یوں تو ہر دور میں انسانوں کا ایک  گروہ انبیاء ورسل کے پیش کردہ احکامات  اللہیہ کے بارے میں کہتا رہا کہ:
"یہ سب کچھ تمہاری اپنی آسیب زدہ شخصیت کا اظہار ہے حقیقت سے اسے کوئی واسطہ نہیں۔لیکن اس عصر حاضر میں بھی غیر مسلموں کا ایک ہجوم بات وہی کہتا ہے لیکن اعتراف عظمت کے ساتھ۔"
ڈاکٹر مچل ایچ ہارٹ اپنی تصنیف"ایک سو" "the hunredمیں ایسے سو آدمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  جنھوں نے تاریخ پر سب سے زیادہ اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتا ہے:
"محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی تاریخ میں ایسے عدیم المثال اثرات چھوڑے ہیں کہ کسی بھی دوسری مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔"
اس طرح  ٹامس کارلائل،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا انسان تسلیم کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کو تسلیم تو کرتا ہے مگر اس بات کوماننے کے لئے تیار نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ؐ تھے۔
گویا ان غیر مسلموں کا ہجوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اعلیٰ ترین ماننے کے لئے تیار ہے لیکن یہ کہ قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذہنی کاوش واختراع نہیں بلکہ  تمام "وحی" کے ذریعہ رب کائنات کا نازل شدہ کلام ہے تمام اسلامی  تعلیمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خود وضع کردہ نہیں بلکہ سب کی سب اللہ ہی کی  طرف سے ملنے والی بذریعہ وحی ہدایات کا مجموعہ ہیں،کا قطعاً اقرار کرنے کو تیار نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمائندہ ہیں خود شریعت ساز نہیں۔شریعت پیش کرنے والے ہیں قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ دستور ہے۔اور سنت رسول ،اللہ ہی کی طرف سے ا ُسے دستور کی واحد متعین  تعبیر ہے دین شریعت کے معاملہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے کبھی کچھ نہیں ملایا اور نہ ہی اللہ عزوجل کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت تھی۔جس کا ثبوت قرآن پاک کی اس آیت میں موجود ہے۔

(عربی)

"اے نبی !( صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے اس چیز کو کیوں حرام کیا ہے جو اللہ تعالی نے آپ کے لئے حلال کی تھی؟آپ بیویوں کی رضا چاہتے ہیں۔"

آیت کا مفہوم اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اگر اتفاقاً ایسی روش کا اظہار ہوا بھی تو بذریعہ وحی فوراً اصلاح فرمادی گئی۔

ہر نبی کی معصومیت کا یہی ثبوت تو ہے  کہ اُس کی کوئی بات غلط رہ ہی نہیں سکتی۔اُس کی فوراً اصلاح کردی جاتی رہی ہے۔نبی اور غیر نبی میں بنیادی فر ق یہی ضابطہ  تو ہے کہ نبی کے اقوال وافعال کی باگ ڈور "وحی" کے ہاتھ ہوتی  ہے۔اور اسی ضابطہ کا دوسرا نام عصمت ہے۔اور غیر نبی اس ضابطہ سے آزاد ہونے کی وجہ سے خطا کار ہونے کی امکانی صورت کی زد میں زیادہ رہتا ہے۔اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیاگیا ہے۔

(عربی)

"جس نے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی اُس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔"

اب اللہ  تعالیٰ اگر بذات خود اپنے احکامات لوگوں کو سمجھائے انسان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اس لئے اُس نے انبیاء ورسلؑ کا سلسلہ مقرر فرمایا،اُن پر وحی بھیجی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول وفعل وتقریر سب اللہ ہی کی طرف سے ارسال کردہ وحی کے تابع ہوتے  ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کی اطاعت مقصود ہوتی ہے ۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ خود بھی اس کی پیروی کا پابند ہوتا ہے۔

(عربی)

"میں تو صرف اپنی طرف نازل کردہ وحی کی پیروی کرتا ہوں۔"

