(((مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی جو جامعہ  لاہور اسلامیہ (رحمانیہ) کے مہتمم بھی ہیں۔جامعہ کے ایک شعبہ کلیۃ الشریعۃ 91 بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں باقاعدہ ہر جمعہ خطبہ ارشا د فرماتے ہیں۔خطبہ ء جمعہ موقع کی مناسبت سے کسی دینی اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر ہونے کے علاوہ ملک وملت کے درپیش اہم علمی اور قانونی مسائل پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ جن میں موصوف سامعین کی لمحہ بہ لمحہ حاضری بڑھنے کا لحاظ رکھتے ہوئے خطبہ کا ابتدائی حصہ عمومی رکھتے ہیں جس میں طلباء اور دین سے گہرا تعلق والے حضرات جو خطبہ شروع   ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ خطبہ کا آخری حصہ اگرچہ اسی عمومی موضوع سے یک گونہ متعلق ہوتا ہے۔لیکن موصوف اس میں ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہیں۔لہذا اس  طرح آپ کا خطاب جامعیت کا حاصل ھوکر علمی رہنمائی اور اصلاحی وعظ کا کام کرتا ہے۔

4 مئی 1990ء کے خطبہ جمعہ( جس میں آپ کو تحریک پاکستان میں مسلمانوں کا اللہ سے کیا ہوا وعدہ یاد دلا کر نفاذ شریعت سے متعلق پیش آمدہ اہم مسئلہ مالی قوانین  کی اصلاح" پر تبصرہ کرنا تھا) سے قبل ایک سانحہ ایسا رونما ہوا جس کا سنجیدہ نوٹس لینا بھی آپ نے ضروری سمجھا تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک عیسائی شخص جو ا پنی بیوی کے ہمراہ اسلام لانے کے لئے مدنی صاحب کی رہائش گاہ پر آیا  تو آپ نے مناسب سمجھا کہ دونوں میاں بیوی مسلمان ہوکر آپ کے ساتھ جمعہ پڑھیں۔جب گھر میں آپ نے بات کی تو عیسائی عورت نے کہا کہ وہ آجکل نماز پڑھنے کی حالت میں نہیں ہے۔چنانچہ مدنی صاحب نے مرد کو غسل کرواکر ہمرا ہ لیا اور کلیۃ الشریعۃ کی جامع مسجد میں چلے آئے۔آغاذ خطبہ سے قبل ہی آپ نے مذکورہ عیسائی کو مسلمان کیا۔جب کہ اس سے قبل اُسے کافی وعظ ونصیحت بھی کی جاچکی تھی۔منبر پر کھڑے ہونے سے پہلے جب  آپ نے اس نو مسلم کو اپنے ساتھ جمعہ پڑھنے کو کہا تو اُس نے معذرت شروع کردی کہ اس جمعے کی اسے چھٹی دے دی جائے۔کیونکہ وہ اپنے بچے کی بیماری کی وجہ سے بہت پریشان ہے حالانکہ اس سے قبل وہ کافی دیر پرسکون انتظار بھی کرتا رہا۔لیکن مدنی صاحب کےاصرار کے باوجود بغیر جمعہ پڑھے چلا گیا تو جمعہ ختم ہونے کے بعد جب مدنی صاحب واپس گھر آئے تو وہ اُن کے گھر پر ہی بیوی سمیت موجود تھا۔یہ واقعہ جہاں نئے مسلمان ہونے والوں  کے رویوں کی نشاندہی کرتا ہے وہاں نام کے مسلمانوں کے لئے عبرت ہے۔کہ آج اسلام کا کلمہ کتنا ہلکا ہوگیا ہے کہ مسلمان لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرنے کے باوجود اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔

بہر صورت خطبہ ھذا کا ابتدائی حصہ جہاں انفرادی قول وقرار کی ذمہ داریوں کے لئے اہمیت کو اجاگر کرتا ہے وہان اجتماعی طور پر پاکستانی معاشرے اور حکومت کو قیام پاکستان کے نظریہ کی یاد دلاتا ہے۔کہ کہیں معاشرے میں دہشت گردی اور سیاسی ابتری اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب ہی نہ ہو جو قوموں کی بے وفائی پر ان کا مقدر ہوتا ہے۔(ادارہ) (عربی)

خطبہ مسنونہ

(عربی)

