جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔اور جس طرح کوئی شخص کلمہ پڑھے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا،اسی طرح پاکستان کی کوئی حکومت 1973ءکے دستور کومن وعن نافذ کئے بغیر ان کی نظرمیں مسلمان نہیں ہو سکتی ۔چنانچہ:بزرگ سیاستدان جناب نواب زادہ نصراللہ خان سے جب ضیا ءراجیو مذاکرات ،شملہ معاہدہ ،سیاچین گلیشیئر،ایٹمی ہتھیاروںاور دیگرسرحدی حالات ایسے اہم مسائل سے متعلق استفسارکیا گیا ،تو یہ تمام مسائل انہیں ایک آنکھ نہ بھا ئے اور بڑی شان بے نیا زی سے انہوں نے فر ما یا کہ:"مسائل منتخب حکومتیں ہی حل کر سکتی ہیں !"

جبکہ راؤ رشید صاحب کا متوقع بحا لی جمہوریت پر تبصرہ یوں ہے کہ:

"مارشل لاءختم نہیں ہو گا (البتہ)عوام کی خوش فہمی ختم ہو جا ئے گی !"

جتوئی صاحب نے ارشاد کیا ہے کہ:

"مارشل لاءکو ،کالا برقع تبدیل کر کے ،سفید برقع پہنا دیا جا ئے گا ۔

اور جہا نگیر بدر صاحب فر ما تے ہیں کہ:

"مارشل لاءکے خا تمےکا اعلان دھوکہ دینے کی کوشش ہو گی !"

مارشل لاء کے خاتمہ اور بحالی جمہوریت سے متعلق یہ تمام بیا نات 16ءدسمبر کے روزنامہ جنگ میں شائع ہو ئے ہیں ۔اس کے باوجود یہی روزنامہ"آزادی کی اس نیلم پری "(جمہوریت) کے انتظار میں ایک ایک دن گن گن کے کاٹ رہا ہے اور ہر نئی طلوع ہونے والی صبح کے ساتھ ہی عوام کو یہ خوشخبری دیناضروری خیال کرتا ہے کہ:

"صدرجنرل محمد ضیاءالحق اور وزیر اعظم جونیجو کے اعلان کے مطابق مارشل لاءختم ہونےمیں اب زیادہ سےزیادہ۔۔۔۔دن باقی رہ گئے ہیں ۔پوری قوم کو یہ دن صبروتحمل کے ساتھ گزارکر ملک میں بحالی جمہوریت کی راہ ہموار کرنی چاہئے!"  طرفہ یہ کہ یہی صدر صاحب ،یہی جمہوریت مدتوں سے بحال کر چکےاورخودوزیراعظم جونیجو،بطور ثبوت ،اسی بحالی جمہوریت کی پیداوارہیں۔۔۔۔چنانچہ16دسمبرہی کے "جنگ"میں صدر صاحب کایہ بیان بھی موجود ہے کہ :

"مارشل لاء اٹھنے کے بعد بھی سورج مشرق سے ہی طلوع ہو گا (یعنی مغرب سے طلوع ہو کر قیامت نہیں آ جا ئے گی )پاکستان میں عوامی ادارے ماشل لاء اٹھنےسے قبل بھی کام کر رہےہیں ،پھر بھی کا م کر تے رہیں گے ۔مارشل لا ء کے بعد کو ئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔"

۔۔۔شاید یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں کے نزدیک یہ سب فراڈ ہے اور ان کویقین ہے کہ مارشل لاءجائے گا اور نہ جمہوریت ہی بحالی ہو گی ۔۔۔کیونکہ جب تک سورج مغرب سے طلوع ہو کر قیامت نہ آجائے ،جمہوریت بحال ہو بھی کیسے سکتی ہے”۔۔۔آہ ع

ہوتا ہے شب روز تماشہ مرے آگے۔

قیا م پاکستان کو اڑتیس برس گزر گئے،لیکن ہمارے یہ راہنما ابھی تک طرز حکومت کی تلاش میں سرگردان ،اس کی ابتدائی منزلوں سے گزر رہے ہیں ۔۔۔حقیقت یہ ہے۔کہ یہ لوگ طرز حکومت نہیں ،بلکہ حکومت کی تلاش میں ہیں ۔اور ان کی انہی "مساعی جمیلہ"کی بدولت پاکستان دو لخت ہوا ۔۔۔16دسمبرہی وہ دن ہے جب سقوط ڈھاکہ کا المیہ رونما ہوا ۔اوراب بچاکھچا پاکستان بے شمار سلگتے مسا ئل کے جہنم کی زد میں ہے۔لیکن بیہوشیوں کو کس قدر ہوش آیا ہے 16دسمبرہی کا اخبار اس پر شاہد عدل ہے!