اگر کوئی شخص نبی یا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غیر مشروط کے مطاع ہونے سے یہ استدلال کرتا ہے کہ:"نعوذ باللہ" نبی اللہ نائب بن کر اقتدار اعلیٰ SOVEREIGNTY میں اللہ کا شریک ہوتا ہے۔اور قانون سازی میں بھی اُسے اختیارات حاصل ہوتے ہیں تو وہ اُسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہوتاہے جس میں ا پنی شخصیت کے بارے میں اُمت کو افراط وتفریط سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔

(عربی)

بقول حالی:

نبی ؐ کو جو چاہیں خدا کردیکھائیں               اماموں کا رُتبہ نبیؐ سے بڑھائیں

مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں       شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

نہ  توحید سے کچھ خلل اس سے آئے     نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

واضح رہے کہ اقتداراور اطاعت ہم معنی نہیں ہیں کہ نبی کی اطاعت سے اس کا اقتدار اعلیٰ ثابت ہو بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ ہی کی اطاعت کرانے آتا ہے اس معاملہ سے اسے اللہ کا شریک بنانا سخت غلطی ہے۔

یادرکھئے یہ شرک کی خوفناک قسم ہے۔جس کا براہ راست سیاست وحکومت سے تعلق ہے قرآن مجید نے اس  کا خوب نوٹس لیا ہے۔

(عربی)

"کیا انہوں نے ایسے اللہ کے شریک بنارکھے ہیں،جو دین سے ان کے لئے وہ شریعت بناتے ہیں،جس کا اللہ تعالیٰ نے کوئی اذن نہیں دیا۔"

شریعت سازی میں اللہ وحدہ لا شریک ہے وہ کسی کو اس میں شریک نہیں کرتا۔

(عربی)

"وہ کسی کو اپنے حکم (تشریح) میں شریک نہیں کرتا۔"

اس لئے حاکمیت اعلیٰ کا منصب صر ف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی شریعت کا اعلان کرتاہے۔اور اپنے نمونہ عمل سے رشد وہدایت کا تعین بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی حکمرانی وحی ونبوت کی روشنی میں ہوتی ہے اور اُمت کے لئے اس کی خلافت آگے چلتی ہے منصب نبوت ورسالت پر اب کوئی فائز نہیں ہوسکتا۔البتہ منصب حکومت وسیاست میں نبی کے خلفاء وجانشین آتے رہیں گے۔اسی نظام کا نام "خلافت" ہے۔اب جو بھی منصب نبوت پر بیٹھے گا،وہ کافر قرار دیا جائے گا،اور نبی ؐ کی چھوڑی ہوئی سیاسی کرسی پر جو بیٹھے گا وہ خلیفۃ المسلمین کہلائے گا۔بیعت رشدو ہدایت اور بیعت حکومت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع تھیں اب علیحدہ ہوگئیں۔بیعت رشدو ہدایت(جس کا تعلق محض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا) کا سلسلہ ختم اور بیعت خلافت وحکومت کا سلسلہ تا قیام قیامت جاری رہے گا۔جن یاران طریقت نے یہ فرق نہیں سمجھا۔وہ بیعت رشد وہدایت سے باز نہیں آئے اور نبوت کی کُرسی پر جلوہ افروز ہیں۔اور عصر حاضر میں ایسے مفکرین پیدا ہورہے ہیں۔کہ حاکمیت میں نبی ؐ کو اللہ کاشریک بنا رہے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت مستقلہ سے انہوں نے یہ نظریہ کشید کرلیا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ کا منصب اللہ اور رسول دونوں کے پاس ہے۔ساورنٹی (اقتدار  اعلیٰ) میں اللہ کے ساتھ اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہے۔