دنیا میں انسانوں کے باہمی معاملات میں معاہدے اور اقرار نامے ہوتے ہیں۔ان اقرار ناموں اور معاہدوں کا بہت خیال کیا جاتا ہے۔اور جو لوگ اپنے اقرار کا پاس نہیں کرتے انھیں بہت ہلکا سمجھا جاتا ہے۔اور معاشرے  میں اُن کی کوئی عزت نہیں ہوتی لیکن انسانوں  کے باہمی معاہدوں اور عہد وپیمان کی نسبت اللہ اور اُس کے ر سول سے معاہدہ بہت بڑی چیز ہے۔جب کوئی شخص اللہ سے عہد باندھتا ہے۔اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی وعدہ کرتا ہے۔ اور  اُس کے بعد اُس وعدے پر پورا نہیں اُترتا تو  پھر اللہ تعالیٰ بہت رنجیدہ ہوتے ہیں۔اللہ کے غضب سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کے ایک ایسے ہی عہد وپیمان کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ کہ عیسیٰ  علیہ السلام سے انہوں نے کہا کہ آسمان سے ہمارے لئے ایک دستر خوان اُترے جس میں طرح طرح کے کھانے ہوں۔اور ہمارے بعد ہماری اولادوں کے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہے تو پھر ہم اللہ پر ایمان لائیں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام نے اُن کے اس مطالبہ کو صحیح تو نہ سمجھا لیکن اُن کی طرف سے اس صفائی کے بعد کہ مقصد صرف عین الیقین اور برکت کا حصول ہے عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کا مطالبہ پورا کرنے کی درخواست کی ۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس مطالبے کے جواب میں نافرمانی کی سزا کا بھی ذکر کیا ہے ارشاد ہے:

(عربی)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں ضرور دسترخوان اتاردوں گا۔جس پر پہلوں اور پچھلوں کے لئے بہترین کھانےہوں گے۔اور بار بار یہ سلسلہ اُن کے ساتھ چلتا رہے گا۔لیکن کان کھول کرسن لو!

(عربی)

"اگر اس کے باوجود تم میں سے کسی نے کفر کیا تو اُسے ایسی سزا دو ں گا جو کل جہانوں میں سے کسی کو نہ دی جائے گی۔"

اللہ تعالیٰ سے ایسے عہدوپیمان جب اجتماعی طور پر کئے جائیں تو وہ عہد وپیمان بڑے عظیم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی ایک  فرد کو معاف کردیتے ہیں لیکن قوموں کی اجتماعی غلطیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں ناقابل معافی ہوتی ہیں۔

ہم نے اگرچہ آدم علیہ السلام کی اولاد ہونے کے ناطے وہ  اقرار توحید تو اللہ تعالیٰ سے کر رکھا ہے جو اپنی پیدائش سے بھی  پہلے اللہ سے عہد وپیمان باندھا تھا اور اُس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے:

(عربی)

لیکن اس کے بعد بھی یہ ہمارے اسی عہد وپیمان کی توثیق میں سے ہے جب کوئی شخص منہ سے کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے ،اس طرح کلمے کی ادائیگی ہمارا بہت بڑا ا علان ہے یہ اتنا بڑا اعلان ہے کے اس کلمہ کے پڑھنے کے ساتھ ہی ہمارے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔یہ گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔

دنیا میں گناہ تو ا نسانوں سے بے شمار ہوتے ہیں اور  ان گناہوں کی تمام صورتیں اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی ہی ہوتی ہیں۔جو کسی نہ کسی درجے میں اس اقرار توحید کے منافی ہوتی ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اس حد تک کردے کہ آپ کو گالیاں نکالے یا کسی طرح آپ کی توہین کرے تو یہ اتنی بڑی بغاوت ہے کہ یہ قابل معافی نہیں۔

ایک شخص مرتد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔اس سے پہلے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کیا کرتا تھا۔اُس نے کہا: میں دوبارہ مسلمان ہوناچاہتا ہوں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اُسے لانے والے حضرت عثمان بن عفان  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  تھے۔  پھر دوسری مرتبہ اُس نے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خامو ش رہے اُس نے تیسری مرتبہ کہا:میں مسلمان ہوناچاہتا ہوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا کلمہ عہد لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ سن کر اُس کا اسلام قبول کرلیا۔یہ شخص مسلمان ہونے کے بعد چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اے میرے صحابہ ( رضوان اللہ عنھم اجمعین ) جب میں خاموش رہا تم نے اپنا کام کیوں نہیں کردکھایا ،تم اسے ختم کردیتے۔"

یعنی مرتد ہو کر اُس نے اتناعظیم گناہ کیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اسلام بھی قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔جب تین مرتبہ اصرار کرکے اُس نے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا اسلام قبول کیا۔یہ غالباً عبداللہ بن ابی سرح کا واقعہ ہے۔گویا اسلام چھوڑنے کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ارتداد کی ارذل ترین شکل ہے۔جس کی معافی بھی مشکل ہے۔اسے معاف کرنے کے لئے ایک ہی صورت ہے کہ وہ شخص بار بار اصرار کرتا رہے تو اُسے معاف کردیا جائے۔

دیکھئے کہ اسلام کتنی بڑی چیز ہے کہ اس کلمہ کے پڑھتے ہی سب کچھ معاف ہوگیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہوئی گالیاں بھی معاف ہوجاتی ہیں یعنی اسلام لانے کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو معاف کرسکے۔اسلام لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح اورصریح توہین بھی معاف ہوجاتی ہے۔

