ہر بات میں ہے بے بس مجبور آدمی ۔ حیران ہوں پھر ہے کس لئے مغرور آدمی
دولت کے نشے میں جو ہوا چور آدمی۔       انسانیت سے ہے وہ بہت دور آدمی
پابند یہ نہیں ہے کسی بھی اصول کا۔        رکھتا نہیں ہے کوئی بھی دستور آدمی
ہے درد دل کے واسطے پیدا کیاگیا۔            رہتا ہے آدمی سے بہت دورآدمی
کردیتا ہے نثار محبت میں جان بھی۔          دشمن اگر ہو بنتا ہے ناسور آدمی!
یہ چاہتا ہے دل کی مرادیں ملیں تمام۔         دنیا میں جلد باز ہے مشہورآدمی!
لاتا نہیں کسی کو بھی خاطر میں یہ کبھی۔   فطرت سے اپنی اپنی ہے مجبور آدمی!