ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • جولائی
1990
عبد الرحمن مدنی
آج کل نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جو چند  مسائل اہمیت سے ملک و ملت کو در پیش ہیں اُن کے بارہ گذشتہ شمارہ میں ہم اجمالی تبصرہ کر چکے ہیں ۔آج کی صحبت  میں ہم سپر یم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے 5/جولائی۔1989ء،کے ایک فیصلہ کی روشنی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی پچاس سے کچھ اُوپر دفعات کے کالعدم قرار پانےسے بظاہر جو قانونی خلاء باور کرا یا جا رہا ہے اس پر اپنی گذارشات پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ قبل ازیں یہی خلاء حق شفع کے قانون مجریہ 1913،کی کئی دفعات کو عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بنچ کی طرف سے غیر اسلامی قرار دینے سے بھی پیدا ہوا تھا جو 31/جولائی 1986ءتا 29/مارچ 1990ءتقریباً3سال آتھ ماہ قائم رہا ۔حتیٰ کہ حکومت پنجاب نے نیا حق شفع کا قانون نافذ کر دیا۔ جسے پھر دوبارہ احکا م اسلامی کے خلاف ہو نے کی بناء پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے ۔
  • جولائی
1990
صدیق حسن خان
ابن کثیرؒ کہتے ہیں ۔یہ آیت تو حید باری تعا لیٰ پر دلیل ہے کہ اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ۔صرف اُس کی عبادت لازم ہے مفسریننے اس آیت سے باری تعا لیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے جس طرح یہ آیت وجود باری تعا لیٰ پر دال ہے ۔اُسی طرح یہ آیت تو حید عبادت پر بھی بطریق اَولیٰ دلیل ہے کیونکہ جو آدمیان موجود ات سفلیہ اور عُلویہ اور لوگوں کی صورتوں اور رنگوں طبائع اور منافع کے اختلاف میں غور کرے گا تو اُسے پتہ چلے گا ان منافع کو کس عمدہ طریقے سے اس مقام اور منصب پر رکھا گیا ہے تو ضروری طور پر وہ ان سب کے خالق کی قدرت و حکمت علم و اتفاق اور عظمت و شان کو جان لے گا ۔
  • جولائی
1990
غازی عزیر
(ج)حضرت آدم علیہ السلام کی وسیلہ اختیار کرنے والی حدیث کے آخر میں (عربی)(یعنی اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا )وارد ہے جو عقائد سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ہے چونکہ اسے لیے کو ئی متواتر نص موجود نہیں ہے لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صحت ثابت کرنا محال ہے اس حدیث کو مختلف لوگ مختلف الفاظ اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان کرتے ہیں شعیہ حضرات اور باطنیہ فرقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ :
  • جولائی
1990
سعید مجتبیٰ سعیدی
عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد ہ کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔مگر یہ بات عقلاً غیر معقول ہے۔
چونکہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے اس لیے جس طرح دنیا میں انسان کی نسبت والد کی طرف ہو تی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہر انسان کو والد ہی کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادیت چونکہ معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوئی تھی ۔اس لیے ان کی نسبت والدہ ہی کی طرف ہو گی ۔
ان کے علاوہ عام انسانوں کو والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کے بارے میں مندرجہ ذیل ایک حدیث روایت کی جاتی ہے۔
  • جولائی
1990
عبدالرحمن مدنی
خطبہ مسنونہ:
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم﴿ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾...البقرة
"یعنی سود خور شیطانی جنون سے خبطی بن جا تے ہیں کیونکہ وہ بیع اور سود کو یکساں بتاتے ہیں ۔حالانکہ خریدو فروخت اللہ نے حلال کی ہے جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے پس جو شخص رب تعا لیٰ سے نصیحت ملنے پر باز آجا ئے تو اس کا سابقہ کیا کرایا معاف ہو کر معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا لیکن جو لوگ پھر بھی باز نہ آئیں تو وہ دائمی جہنمی ہیں ۔"
  • جولائی
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابن العربیؒ کا شمار اُندلس کے ممتاز محدثین کرام میں ہو تا ہے ان کی بدولت اُندلس میں احادیث و اسناد کے علم کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔امام ابن العربیؒ تقات واثبات میں مشہور تھے ۔ارباب سیر نے ان کے حفظ و جبط ،ذکاوت و ذہانت کا اعتراف کیا ہے ۔اور حدیث میں ان کو متبحر عالم تسلیم کیا ہے ۔ امام ابن العربی ؒ علوم اسلامیہ میں مہارت نامہ رکھتے تھے ۔تفسیر القرآن ،حدیث اصول حدیث،فقہ اصول فقہ ،تاریخ ادب وبلاغت ،صرف و نحواور علم کلام میں ماہر تھے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ)لکھتے ہیں ۔