اسلام لانا بہت بڑی چیزہے ۔حدیث ر سول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:۔

(عربی)

یعنی اسلام لانےسے  پہلے جو کچھ اُس نے کیا وہ سب معاف ہوجاتا ہے۔ تو دنیا میں انسان کا لا الہٰ الااللہ محمد رسول اللہ " زبان سے پڑھ لینا کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ یہ ایک کلمہ ہی ہے لیکن دینا میں اس سے بڑھ کر اور کیا ہے۔

اس کی دوسری مثال ہماری معاشرتی زندگی سے لیجئے کہ مرد اور عورت نکاح سے پہلے دو الگ الگ اجنبی فرد ہیں۔حتیٰ کہ ان کا آپس میں تنہائی میں علیحدہ ہونا بھی جائز نہیں ہے بلکہ تمام حالات میں گفتگو بھی بہتر نہیں۔حتی الوسع ایک دوسرے سے دور رہنا  چاہیے۔لیکن عقد نکاح  صرف دو کلمے ہیں کہ ایک کلمہ ایجاب سے مرد کو پیشکش ہوئی۔دوسرے کلمے سے اُس نے قبول کرلیا۔یعنی نکاح خواں کی طرف سے اُسے کہاگیا کہ یہ عورت تمہارے نکاح میں دیتے ہیں۔اُس نے کہا میں قبول کرتا ہوں۔اس ایجاب قبول کے ساتھ ہی تمام حدیں ختم ہوگئیں۔اب وہ ایسے ہوگئے جیسے جسم اور لباس کا تعلق ہے۔

دنیا میں انسان اپنی زبان کےساتھ ہی ہے یہ زبان بڑی اہمیت رکھتی ہے انسان کے دیگر جسمانی حصوں کا نقصان کیا جاتا ہے تو اُس کے لئے تاوان(خوب بہا) کی چھوٹی مقداریں ہیں مگر زبان پورے انسان کے برابر ہے۔یعنی اگر کسی کی زبان کاٹ دی جائے۔تو اُس کا خون بہا پورے انسان کے قتل کے برابر ہے۔گویا زبان پورے انسان کے قائم مقام ہے۔

حاصل یہ ہے کہ زبان سے کوئی کلمہ کہہ دینا بہت بڑی چیز ہے۔اسی ایجاب وقبول کی اہمیت کا اندازہ ایک دوسرے رخ سے کیجئے جب انسان اس کو اتنا بے قدر کردے تو اس شخص کو یہ حق بھی نہیں رہ جاتا کہ وہ دنیا میں رہے توجہ کیجئے کہ دنیا میں جب غیر مرد اور عورت ناجائز جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو اس کی سزا سنگسار جیسی کیوں ہے؟وجہ یہی ہے کہ جسے عقد نکاح کہتے ہیں۔کے بعد اب اس شخص کو پورا اندازہ ہوگیا ہے کہ زبان سے اقرار کتنی اہمیت رکھتا ہے۔اگر اُس شخص نے پھر بھی کسی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے تو اس کی سزا  صرف قتل ہی نہیں بلکہ اسے پتھر پتھر مار مار کر ختم کردیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک فرمان میں شادی شدہ کو لفظ "شیخ" سے بیان کیا ہے۔عربی زبان میں شیخ کہتے ہیں ایسے شخص کو جس کا کوئی بھی معیاری مقام بن جائے مثلاً کسی کا معاشرے میں اعلیٰ علمی مقام ہو تو اُسے شیخ کہتے ہیں عمر کے اعتبار سے انسان پختہ ہوکر اُسے  جب بہت تجربہ حاصل ہوجائے تو اُسے بھی شیخ کہتے ہیں اسی طرح شادی ہوکر مکمل زندگی کا تجربہ حاصل ہوجائے  تو اُسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ شیخ سے تعبیر کیا ہے۔

لغت کی مشہور کتاب "القاموس" میں الشیخ لذوجہ ذوجھا" بیوی کے خاوند کو "شیخ" کہتے ہیں۔اسی طرح قبیلوں کے سربراہ  ہوتے ہیں اُنھیں بھی شیخ ہی کہتے ہیں۔مختلف امارتوں کے جو امیر ہوتے ہیں اُنھیں بھی"شیخ " کہتے ہیں۔مثلاً متحدہ امارات کے اندر سات ریاستیں ہیں۔سات ریاستوں میں ہر ریاست کے حکمران کو "شیخ" کہتے ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ خاوند کو "شیخ " اس لئے کہا جاتا ہے کہ جس نے جان لیا کہ نکاح جیسا تعلق کتنا اہم ہے؟اس کے بعد اُس کی سزا بڑی سنگین ہوگی۔

اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی ایک علامت یہ ہے کہ زبان سے ایک بات کہے اور اس کے بعد ا س کی کوئی پرواہ نہ کرے۔ہم لوگ اُسے بہت معمولی سمجھتے ہیں کہ کسی کے ساتھ کوئی وعدہ کرلیا کہ فلاں وقت تم سے ملاقات ہوگی اس کے بعد وعدے کا کوئی پاس نہیں ہم یہ تو نہیں کہتے کہ وہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ اگر تین چار صورتیں جمع ہوجائیں تو پھر واقعی خالص منافق ہوجائےگا۔ایک یہ کہ جب بات کرے تو جھوٹی کرے دوسری یہ ہے کہ جب وعدہ کرے تو خلاف کرے۔اسی طرح امانت رکھی جائے تو خیانت کرے دوسری روایت میں ہے کہ جب کسی سے لڑائی کرےتوگالی بکے۔لیکن اگراُس کے اندر ایک بُرائی ہے تو اُس کے اندر نفاق  کی ایک علامت موجود ہے۔

اس لئے زبان سے کسی چیز کو ادا کرلینا بہت بڑی بات ہے۔ہمارے آپس کے معاملات اسی پر چلتے ہیں۔ایک چیز میری ملکیت ہے ،دوسرا شیخ اُس کے لئے سودا کرتاہے میں کہتا ہوں کہ میں نے تمھیں یہ چیز بیچ دی۔اُس نے خریدنے کا اقرار کیا اور وہ اُس کا مالک بن گیا۔لہذا اس منہ بولنے کے معاملات میں اصل اہمیت ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تین چیزوں کے اندر بہت محتاط رہو کہ اُن کی سنجیدگی تو سنجیدگی ہے اور ان کا مزاح بھی سنجیدگی کا حکم رکھتاہے وہ تین چیزیں یہ ہیں:

1۔نکاح کے سلسلے میں اگر غیر سنجیدہ بات ہوجائے مثلا ولی اپنے ماتحت بہن ،بیٹی کے بارے میں کہتاہے کہ میں تمہارا اُس کے ساتھ نکاح کرتا ہوں۔تو وہ اگر غیر سنجیدہ طور پر بھی ایجاب وقبول کرلیں تو یہ نکاح ہوجائےگا۔

2۔اسی طرح خاوند نے بیوی کو غیر سنجیدہ طور پر کہہ دیا کہ میں نے تجھے طلاق دے دی تو طلاق ہوجائے گی۔

3۔غیر سنجیدہ صورت میں اگر کسی نے کہہ دیا کہ میں نے تجھے آزاد کردیا تو وہ غلام آزاد ہوگیا۔ایک دوسری روایت میں غلام کی آزادی کی بجائے طلاق سے ر جوع ذکر ہواہے۔فرمایا:

(عربی)

"تین چیزیں ایسی ہیں کہ اُن میں غیر سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے۔اور سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے۔"

عربی زبان میں ہزل کا معنی ہے کہ جیسے کوئی انسان سنجیدگی کے بغیر ایسے ہی کوئی بات کہہ دیتا ہے۔تو ان تینوں چیزوں میں اللہ کے ہاں سنجیدگی شمار ہوتی ہے۔لہذا یہ جاری ہوجاتی ہیں۔

ہم نے آج سے تقریبا ً بیالیس سال قبل اللہ تعالیٰ سے ایک وعدہ کیاتھا اور وہ وعدہ معمولی نہیں۔اس وعدے کی اتنی اہمیت اور بلندی تھی کہ وہ عرش تک پہنچا۔اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو سننے والا ہے لیکن وہ علی رؤس الاشہاد دنیا  بھر نے سنا اور پاکستان معجزے کے طور پر دنیا میں معرض وجود میں آیا۔وعدہ یہ تھا کہ:

پاکستان کا مطلب کیا۔لا الہٰ الا للہ!

پاکستان پاک لوگوں کی زمین ہے اور پاک جگہ ہے یہاں لا الہٰ الا اللہ کی حکمرانی ہوگی۔انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی ۔پھر اس کے بعد بار بار ہم نے اس کی توثیق کی حتیٰ کہ جب کسی کا اقتدار ڈولتا ہے۔اُس وقت اُسے جو چیز یاد آتی ہے وہ یہی ہے کہ میں اب یہاں اسلام نافذ کرتا ہوں۔

بے شمار ایسے مواقع آئے ہیں۔ کہ اسلام کے نام سے لوگوں نے اپنے اقتدار کو سنبھالا دیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر ایک دھوکے باز ہے۔اللہ تعالیٰ نیتوں سے واقف ہے۔ لیکن بار بار جب کوئی نعرہ لگتا ہے۔اور اُس  پر عمل نہیں ہوتا تو واقعی انسان سمجھتا ہے کہ یہ دھوکہ ہی دھوکہ ہے ۔آخری وعدہ جو ہمارے ساتھ ہوا اور جس کے متعلق دنیائے اسلام نے تیس سال کے بعد محسوس کیا کہ پاکستان واقعی اپنے مشن کو پورا کرے گا جس کی بناء پر اُن کی طرف سے یہ پیشکش ہوئی کہ اگر ایسا ہوگا پاکستان کے لئے ہمارے وسائل وقف ہیں۔

