جعفر صادق کا فرمان:
"مخالفین میں سے ایک شخص نے حضرت ابو بکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق اما م جعفر صادق ؒ سے سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا کہ:"وہ  دونوں(ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین ) عادل ،منصف امام تھے۔وہ دونوں حق پررہے اور حق پر انہوں نے وفات پائی۔پس ان دونوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔"(احقاق الحق ص16)
پھر مدائن کے مال غنیمت میں شہزادی شہر بانو کا آنا اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے مشورہ سے اس شہزادی کا حضرت حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کرنا اور حق مہر بیت المال سے ادا کرنا شیعہ حضرات کی معتبر کتب مثل اصولی کافی منتہی الامال جلد دوم جلاالعیون ص239) سے ثابت ہے۔اگر خلافت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   غیر حقہ اورغاصبانہ تھی تو یہ نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے؟یہ بھی یاد رہے کہ حضرت زین العابدین علی بن حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   شہزادی شہر بانو کے فرزند ارجمند ہیں۔

شجرہ نسب:

پھر شجرہ نسب ملاحظہ کیا جائے تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء اربعہ (رضی اللہ عہنم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یک جدی اور ایک قوم تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے  رشتے کئے۔بعض حضرات کو دیے اور بعض حضرات سے لئے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اخلاص وایمان اور پاکی وطہارت کا پورا پورا یقین اوراعتماد تھا ۔کہ حضرات اربعہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  نہایت کامل الایمان ۔مطیع وفرمانبردار اور جانثار تھے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت اور تزکیہ سے جملہ اہل ایمان میں ممتاز تھے۔رضی اللہ عنھم  اجمعین!

تزویج ام کلثوم بنت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :

پھر شیعہ سنی اس بات پر بھی متفق ہیں کہ حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے نکاح میں تھیں۔چنانچہ مورخ اسلام علامہ شبلی نعمانی الفاروق  کےص147/2 مطبوعہ دہلی طبع سوم پر رقمطراز ہیں کہ:

"آخری عمر میں ان کو خیال ہوا کہ خاندان نبوت سے تعلق پیدا کریں جو مزید شرف وبرکت کا سبب تھا۔چنانچہ جناب امیر علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے حضرت ام کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے لئے درخواست کی۔جناب ممدوح نے پہلے حضرت ام کلشوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی صغر سنی کے سبب انکار کیا۔لیکن حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے زیادہ تمنا ظاہر کی کہ اس سے مجھے حصول شرف مقصود [1]ہے۔تو جناب امیر نے منظور فرمایا۔اور 17ہجری میں چالیس ہزار درہم مہر پر نکاح ہوا۔"

اما م ذہبی ؒ فرماتے ہیں کہ:
"حضرت ام کلثوم بنت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بن ابی طالب جو حضرت فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے بطن سے تھیں اپنے نانا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل پیدا ہوئیں۔اورحضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے چالیس ہزار درہم حق مہر پر ا ن سے نکاح کیا۔حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی ان سے دو اولادیں(حضرت زید   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   حضرت رقیہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) پیدا ہوئے۔حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی وفات کے بعد انہوں نے حضرت عون بن جعفر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کیا۔"

نیز علامہ طبری نے تاریخ کبیر میں ابن قتیبہ نے المعارف میں اور ابن اثیر نے الکامل میں بالتصریح لکھا ہے کہ"ام کلثوم بنت فاطمہ  الزہرا  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  حضرت عمر فاروق   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی زوجہ تھیں۔"کتاب الثقاۃ لابن حبان میں ذکر خلافت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   17 ہجری کےتحت مرقوم ہے:
فروع کافی کی یہ عبارات بھی ملاحظہ ہوں:
سلیمان بن خالد کا بیان ہے کہ میں نےاما م جعفر صادق ؒ سے دریافت کیا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ عدت خاوند کے گھر میں گزارے یا جہاں چاہے گزارے؟"انہوں نےفرمایا،"جہاں چاہے گزارے پھر فرمایا کہ تحقیق حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   حضرت عمر     رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عنہ   کی وفات کے بعد سید ہ ام کلثوم    رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عنہا  کے پاس آئے اور ان کو حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے گھر سے اپنے گھر میں لے آئے۔"(تہذیب الاحکام۔ص238/2)

مطلب اوپر گزرچکا ہے!

