ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • مئی
1990
ادارہ
ڈیڑھ دو سال سے پاکستان جس رخ جارہاہے۔ اس میں یہ بات حیرت ناک ہے کہ ملک میں سرکاری سطح پر نفاذ شریعت کی پیش رفت ہورہی ہے۔مثلاً ان دنوں نفاذ شریعت بل1990ء(جسے 13مئی کو سینٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے) کے علاوہ ملک کے مالیاتی قوانین کے وفاقی شرعی عدالت کے دارہ اختیار کے تحت آنے کا مسئلہ اور تعزیرات پاکستان کی 299 سے 338 تک چالیس دفعات کے غیر اسلامی قرار  پانے کا مسئلہ حکومت کے لئے سنجیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں۔حکومت کا ظاہری رویہ تو ا ُن کے بارے میں مثبت نہیں۔تاہم کیا مشکل ہے کہ اگر جمعے کے چھٹی اور شراب کی بندش کے قوانین کے علاوہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی  ترمیم پیپلز پارٹی کے دور اول میں پاس ہوگئی تھی۔جبکہ شریعت بل جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُن کی حکومت ہی کی مخالفت کی وجہ سے سینیٹ سے بھی پاس نہ ہوسکا۔لیکن وہ اب سینیٹ کے مرحلہ سے گزر گیا ہے۔تو شاید اگلے مراحل میں بھی کامیابی حاصل کرجائے۔
  • مئی
1990
صدیق حسن خان
﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾...البقرة
ترجمہ:۔یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ تو  ان کی  تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔"
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی ایک جماعت نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہی لے لی۔اور ہدایت چھوڑ دی۔ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ایمان دے کر  کفر خرید لیا۔مجاہد ؒ نے فرمایا ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے ،قتادہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا۔انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
ترجمہ"۔اور جو ثمود تھے ان کوہم نے سیدھا  رستہ دکھایا تھا مگر  انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا۔
  • مئی
1990
ثنااللہ مدنی
(((محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! شرح متین می روشنی میں درج ذیل مسئلے کا حل عطا فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔بنیوا توجروا۔(السائل۔محمد مزمل)
مسئلہ:
ایک شخص عبیداللہ دو سال قبل فوت ہوا  پسماندگان میں  1 بیوہ 1 بیٹی اور دو بہنیں تھیں۔لیکن جائداد تقسیم نہ ہوسکی بیو ہ کے پاس ہی ساری جائیداد رہی۔اب بیوہ وفات پاچکی ہے۔
اس طرح مرحوم کی ایک بیٹی زندہ ہے( اور دہی دو بہنیں بھی) جب کہ مرحومہ بیوہ کی ایک بہن اور چھ بھائی زندہ ہیں۔مسئلہ مذکورہ میں جائیداد کس  طرح تقسیم ہوگی؟
مسئلہ نمبر 8۔تصیح مسئلہ :16
  • مئی
1990
غازی عزیر
طبرانی حاکمؒ اور آجری ؒ کی ان تینوں سندوں میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے امام احمد بن حنبل ؒ ،ابن المدینی ،بخاریؒ ،ابو داؤد،نسائی،ابو حاتمؒ،ابو زرعہؒ، ابن سعد ؒ ، جو زجانی ؒ عقیلیؒ، ذہبیؒ،ہثیمیؒ، اور ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن معین ؒ فرماتے ہیں۔اُ کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی ۔علامہ  ذہبیؒ عثمان الدارمی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یحییٰ ؒ نےفرمایا وہ ضعیف ہے ۔"ایک اور مقام پر علامہ ذہبیؒ بیان کرتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن زید واہ یعنی کمزور ہے۔ابن خزیمہؒ کا قول ہے "یہ ان میں سے نہیں ہے۔جس کی حدیث کوا ہل علم حجت جانتے ہیں۔اور اس کا حافظہ خراب ہے۔طحاوی ؒ فرماتے ہیں۔اس کی حدیث علمائے حدیث کے نزدیک انتہائی ضعیف ہوتی ہے۔ساجی ؒ نے اسے منکر الحدیث " بتایا ہے ابو نعیم ؒ اور حاکم ؒ فرماتے ہیں اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔
  • مئی
1990
عبدالقدوس سلفی
یوں تو ہر دور میں انسانوں کا ایک  گروہ انبیاء ورسل کے پیش کردہ احکامات  اللہیہ کے بارے میں کہتا رہا کہ:
"یہ سب کچھ تمہاری اپنی آسیب زدہ شخصیت کا اظہار ہے حقیقت سے اسے کوئی واسطہ نہیں۔لیکن اس عصر حاضر میں بھی غیر مسلموں کا ایک ہجوم بات وہی کہتا ہے لیکن اعتراف عظمت کے ساتھ۔"
ڈاکٹر مچل ایچ ہارٹ اپنی تصنیف"ایک سو" "the hunredمیں ایسے سو آدمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  جنھوں نے تاریخ پر سب سے زیادہ اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتا ہے:
"محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی تاریخ میں ایسے عدیم المثال اثرات چھوڑے ہیں کہ کسی بھی دوسری مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔"
  • مئی
1990
عبدالرحمن مدنی
(((مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی جو جامعہ  لاہور اسلامیہ (رحمانیہ) کے مہتمم بھی ہیں۔جامعہ کے ایک شعبہ کلیۃ الشریعۃ 91 بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں باقاعدہ ہر جمعہ خطبہ ارشا د فرماتے ہیں۔خطبہ ء جمعہ موقع کی مناسبت سے کسی دینی اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر ہونے کے علاوہ ملک وملت کے درپیش اہم علمی اور قانونی مسائل پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ جن میں موصوف سامعین کی لمحہ بہ لمحہ حاضری بڑھنے کا لحاظ رکھتے ہوئے خطبہ کا ابتدائی حصہ عمومی رکھتے ہیں جس میں طلباء اور دین سے گہرا تعلق والے حضرات جو خطبہ شروع   ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ خطبہ کا آخری حصہ اگرچہ اسی عمومی موضوع سے یک گونہ متعلق ہوتا ہے۔لیکن موصوف اس میں ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہیں۔لہذا اس  طرح آپ کا خطاب جامعیت کا حاصل ھوکر علمی رہنمائی اور اصلاحی وعظ کا کام کرتا ہے۔
  • مئی
1990
مسعود عبدہ
حسب معمول یکم مئی 1990کی نماز فجر مجلس تحقیق اسلامی کی تین منزلہ عمارت کے درمیانے حصہ میں مخصوص جائے سجود میں ماہنامہ"محدث" کے مدیر اعلیٰ حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے پڑھائی۔نماز کے مسنون اذکار سے فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہوئے!
"آپ کو معلوم ہے مولانا خالد سیف صاحب شہید ہوگئے! انا للہ وانا الیه راجعون"
شہادت کی خبر سننے کا رد عمل خبر سنانے والے کے قلبی تاثرات کی وجہ سے اُس خبر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جس کا بھیانک نام "موت " ہے۔
اس لئے کہ شہید کی شخصیت کےلئے اس لفظ کا استعمال کلام الٰہی قرآن حکیم میں (جو ہمارا دستور حیات ہے) منع  فرمایا گیا ہے۔
  • مئی
1990
عبدالرشید عراقی
تابعین کے فیض  تربیت سے جولوگ بہر ور  ہوئے۔اوراُن کے بعد علوم دینیہ کی ترقی وترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا،اُن میں اسحاق بن راھویہ ؒ کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔آپ علمائے اسلام میں سے تھے۔اہل علم اورآپ کے معاصرین نے آپ کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے۔امام اسحاق بن راھویہؒ نہ صرف علم وحدیث میں بلند مقام کے حامل تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامیہ یعنی تفسیر ،فقہ،اصول فقہ، ادب ولغت،تاریخ وانساب اور صرف ونحو میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
امام خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام اسحاق بن راھویہؒ حدیث وفقہ کے جامع تھے۔ جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تو اس میں بھی سند کاتذکرہ کرتے تھے۔[1]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"حدیث کے سلسلہ میں روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے۔ابن راہویہ ؒ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے تھے۔[2]
  • مئی
1990
عبدالرحمن عاجز
لحظہ لحظہ راحت جاں ہو لا الٰہ الا اللہ
قلب کے ہر گوشے میں نہاں ہو لا الٰہ الا اللہ
جسم کے ٹکڑے سے عیاں ہو لا الٰہ الا اللہ
اے میرے آقا میں جسدم جام شہادت پی جاؤں
خون کے ہر قطے کی زبان ہو لا الٰہ الا اللہ
لا الٰہ الا اللہ پر  روح وبدنی تک مٹ جائیں