ایک وہ وقت تھا کہ جب پاکستان بنانے کےلئے لوگوں نے قربانیاں دی کہا جاتا ہے۔بیس لاکھ یا تیس لاکھ۔اتنی بڑی قربانیاں جنھیں بیان کرنے کےلئے بھی کافی وقت درکا رہے ۔یہ انسانی جانوں کی ہی قربانی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ بے شمار عصمتوں کی قربانی ہے۔بات یہاں ختم نہیں ہوگئی اس کے بعد بھی لگاتار قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں۔

مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ سے یہی صورت حال چلی آئی ہے۔کہ پاکستان جب  مصیبت میں ہوتا ہے تو اُس کے مخالف سب اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ جب بنگلہ دیش بنا پاکستان کی مدد کسی نے نہ کی ۔تازہ معاملہ افغانستان کا دیکھ لیجئے جو ایک اعتبار سے پاکستان کا معاملہ بھی ہے وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے جنرل ضیاء الحق ؒ سے جو اچھے کام کروائے ہیں اُن میں سے یہ کام بڑا اہم ہے کہ افغانستان کے اندر جنرل ضیاء الحق ؒ بڑی جراتمندی سے مسلمانوں کی مدد کی۔ کیونکہ یہ صرف افغانستان کا ہی نہیں ملت اسلامیہ کامسئلہ تھا اس کی اہمیت کے لئے میں آپ کو اپنے ساتھ پیش آمدہ واقعہ سناتا ہوں۔

میں بیرون ملک دورہ میں عدلیہ کے اعلیٰ ذمہ داران کے ساتھ ایک مسلمان ملک کی بڑی شخصیت سے ملاقات میں موجود تھا۔اس وقت ضیاء الحق ابھی زندہ تھے کہ اُس نے کچھ نازک سوالات کیے۔جن میں ایک سوال یہ تھا کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے کے بارے میں جنرل ضیاء الحق کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کیا ضیاء الحق واقعی سنجیدہ ہے؟یہ لوگ چونکہ عدلیہ کے ذمہ دار تھے۔اس لئے بہت محتاط گفتگو کررہے تھے۔لہذا محتاط جواب دیا۔ جس میں اُمید کے ساتھ تاخیر کی کمزوری کا اعتراف بھی تھا اس پر ہمارے میزبان جذباتی ہوگئے اور کہا کہ "ضیاء الحق کے دو کام اتنے عظیم ہیں کہ ضیاء الحق کی جنت کے لئے وہی کافی ہیں۔چونکہ میں نے روایت مکمل کرنی ہے اس لئے دونوں باتیں بتائے دیتا ہوں۔

کہنے لگا کہ ضیاء الحق نے ایک کام تو یہ کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی۔ اور دوسرا کام افغانستان کا جہاد۔گویا جہاد افغانستان میں پاکستان کے کردار کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے کرلیجئے جو میں آپ کے سامنے بیان کررہا ہوں۔ صاف بات یہ ہے کہ ضیاء الحق کی دیگر کارکردگی کے بارے میں دو رائیں ہوسکتی ہیں۔لیکن جہاد افغانستان کے سلسلہ میں ضیاءالحق کے اندر کا مسلمان نظر آتا ہے۔کیونکہ اسی اسلام کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی طاقتیں اس کے مخالف ہوگئیں تھیں۔پہلے افغانستان کے مسئلے میں امریکہ ساتھ تھا لیکن افغانستان میں پکے مسلمانوں کی حکومت بنانے کی جب باتیں ہوئیں تو امریکہ مخالف ہوگیا۔ ضیاء الحق نے وہاں بھی اپنے صحیح مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔اس کی پرواہ نہیں کی۔کہ امریکہ کیا چاہتا ہے؟

جنرل ضیاءالحق اب اللہ کے ہاں چلا گیا ہے جو کچھ اس نے کیا ہے اور جو کچھ وہ کرنا چاہتا تھا اللہ کے پاس اس کا حساب وکتاب ہے لیکن جو کام ہمیں اچھے نظر آتے ہیں۔ان کی تائید تو ہم لازما ً کریں گے۔ ان میں ایک کام یہ بھی تھا کہ آج سے  تقریباً دس سال قبل ضیاء الق نے ملک کے قانون کو مسلمان بنانے کے لئے جو اچھے اقدام اٹھائے ان میں سے ایک وفاقی شرعی عدالت بنائی جس کی ذمہ داری یہ ہے کہ پاکستان کے تمام قوانین کو کتاب وسنت پر  پرکھاجائے کہ کونسی چیز اسلام کے مطابق ہے اور کونسی چیز اسلام کے مطابق نہیں ہے جب ضیاء الحق ؒ نے اپنے اس ارادہ کا اعلان کردیا۔ جو غالباً یکم جنوری 1978ء کو کیا گیا۔اس کے بعد کچھ لوگوں نے ضیاءالحق کو ڈرانا شروع کردیا کہ تم نے یہ کیا کیا ہے۔تم نے بڑی غلطی کی ہے پورے ملک کے اندر بحران   پیدا ہوجائےگا۔اس طرح نظام چلانا بہت مشکل ہوجائےگا۔ لہذا انھوں نے ضیاء الحق ہی کی ہاتھوں ملکی نظام کے اہم حصوں کو کتاب وسنت کی نگرانی سے مستثنیٰ کرادیا۔