یہ ہیں وہ یاران طریقت جو کبھی وحدۃ الوجود  کا مشرکانہ عقیدہ گھڑ کر شرک فی الذات کے مرتکب ہوتے ہیں اور کبھی ندالغیر اللہ واستمداد بغیر اللہ کے عقائد اختیار کرکے شرک فی الالوہیت کا ارتکاب کرتے ہیں،اور پھر یہی لوگ جب سیاست کے میدان میں حکومت  کی بات کرتے ہیں تو اس وقت تک ان کی تسکین نہیں ہوپاتی جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا شریک نہ بنا لیں۔

مشرکین مکہ وقتاً فوقتاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے مطالبات کیا کرتے تھے جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نہ کسی درجہ میں اللہ تعالیٰ کے شریک بن سکتے تھے۔  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ  تعالیٰ کی طرف سے اُن کی تردید فرمائی۔حتیٰ کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر چڑھنے کو بھی کہا آپ نے بایں الفاظ تردید فرمادی ۔

(عربی)

"(تم لوگوں نے مجھے کیا سمجھا ہے) میرا رب ہی تمام کمزوریوں سے  پاک ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔"

قرآن مجید میں تبدیلی کا مطالبہ ہو اکہ:

(عربی)

"اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس قرآن کے بدلے کوئی اور لاؤ یا پھر اسی کوبدل ڈالو۔"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:

(عربی)

"اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے! میرے اختیار میں نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی ردوبدل کروں،میرے لئے بھی اُسی وحی کی پیروی فرض ہے(جو میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں)۔"

اب اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قسم کا اختیار ہوتا تو ترمیم فرمادیتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرے سے شریعت میں تبدیلی کے اختیار کی نفی فرمادی۔کیونکہ جو شریعت بنانے والا ہوگا وہی اس میں تبدیلی کا مجاز ہوسکتا ہے۔" نہ میں (صلی اللہ علیہ وسلم) نے شریعت بنائی ہے اور نہ ہی میں  اس میں تبدیلی کا اختیار رکھتا ہوں۔"

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت ساز تصور کرلیاجائے تو سوال   پیدا ہوگا کہ کیا اُس شریعت کی اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض ہے۔جو اس نے خود بنائی ہو؟۔۔۔یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شریعت (وحی الٰہی) کی اتباع سے نکالنا پڑے گا۔جولوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم وشریعت میں اللہ کا شریک ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ ذرا یہ ت و بتائیں۔(عربی) کی پابندی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضروری تھی یا نہیں۔اگر ضروری تھی تو یہ حکم کس نے دیا؟اللہ تعالیٰ نے  یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے تو  کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو بھی یہ حکم سنایا تھا؟یہاں یہ بات بھی  و اضح ہونی چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم اُمت کو سناتے ہیں۔ وہ اللہ کا حکم ہی ہوتا ہے۔اس کی اتباع وہ خود بھی  کرتے ہیں۔اس لئے کتاب کے ساتھ سنت ر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی طرف سےہوتی ہے۔جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوتی ہے۔اس لئے اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔سنت اللہ کی نہیں ہوتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے لیکن اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔

(عربی)

"میں تو اس (شریعت) کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔"

(عربی)

"پھر ہم نے تجھے(اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) شریعت پر لگایا ہے جو ہمارے امر سے ہے۔پس تو اس کی  پیروی کر اور جاہلوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرنا۔"

(عربی)

"اس (اللہ تعالیٰ ) نے تمہارے لئے دین میں سے شریعت بنائی ۔"

ان تمام آیات میں شریعت سازی کی نسبت صرف اللہ کی طرف ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ وضاحت تو اس آیت میں ہے:

(عربی)

"شریعت سازی صرف اللہ کا حق ہے"

اُمت کے علماء کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جہاں وہ توحید ربوبیت واُلوہیت  پر بیسیوں کتابیں لکھ چکے ہیں۔ وہاں توحید  حکم پر کچھ لب کشائی کریں،ایسے فتنوں سے آنکھیں بندکرنا اپنے فرائض سے تغافل برتنے کے مترادف  ہے۔وما علینا الا البلاغ۔