حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سفر:
ادھر کوفہ میں یہ صورت حال تھی اُدھرحضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں اہل کوفہ کے خطوط قاصدوں کے تقاضے ،بیعت کی ظاہری کثرت ،اور جان چھڑ کنے کے زبانی وعدے ،یہ سب حسین خواب تھے چنانچہ حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اہل کو فہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے کو فہ روانہ ہونے کا ارادہ کرلیا ۔مگر اکابرین اہل علم وتقویٰ مثلاًحضرت عبد اللہ  بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر  بن عبد الرحمن بن حارث  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن میطع رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو داقد  لیشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  انصاری،اور حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بہت روکا حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو (حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ خروج الی ا لکوفہ سن کر رو پڑئے ۔
(بحوالہ روضۃ الا صفیاء مطبوعہ لاہور 252)
مزید برآں روانگی کے وقت بعض نے"
"کہایعنی"اے شہید ہم تجھے خدا کو سونپتے ہیں "اور بعض نے کہا :یعنی"اگر بے ادبی نہ ہوتی تو ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو زبردستی پکڑ لیتے اور ہر گز نہ جانے دیتے ۔"(مہناج السنتہ لامام  ابن تیمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  141/2و142/2)
ان سب سے بڑھ کر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے چچا زاد بھا ئی حضرت  عبد اللہ بن جعفر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے متعددبار روکا مگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو کوفہ روانگی پر مصر تھے ۔یہ دیکھ کر حضرت عبد اللہ نے زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دے دی اور ان سے اکلوتابیٹا چھین لیا مگر امام صاحب کے پائے ثبات متزلزل نہ ہو سکے۔

الغرض ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بجانب کو فہ روانہ ہوئے ۔قادسیہ سے تین میل دور جب ثعلبیہ منزل پر پہنچے ،تو حربن یز ید تمیمی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں حاضر ہو اور کہا  کہ "خدارا واپس لو ٹ جا یئے حالات بہت  ہی ناساز ہیں ،کوفہ میں خریت اور بھلائی  نہ پہلے تھے اور نہ اب ہے۔" چنانچہ حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ خبر سنتےہی اپنے جا نثاروں کو اکٹھا کیا اور ایک مبسوط خطبہ ارشاد فرمایا :....(خلاصۃا لمصائب مطبوعہ نو لکشور56)

کہ" مجھے مسلم بن  عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عبد اللہ بن لُقیط کی شہادت  کی خبر مل چکی ہے۔ اور ہمارے شیعوں نے ہم سے قطع تعلق کر لیا ہے۔پس تم سے جو واپس جا نا چاہے بلا روک ٹوک  واپس جا سکتا ہے ۔"

المختصر:سبط رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے واقعات کی رفتار کے پیش نظر واپس لو ٹنے کا مکمل ارادہ کر لیا اور سمجھ لیا کو فیوں سے وفاداری کی امید رکھنا  ریت سے تیل نکالنے کے مترادف ہے۔مگر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے بھا ئیوں اور رشتہ داروں نے کہا کہ ہم اپنے مظلوم بھا ئی کے ناحق خون کا بدلہ لیں گے اور اپنی رگوں کے خون کا آخری قطرہ بہانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔امام صاحب یہ سن کر کو فہ کی طرف روانہ ہو ئے ۔(طبری 217/2ابن خلدون25/5جلاءالعیون463/2)

ابن سعد اور حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو:

عبید اللہ بن زیاد نے قتل مسلم   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور بغا وت اہل کو فہ  سے فارغ ہو کر حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بھی بڑھتے  بڑھتے سر زمین کر بلا میں خیمہ زن ہو ئے اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ پینتالیس سوار اور ایک سو پیادے تھے بعضوں نے ایک ہزار سوار لکھا ہے۔(تصویر کر بلا)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے عمر وین سعد سے ملاقات کی اور فر ما یا کہ آپ مجھے چھوڑدیں  میں واپس چلا جاؤں،یا کسی سرحد پر چلاجاؤں ،یا مجھے براہ راست  یزید کے پاس جا نےدو۔(طبری)ناسخ التواریخ175)