اُن میں سے ایک تو ہمارا  بنیادی قانون دستور ہے۔اُسے مستثنیٰ کردیاگیا۔ شخصی قوانین جن میں نکاح ،طلاق ،وصیت وغیرہ آتے ہیں ان کو بھی الگ کردیا۔قانون پر عملدرآمد کا طریقہ کار جسے قانون ضابطہ کہتے ہیں اُسے بھی علیحدہ کردیا گیا۔اسی طرح ہمارا مالیاتی نظام جسے سرمایہ دارانہ نظام کہہ سکتے ہیں جیسے سود ٹیکس وغیرہ۔ ان کے بارے میں ایک مدت مقرر کردی گئی کہ تین سا ل کے بعد ان پر غور ہوسکتاہے۔لیکن باقی قوانین کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت بنا کر ا ُسے اختیار دے دیا گیا ہے یہ ابتدائی دور کی بات ہے۔

1988ء میں مزید دباؤ پڑا تو ضیاء الحق ؒ نے اس کے لئے دس سال کی مدت مقرر کردی اب وہ دس سال کی مدت بھی 25 جون 1990ء کو پوری ہوئی ہے۔

اب ہماری موجودہ حکومت کو جو بڑی فکر لاحق ہے کہ ضیاء الحق کے دس سال ختم ہورہے ہیں ضیاء الحق ؒ اب قبر میں ہے لیکن کہتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے قدم اٹھا جاتے ہیں کہ وہ پھر قبر میں بھی مصیبت بن جاتے ہیں۔پہلے یہ سارا کچھ مارشل لاء کے زور پر تھا۔اس کے بعد آٹھویں  ترمیم کے ذریعے ا ُسے مستقل کردیا گیا۔اب وہ ہمارے دستور کا حصہ ہے 3.A کی صورت میں۔

اب   25 جون کو وہ دس سال کی مدت پوری ہورہی ہے صرف مالیاتی قوانین کے متعلق باقی چیزوں کا وہی حال رہے گا یعنی Constitutional law پہ کتاب وسنت کی روشنی میں غور نہیں ہوسکتا۔اسی طرح Procedural laws ہوں یا Personal laws ان پر بھی غور نہیں ہوسکتا۔

ان سب کو قرآن وسنت کی روشنی میں پرکھا نہیں جاسکتا ہے لیکن مرکزی حکومت کو بڑی فکر یہ ہے کہ اگر مالیاتی قوانین ہی قرآن وسنت کے زیر غور آگئے تو انھیں اپنی عیاشیوں کے لئے ٹیکس لگانے ہیں وہ ٹیکس کیسے وصول ہوں گے۔چند روز بعد بجٹ کا مسئلہ ہے۔اس طرح وہ اب صوبائی حکومتوں اور اپوزیشن کو یہ باور کرارہی ہے کہ تم بھی تو اپنے گزارے کے لئے ٹیکس لگاتے ہو۔اور اگر یہ مسئلہ آگیا تو لوگ شریعت کورٹ میں چلے جائیں گے۔اگر انھوں نے کوئی ایسی صورت پیدا کردی اور اُلجھن پیدا ہوگئی تو ہمارے ٹیکس کہاں جائیں گے؟

توجہ  فرمائیے کہ وہ جواب تقریباً ڈیڑھ سال سے کسی لمحے بھی تھمتے نہیں۔اُن کی لڑائی ہر معاملے میں چلی  آرہی ہے۔حتیٰ کہ اب یہ ضد بن گئی ہے کہ جو کام ضیاء الحق نے کیے ہیں اُسے ہر صورت میں ختم کرنا ہے لیکن یہاں صورتحال  یہ بن رہی ہے کے دونوں کی مفاہمت ہورہی ہے۔

