعات کو اسلام کے منافی قرار دینے کے فیصلہ سے ہی اصلاح قوانین کے لیے متنبہ ہوجانا چاہئے تھا ۔لہٰذا سابقہ حکومت نے اس سلسلے میں قصاص و دیت کا ایک مسودہ قانون بھی تیار کرایا تھا جس سے موجود ہ حکومت کو بوجوہ اتفاق نہیں تو اس کی اصلاح 23/مارچ 1990ء تک ممکن تھی لیکن وفاقی حکومت نظریہ ضرورت کے سہارے مہلت پر مہلت تو مانگتی ہے مگر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کوتیار نہیں حالانکہ ضرورت کی رعایت صرف اسے مل سکتی ہے جو اپنی ذمہ داریسے عہد برآ ہونے کے لیے مخلصانہ کوشش کرے ورنہ کوتاہی کرنے والا نتیجہ کا خود ذمہ دار ہو تا ہے ۔

(ب)دستور کی رُوسے کسی قانون کے اسلام کے منافی قرار دینے کے ساتھ عدالت کو صرف اتنا اختیار ہے کہ وہ ایک متعین تاریخ اصلاح قانون کے لیے دے جو مذکورہ قضیہ میں 23/مارچ 1990ءمقرر تھی اس کے بعد عدالت کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ مزید مہلت دے سکے۔

(ج)شرعی عدالت کے طریق کار سے جب کوئی قانون اسلام کے منافی قرار پاتا ہے تو مقرر ہ تاریخ گزرنے پر وہ کالعدم ہو جا تا ہے ۔گویا تعزیرات پاکستان میں قصاص و دیت کے شرعی احکامات جو اگرچہ شریعت کی روسے پہلے بھی نافذ تھے جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا دستور پاکستا ن کے تحت بھی مقررہتاریخ کو وہ بحال ہو گئے ۔چنانچہ شریعت کی تعلیمات میں مقتول یا مجروح فریق کو معافی یا خون بہا(دیت)کا اختیار حاصل ہے۔لہٰذا مقررہ تاریخ کے التواء کے سبب اس اختیار کی مزید معطلی کی صورت میں جوملزم پھانسی یا دیگرسزائیں پائیں گی وہ کس کی گردن پر ہوں گی؟

(د)وفاقی حکومت نے کالعدم قوانین کے بارے میں بظاہر اپنی سنجیدگی باورکرانے کے لیے کابینہ کی ایک سب کمیٹی اٹارنی جنرل مسٹر یحییٰ بختیار کی سر براہی میں تشکیل دی ہے اس کی ہیئت ترکیبی سے قطع نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قصاص و دیت کے کسی قدیم یا جدید مسودہ پر غور فکر اسلامی نظر یاتی کونسل بھی کر چکی ہے اس کے بارے میں قانونی طریق  کار تو پار لیمنٹ کا تھا جو اندر یں میعار اختیار نہیں کیا گیا پھر اصل ذمہ دار بھی دستور کی روسے صدر مملکت ہیں لیکن وفاقی کابینہ جو کمیٹیوں اور کمشنوں کا رستہ اپنارہی ہے وہ تاخیری حربوں کے سوا کیا ہے ؟دراصل وفاقی حکومت کی طرف سے بحران کاپرو پگینڈا قانونی حلقوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے ہے تا کہ وفاقی حکومتنفاذ شریعت یاقانون کی اسلامی احکامات سے مطابقت کی ذمہ داری سے پہلو تہی کر سکے ۔