۔۔۔آج سے ٹھیک پندرہ سال قبل بھی جمہوریت بحال ہوئی تھی ،اور آج بھی جمہوریت بحال ہو رہی ہے۔۔۔اُس وقت بھی اقتدار کی جنگ جاری تھی ،آج بھی اقتدار کی جنگ جاری ہے۔۔۔اُس وقت بھی "اُدھر تم اِدھرہم "کا نعرہ لگا تھا اور قیامتیں گزر گئی تھیں ،آج بھی یہ لو گ حکومت کی سٹیج پر ایک واضح تبدیلی کے خواہاں ہیں،اوربہ ظاہر اس وقت تک مطمئن ہوتے  نظر نہیں آتے جب تک تخت حکومت پر خود متمکن نہیں ہو جا تے خواہ اس کی خا طر قیامتیں دوبارہ ہی کیوں نہ ٹو ٹ پڑیں ۔اس لیے کہ انہیں تو بس اقتدار سے غرض ہے ،ملک رہے یا نہ رہے ،ان کی بلا سے!۔۔۔اب یہ سوچنا اہل فکرو نظر کا کا م ہے کہ خدانخواستہ،تاریخ کہیں اپنے آپ کو دوہرا تو نہیں رہی !

ان تمام مصائب کا واحد حل تو یہ تھا کہ ہر طرف سے کٹ کر صرف اور صرف اسلام کے دامن عافیت میں پناہ لے لی جا تی ،لیکن ستم تو یہی ہے کہ اسلام ہی نہ حکومت کو عزیزہے اور نہ سیاستدانوں کو ،البتہ نعرہ کی حد تک اس کی افادیت سے کسی کو انکا رنہیں ۔۔۔جہاں تک حکومت کا تعلق آتا ہے،تو وہ چونکہ اس سے کا فی فائدہ اٹھا چکی ،اس لیے اُسے اب اس نعرہ کی بھی ضرورت نہیں رہی ،چنانچہ مارشل لاء اٹھنے کے بعد اب صرف اور صرف جمہوریت بحال ہو رہی ہے ، اور اس کے ساتھ "اسلامی"کا دم چھلالگانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔

جبکہ سیاستدانوں کا معا ملہ ذرا مختلف ہے ،ان کی رو ح تو جمہوریت میں اٹکی ہوئی ہے، لیکن عوام کی ہمدردیاں حاصل کئے بغیر انہیں اس سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے ۔جبکہ عوام کو صرف اسلام کے نا م پر انگیخت کیا جا سکتا ہے ۔چنانچہ انہیں اس نعرہ کی ابھی ضرورت ہے ،لہذا وہ جمہوریت کو مسلمان بنانے کی کو ششوں  میں مصروف ہیں ۔۔۔اور کچھ عرصہ سے اس کی ہمتیں اس قدر جو ان ہو چکی ہیں کہ وہ "اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود "کی سند خلافت راشدہ کے دور سے لانے کے درپے  ہو گئے ہیں ۔حالانکہ اسلام جس طرح اپنی طرز کا واحد نظام ہے اور اسے دنیا کے دیگر خود ساختہ نظاموں سے کو ئی نسبت ہی نہیں ہے ۔اسی طرح جمہوریت کے لا زمہ انتشار وافتراق سے بھی وہ قطعی بیزارہے!

آئندہ صفحات میں مدیر محدث کا ایک انٹرویو شائع کیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے "اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"اور دیگر اسی قسم کے مسائل پر اس اندازسے روشنی ڈالی ہے کہ اسلام اور جمہوریت کا فرق واضح ہو کر سامنے آجا تا ہے ۔۔۔