تازہ خبر یہ ہے کہ حزب اقتدار اورحزب اختلاف دونوں کی مفاہمت ہورہی ہے۔جس کے  لئے کمیٹی بن گئی ہے۔چلو  دس سال  تو گزر چکے ہیں اور  دس سال اورگزر جا ئیں گے اب یہ دس سال بڑھانے کا آئینی مسئلہ ہے۔کیونکہ مالیاتی قوانین کے مستثنیٰ ہونے کی دس سالہ مدت آئین میں ہے اور آئین میں کوئی بھی ترمیم دو تہائی اکثریت سے ہوسکتی ہے۔اس لئے مسئلہ بڑا نازک ہے۔اگر اب اپوزیشن ساتھ نہیں دیتی تو دو  تہائی تعداد پوری نہیں ہوتی۔ اس لئے اپوزیشن سے مفاہمت کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔عوام چونکہ ان قانونی باریکیوں سے آگاہ نہیں ہوتے اس لئے اُن کے خلاف سازش ہورہی ہے۔

اب اسلامی جمہوری اتحاد کا امتحان ہے کہ  تم تو کہتے تھے کہ پیپلز  پارٹی کی حکومت نے اسلام کا ستیا ناس کردیا ہے۔یہ اسلام کی دشمنی ہے لیکن اپوزیشن تو اسلام کی ٹھیکیدار ہے۔اب اسلام کے ٹھیکیداروں کا امتحان ہے کہ اپنے دنیاوی مفادات کو دیکھتے ہیں یا اسلام کو۔!

اور قرآن  پاک کی وہ آیت نویں پارے کی جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی وہ بالخصوص دونوں سے مخاطب ہے:

(عربی)

"اے ایمان والو! جب اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کوئی دعوت آجائے اس امر کے لئے جس سے تمھیں زندگی مل رہی ہوتی ہے تو اُس کو فوراً قبول کرلیا کرو۔"

(عربی)

"یہ جان لو!(کہ اگر  انسان اس طرح کی دعوت کا موقع پائے اور قبول نہ کرےتو) پھر اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں کہ  پھر موقع ہی نہیں ملتا۔"

لیکن یہ بات بھی اتنی ہلکی ہوگئی ہے کہ ہم نے بار بار موقع گنوائے ہیں۔کہتے ہیں انسان کی غلطیوں کی تلافی ایسے ہوسکتی ہے کہ انسان کوئی قربانی دیتا ہے تو  اُس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ غلطیاں معاف کردیتاہے۔واقعی ہم نے بار بار عہد شکنی کی ہے ہم پر جب مصیبت آتی ہے تو اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر وہی رویے دھار لیتے ہیں۔اب اگر اپوزیشن کی یہی صورت حال رہی جو اسلام کے ٹھیکیدار بنتے تھے اور کہتے تھے کہ  پیپلز پارٹی والے اسلام کے دشمن ہیں اس طرح سے اگر وہ اسلام کے دشمن بن گئے کہ جو قدم اٹھایا جاچکاہے۔اُسے ختم کرنے کے لئے یہ دونوں اکھٹے ہوگئے۔تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دونوں اسلام کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے۔

ہمارے نزدیک تو دس سال کی جو مدت مقرر ہوگئی تھی وہ بھی غلط تھی۔اسلام کا جب کلمہ پڑھ لیا جاتا ہے تو  اُسی وقت اللہ کا حکم نافذ ہوجاتا ہے۔لیکن چلئے کہ اگر ایمان کی کمزوری کی بناء پر دس سال کی مہلت دے دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے اب وہ مہلت بھی ختم کردی۔اب تو پچیس جون کو د وبارہ مدت ختم ہوجائےگی۔یہ اب سوچ رہے ہیں کہ دس سال اور مقرر کردو۔پھر دیکھاجائے گا۔

اس  دفعہ ہمیں یہ دھوکا نہیں ہونا چاہیے ہر شخص اپنے طور پر جتنی بھی آواز بلندکرسکتاہے وہ بلند کرے اور میں سمجھتا ہوں کہ جیسے مہنگائی ہوتی ہے لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔تو پھر تمام  ٹیکسز  اور ساری سکیمیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس طرح سے جب عوام کو سمجھ آگئی کہ اسلام کے ساتھ یہ دونوں دشمنی کررہے ہیں تو ان شاء اللہ یہ دونوں ڈول جائیں گے۔

بے نظیر کو اگر یہ باور کرانا ہوتاہے کہ وہ مسلمان ہے تو وہ بھی عمرے کرتی ہے اس ملک کےمسلمانوں کو اسلام سے لگاؤ تو ہے ہی یہ الگ بات ہے کہ اسلام پر عمل پیرا نہیں ہیں۔اسلام سے ایک جذباتی لگاؤ ضرور ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان بننے کے وقت جو قربانیاں دی گئیں۔اب بھی اُسی کا تسلسل ہے ۔اور یہ سلسلہ برابر چل رہا ہے،کشمیر میں اور افغانستان میں بھی ایسے واقعات جب سامنے آتے ہیں۔کہ نوخیز نوجوان اللہ کے دین کے لئے،اللہ کے نام پر،اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں تو واقعی اس وقت احساس ہوتا ہے کہ اسلام کتنا قیمتی ہے۔حال ہی میں ایک واقعہ ہوا ہے جس سے آپ کا بھی تعلق ہے لیکن شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں کو علم نہ ہو۔صرف تین دن پہلے ہمارے قابل فخر عزیز  مولوی محمد خالد سیف جو الحمدللہ جہاد افغانستان میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔یہیں سے فارغ ہوکر یہاں دفتر میں ناظم بھی رہے جلال آباد محاذ پر شہید ہوگئے۔انااللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم میری یہاں عدم موجودگی میں جمعہ کا خطبہ بھی د یا کرتے تھے۔محاذ جنگ پر عین گولیوں کے بوچھاڑ میں انہوں نے اپنی چھاتی پر گولی کھائی۔اور اسی وقت شہادت پاگئے۔اللہ تعالیٰ قبول کرے۔