قاضی نور اللہ  شوستری فرماتے ہیں کہ:

"بنی دختر بعثمان   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   دادو علی دختر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بعمر    رضی اللہ تعالیٰ عنہ   فرستاد۔"(مجالس المومنین ص84)

حضرت ام کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اورحضرت زید   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی وفات :

پھر اسی تہذیب الاحکام کے ص380 جلد دوم پر حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے صاحبزادے حضرت زید   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اوران کی والدہ ام کلشوم بنت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی وفات کاتذکرہ جعفر بن محمد سے اسی طرح بیان کیا گیا ہے کہ:
"جعفر بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور ان کابیٹا زید بن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بن خطاب ایک ہی ساعت میں فوت ہوئے اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ پہلے کون فوت ہوا؟اور وہ بھی ایک دوسرے  کے وارث نہ بن سکے۔اور ان دونوں پر نماز جنازہ بھی اکھٹے پڑھی گئی۔"

حافظ ابن عبدلبر ؒ نے استعیاب میں اور حافظ ابن حجر ؒ ن اصابہ میں ان کی وفات کا تذکرہ یوں کیا ہے کہ"حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے خاندان عدی میں باہمی تکرار ہوگئی۔اورحضرت زید بن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   صلح کرانے کے لئے اس مجلس میں گئے۔اندھیرے کی بناء پر معلوم نہ ہوسکا اور ایک شخص نے حضرت زید بن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے سر پر چوٹ ماری۔حضرت زیدچوٹ وجہ سے بے ہوش ہوگئے چند دن صاحب فراش رہ کر انتقال کرگئے۔انا اللہ وانا الیہ راجعون:

اور  بروایت ابن حجر ؒ ۔حضرت ام کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بھی ان دنوں بیمار تھیں۔چنانچہ ماں بیٹا ایک ہی ساعت میں فوت ہوئے۔اورحاضرین کو یہ نہ معلوم ہوسکا کے پہلے کس کی روح جسد عنصری سے پرواز کرگئی؟"

نیز امام بخاری ؒ نے تاریخ صغیر میں امام شعبی سےزکر کیا ہے کہ حضرت ام کلثوم  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  بنت علی بن ابی طالب اور ان کے بیٹے حضرت زید بن عمر    رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن خطاب کا جنازہ حضرت عبداللہ بن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے پڑھایا اور امامت کے لئے ان کو حضرت حسن بن علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بن ابی طالب نے آگے کیا تھا۔رضی اللہ عنہم !"(تاریخ الغیر لامام بخاریؒ ص53 مطبوعہ الٰہی آباد)

وفات عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  :

مدینہ منورہ میں فیروزنامی مجوسی المذہب ایک غلام تھا ۔جس کا پیشہ نجاری نقاشی ۔آہنگری تھا۔ایک دن حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بازار میں گشت کررہے تھے۔اس نے شکایت کی کہ مغیرہ بن شعبہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے مجھ پر بھاری محصول مقرر کیا ہے۔آپ  تخفیف کرادیں۔حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے پیشہ دریافت کرنے کے بعدفرمایا کہ"ان صنعتوں کے مقابلہ میں یہ رقم زیادہ نہیں۔"ابو لولو فیروز دل میں سخت ناراض ہوکر واپس چلا آیا ۔اور بغرض انتقام گھات میں رہا۔

چنانچہ حضرت عمر فاروق   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   26 ذوالحجہ 23 ہجری بدھ کے روز صبح کی نماز پڑھانے کےلئے مسجد میں تشریف لائے۔امامت کے لئے آگے بڑھے صفیں درست کروائیں اور نماز شروع کی۔سورہ یوسف یاالنحل کی تلاوت شروع کی۔فیروز نے گھات سے نکل کر حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   پرچھ وار کئے۔زیر ناف کے خنجر لگنے سے حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   گر پڑے۔حضرت عبدالرحمٰن   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بن عوف نے اس حال میں نماز پڑھائی۔حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سامنے بسمل پڑے تھے۔فیروز نے تیرہ اشخاص کو زخمی کیا  جن میں سے 9 آدمی وفات پاگئے جب اس نے معلوم کرلیا کہ اب جائے فرار نہیں تو خود کو بھی ہلاک کردیا۔

آپ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے یکم محرم 24 ہجری بروز اتوار انتقال فرمایا۔حضرت صہیب رومی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت سعد بن ابی وقاص ۔حضرت عثمان ذوالنورین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے قبر میں اتارا حضرت عائشہ صدیقہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی اجازت سے ان کے حجرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو مبارک میں دفن  کئے گئے۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔(تفصیل کے لئے دیکھئے مختصر سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم عربی ص486 مطبوعہ لاہور الفاروق علامہ شبلی نعمانی ص106/1۔مطبوعہ رنگین پریس دہلی تاریخ السلام مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادیص383/1)

حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا فرمان:

حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے آپ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے جنازے پر فرمایا:

"اے عمر (  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ) آ پ نے اپنے بعد ایسی کوئی شخصیت نہیں چھوڑی کہ اس جیسے نامہ اعمال کی میں خواہش کروں۔تحقیق میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔میں ابو بکر اور عمر  نکلے۔میں ابو بکر اور عمر آئے۔میں ابو بکر اور عمر نے یہ کیا۔یعنی ہر کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو شریک فرماتے تھے۔مجھے پہلے سے یہ یقین تھا کہ اللہ کریم آپ کو ان دونوں کے پاس جگہ دے گا۔"(صلی اللہ علیہ وسلم ورضی للہ عنہما)(بخاری ص520/2)

حضرت حسان بن ثابت   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی شہادت پر فرمایا کہترجمہ۔تین بزرگ فضائل کے ساتھ ظاہر ہوئے رب ان کو تروتازہ کرے جب اٹھائے جائیں گے قبر سے!پس ایسا کوئی مومن نہیں جس کو بصیرت ملی ہو اور جب ان کاذکر کیا جائے تو ان کی فضیلت کا انکار کرئے !وہ تینوں زندگی میں بھی جدا نہیں ہوئے اور موت کے بعد قبر میں پھر اکھٹے ہوگئے!( صلی اللہ علیہ وسلم ورضی للہ عنہما)

حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   فرماتے ہیں کہ:

"اللہ کریم نے حضرت ابو بکر وحضرت عمر رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو قیامت تک آئندہ سلاطین کے لئے حجت بنایا ہے۔خدا کی قسم وہ دونوں سبقت لے  گئے اور اپنے بعد والوں کو سخت مشکل میں  چھوڑ گئے ان کی یاد امت کو مغموم اورحکام کو مطعون کرتی ہے۔"(اسد الغابہ)

نظام حکومت خلافت فاروقی میں:

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے امور نظم مملکت کابھی مختصراً ذکر کردیا جائے۔

حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے نظام حکومت کے استحکام کے لئے تمام مقبوضہ ممالک کو صوبوں میں تقسیم کیاا ورہرصوبہ میں کئی کئی اضلاع بنائے۔اور  ا پنی جوہر شناسی کی بناء پر ہرجگہ بہترین عملہ مقرر فرمایا۔اہم امور کے لئے مجلس شوریٰ بھی تشکیل دی۔جس میں مندرجہ ذیل اصحاب شامل تھے:

1۔حضرت عثمان   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ۔2۔حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   4۔حضرت معاذ بن جبل   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   5۔حضرت ابی ابن کعب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ۔6۔حضرت زید بن ثابت   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   (طبقات ابن سعد)

صیغہ محاصل:

صیغہ محاصل میں بہت سی اصلاحات  فرمائیں۔مفتوحہ ممالک کی زمینوں کو اصل مالکوں کے سپرد کیا۔تمام مفتوحہ ممالک میں نہریں جاری کیں۔بند بند ھوائے تالاب  تیار کروائے اور لگان سال میں بغیر جبروتشدد کے صرف ایک دفعہ وصول کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

محکمہ قضاء:

محکمہ قضاء میں جج مقرر فرمائے جو معزز ترین اور مالدار تھے۔تاکہ رشوت کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ہمیشہ ان کو عدل وانصاف کا سبق دیتے۔ایک دفعہ خودخلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   مدعا علیہ کی حیثیت سے کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔

قاضی نے تعظیم کی تو حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا۔قاضی صاحب یہ آپ کا پہلا ظلم ہے جب تک آپ کے نزدیک عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور عام آدمی برابر نہ ہوں۔آپ عہدہ قضا کے قابل نہیں!"

فوجداری اور پولیس؛

اس صیغہ میں بازاروں کی نگرانی ۔زنا۔اور چوری کے فیصلے جیل خانوں کی تعمیر اور ابتدائی قسم کی کاروائی پولیس سے متعلق تھی۔

بیت المال:مجلس شوریٰ کے مشورہ سے مدینہ منورہ میں حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے بیت المال کی بنیاد ڈالی اور بہت بڑا خزانہ جمع کیا۔ پھر تمام صوبہ جات کے صدر مقامات پر بیت المال قائم کئے اور ان کی عمارتیں بڑی مسحتکم اور شاندار بنوائیں۔ان کی نگرانی اورحساب کتا ب کے لئے لائق ترین آدمی مقرر فرمائے۔مدینہ منورہ کے علاوہ جتنے بیت المال تھے۔جتنی رقم ان کے مصارف کے لئے درکار ہوتی رکھی جاتی اور باقی مدینہ منورہ کے بیت المال میں بھیج دی جاتی۔

رفاہ عامہ:

اس صیغہ میں سرکاری عمارتیں بنوانا۔نہریں کھدوانا۔پل تعمیر کروانا۔شفاخانے بنوانا ۔چوکیاں اور سرائیں بنوانا۔مکہ اور مدینہ کے درمیان منزلوں پر سایہ اور پناہ گاہوں کا انتظام کرنا شامل تھے!

شہروں کو آباد کرنا:

کوفہ۔بصرہ۔فسطاط ۔موصل۔جزیرہ۔وغیرہ شہر آباد کئے۔

صیغہ فوج:حضرت عمر بن خطاب   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   تمام ملک عرب کو فوج بنانے کے حق میں تھے۔فوجی صدر مقام اور چھاؤنیاں قائم کیں۔ہر سال کئی ہزار نئی فوج تیار ہوتی۔رسد کامستقل محکمہ قائم کیا۔علامہ شبلی نے ایران۔فرانس اور یمن وغیرہ جیسے ممالک کے فوجی انتظامات تحریر کرکے حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے فوجی نظام کو برتر قرار دیا ہے!

صیغہ تعلیم:

حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے تعلیم کو بہت زیادہ ترقی دی تمام مفوحہ ممالک میں مکتب قائم کئے اور بڑ ے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اس منصب پر مقررفرمائے۔قرآن مجید اخلاقی اشعار اور امثال عرب کی تعلیم کو  فروغ دیا۔

صیغہ مذہبی:

(عربی)کے پیش نظر اشاعت اسلام کے لئےنرم اورشائستہ طریقے اختیار کیے۔کتاب و سنت کی حفاظت وتعلیم کا خوب انتظام کیا۔معلمین کی تنخواہیں مقر ر کیں۔کئی ہزار مساجد تعمیر کرائیں۔حرمین شریفین کو وسعت دی ۔روشنی کاانتظام  فرمایا وعظ کاطریقہ جاری کیا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے الفاروق دوم علامہ شبلی نعمانی (ص10 تا 56)

یہ تمام امور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کی ذہانت اور قوت عمل کا  ثبوت ہیں اور جن کی بناء پر اپنے تو رہے ایک طرف اغیار نےبھی ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

[1] ۔الاستعیاب لابن عبدالبر ص773/2 ذکر حضرت ام کلثوم بنت فاطمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