ابن سعد نے اس آخری شرط کو قبول کیا شیعہ کتاب میں بھی یہ الفاظ  موجو د ہیں چنانچہ شریف المرتضی المتوفی 436ھ کتاب الشافی میں رقمطراز ہیں کہ:(عربی)(کتاب الشافی 471)

حضرت حسین رضی اللہ  عنہ نے عمر وبن سعد کے سامنے تین تجویز پیش کیں ۔

(1)میں جہاں سے آیاہوں واپس لو ٹ جا ؤں ۔

(2)یابراہ راست یزید کے پاس  چلا جاؤں ،وہ میرا چچا زاد بھا ئی ہے ۔وہ میرے متعلق اپنی رائے خود قائم کرے گا ۔

(3)یا مسلمانوں کی  کسی سرحد پر چلا جا ؤں اور وہیں کا باشندہ بن جاؤں ۔"صاحب الا مامۃ والسیا ستہ نے بھی "(عربی)

کا اضافہ کیا ہے۔(ابن اثیر 283/8طبع بیروت،ابن کثیر 170/8۔سیوطی140

نیز طبری میں یہ الفاظ ہیں:یعنی"میں براہ راست یز ید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دوں وہ جو مناسب سمجھے گا میرے ساتھ کرے گا !"(مزید تفصیل کے لیے دیکھیئے طبری طبع بیروت جلد سوم 235البدایہ والنہایہ لابن کثیر 170/8۔اصابہ طبع مصر 334/1مختصر تاریخ دمشق ابن کثیر عساکر 325/4و338/4)

جب ابن زیاد   کے سامنے یہ تجویز  ابن سعد نے پیش کی تو اس نے کہا کہ "جب تک حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اپنےآپ کو میرے حوالے نہیں کرتے اس وقت تک کو ئی بات قابل تسلیم نہیں ۔"

اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر مایا ۔"(عربی)

یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے آپ کو ابن زیاد کے حوالے کردوں۔"اس پر جنگ شروع ہو گئی ۔

حادثہ کربلا:

وہی ہو تا ہے جو منظور خدا ہو تا ہے۔۔۔ یہ مٹھی بھر پاک باز جماعت ان ظالموں کی کثرت کا مقا بلہ  نہ کرسکی ۔آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے خاندان  کے سترہ نوجوانوں  نے جا م شہادت نو ش فرمایا ۔پھر خود بھی جگرگوشہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  تلوارلے کر میدان  جنگ میں تادم آخر مبارزت کرتے رہے ۔بالآخر  جا م شہادت نوش فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے  ۔
سر مبارک  ابن زیاد کے پاس  لا یا گیا تو ابن زیاد نے آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے حسن  کی مذمت کرتے ہو ئے دانتوں پر چھڑی ماری ۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ۔"چھڑی دہن مبارک متعدد بار چومتے دیکھا ہے

(تاریخ طبری جلد سوم جز6صفحہ220)

قاتل  کے اشعار:

قاتل جب سر مبارک کو دوباریزید میں لے کر گیا تو اس نے فخر یہ یہ اشعار پڑھے۔

یعنی میں نے تمام  مخلوق میں سے ۔ماں باپ اور حسب  ونسب کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ  وافضل شخص کو قتل کیا ہے۔لہٰذا!میرے اونٹ پر سونا چاندی  لا ددو!

تو یزید نے کہا "خدا تیرے رکاب کوآگ سے بھر ے اور خدا تجھے غارت کرے ۔باوجود اس شخص کا اعلیٰ  مقام ہو نے کے تُونے اس  کو کیوں قتل  کیا ؟ میرے دربار سے نکل جا ۔تجھے کو ئی انعام  نہیں ملے گا ؟(ناسخ التواریخ 369 )

بعض روایات میں ہے کہ یز ید نے کہا:

(عربی)(منہاج  السنتہ)

"ابن زیاد پر خدا  کی پھٹکا رہو ،خدا کی قسم اگر وہ خود حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا رشتہ دار ہوتا ۔تو انہیں ہر گز قتل نہ کرتا ۔"

ناسخ التواریخ  میں ہے کہ میں ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اطلاع جب زجربن قیس نے امیر یز ید کو دی تو یزید  نے کہا :