ظاہر بات ہے کہ ایک پہلوتو بڑے افسوس کا ہے کہ صرف ڈیڑھ سال قبل شادی ہوئی چار ماہ کی بچی ہے۔پیچھے جوان بیوی اور بوڑھے ماں باپ ہیں یہ صدمہ دیکھاتو نہیں جاسکتا لیکن یہاں شہادت کے بعد  جب انہیں لایاگیا۔شہید کے لئے نہ غسل ہے نہ کفن اور نہ ہی نماز جنازہ ،ہم نے صرف دعا کی۔جس نے بھی سنا چلا آیا۔ہائی کورٹ کے جج صاحبان بھی آئے دیگراحباب بھی۔بعد میں اپنے تاثرات بیان کرنے لگے کہ بظاہر ایک نوجوان کی موت ہر اعتبار سے افسوسناک ہے لیکن کسی کے منہ سے یہ بات نہیں سنی کہ ایسی موت افسوس کا مقام ہے بلکہ ہر ایک یہی کہتا تھا کہ اللہ  تعالیٰ ہر ایک کو ایسی موت دے۔

میں نے کہا: دیکھنے میں تو موت ہے،پورا جسم خون میں لت پت ہے۔دل پر گولی لگی ہے لیکن ہر ایک رشک کررہا ہے کیوں نہ ہو! یہ ایک ایسی موت ہےکہ سید المرسلین امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی اس موت کی آرزو کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے موقع دے تو  میں شہید ہوجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہوجاؤ۔پھر زندہ کیا جاؤں اور شہید ہوکر آؤں۔

واہ واہ یہ ایسی موت ہے جس کی آرزو بڑے بڑے انبیاء ؑ کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی جابر  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کو مغموم حالت میں دیکھا۔حضرت جابر  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  ایک بھائی اور نو بہنیں تھیں۔باپ جنگ اُحد میں شہید ہوگئے مگر یہ ابھی چھوٹی عمر کے تھے بہنوں کا بوجھ محسوس کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا غمگین پایا تو  فرمایا:جابر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ! تمھیں خوشی کی بات نہ سناؤں۔کہنے لگے ضرورسنائیے،فرمایا! اللہ تعالیٰ نے آج تک کسی سے آمنے سامنے بات نہیں کی ،تیرے باپ سے اللہ نے سب پردے اٹھا کر ملاقات کی اور کہا ہے! عبداللہ تو کچھ چاہتاہے تیری کوئی خواہش ہو؟جابر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  کے باپ کہتے ہیں،اے اللہ! جنت کے ملنے کے بعد اور کیا خواہش ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: کوئی خواہش ہو تو بتاؤ کہنے لگے،اللہ ! اگر پوری ہوسکتی ہے تو ایک خواہش ہے  کہ دنیا میں دوبارہ بھیج اور پھر تیرے راستے میں شہید ہوکر آؤں۔

تو یہ شہادت اتنی لذت  کی چیز ہے کہ دیکھنے میں تو یہ خون ہے ،خُون سے بھرا ہوا جسم لیکن جہاد کی مشقتوں میں اتنی لذت ہے کہ شہد میں وہ لذت نہیں ہے پانی میں وہ مزا نہیں۔یہ چیز اللہ تعالیٰ ہر ایک کو نصیب کرے ۔آمین!

تو بتانا یہ چاہتا ہوں کہ یہ سب قربانیاں استحکام پاکستان کی ہیں اور انھیں قربانیوں کا نام پاکستان ہے۔پاکستان اینٹوں کا نام نہیں اور نہ ہی اس مٹی کا نام ہے۔پاکستان ایک پاک جگہ کا نام ہے۔جو پاک ہوگی وہ پاکستان اور جو پاک نہیں وہ پاکستان نہیں  خواہ پاکستان کا دل ہی کیوں نہ ہو۔اس لئے ہمیں تو پوری دنیا کو پاکستان بنانا ہے اور اسی کےلئے ہم نے قربانیاں دی ہیں۔اوراب بھی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔

پھر سن لیجئے کہ ہمیں اگر پاکستان کے لئے قربانی دینا پڑی تو ہر قسم کی قربانی دیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عہد وپیمان پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین!