ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔
  • دسمبر
1985
عبد الرحمن مدنی
(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
  • دسمبر
1985
ثنااللہ مدنی
1۔چند متفرق سوالوں کے جوابات
2۔قربانی کے بعض مسائل 
1۔بغیر وضوء  قرآن پاک اور درود شریف پڑھ سکتے  ہیں یا نہیں ۔
بلا وضوء  قرآن  مجید کی تلاوت جا ئز ہے صحیح بخاری جلد اول صفحہ30پر ہے :
کہ"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نیند سے جا گے تو اُ ٹھ کر بیٹھ گئے ۔اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے چہرہ مبارک کو ہا تھوں سے ملتے ہو ئے اس  سے نیند  کے اثرات کو مٹا تے تھے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فر ما ئیں۔"
  • دسمبر
1985
عبدالرحمن عزیز
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سفر:
ادھر کوفہ میں یہ صورت حال تھی اُدھرحضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں اہل کوفہ کے خطوط قاصدوں کے تقاضے ،بیعت کی ظاہری کثرت ،اور جان چھڑ کنے کے زبانی وعدے ،یہ سب حسین خواب تھے چنانچہ حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اہل کو فہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے کو فہ روانہ ہونے کا ارادہ کرلیا ۔مگر اکابرین اہل علم وتقویٰ مثلاًحضرت عبد اللہ  بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر  بن عبد الرحمن بن حارث  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن میطع رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو داقد  لیشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  انصاری،اور حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بہت روکا حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو (حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ خروج الی ا لکوفہ سن کر رو پڑئے ۔
  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
پرو فیسر وارث میر،معرفت روز نامہ "جنگ کے نام!
اوپرآزاد عورت اور لونڈی کے احکام ستر وحجاب  میں فرق کے جو دلائل ہم نے ذکر کئے ہیں ۔ان سب میں اس  فرق کے علاوہ،آزاد عورت کے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کا ثبوت بھی واضح اور بین ہے!۔۔۔ اب ہم وہ دلائل نقل کرتے ہیں جن کا تعلق براہ راست اسی مسئلہ سے ہے ۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر جلد 3صفحہ518،اور تفسیر جا مع البیان للطبری 33/22 طبع مصر پر ہے:
"حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا "اللہ تعا لیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف )ایک آنکھ کو ظاہر کر یں۔"
  • دسمبر
1985
اسرار احمد سہاروی
انہیں شامل تو کرلوں داستاں میں                   یہ مشکل ہے کہاں وہ اور کہاں میں
تکلف برطرف یہ بات سچ ہے                    نہیں ہوں نعت کے شایان شاں میں
رسائی اُن کی ہے عرش بریں  تک                         سیہ بخت و نصیب دشمناں میں