(عربی)(ناسخ التوار یخ 269۔البدایہ والنہا یہ 8)

کہ" میں قتل حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغیر اہل عراق کی اطاعت سے خوش تھا ۔اگر میں خود میدان کربلا  میں ہو تا تو حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو ضرور معا ف کر دیتا۔"(مزید معلومات  کے لیے دیکھئے ،اخلاصتہ المصائب ،احتجاج طبرسی ،جلاء العیون اور ناسخ التواریخ )

اہل بیت کا قافلہ بحالت خستہ جب  دربار یز ید میں پہنچا تو یزید رو پڑا۔۔۔۔

(عربی)(خلاصتہ المصائب  نولکشور مبطور عہ302)

"۔۔۔اور اس کے ہا تھ میں رومال تھا جس سے اپنے آنسو صاف کرتا تھا ۔پھر اس قافلہ کو ہند بنت عامر کے پاس بھیج دیا۔جب اہل بیت محل میں پہنچے تو گریہ زاری اور آہ و بکا کی آواز سنائی دی۔"

نیز جلاء العیون  میں ہے کہ یزید  نے اہل بیت اور زین العابدین ؒ کو بعزت واحترام اپنے گھر میں جگہ دی اور صبح  وشام امام زین العابدین ؒ کے ساتھ کھا نا کھا تا تھا۔

قاتلین حسین کو ن لو گ تھے؟

رہا یہ سوال کہ قاتلین  حسین کو ن لو گ تھے ؟تو گذشتہ صفحات میں عرض کیا جا چکا ہے کہ بلا نے والے ہی حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے قاتل تھے ۔چنانچہ ملا باقر مجلسی جلاءالعیون میں رقمطراز ہیں کہ جب شیعان کو فہ سلیمان بن صرداالخزاعی کے پا س  مشورہ کے لیے آئےتو سلیمان  نے ان سے کہا کہ تم ان کے اور ان کے باپ کے شیعہ ہو ۔انکو خط لکھ  کربلا لو۔اس پر شیعوں نے کہا کہ جب وہ اس شہرکو اپنے نور قدم سے منور فر ما ئیں گے تو ہم سب بقدم اخلاص ان کی بیعت کریں گے۔(جلاءالعیون 340)

چنانچہ تاریخ  شاہد ہے کہ کوفیوں کے بارہ ہزار خطوط حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں جمع ہو چکے تھے ۔علامہ  مجلسی کے قلم سے ملاحظہ فر مائیں :

"اور جب مبالغہ وااصراران کا از حد ہوا اور متعدد قاصد حضرت کے پاس  پہنچ گئے ۔حضرت نے ان کے آخری خط کا جواب لکھا کہ" یہ خط حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا مومنوں مسلمانوں شیعوں کی طرف ہے: (جلاءالعیون431)

اور کوفیوں کے آخری خط کا متن یہ ہےکہ:"جمیع شیعان مؤمنین ومسلمین اہل کو فہ کی طرف سے بخدمت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن ابی طالب واضح ہو کہ اس وقت ہمارا کو ئی امام اور پیشوا نہیں آپ ہماری طرف توجہ فر مایئے ۔ہم سب آپ کے مطیع وفرما نبردار ہیں اور نعمان بن بشیرحاکم کوفہ نہایت ذلیل وخوار دار الامارت میں بیٹھا ہے۔ہم جمعہ وعیدین وہاں پڑھنےنہیں جا تے ۔"(یضاً430)

چنانچہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جب کو فہ پہنچے تو شیعان کو فہ نے اپنی غداری ومکاری کو ظاہر کیا ۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرسلہ خطوط ان کو دکھا ئے ۔مگر وہ جفا کار اپنی بے شرمی سے باز نہ آئے ۔تو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو مجبوراً کہنا پڑا کہ" ہمارے شیعوں نے ہماری نصرت سے ہاتھ اٹھا رکھا ہے ۔"

جلاءالعیون452۔453)

نیز امام صاحب نے فر ما یا "تمہارے ارادوں پر لعنت ہو۔"

"اےبے وفا یان جفا کا ر تم نے شمشیر مجھ پر کھینچی۔"

آخر کا رانہی شر یرالنفس لو گو کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